Friday, December 30, 2022

الاختلاف کتاب الطہارت 2

*********فضلِ طھور المرأۃ*******

مسئلہ۔ عورت کے وضو کا بچا ہوا پانی

 ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مرد کا اس پانی کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں امام احمد ؒ کے نزدیک اس پانی کا مرد کے لے استعمال کرنا مکروہِ تحریمی ہے ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں امام احمد ؒ نے جس حدیث سے تمسک کیا ہے وہ حدیث منسوخ ہے۔ 

اشعار۔ 
نفْعَ کے قابل ہے طالب زن کا ما فضلِ طہور
مرد کی خاطر ثلاثہ نے کہا میرے حضور
نزدِ احمد ہے کراہت وہ بھی تحریمی سدا
جس خبر سے ہے تمسک وہ ہے منسوخ الاداء
                

*********البول فی المستحم********

مسئلہ۔ جمہور ائمہ فرماتے ہیں ایسا غسل خانہ جس کا فرش کچا ہو وہاں پیشاب وغیرہ نہیں کرنا چاہے کیوں کہ فرش کچا ہوگا تو پیشاب زمین کے ذرات میں جما رہے گا اور اسی سے وساوس کی بیماری کا خدشہ ہے لیکن امام نووی شارح مسلمؒ فرماتے ہیں جس غسل خانے کا فرش پکا ہو اس میں پیشاب نہ کیا جاوے کیوں کہ پکے فرش پر پیشاب جمنے کا ان ذرات سے چھینٹے اڑنے کا خطرہ ہے۔۔ 

اشعار۔ 
غسلَ خانے میں نہ ہرگز کیجئے گا پیش آب
اس سے خدشہ ہیں وساوس کا مرے پیارے جناب
کہتے ہیں سب وہ غسل خانہ کہ کچّا ہو فرش
نزدِ یحی بن شرف ہے وہ کہ پکّا ہو فرش


           ***********بول الصبی**********

مسئلہ۔ جمہور کا مسلک یہ ہے کہ شیرخوار بچے اور بچی دونوں کا پیشاب ناپاک ہے سواے اصحابِ ظواہر کے وہ بچے کے پیشاب کو پاک مانتے ہیں پھر ائمہ اربعہ میں اس میں اختلاف ہے کہ اگر بچے یا بچی کا پیشاب کپڑے وغیرہ پر لگ جاے تو دونوں کو دھویا جاے یا نہیں امام ابو حنیفہ اور امام مالکؒ فرماتے ہیں دونوں کو بلا تفریق دھویا جاے البتہ امام ابوحنیفہ بچے کے پیشاب میں غسلِ خفیف کے قائل ہیں اور امام شافعی و امام احمد ؒ فرماتے ہیں بچی کا پیشاب دھویا جاے اور بچے کے پیشاب پر نضح (چھنٹے مارنا) کافی ہوگا 

اشعار۔ 

  بول سے بچنا پڑے گا جاریہ ہو یا غلام
یہ ہیں مسلک اربعہ کا بلکہ کہتے ہیں تمام
  ظاہری بولِ صبی کے قائلِ تطہیر ہے
   یہ سراسر  فہم کم اور کج روی تقصیر ہے
    اعظم و مالک ہیں کہتے غسل دونوں میں اصح
شافعی و حنبلی کہتے ہیں بچے میں نضح
     

   ************ماء البحر**********

مسئلہ۔ سمندر کے پانی میں صحابہ کے ما بین کچھ اختلاف تھا حضرت عبداللہ بن عمر ؓ وغیرہ فرماتے تھے کہ سمندر کے پانی سے وضو کرنا جائز نہیں ہے لیکن اب یہ اجماعی مسئلہ ہے کہ ماۓ بحر سے وضو کرنے میں کوئی حرج نہیں البتہ بحری حیوانات کو لے کر ائمہ میں اختلاف ہے چناں چہ حنفیہ کے نزدیک مچھلی کے سوا جمیع بحری حیوانات حرام ہے مالکیہ کے نزدیک خنزیرِ بحری کے علاوہ سمندر کے تمام جانور حلال ہے حنابلہ کے یہاں ضفدع، تمساح، و کوسج کے علاوہ باقی سب حلال ہے اور امام شافعی ؒ کی اس میں چار روایتیں ہیں جن میں مفتیٰ بہ و مختار روایت بقول علامہ نوویؒ یہ ہے کہ ضفدع کے سوا باقی تمام سمندری جانور حلال ہے۔ 

