Saturday, August 31, 2024

الباب الثانی، فی فضل القضاء و الترغیب فی القیام فیہ بالعدل،و حکم السعی فیہ۔


اس باب میں مصنفؒ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں قضاء کی فضیلت کو بیان کیا ہے، فرمایا ہمارے بہت سارے اسلاف نے ولایتِ قضاء لینے سے روکا اور ڈرایا ہے اور اس سلسلے میں انتہائی مبالغے سے کام لیا ہے، اس قدر سختی، ناپسندی، اعراض اور تنفر کا اظہار کیا، جس کی وجہ سے اچھے اچھے نیک نام علماء و فقہاء کی یوں ذہن سازی ہوئی کہ جو قاضی بنایا گیا، گویا وہ دین داری سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اور اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں جھونک دیا، اور اس نے افضل کام کو چھوڑ کر مفضول کام کو لیا، اور اپنے عقائد کو نقصان پہنچایا، 
مصنفؓ فرماتے ہیں ایسا کہنا یا ایسا اعتقاد رکھنا صریح غلطی ہے، اور ایسا کہنے والوں اور اعتقاد رکھنے والوں کو اپنی باتوں سے رجوع کرنا چاہئے، اور ایسا کہنے اور اعتقاد رکھنے کو اللہ پاک کے حضور مافی مانگنی چاہیے،کیوں کہ اس منصب قضاء کی تعظیم بھی ضرور ہے اور دین اسلام میں اس کی کیا قدر و منزلت ہے، اس کو جاننا بھی ضروری ہے،

 فِي فَضْلِ الْقَضَاءِ وَالتَّرْغِيبِ فِي الْقِيَامِ فِيهِ بِالْعَدْلِ، وَبَيَانُ مَحَلِّ التَّحْذِيرِ اعْلَمْ أَنَّ أَكْثَرَ الْمُؤَلِّفِينَ مِنْ أَصْحَابِنَا وَغَيْرِهِمْ بَالَغُوا فِي التَّرْهِيبِ وَالتَّحْذِيرِ مِنْ الدُّخُولِ فِي وِلَايَةِ الْقَضَاءِ، وَشَدَّدُوا فِي كَرَاهِيَةِ السَّعْيِ فِيهَا، وَرَغِبُوا فِي الْإِعْرَاضِ عَنْهَا وَالنُّفُورِ وَالْهَرَبِ مِنْهَا، حَتَّى تَقَرَّرَ فِي أَذْهَانِ كَثِيرٍ مِنْ الْفُقَهَاءِ وَالصُّلَحَاءِ أَنَّ مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ فَقَدْ سَهُلَ عَلَيْهِ دَيْنُهُ، وَأَلْقَى بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ،وَرَغِبَ عَمَّا هُوَ الْأَفْضَلُ، وَسَاءَ اعْتِقَادُهُمْ فِيهِ، وَهَذَا غَلَطٌ فَاحِشٌ، يَجِبُ الرُّجُوعُ عَنْهُ وَالتَّوْبَةُ مِنْهُ. وَالْوَاجِبُ تَعْظِيمُ هَذَا الْمَنْصِبِ، وَمَعْرِفَةُ مَكَانَتِهِ مِنْ الدِّينِ

کیا یہ کم ہے کہ اس منصب قضاء کے لیے انبیاء و رسل علیہم السلام کو مبعوث کیا گیا۔ 
کیا یہ کم ہے کہ اس منصب قضاء کی وجہ سے ہی آسمان و زمین کو دوام حاصل ہے۔ 
کیا یہ ان نعمتوں میں سے نہیں ہے، جن پر حسد کرنا بزبانِ رسالت مآب ؑ صفت محمود قرار دیا گیا۔ 
چنانچہ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا، حسد صرف دو شخصوں پر کرنا جائز ہے، ایک وہ جسے اللہ پاک نے مال و دولت عطا کی، او ر وہ بے دریغ راہ حق میں اپنا مال خرچ کرتا ہے، دوسرا اس شخص پر جسے اللہ پاک نے علم و حکمت سے نوازا اور وہ اس کے ذریعے لوگوں کے درمیان صحیح فیصلے کرتا ہے، اور  اپنے علم پر عمل پیرا بھی ہے۔ 

فِيهِ بَعْثُ الرُّسُلِ وَ بِالْقِيَامِ بِهِ قَامَتْ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ. وَجَعَلَهُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مِنْ النِّعَمِ، الَّتِي يُبَاحُ الْحَسَدُ عَلَيْهَا. فَقَدْ جَاءَ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: (لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ:رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِمَا وَيَعْمَلُ بِهَا).

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا، کیا تم جانتے ہو بروز قیامت اللہ پاک کے سایہ کی طرف کون سبقت کرنے والے ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی، اللہ و رسولہ اعلم، اس پر آپ نے فرمایا، وہ لوگ جن پر حق پیش کیا گیا، اور انہوں نے بخوشی قبول کیا، وہ لوگ جن سے مانگا گیا، یا پوچھا گیا تو خرچ کیا، یا جواب دیا، وہ لوگ جنہوں نے لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ اس طرح فیصلہ کیا، گویا اپنے لیے فیصلہ کیا ہو، 

وَجَاءَ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ: (هَلْ تَدْرُونَ مَنِ السَّابِقُونَ إِلَى ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالُوا: اللَّهُ أَعْلَمُ وَرَسُوْلُهُ، قَالَ: الَّذِينَ إِذَا أَعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوهُ، وَإِذَا سُئِلُوهُ بَذَلُوهُ، وَإِذَا حَكَمُوا لِلْمُسْلِمِينَ حَكَمُوا کَحُكْمِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ)

کیا یہ کم ہے کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی بروز قیامت سات شخصوں کو اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائیں گے، جس دن اللہ کے عرش کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، اور سب سے پہلے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص کا نام لیا وہ ہے الامام العادل یعنی انصاف کرنے والا امام، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصاف کرنے والے بروز قیامت رحمن کے دائیں جانب نور کے ممبروں پر ہوں گے، جبکہ رحمان کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، بائیاں کوئی نہیں کما یلیق بشانہ، 

وَفِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: (سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِهِ"). الْحَدِيث، فَبَدَأَ بِالْإِمَامِ الْعَادِلِ. وَقَالَ لَهُ : الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى يَمِينِ الرَّحْمَنِ كِلْتَا يَدَيْهِ یَمِينُ). 

قضا کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں ایک دن فیصلہ کروں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے 70 سال کی عبادت سے، یعنی ایک دن عدل و انصاف کے ساتھ حق کا فیصلہ لوگوں کے درمیان کروں یا دو فریق کے درمیان کروں یہ 70 سال کی عبادت سے زیادہ افضل ہے، تو اسی طرح لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنا، ان کے جھگڑوں کو حل کرنا یہ بھی نیک اعمال میں افضل ترین نیکی ہوگی اور اجر کے درجات میں سے بلند ترین درجہ ہوگا، تو اس اعتبار سے پتہ چلتا ہے کہ قضا کی کیا عظمت ہے اور قضا کی کتنی زیادہ قدر و منزلت ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک، جیسا کہ خود خداوند قدوس کا فرمان ہے، وان حکمت فا حکم بینھم بالقسط ان اللہ یحب المقسطین، کہ جب تو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا چاہے تو انصاف سے فیصلہ کر، بیشک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں، یعنی جو انصاف کے ساتھ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے، اور اس عمل میں دن رات سرگرم رہے، اللہ تعالی اس سے محبت کرتے ہیں، اور اللہ کی محبت سے زیادہ بڑی چیز اور کیا ہو سکتی ہے۔ 

وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لَأَنْ أَقْضِيَ يَوْمًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ عُبَادَةِ سَبْعِينَ سَنَةً. وَمُرَادُهُ أَنَّهُ إِذَا قَضَى يَوْمًا بِالْحَقِّ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عِبَادَةِ سَبْعِينَ سَنَةً،فَكَذَلِكَ كَانَ الْعَدْلُ بَيْنَ النَّاسِ مِنْ أَفْضَلِ أَعْمَالِ الْبِرِّ وَأَعْلَى دَرَجَاتِ الْأَجْرِ . قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: (وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ) الْقَاعِدَةَ (١٢).
فَأَيُّ شَيْءٍ أَشْرَفُ مِنْ مَحَبَّةِ اللَّهِ تَعَالَى؟.

