Friday, December 30, 2022

غزل

نعت

نعت

نعت

گلہائے عقیدت

الاختلاف کتاب الطہارت 3

............ ماء مستعمل.................... 

مسئلہ۔ امام مالکؒ کے نزدیک ماء مستعمل طاہرو  مطھر ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک صرف طاہر ہے اور دلیل یہ کہ حضور ﷺ نے ماء راکد میں غسل کرنے سے جنبی کو روکا ہے۔ 

اشعار۔ 

ماءۓ مستعمل ہے طاہر اور مطَھّر بھی جناب
نزدِ مالک ہے یہی اولی یہی بہتر صواب
اور ثلاثہ نے ہیں فرمایا کہ ہے طاہر فقط
ماءۓ راکد میں منع ہے غسل جنبی پر فقط

•••••••••••••••••مزیل النجاسۃ•••••••••••••

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ازالۂ نجاست کے لے پانی لازم ہے بدوں پانی کے نجاست کا ازالہ نہیں ہوسکتا ہے اور امام اعظم ابو حنیفہ فرماتے ہیں نجاست غیر حسیہ کے لے پانی ہی چاہیے اور نجاست حسیہ کا ازالہ پانی کے علاوہ دیگر مائعات سے بھی ہو سکتا ہے اور دلیل حضرت عائشہ کی وہ حدیث ہے ۔ 

اشعار۔ 

کیا نجاست کا ازالہ ہوے پانی کے سوا
نزدِ اعظم ہے یہ ممکن حسیّہ میں ہے روا
اور تمسک ہے فرک والی حدیث عائشہ
پر نہیں لازم ہے پانی یہ ثلاثہ نے کہا

••••••••••••••••••حکم النبیذ•••••••••••••

مسئلہ۔1 وہ نشہ آور جھاگ دار نبیذ جس میں مٹھاس بھی آئی ہو  2 ایسی نبیذ جس میں جھاگ آیا ہو نہ مسکر ہو صرف مٹھاس آئی ہو ان دونوں سے بالاتفاق وضو ناجائز ہے 3 وہ جو نہ مطبوخ ہو نہ مسکر اور نہ حلو آیا ہو اس میں اختلاف ہے ائمہ ثلاثہ اور امام ابو یوسف فرماتے اس نبیذ سے بھی وضو ناجائز ہے پانی نہ تو تیمم ہی متعین ہے امام محمدؒ فرماتے کہ ایسی نبیذ سے وضو بھی کرے اور تیمم بھی دونوں کو جمع کرے امام اعظم ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ ایسی نبیذ سے وضو کرے گا لیکن امام صاحب کا جمہور کی طرف رجوع ثابت ہے

اشعار۔ 

غیر مسکر غیر مطبوخ و حلو آیا نہیں
اس سے جائز ہے وضو یعنی حکم پایا نہیں
مسکر و مطبوخ و میٹھا ہے نبیذِ ناب جی
غیر جائز ہے وضو اب یہ نہیں ہے آب جی
غیر مسکر غیر مطبوخ و حلو آیا مگر
مختلف فیہ ہے یہ منبوذ و حکم پایا مگر
نزدِ یعقوب و ثلاثہ ہے تیمم روبکار
بوحنیفہ نے کیا ہے بس وضوء کا اعتبار
جمع دونوں کو کرے گا یہ محمد نے کہا
اور رجوعِ بوحنیفہ آخراً ثابت ہوا
اب نبیذوں سے وضوء کا حکم ہے عدم جواز
متفق ہیں سب ائمہ کیجۓ گا احتراز

••••••••••••••••••••سور الحمار•••••••••••••••••

مسئلہ۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک گدھے کا جھوٹا مجس ہے اور امام شافعی رح کے نزدیک پاک ہے۔ 

شعر
بوحنیفہ نے ہیں فرمایا نجس سور حمار
شافعیہ نے کیا قولِ مُطَھّر  اختیار

••••••••••الاستنجاء بشیٔ النجس••••••••••

مسئلہ۔ امام شافعیؒ و احمد فرماتے ہیں کہ شئ نجس سے استنجاء نہیں ہوتا ہے امام اعظم و مالک رح فرماتے ہیں کہ لید و گوبر اگر خشک ہو تو استنجاء کا تحقق کراہت کے ساتھ ہو جاے گا۔ 

اشعار۔ 
لید و گوبر سے ہیں استنجاء برابر کالعدم
شافعیہ اور احمد سے ہیں مروی یہ حکم
بوحنیفہ اور مالک نے کہا آسان ہے
با کراہت ہی تحقق خشک سے امکان ہے
••••••••الاستنجاء بالیمین••••••••••••

مسئلہ۔ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا ظاہریہ کے نزدیک بالکل حرام ہے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مکروہ ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک مکروہ تحریمی اور امام شافعی و امام احمد کے نزدیک مکروہ تنزیہی۔ 

اشعار۔ 
اور یدِ یمنیٰ سے استنجاء ہے کرنا بس حرام
ظاہریہ کا ہے یہ قولِ سقم قولِ تمام
شافعی احمد نے فرمایا کہ تنزیہی فقط
بوحنیفہ نے ہیں فرمایا کہ تحریمی فقط

•••••••••حکم المنی و المذی و الودی••••••••

مسئلہ۔ منی امام ابوحنیفہ و امام مالک رح کے نزدیک ناپاک ہے اور امام شافعی و احمد کے نزدیک پاک ہے مذی و ودی دونوں بالاتفاق ناپاک ہے البتہ کیفیت تطہیر میں اختلاف ہے مذی کے دھونے کے لے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک غسل چاہے اگرچہ غسل خفیف ہی ہو اور امام احمد کے نزدیک نضح(چھینٹے مارنا) کافی ہے اور ودی میں بھی بالاتفاق غسل چاہۓ

اشعار۔ 

پھر منی کو شافعی احمد نے طاہر کہہ دیا

اعظم و مالک نے ناپاک و نجس تر کہہ دیا
پھر مذی میں کہتے ہیں احمد کہ نضحاً کر نظیف
اور ثلاثہ نے کہا ہے چاہۓ غَسلِ خفیف
پھر مذی جیسی ودی بھی اتفاقاً ہے نجَس
غَسل لازم ہے ودی میں ہیں یہی سب کی ہوس

•••••••••ضفائر المرأۃ والرجل••••••••••••

مسئلہ۔ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں مرد اور عورت کے غسل میں فرق ہے وہ یہ کہ مرد ہر حال میں اپنے بال کھولے گا جبکہ عورت کو گوندھے ہوے بال کھولنا ضروری نہیں ہے بشرط کہ اصول شعر تک پانی کا وصول ہوتا ہو امام مالک و شافعی رح فرماتے ہیں کہ مرد اور عورت کے غسل میں فرق نہیں ہے دونوں کے لئے حکم یہ ہے بالوں کے ظاہر و باطن کو تر کرنا ضروری ہے اگر بغیر نقض ضائع کے تر ہو جاے تو ٹھیک ورنہ کھولنا ضروری ہے اور ان تینوں اماموں کے نزدیک غسل جنابت یا عورت کے لے غسل حیض و نفاس میں کوئی فرق نہیں ہے امام احمد غسل جنابت اور حیض و نفاس کے غسل میں فرق کرتے ہیں غسل جنابت میں امام احمد امام ابو حنیفہ کے ساتھ ہیں اور غسل حیض و نفاس عورت کو بال کھولنا ضروری ہے

