۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فاقد الطہورین۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فاقد الطہورین۔ یعنی جو پانی اور مٹی پر قادر نہ ہو قدیم زمانہ میں اس کو سمجھنا ذرا دشوار تھا لیکن آج کل کی جدید سہولیات نے ان چیزوں سے آشنا کرا دیا ایسی صورت ہوائی جہاز یا دیگر اسفار میں پیش آتی ہے چنانچہ امام مالکؒ صاحب فرماتے ہیں ایسے شخص سے نماز ساقط ہے نہ ابھی ادا پڑھے گا نہ بعد میں قضاء کرے گا لا یصلی و لا یقضی، امام شافعی صاحب ؒ فرماتے ہیں ابھی بغیر وضوء کے ادا بھی پڑھے گا بعد میں قضاء بھی کرے گا یصلی و یقضی و ھو الاصح من اقوالہ، امامِ احمد صاحب ؒ فرماتے ہیں ابھی بغیر وضوء کے ادا پڑھ لے گا اور بعد میں قضاء نہیں کرے گا، امام اعظم ابو حنیفہ ؒ فرماتے ہیں ابھی ادا نہ پڑھےالبتہ بعد میں قضاء کرے گا صاحبینؒ فرماتے ہیں ابھی تشبہ بالمصلی کرے گا بعد میں قضاء کرے گا امام ابو حنیفہ سے بھی اسی قول کی طرف رجوع ثابت ہے اور حنیفہ کا فتویٰ اسی پر ہے۔۔۔۔۔
اشعار۔۔۔
حضرتِ مالک ہیں کہتے نے ادا و نے قضاء
شافعی کہتے ہیں اس پر ہے قضاء پہلے ادا
نزد احمد ہے ادا اس پر قضاء لازم نہیں
نزدِ اعظم بس قضاء ہے قول یہ جازم نہیں
قولِ یعقوب و محمد یعنی کہ مفتی بہ
ہو تشبہ بالمصلی اب حکم ہے بس یہی
اس اختلاف کو کسی نے یوں بھی سمیٹا ہے
۔ مالکی و شافعی و حنبلی اور ہم
لا لا ، نعم نعم، نعم لا، لا نعم
لیکن اس کا وزن درست نہیں اس لئے اس کو شعر نہیں کہہ سکتے کیونکہ وزن شعر کا بنیادی رکن ہے اب اس کی دو صورتیں ہوں گی یا تو صاحب کلام نے اسے باوزن شعر ہی بنایا ہو لیکن ہم تک پہنچتے پہنچتے لوگوں نے اس کا وزن بگاڑ دیا دوسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ صاحب کلام نے شعر نہیں کہا ہے بلکہ طلبہ کی آسانی کے لئے اس کو جوڑا ہو اور اس نے شعر جیسی صورت اختیار کئ۔ وللّٰہ اعلم و علمہ اتم
البتہ اس شعر کو ہم نے یوں باوزن کر دیا ع
نزدِ مالک ، شافعی ہے لا و لا و ہاں نعم
پھر نعم لا، لا نعم ہے نزدِ احمد اور ہم
۔کراھیۃ استقبال القبلۃ و استدبارھا عند قضاء الحاجۃ۔
مسئلہ۔ اس مسئلے میں یوں تو آٹھ مذاہب ذکر کۓ جاتے ہیں جن میں سے صرف چار اہم مذاہب کا یہاں ذکر کیا گیا ہے
1 استقبال اور استدبار دونوں علی الاطلاق نا جائز ہیں، خواہ کھلی فضا میں ہو یا آبادی میں یہ مسلک حضرت ابو ہریرہ ، حضرت ابن مسعود ، حضرت ابو ایوب انصاری رض حضرت سراقہ ابن مالک ، حضرت مجاہد، ابراہیم نخی ، طاؤس بن کیسان ، حضرت عطاء ابو ثور، امام اوزاعی ، سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ ، امام محمد ، ابن حزم ظاہری اور ابن قیم کا ہے، اور امام احمد سے بھی ایک روایت یہی ہے ، اور حنفیہ کے نزدیک فتویٰ بھی اسی پر ہے،
2 استقبال اور استد بار دونوں مطلقاً جائز ہیں، خواہ آبادی میں ہو خواہ صحرا میں، یہ مسلک حضرت عائشہ رض، عروہ بن الزبیر رض، امام مالک کے استاذ ربیعۃ الرائی اور داؤد ظاہری سے منقول ہے،
3 صحراء میں استقبال واستدبار دونوں نا جائز اور آبادی میں دونوں جائز، یہ مسلک حضرت ابن عباس، حضرت عبداللہ بن عمر ، عامر شعبی ، امام مالک، امام شافعی اور اسحق بن را ہویہ کا ہے، اور امام احمد کی ایک روایت بھی اس کے مطابق ہے،