یہاں سے مصنف ایک سوال مقدر کا جواب دے رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ منصب قضاء کے متعلق تو وعد وعید، تخویف و تہدید کی احادیث مروی ہیں، پھر یہ منصب کیسے اتنی زیادہ اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے؟ 
اس کا جواب دیتے ہوئے مصنف نے فرمایا، یہ وعید و تخویف اس شخص کے سلسلے میں ہے جو ظلم و جور سے کام لے،اور نا حق فیصلہ کرے، اور ان نام نہاد عالموں اور ان جاہلوں کے بارے میں جو بغیر علم کے خود کو منصب قضاء میں داخل کرتے ہیں اور منصب قضا پر فائز ہونا چاہتے ہیں۔ 
رہی بات، ”من ولي القضاء فقد ذبح بغير السكين“ اس حدیث پاک کی، یعنی جس شخص کو قضاء کا منصب ملا گویا وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا، اگرچہ اس حدیث پاک کو بعض لوگوں نے قضا سے بچنے اور قضاء سے دور رہنے کے سلسلے میں نقل کیا ہے، لیکن بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہ حدیث پاک قضاء کی اہمیت، قضاء کے شرف اور اس کے عظیم المرتبت ہونے پر دلالت کر رہی ہے، اس لیے کہ جس شخص کو قضاء کا والی بنایا گیا، جس شخص کو قضا کا یہ عظیم منصب عطا کیا گیا،  وہ  تو اپنے نفس کے ساتھ جہاد کر رہا ہے، وہ تو اپنی خواہشات سے لڑ رہا ہے، یہ تو اس شخص کی فضیلت پر دلالت کر رہی ہے، جس نے حق کا فیصلہ کیا گویا کہ وہ امتحاناً حق کا ذبیح ہوا، یعنی حق نے اس کو ذبح کیا ہے، اور اس کے لیے ثواب کے زیادہ ہونے کی وجہ سے احساناً، یعنی اس کا ثواب بھی زیادہ ہوگا احسانا، 
جب قاضی نے اللہ تبارک و تعالی کے حکم کے لیے اپنے سرِ تسلیم کو خم کیا، اور اپنوں و بیگانوں کی مخالفت پر ان کے جھگڑنے کے سلسلے میں صبر کیا، اور ملامت گروں کی ملامت کی کوئی پرواہ نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنوں اور بیگانوں کو حق کی طرف لے گیا، حق پر ان کو قائم کیا، انصاف کے کلمے کی طرف لے گیا،اور انصاف پسند بات پر انہیں جما دیا۔ 
اور انہیں خواہشات و عناد کی طرف بلانے والی چیزوں سے روکا، تو وہ اللہ کے لیے حق کا ذبیح ہوا ،ان شہداء کے درجے کو پہنچا، جن شہداء کے لیے جنت واجب قرار دی گئی۔ 
اس سے آگے ایک دوسرا جواب دیا، وہ یہ کہ یہ جو حدیث وارد ہوئی ہے کہ جسے منصب قضاء عطا کیا گیا، وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا، یہ حدیث متعلق نہیں ہے، اور نہ یہ قضا سے دور رہنے کے سلسلے میں وارد ہوئی ہے یعنی قضا کی مذمت میں بیان نہیں ہوئی ہے، بلکہ قضا اہمیت بتلانے کو وارد ہوئی ہے،اس کی دلیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت علی بن ابی طالب، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت معقل ابن یسار کو منصب قضاء عطا فرمایا ہے،اور ان کو قضاء کا والی بنایا ہے، اگر قضاء کا منصب کوئی برا منصب ہوتا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو والی قضاء نہ بناتے، ان کو قضاء کا کام عطا کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ قضاء کا منصب بہت اہم منصب ہے، چنانچہ کتنے اچھے حضور علیہ الصلوۃ والسلام ذابح ہوئے اور کتنے اچھے مذبوح و ذبیح حضرت علی ابن ابی طالب، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت معقل ابن یسار ہوئے۔ 
بس پتہ چلا کہ وعد و وعید کی جو احادیث شریعت میں وارد ہوئی ہیں، وہ ظلم و جور کے سلسلے میں ہیں، نہ کہ مطق قضاء کے سلسلے میں، اس لیے کہ احکام میں ظلم و جور اور احکام بتلانے میں یا فیصلہ کرنے میں خواہشات کی اتباع کرنا یہ سنگین اور گناہ کبیرہ میں سے ہے، چنانچہ ارشاد باری ہے، واما القاسطون فکانوا لجھنم حطباً، اور بہرحال ظلم کرنے والے سو وہ جہنم کے لیے ایندھن ہیں، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک لوگوں میں اللہ کا سب سے زیادہ نافرمان اور لوگوں میں اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض، لوگوں میں اللہ تبارک و تعالی سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہے، جس شخص کو اللہ پاک نے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے کا ولی بنادیا،  لیکن وہ ان کے درمیان انصاف سے کام نہ لے۔ 
اور بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاضی تین طرح کے ہیں، ایک قاضی جنت میں جائے گا اور دو طرح کے قاضی جہنم میں جائیں گے، وہ قاضی جس نے حق پر عمل کیا، حق تک پہنچ گیا اور حق کا ہی فیصلہ کیا، یہ قاضی جنت میں جائے گا، دوسرا قاضی وہ ہے جو حق تک پہنچ گیا، جس نے حق کو جان لیا، لیکن پھر بھی سرکشی کرتے ہوئے ظلم کیا، تو یہ قاضی جہنم میں جائے گا، اور تیسرا قاضی وہ جس نے بغیر علم کے فتوی دیا، اور اپنے لیے اس بات کو عار سمجھا کہ لوگ کہیں گے کہ اس کو تو پتہ ہی نہیں، چنانچہ بغیر علم کے فتوی دے دیا اور غلط فتوی دیا،ایسا قاضی بھی جہنم میں جائے گا، بہرحال اس میں جو دو قاضیوں کو جہنم میں جانے کی جو بات آئی ہے، وہ ظالم قاضی اور اس جاہل کے بارے میں ہے، جنہیں منصب قضاء میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ 
اسی طرح جو علم کے ساتھ حق تک پہنچنے کی کوشش کرے، حق تک پہنچنے کی جدوجہد کرے،اور پھر بھی غلطی کر جائے، حق تک نہ پہنچنے پائے،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ جب کوئی حاکم، کوئی مجتہد کوشش کرتا ہے، کوشش کرتے ہوئے حق تک پہنچ جاتا ہے،اللہ تبارک و تعالی اس کو دہرا اجر عطا فرماتے ہیں، اور جو حق تک پہنچنے کی کوشش کرے اور پھر بھی غلطی کر جائے اس کو بھی ایک اجر ضرور ملتا ہے۔ 
اور اسی طرح کا حکم قران پاک نے بھی بیان کیا ہے چنانچہ ارشاد خداوندی ہے کہ داؤد اور سلیمان کا ذکر بھی قابل یاد ہے کہ جب انہوں نے ایک کھیت کے سلسلے میں فیصلہ کیا جبکہ اس کھیت میں ایک شخص کی بکریاں کود پڑی تھیں، اور ہم ان کے فیصلے کرنے کے وقت حاضر تھے، ہم نے سلیمان کو اس فیصلے کی خاص سمجھ عطا فرمائی، جبکہ ہم نے دونوں کو علم و حکمت سے نوازا تھا۔ 
اس ایت کریمہ میں اللہ جل شانہ نے حضرت داؤد علیہم الصلوۃ والسلام کی تعریف کی ہے ان کے اجتہاد کرنے کے بعد فیصلہ کرنے پر جبکہ سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام نے داؤد علیہ الصلاۃ والسلام سے زیادہ انفع اور زیادہ درست فیصلہ کیا تھا تو سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کی تعریف تو اللہ نے فرمائی ہی لیکن ساتھ میں داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کی تعریف بھی فرمائی ان کے اجتہاد کرنے پر۔ 
یہ ایت کریمہ ایک خاص واقعہ سے تعلق رکھتی ہے واقعہ یہ پیش آیا کہ ایک شخص کی بکریاں دوسرے شخص کی کھیت میں چلی گئیں اور اس کا فصل تباہ کر دیا اب ان دونوں میں جھگڑا ہوا یہ دونوں حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس صلح کرانے آگئے داؤد علیہ الصلاۃ والسلام نے دونوں میں اس طرح صلح کی کہ کی بکری والے سے کہا کہ اپ کھیت والے کو بقدر نقصان معاوضہ دو یعنی جس قدر آپ کی بکریوں نے اس کھیت والے کا نقصان کیا ہے آپ اس مقدار جرمانہ ادا کرو، یہ دونوں شخص جب صلح کرا کر وہاں سے واپس لوٹ رہے تھے تو سامنے حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام مل گئے اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان دونوں سے پوچھا کہ حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا فیصلہ فرمایا تو ان دونوں نے اپنا یہ فیصلہ سنا دیا اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میرے ذہن میں اور ایک ترکیب آرہی ہے، اور ایک فیصلہ میرے ذہن میں آ رہا ہے میں اگر وہ فیصلہ آپ کو سناؤں شاید وہ زیادہ بہتر رہے گا تو اس کے بعد سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام نے اس طرح صلح فرمائی کہ جس شخص کی بکریاں دوسرے کی کھیت میں چلی گئیں تھی اس کو حکم دیا کہ آپ اپنی بکریاں اس کھیت والے کو دو اور کھیت والے سے کہا آپ اپنا کھیت اس بکری والے کو دو اور بکری والے سے کہا کہ آپ اس کھیت کی کھیتی کرو اور اس کی کھیتی تیار کرو اور کھیتی والے سے کہا کہ آپ ان بکریوں سے دودھ لیتے رہو اور ان کی خدمت کرتے رہو پھر جب اس کھیت میں دوبارہ فصل آ جائے گی اور کھیت تیار ہوگا تب آپ اپنا کھیت لیجئے گا اور ان بکریاں انہیں لوٹا دیجیے گا۔ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فیصلہ اس لیے زیادہ نفع بخش اور زیادہ اچھا تھا کیونکہ اس میں کسی بھی فریق کا کوئی نقصان نہیں تھا دونوں کے لیے نفع ہی نفع تھا، جبکہ حضرت داؤد علیہ الصلاۃ والسلام نے جو فیصلہ فرمایا تھا اس میں بکری والے کا تو نقصان تھا، اور کھیت والے کا نفع۔ 
اب دیکھیے اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالی نے حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کی تعریف بھی فرمائی ان کے اجتہاد کرنے کے بعد فیصلہ کرنے پر یعنی اجتہاد پر اور سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی تعریف فرمائی ان کے درست حکم دینے پر اور درست حکم تک پہنچنے پر۔ 
اسی طرح اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے کہ جو ہمیں پانے کے لیے کوشش کرتا رہے ہم انہیں ضرور بضرور اپنی راہیں سجائیں گے،اور بے شک اللہ تبارک و تعالی احسان کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ 
بس ضروری ہے جو شخص منصب قضا پر فائز ہوا کہ حق قائم کرنے میں اور عدل و انصاف قائم کرنے میں پوری جدوجہد صرف کرے، پوری کوشش کرتا رہے چنانچہ بعض ائمہ مذاہب رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ قضا ایک آزمائش، جو شخص قاضی بنا گیا گویا وہ بڑی آزمائش میں پڑا، بڑی آزمائش میں مبتلا ہوا اس لیے کہ اس نے اپنے آپ کو ہلاکت کے لیے پیش کیا اس لیے کہ اب اس سے چھٹکارا جس میں یہ مبتلا ہوا ہے بہت دشوار ہے اسی لیے تو نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا من ولی القضاء فقد ذبح بغیر سکین، جو منصب قضا کا والی بنایا گیا گویا کہ وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا اور اسی طرح ابن ابی زیب کی روایت میں ہے کہ اس کو چھری سے ذبح کر دیا گیا گویا کہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ بہت بڑی آزمائش ہے، یہ اپنے آپ کو ہلاکت کے لیے پیش کرنا ہے اس میں ہر ہر قدم پھونک پھونک کے انسان کو اٹھانا پڑتا ہے، بڑی آزمائش کی چیز ہے، اس لیے جب تک انسان سے ہو سکے وہ اس آزمائش سے دور رہے تو بہتر ہوگا کیونکہ اگر اس میں انسان پڑ گیا تو پھر انسان کو بہت زیادہ جدوجہد کرنی پڑے گی اور انسان مختلف قسم کے ہوتے ہیں، سستی و کاہلی انسان کو میراث میں ملی ہے، انسان بہت کمزور ہے ہر اعتبار سے تو انسان سے کبھی کبھی اونچ نیچ ہو ہی جائے گی اس لیے بہتر ہے کہ اس سے دوری رہے اور اگر منصب قضا پر فائز ہوا تو اب اسے کوئی دقیقہ نہیں چھوڑنا چاہیے حق کے قیام میں اور عدل و انصاف کے قائم کرنے میں۔ 
حضرت ابو قلابہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ قاضی کی مثال سمندر میں تیرنے والے کی سی ہے کہ کتنی ہی مرتبہ وہ تیرتا ہے اور غرق ہو جاتا ہے، ڈوب جاتا ہے، بعض ائمہ نے فرمایا کہ متقین کا شعار اس منصب قضا سے دور رہنا اور اس سے کنارہ کش ہونا ہے اور ائمہ مشاقین میں سے ایک جماعت جن کی اقتدا کی جاتی ہے انہوں نے اس منصب قضا سے دوری اختیار کی، اور اس قدر دوری اختیاری کی کہ انہوں نے تکلیف پر صبر کیا یعنی ان کو اس قضا سے دور رہنے پر حکام وقت کی طرف سے جو کلفتیں اور اذیتیں پہنچیں انہوں نے ان تکالیف کو برداشت کیا لیکن منصب قضا کو قبول نہیں کیا، حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے قصہ کی طرف ہی دیکھ لیجئے کہ انہوں نے کس قدر اس سے دوری اختیار کی حالانکہ حاکم وقت نے ان کو پس زنداں رکھااور تکالیف دیں،  لیکن انہوں نے تکلیفیں  جھیلیں، اذیتوں کو برداشت کیا لیکن منصب قضاء سے دور رہے اسی طرح بہت سارے ائمہ ہیں جن کی مثال پیش کی جا سکتی ہے کہ انہیں منصب قضاء کے لیے بلایا گیا منصب قضا کے لیے طلب کیا گیا لیکن انہوں نے منصب قضاء کو کسی بھی حالت میں قبول نہیں کیا۔ 
خود حضرت ابو قلابہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ مصر بھاگ گئے جب انہیں قضا کے لیے طلب کیا گیا یعنی قضا سے دور رہنے کے لیے مصر بھاگ گئے اور حضرت ایوب رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جب حضرت ابو قلابہ سے ملاقات کی تو حضرت ایوب نے انہیں ترغیب دی کہ آپ قضا کے منصب کو قبول کیجئے، اور عرض کی کہ اگر آپ ثابت قدم رہے تو آپ یقینا بڑا اجر پائیں گے، لیکن حضرت ابو قلابہ نے جواب میں فرمایا کہ سمندر میں غرق ہونے والا کب تک تیرتا رہے گا آخر کار تو اسے ڈوبنا ہی ہے، حضرت ابو قلابہ کا وہ کلام اور جو اس سے پہلے گزرا کہ ”قاضی عالم کی مثال سمندر میں تیرنے والے کی سی ہے کہ کتنی ہی مرتبہ وہ تیرتا ہے اور ڈوب جاتا ہے“ اور یہ کلام جو اس وقت بیان کیا گیا کہ ” سمندر میں ڈوبنے والا کب تک تیرتا رہے گا “ اور اس جیسے دوسرے کلام جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ جو منصب قضا کا والی بنایا گیا اس کو بغیر چھری کے ذبح کیا گیا یہ تمام کلام وعد وعید تہدید و تخویف پر محمول ہے، اور یہ اس شخص کے حق میں ہے جو جانتا ہو کہ میں کمزور ہوں مجھ میں منصب قضاء پر فائز ہونے کی صلاحیت نہیں ہے، جانتا ہو کہ میرے پائے استقلال میں ثبات نہیں ہے، اپنی کمزوریوں سے خوب خوب واقف ہو یہ وعیدات اس شخص کے لیے ہیں، لیکن جو جانتا ہو کہ میں منصب قضاء کے لائق ہوں، میری اندر درستگی کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے، اور اپنے آپ میں کوئی کمزوری نہ پاتا ہو اس کے لیے یہ وعید نہیں ہے، اسی طرح یہ اس کے لیے وعید ہے جو اپنے آپ کو منصب قضاء کا اھل تو پاتا ہو لیکن لوگ اسے منصب قضاء کے لائق نہیں سمجھتے۔ 
بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس شخص کے حق میں کوئی خیر نہیں جو اپنے آپ کو کسی چیز کا اھل تو پاتا ہو، لیکن لوگ اسے اس چیز کا اہل نہیں پاتے اور لوگوں سے مراد یہاں علماء ہے یعنی علماء کا اس کو اس چیز کا اہل سمجھنا ضروری ہے،چنانچہ اس طرف کی صفت سے جو شخص متصف ہو، اس کا منصب قضاء سے دور رہنا ضروریہے،  اور اپنے نفس کی سلامتی چاہنا ایک لازمی امر ہے۔ 
جان لینا چاہیے کہ قضا کا طلب کرنا اور قضا کے طلب حرص و لالچ رکھنا یہ حسرت و ندامت ہوگی قیامت کے لمحات میں، چنانچہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام سے مروی ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ عنقریب تم لوگ حصولِ امارت پر حرص و لالچ کرو گے، امارت کے ملنے کے دلدادہ وہو گے، جب کہ یہ امارت کا طلب کرنا باعث حسرت و باعث ندامت ہے قیامت کے دن میں، کتنی ہی اچھی ہے دودھ پلانے والی اور کتنی بری ہے دودھ چھڑانے والی،
سو جو شخص قضاء کو طلب کرے گا اور قضاء کا ارادہ رکھتا ہو اور قضا پر حرص و لالچ رکھتا ہو تو قضا کو اسی کے سپرد کیا جائے گا اور اس پر ہلاکت کا خوف کھایا جائے گا اور جو منصب قضا کا طلبگار نہ ہو، منصب قضا کا چاہنے والا نہ ہو لیکن اس پر زبردستی کی گئ اور اس آزمائش میں اس کو ڈالا گیا اور اسے منصب قضاء عطا کیا گیا، جب کہ وہ اس منصب قضاء کو ناپسند کرتا ہو اپنے لیے، اس سلسلے میں اپنے اوپر خوف کھاتا ہو، تو اللہ تبارک و تعالی اس منصب قضاء پر اس کی مدد فرمائیں گے۔ 
نبی علیہ الصلوۃ والسلام سے مروی ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جس نے قضاء کو طلب کیا اور اس پر مدد چاہی یعنی لوگوں سے مدد کا طلبگار رہا، سفارش کرواتا رہا اور اس طرح سے قضاء کو حاصل کیا، تو قضاء کو اسی کے سپرد کیا جائے گا اب فیصلہ کا سارا دارومدار اسی پر رہے گا، اور جو قضاء کا طلبگار نہ ہو اور نہ اس پر کسی سے مدد چاہی اور پھر بھی اس کو قضاء کا منصب ملا جبکہ وہ قضاء کا طلبگار نہ تھا تو اللہ تبارک و تعالی ایک فرشتہ نازل فرمائیں گے، جو اس کو درست کی طرف لے جائے گا، یعنی الله پاک اس کی امداد کریں گے، تاکہ وہ درستگی کا فیصلہ کرے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے عبدالرحمن! تم امارت کو طلب مت کرنا اس لیے کہ اگر تمہیں امارت بغیر مانگے مل گئی تو  تمہاری اس پر مدد کی جائے گی اور اگر تم نے سوال کر کے امارت کو حاصل کیا، طلب کر کے امارت کو حاصل کیا تو یہ قضاء کا کام تمہارے سپرد کر دیا جائے گا، اللہ تبارک و تعالٰی کی طرف سے تم مدد نہ کئے جاؤ گے۔ 
یہاں سے مصنفؒ یہ مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ اگر کسی شخص نے رشوت دے کر منصب قضاء کو حاصل کیا تو اس قاضی کا کیا حکم ہے،مصنفؒ نے یہاں دو کتابوں کا حوالہ پیش کیا (١) خلاصۃ الفتاوی نمبر (٢) نوازل، فرماتے ہیں کہ خلاصۃ الفتاوی میں لکھا ہے کہ جس نے رشوت دے کر منصب قضاء کو حاصل کیا ہے اس کا سرے سے قاضی بننا ہی صحیح نہیں ہے جب وہ سرے سے قاضی بنا نہیں تو اس کا حکم بھی نافذ نہیں ہوگا، اسی طرح اگر امام نے رشوت لے کر کسی کو قاضی بنایا یا امام نے خود رشوت تو نہیں لی لیکن قوم نے رشوت لی اور امام جانتا تھا اس کے ما تحتوں نے رشوت لی  تو کہتے ہیں کہ اس امام کا کسی کو قاضی بنانا صحیح نہیں ہے کیوں کہ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ خود رشوت دے کر قاضی بنا ہو، اور نوازل میں لکھا ہے جس کسی شخص نے رشوت دے کر منصب قضاء کو حاصل کیا یا ناجائز سفارش کرا کر منصب قضاء کو حاصل کیا اس کی حیثیت اس شخص کی سی ہے جسے حکم بنایا گیا ہو یعنی جسے دو فریقین نے اپنا حکم بنایا ہو، حکم اور قاضی میں یہ فرق ہے کہ حکم کا فیصلہ صرف فریقین کے درمیان نافذ ہوتا ہے اور انہی تک محدود رہتا ہے جبکہ قاضی کا فیصلہ ایک قوم اور ایک قبیلے اور پورے علاقے پر بھی نافذ ہو سکتا ہے اور دوسرا فرق یہ ہے کہ حکم جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو قاضی اس فیصلے کو توڑ سکتا ہے، کیونکہ یہ حکم امام المسلمین کی طرف سے نہیں بنا ہے بلکہ فریقین نے خود اسے حکم چنا ہے، جبکہ قاضی امام المسلمین کی طرف سے قاضی بنتا ہے، اس لیے قاضی اگر کوئی فیصلہ کرے تو کوئی دوسرا قاضی  پہلے قاضی کے فیصلے کو نہیں توڑ سکتا ہے، کیونکہ ایک اجتہاد دوسرے اجتہاد کے لیے ناقص نہیں ہوتا ہے، بلکہ اجتہاد سے کوئی اونچی دلیل پہلے اجتہاد کے لیے ناقص ہو سکتی ہے ایک اجتہاد کے لیے دوسرا اجتہاد ناقص نہیں ہوتا اسی لیے پہلے قاضی کا فیصلہ دوسرا قاضی نہیں توڑ سکتا ہے، چنانچہ نوازل میں لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے رشوت دے کر منصب قضاء کو حاصل کیا یا ناجائز سفارش کے طور پر منصب قضاء کو حاصل کیا، اس قاضی کی حیثیت حکم کی طرح ہے، اس کا لازمی نتیجہ کیا نکلا کہ اگر اس کا کیا ہوا فیصلہ کسی دوسرے قاضی کے پاس لے جایا گیا تو قاضی اس میں غوروفکر کرے گا اگر اسے اپنی رائے کے موافق پاتا ہے تو اسے برقرار رکھے گا اگر موافق نہیں پاتا اپنی رائے کے تو اس کو توڑ سکتا ہے، اسی طرح جو رشوت دے کر منصب قضاء کو حاصل کرے جب اس کا فیصلہ نافذ نہیں ہوا تو اس کے فیصلے کو توڑنے کی بھی ضرورت نہیں توڑا تو اس کو جائے گا جو نافذ ہو جب یہ نافذ ہی نہیں ہوا تو اسے توڑنے کی چنداں ضرورت نہیں، آگے مصنفؒ فرماتے ہیں جس کسی نے جائز سفارش کرا کر منصب قضاء کو حاصل کیا،جبکہ پہلے فرمایا تھا کہ ناجائز سفارش کرا کر منصب قضاء کو حاصل کیا، کہتے ہیں کہ وہ اس شخص کی طرح ہے جس کو حق کے ساتھ قاضی بنایا گیا ہو گویا اس کا قاضی بننا جائز سفارش کے ذریعے سے صحیح ہے لہذا اس کا فیصلہ بھی نافذ ہوگا۔ 
