............ ماء مستعمل....................
مسئلہ۔ امام مالکؒ کے نزدیک ماء مستعمل طاہرو مطھر ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک صرف طاہر ہے اور دلیل یہ کہ حضور ﷺ نے ماء راکد میں غسل کرنے سے جنبی کو روکا ہے۔
اشعار۔
ماءۓ مستعمل ہے طاہر اور مطَھّر بھی جناب
نزدِ مالک ہے یہی اولی یہی بہتر صواب
اور ثلاثہ نے ہیں فرمایا کہ ہے طاہر فقط
ماءۓ راکد میں منع ہے غسل جنبی پر فقط
•••••••••••••••••مزیل النجاسۃ•••••••••••••
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ازالۂ نجاست کے لے پانی لازم ہے بدوں پانی کے نجاست کا ازالہ نہیں ہوسکتا ہے اور امام اعظم ابو حنیفہ فرماتے ہیں نجاست غیر حسیہ کے لے پانی ہی چاہیے اور نجاست حسیہ کا ازالہ پانی کے علاوہ دیگر مائعات سے بھی ہو سکتا ہے اور دلیل حضرت عائشہ کی وہ حدیث ہے ۔
اشعار۔
کیا نجاست کا ازالہ ہوے پانی کے سوا
نزدِ اعظم ہے یہ ممکن حسیّہ میں ہے روا
اور تمسک ہے فرک والی حدیث عائشہ
پر نہیں لازم ہے پانی یہ ثلاثہ نے کہا
••••••••••••••••••حکم النبیذ•••••••••••••
مسئلہ۔1 وہ نشہ آور جھاگ دار نبیذ جس میں مٹھاس بھی آئی ہو 2 ایسی نبیذ جس میں جھاگ آیا ہو نہ مسکر ہو صرف مٹھاس آئی ہو ان دونوں سے بالاتفاق وضو ناجائز ہے 3 وہ جو نہ مطبوخ ہو نہ مسکر اور نہ حلو آیا ہو اس میں اختلاف ہے ائمہ ثلاثہ اور امام ابو یوسف فرماتے اس نبیذ سے بھی وضو ناجائز ہے پانی نہ تو تیمم ہی متعین ہے امام محمدؒ فرماتے کہ ایسی نبیذ سے وضو بھی کرے اور تیمم بھی دونوں کو جمع کرے امام اعظم ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ ایسی نبیذ سے وضو کرے گا لیکن امام صاحب کا جمہور کی طرف رجوع ثابت ہے
اشعار۔
غیر مسکر غیر مطبوخ و حلو آیا نہیں
اس سے جائز ہے وضو یعنی حکم پایا نہیں
مسکر و مطبوخ و میٹھا ہے نبیذِ ناب جی
غیر جائز ہے وضو اب یہ نہیں ہے آب جی
غیر مسکر غیر مطبوخ و حلو آیا مگر
مختلف فیہ ہے یہ منبوذ و حکم پایا مگر
نزدِ یعقوب و ثلاثہ ہے تیمم روبکار
بوحنیفہ نے کیا ہے بس وضوء کا اعتبار
جمع دونوں کو کرے گا یہ محمد نے کہا
اور رجوعِ بوحنیفہ آخراً ثابت ہوا
اب نبیذوں سے وضوء کا حکم ہے عدم جواز
متفق ہیں سب ائمہ کیجۓ گا احتراز
••••••••••••••••••••سور الحمار•••••••••••••••••
مسئلہ۔ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک گدھے کا جھوٹا مجس ہے اور امام شافعی رح کے نزدیک پاک ہے۔
شعر
بوحنیفہ نے ہیں فرمایا نجس سور حمار
شافعیہ نے کیا قولِ مُطَھّر اختیار
••••••••••الاستنجاء بشیٔ النجس••••••••••
مسئلہ۔ امام شافعیؒ و احمد فرماتے ہیں کہ شئ نجس سے استنجاء نہیں ہوتا ہے امام اعظم و مالک رح فرماتے ہیں کہ لید و گوبر اگر خشک ہو تو استنجاء کا تحقق کراہت کے ساتھ ہو جاے گا۔
اشعار۔
لید و گوبر سے ہیں استنجاء برابر کالعدم
شافعیہ اور احمد سے ہیں مروی یہ حکم
بوحنیفہ اور مالک نے کہا آسان ہے
