الیقین لا یزول بالشک۔
ترجمہ۔ جو چیز یقین سے ثابت ہو وہ شک کی وجہ سے زائل نہیں ہوتی، یعنی محض شک کی وجہ سے یقینی امر کو ترک نہیں کیا جائے گا۔
یقین کہتے ہیں نسبت خبریہ کا وہ اعتقاد جو جازم ہو، واقعہ کے مطابق ہو، اور کسی مشکک کے تشکیک سے زائل ہونے والا نہ ہو۔
شک لغت میں تردد کو کہتے ہیں، اصطلاح میں شک کہتے ہیں ایک چیز میں دونوں طرفوں کا برابر ہونا کہ دو چیزوں میں انسان ایسے سٹیج پر کھڑا ہو کہ دل نہ اس طرف مائل ہو اور نہ اس طرف۔ ( شرح الحموی علی الاشباہ صفحہ نمبر 183 القاعدۃ الثالثۃ)
اور اس وجہ سے بھی یقین محض شک کی وجہ سے زائل نہیں ہوتا، کیونکہ فقہی احکام کا دارومدار ظاہر پر ہے، چنانچہ بہت سارے مسائل احکام شرعیہ میں ایسے ہیں کہ شریعت نے ان کو یقینی مان لیا ہے، اگرچہ بعض مرتبہ دیکھنے والے کی عقل ان کو شک کی وجہ سے خلاف واقعہ سمجھتی ہے، لیکن شریعت نے چونکہ ان کو یقینی تسلیم کیا ہے ظاہری بنیاد پر تو وہ دیکھنے والے کے شک سے زائل نہیں ہوتے۔
مثلا شرعی بینہ( دو آدمی یا ایک مرد دو عورتیں) سے ثابت ہونے والا معاملہ شریعت اس بینہ شرعیہ کو یقینی تسلیم کرتی ہے گویا شریعت خود اس وقت اس کی چشم دید گواہ ہے
جبکہ عقل کہتی ہے اس شرعی بینہ میں بھی خبر واحد کی طرح سہو و جھوٹ کا احتمال ہے، لیکن شریعت کی نظر میں یہ احتمال اتنا ضعیف ہے کہ اس شرعی بینہ کو یقین سے نہیں نکالا جا سکتا ہے۔ چنانچہ شرعاً عقل اور دیکھنے والی نظر کا اعتبار نا قابل التفات ہوا۔
(شرح القواعد الفقہ۔ القاعدۃ ثالثہ۔ الیقین لا یزول بالشک)
مثال۔ ایک شخص نے وضو کیا کچھ دیر بعد اس کو شک ہوہوا کہ شاید وضو ٹوٹ گیا، تو سابقہ وضو کے یقین کی بنا پر وہ با وضو ہوگا، جب تک کہ اس کو حدث ( وضو ٹوٹ جانے ) کا یقین نہ ہو جاۓ، اس کو کہتے شک کی وجہ سے یقینی امر کو چھوڑا نہیں جاۓ گا، اس مسئلے کو علامہ حصکفی صاحب در نے یہ کہہ کر بیان کیا ہے۔
لو تیقن بالطہارۃ و شک بال حدث ( الدر المختار ج ۱ ص۶۸ مکتبہ نعیمیہ)
مثال۔ امام محمدؒ نے فرمایا ایک شخص بیت الخلاء میں استراحت کے لئے بیٹھا، پھر اس سے شک ہوا کہ کچھ نکلا یا نہیں تو وہ محدث ہوگا، کیوں کہ استراحت کے لئے اس کا بیٹھنا یقینی امر ہے، جب کہ نکلنے یا نہ نکلنے میں شک ہے، اس لئے یقینی امر ( استراحت کے لئے بیٹھنا) کو یقین کی وجہ سے ترجیح ہوگی،