اس کے بعد مصنفؒ دوسرا مسئلہ ذکر کر رہے ہیں،کہ ایک شخص قاضی بنایا گیا، قاضی بننے کے بعد اگر اس قاضی نے رشوت لی اور اس کے بعد کوئی فیصلہ کیا تو اس سلسلے میں تین اقوال ذکر فرمائے (١) قاضی نے جن معاملات و فیصلوں میں رشوت لی ان میں اس کا حکم نافذ نہیں ہوگا اور جن معاملات و فیصلوں میں رشوت نہیں لی ان میں قاضی کا حکم نافذ ہوگا یہ محیط کی بات تھی محیط میں یہی مسئلہ لکھا ہے، (٢) نوادر ابن رستم میں ہے کہ جن معاملات و فیصلوں میں رشوت لی ان میں بھی نافذ ہوگا اور جن معاملات و فیصلوں میں رشوت نہیں لی ان میں بھی قاضی کا حکم نافذ ہوگا، (٣) بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ دونوں طرح کے فیصلوں میں، دونوں طرح کے معاملات میں قاضی کا حکم بالکل نافذ نہیں ہوگا، اصل میں اس اختلاف کی بنیاد اس چیز پر ہے جو حضرات فرماتے ہیں کہ دونوں معاملات میں یعنی جن فیصلوں میں رشوت لی یا جن فیصلوں میں رشوت نہیں لی قاضی کا حکم نافذ ہوگا ان حضرات کا موقف یہ ہے کہ جب اس کو امام نے قاضی بنایا اب وہ کیسے فیصلہ کرتا ہے یہ اس پر ہے، دوسری بات یہ حضرات کہتے کہ قاضی قاضی بننے کے بعد فاسق ہو گیا تو محض فسق کی وجہ سے وہ خود بخود معزول نہیں ہوتا بلکہ قضاء پر برقرار رہتا ہے، جب قضا پر برقرار رہا تو اس کا کیا ہوا فیصلہ بھی نافذ ہوگا یہ الگ مسئلہ ہے کہ اس نے رشوت لی، اس کا گناہ اس کے سر ہوگا، اس سے قاضی کے کئے ہوئے فیصلہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن جو حضرت فرماتے ہیں دونوں طرح کے فیصلوں میں (جن فیصلوں میں رشوت لی یا جن فیصلوں میں رشوت نہیں لی) اس کا حکم نافذ نہیں ہوگا  ان حضرات کا موقف یہ ہے کہ قاضی جب فاسق ہو گیا تو وہ منصب قضاء سے خود بخود معزول ہو گیا، اور جب معزول ہوگیا تو اس کا کیا ہوا فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔ 
خیر یہ تین قول اس سلسلے میں مصنفؒ نے ذکر کیے (١) جن فیصلوں اور جن معاملات میں قاضی رشوت لے ان میں اس کا حکم نافذ نہیں ہوگا اور جن معاملات و فیصلوں میں رشوت نہ لے وہ فیصلے نافذ ہوں گے (٢) جو نوادرِ ابن رستم میں ہے کہ دونوں طرح کے فیصلوں میں قاضی کا حکم نافذ ہوگا اور (٣) جو بعض مشائخ کا ہے کہ دونوں طرح کے معاملات میں قاضی کا حکم بالکل نافذ نہیں ہوگا۔ 
آگے مصنفؒ فرماتے ہیں کہ شمس الائمہ سرخیؒ نے پہلے قول کو لیا ہے،پہلے قول کو اختیار فرمایا ہے، وہ قول یہ ہے کہ جن معاملات میں رشوت لے ان میں فیصلہ نافذ نہیں ہوگا اور جن فیصلوں میں رشوت نہ لے وہ فیصلے نافذ ہوں گے،
آگے مصنفؒ فرماتے ہیں کہ قاضی صاحب کے بیٹے نے رشوت لی یا قاضی صاحب کے بعض کارکنوں نے رشوت لی پس اگر یہ رشوت لینا قاضی صاحب کے حکم یا اس کی رضامندی سے ہو یعنی قاضی صاحب جانتے تھے میرا بیٹا رشوت لے رہا ہے یا میرے بعض کارندے رشوت لے رہے ہیں اور قاضی صاحب خاموش رہے تو فرماتے ہیں یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ خود قاضی رشوت حاصل کر رہا ہے، جب ایسا ہے تو قاضی کا فیصلہ مردود ہوگا،قاضی کے فیصلے کی اب کوئی حیثیت نہیں، اور اگر یہ رشوت لینا قاضی کے علم کے بغیر ہو تو قاضی کا حکم نافذ ہوگا البتہ جس نے رشوت لی ہے اسے چاہئے کہ جو رشوت حاصل کی ہے وہ واپس لوٹا دے اور اگر رشوت قاضی نے لی اور اس کے بعد فیصلہ کیا یا فیصلہ کیا اور اس کے بعد رشوت حاصل کی یا قاضی کے بیٹے نے رشوت لی یا اس شخص نے رشوت لی جن کی شہادت قاضی کے حق میں قابلِ قبول نہیں، جیسے کہ بیٹا یا باپ کہ ان کی شہادت انسان کے حق میں قبول نہیں ہوتی ہے،  کہتے ہیں کہ اس قاضی کا حکم بالکل نافذ نہیں ہوگا اس لیے کہ یہ ایسا ہی ہے گویا کہ اپنے نفس کے لیے کام کر رہا ہے یا اپنے بیٹے کے لیے کام کر رہا ہے۔
اور اگر قاضی صاحب نے دیکھا کہ اگر میں فیصلہ کروں اور رشوت لوں تو یہ گناہ ہے، اس لئے اس نے یہ حیلہ کیا کہ رشوت تو خود لی لیکن پھر فیصلہ کے لیے دوسرے قاضی کے پاس بھیج دیا،مثلا کسی شافعی قاضی کے پاس، یوں سمجھیے کہ رضاعت کا مسئلہ تھا احناف کے نزدیک ایک گھونٹ ہو یا دو گھونٹ، جتنے بھی پیے ہوں، ایک ہی قطرہ کیوں نہ ہو  رضاعت ثابت ہوتی ہوگی مگر جب مدت رضاعت میں  کسی نے عورت کا دودھ پیا ہو، جبکہ شوافع حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک نہ کم از کم پانچ گھونٹ پئے ہوں گے تب تک رضاعت کا حکم ثابت نہ ہوگا، چناں چہ اس نے رشوت خود لی اور پھر شافعی قاضی کے پاس فیصلہ کے لیے فریقین کو بھیج دیا، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے کہتے ہیں کہ دوسرے قاضی کا فیصلہ نافذ نہیں ہوگا، اس لیے کہ پہلے والے قاضی نے اپنی ذات کے لیے کام کیا ہے اس لیے کہ اس نے رشوت لی، ہاں اگر دوسرے قاضی کے پاس تو بھیجا تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، لیکن پہلے والے قاضی نے ان کے معاملہ کی نوعیت یہاں خود لکھی، اور اس کے بعد دوسرے قاضی کے پاس بھیجا، اور ان سے کتابتِ معاملہ کی اجرت وصول کی، اس صورت میں جس قاضی کے پاس یہ معاملہ بھیجا جائے گا جب وہ فیصلہ کرے گا تو اس کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا اس لیے کہ پہلے والے نے جو پیسے وصول کیے ہیں وہ لکھائی کے پیسے ہیں کتابت کی اجرت ہے، رشوت نہیں ہے، اس لیے کہ کسی بھی قاضی کے ذمے معاملہ لکھنا نہیں ہے،معاملہ کی نوعیت اور کوئی لکھتا ہے، قاضی تو صرف فیصلہ سناتا ہے، قاضی تو لکھا ہوا معاملہ پڑھتا ہے، اور اس کے بعد فیصلہ کرتا ہے یہ معاملہ کس نے لکھا ہے یہ قاضی کے ذمے نہیں ہے، اس لیے اگر قاضی معاملہ خود لکھتا ہے اور اس کی اجرت لینا چاہیے تو اس کی اجرت حاصل کر سکتا ہے، ذخیرہ نامی کتاب میں اسی طرح مسئلہ کی عبارت ہے۔
یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ علیہ امام محمد رحمہ اللہ تعالی سے یہ عبارت نقل فرما رہے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالی سے مروی ہے کہ جب خلیفہ کا حکم یعنی خلیفہ کی کتاب خراسان کے گورنر کو پہنچی اور اس میں یہ لکھا تھا کہ آپ خراسان کے فقہاء و علماء کو جمع کیجئے اور ان سے ان کے قاضی کے بارے میں پوچھئے، اگر خراسان کے فقہاء و علماء اپنے قاضی پر راضی نہ ہوں تو پھر اس موجودہ قاضی کو معزول کیجئے تو خراسان کے گورنر نے ایسا ہی کیا یعنی جیسا کہ خلیفہ کا حکم تھا اس نے خراسان کے فقہا و علماء کو جمع کیا اور ان سے ان کے قاضی کے بارے میں پوچھا اور وہ موجودہ قاضی پر راضی نہ تھے لیکن اس نے خراسان کے موجودہ قاضی کو معزول نہیں کیا، جیسا کہ خلیفہ کی کتاب میں لکھا تھا، اور خلیفہ کا حکم جس کا متقاضی تھا اس لیے کہ خراسان کے علماء و فقہاء موجودہ قاضی پر راضی نہ تھے، مگر گورنر نے رشوت لی اور اسے معزول نہیں کیا تو امام محمد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ قاضی اپنے قضاء پر برقرار رہے گا، یہ معزول نہیں ہوگا اس لیے کہ خلیفہ کے پاس معزول نہیں ہوتا ہے وہ جس کو خلیفہ معزول ہی نہ کرے اور یہاں بھی یہ قاضی معزول نہیں ہوگا اس لیے کہ اس کو خراسان کے موجودہ گورنر نے معزول نہیں کیا ہے یعنی خراسان کے گورنر کو جو اختیار ملا تھا خلیفہ کی طرف سے اس نے اس اختیار کو استعمال میں نہیں لایا، اس اختیار کی پیروی نہیں کی اور جب انہوں نے ابھی اس اختیار پر عمل درآمد کیا ہی نہیں تو وہ موجودہ قاضی اپنے قضاء پر برقرار رہے گا وہ معزول نہیں ہوگا اس کے برخلاف اگر خلیفہ نے گورنر کو لکھا کہ آپ فقہاء و علماء کو جمع کیجئے اور ان سے کسی شخص کے بارے میں پوچھیے اگر وہ کسی شخص پر اجماع کرتے ہیں اور اس پر راضی ہوتے ہیں تو اسے قاضی بنا دیجئے اور جس پر وہ راضی نہیں ہوتے ان میں سے کسی کو قاضی نہ بنائیے یعنی خلاصے کے طور پر جس پر وہ راضی ہوتے ہیں اسے قاضی بنا دیجیے تو گورنر نے علماء و فقہاء کو جمع کیا ان سے لوگوں کے بارے میں پوچھا لوگوں نے فلاں شخص کے بارے میں رائے دی کہ فلاں شخص کو قاضی بنا دیا جائے، اور ایک شخص پر انہوں نے اجماع کیا، لیکن اس گورنر نے رشوت لی اور جس پر فقہاء نے اجماع کیا تھا اس شخص کو قاضی نہ بنا کر کسی دوسرے شخص کو قاضی بنایا تو امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ یہ شخص قاضی نہیں بنے گا اس لیے کہ اس کو جو اختیار دیا گیا تھا وہ ایک شرط کے ساتھ مشروط تھا اور وہ شرط پائی ہی نہیں گئی کہ خلیفہ کا حکم تھا جس شخص پر فقہاء راضی ہو جائیں،،جس شخص پر فقہاء اجماع کریں گے اس کو قاضی بنا دیجئے گویا خلیفہ کا حکم اجماعِ فقہاء پر منحصر ہے اور یہاں جس کو قاضی بنایا جا رہا ہے اس کے حق میں وہ شرط نہیں پائی جا رہی ہے کیونکہ فقہاء اس پر راضی نہیں ہیں،وہ غیر مجمع علیہ ہے، گویا کہ خلیفہ کا حکم پایا نہیں گیا اور جب خلیفہ کا حکم نہیں پایا گیا تو وہ شخص قاضی نہیں بن سکتا اسی کو امام محمد رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ شخص اس لیے قاضی نہیں بنے گا کیونکہ جس شخص ( خلیفہ) کو قضاء کی تولیت حاصل تھی، قضاء کی ولایت حاصل تھی، اس کے حکم کے بغیر اس کو قاضی بنایا گیا ہے، اس لئے یہ قاضی نہیں بن سکتا ہے۔ 
ابن شریح شافعی رحمہ اللہ تعالی کے تلامذہ میں سے ابو العباس بھی ہیں کتاب ”ادب القاضی“ میں وہ لکھتے ہیں کہ جس شخص نے سرکشی کر کے قضاء کو قبول کیا، جو شخص سرکشی کر کے عہدہ قضاء پر فائز ہوا اور عہدہ قضاء کو حاصل کرنے کے لیے اس نے رشوت دی تو کہتے ہیں کہ اس کا قضاء کا عہدہ حاصل کرنا باطل ہے، اس کا کیا ہوا فیصلہ مردود ہے، اگرچہ وہ حق کا فیصلہ کرے، جب بھی اس کا فیصلہ کرنا مردود ہے اس وجہ سے کہ اس نے سرکشی کر کے عہدہ قضاء کو قبول کیا ہے اور اس نے قضاء کو حاصل کرنے کے لیے رشوت دی ہے۔ 
آگے ایک مسئلہ اور بیان فرماتے ہیں گویا یہ دو مسئلے ہیں، ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے حاکم کو رشوت دی کہ آپ فلاں شخص کو معزول کیجئے اور مجھے اس کی جگہ قاضی بنا دیجیے دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے قاضی صاحب کو رشوت دی کہ آپ فلاں شخص کو معزول کیجئے قطع نظر اس سے کہ اس کو قاضی بنایا جائے یا نہ بنایا جائے اس بارے میں اس نے کچھ نہیں بتایا۔ 
ان دونوں مسئلوں میں فرق ہے پہلا مسئلہ جب ایک شخص نے حاکم وقت کو رشوت دی یہ کہہ کر کہ آپ فلاں قاضی کو معزول کیجئے اور مجھے اس کی جگہ قاضی بنائیے فرماتے ہیں اس کا قاضی بننا بھی مردود ہے، اس کی ولایت بھی مردود ہے اور اس کا فیصلہ بھی مردود ہوگا اور اگر رشوت دی کہ آپ فلاں شخص کو معزول کیجئے لیکن اپنی ولایت کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ مجھے آپ قاضی بنا دیجئے اور پھر پہلے قاضی کو معزول کیا گیا رشوت کے ذریعے اور اس کے بعد اس رشوت دینے والے کو قضاء کے لیے طلب کیا گیا، حاکم وقت نے اسے منصب قضاء دینا چاہا بغیر رشوت کے یعنی اب منصب قضاء کو لینے کے لیے رشوت الگ سے نہیں دے رہا ہے رشوت تو صرف اس لیے دی تھی کہ فلاں قاضی کو معزول کیجیے، اس کا حکم الگ ہے، کہ یہاں اب جس کو معزول کیا گیا ہے اس کو دیکھا جائے گا اگر وہ عادل شخص تھا، انصاف کرنے والا تھا تو پھر اس کے معزول کرنے پر اس کا رشوت دینا اور حاکم وقت کا رشوت لینا بالکل حرام ہے، اور وہ اپنے ولایت پر باقی رہے گا وہ معزول نہیں ہوگا، کیونکہ وہ عادل ہے، وہ انصاف پرور ہے، ہاں تب معزول ہوگا جب حاکم وقت نے اس کو معزول کرنے سے پہلے پہلے رشوت لوٹا کر توبہ کی ہو، اس لیے کہ حاکم وقت کا رشوت لوٹا کر توبہ کر کے اب اگر وہ اس کو معزول کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے وہ خود اس کو معزول کر رہا ہے وہ کسی کے رشوت دینے پر اسے معزول نہیں کر رہا ہے اور حاکم وقت کو اختیار ہے وہ کسی کو قاضی بنائے رکھے اور کسی کو عہدۂ قضاء سے بغیر کسی عذر کے معزول کرے۔ 
اسی طرح فرماتے ہیں کہ جس کو اب قاضی بنایا گیا یعنی دوسرا قاضی اس کا فیصلہ بھی باطل ہے اس کا تعلق پیچھے عبارت سے ہے یعنی جہاں فرمایا تھا کہ رشوت دینا عادل قاضی پر حرام ہے وہ اپنی ولایت پر برقرار رہے گا معزول نہیں ہوگا، اس پر اس کا عطف ہے کہ جس شخص کو اس کے مقابلے میں قاضی بنایا گیا ہے اس کا فیصلہ بھی باطل ہے کیونکہ جب وہ معزول ہی نہیں ہوا تو دوسرا قاضی بنا ہی نہیں اس لیے اس دوسرے قاضی کا فیصلہ مردود ہے ہاں تب اس کا فیصلہ مردود نہیں ہوگا جب کہ اس نے بھی رشوت واپس لے کر توبہ کی ہو، یعنی اس شخص (جس نے رشوت دی تھی)نے بھی توبہ کی اور اس ( حاکم وقت جس نے رشوت لی تھی)نے بھی توبہ کی تو پھر اگر حاکم وقت نے کسی کو معزول کیا اور اس دوسرے شخص کو قاضی بنایا بغیر کسی رشوت کے، اب رشوت کا اس میں کوئی دخل نہیں، تو اس کا قاضی بننا بھی صحیح ہے اور اس کا فیصلہ کرنا بھی صحیح ہوگا۔ 
دوسرا مسئلہ ذکر کر رہے ہیں، ابھی تک تو یہ فرمایا تھا کہ اگر وہ عادل تھا تو معزول کو دیکھا جائے گا، اگر وہ عادل تھا تو یہ مسئلہ تھا جو ذکر کیا گیا، لیکن اگر وہ ظالم ہے، جابر ہے،،تو پھر جو دوسرا قاضی ہے اس کا فیصلہ باطل نہیں ہوگا، کیونکہ پھر اس دوسرے کا قاضی بننا صحیح ہے اور اس پہلے والے کا معزول ہونا صحیح ہے۔ 
یہاں سے یہ مسئلہ بیان فرماتے ہیں کہ طلب قضاء کا کیا حکم ہے کہ انسان خود قضاء کے لیے اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے خود اپنے ذات کو پیش کر رہا ہے منصب قضا کے لیے تو اس کے لیے کیا حکم ہے مصنف فرماتے ہیں کہ مناسب نہیں انسان کے لیے کہ وہ عہدہ قضاء کے لیے خود کو پیش کرے ہاں وہ شخص جس کو اپنی ذات پر بھروسہ ہو جس کو پتہ ہو کہ میں انصاف کر سکتا ہوں جس کو پتہ ہو کہ لوگوں میں میری ضرورت ہے میں لوگوں کے ساتھ انصاف سے پیش آ سکتا ہوں وہ اپنے آپ کو پیش کر سکتا ہے اور اسے پتہ ہے کہ یہاں اس جگہ کوئی قاضی بھی نہیں ہے اور اس کی ذات متعین ہے قضاء کے لیے تو یہ اپنے آپ کو قضاء کے لیے پیش کر سکتا ہے اسی طرح وہ شخص جس کو امام وقت، امام عادل قضاء کے لیے جبر کرے کیونکہ امام عادل کو اجبار کا حق حاصل ہے کہ وہ کسی نیک انسان پر زبردستی کرے کہ آپ عہدہ قضاء کو قبول کیجئے اگر امام وقت ضرورت محسوس کرے، تو یہ امام وقت کی ذمہ داری ہے، لیکن اس شخص کی ذمہ داری ہے جب امام وقت اس کو زبردستی کرے عہدہ قضاء قبول کرنے کے لیے تو اس شخص کی ذمہ داری یہ ہے کہ یہ اس چیز سے بھاگنے کی کوشش کرے اور اس سے دور رہنے کی کوشش کرے مگر یہ کہ جس شخص کو پتہ ہو کہ یہاں میرے علاوہ کسی میں قضاء کی صلاحیت نہیں ہے کوئی میرے علاوہ قاضی بنے تو وہ لوگوں کے ساتھ ظلم کر سکتا ہے چونکہ اس کی ذات پھر قضاء کے لیے متعین ہے تو پھر اس کے لیے قضاء کا قبول کرنا واجب ہے اور اسی طرح ایسا شخص جس کو پتہ ہے کہ یہ ایسی جگہ ہے یہاں پر میرے سوا کوئی قضاء کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے تو اس وقت اس کے لیے اس سے دور بھاگنا اس سے روکنا جائز نہیں ہے بلکہ اس پر اس کی طلب میں، اس کو حاصل کرنے میں کوشش کرنا واجب ہے اس لیے کہ اس فرض کے ساتھ اس کا قیام متعین ہو گیا ہے اور اس پر دلالت کر رہا ہے اللہ تبارک و تعالی کا فرمان جو یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے قصے کو نقل کر رہا۔ اللہ پاک نے بیان کیا ہے کہ عزیز مصر سے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے از خود یہ فرمایا تھا کہ آپ مجھے خزانہ کا ذمہ دار بنا دیجئے تاکہ ہم لوگوں کو اس میں سے غلہ دیں،،ہم کو اس کا ذمہ دار بنا دیجئے اس لیے کہ ہم اس کی خوب خوب حفاظت بھی کرنے والے ہیں اور ہم اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ علم بھی رکھتے ہیں تو یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے خود یہ عہدہ طلب کیا تھا تو یہ دلیل ہے کہ عہدے قضاء طلب کیا جا سکتا ہے جب انسان کو پتہ ہو میں لوگوں کے ساتھ انصاف کر سکتا ہوں اور میں ایسی جگہ پر ہوں جہاں میرے سوا کوئی قضاء کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اس لیے کہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام قوم کفار کے درمیان تھے اور یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کا ارادہ تھا کہ ان کی اصلاح بھی کر سکیں اور ان کو اللہ تبارک و تعالی کی طرف بلا بھی سکیں اس ولایت میں دوڑ دھوپ کر نے کی اس کے علاوہ کوئی اور مقصد نہ تھا۔ 
دوسری بات یا دوسری دلیل یہ ہے کہ بندوں کے درمیان جو رزق بانٹنے والا ہوتا ہے رزق دینے کا یعنی راشن دینے کا جو ذمہ دار ہوتا ہے اس کی طرف لوگوں کی گردنیں جھکتی ہیں اور بڑے سے بڑا سخت دل ہو وہ بھی اس کے سامنے مجبور ہو جاتا ہے اور اس کے دروازے سے کوئی بے نیاز نہیں ہوتا سب کو اس کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ رزق کی طلب سب کو ہوتی ہے اس لیے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بطور خاص مرتبے اور اس عہدے کو طلب کیا نہ کی کوئی اور امارت یا وزارت یعنی وہ وقت کے بادشاہ عزیز مصر سے کسی چیز کی امارت بھی طلب کر سکتے تھے کوئی وزارت بھی طلب کر سکتے تھے لیکن آپ نے ان کو چھوڑ کر اس غلہ کے عہدے کو طلب کیا۔ 
 مصنف فرماتے ہیں کہ یہ نہ کہا جائے کہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عہدے کو اس لیے طلب کیا تھا تاکہ وہ عہدہ اپنے بھائیوں کی ملاقات کا ذریعہ بن سکے یعنی وہ اس تک ملاقات کا ذریعہ بن سکے، یہ بات ہرگز نہیں ہے،اس لیے کہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات اس سے بہت زیادہ بلند اور اس سے بہت زیادہ کامل تھی ہاں یہ ضروری ہے اگرچہ یہ غرض بھی تھی لیکن یہ طبعی طور پر تھی یعنی طبعی طور پر یہ غرض تھی، اس کے اطراف میں سے تھا کہ یوسفؑ کے بھائی ان تک پہنچے گے، حالانکہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی غرض نہیں تھی لیکن یہ خود بخود اس میں طبعی طور پر شامل تھی جب یوسف علیہ الصلوۃ والسلام اس عہدے کے والی ہو گئے تو ان کے بھائیوں کے لیے اس کے پاس آنا بھی ضروری ہو گیا اور یہ طبعی طور پر تھا کیونکہ ان کے بھائیوں کو بھی غلہ وغیرہ کی ضرورت تھی اسی کو فرمایا کہ بے شک یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائی ان کے لیے کوئی چارہ نہ تھا غلہ سے اور قوت یعنی کھانے پینے کی چیزوں کے طلب سے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے، درود ہو یوسف علیہ الصلوۃ والسلام پر ہمارے نبی اور تمام انبیاء و مرسلین پر صلی الله علیہم و سلم۔ 