3 استقبال بہر صورت ناجائز اور استد بار بہر صورت جائز، یہ امام احمد سے ایک روایت ہے، بعض اہل ظاہر اس کے قائل ہیں، اور امام ابو حنیفہ کی ایک روایت بھی اسی کے مطابق ہے
یه اختلات دراصل روایات کے اختلاف پر مبنی ہے، امام ترمذی نے اس سلسلے میں جو باب باندھا ہے اس میں مختلف روایات ہیں، روایتِ اولیٰ حضرت ابوایوب انصاری " کی حدیث باب یہ ہے ، " اذا اتيتم الغائط فلا تستقبلوا القبلة بغائط ولا بول ولا تستد بروها یہ حدیث باتفاق اصح مافي الباب ہے، اس سے حنفیہ اور پہلے مذہب کے تمام علماء ممانعت کے عموم پر استدلال کرتے ہیں کیونکہ اس میں حکم عام ہے اور بنیان و صحراء کی کوئی تفریق نہیں،
اشعار۔۔
اے برادر پہلے آداب خلاء تو جان لے
قبلہ جاے محترم ہے سچے دل سے مان لے
رو بقبلہ بیٹھنا اور پیٹھ کرنا ہے روا
اس میں کیا جائے حرج ہے ظاہریہ نے کہا
نزدِ مالک، شافعیہ ہے روا بنیان میں
صورتیں دونوں ہیں جائز ہاں مگر سنسان میں
اک روایت اعظم و احمد نے استدبار پر
قولِ تنزیہی کہا اور دم بھرا آثار پر
مطلقاً مکروہ و نا جائز ہے اور مفتیٰ بہ
قولِ اعظم اور محمد از ایوب آئی نہی
۔۔۔۔۔۔۔۔ البول قائماً۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ۔ امام احمد صاحبؒ اسے علی الاطلاق جائز کہتے ہیں امام مالک اس شرط کے ساتھ جواز کے قائل ہیں کہ چھینٹے اڑنے کا اندیشہ نہ ہو اور امام اعظم و امام شافعی صاحب ؒبغیر عذر کے مکروہ تنزیہی کہتے ہیں ۔
اشعار۔
شانِ مومن ہے کہ بیٹھے اور کرے پیشاب کو
حنفیہ اور شافعیہ نے چنا آداب کو
حنبلی و مالکی نے چھینٹوں سے بچتے ہوئے
دی اجازت عذر والی اک خبر لیتے ہوئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ استنجاء بالاحجار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ ۔ امام شافعی اور امام احمدؒ کے نزدیک استنجاء میں انقاء و تثلیث احجار واجب ہے اور ایتار مستحب ہے اور امام اعظم و امام مالک ؒ فرماتے ہیں کہ صرف انقاء واجب ہے تثلیث سنت ہے اور ایتار مستحب ہے۔
اشعار۔
اورَ استنجاء کو چاہیے پانیٔ و ایتار بھی
مستحباً ایک ہوں یا دو و تین و چار بھی
حنفیہ اور مالکیہ ہیں یہی کہتے مگر
یعنی انقاء چاہۓ بس واجباً لختِ جگر
شافعی و حنبلی نے تین کو واجب کہا
بس کہ انقاء میں انہوں نے تین کو جاذب کہا
۔۔۔۔۔۔۔ السواک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علامہ نووی نے مسواک کے سنت ہونے پر اجماع نقل کیا ہے دو چند کا اختلاف ہے جو اجماع کے لے مضر نہیں البتہ اختلاف اس میں ہے کہ مسواک سنتِ صلوٰۃ ہے یا سنتِ وضو امام شافعی صاحب ؒ سنت صلوٰۃ کے قائل اور امام ابوحنیفہؒ سنت وضو کے قائل ہیں
اشعار۔
سنتِ شاہِ دو عالم میں ہے اک مسواک بھی
لازماً مومن کو چاہیے اس سے استمساک بھی
کیجئے مسواک پہلے پھر ادا کیجئے نماز
یہ انوکھا ہے فقط اک شافعیہ کا طراز
بو حنیفہ نے کہا قبل الوضوء کیجئے فقط
عند جو آیا ہے اس کو وقت میں لیجئے فقط