شعر۔ 

نزد اعظم مرد کھولے گا غسل میں سارے بال
اور ثلاثہ عدم کے قائل ہے للبنت و رجال

•••••••••••مباشرت الحائض•••••••••••••

مسئلہ۔ حائضہ سے کرنا بالاتفاق حرام ہے اس کے علاہ حائضہ سے ملنے جلنے تین صورتیں ہیں 1 ما فوق الازار استمتاعِ بوس و کنار 2 ما فوق السرۃ ما تحت الرکبۃ 3 ما تحت الازار بغیر الجماع، پہلی دو صورتیں بالاتفاق جائز ہے تیسری صورت جمہور کے نزدیک جائز نہیں اور امام احمد و محمد کے نزدیک یہ بھی جائز ہے۔ 

اشعار۔ 
حائضہ سے ملنا چاہو کیجۓ بوس و کنار
اور زیادہ ہو تقاضا لیجئے فوق الازار
فوقِ سرۃْ تحتِ رکبۃ پر ملامت جی نہیں
برہنہ عقدہ کشائی کی اجازت جی نہیں
احمد و ابن الحسن کہتے ہیں ما تحت الازار
بے جماعِ زن سے راحت بخشے خود کو نابکار

••••••••فی من یحدث فی الصلوۃ•••••••••

مسئلہ۔ کسی شخص کو نماز کے دوران عذر پیش آیا تو کیا کیجیے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک لوٹ کر وضو کرے اور پھر از سر نو نماز پڑھے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کی وضو کر کے بناء بھی کر سکتا ہے البتہ استیناف مستحب ہے

اشعار۔ 
گر کس کو عذر آے پیش دورانِ صلوٰ ت
از سر نو پڑھ لے پھر سے یہ ثلاثہ کی ہے بات
حنفیہ کا قول ہے بعد الوضوء کر لے بناء
مستحب ہے از سرِ نو بوحنیفہ نے کہا
••••••••••اطال الغرۃ و التحجیل•••••••••••

مسئلہ۔ اطالہ غرہ و تحجیل کیا ہے جمہور کے نزدیک اطالہ غرہ کے معنی ہے چہرہ دھوتے وقت پیشانی کے سر کے اگلے حصہ کو دھولیا جاے اور اطالہ تحجیل کے معنی ہیں یدین و رچلینڈ کو دھونے کے وقت حد مفروض سے اگے دھویا جاے یعنی مرفقین و کعبین کے اوپر تک اور ایسا کر جمہور کے نزدیک مستحب ہے امام مالک اطالہ غرہ و تحجیل کی ایک دوسری تفصیل بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد ادامہ و تجدید ہے یعنی ہمیشہ با وضو رہنا اور تازہ وضو کرنا اس امام مالک کے نزدیک جس غرہ و تحجیل کے جمہور قائل ہیں اس کو مکروہ کہتے ہیں۔ 

شعر۔ 
مستحب نزد ثلاثہ غرہ و تحجیل ہے
نزد مالک ہے کراہت اک نئ تفصیل ہے

•••••••••اکسال••••••••••

مسئلہ اس مسئلے میں پہلے صحابہ کرام ؓؓ کے درمیان قدرے اختلاف تھا لیکن فاروق اعظم ؓ کے زمانے اس مسئلہ پر اجماع ہوا کہ انسان سے غسل واجب ہے۔ 

شعر۔ 
پہلے کچھ کہتے رہے بس غسل ہے انزال سے
پھر ہوا اجماعَ سب کا نیز ہے اکسال سے

•••••••••الوضوء قبل ان ینام••••••••••••

مسئلہ۔  غیر مشروط الطہارۃ والے امور مثلا کھانا کھانا سونا وغیرہ ان افعال میں جمہور کے نزدیک وضو کرنا سنت ہے اور ظاہریہ کے نزدیک واجب ہے۔ 

اشعار۔ 
غیر مشروط الطہارت والے وہ سارے امور
مستحب ان میں وضوء ہے اھلِ سنت کے حضور
ظاہریہ نے تو ان افعال میں فتویٰ دیا
سونے سے پہلے وضوء میں قولِ واجب کو چنا

•••••••••الموالات في الوضؤ•••••••••••

مسئلہ۔ موالات پے در پے ترتیب سے وضو کرنا امام مالک و امام احمد کے نزدیک واجب ہے اور امام ابو حنیفہ و شافعی کے نزدیک سنت ہے۔ 

شعر۔ 
در وضوء ترتیب چاہے نزدِ احمد مالکی
اوْرَ یہ سنت ہے نزدِ بو حنیفہ شافعی

•••••••الوضوء بعد الغسل••••••••••

مسئلہ۔ ائمہ اربعہ متفق ہے کہ غسل کرنے کے بعد دوبارہ وضو نہیں کرنا ہے البتہ اگر حدث اکبر یا اصغر لاحق ہوا ہو تو امام احمد فرماتے ہیں کہ پھر بعد الغسل وضو کرنا ہوگا اک روایت امام احمد کی یہ ہے کہ اگر غسل کرنے سے پہلے ہر حدث سے پاک ہونے کی نیت کر لے تب دوبارہ وضو نہیں کرنا ہے۔ 

اشعار۔ 
متفق ہیں اربعہ جب غسل ہو جاے تمام
پھر وضوء کرنا نہیں ہے مختصر ہے بس کلام
اکبر و اصغر حدث جس کو ہوا لاحق سدا
پھر وضوء بعد الغسل ہے یہ تو احمد نے کہا
یا غسل میں کر لے نیت ہر حدث سے پاک ہو
اک روایت ہے یہ احمد کی اگر ناپاک ہو
•••••••••••••••••••ختم•••••••••••••••••• صفحہ رابع

الاختلاف کتاب الطہارت 2

*********فضلِ طھور المرأۃ*******

مسئلہ۔ عورت کے وضو کا بچا ہوا پانی

 ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مرد کا اس پانی کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں امام احمد ؒ کے نزدیک اس پانی کا مرد کے لے استعمال کرنا مکروہِ تحریمی ہے ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں امام احمد ؒ نے جس حدیث سے تمسک کیا ہے وہ حدیث منسوخ ہے۔ 

اشعار۔ 
نفْعَ کے قابل ہے طالب زن کا ما فضلِ طہور
مرد کی خاطر ثلاثہ نے کہا میرے حضور
نزدِ احمد ہے کراہت وہ بھی تحریمی سدا
جس خبر سے ہے تمسک وہ ہے منسوخ الاداء
                