طلب قضاء کی پانچ قسمیں ہیں یعنی قضاء کا طلب کرنا پانچ قسموں پر منقسم ہے، (١) واجب (٢) مباح (٣) مستحب (٤) مکروہ (٥) حرام
پہلی وجہ ! قضاء کا طلب کرنا واجب ہے جب کہ ایک انسان اہل اجتہاد میں سے ہو اور اہل علم میں سے ہو، اسی طرح صاحب عدل بھی ہو، یا یہ ایسی جگہ پر ہو جہاں کوئی قاضی بھی نہیں ہے یا قاضی تو ہے لیکن اس کے لیے ولایت درست نہیں یعنی اس کا قاضی ہونا درست نہیں ہے یا یہ اس شہر میں ہے کہ اس کے علاوہ وہاں کوئی شخص قاضی بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا یہ خود ایسا عالم ہے کہ اگر یہ قاضی نہ بنا تو پھر ایسے شخص کو قاضی بنایا جائے گا جس کے لیے قاضی بننا درست نہیں یا قضاء کا منصب ایسے شخص کے ہاتھوں میں ہے، ایسے شخص کے قبضے میں ہے جس کا قضا پر باقی رہنا اب درست نہیں ہے اور کوئی صورت بھی نہیں اس کو معزول کرنے کی بجز اس کے کہ اس کو منصب قضاء عطا کیا جائے تو ان تمام صورتوں میں قضاء کا کام اس کے لیے متعین ہے اور اس شخص کو اس میں کوشش کرنی چاہیے جبکہ یہ قضاء کے طلب سے ارادہ رکھتا ہو حقوق کی حفاظت کا اور شریعت کے مطابق احکام کے جاری و نافظ کرنے کا، اس لیے کہ اس شخص کے منصب قضاء کے حاصل کرنے میں فرض کفایہ کا قیام عمل میں آئے گا۔ 
دوسری وجہ! قضاء کا حاصل کرنا مباح ہے اس شخص کے لیے جو خود فقیر ہو اور صاحب عیال بھی تو جائز ہے اس کے لیے قضاء کے حصول میں کوشش کرنا تاکہ وہ اپنے فقر کو روک دے اور اسی طرح جب اس کا ارادہ اپنے نفس سے ضرر کو دور کرنا ہو تو اس کے لیے قضا کا حاصل کرنا مباح ہے۔ 
تیسری وجہ! قضاء کا حاصل کرنا مستحب کس کے لیے ہے، جب کوئی عالم ایک ایسی جگہ میں ہو کہ لوگوں سے اس کا علم پوشیدہ ہو اور امام ارادہ کرے کہ منصب قضا اس کو سپرد کر کے اس کی تشہیر کرے تاکہ وہ عالم صاحب جاہل کو بتلائے اور پوچھنے والے کو فتوی دے یا یہ شخص خود گمنام ہو، نہ ہی امام اس کو پہچانتا ہے نہ لوگ اسے جانتے ہیں اور یہ شخص خود کوشش کرے قضاء کے طلب میں تاکہ اس کا مبلغ علم اور اس کی علمی پہچان جانی جائے تو اس شخص کے لیے منصب قضاء کا حاصل کرنا مستحب ہے، اور اس نیت سے منصب قضاء میں داخل ہونا بھی مستحب ہے، بعض حضرات فرماتے ہیں کہ قضاء کا طلب کرنا اس شخص کے لیے بھی مستحب ہے جو شخص قضاء کے لیے متعین تو نہیں ہے لیکن یہ شخص اپنے آپ کو زیادہ حقدار، زیادہ درست اور مسلمانوں کے لیے زیادہ نفع بخش سمجھتا ہے ایسے شخص سے جس کو منصب قضاء سپرد کیا جائے جب کہ وہ دوسرا شخص بھی تولیت کا مستحق ہے لیکن وہ نفع بخش اس سے کم ہے اور یہ مسلمانوں کے لیے اس سے زیادہ نفع بخش ہے۔ 
چوتھی وجہ یعنی قضا کا طلب کرنا مکروہ ہے! 
ہر اس شخص کے لیے جو لوگوں پر غلبے اور جاہ و منصب کے حصول کے لیے قضا کے طلب میں تگ و دو کرتا ہو اس کے لیے قضا کے طلب میں کوشش کرنا مکروہ ہے اور اسی طرح بعض حضرات نے فرمایا کہ حرام ہے اور حرام کہنے کی وجہ بھی ظاہر ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے کہ یہ آخرت کا گھر ہے ہم نے ہر اس شخص کے لیے بنایا ہے جو زمین میں فساد و تعلی کا ارادہ نہ کرتے ہوں اور انجام کار پرہیزگاروں کے لیے ہے اور مکروہ ہے قضا کا طلب کرنا اس شخص کے لیے جو قضا کے ذریعے رزق لینے سے بے نیاز ہو اور مشہور بھی ایسا ہو کہ قضا کے ذریعے اس کا مبلغ علم اور اس کی شخصیت محتاج تعارف نہ ہو
پانچویں وجہ قضاء کا طلب کرنا حرام ہے اس شخص کے لیے جو منصب قضاء کے حصول کے لیے کوشش کرتا ہو جب کہ وہ ایسا جاہل ہو جس میں قضاء کی سرے سے کوئی صلاحیت ہی نہیں یا وہ عالم تو ہے اور منصب قضاء کے حصول کے لیے کوشش کرتا ہے لیکن وہ موجبِ فسق کاموں میں پڑا ہوا ہے یا وہ منصب قضاء کی ولایت سے ارادہ رکھتا ہو اپنے دشمنوں سے انتقام کا یا فریقین سے رشوت حاصل کرنے کا یا اس کے علاوہ جتنے بھی مقاصد قبیحہ ہے ان کا ارادہ رکھتا ہو تو اس شخص کے لیے قضا کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا حرام ہے۔ 