اشعار۔ 
کیا نہیں معلوم پانی ہے سمندر کا لطیف
پہلے تھا کچھ مختلف پر اب ہے اجماعاً نظیف
مختلف ہے حکم لیکن بحری حیوانات کا
مسلکِ اعظم ہے جز مچھلی کے ردِّیّات کا
مسلکِ مالک ہے جز خنزیرِ بحری سب حلال
ضفدع و تمساح و کوسج میں ہے احمد کو مقال
شافعی سے چار مرویّات ملتی ہیں یہی
ما سوا ضفدع کے حلت قول ہے مفتی بہ
    

   **********بولِ ما یوکل لحمہ***********

مسئلہ۔ اصحابِ ظواہر کہتے ہیں جن جانوروں کو کھایا نہیں جاتا ان کا پیشاب بھی پاک ہے اور جمہور کے نزدیک غیر مأکول اللحم کا پیشاب ناپاک ہے البتہ ائمہ اربعہ کے درمیان مأکول اللحم جانوروں کے پیشاب میں اختلاف ہے چناں چہ امام ابوحنیفہ و امام شافعی ؒ کے نزدیک ان کا پیشاب بھی ناپاک ہے اور امام مالک،امام احمد اور امام محمد فرماتے ہیں مأکول اللحم جانوروں کا پیشاب پاک ہے اور حدیث عرینہ ان کی دلیل ہے

اشعار۔ 
غیر مأکول اللحم کا ہے نجس بول و براز
ظاہریہ سے ہیں مروی اس میں بھی امرِ مُجاز
البتہ ہے مختلف فیہ بولِ مأ کول اللحم
حنفیہ اور شافعیہ سے نجس کا ہے حکم
احمد و مالک، محمد نے کہا کہ پاک ہے
ہاں عرینہ کی خبر سے ان کا استمساک ہے
              

   *********الوضوء من النوم********

امام اوزاعی رح فرماتے ہیں نیند چاہیے کم ہو یا کثیر ہر طرح سے ناقض وضو ہے اور ائمہ اربعہ کے نزدیک نومِ قلیل غیر ناقض وضو ہے اور نوم کثیر مطلقاً ناقض ہے البتہ نوم قلیل کی حد میں تھوڑا سا اختلاف ہے حنفیہ کے نزدیک اگر نماز کی ہیئت (جیسے رکوع سجدہ،تشہد)پر سویا ہے تو یہ نوم قلیل غیر ناقضِ وضو ہے 

اشعار۔ 
نوم کو کہتے ہیں حنفی  ہیئۃً جسے نماز
غیر ناقض ہے یقیناً اور ہے اس کا جواز
خیر نزدِ اربعہ کے غیر ناقض ہے قلیل
اور ناقض ہے وگرنہ مطلقاً نومِ ثقیل
شیخ اوزاعی نے بتلایا کہ کم ہو یا کثیر
ہر طرح ناقض ہے ان کا ہیں یہی قولِ شہیر
    

  ***********الوضوء ما غیرت النار**********

مسئلہ۔ پکی پکائی چیز کو کھانے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے یا نہیں یہ مسئلہ پہلے صحابہ کرام ؓمیں مختلف فیہ تھا لیکن حدیث ناسخ کا جب علم ہوا تو یہ اجماعی مسئلہ ہوگیا اب اجماع اس پر ہے کہ پکائی ہوی چیز کے کھانے سے وضو نہیں ٹوٹتا دلیل ناسخ آخر الامرین من امور رسول اللہﷺ ترک الوضوء مما مست النار او کما قال ﷺ۔ 

شعر۔ 
کچھ پکاؤ اور کھاؤ تھا وضوء پہلے کبھی
آخر الامرین سے منسوخ  خبراً ہے ابھی
         

   *********** لحوم الابل**********

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ کے کے نزدیک اونٹ کا گوشت کھانے کے بعد مطلقا وضو نہیں ہے امام احمد ؒ فرماتے ہیں وضو کرنا ہوگا۔ 

شعر۔ 
اورَ ہے ناقض لحومِ ابل نزدِ حنبلی
غیر ناقض ہے ثلاثہ نے کہا ہے مجملی
       

      **********مسِ ذکر***********

مسئلہ۔ حنفیہ کہتے ہیں مسِ ذکر سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے اور دلیل حضرت طلقؓ کی روایت ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مس ذکر سے وضو ٹوٹ جاتا ہے فرق یہ ہے کہ امام احمد ؒ مطلقا مس ذکر سے وضو ٹوٹنے کے قائل ہیں اور امام مالک و شافعی کے نزدیک باطنِ کف سے چھونے کی قید ہے۔ 

اشعار۔ 
ہے نواقض میں ثلاثہ کے یہاں مسِّ ذکر
غیر ناقض نزدِ حنفی جب طلق نے دی خبر
مطلقاً کہتے ہیں احمد، پر وہ مالک، شافعی
باطنِ کف سے چھوۓگا تو حکم ہوگا یہی
      