*********البول فی المستحم********

مسئلہ۔ جمہور ائمہ فرماتے ہیں ایسا غسل خانہ جس کا فرش کچا ہو وہاں پیشاب وغیرہ نہیں کرنا چاہے کیوں کہ فرش کچا ہوگا تو پیشاب زمین کے ذرات میں جما رہے گا اور اسی سے وساوس کی بیماری کا خدشہ ہے لیکن امام نووی شارح مسلمؒ فرماتے ہیں جس غسل خانے کا فرش پکا ہو اس میں پیشاب نہ کیا جاوے کیوں کہ پکے فرش پر پیشاب جمنے کا ان ذرات سے چھینٹے اڑنے کا خطرہ ہے۔۔ 

اشعار۔ 
غسلَ خانے میں نہ ہرگز کیجئے گا پیش آب
اس سے خدشہ ہیں وساوس کا مرے پیارے جناب
کہتے ہیں سب وہ غسل خانہ کہ کچّا ہو فرش
نزدِ یحی بن شرف ہے وہ کہ پکّا ہو فرش


           ***********بول الصبی**********

مسئلہ۔ جمہور کا مسلک یہ ہے کہ شیرخوار بچے اور بچی دونوں کا پیشاب ناپاک ہے سواے اصحابِ ظواہر کے وہ بچے کے پیشاب کو پاک مانتے ہیں پھر ائمہ اربعہ میں اس میں اختلاف ہے کہ اگر بچے یا بچی کا پیشاب کپڑے وغیرہ پر لگ جاے تو دونوں کو دھویا جاے یا نہیں امام ابو حنیفہ اور امام مالکؒ فرماتے ہیں دونوں کو بلا تفریق دھویا جاے البتہ امام ابوحنیفہ بچے کے پیشاب میں غسلِ خفیف کے قائل ہیں اور امام شافعی و امام احمد ؒ فرماتے ہیں بچی کا پیشاب دھویا جاے اور بچے کے پیشاب پر نضح (چھنٹے مارنا) کافی ہوگا 

اشعار۔ 

  بول سے بچنا پڑے گا جاریہ ہو یا غلام
یہ ہیں مسلک اربعہ کا بلکہ کہتے ہیں تمام
  ظاہری بولِ صبی کے قائلِ تطہیر ہے
   یہ سراسر  فہم کم اور کج روی تقصیر ہے
    اعظم و مالک ہیں کہتے غسل دونوں میں اصح
شافعی و حنبلی کہتے ہیں بچے میں نضح
     

   ************ماء البحر**********

مسئلہ۔ سمندر کے پانی میں صحابہ کے ما بین کچھ اختلاف تھا حضرت عبداللہ بن عمر ؓ وغیرہ فرماتے تھے کہ سمندر کے پانی سے وضو کرنا جائز نہیں ہے لیکن اب یہ اجماعی مسئلہ ہے کہ ماۓ بحر سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں البتہ بحری حیوانات کو لے کر ائمہ میں اختلاف ہے چناں چہ حنفیہ کے نزدیک مچھلی کے سوا جمیع بحری حیوانات حرام ہے مالکیہ کے نزدیک خنزیرِ بحری کے علاوہ سمندر کے تمام جانور حلال ہے حنابلہ کے یہاں ضفدع، تمساح، و کوسج کے علاوہ باقی سب حلال ہے اور امام شافعی ؒ کی اس میں چار روایتیں ہیں جن میں مفتیٰ بہ و مختار روایت بقول علامہ نوویؒ یہ ہے کہ ضفدع کے سوا باقی تمام سمندری جانور حلال ہے۔ 

اشعار۔ 
کیا نہیں معلوم پانی ہے سمندر کا لطیف
پہلے تھا کچھ مختلف پر اب ہے اجماعاً نظیف
مختلف ہے حکم لیکن بحری حیوانات کا
مسلکِ اعظم ہے جز مچھلی کے ردِّیّات کا
مسلکِ مالک ہے جز خنزیرِ بحری سب حلال
ضفدع و تمساح و کوسج میں ہے احمد کو مقال
شافعی سے چار مرویّات ملتی ہیں یہی
ما سوا ضفدع کے حلت قول ہے مفتی بہ
    

   **********بولِ ما یوکل لحمہ***********

مسئلہ۔ اصحابِ ظواہر کہتے ہیں جن جانوروں کو کھایا نہیں جاتا ان کا پیشاب بھی پاک ہے اور جمہور کے نزدیک غیر مأکول اللحم کا پیشاب ناپاک ہے البتہ ائمہ اربعہ کے درمیان مأکول اللحم جانوروں کے پیشاب میں اختلاف ہے چناں چہ امام ابوحنیفہ و امام شافعی ؒ کے نزدیک ان کا پیشاب بھی ناپاک ہے اور امام مالک،امام احمد اور امام محمد فرماتے ہیں مأکول اللحم جانوروں کا پیشاب پاک ہے اور حدیث عرینہ ان کی دلیل ہے

اشعار۔ 
غیر مأکول اللحم کا ہے نجس بول و براز
ظاہریہ سے ہیں مروی اس میں بھی امرِ مُجاز
البتہ ہے مختلف فیہ بولِ مأ کول اللحم
حنفیہ اور شافعیہ سے نجس کا ہے حکم
احمد و مالک، محمد نے کہا کہ پاک ہے
ہاں عرینہ کی خبر سے ان کا استمساک ہے
              

   *********الوضوء من النوم********

امام اوزاعی رح فرماتے ہیں نیند چاہیے کم ہو یا کثیر ہر طرح سے ناقض وضو ہے اور ائمہ اربعہ کے نزدیک نومِ قلیل غیر ناقض وضو ہے اور نوم کثیر مطلقاً ناقض ہے البتہ نوم قلیل کی حد میں تھوڑا سا اختلاف ہے حنفیہ کے نزدیک اگر نماز کی ہیئت (جیسے رکوع سجدہ،تشہد)پر سویا ہے تو یہ نوم قلیل غیر ناقضِ وضو ہے 

اشعار۔ 
نوم کو کہتے ہیں حنفی  ہیئۃً جسے نماز
غیر ناقض ہے یقیناً اور ہے اس کا جواز
خیر نزدِ اربعہ کے غیر ناقض ہے قلیل
اور ناقض ہے وگرنہ مطلقاً نومِ ثقیل
شیخ اوزاعی نے بتلایا کہ کم ہو یا کثیر
ہر طرح ناقض ہے ان کا ہیں یہی قولِ شہیر
    

  ***********الوضوء ما غیرت النار**********

مسئلہ۔ پکی پکائی چیز کو کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں یہ مسئلہ پہلے صحابہ کرام ؓمیں مختلف فیہ تھا لیکن حدیث ناسخ کا جب علم ہوا تو یہ اجماعی مسئلہ ہوگیا اب اجماع اس پر ہے کہ پکائی ہوی چیز کے کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا دلیل ناسخ آخر الامرین من امور رسول اللہﷺ ترک الوضوء مما مست النار او کما قال ﷺ۔ 