۔۔۔۔۔۔۔۔ اذا استیقظ احدکم من منامہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ۔ جب کوئی شخص نیند سے اٹھے تو برتن میں ہاتھ نہ ڈالے بلکہ پہلے ہاتھوں کو دھو لے۔ اختلاف اس میں ہے کہ یہ حکم کس درجے کا ہے ائمہ ثلاثہ سنت کے قائل ہیں بعض نے کہا امام مالک ندب کے قائل ہیں اور علامہ ابنِ نجیم مصری اپنی شہرۂ آفاق کتاب بحر الرائق میں رقم طراز ہیں کہ حنفیہ کے یہاں یہ تفصیل ہے کہ اگر ہاتھوں پر نجاست کے ہونے کا یقین ہو تو پھر حکم فرض کا ہوگا اگر ظن غالب ہو تو امر وجوب کا ہوگا اگر شک ہو حکم سنت کا ہوگا۔ اور امام احمد ؒ رات اور دن کا فرق کرتے ہیں کہ رات کو سو کر اٹھے تو امر وجوبی ہوگا دن کو سو کر اٹھے تو حکم سنت کا ہوگا پھر ائمہ ثلاثہ توہّمِ نجاست کو امر کی علت ٹھہراتے ہیں اور امام احمد ؒ حدیث کے ظاہری الفاظ پر عمل کرتے ہیں۔
اشعار
بندۂ مومن کو چاہے جب اٹھے وہ خواب سے
ہاتھ برتن میں نہ ڈالے بلکہ دھولے آب سے
امر یہ علت کے باعث کوئی لازم تو نہیں
شافعی و مالکی و بو حنیفہ کے تئیں
بلکہ احمد نے بتایا بعدِ استیقاظِ شب
ہاتھ دھوئیگا ہمیشہ یوں نہیں بل قد وجب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تسمیہ عند الوضوء۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ائمہ اربعہ تسمیہ کو قبل الوضو سنت کہتے ہیں اور حنفیہ میں صاحب فتح القدیر علامہ ابنِ الھمام اور ظاہریہ وجوب کے قائل ہیں پر حنفیہ میں سے یہ ابن الھمام کا ایک تفرد ہے جس کے بارے ان کے شاگرد رشید علامہ قاسم بن قطلوبغا فرماتے ہیں تفردات شیخی غیر مقبولۃ۔
اشعار۔
تسمیہ پڑھنا ہے سنت دائما قبل الوضوء
متفق ہیں اربعہ سب خوب ہے یہ نیک خو
غیر ظاہر قولِ احمد اور وہ ابن الھمام
تسمیہ واجب ہے مثلِ ظاہریہ بالدوام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المضمضۃ و الاستنشاق فی الوضوء و الغسل۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ۔ کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا
امام احمد ؒ مضمضہ اور استنشاق کو غسل اور وضو دونوں میں فرض مانتے ہیں امام مالک و امام شافعی صاحب ؒ غسل و وضو دونوں میں سنت گردانتے ہیں اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ وضو میں سنت اور غسل میں فرض کہتے ہیں
اشعار
در وضوء سنت ہے یارو غسلِ انف و غسلِ فم
یہ ثلاثہ نے کہا ہے کچھ نہ کیجیے اس میں کم
حضرتِ احمد سے ہیں منقول اسمیں بھی وجوب
غسل میں جیسے ہیں قولِ بوحنیفہ خوب خوب
غسل میں بھی انکو سنت جانۓ گا اے عزیز
نزدِ مالک، شافعی ہی مانۓ گا اے عزیز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ المضمضۃ و الاستنشاق من کف واحد۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ۔ امام اعظم ابوحنیفہ ؒ فرماتے پہلے تین مرتبہ الگ سے کلی کرے اس طرح کی تین مرتبہ نیا پانی لے پھر اسی طرح تین مرتبہ ناک صاف کرے یہی ایک مرجوح روایت ائمۂ ثلاثہ کی ہیں لیکن ائمہ ثلاثہ کی راجح روایت یہ ہے کہ ایک مرتبہ پانی لے اور اسی سے تین مرتبہ کلی اور تین مرتبہ ناک صاف کرے۔۔
علامہ ابن الھمام فرماتے ہیں روایت میں جو کف واحد کا ذکر ہے اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایک چلو سے سارا کام انجام دے بلکہ کف واحد کا مطلب یہ ہے کہ اس کام کے لے صرف ایک ہتھیلی استعمال کی گئی۔۔
اشعار۔
فصل کو اولی ہیں کہتے بو حنیفہ محترم
اک روایت ہے ثلاثہ کی یہی غیر عزم