القسم الاول من الکتاب۔ الباب الاول: فی حقیقۃ القضاء ومعناہ و حکمہ و حکمتہ

         بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پہلا باب قضاء کی حقیقت و معنی، قضاء کا حکم اور حکمت کے بیان میں۔ 
(٦) قضاء بمعنی اجل یعنی مدت جیسے اللہ تعالی کا فرمان ”فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ“ (الاحزاب:٢٣)ترجمہ: بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا۔ (۷) قضاء بمعنى : الخلق یعنی تخلیق کرنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ “ (سورۃ فصلت:۱۲)ترجمہ: پس اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیئے۔
(٨) قضاء بمعنى : الفعل کام کرنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ“ (سورۃ عبس:٢٣) ترجمہ: ہرگز نہیں۔ اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی۔ (٩) قضاء بمعنى : الإبرام پختہ ارادہ کرنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”إِلَّا حَاجَةً فِي نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَاهَا“ (سورۃ یوسف:٦٨) ترجمہ: مگر یعقوب علیہ الصلوۃ و السلام کے دل میں ایک خیال پیدا ہوا جسے اس نے پورا کر لیا۔ (١٠) قضاء بمعنى العهد عہد وپیمان لینا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ “ (سورۃ القصص:٤٤) ترجمہ: جب کہ ہم نے موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو حکم، یعنی احکام کی وحی پہنچائی تھی۔ (١١)  قضاء بمعنى : الأداء ادا کرنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ “ (الجمعۃ:١٠) ترجمہ: پھر جب نماز ہو چکے۔
      اس کے بعد مصنف ؒ نے قضاء کی تین اصطلاحی تعریفیں بیان کئ ، چناں چہ فرمایا۔(۱) فحقیقۃ القضاء الاخبار عن حکم شرعی علی سبیل الالزام، قضاء وہ خبر دینا ہے حکم شرعی کی الزام کے طریقے پر، گویا یہ خبر انشاء کے قبیل سے ہے جس میں سچ اور جھوٹ کا احتمال نہیں، کیوں کہ اس خبر سے حکم شرعی کو لازم کرنا ہے، جیسے فقہاء کے قول قضی القاضی کا معنی ہے، الزم الحق اھلہ، کہ حق والے کئے لئے حق کو لازم کیا، اس پر دلیل فرمان خداوندی ہے، فلما قضینا علیہ الموت ، پھر جب ہم نے سلیمانؑ پر موت کو لازم قرار دیا اور موت کا فیصلہ کرلیا، تو یہاں بھی قضی، الزم کے معنی میں ہے، اسی طرح باری تعالیٰ کا فرمان، فاقض ما انت قاض، جادوگرانِ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لایا،تو فرعون نے دھمکی دی کہ لاقطعن ایدیکم و ارجلکم من خلاف و لاصلبنکم فی جذوع النخل، اس دھمکی کو سن کر اسیران ایمان (سابق جادوگروں) نے مطمئن ہو کر جواب دیا، لن نؤثرک علی ما جاءنا من البینات فاقض ما انت قاض انما تقضی ھذہ الحیاۃ الدنیا، تو یہاں بھی فاقض ما انت قاض، ای الزم بما شئت وصنع بما بدا لک، تو جو چاہے کر لے، جو سزا تجھ سے بن پاے اس کو ہمارے لئے لازم کر، مقرر کر تیرا سارا قہر اس دنیا کی طرح ناپائیدار و محدود ہوگا، 
فَحَقِيقَةُ الْقَضَاءِ الْإِخْبَارُ عَنْ حُكْمٍ شَرْعِيٍّ عَلَى سَبِيلِ الْإِلْزَامِ. وَمَعْنَى قَوْلِهِمْ: "قَضَى الْقَاضِي أَيْ أَلْزَمَ الْحَقَّ أَهْلَهُ. وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: (فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ) [بَا : ١٤]. أَيْ: الزَّمْنَاهُ وَحَكَمْنَا بِه عَلَيْهِ. وَقَوْلُهُ تَعَالَى: (فَاقُضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ ) [عَهِ: ۷۲] أَيْ: أَلْزِمْ بِمَا شِئْتَ وَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ.

(۲) دوسری تعریف مدخل کے حوالے سے نقل کی، فرمایا کہ قضاء وہ خالق اور مخلوق کے درمیان ایسا ربط، کہ اس کی وجہ سے احکام الہی اور اس کے فیصلوں کو کتاب و سنت کی روشنی میں ادا کرے، گویا قضاء کی وجہ سے ہی انسان وظیفۂ بندگی کو خوب خوب ادا کرتا ہے،
وَفِي الْمَدْخَلِ: الْقَضَاءُ: مَعْنَاهُ الدُّخُولُ بَيْنَ الْخَالِقِ وَالْخَلْقِ، لِيُؤَدِّيَ فِيهِمْ أَوَامِرَهُ وَأَحْكَامَهُ بِوَاسِطَةِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ.

 (۳) تیسری تعریف امام قرافی مالکیؒ سے نقل کی، 
امام قرافی مالکیؒ کی تعریف نقل کرنے سے قبل یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ الزام کی دو قسمیں ہیں، (١) الزام معنوی (٢) الزام حسی، اول کے معنی ہیں لازم کرنا فقط،تعمیل ارشاد یا امتثال امر قاضی کے قضاء سے نہیں ہوتا مثلاً، قاضی صاحب نے شوہر میاں کو اپنی زوجہ کے واسطے دین مہر کے لازم ہونے کی خبر دی، اب بیگم کو مہر دلانا قاضی کا کام نہیں ہے، اسی طرح قاضی نے شوہر پر نفقۂ زوجہ کا فیصلہ سنایا، لیکن نفقہ دلانا قاضی کا کام نہیں، اسی طرح قاضی نے شفیع کے ادعا پر شفیع کی خاطر حق شفعہ کا فیصلہ سنایا، مگر مکان لے کر شفیع کو دلانا قاضی کا کام نہیں، قاضی صاحب نے حکم سنا کر ان چیزوں کو حق والوں کے لیے لازم تو کیا، لیکن یہ الزام چونکہ معنوی ہے، اس لیے قاضی کے ذمہ زبردستی یہ چیزیں لے کر حق والوں تک پہنچانا نہیں ہے۔ 
سوال : آپ کہیں گے پھر فتویٰ اور قضاء میں کیا فرق ہوا، فتویٰ میں بھی تو مفتی خبر دیتا ہے؟ 
جواب : فتویٰ میں مفتی صرف خبر دیتا ہے یعنی الاخبار عن حکم شرعی، اور اسی کو کہتے ہیں المفتی مخبر، جبکہ قضاء کی تعریف میں الزام کا اضافہ ہے، یعنی قضاء میں قاضی اخبار عن حکم شرعی کے ساتھ لازم ہونے کو بھی بتلاتا ہے، اسی کو کہتے ہیں، المفتی مخبر والقاضی مجبر۔
ثانی الزام حسی ہے یعنی لازم کرنے کے ساتھ عمل درآمد کرانا، مثلاً، شوہر کو بیوی کے نفقہ یا دین مہر ادا نہ کرنے پر زبردستی عمل کرانا یا قید کرنا، یا شفیع کو شفعہ نہ دینے پر قید کر کے اس کو شفعہ دلانا۔ 

اس تفصیل کے بعد امام قرافی نے قضاء کی جو تعریف کی ہے یہ ہے، 
قضاء کی حقیقت و ماہیت الزام یا اطلاق ( مطلق چھوڑنا) کا انشاء ہے، دوسرے الفاظ میں کہئے،انشاءِ الزام یا انشاءِ اطلاق ہے،اور الزام سے بھی الزام معنوی مراد ہے، جیسے نفقہ، مہر اور شفعہ کا الزامی فیصلہ فقط ، اس لئے کہ قضاء اور حکم اصل الزام ( معنوی ) کے لیے ہی آتے ہیں، اور جو حکم الزام (معنوی) کے لیے ہو وہی اصل قضاء اور حکم ہے۔ 

وَقَالَ الْقِرَافِيُّ: حَقِيقَةُ الْحُكْمِ إِنْشَاءُ إِلْزَامٍ أَوْ إِطْلَاقٍ فَالْإِلْزَامُ : كَمَا إِذَا حَكَمَ بِلُزُومِ الصَّدَاقِ أَوْ النَّفَقَةِ أَوْ الشُّفْعَةِ وَنَحْوِ ذَلِكَ، فَالْحُكْمُ بِالْإِلْزَامِ هُوَ الْحُكْمُ.


پھر مصنف نے آگے خود فرمایا کہ الزام سے الزام حسی مراد نہیں ہے،یعنی جبراً امتثال امر ( زبردستی حکم پر عمل کرانا) یا قید کرنا وغیرہ، اس لئے کہ یہ حقیقت میں حکم ہے ہی نہیں کیوں اس سے کبھی کبھی قاضی عاجز ہوتا ہے،اگرچہ کبھی کبھی اس کے دائرۂ اختیار میں یہ ترسیم و حبس ہوتا جب امام المسلمین نے اس کو صراحتاً ( شرطہ وغیرہ دے کر کے) امتثال امر کا اختیار دیا ہو۔ 
فائدہ:  ترسیم کے معنی ہے امتثال امر، جیسا کہ شیخ ابو الفتاح ابو غدہؒ نے الاحکام فی تمییز الفتاوی عن الاحکام وتصرفات القاضی و الامام کے حاشیہ میں لکھا ہے۔ 
بہرحال قضاء سے مراد الزام معنوی ( جس کے بارے میں مصنف نے فرمایا فالحکم بالالزام ھو الحکم ) ہی ہے، اس لیے کہ اس میں عجز کی صورت ہی نہیں۔
اس جگہ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے جس کو مصنف نے بھی یوں کہہ کر بیان کیا، وقد یکون الحکم ایضاً بعدم الالزام، یعنی کبھی کبھی حکم سے عدم الزام بھی مراد ہوتا ہے، اور یہ تب ہوگا جب قاضی ایسا حکم دے جس سے عدم الزام ہی ضروری ہو، جیسے، قاضی صاحب زوجہ کے دعوی دائر کر نے پر شوہر پر نفقہ کے لزوم کا حکم دے، یہ اس کا مثبت پہلو ہے اور اس سے شوہر پر نفقہ لازم ہوگا،لیکن اگر بیوی صاحبہ ناشزہ ہو، اور شوہر کے لاکھ کہنے باوجود اپنے میکہ کو چھوڑنا ہی نہیں چاہتی ہو،تو ایسے میں چوں کہ نفقہ دینا شوہر میاں پر لازم نہیں، تو قاضی صاحب عدم الزامِ نان و نفقہ کا حکم دیں گے، اور یہ حکم کا منفی پہلو ہے، چناں چہ یہاں انشاءِ الزام کے دونوں پہلو ( الزام و عدم الزام) مراد ہیں، آگے مصنف ؒ فرماتے کہ معاملہ میں اباحت و عدم حجر متعین ہوتا ہے، یعنی اصل شئی اباحت ہے، جیسا ک اصول فقہ کا قاعدہ ہے الاصل الاباحۃ، گویا پتہ چلا اصل تو ہر معاملہ میں اباحت اور عدم حجر ہوتا ہے ہاں البتہ پابندی و حجر کسی خارجی وجہ سے طاری ہوتی ہیں۔ 

وَأَمَّا إِلْزَامُ الْحِسِّی مِنْ التَّرْسِيمِ وَالْحَبْسِ فَلَيْسَ بِحُكْمٍ؛ لِأَنَّ الْحَاكِمَ قَدْ يَعْجِزُ عَنْ ذَلِكَ. وَقَدْ يَكُونُ
الْحُكْمِ أَيْضًا بِعَدَمِ الْإِلْزَامِ، وَذَلِكَ إِذَا كَانَ مَا حَكَمَ بِهِ هُوَ عَدَمُ الْإِلْزَامِ، وَأَنَّ الْوَاقِعَةَ يَتَعَيَّنُ فِيهَا الْإِبَاحَةُوَعَدَمُ الْحَجْرِ.