شعر۔ 
کچھ پکاؤ اور کھاؤ تھا وضوء پہلے کبھی
آخر الامرین سے منسوخ  خبراً ہے ابھی
         

   *********** لحوم الابل**********

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ کے کے نزدیک اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد مطلقا وضو نہیں ہے امام احمد ؒ فرماتے ہیں وضو کرنا ہوگا۔ 

شعر۔ 
اورَ ہے ناقض لحومِ ابل نزدِ حنبلی
غیر ناقض ہے ثلاثہ نے کہا ہے مجملی
       

      **********مسِ ذکر***********

مسئلہ۔ حنفیہ کہتے ہیں مسِ ذکر سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے اور دلیل حضرت طلقؓ کی روایت ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مس ذکر سے وضو ٹوٹ جاتا ہے فرق یہ ہے کہ امام احمد ؒ مطلقا مس ذکر سے وضو ٹوٹنے کے قائل ہیں اور امام مالک و شافعی کے نزدیک باطنِ کف سے چھونے کی قید ہے۔ 

اشعار۔ 
ہے نواقض میں ثلاثہ کے یہاں مسِّ ذکر
غیر ناقض نزدِ حنفی جب طلق نے دی خبر
مطلقاً کہتے ہیں احمد، پر وہ مالک، شافعی
باطنِ کف سے چھوۓگا تو حکم ہوگا یہی
      

     ***********الوضوء من القبلۃ**********

مسئلہ۔ کیا عورت کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ 

امام ابو حنیفہ رح فرماتے ہیں مس مرأۃ سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے اور ائمہ ثلاثہ کے یہاں وضو ٹوٹ جاتا ہے اس فرق کے ساتھ کہ امامِ شافعی صاحب فرماتے ہیں اگر غیر محرم عورت کو مس کرتا ہے تو وضو ٹوٹے گا وگرنہ نہیں اور امام مالک و امام احمد فرماتے ہیں کہ مس بالشہوۃ ہو تو وضو ٹوٹ جاے گا چاہے محرم ہو یا غیر محرم۔ 

اشعار۔ 
جو کوئی چھوۓ گا عورت تو وضو جاتا رہا
مالک و احمد کے ہاں گر شہوۃً بھاتا رہا
شافعی کہتے ہیں نا محرم میں ناقض اور بس
غیر ناقض نزدِ اعظمؒ  کیجئے گا غور بس

************الوضوء من الدم**********

مسئلہ۔ بدن کے کسی مقام سے خون یا پیپ نکلنے سے بشرط کہ سائل ہو امام ابو حنیفہ و امام احمد رح کے نزدیک وضو ٹوٹ جائے گا امام شافعی رح فرماتے ہیں کہ اگر خون سبیلین سے نکلے تب وضو ٹوٹے گا ورنہ نہیں اور امام مالک رح فرماتے ہیں کہ اگر سبیلین سے نکلنے والی چیز کے ساتھ تھوڑی بہت نجاست نکل آے تب وضو ٹوٹے گا یعنی امام شافعی صاحب کے نزدیک مخرج معتاد شرط ہے اور امام مالک رح کے نزدیک مخرج معتاد کے ساتھ ساتھ نجاست معتاد ہونی چاہیے۔ 

اشعار۔ 

بہہ پڑے گر جسم کے اعضاء سے تھوڑا بھی لہو
بوحنیفہ اور احمد کے یہاں ٹوٹا وضوء
شرط نزدِ شافعیہ ہے خروج از دو سبیل
نزدِ مالک گر نجاست بھی نکل آے قلیل
      

   ************سؤر الکلب**********

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک کتے کا جھوٹا ناپاک ہے امام مالک رح کے نزدیک پاک ہے البتہ جس برتن میں کتا منہ ڈالے اس کو بالاتفاق دھویا جاے گا اور کیفیتِ تطہیر میں اختلاف ہے امام احمدؒ کے نزدیک آٹھ مرتبہ دھویا جاے گا اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے رگڑنا ضروری ہے اور امام مالک و امام شافعیؒ کے نزدیک سات مرتبہ دھویا جاے گا جس میں تتریب بھی شامل ہے اور امام ابو حنیفہ ؒؒؒ کے نزدیک تین مرتبہ دھویا جاے گا اور سات مرتبہ دھونا مستحب ہے۔ 

اشعار۔ 
ہیں نجس کتّے کا جھوٹا یہ ثلاثہ نے کہا
حضرتِ مالک نے فرمایا کہ طاھر واہ واہ
جس میں کتّا کھا لے پی لے دھویا جاے آٹھ بار
نزدِ احمد ہے رگڑنا آخراً اس میں شمار
نزدِ مالک دھویا جاے گا مع التتریب سات
شافعیہ نے کہا تتریب ہے از واجبات
بو حنیفہ نے کہا ہے تین واجب اور بس
مستحب ہے سات لیکن کچھ نہیں ہے زور بس
     

  *************سؤر الھرۃ***********

مسئلہ۔ امام اوزاعی رح فرماتے ہیں کہ بلی کا جھوٹا ناپاک ہے السنور سباع اس حدیث سے تمسک کرتے ہیں ائمہ ثلاثہ کے نزدیک سؤر ھرہ پاک ہے حدیث ابو قتادہ ان حضرات کی دلیل ہے اور حضرات طرفین کے نزدیک سؤر ھرۃ مکروہ ہے البتہ کراہت کس درجے کی ہے اس میں اختلاف ہے۔ 

اشعار۔ 
شیخ اوزاعی ہیں کہتے سورِ ھرۃ ہے نجس
السباع والی خبر سے یہ حکم ہے مقتبس
بوحنیفہ اور محمد سے کراہت ہے ملی
بین تحریمی و تنزیہی نہیں حکمِ جلی
شیخ یعقوب و ثلاثہ نے کہا یہ پاک ہے
ہاں حدیثِ بوقتادہ سے جو استمساک ہے

*************مسح الخفین *************

مسئلہ۔ خفین پر مسح کرنا اھل سنت و الجماعت کی علامت ہے اور یہ اجماعاً ثابت ہے رافضیہ کا اختلاف ہے کہ خفین پر مسح جائز نہیں۔ 

شعر۔ 
قولِ مسحِ خف ہے طالب اھلِ سنت کا عمل
رافضیہ سے ہے عدم و قولِ نا جائز نقل
 

     **************مدت المسح***********

مسئلہ۔ امام مالک رح فرماتے ہیں کہ مسح خف میں کوئی مدت متعین نہیں اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مسافر کے لئے تین دن و تین رات اور مقیم کے لئے ایک دن و ایک رات متعین ہے۔ 

شعر۔ 
مسحِ خف میں قولِ مالک عدم مدّت ہے سلیم
قولِ باقی للمسافر تین و واحد للمقیم

********طریقۃ مسح الخفین***********

مسئلہ۔ امام ابو حنیفہ و امام احمد کے نزدیک صرف ظاہری خف پر مسح ہوگا اور امام شافعیؒ کے نزدیک باطنی خف کا مسح بھی سنت ہے اور امام مالک رح فرماتے ہیں ظہراً و باطناً دونوں طرف مسح کرنا فرض ہے۔ 