     ***********الوضوء من القبلۃ**********

مسئلہ۔ کیا عورت کو چھونے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ 

امام ابو حنیفہ رح فرماتے ہیں مس مرأۃ سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے اور ائمہ ثلاثہ کے یہاں وضو ٹوٹ جاتا ہے اس فرق کے ساتھ کہ امامِ شافعی صاحب فرماتے ہیں اگر غیر محرم عورت کو مس کرتا ہے تو وضو ٹوٹے گا وگرنہ نہیں اور امام مالک و امام احمد فرماتے ہیں کہ مس بالشہوۃ ہو تو وضو ٹوٹ جاے گا چاہے محرم ہو یا غیر محرم۔ 

اشعار۔ 
جو کوئی چھوۓ گا عورت تو وضو جاتا رہا
مالک و احمد کے ہاں گر شہوۃً بھاتا رہا
شافعی کہتے ہیں نا محرم میں ناقض اور بس
غیر ناقض نزدِ اعظمؒ  کیجئے گا غور بس

************الوضوء من الدم**********

مسئلہ۔ بدن کے کسی مقام سے خون یا پیپ نکلنے سے بشرط کہ سائل ہو امام ابو حنیفہ و امام احمد رح کے نزدیک وضو ٹوٹ جائے گا امام شافعی رح فرماتے ہیں کہ اگر خون سبیلین سے نکلے تب وضو ٹوٹے گا ورنہ نہیں اور امام مالک رح فرماتے ہیں کہ اگر سبیلین سے نکلنے والی چیز کے ساتھ تھوڑی بہت نجاست نکل آے تب وضو ٹوٹے گا یعنی امام شافعی صاحب کے نزدیک مخرج معتاد شرط ہے اور امام مالک رح کے نزدیک مخرج معتاد کے ساتھ ساتھ نجاست معتاد ہونی چاہیے۔ 

اشعار۔ 

بہہ پڑے گر جسم کے اعضاء سے تھوڑا بھی لہو
بوحنیفہ اور احمد کے یہاں ٹوٹا وضوء
شرط نزدِ شافعیہ ہے خروج از دو سبیل
نزدِ مالک گر نجاست بھی نکل آے قلیل
      

   ************سؤر الکلب**********

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک کتے کا جھوٹا ناپاک ہے امام مالک رح کے نزدیک پاک ہے البتہ جس برتن میں کتا منہ ڈالے اس کو بالاتفاق دھویا جاے گا اور کیفیتِ تطہیر میں اختلاف ہے امام احمدؒ کے نزدیک آٹھ مرتبہ دھویا جاے گا اور آٹھویں مرتبہ مٹی سے رگڑنا ضروری ہے اور امام مالک و امام شافعیؒ کے نزدیک سات مرتبہ دھویا جاے گا جس میں تتریب بھی شامل ہے اور امام ابو حنیفہ ؒؒؒ کے نزدیک تین مرتبہ دھویا جاے گا اور سات مرتبہ دھونا مستحب ہے۔ 

اشعار۔ 
ہیں نجس کتّے کا جھوٹا یہ ثلاثہ نے کہا
حضرتِ مالک نے فرمایا کہ طاھر واہ واہ
جس میں کتّا کھا لے پی لے دھویا جاے آٹھ بار
نزدِ احمد ہے رگڑنا آخراً اس میں شمار
نزدِ مالک دھویا جاے گا مع التتریب سات
شافعیہ نے کہا تتریب ہے از واجبات
بو حنیفہ نے کہا ہے تین واجب اور بس
مستحب ہے سات لیکن کچھ نہیں ہے زور بس
     

  *************سؤر الھرۃ***********

مسئلہ۔ امام اوزاعی رح فرماتے ہیں کہ بلی کا جھوٹا ناپاک ہے السنور سباع اس حدیث سے تمسک کرتے ہیں ائمہ ثلاثہ کے نزدیک سؤر ھرہ پاک ہے حدیث ابو قتادہ ان حضرات کی دلیل ہے اور حضرات طرفین کے نزدیک سؤر ھرۃ مکروہ ہے البتہ کراہت کس درجے کی ہے اس میں اختلاف ہے۔ 

اشعار۔ 
شیخ اوزاعی ہیں کہتے سورِ ھرۃ ہے نجس
السباع والی خبر سے یہ حکم ہے مقتبس
بوحنیفہ اور محمد سے کراہت ہے ملی
بین تحریمی و تنزیہی نہیں حکمِ جلی
شیخ یعقوب و ثلاثہ نے کہا یہ پاک ہے
ہاں حدیثِ بوقتادہ سے جو استمساک ہے

*************مسح الخفین *************

مسئلہ۔ خفین پر مسح کرنا اھل سنت و الجماعت کی علامت ہے اور یہ اجماعاً ثابت ہے رافضیہ کا اختلاف ہے کہ خفین پر مسح جائز نہیں۔ 