با کراہت ہی تحقق خشک سے امکان ہے
••••••••الاستنجاء بالیمین••••••••••••
مسئلہ۔ دائیں ہاتھ سے استنجاء کرنا ظاہریہ کے نزدیک بالکل حرام ہے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مکروہ ہے امام ابوحنیفہ کے نزدیک مکروہ تحریمی اور امام شافعی و امام احمد کے نزدیک مکروہ تنزیہی۔
اشعار۔
اور یدِ یمنیٰ سے استنجاء ہے کرنا بس حرام
ظاہریہ کا ہے یہ قولِ سقم قولِ تمام
شافعی احمد نے فرمایا کہ تنزیہی فقط
بوحنیفہ نے ہیں فرمایا کہ تحریمی فقط
•••••••••حکم المنی و المذی و الودی••••••••
مسئلہ۔ منی امام ابوحنیفہ و امام مالک رح کے نزدیک ناپاک ہے اور امام شافعی و احمد کے نزدیک پاک ہے مذی و ودی دونوں بالاتفاق ناپاک ہے البتہ کیفیت تطہیر میں اختلاف ہے مذی کے دھونے کے لے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک غسل چاہے اگرچہ غسل خفیف ہی ہو اور امام احمد کے نزدیک نضح(چھینٹے مارنا) کافی ہے اور ودی میں بھی بالاتفاق غسل چاہۓ
اشعار۔
پھر منی کو شافعی احمد نے طاہر کہہ دیا
اعظم و مالک نے ناپاک و نجس تر کہہ دیا
پھر مذی میں کہتے ہیں احمد کہ نضحاً کر نظیف
اور ثلاثہ نے کہا ہے چاہۓ غَسلِ خفیف
پھر مذی جیسی ودی بھی اتفاقاً ہے نجَس
غَسل لازم ہے ودی میں ہیں یہی سب کی ہوس
•••••••••ضفائر المرأۃ والرجل••••••••••••
مسئلہ۔ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں مرد اور عورت کے غسل میں فرق ہے وہ یہ کہ مرد ہر حال میں اپنے بال کھولے گا جبکہ عورت کو گوندھے ہوے بال کھولنا ضروری نہیں ہے بشرط کہ اصول شعر تک پانی کا وصول ہوتا ہو امام مالک و شافعی رح فرماتے ہیں کہ مرد اور عورت کے غسل میں فرق نہیں ہے دونوں کے لئے حکم یہ ہے بالوں کے ظاہر و باطن کو تر کرنا ضروری ہے اگر بغیر نقض ضائع کے تر ہو جاے تو ٹھیک ورنہ کھولنا ضروری ہے اور ان تینوں اماموں کے نزدیک غسل جنابت یا عورت کے لے غسل حیض و نفاس میں کوئی فرق نہیں ہے امام احمد غسل جنابت اور حیض و نفاس کے غسل میں فرق کرتے ہیں غسل جنابت میں امام احمد امام ابو حنیفہ کے ساتھ ہیں اور غسل حیض و نفاس عورت کو بال کھولنا ضروری ہے
شعر۔
نزد اعظم مرد کھولے گا غسل میں سارے بال
اور ثلاثہ عدم کے قائل ہے للبنت و رجال
•••••••••••مباشرت الحائض•••••••••••••
مسئلہ۔ حائضہ سے کرنا بالاتفاق حرام ہے اس کے علاہ حائضہ سے ملنے جلنے تین صورتیں ہیں 1 ما فوق الازار استمتاعِ بوس و کنار 2 ما فوق السرۃ ما تحت الرکبۃ 3 ما تحت الازار بغیر الجماع، پہلی دو صورتیں بالاتفاق جائز ہے تیسری صورت جمہور کے نزدیک جائز نہیں اور امام احمد و محمد کے نزدیک یہ بھی جائز ہے۔
اشعار۔
حائضہ سے ملنا چاہو کیجۓ بوس و کنار
اور زیادہ ہو تقاضا لیجئے فوق الازار
فوقِ سرۃْ تحتِ رکبۃ پر ملامت جی نہیں
برہنہ عقدہ کشائی کی اجازت جی نہیں
احمد و ابن الحسن کہتے ہیں ما تحت الازار
بے جماعِ زن سے راحت بخشے خود کو نابکار