دوسری قسم بقول امام قرافی مالکیؒ انشاءِ اطلاق ہے، 
مثلاً : ایک بنجر زمین تھی، جو حاکم وقت نے زید کو بطور ملک عطا کی تھی، سالہاسال گزر گئے،پر زید اب زمین کو آباد نہیں کر رہا ہے، بلکہ یوں ہی بیکار چھوڑ رکھا ہے، تو قاضی صاحب کے پاس اس زمین کے متعلق مرافعہ گیا، اور قاضی صاحب نے زید کی ملکیت زائل کر دی۔ 
قاضی کا زید کی ملکیت زائل کرنا ہی اس زمین کے لیے اطلاق ( اطلاق کا انشاء) ہے، تو یہ زمین اب ہر ایک کے لیے مباح ہے، اس زمین سے مخصوص ملکیت ( ملکیت زید ) کی پابندی ہٹ گئی۔ 
اسی طرح قاضی نے ارض عنوۃ( وہ زمین جو دشمن سے لڑ جھگڑ کر فتح ہوئی) کو وقف علی المسلمین قرار نہ دیتے ہوے طِلْق ( مطلق چھوڑے رکھنے ) کا فیصلہ سنایا،جیسا کہ شافعیہ کا مسلک ہے، جبکہ امام مالکؒ فرماتے ہیں امام وقت چاہے تو تمام مسلمانوں کے لیے بطور وقف اس کو رکھ سکتا ہے، اسی طرح شکار، مدھو مکھیاں، کبوتر جنہیں شکار کیا گیا تھا،شکاری کے ہاتھ سے چھوٹے یا شکاری نے خود آزاد کیا، اور قاضی نے ملکیت زائل کر دی، تو یہ سب چیزیں بھی ہر ایک کے لیے اب مباح ہے، لہذا جب پہلے حاصل کرنے والے کی ملکیت زائل کر دی گئی، تو دوسرے حاصل کرنے والے کی ملکیت خود بخود ثابت ہو جائے گی۔ 
وَأَمَّا الْحُكْمُ بِالْإِطْلَاقِ: فَكَمَا إِذَا رُفِعَتْ لِلْحَاكِمِ أَرْضٌ زَالَ الْإِحْيَاءُ عَنْهَا، فَحَكِمَ بِزَوَالِ مِلْكِ ؛ فَإِنَّهَا تَبْقَى مُبَاحَةً لِكُلِّ أَحَدٍ وَكَذَلِكَ إِذَا حَكَمَ بِأَنَّ أَرْضَ الْعَنْوَةِ طِلْقٌ لَيْسَتْ وَقْفًا عَلَى مَا قَالَهُ جَمْعٌ مِنْ الْعُلَمَاءِ، وَالْحَاكِمُ الشَّافِعِيُّ يَرَى الطِّلْقَ دُونَ الْوَقْفِ فَإِنَّهَا تَبْقَى مُبَاحَةً وَكَذَلِكَ الصَّيْدُ وَالنَّحْلُ وَالْحَمَّامُ الْبَرِّيُّ إِذَا حِيزَ، فَحَكَمَ الْحَاكِمُ بِزَوَالِ مِلْكِ الْحَائزِ الاَوَّلِ صَارَ مِلْكًا لِلْحَائِزِ الثَّانِي.
 
سوال : مذکورہ تمام قسمیں اطلاقات کے قبیل سے ہیں،مگر اس کے مفہوم مخالف سے عدم الزام یا عدم اختصاص ثابت ہو رہا ہے، یعنی جب پہلے کی ملکیت زائل ہوگئ، اور دوسرے کی ملکیت ثابت، تو دوسرے کی ملکیت کا الزام پہلے والے شخص کی ملکیت کا عدم الزام یا عدم اختصاص ثابت کر رہا ہے۔
جواب : یقیناً اطلاقات میں طرفِ آخر ( مفہومِ مخالف ) سے عدم اختصاص ثابت ہو رہا ہے، لیکن یہ بطریق لزوم ثابت ہو رہا ہے، جو قاضی کا مطلوب و مقصود نہیں ہے، آپ نے ایک طالب علم سے کہا لو یہ قلم تمھارا ہے،اس کا مطلب یہ قلم دوسروں کا نہیں ہے، لیکن آپ کا مقصود اس طالب علم کو قلم دینا ہے، اس قلم پر اس طالب علم کی ملکیت ثابت کرنا ہے،دوسروں سے ملکیتِ قلم کی نفی آپ کا مقصود نہیں،اس کو یوں بھی سمجھ لیں مثلا زید نے عمرو سے کہا کھڑے رہو، اس کا مفہومِ مخالف ہے، کہ بیٹھنا نہیں ہے، لیکن یہاں زید کا مقصود صرف عمرو کو کھڑا رکھنا ہے، نہ بیٹھنے کا امر مقصود نہیں ہے، وہ تو خود بخود بطریق لزوم ثابت ہوا، اسی کو مصنف نے فرمایا کما ان المقصود الاول من الامر الوجوب،کہ امر سے مقصودِ اول وجوب ہے اگرچہ اس کی ضد اور طرف آخر سے نہی اور تحریم ثابت ہو رہی ہے، جیسے کھڑے رہنے کا امر کرنا اپنی ضد اور طرف آخر سے بیٹھنے کی نہی یعنی عدم قعود کو ثابت کرہا ہے، لیکن جب حقائق کی بات ہو تو جو رتبہ میں پہلا ہو مقصود اور روئے سخن بھی وہی ہوتا، اس کی ضد اور مفہومِ مخالف سے کیا ثابت ہو رہا ہے، اس سے بحث نہیں ہوتی، نہ وہ مقصود ہوتا ہے۔ علامہ قرافی مالکیؒ نے اپنی کتاب  ”الاحکام فی تمییز الفتاوی عن الاحکام و تصرفات القاضی و الامام“  میں لکھا ہے، کہ اس قاعدے ( الکلام فی الحقائق انما یقع فیما ھو فی الرتبۃ الاولیٰ لا فیما بعدھا) سے ناواقفیت کی بنا پر علامہ ابو القاسم عبداللہ بن محمد الکعبی البلخی م؁٣١٧ھ نے کہا ہے کہ ہر مباح واجب ہے، اور دلیل یہ بیان کی کہ مباح کی مشغولیت حرام سے روکتی ہے، یعنی جب مباح کو اختیار کرے گا تو اس کا مطلب ہے حرام چھوڑ رہا ہے، اور ہر حرام سے بچنا واجب ہے، چناں چہ صغریٰ، کبریٰ ملا کر نتیجہ یہ نکلا کہ مباح بھی واجب ہے، علامہ قرافی مالکیؒ فرماتے یہ مذکورہ قاعدہ سے نا واقفیت کی غماز ہے کیوں اس کے من جملہ نتائج بھیانک ہیں، مثلا اسکا مطلب یہ ہوا کہ واجب مکروہ ہے، کیوں کہ واجب کی مشغولیت انسان کو مندوب سے روکتی ہے، اور مندوب کو چھوڑنا مکروہ ہے، اتنا ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ واجب حرام ہے،  کیوں کہ ایک واجب کی مشغولیت دوسرے واجب سے روکتی ہے، اور کسی بھی واجب کا ترک حرام ہے، اس لیے واج  کا ارتکاب حرام ہوا وغیرہ وغیرہ، اس لیے اگرچہ اطلاقات کے طرف آخر اور مفہوم مخالف سے عدم اختصاص ثابت ہو رہا ہے، پر اس کا کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ وہ در اصل مقصود ہی نہیں ہے۔

فَهَذِهِ الصُّورَةُ وَمَا أَشْبَهَهَا كُلُّهَا إِطْلَاقَاتٌ، وَإِنْ كَانَ يَلْزَمُهَا إِلْزَامُ الْمِلْكِ عَدَمَ الِاخْتِصَاصِ، لَكِنَّ هَذَا بِطَرِيقِ اللُّزُومِ. وَالْكَلَامُ إِنَّمَا هُوَ فِي الْمَقْصُودِ الْأَوَّلِ بِالذَّاتِ لَا فِي اللُّزُومِ، كَمَا أَنَّ الْمَقْصُودَ الْأَوَّلَ مِنْ الْأَمْرِ الْوُجُوبُ. وَإِنَّمَا كَانَ يَلْزَمُهُ النَّهْيُ عَنْ الضِّدِّ وَتَحْرِيمُهُ، فَالْكَلَامُ فِي الْحَقَائِقِ إِنَّمَا يَقَعُ فِيمَا هُوَ فِي الرُّتْبَةِ الْأُولَى لَا فِيمَا بَعْدَهَا.

اس کے علاوہ حکم کے ایک معنیٰ ہے، روکنا، منع کرنا جیسے کہ کہا جاتا ہے حکمتُ السفیۃ ای منعتُ السفیہ یعنی میں نے نادان کو روکا، فلاں تصرف کرنے سے، فلاں جگہ جانے سے، اسی وجہ سے حاکم کو حکم کہتے ہیں، کیوں کہ وہ ظالم کو ظلم سے روکتا ہے، اسی طرح جب کہا جاتا ہے، حکم الحاکم تو اس کا مطلب ہوتا ہے، وضع الحق فی اھلہ و منع من لیس باھلہ، یعنی حق والے کو حق دیا، اور جو حق والا نہ تھا اس سے حق کو روکا، یہاں بھی حکم کے معنی ہے روکنا، مزید بر آں جو لوہا لگام کے کنارے اور گھوڑے کی ناک اور تالو میں ہوتا ہے ، اس کو اسی لئے عرب حکمۃ کہتے ہیں، کیوں کہ وہ ہلاکت کی جگہوں سے گھوڑے کو روکتا ہے، ابن جریر طبری نے لکھا ہے حکمۃ وہ لوہا ہے جو وہ گھوڑے کو سوار کی مخالفت سے روکتا ہے، حدیدۃ فی اللجام تکون علی انف الفرس و حنکہ تمنعہ عن مخالفۃ راکبہ، 
حکم اور قضاء دونوں ایک ہیں، قضی بہت سارے معنوں کے لئے آتا ہے، ان میں ایک حکم بھی ہے، قرآن پاک میں فرمان خدا ہے، وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ، حکم اور قضاء اسی طرح قاضی اور حاکم دونوں ایک ہیں۔ 
قَالَ غَيْرُهُ وَالْحُكْمُ فِيمَا دُونَهُ بِمَعْنَى الْمَنْعِ وَمِنْهُ حَكَمْتُ السَّفِيهَ إِذَا أُخِذَتْ عَلَى يَدِهِ وَمُنِعَتْهُ مِنْ التَّصَرُّفِ، وَمِنْهُ سُمِّيَ الْحَاكِمُ حَاكِمًا لِمَنْعِهِ الظَّالِمَ مِنْ ظُلْمِهِ وَمَعْنَى قَوْلِهِمْ: حُكْمُ الْحَاكِمِ، أَيْ: وَضْعُ الْحَقِّ فِي أَهْلِهِ، وَمَنَعُ مَنْ لَيْسَ بِأَهْلِهِ وَبِذَلِكَ سُمِّيَتْ الْحِكْمَةُ الَّتِي فِي لِجَامِ الْفَرَسِ؛ لِأَنَّهَا تَرُدُّ الْفَرَسَ عَنْ الْمَعَاطِبِ، وَالْعَرَبُ تَقُولُ: حَكَمَ وَأَحْكَمُ بِمَعْنَى مَنَعَ وَالْحُكْمُ فِي اللُّغَةِ: الْقَضَاءُ أَيْضًا، فَحَقِيقَتُهُمَا مُتَقَارِبَةٌ.

قضاء کا حکم:  قضاء فرض کفایہ ہے، اور قضاء کے وجوب پر پوری امت متفق ہیں، زمانہ نبوت سے لیکر آج تک یہ کام مسلسل چلا آ رہا ہے، اور پھر حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ”القضاء فریضۃ محکمۃ و سنۃ متبعۃ“ اس کے وجوب پر شاہد عدل ہے، ہاں اس کے لئے کوئی شخص متعین نہیں، اور نہ یہ قضاء کسی کے ساتھ خاص ہے، جس میں قضاء کی صلاحیت ہو وہ اس کام کو لے سکتا ہے، اور اس کے سپرد یہ منصب کیا جا سکتا ہے، ہاں اگر کسی شخص میں قضاء کی اہلیت ہو اور اس کے علاوہ کوئی منصب قضاء کے لائق نہیں، تو پھر اسے مجبور بھی کیا جا سکتا ہے، 
وَأَمَّا حُكْمُهُ فَهُوَ فَرْضُ كِفَايَةٍ، وَلَا خِلَافَ بَيْنَ الْأَمَةِ أَنَّ الْقِيَامَ بِالْقَضَاءِ وَاجِبٌ، وَلَا يَتَعَيَّنُ عَلَى أَحَدٍ، إِلَّا أَنْ لَا يُوجَدَ مِنْهُ عِوَضٌ، وَقَدْ اجْتَمَعَتْ فِيهِ شَرَائِطُ الْقَضَاءِ فَيُجْبَرُ عَلَيْهِ.

قضاء کی حکمت: قتل و غارت اور کشیدگی کو دور کرنا،مصائب کو ختم کرنا،ظالم کو مٹانا، ظلم سے روکنا، مظلوم کی مدد کرنا،پیش آمدہ نزاعی معاملات کو فیصل کرنا، نیک کاموں کا حکم اور برے کاموں سے روکنا یہ قضاء کی حکمت ہے۔

وَأَمَّا حِكْمَتُهُ: فَرَفْعُ التَّهَارُجِ، وَرَدُّ النَّوَائِبِ، وَقَمْعُ الظَّالِمِ، وَنَصْرُ الْمَظْلُومِ، وَقَطْعُ الْخُصُومَاتِ، وَالْأَمْرُبِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْكَرِ.