اشعار۔ 
بو حنیفہ اور احمد مل کے دونوں نے کہا
مسحِ خف کا ہے طریقہ ظاہراً کیجے سدا
باطنِ خف کا مسح سنت ہے نزدِ شافعی
باطنًا اور ظاہراً ہے فرض نزدِ مالکی

*******مقدار مفروض فی الخف*******

مسئلہ۔ مسح خف کی مقدار میں وہی اختلاف ہے جو سر کے مقدار مفروضہ میں ہے کیونکہ اس میں کسی امام کے پاس کوئی نقلی دلیل نہیں ہے۔ 

شعر۔ 
مثلِ مسحِ رأس چاہے مسحِ خف مقدار میں
کچھ نہیں نقلی دلائل ہاے اس تکرار میں

*********مسح الجوربین*********

مسئلہ۔ خفین( جو پورا کا پورا چمڑے کا بنا ہو) کے سوا جوربین کی چار قسمیں ہیں 1 مجلدین جس کے اوپر نیچے چمڑا ہو 2 منعلین جس کے صرف نچلے والے حصے میں چمڑا ہو 3 ثخینین اس قدر موٹے جس میں تتابعِ مشی ممکن ہو خود بخود پاؤں پر ٹکتے ہوں اور شفاف ہوں یعنی پانی سرایت نہ کرتا ہو 4 اور چوتھی قسم جوربین رقیقین کی ہے پہلی تین قسموں میں ( خفین، جوربین مجلدین، اور جوربین منعلین میں بالاتفاق مسح جائز ہے اور پانچویں قسم جوربین رقیقین میں بالاتفاق مسح جائز نہیں اب بچی جوربین کی تیسری قسم جوربین ثخینین اس میں اختلاف ہے ائمہ ثلاثہ اور صاحبین کے نزدیک اس پر مسح جائز ہے اور امام ابو حنیفہ کا قول قدیم عدم جواز تھا لیکن حضرت الامام سے وفات سے کچھ دن قبل جمہور کے قول کی طرف رجوع ثابت ہے اب خلاصۃً جوربین ثخینین پر بھی بالاتفاق مسح جائز ہے۔ 

اشعار۔ 

مسح کرنا ہوگا جائز گر ہوں پہنے جوربین
چاہۓ دونوں  مجلد یا کہ ہوں وہ منعلین
ایسے جورب جو کہ موٹے یعنی دونوں ہو ثخین
کہتے ہیں جائز ثلاثہ ، صاحبَین ، ماہِرین
بو حنیفہ پہلے کہتے تھے ثخانت پر نہیں
پر قبیل المرگ ثابت ہے رجوع اب بالیقیں
البتہ جورب جو دونوں ہوں رقیق و کم قرار
پھر جوازِ مسح ٹھہرا ہے سقوط الاعتبار

************مسح علی العمامہ***********

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک پگڑی پر مسح جائز نہیں ہے اور امام احمد کے نزدیک جائز ہے  اور مقدار مفروضہ کے علاوہ مقدار مسنونہ کا مسح پگڑی پر امام ابوحنیفہ و امام شافعی کے نزدیک جائز ہے اور امام مالک کے نزدیک مقدار مسنونہ کا مسح بھی پگڑی پر جائز نہیں ہے۔ 

اشعار۔ 

ہاں ثلاثہ نے کہا مسحِ عمامہ ہے غلط
اور استیعاب نزدِ مالکیہ ہے غلط
پھر عمامہ پر مسح ہے نزدِ احمد ہی روا
ظاہریہ نے اسی مسلک پہ ہے فتویٰ دیا
**************************

الاختلاف کتاب الطہارت 1

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاقد الطہورین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

فاقد الطہورین۔ یعنی جو پانی اور مٹی پر قادر نہ ہو قدیم زمانہ میں اس کو سمجھنا ذرا دشوار تھا لیکن آج کل کی جدید سہولیات نے ان چیزوں سے آشنا کرا دیا ایسی صورت ہوائی جہاز یا دیگر اسفار میں پیش آتی ہے چنانچہ امام مالکؒ صاحب فرماتے ہیں ایسے شخص سے نماز ساقط ہے نہ ابھی ادا پڑھے گا نہ بعد میں قضاء کرے گا لا یصلی و لا یقضی، امام شافعی صاحب ؒ فرماتے ہیں ابھی بغیر وضوء کے ادا بھی پڑھے گا بعد میں قضاء بھی کرے گا یصلی و یقضی و ھو الاصح من اقوالہ، امامِ احمد صاحب ؒ فرماتے ہیں ابھی بغیر وضوء کے ادا پڑھ لے گا اور بعد میں قضاء نہیں کرے گا، امام اعظم ابو حنیفہ ؒ فرماتے ہیں ابھی ادا نہ پڑھےالبتہ بعد میں قضاء کرے گا صاحبینؒ فرماتے ہیں ابھی تشبہ بالمصلی کرے گا بعد میں قضاء کرے گا امام ابو حنیفہ سے بھی اسی قول کی طرف رجوع ثابت ہے اور حنیفہ کا فتویٰ اسی پر ہے۔۔۔۔۔ 

اشعار۔۔۔ 

حضرتِ مالک ہیں کہتے نے ادا و نے قضاء

شافعی کہتے ہیں اس پر ہے قضاء پہلے ادا
نزد احمد ہے ادا اس پر قضاء لازم نہیں
نزدِ اعظم بس قضاء ہے قول یہ جازم نہیں
قولِ یعقوب و محمد یعنی کہ مفتی بہ
ہو تشبہ بالمصلی اب حکم ہے بس یہی

اس اختلاف کو کسی نے یوں بھی سمیٹا ہے 

۔ مالکی و شافعی و حنبلی اور ہم

لا لا ، نعم نعم، نعم لا، لا نعم 

لیکن اس کا وزن درست نہیں اس لئے اس کو شعر نہیں کہہ سکتے کیونکہ وزن شعر کا بنیادی رکن ہے اب اس کی دو صورتیں ہوں گی یا تو صاحب کلام نے اسے باوزن شعر ہی بنایا ہو لیکن ہم تک پہنچتے پہنچتے لوگوں نے اس کا وزن بگاڑ دیا دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ صاحب کلام نے شعر نہیں کہا ہے بلکہ طلبہ کی آسانی کے لئے اس کو جوڑا ہو اور اس نے شعر جیسی صورت اختیار کئ۔ وللّٰہ اعلم و علمہ اتم

البتہ اس شعر کو ہم نے یوں باوزن کر دیا ع

نزدِ مالک ، شافعی ہے لا و لا و ہاں نعم

پھر نعم لا، لا نعم ہے نزدِ احمد اور ہم

 

۔کراھیۃ استقبال القبلۃ و استدبارھا عند قضاء الحاجۃ۔ 

مسئلہ۔ اس مسئلے میں یوں تو آٹھ مذاہب ذکر کۓ جاتے ہیں جن میں سے صرف چار اہم مذاہب کا یہاں ذکر کیا گیا ہے