شعر۔ 
قولِ مسحِ خف ہے طالب اھلِ سنت کا عمل
رافضیہ سے ہے عدم و قولِ نا جائز نقل
 

     **************مدت المسح***********

مسئلہ۔ امام مالک رح فرماتے ہیں کہ مسح خف میں کوئی مدت متعین نہیں اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مسافر کے لئے تین دن و تین رات اور مقیم کے لئے ایک دن و ایک رات متعین ہے۔ 

شعر۔ 
مسحِ خف میں قولِ مالک عدم مدّت ہے سلیم
قولِ باقی للمسافر تین و واحد للمقیم

********طریقۃ مسح الخفین***********

مسئلہ۔ امام ابو حنیفہ و امام احمد کے نزدیک صرف ظاہری خف پر مسح ہوگا اور امام شافعیؒ کے نزدیک باطنی خف کا مسح بھی سنت ہے اور امام مالک رح فرماتے ہیں ظہراً و باطناً دونوں طرف مسح کرنا فرض ہے۔ 

اشعار۔ 
بو حنیفہ اور احمد مل کے دونوں نے کہا
مسحِ خف کا ہے طریقہ ظاہراً کیجے سدا
باطنِ خف کا مسح سنت ہے نزدِ شافعی
باطنًا اور ظاہراً ہے فرض نزدِ مالکی

*******مقدار مفروض فی الخف*******

مسئلہ۔ مسح خف کی مقدار میں وہی اختلاف ہے جو سر کے مقدار مفروضہ میں ہے کیونکہ اس میں کسی امام کے پاس کوئی نقلی دلیل نہیں ہے۔ 

شعر۔ 
مثلِ مسحِ رأس چاہے مسحِ خف مقدار میں
کچھ نہیں نقلی دلائل ہاے اس تکرار میں

*********مسح الجوربین*********

مسئلہ۔ خفین( جو پورا کا پورا چمڑے کا بنا ہو) کے سوا جوربین کی چار قسمیں ہیں 1 مجلدین جس کے اوپر نیچے چمڑا ہو 2 منعلین جس کے صرف نچلے والے حصے میں چمڑا ہو 3 ثخینین اس قدر موٹے جس میں تتابعِ مشی ممکن ہو خود بخود پاؤں پر ٹکتے ہوں اور شفاف ہوں یعنی پانی سرایت نہ کرتا ہو 4 اور چوتھی قسم جوربین رقیقین کی ہے پہلی تین قسموں میں ( خفین، جوربین مجلدین، اور جوربین منعلین میں بالاتفاق مسح جائز ہے اور پانچویں قسم جوربین رقیقین میں بالاتفاق مسح جائز نہیں اب بچی جوربین کی تیسری قسم جوربین ثخینین اس میں اختلاف ہے ائمہ ثلاثہ اور صاحبین کے نزدیک اس پر مسح جائز ہے اور امام ابو حنیفہ کا قول قدیم عدم جواز تھا لیکن حضرت الامام سے وفات سے کچھ دن قبل جمہور کے قول کی طرف رجوع ثابت ہے اب خلاصۃً جوربین ثخینین پر بھی بالاتفاق مسح جائز ہے۔ 

اشعار۔ 

مسح کرنا ہوگا جائز گر ہوں پہنے جوربین
چاہۓ دونوں  مجلد یا کہ ہوں وہ منعلین
ایسے جورب جو کہ موٹے یعنی دونوں ہو ثخین
کہتے ہیں جائز ثلاثہ ، صاحبَین ، ماہِرین
بو حنیفہ پہلے کہتے تھے ثخانت پر نہیں
پر قبیل المرگ ثابت ہے رجوع اب بالیقیں
البتہ جورب جو دونوں ہوں رقیق و کم قرار
پھر جوازِ مسح ٹھہرا ہے سقوط الاعتبار

************مسح علی العمامہ***********

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک پگڑی پر مسح جائز نہیں ہے اور امام احمد کے نزدیک جائز ہے  اور مقدار مفروضہ کے علاوہ مقدار مسنونہ کا مسح پگڑی پر امام ابوحنیفہ و امام شافعی کے نزدیک جائز ہے اور امام مالک کے نزدیک مقدار مسنونہ کا مسح بھی پگڑی پر جائز نہیں ہے۔ 

اشعار۔ 

ہاں ثلاثہ نے کہا مسحِ عمامہ ہے غلط
اور استیعاب نزدِ مالکیہ ہے غلط
پھر عمامہ پر مسح ہے نزدِ احمد ہی روا
ظاہریہ نے اسی مسلک پہ ہے فتویٰ دیا
**************************

No comments:

Post a Comment