Wednesday, August 28, 2024

d 36

(مَسْأَلَةٌ) :
”منتقیٰ“ نامی کتاب میں امام محمد سے ھشام کی نوادر سے نقل کیا گیا ہے کہ ایک آدمی کے پاس بہت سارے گواہ ہوں پھر وہ ان میں سے کسی کو بلائے تاکہ وہ اس کے لیے گواہی دے، اگر یہ شخص جس کو بلایا جا رہا ہے اپنے علاوہ اس کے لیے دوسرے ایسے گواہوں کو پاتا ہو جن کی گواہی اس کے حق میں قبول کی جائے گی تو پھر بلائے جانے والے شخص کے لیے گنجائش ہے کہ وہ اسے خود آنے سے منع کرے اور اگر اس کے علاوہ کوئی ایسا دوسرا شخص نہ ہو جس کی گواہی قبول کی جائے گی یا ایسا شخص تو ہو اس کے علاوہ جس کی گواہی قبول کی جائے گی لیکن یہ گواہ ان لوگوں میں سے ہو جن کی گواہی بلا کسی تأمل کے جلدی قبول کی جائے گی تو پھر اس کے لیے گواہی دینے سے منع کرنے کی گنجائش نہیں ہے اسی وجہ سے جو ہم نے بیان کیا کہ ایسے میں یہ شخص گواہی کے لیے متعین ہو جاتا ہے۔ 
ذَكَرَ فِي الْمُنْتَقَى عَنْ نَوَادِرِ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ: رَجُلٌ لَهُ شُهُودٌ كَثِيرَةٌ، فَدَعَا بَعْضَهُمْ؛ لِيُقِيمَ الشَّهَادَةَ وَهُوَ يَجِدُ غَيْرَهُ مِمَّنْ تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ يَسَعُهُ أَنْ يَمْتَنِعَ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ غَيْرَهُ مِمَّنْ تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ أَوْ كَانَ مِمَّنْ تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ، وَلَكِنَّ هَذَا الشَّاهِدَ مِمَّنْ تَكُونُ شَهَادَتُهُ أَسْرَعَ قَبُولًا لَا يَسَعُهُ الِامْتِنَاعُ عَنْ الْأَدَاءِ لِمَا قُلْنَا.

(مَسْأَلَةٌ) :
امام خصافؒ نے ادب القاضی میں ذکر کیا ہے کہ اگر دو آدمی آپس میں بات کر رہے ہو اس طور پر کہ ایک دوسرے کے لیے اقرار کر رہا تھا وہاں کوئی تیسرا شخص ان کا اقرار سن رہا تھا جبکہ ان دونوں آدمیوں نے اس تیسرے شخص کو بات سن رہا تھا، منع کیا گواہی سننے سے پھر کئی سالوں بعد دونوں میں جھگڑا ہوا تو اب ان میں سے مقر لہ اس شخص کو بلا رہا ہے جس کو پہلے دونوں نے گواہی سننے سے منع کیا تھا کہ آپ میرے حق میں گواہی دو تو کیا اس کی گواہی اس کے حق میں قبول کی جائے گی یا نہیں؟ اس میں دو قول ہیں، (١) یہ گواہی نہیں دے سکتا اس لیے کہ گواہی دینا امانت ہے اور ان دونوں نے اسے امانت لینے سے منع کیا تھا جب اس کے پاس امانت نہیں رکھج تو وہ امانت کیا ادا کرے گا (٢) جبکہ دوسرے حضرات فرماتے ہیں وہ گواہی دے گا اور اس کی گواہی دینا درست ہوگا اور اگر وہ گواہی نہ دے تو کتمانِ شہادت کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا، چناں چہ فرمایا دو آدمیوں کے درمیان تیسرے شخص کی مداخلت کو ناپسند کیا گیا یہ کہتے ہوۓ کہ آپ ہم پر گواہ نہ بنیے جو آپ ہم سے سن رہے ہیں اور نہ ہم دونوں فریق میں سے کسی کے لیے آپ گواہی دیجئے جو معاملہ ہمارے درمیان ہو رہا ہے باوجود اس کے اگر اس نے دخل اندازی کی اور ان میں سے کسی ایک کا اقرار دوسرے کے لیے سن لیا، اس کے بعد مقر لہ نے اسے شہادت کے لیے طلب کیا ، تو فرماتے ہیں بعض علماء وہ ہہیں جو فرماتے ہیں اس کے لیے گواہی دینا درست نہیں اس لیے کہ شہادت امانت ہے جبکہ ان دونوں نے اسے تحمل امانت سے منع کیا ہے اور بعض ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ اس کے لیے گواہی دینا جائز ہے اس لیے کہ اسے گواہی کا علم ہو چکا ہے پس اگر وہ گواہی سے رکے گا اور منع کرے گا تو وہ شہادت کو چھپانے والا ہوگا اور شہادت کو چھپا ناجائز نہیں ہے۔ 
ذَكَرَ الْخَصَّافُ فِي أَدَبِ الْقَضَاءِ: وَيُكْرَهُ أَنْ يَدْخُلَ الرَّجُلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ يَقُولَانِ: لَا تَشْهَدْ عَلَيْنَا بِمَا تَسْمَعُ مِنَّا، وَلَا تَشْهَدْ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ بِشَيْءٍ يَدُورُ بَيْنَنَا. مَعَ هَذَا لَوْ دَخَلَ وَسَمِعَ مِنْ أَحَدِهِمَا إقْرَارَ الْآخَرِ وَطَلَبَ الْمُقَرُّ لَهُ مِنْهُ الشَّهَادَةَ.
مِنْ الْعُلَمَاءِ مَنْ قَالَ: لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَشْهَدَ؛ لِأَنَّ الشَّهَادَةَ أَمَانَةٌ وَقَدْ مَنَعْنَاهُ عَنْ تَحَمُّلِ الْأَمَانَةِ وَعِنْدَ عُلَمَائِنَا يَحِلُّ لَهُ؛ لِأَنَّهُ حَصَلَ لَهُ الْعِلْمُ، فَلَوْ امْتَنَعَ عَنْ الشَّهَادَةِ صَارَ كَاتِمًا لِلشَّهَادَةِ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكْتُمَ لِلشَّهَادَةِ.
بہرحال گواہی دینے کا طریقہ: وہ یہ ہے کہ شاہد کو بلایا جائے گا تاکہ وہ اس چیز کی گواہی دے جسے وہ جانتا ہے اور جس گواہی کو اس نے یاد کیا ہے اور اس پر یہ گواہی دینا واجب ہے اللہ تبارک و تعالی کے فرمان کی وجہ سے کہ ”تم گواہی کو مت چھپاؤ!“ اسی طرح اللہ تبارک و تعالی کے فرمان کہ ”اللہ کے لیے گواہی قائم کرو“ کی وجہ سے۔ 
وَأَمَّا الْأَدَاءُ وَهُوَ أَنْ يُدْعَى لِيَشْهَدَ بِمَا عَلِمَهُ وَاسْتَحْفَظَ إيَّاهُ فَإِنَّ ذَلِكَ وَاجِبٌ عَلَيْهِ؛ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَلا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ} [البقرة: ٢٨٣] ؛ وقَوْله تَعَالَى {وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ} [الطلاق: ٢]
گواہی دینے کی حکمت کیا ہے؟ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ گواہی دینے کی مشروعیت کی حکمت وہ حقوق کی حفاظت ہے تاکہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت ہو۔ 
وَأَمَّا حِكْمَتُهَا، قَالَ بَعْضُهُمْ: حِكْمَةُ مَشْرُوعِيَّتِهَا صِيَانَةُ الْحُقُوقِ.
بہرحال وہ معاملات جن میں گواہ بنانا واجب ہوتا ہے اور جن میں گواہ بنانا واجب نہیں ہوتا ہے، چنانچہ اس سلسلے میں دو فصلوں میں کلام کیا گیا ہے نمبر ایک حقوق کے معاملات میں گواہ بنانے کا حکم جیسے بیع، اجارہ، قرض اور وہ تمام حقوق جو اس معنی میں آتے ہیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے کہ ” تم گواہ بناؤ جب تم لین دین کرو“ اور وہ معاملات جو مختلف قسم پر حقوق کی خرید و فروخت کے قائم مقام ہے ان تمام معاملات میں اختلاف ہے بعض علماء کے نزدیک ان معاملات میں گواہ بنانا واجب ہے اسی پر اکثر فقہاء ہے جبکہ احناف و مالکیہ کی رائے یہ ہے کہ ان میں گواہ بنانا مستحب ہے، دوسری فصل وہ ہے نکاح، طلاق اور رجعت کے سلسلے میں گواہ بنانا تو یہاں بھی بعض حضرات نے گواہ بنانے کو واجب کہا ہے جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ نکاح میں گواہ بنانا شرط ہے اور بقیہ طلاق اور رجعت میں گواہ بنانا مستحب ہے۔ 
وَأَمَّا مَا تَجِبُ فِيهِ فَالْكَلَامُ فِيهِ فِي فَصْلَيْنِ.الْأَوَّلُ: فِي حُكْمِ اشْهَادِ فِي الْحُقُوقِ كَالْبَيْعِ وَالْإِجَارَةِ وَالسَّلَمِ وَالْقَرْضِ وَمَا فِي مَعْنَى ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ} [البقرة: ٢٨٢] وَيَجْرِي مَجْرَى الْمُبَايَعَةِ الْحُقُوقُ عَلَى اخْتِلَافِ أَنْوالنَّدْب، وَقَدْ اُخْتُلِفَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَقَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ: هُوَ عَلَى الْوُجُوبِ، وَعَلَيْهِ الْأَكْثَرُ وَقَالَ مَالِكٌ: هُوَ عَلَى النَّدْبِ. الثَّانیْ فِي حُكْمِ اشْهَادِ فِي الْحُقُوقِ کَالنِّکَاحِ و الطَّلاقِ و الرَّجْعَۃِ الاَصَحُّ الشَّرطُ فی النِّکاحِ و فِي غَيْرِھِمَا النُّدُبُ.