1 استقبال اور استدبار دونوں علی الاطلاق نا جائز ہیں، خواہ کھلی فضا میں ہو یا آبادی میں یہ مسلک حضرت ابو ہریرہ ، حضرت ابن مسعود ، حضرت ابو ایوب انصاری رض حضرت سراقہ ابن مالک ، حضرت مجاہد، ابراہیم نخی ، طاؤس بن کیسان ، حضرت عطاء ابو ثور، امام اوزاعی ، سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ ، امام محمد ، ابن حزم ظاہری اور ابن قیم کا ہے، اور امام احمد سے بھی ایک روایت یہی ہے ، اور حنفیہ کے نزدیک فتویٰ بھی اسی پر ہے،

2 استقبال اور استد بار دونوں مطلقاً جائز ہیں، خواہ آبادی میں ہو خواہ صحرا میں، یہ مسلک حضرت عائشہ رض، عروہ بن الزبیر رض، امام مالک کے استاذ ربیعۃ الرائی اور داؤد ظاہری سے منقول ہے، 

3 صحراء میں استقبال واستدبار دونوں نا جائز اور آبادی میں دونوں جائز، یہ مسلک حضرت ابن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر ، عامر شعبی ، امام مالک، امام شافعی اور اسحق بن را ہویہ کا ہے، اور امام احمد کی ایک روایت بھی اس کے مطابق ہے، 

3 استقبال بہر صورت ناجائز اور استد بار بہر صورت جائز، یہ امام احمد سے ایک روایت ہے، بعض اہل ظاہر اس کے قائل ہیں، اور امام ابو حنیفہ کی ایک روایت بھی اسی کے مطابق ہے   

                           یه اختلات دراصل روایات کے اختلاف پر مبنی ہے، امام ترمذی نے اس سلسلے میں جو باب باندھا ہے اس میں مختلف روایات ہیں، روایتِ اولیٰ حضرت ابوایوب انصاری " کی حدیث باب یہ ہے ، " اذا اتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة بغائط ولا بول ولا تستد بروها یہ حدیث باتفاق اصح مافي الباب ہے، اس سے حنفیہ اور پہلے مذہب کے تمام علماء ممانعت کے عموم پر استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس میں حکم عام ہے اور بنیان و صحراء کی کوئی تفریق نہیں، 

اشعار۔۔ 

اے برادر پہلے آداب خلاء تو جان لے
قبلہ جاے محترم ہے سچے دل سے مان لے
رو بقبلہ بیٹھنا اور پیٹھ کرنا ہے روا
اس میں کیا جائے حرج ہے ظاہریہ نے کہا
نزدِ مالک، شافعیہ ہے روا  بنیان میں
صورتیں دونوں ہیں جائز ہاں مگر سنسان میں
اک روایت اعظم و احمد نے استدبار پر
قولِ تنزیہی کہا اور دم بھرا آثار پر
مطلقاً مکروہ و نا جائز ہے اور مفتیٰ بہ
قولِ اعظم اور محمد از ایوب آئی نہی
         

                    ۔۔۔۔۔۔۔۔ البول قائماً۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مسئلہ۔ امام احمد صاحبؒ اسے علی الاطلاق جائز کہتے ہیں امام مالک اس شرط کے ساتھ جواز کے قائل ہیں کہ چھینٹے اڑنے کا اندیشہ نہ ہو اور امام اعظم و امام شافعی صاحب ؒبغیر عذر کے مکروہ تنزیہی کہتے ہیں ۔ 

اشعار۔ 
شانِ مومن ہے کہ بیٹھے اور کرے پیشاب کو
حنفیہ اور شافعیہ نے چنا آداب کو
حنبلی و مالکی نے چھینٹوں سے بچتے ہوئے
دی اجازت عذر والی اک خبر لیتے ہوئے


           ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استنجاء بالاحجار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مسئلہ ۔ امام شافعی اور امام احمدؒ کے نزدیک استنجاء میں انقاء و تثلیث احجار واجب ہے اور ایتار مستحب ہے اور امام اعظم و امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ صرف انقاء واجب ہے تثلیث سنت ہے اور ایتار مستحب ہے۔ 

اشعار۔ 


اورَ استنجاء کو چاہیے پانیٔ و ایتار بھی
مستحباً ایک ہوں یا دو و تین و چار بھی
حنفیہ اور مالکیہ ہیں یہی کہتے مگر
یعنی انقاء چاہۓ بس واجباً لختِ جگر
شافعی و حنبلی نے تین کو واجب کہا
بس کہ انقاء میں انہوں نے تین کو جاذب کہا
               

   ۔۔۔۔۔۔۔ السواک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

علامہ نووی نے مسواک کے سنت ہونے پر اجماع نقل کیا ہے دو چند کا اختلاف ہے جو اجماع کے لے مضر نہیں البتہ اختلاف اس میں ہے کہ مسواک سنتِ صلوٰۃ ہے یا سنتِ وضو امام شافعی صاحب ؒ سنت صلوٰۃ کے قائل  اور امام ابوحنیفہؒ سنت وضو کے قائل ہیں

اشعار۔ 


سنتِ شاہِ دو عالم میں ہے اک مسواک بھی
لازماً مومن کو چاہیے اس سے استمساک بھی
  کیجئے مسواک پہلے پھر ادا کیجئے نماز
یہ انوکھا ہے فقط اک شافعیہ کا طراز
بو حنیفہ نے کہا قبل الوضوء کیجئے فقط
عند جو آیا ہے اس کو وقت میں لیجئے فقط
                

      ۔۔۔۔۔۔۔۔ اذا استیقظ احدکم من منامہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مسئلہ۔ جب کوئی شخص نیند سے اٹھے تو برتن میں ہاتھ نہ ڈالے بلکہ پہلے ہاتھوں کو دھو لے۔ اختلاف اس میں ہے کہ یہ حکم کس درجے کا ہے ائمہ ثلاثہ سنت کے قائل ہیں بعض نے کہا امام مالک ندب کے قائل ہیں اور علامہ ابنِ نجیم مصری اپنی شہرۂ آفاق کتاب بحر الرائق میں رقم طراز ہیں کہ حنفیہ کے یہاں یہ تفصیل ہے کہ اگر ہاتھوں پر نجاست کے ہونے کا یقین ہو تو پھر حکم فرض کا ہوگا اگر ظن غالب ہو تو امر وجوب کا ہوگا اگر شک ہو حکم سنت کا ہوگا۔ اور امام احمد ؒ رات اور دن کا فرق کرتے ہیں کہ رات کو سو کر اٹھے تو امر وجوبی ہوگا دن کو سو کر اٹھے تو حکم سنت کا ہوگا پھر ائمہ ثلاثہ توہّمِ نجاست کو امر کی علت ٹھہراتے ہیں اور امام احمد ؒ حدیث کے ظاہری الفاظ پر عمل کرتے ہیں۔ 