یعنی راجح ہے وصل یہ ہے ثلاثہ کا پیام
کف سے مطلب دست واحد قالہ ابن الھمام
۔۔۔۔۔۔۔۔ تخلیلُِ اللحیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ۔داڑھی کا خلال کرنا۔ غسل میں حنفیہ واجب کہتے ہیں مالکیہ سے دو روایتیں واجب و سنت کی ملتی ہیں اور ظاہریہ بھی وجوب کے قائل ہیں اور وضو میں داڑھی کا خلال ظاہریہ کے یہاں واجب ہے ، طرفین مستحب کہتے ہیں، امامِ ابویوسف امام شافعی امام احمد ؒ سنت کہتے ہیں اور امام مالک سے چار روایتیں ملتی ہیں۔
اشعار۔
پھر وضوء میں ایک مسلہ ہے کہ داڑھی کا خلال
مستحب کہتے ہیں اعظم اور محمد رکھ خیال
اور سنت کہتے ہیں یعقوب و احمد، شافعی
چار مرویّات ملتی ہیں کتب میں مالکی
ظاہری کہتے ہیں واجب جس طرح جنبی پہ ہم
مالکیہ واجب و سنت میں اب تک ہیں نرم
۔۔۔۔۔۔۔ مسح رأس۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ۔ مسح سر کی مفروضہ مقدار کتنی ہے، امامِ مالک صاحب فرماتے ہیں پورے سر کا مسح فرض ہے یہی ایک روایت امام احمد کی بھی ہے اور ایک روایت امام احمد سے یہ ہے کہ مرد پورے سر کا اور عورت سر کے اگلے حصے کا مسح کرے یہی مسلکِ حنابلہ میں مختار مذہب ہے اور امام شافعی صاحب کے نزدیک کم از کم تین بالوں کی مقدار فرض ہے اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ربع رأس کا مسح فرض ہے پھر امام ابوحنیفہ اور امام شافعی صاحب فرماتے ہیں کہ پورے سر کا مسح سنت ہے۔۔
اشعار۔
فرض ہے پھر ربعِ سر پر ہر وضوء میں مسحِ سر
ہاں ولے سنت ہے استیعاب حنفی قول پر
مالکی کہتے ہیں استیعاب ہے فرض و ضرور
اک روایت ہے یہی احمد کی اے میرے حضور
شافعی کہتے ہیں لازم موۓ سہ پر کم سے کم
اور سنت میں ہیں کہتے جیسے حنفی ویسے ہم
قولِ ظاہر ابن حنبل ہے ہمہ رأسِ مرد
اور مقدّم رأسِ عورت سمجھۓ اھلِ خرد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مسح الرأس مرۃ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ۔ مسح کتنی مرتبہ کیا جاے ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں بس ایک مرتبہ کافی ہے اور امامِ شافعی صاحب تثلیث کے قائل ہیں۔
شعر۔
پھر ثلاثہ کہتے ہیں یہ مسحَ کیجئے ایک بار
مستحب نزدِ شوافع تین کا ہے اعتبار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یأخذ لرأسہ ماء جدیداً۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ۔ مسح سر کے لے نیا پانی لینا حنفیہ کے نزدیک سنت اور شوافع کے نزدیک فرض ہے۔
شعر۔
مسحِ سر کے واسطے پھر چاہۓ پانی نیا
شافعی کہتے ہیں فرض و حنفیہ سنت سدا
۔۔۔۔۔۔ مسحِ اذنین۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ۔ کانوں کا بھی بالاتفاق مسح کیا جاے گا البتہ شافعیہ اور مالکیہ کہتے ہیں نیا پانی لیا جاے اور حنفیہ کے یہاں نیا پانی ضروری نہیں ہے۔
شعر
کانوں کا بھی مسح چاہے اور پھر ماءۓ جدید
شافعیہ، مالکیہ کا ہے یہ قولِ سدید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ *تخلیلِ اصابع*۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مسئلہ۔وضو میں انگلیوں کا خلال کرنا مالکیہ اور شافعیہ کے نزدیک مستحب ہے حنفیہ و حنابلہ کے نزدیک سنت ہے اور ظاہریہ وجوب کے قائل ہیں۔،