••••••••فی من یحدث فی الصلوۃ•••••••••
مسئلہ۔ کسی شخص کو نماز کے دوران عذر پیش آیا تو کیا کیجیے ائمہ ثلاثہ کے نزدیک لوٹ کر وضو کرے اور پھر از سر نو نماز پڑھے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کی وضو کر کے بناء بھی کر سکتا ہے البتہ استیناف مستحب ہے
اشعار۔
گر کس کو عذر آے پیش دورانِ صلوٰ ت
از سر نو پڑھ لے پھر سے یہ ثلاثہ کی ہے بات
حنفیہ کا قول ہے بعد الوضوء کر لے بناء
مستحب ہے از سرِ نو بوحنیفہ نے کہا
••••••••••اطال الغرۃ و التحجیل•••••••••••
مسئلہ۔ اطالہ غرہ و تحجیل کیا ہے جمہور کے نزدیک اطالہ غرہ کے معنی ہے چہرہ دھوتے وقت پیشانی کے سر کے اگلے حصہ کو دھولیا جاے اور اطالہ تحجیل کے معنی ہیں یدین و رچلینڈ کو دھونے کے وقت حد مفروض سے اگے دھویا جاے یعنی مرفقین و کعبین کے اوپر تک اور ایسا کر جمہور کے نزدیک مستحب ہے امام مالک اطالہ غرہ و تحجیل کی ایک دوسری تفصیل بیان کرتے ہیں کہ اس سے مراد ادامہ و تجدید ہے یعنی ہمیشہ با وضو رہنا اور تازہ وضو کرنا اس امام مالک کے نزدیک جس غرہ و تحجیل کے جمہور قائل ہیں اس کو مکروہ کہتے ہیں۔
شعر۔
مستحب نزد ثلاثہ غرہ و تحجیل ہے
نزد مالک ہے کراہت اک نئ تفصیل ہے
•••••••••اکسال••••••••••
مسئلہ اس مسئلے میں پہلے صحابہ کرام ؓؓ کے درمیان قدرے اختلاف تھا لیکن فاروق اعظم ؓ کے زمانے اس مسئلہ پر اجماع ہوا کہ انسان سے غسل واجب ہے۔
شعر۔
پہلے کچھ کہتے رہے بس غسل ہے انزال سے
پھر ہوا اجماعَ سب کا نیز ہے اکسال سے
•••••••••الوضوء قبل ان ینام••••••••••••
مسئلہ۔ غیر مشروط الطہارۃ والے امور مثلا کھانا کھانا سونا وغیرہ ان افعال میں جمہور کے نزدیک وضو کرنا سنت ہے اور ظاہریہ کے نزدیک واجب ہے۔
اشعار۔
غیر مشروط الطہارت والے وہ سارے امور
مستحب ان میں وضوء ہے اھلِ سنت کے حضور
ظاہریہ نے تو ان افعال میں فتویٰ دیا
سونے سے پہلے وضوء میں قولِ واجب کو چنا
•••••••••الموالات في الوضؤ•••••••••••
مسئلہ۔ موالات پے در پے ترتیب سے وضو کرنا امام مالک و امام احمد کے نزدیک واجب ہے اور امام ابو حنیفہ و شافعی کے نزدیک سنت ہے۔
شعر۔
در وضوء ترتیب چاہے نزدِ احمد مالکی
اوْرَ یہ سنت ہے نزدِ بو حنیفہ شافعی
•••••••الوضوء بعد الغسل••••••••••
مسئلہ۔ ائمہ اربعہ متفق ہے کہ غسل کرنے کے بعد دوبارہ وضو نہیں کرنا ہے البتہ اگر حدث اکبر یا اصغر لاحق ہوا ہو تو امام احمد فرماتے ہیں کہ پھر بعد الغسل وضو کرنا ہوگا اک روایت امام احمد کی یہ ہے کہ اگر غسل کرنے سے پہلے ہر حدث سے پاک ہونے کی نیت کر لے تب دوبارہ وضو نہیں کرنا ہے۔
اشعار۔
متفق ہیں اربعہ جب غسل ہو جاے تمام
پھر وضوء کرنا نہیں ہے مختصر ہے بس کلام
اکبر و اصغر حدث جس کو ہوا لاحق سدا
پھر وضوء بعد الغسل ہے یہ تو احمد نے کہا
یا غسل میں کر لے نیت ہر حدث سے پاک ہو
اک روایت ہے یہ احمد کی اگر ناپاک ہو
•••••••••••••••••••ختم•••••••••••••••••• صفحہ رابع
No comments:
Post a Comment