اشعار

بندۂ مومن کو چاہے جب اٹھے وہ خواب سے
ہاتھ برتن میں نہ ڈالے بلکہ دھولے آب سے
امر یہ علت کے باعث کوئی لازم تو نہیں
شافعی و مالکی و بو حنیفہ کے تئیں
بلکہ احمد نے بتایا بعدِ استیقاظِ شب
ہاتھ دھوئیگا  ہمیشہ یوں نہیں بل قد وجب

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تسمیہ عند الوضوء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

ائمہ اربعہ تسمیہ کو قبل الوضو سنت کہتے ہیں اور حنفیہ میں صاحب فتح القدیر علامہ ابنِ الھمام اور ظاہریہ وجوب کے قائل ہیں پر حنفیہ میں سے یہ ابن الھمام کا ایک تفرد ہے جس کے بارے ان کے شاگرد رشید علامہ قاسم بن قطلوبغا فرماتے ہیں تفردات شیخی غیر مقبولۃ۔ 

اشعار۔ 


تسمیہ پڑھنا ہے سنت دائما قبل الوضوء
متفق ہیں اربعہ سب خوب ہے یہ نیک خو
غیر ظاہر قولِ احمد اور وہ ابن الھمام
   تسمیہ واجب ہے مثلِ ظاہریہ بالدوام

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المضمضۃ و الاستنشاق فی الوضوء و الغسل۔۔۔۔۔۔۔۔۔  

مسئلہ۔ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا 

امام احمد ؒ مضمضہ اور استنشاق کو غسل اور وضو دونوں میں فرض مانتے ہیں امام مالک و امام شافعی صاحب ؒ غسل و وضو دونوں میں سنت گردانتے ہیں اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ وضو میں سنت اور غسل میں فرض کہتے ہیں

اشعار

در وضوء سنت ہے یارو غسلِ انف و غسلِ فم
یہ ثلاثہ نے کہا ہے  کچھ نہ  کیجیے اس میں کم
حضرتِ احمد سے ہیں منقول اسمیں بھی وجوب
غسل میں جیسے ہیں قولِ بوحنیفہ خوب خوب
غسل میں بھی انکو سنت جانۓ گا اے عزیز
نزدِ مالک،  شافعی  ہی  مانۓ  گا  اے عزیز
    

     ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المضمضۃ و الاستنشاق من کف واحد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مسئلہ۔ امام اعظم ابوحنیفہ ؒ فرماتے پہلے تین مرتبہ الگ سے کلی کرے اس طرح کی تین مرتبہ نیا پانی لے پھر اسی طرح تین مرتبہ ناک صاف کرے یہی ایک مرجوح روایت ائمۂ ثلاثہ کی ہیں لیکن ائمہ ثلاثہ کی راجح روایت یہ ہے کہ ایک مرتبہ پانی لے اور اسی سے تین مرتبہ کلی اور تین مرتبہ ناک صاف کرے۔۔ 

علامہ ابن الھمام فرماتے ہیں روایت میں جو کف واحد کا ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک چلو سے سارا کام انجام دے بلکہ کف واحد کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کے لے صرف ایک ہتھیلی استعمال کی گئی۔۔ 

اشعار۔ 


فصل کو اولی ہیں کہتے بو حنیفہ محترم
اک روایت ہے ثلاثہ کی یہی غیر عزم
یعنی راجح ہے وصل یہ ہے ثلاثہ کا  پیام
کف سے مطلب دست واحد قالہ ابن الھمام
      

    ۔۔۔۔۔۔۔۔ تخلیلُِ اللحیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مسئلہ۔داڑھی کا خلال کرنا۔ غسل میں حنفیہ واجب کہتے ہیں مالکیہ سے دو روایتیں واجب و سنت کی ملتی ہیں اور ظاہریہ بھی وجوب کے قائل ہیں اور وضو میں داڑھی کا خلال ظاہریہ کے یہاں واجب ہے ، طرفین مستحب کہتے ہیں، امامِ ابویوسف امام شافعی امام احمد ؒ سنت کہتے ہیں اور امام مالک سے چار روایتیں ملتی ہیں۔ 

اشعار۔ 
پھر وضوء میں ایک مسلہ ہے کہ داڑھی کا خلال
مستحب کہتے ہیں اعظم اور محمد رکھ خیال
اور سنت کہتے ہیں یعقوب و احمد، شافعی
چار مرویّات ملتی ہیں کتب میں مالکی
ظاہری کہتے ہیں واجب جس طرح جنبی پہ ہم
مالکیہ واجب و سنت میں اب تک ہیں نرم
       

   ۔۔۔۔۔۔۔ مسح رأس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مسئلہ۔ مسح سر کی مفروضہ مقدار کتنی ہے، امامِ مالک صاحب فرماتے ہیں پورے سر کا مسح فرض ہے یہی ایک روایت امام احمد کی بھی ہے اور ایک روایت امام احمد سے یہ ہے کہ مرد پورے سر کا اور عورت سر کے اگلے حصے کا مسح کرے یہی مسلکِ حنابلہ میں مختار مذہب ہے اور امام شافعی صاحب کے نزدیک کم از کم تین بالوں کی مقدار فرض ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ربع رأس کا مسح فرض ہے پھر امام ابوحنیفہ اور امام شافعی صاحب فرماتے ہیں کہ پورے سر کا مسح سنت ہے۔۔ 

اشعار۔ 
فرض ہے پھر ربعِ سر پر  ہر وضوء میں مسحِ سر
ہاں ولے سنت ہے استیعاب حنفی قول پر
مالکی کہتے ہیں استیعاب ہے فرض و ضرور
اک روایت ہے یہی احمد کی اے میرے حضور
شافعی کہتے ہیں لازم موۓ سہ پر کم سے کم
اور سنت میں ہیں کہتے جیسے حنفی ویسے ہم
قولِ ظاہر ابن حنبل ہے ہمہ رأسِ مرد
اور مقدّم رأسِ عورت سمجھۓ اھلِ خرد

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسح الرأس مرۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مسئلہ۔ مسح کتنی مرتبہ کیا جاے ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں بس ایک مرتبہ کافی ہے اور امامِ شافعی صاحب تثلیث کے قائل ہیں۔ 

شعر۔ 
پھر ثلاثہ کہتے ہیں یہ مسحَ  کیجئے ایک بار
مستحب نزدِ شوافع تین کا  ہے اعتبار
          ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یأخذ لرأسہ ماء جدیداً۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مسئلہ۔ مسح سر کے لے نیا پانی لینا حنفیہ کے نزدیک سنت اور شوافع کے نزدیک فرض ہے۔ 

شعر۔ 
مسحِ سر کے واسطے پھر چاہۓ پانی نیا
شافعی کہتے ہیں فرض و حنفیہ سنت سدا
           

   ۔۔۔۔۔۔ مسحِ اذنین۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مسئلہ۔ کانوں کا بھی بالاتفاق مسح کیا جاے گا البتہ شافعیہ اور مالکیہ کہتے ہیں نیا پانی لیا جاے اور حنفیہ کے یہاں نیا پانی ضروری نہیں ہے۔ 

