Monday, May 6, 2024

سراجی از قاضی و مفتی سعید الرحمٰن قاسمی

تعارف صاحب سراجی
ابو طاہر سراج الدین محمد بن محمد بن عبد الرشید بن طیفور السجاوندیؒ الحنفی ( المتوفیٰ ؁۶۰۰ھج یا ؁۷۰۰ھج، 
سجاوند کے بارے میں تین اقوال ہیں، (۱) افغانستان کے شہرِ کابل میں ایک قصبہ کا نام سجاوند ہے، (۲) ملکِ خراسان میں ایک مقام کا نام سجاوند ہے، (۳) ایران میں ایک سیسان نامی مقام میں ایک جگہ کا نام سگاوند ہے، جس کی تعریب سجاوند ہے۔ علامہ سراجیؒ بہت بڑے فقیہ، عالمِ ربانی، فراض اور حساب داں تھے۔ 
علم الفرائض، فرائض فریضۃ کی جمع ہے، اللہ پاک کی عائد کردہ پابندیاں۔دوسرے معنی، متعین کردہ حصے۔ 


علم الفرائض کی تعریف۔ 
ھو علم یبحث فیہ عن کیفیۃ تقسیم الترکۃ بین مستحقیھا۔
وہ علم جس کے ذریعے میت کا ترکہ اس کے شرعی وارثین کے درمیان تقسیم کرنے کا طریقہ معلوم ہو۔
علم المواریث۔ ورث یرث ارثا و میراثاً، 
معنی خلیفہ بنانا، ایک چیز کا دوسرے کی جانب منتقل کرنا، 
اصطلاحی معنی۔ مورث کی جائیداد اس کے زندہ وراثوں کے درمیان منتقل کرنے کا نام علم المواریث ہے۔ 

علم فرائض کا موضوع

ترکۃ المیت و مستحقیھا
ترکہ میت اور اس کے وارثین

غرض و غایت

سعادۃ الدارین۔۔ عام
وارثینِ میت کو ان کا حق پہنچانا اور تقسیم ترکہ میں غلطی کرنے سے محفوظ رہنا۔۔۔۔۔ خاص
حمد الشاكرىن منصوب بنزع الخافض
اى احمده كحمد الشاكرىن، علی خیر البریۃ جمعہ البرایا
معناھا مخلوق، الطیبین الطاہرین،یعنی الطیبین باطناً و الطاہرین ظاہراً، قال رسول اللہﷺ، لیس ھذا حدیث مروی بھذہ الالفاظ بل متن حدیث رسول اللہ ﷺ ھذا، 
تعلموا الفرائض فانھا نصف العلم
وورد فی ھذا الحدیث انھا نصف العلم
الاول : للانسان حالتان، الحیاۃ و الممات، و ھذا یتعلق بالممات، 
٢ : اسباب ملک دو ہیں، ایک اختیاری و اضطراری، یہ اضطراری سے تعلق رکھتا ہے۔ 
٣ : تمام علوم شرعیہ ادلۂ اربعہ سے ثابت ہیں، اور علم فرائض صرف ادلۂ ثلاثہ سے۔ 
٤ : اس علم کی ضرورت سب کو پڑتی ہے، یہاں کہ جنین کو بھی، اگر زندہ پیدا ہوا۔ 
٥ : ایک تمام علوم شرعیہ اور ایک طرف علم فرائض
٦ : اس میں مشقت بھی زیادہ ہے اور اس کا حصول بھی مشکل۔ 
قال علماءنا ای علماء الاحناف
تتعلق بترکۃ المیت، الترکۃ مال المیت غیر المتعلق بہ حقوق احدٍ
حقوق اربعۃ کی دلیل حصر یہ ہے، ترکہ کے ساتھ یا تو میت کا تعلق ہوگا یا غیر، اگر میت کا تعلق ہے تو وہ تجہیز و تکفین ہے، اور اگر غیر کا تعلق ہے تو دو حال سے خالی نہیں، غیر کا تعلق میت کی زندگی میں ثابت ہوا ہوگا یا میت کےمرنے کے بعد، اگر میت کی زندگی میں  غیر کا حق ثابت ہوا ہے، وہ قرض ہے، اور اگر میت کے مرنے کے بعد حق ثابت ہوا ہے، تو دو حال سے خالی نہیں، یا میت کے قول سے غیر کا حق ثابت ہوا ہوگا یا بغیر قول ہے، اگر میت کے قول سے حق ثابت ہوا ہے، تو وہ وصیت ہے اگر بغیر قول کے غیر کا حق ثابت ہوا ہے تو وہ وراثت ہے۔ 
مرتبۃ، فالترتیب واجب ولذا قال بعد الاول یبدأ، تاکیدا علی وجوب الترتیب
وتجھیزہ، لماذا ذکر المصنف التکفین رغم ان التکفین دخل فی التجھیز، لان اطلاق التجهىز ىكون من موت المرء الى دفنه، الجواب ذكر التكفىن لاظہار اهمية الكفن، 
من غير تبذىر ولا تقطىر،