اشعار۔ 1111
بعد اس کے آپ تخلیلِ اصابع کیجئے
مستحباً نزدِ مالک اور شوافع کیجئے
سنتاً کہتے ہیں اعظم اور احمد ذی وقار
امر سے ہیں واجباً کے ظاہریہ دعویدار
********ویل للاعقاب من النار********
مسئلہ۔ وضو میں پاؤں کا وظیفہ بالاتفاق دھونا ہے سوائے رافضیہ کے وہ کہتے ہیں کہ ننگے پاؤں پر مسح کیا جاے گا، یہ عجیب بات ہے خفین پر اھل السنۃ و الجماعت مسح کے قائل اور یہ مسح خفین کے منکر ہیں ننگے پاؤں کا وظیفہ اھل السنۃ و الجماعت کے نزدیک غسل ہے اور یہ مسح کے قائل ہوے۔
اشعار۔
اھل سنت متفق ہیں دائماً انسان بس
پاؤں دھوے گا وضوء میں ہے یہی فرمان بس
مسحِ جورب کے ہیں منکر رافضیہ خود فریب
ننگے پاؤں پر مسح ہے حکم دیتے ہیں عجیب
******** المندیل بعد الوضوء*********
مسئلہ وضو کے بعد اعضاء مغسول کو تولیہ وغیرہ سے پونچھنا جائز ہے امامِ شافعی صاحب فرماتے ہیں نہ پونچھنا مستحب ہے۔
شعر
پونچھ لے نزدِ ثلاثہ کچھ نہیں جاۓ حرج
مستحب ہے ترک نزدِ شافعی واۓ حرج
********المد و الصاع********
مسئلہ۔ ایک صاع چار مد کا ہوتا ہے یہ اتفاقی بات پے
اختلافی امر یہ ہے کہ ایک مد کتنے رطل کا ہوتا ہے طرفین کے نزدیک ایک مد دو رطل کا ہوتا ہے اس طرح ایک صاع آٹھ رطل کا ہوا یہی ایک مرجوح روایت امامِ احمد کی ہے اور امام ابو یوسف کا قول قدیم بھی یہی ہے امام ابو یوسف کا قول جدید اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں کہ ایک مد ایک رطل اور ثلث رطل کا ہوتا ہے اس طرح ایک صاع پانچ رطل اور ایک ثلث رطل کا ہوا۔
اشعار
ایک صاع ہے چار مد کا اے مرے پیارے سنو
ہیں ائمہ متفق اس امر پر سارے سنو
پر نہیں بنتی ہے مد میں یاد کیجئے اختلاف
دو رطل کا ہے بنعمان و محمد اتصاف
اک روایت ہے یہی احمد سے مروی پر سقیم
اور ہے یعقوب قاضی کا یہی قولِ قدیم
رطلِ واحد اورَ ثلثِ رطل ہے مدِّ حجاز
یعنی یعقوب و ثلاثہ کا ہے یہ قولِ مُجاز
******ان الماء لا ینجسہ شیٔ*******
مسئلہ۔ پانی کی اصل پاک ہونا ہے ظاہریہ کہتے ہیں پانی تب ہی ناپاک ہوگا جب نجاست پانی پر غالب آے ائمہ اربعہ کہتے ہیں ماۓ قلیل وقوع نجاست سے نا پاک ہو جاے گا البتہ مقدارِ قلت و کثرت میں اختلاف ہے امامِ مالک صاحب فرماتے ہیں جب پانی کے اوصاف ثلاثہ(رنگ، بو اور مزا) میں سے کوئی وصف بدل جاے تو اب یہ ناپاک ہوگا اور یہی قلیل ماء ہے اور امام شافعی و احمد فرماتے ہیں کہ قلت کی مقدار قلتین ہے اور امامِ ابوحنیفہ رحمہ اللہ دیکھنے والے کا اعتبار کرتے ہیں حنفیہ کے اس میں اور بھی اقوال ہیں لیکن صحیح مبتلاء بہ شخص کے دیکھنے کا اعتبار ہے۔
اشعار۔
اپنی فطرت میں نہیں پانی سوا ماءِۓ طہور
ہاں اگر ہو جاے اوصافِ ثلاثہ کا ظہور
رنگ و بو میں سے کوئی یا کہ بدل جاے مزا
ترکِ استمتاع ایسے ماء سے کرنا ہے بجا
ظاہریہ کا ہے بیجا قول اور بیباک ہے
جب نجاست آے غالب تب ہی وہ ناپاک ہے
دیکھۓ مقدارِ قلت اور کثرت میں نزاع
کیسے کرتے ہیں ائمہ قول سے اپنا دفاع
جب کوئی وصفِ ثلاثہ میں بدل جائے تو پھر
نزدِ مالک ہے قلیل الماء، یہی اور ہے قذر
شافعی، احمد نے فرمایا ہے کم از قلتین
نزدِ اعظم ہے مدارِ مبتلاۓ نظر العین
*************۰۰۰۰۰۰۰۰************صفحۂ ثانی !
No comments:
Post a Comment