شعر
کانوں کا بھی مسح چاہے اور پھر ماءۓ جدید
شافعیہ، مالکیہ کا ہے  یہ قولِ سدید
         

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *تخلیلِ اصابع*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 

مسئلہ۔وضو میں انگلیوں کا خلال کرنا مالکیہ اور شافعیہ کے نزدیک مستحب ہے حنفیہ و حنابلہ کے نزدیک سنت ہے اور ظاہریہ وجوب کے قائل ہیں۔، 

اشعار۔ 1111
بعد اس کے آپ تخلیلِ اصابع  کیجئے
مستحباً نزدِ مالک اور شوافع  کیجئے
سنتاً کہتے ہیں اعظم اور احمد ذی وقار
امر سے ہیں واجباً کے ظاہریہ دعویدار
       

    ********ویل للاعقاب من النار********

مسئلہ۔ وضو میں پاؤں کا وظیفہ بالاتفاق دھونا ہے سوائے رافضیہ کے وہ کہتے ہیں کہ ننگے پاؤں پر مسح کیا جاے گا، یہ عجیب بات ہے خفین پر اھل السنۃ و الجماعت مسح کے  قائل اور یہ مسح خفین کے منکر ہیں ننگے پاؤں کا وظیفہ اھل السنۃ و الجماعت کے نزدیک غسل ہے اور یہ مسح کے قائل ہوے۔ 

اشعار۔ 
اھل سنت متفق ہیں دائماً انسان بس
پاؤں دھوے گا وضوء میں ہے یہی فرمان بس
مسحِ جورب کے ہیں منکر رافضیہ خود فریب
ننگے پاؤں پر مسح ہے حکم دیتے ہیں عجیب

      ******** المندیل بعد الوضوء*********

مسئلہ وضو کے بعد اعضاء مغسول کو تولیہ وغیرہ سے پونچھنا جائز ہے امامِ شافعی صاحب فرماتے ہیں نہ پونچھنا مستحب ہے۔ 

شعر
پونچھ لے نزدِ ثلاثہ  کچھ نہیں جاۓ حرج
مستحب ہے ترک نزدِ شافعی واۓ حرج
     

    ********المد و الصاع********

مسئلہ۔ ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے یہ اتفاقی بات پے

اختلافی امر یہ ہے کہ ایک مد کتنے رطل کا ہوتا ہے طرفین کے نزدیک ایک مد دو رطل کا ہوتا ہے اس طرح ایک صاع آٹھ رطل کا ہوا یہی ایک مرجوح روایت امامِ احمد کی ہے اور امام ابو یوسف کا قول قدیم بھی یہی ہے امام ابو یوسف کا قول جدید اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں کہ ایک مد ایک رطل اور ثلث رطل کا ہوتا ہے اس طرح ایک صاع پانچ رطل اور ایک ثلث رطل کا ہوا۔ 

اشعار

ایک صاع ہے چار مد کا اے مرے پیارے سنو
ہیں ائمہ متفق اس امر پر سارے سنو
پر نہیں بنتی ہے مد میں  یاد کیجئے اختلاف
دو رطل کا ہے بنعمان و محمد اتصاف
اک روایت ہے یہی احمد سے مروی پر سقیم
اور ہے یعقوب قاضی کا یہی قولِ قدیم
رطلِ واحد اورَ ثلثِ رطل ہے مدِّ حجاز
یعنی یعقوب و ثلاثہ کا ہے یہ قولِ مُجاز
    

  ******ان الماء لا ینجسہ  شیٔ*******

مسئلہ۔ پانی کی اصل پاک ہونا ہے ظاہریہ کہتے ہیں پانی تب ہی ناپاک ہوگا جب نجاست پانی پر غالب آے ائمہ اربعہ کہتے ہیں ماۓ قلیل وقوع نجاست سے نا پاک ہو جاے گا البتہ مقدارِ قلت و کثرت میں اختلاف ہے امامِ مالک صاحب فرماتے ہیں جب پانی کے اوصاف ثلاثہ(رنگ، بو اور مزا) میں سے کوئی وصف بدل جاے تو اب یہ ناپاک ہوگا اور یہی قلیل ماء ہے اور امام شافعی و احمد فرماتے ہیں کہ قلت کی مقدار قلتین ہے اور امامِ ابوحنیفہ رحمہ اللہ دیکھنے والے کا اعتبار کرتے ہیں حنفیہ کے اس میں اور بھی اقوال ہیں لیکن صحیح مبتلاء بہ شخص کے دیکھنے کا اعتبار ہے۔ 

اشعار۔ 
اپنی فطرت میں نہیں پانی سوا ماءِۓ طہور
ہاں اگر ہو جاے اوصافِ ثلاثہ کا ظہور
رنگ و بو میں سے کوئی یا کہ بدل جاے مزا
ترکِ استمتاع ایسے ماء سے کرنا ہے بجا
ظاہریہ کا ہے بیجا قول اور بیباک ہے
جب نجاست آے غالب تب ہی وہ ناپاک ہے
دیکھۓ مقدارِ قلت اور کثرت میں نزاع
کیسے کرتے ہیں ائمہ قول سے اپنا دفاع
جب کوئی وصفِ ثلاثہ میں بدل جائے تو پھر
نزدِ مالک ہے قلیل الماء، یہی اور ہے قذر
شافعی، احمد نے فرمایا ہے کم از قلتین
نزدِ اعظم ہے مدارِ مبتلاۓ نظر العین
*************۰۰۰۰۰۰۰۰************صفحۂ ثانی  ! 

Sunday, December 18, 2022

tarana darul uloom deoband #tarana_darul uloom_deoband//prehnuzadaTariqHussain//ترانہ دار العلوم دیوبند

ترانہ دار العلوم دیوبند۔۔۔ 

#ترانہ_دار_العلوم_دیوبند

#tarana_darul_uloom_deoband

#deoband

#prehnuzada_tariq_hussain

#darululoom

جو محبوب زمانہ ہے اسے دیوبند کہتے ہیں
علوموں کا خزانہ ہے اسے دیو بند کہتے ہیں
جہاں منظر کی تابانی دلوں کو شاد کرتی ہے
جہاں ہر سو سہانہ ہے اسے دیوبند کہتے ہیں۔
جہاں جام وسبوئے علم و عرفاں بانٹے جاتے ہیں
جہاں حق کا نشانہ ہے اسے دیوبند کہتے ہیں
جہاں قاسم جہاں محمود جسے فضل والے تھے
جہاں گنگوہی دانہ ہے اسے دیوبند کہتے ہیں
جہاں کشمیری انور ہے جہاں مدنی حسین احمد
جہاں حق کا نشانہ ہے اسے دیوبند کہتے ہیں
جہاں کے بادہ خوارِ علم میں ہیں حضرت اشرف
جہاں طیب یگانہ ہے اسے دیوبند کہتے ہیں
جہاں ابرِ کرم طارق ہر اک لمحہ برستی ہیں
جہاں رُت دلکشانہ ہے اسے دیوبند کہتے ہیں


شاعر۔۔ پرھنوزادہ طارق حسین کشمیری