[الْفَصْلُ الرَّابِعُ فِي صِفَاتِ الشَّاهِدِ وَذِكْرِ مَوَانِعِ الْقَبُولِ]
چوتھی فصل: گواہ کے فضیلت و صفات کے بیان میں اور جن مواقع میں گواہی دینا منع کیا گیا ہے، اس میں دو فصلیں آئیں گی پہلی فصل گواہ کی فضیلت اور اس کی صفات کے بیان میں چنانچہ گواہ کا مقام بہت بڑا ہے ان کی گواہ کے نام کو اللہ پاک نے اپنے صفات نام کے ساتھ منسوب کیا ہے، چنانچہ جہاں بھی اللہ تبارک و تعالی نے اپنے لیے گواہی کا لفظ استعمال کیا ہے ساتھ میں انسانوں کی گواہی کا بھی وہاں ذکر کیا ہے فرشتوں کی گواہی کا بھی ذکر کیا تو گواہی بہت بڑا مقام رکھتی ہے اسے معمولی نے سمجھا جائے کیونکہ اس سے رفع ظلم ہوتا ہے اور اس سے انصاف قائم ہوتا ہے اور اسی انصاف کی وجہ سے یہ دنیا چل رہی ہے چنانچہ جگہ جگہ قران پاک میں اللہ تبارک و تعالی نے گواہی کی فضیلت بیان فرمائی ہے بایں طور کہ قران عظیم گویا ہے شہادت کی فضیلت اور اس کی بلندی کے بارے میں اور گواہی کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے اور شہادت کی وجہ سے ملائکہ اور اپنے رسول اور اپنے برگزیدہ بندوں کو شرف بخشا ہے چنانچہ فرمان خداوندی ہے ”لیکن اللہ تبارک و تعالی گواہی دیتا ہے جو اس نے آپ کی طرف نازل کیا اور جو اپنے علم سے نازل کیا ہے اور ملائکہ بھی گواہی دیتے ہیں“ اس طرح اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے کہ ”پس کیسا ہوگا وہ دن جب ہم لے کر آئیں گے ہر امت میں سے گواہ یعنی ان کے نبی کو اور ہم لے کر ائیں گے آپ کو ان لوگوں پر گواہ“ یعنی پہلی امتوں پر آپ علیہ الصلوۃ والسلام بھی گواہ ہون گے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالی نے ہر نبی کو اپنی امت پر گواہ بنایا ہے اس لیے کہ ہر نبی اپنے زمانے میں اپنی قوم میں افضل ہوتا ہے اسی طرح فرمان خداوندی ہے کہ ” اللہ گواہی دیتا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور ملائکہ گواہی دیتے ہیں، اہل علم گواہی دیتے ہیں، انصاف کو قائم کرتے ہوئے کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ پاک جو غالب اور زبردست حکمت والا ہے“ اور شہادت کے شرف کے لیے اتنا کافی ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے فاسق کو اس کی شہادت کی قبولیت سے گرا دیا ہے اور عادل شخص کو بلند کیا ہے اس سے گواہی کی قبولیت کی وجہ سے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا کہ ” اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر ائے تو اس کی خوب چھان بین کرو“ اسی طرح اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے کہ ” تم میں سے دو عادل شخص گواہی دیں“ اور اللہ سبحانہ و تعالی نے خبر دی ہے کہ انصاف پسند ہی زمرۂ مرضیون میں آتے ہیں کہ جن گواہی سے راضی ہوا جاتا ہے، چنانچہ فرمان باری ہے کہ ”جن کو تم لوگ پسند کرتے ہو گواہوں میں سے“ اور اللہ نے بتلایا کہ یہی گواہ ہے جن سے دنیا میں عالم کا نظام قائم ہے، یہی عالم کے ستون ہیں، کیوں کہ ان سے ظلم رفع دفع ہوتا ہے انصاف قائم ہوتا ہے چنانچہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا کہ ”اگر اللہ پاک بعض لوگوں سے بعضوں کو دور نہ کرتا تو زمین میں فساد برپا ہو جاتا“ چنانچہ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اللہ تبارک و تعالی لوگوں سے گواہی کے ذریعے دور کرتا وہ چیزیں جن سے ان کے مال کی حفاظت، نفس کی حفاظت، خون کی حفاظت، آبرو کی حفاظت ہوتی ہے بس یہ امام کی حجت ہے اور ان ہی کے قول سے احکام کی تنقید ہوتی ہے۔ 
، [وَفِيهِ فَصْلَانِ] الْأَوَّلُ: فِي فَضْلِ الشَّاهِدِ وَصِفَتِهِ، وَقَدْ نَطَقَ الْقُرْآنُ الْعَظِيمُ بِفَضْلِ الشَّهَادَةِ وَرَفَعَهَا وَنَسَبَهَا إلَى نَفْسِهِ وَشَرَّفَ بِهَا مَلَائِكَتَهُ وَرُسُلَهُ وَأَفَاضِلَ خَلْقِهِ، فَقَالَ تَعَالَى {لَكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلائِكَةُ يَشْهَدُونَ} [النساء: ١٦٦] وَقَالَ تَعَالَى {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا} [النساء: ٤١] فَجَعَلَ كُلَّ نَبِيٍّ شَهِيدًا عَلَى أُمَّتِهِ؛ لِكَوْنِهِ أَفْضَلَ خَلْقِهِ فِي عَصْرِهِ، وَقَالَ تَعَالَى {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [آل عمران: ١٨] وَيَكْفِي الشَّهَادَةَ شَرَفًا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَفَضَ الْفَاسِقَ عَنْ قَبُولِ شَهَادَتِهِ وَرَفَعَ الْعَدْلَ بِقَبُولِهَا مِنْهُ، فَقَالَ تَعَالَى {إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا} [الحجرات: ٦] وَقَالَ تَعَالَى {وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: ٢] وَأَخْبَرَ سُبْحَانَهُ أَنَّ الْعَدْلَ هُوَ الْمَرْضِيُّ بِقَوْلِهِ {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: ٢٨٢] وَعَرَّفَنَا سُبْحَانَهُ أَنَّهُمْ قَوَامُ الْعَالَمِ فِي الدُّنْيَا فَقَالَ تَعَالَى {وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الأَرْضُ} [البقرة: ٢٥١] قَالَ بَعْضُهُمْ: الْإِشَارَةُ إلَى مَا يَدْفَعُ اللَّهُ عَنْ النَّاسِ بِالشُّهُودِ فِي حِفْظِ الْأَمْوَالِ وَالنُّفُوسِ وَالدِّمَاءِ وَالْأَعْرَاضِ فَهُمْ حُجَّةُ الْإِمَامِ وَبِقَوْلِهِمْ تَنْفُذُ الْأَحْكَامُ.
اسی طرح حدیث پاک میں آتا ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا گواہوں کے مراتب کا اکرام کرو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالی نے ان کے ذریعہ سے لوگوں کے حقوق دلوائے ہیں لوگوں کے حقوق کا استخراج کیا ہے اور ان کے ذریعہ لوگوں سے ظلم کو دور کیا ہے، ظلم کو اٹھایا ہے اور یہ بھی اس کی فضیلت ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے گواہ کے نام کو اپنے اچھے ناموں میں سے ایک نام سے مشتق کر دیا ہے اور وہ نام ہے شہید یہ اس کی فضیلت اور اس کے اکرام کی وجہ سے ہے۔ 
وَفِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - قَالَ «أَكْرِمُوا مَنَازِلَ الشُّهُودِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَسْتَخْرِجُ بِهِمْ الْحُقُوقَ وَيَرْفَعُ بِهِمْ الظُّلْمَ» وَاشْتَقَّ اللَّهُ تَعَالَى لَهُمْ اسْمًا مِنْ أَسْمَائِهِ الْحُسْنَى وَهُوَ الشَّهِيدُ تَفَضُّلًا وَكَرَمًا.
یہ بات بھی گزر چکی کہ شہادت کی دو حالتیں ہیں ایک ہے تحمل شہادت اور دوسری ہے ادائے شہادت چنانچہ حالت تحمل کے لیے کچھ شرطیں ہیں اور حالت ادا کے لیے بھی کچھ شرطیں ہیں جو شرطیں حالت تحمل کی ہے وہ حالت ادا کی بھی ہیں لیکن حالت ادا میں شرطوں کا مزید اضافہ ہے چنانچہ ادا کی شرائط میں سے حریت، بلوغت، اور اسلام ہے ان کا وجود ادا کے وقت شرط ہے نہ کہ تحمل کے وقت، چناں چہ تحمل کے وقت اگر انسان غلام، نابالغ یا غیر مسلم بھی ہو جب بھی تحمل شہادت کر سکتا ہے، لیکن ادا نہیں کر سکتا کیونکہ ادا کے وقت یہ شرائط ہونی چاہیے۔
تحمل شہادت کی تین شرطیں ہیں، (١) عاقل ہونا (٢) بینا ہونا (٣) معاینہ کرنا۔ 
 ادائیگی شہادت کی عمومی شرطیں دس ہیں جن میں سات شرطیں مثبت ہیں کہ ان میں سے تین یہاں مذکور ہیں، (١) آزاد ہونا (٢) بالغ ہونا (٣) عاقل ہونا (٤) بینا ہونا (٥) عالم بمشہود بہ (٦) عادل ہونا (٧) گویائی ہونا، بقیہ منفی شرطیں ہیں، (٨) غیر محدود فی القذف ہونا (٩) غیر جالب منفعت و غیر دافعِ مضرت ہو (١٠) غیر فریق ہونا۔ 
اور ادائیگی شہادت کی خصوصی شرطیں سات ہیں جو خاص معاملات سے متعلق ہیں، (١) مسمان ہونا، چناں چہ مسلمان کے خلاف گواہی دینے کے لیے مسلمان ہونا شرط ہے وگرنہ نہیں (٢) مذکر ہونا، جیسے حدود و قصاص میں صرف مذکر گواہی دے سکتے ہیں (٣) قیام رائحہ بالشہادت، جیسے شرب خمر کی شہادت میں (٤) تقدم دعویٰ (٥) موافقت فی الشہادۃ، موافقت فی الدعویٰ، یعنی دعویٰ کے بعد شہادت دینا (٦) شہادت علی الشہادۃ وقت تعذر حضور اصل گواہ (٧) اصالہ فی الشہادۃ مثلاً حدود و قصاص میں شہادت علی الشہادۃ نہیں چلے گی، یہ کل بیس شرائط ہوئیں، تین شرطیں تحمل شہادت کی، سترہ شرطیں ادائے شہادت کی، دس عام سات خاص۔ 
وَقَدْ تَقَدَّمَ أَنَّ لِلشَّاهِدِ حَالَتَيْنِ: حَالَةُ التَّحَمُّلِ، وَحَالَةُ الْأَدَاءِ، وَأَنَّ مِنْ شَرْطِ الْأَدَاءِ الْحُرِّيَّةَ وَالْبُلُوغَ وَالْإِسْلَامَ، فَيُشْتَرَطُ وُجُودُ ذَلِكَ عِنْدَ الْأَدَاءِ وَلَا يُشْتَرَطُ ذَلِكَ عِنْدَ التَّحَمُّلِ.
ادا کی اہلیت وہ ثابت ہوگی ان چیزوں کے ذریعے سے بھی جن کے ذریعے ثابت ہوتی ہے تحمل کی اہلیت اور دوسرے امور کے ذریعے سے بھی یعنی جو چیزیں تحمل کی اہلیت کے شرط ہے وہ ادا کے لیے بھی شرط ہیں لیکن ادا کے لیے کچھ اور ضروری شرائط بھی ہیں وہ کیا ہے وہ ہے گویائی اس لیے کہ اگر گویائی نہ ہو تو پھر کس چیز کی گواہی دے گا، اسی طرح یادداشت کا ہونا ضروری ہے اس لیے کہ اگر یادداشت نہیں تو جس شہادت کا تحمل کیا ہے اس کو یاد کیسے رکھے گا، اسی طرح بیدار مغزی بھی ضروری ہے ادا کے لیے اس لیے کہ اگر بیداری نہ ہوگی تو غفلت میں صحیح بھی غلط کہے گا اس لیے کی حفظ سے وہ مضمون باقی رہے گا جس کا اس نے تحمل کیا ہے شہادت سے لے کر ادائیگی کے وقت تک اور نطق کے ذریعے وہ ادا کرنے پر قادر ہوگا اور بیداری کے ذریعے سے وہ اس چیز کے ادا سے غافل نہیں ہوگا جس کا ادا کرنا اس پر واجب ہے یہاں تک کہ نو شخصوں کی گواہی قبول نہیں کی جاتی ہے یعنی جو شرائط ادا اور تحمل کی ہیں ان کے خلاف وہ شرائط جن گواہوں میں نہیں پائی جائیں گی، ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ 
وَأَهْلِيَّةُ الْأَدَاءِ تَثْبُتُ بِمَا تَثْبُتُ بِهِ أَهْلِيَّةُ التَّحَمُّلِ وَبِأُمُورٍ أُخَرَ، وَهُوَ النُّطْقُ وَالْحِفْظُ وَالْيَقَظَةُ؛ لِأَنَّ بِالْحِفْظِ يَبْقَى عِنْدَهُ مَا يَتَحَمَّلُهُ مِنْ الشَّهَادَةِ إلَى حِينِ أَدَائِهَا، وَبِالنُّطْقِ يَقْدِرُ عَلَى الْأَدَاءِ؛ وَبِالْيَقَظَةِ لَا يَغْفُلُ عَنْ أَدَاءِ مَا يَجِبُ أَدَاؤُهُ، حَتَّى أَنَّهُ لَا تُقْبَلُ شَهَادَةُ تِسْعَةٍ: 
(١) اس بچے کی گواہی قبول نہیں کی جاتی جو غیر عاقل و غیر ممیز ہو، (٢) اسی طرح مجنون کی گواہی صحیح نہیں ہے اس کے عقل مند نہ ہونے کی وجہ سے، (٣) گونگے کی گواہی قبول نہیں اس میں قوت گویائی کے نہ ہونے کی وجہ سے، (٤) اعمیٰ، نابینا کی گواہی قبول نہیں کی جاتی ہے کہ وہ دیکھ نہیں سکتا اور ادا کے لیے بینا ہونا ضروری ہے اور اگر تحمل شہادت کے وقت تو بینا تھا لیکن ادا کے وقت نابینا ہو جب بھی امام صاحب اور امام محمد کے نزدیک گواہی قبول نہیں کی جائے گی حضرت امام ابو یوسف کے نزدیک گواہی قبول کی جائے گی، طرفین کے نزدیک گواہی اس لیے قبول نہیں کی جائے گی کہ وہ اس شخص کی تمییز اور دیکھنے پر قادر نہیں جس کے خلاف گواہی دے رہا ہے اس لیے نابینا کی گواہی قبول نہیں ہے اسی ( قول طرفین) پر فتوی ہے، (٥) عاقل بچہ جو سدھ بدھ رکھتا ہو اس کی گواہی بھی قبول نہیں یعنی ادائے شہادت، اس لیے کہ شریعت نے اسے غیر عاقل قرار دیا ہے ان تصرفات میں جن میں عموماً نقصان ہوتا ہے اور ان تصرفات میں جو نفع و ضرر کا احتمال رہتا ہے، اور شہادت ان تمام چیزوں میں سے ضروری ہے چنانچہ وہ شرعاً شہادت کا اہل نہیں رہا۔ 
الصَّبِيِّ الَّذِي لَا يَعْقِلُ، وَالْمَجْنُونِ لَا يَصِحُّ لِعَدَمِ عَقْلِهِمَا، وَالْأَخْرَسِ لِعَدَمِ نُطْقِهِ.وَالْأَعْمَى لِعَدَمِ الْبَصَرِ، وَإِنْ كَانَ بَصِيرًا وَقْتَ التَّحَمُّلِ أَعْمَى عِنْدَ الْأَدَاءِ لَا تُقْبَلُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ، خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ؛ لِأَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى تَمْيِيزِ مَنْ شَهِدَ عَلَيْهِ وَبِهِ الْفَتْوَى، وَالصَّبِيِّ الَّذِي يَعْقِلُ؛ لِأَنَّ الشَّرْعَ أَلْحَقَهُ بِعَدِيمِ الْعَقْلِ فِي حَقِّ التَّصَرُّفَاتِ الضَّارَّةِ وَالدَّائِرَةِ بَيْنَ الضَّرَرِ وَالنَّفْعِ، وَالشَّهَادَةُ مِنْ جُمْلَةِ ذَلِكَ فَلَمْ يَبْقَ أَهْلًا شَرْعًا.
(٦) اسی طرح غلام گواہی نہیں دے سکتا تحمل کر سکتا ہے پر گواہی نہیں دے سکتا ہے اس لیے کہ شریعت نے اسے عاجز قرار دیا ہے (٧) اسی طرح کافر کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اس لیے کہ شریعت نے مسلم کے خلاف اس کی شہادت کی اہلیت کو باطل قرار دیا ہے یعنی مسلم کے خلاف وہ گواہی نہیں دے سکتا، (٨) محدود فی القذف گواہی ادا نہیں کر سکتا اس لیے کہ شریعت نے ہمیشہ کے لیے اس کی اہلیت کو باطل قرار دیا ہے اور اسے گونگے کے ساتھ ملا ڈالا ہے اس لیے کہ اس نے زبان سے ایسی جنایت کی ہے کہ اس کی سزا اس کی زبان کا کو کاٹ دینے مانند ہے گویا وہ گونگا ہے، (٩) اسی طرح مغفل یعنی بھولنے والا شخص امام محمد کے نزدیک اس کی گواہی بھی قبول نہیں، امام محمد فرماتے ہیں میں امید کرتا ہوں اس کے دعا کی لیکن اس کی شہادت کو قبول نہیں کرتا،
 
وَالْعَبْدِ؛ لِأَنَّ الشَّرْعَ أَلْحَقَهُ بِالْعَاجِزِ وَالْكَافِرِ؛ لِأَنَّ الشَّرْعَ أَبْطَلَ أَهْلِيَّتَهُ فِي حَقِّ الشَّهَادَةِ عَلَى الْمُسْلِمِ.وَالْمَحْدُودِ فِي الْقَذْفِ؛ لِأَنَّ الشَّرْعَ أَبْطَلَ أَهْلِيَّتَهُ عَلَى التَّأْبِيدِ وَأَلْحَقَهُ بِالْأَخْرَسِ؛ لِأَنَّهُ جَنَى بِلِسَانِهِ فَعَاقَبَهُ بِقَطْعِ لِسَانِهِ مَعْنًى.
وَالْمُغَفَّلِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ فَإِنَّهُ قَالَ: أَرْجُو دُعَاءَهُ وَلَا أَقْبَلُ شَهَادَتَهُ، 
یہاں سے ایک اصول بیان فرما رہے ہیں کہ اگر شہادت کا اہل نہ ہونے کی وجہ سے یعنی شہادت کی صلاحیت اس میں آئی ہی نہیں، ایسے میں کسی کی گواہی رد کر دی گئی پھر اگر عوارض مانعہ ختم ہو کر شہادت کی اہلیت آنے کے بعد دوبارہ وہ گواہی دے تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی، بر اس کے اگر شہادت کی اہلیت ہونے کے باوجود کسی کے گواہی رد کر دی گئ تو پھر اس کی گواہی دوبارہ قبول نہ کی جائے گی، اسی لیے جب بچہ گواہی دے کسی معاملہ میں لیکن بچے ہونے کی وجہ سے اس کی گواہی لوٹا دی جائے پھر وہ دوبارہ گواہی دے بالغ ہونے کے بعد تو تو بلوغت کے بعد اس کی گواہی قبول کی جائے گی، اسی طرح غلام جب کسی معاملے میں گواہی دے لیکن اس کی گواہی غلامیت کی وجہ سے رد کر دی جائے پھر وہ آزاد ہونے کے بعد دوبارہ گواہی دے تو قبول کی جائے گی اسی طرح ذمی جب مسلم کے خلاف گواہی دے اور ذمی ہونے کی وجہ سے مسلم کے خلاف گواہی نہیں دے سکتا اس لیے اس کی گواہی رد کر دینے کے بعد پھر وہ اسلام لانے کے بعد دوبارہ گواہی دے مسلمان کے خلاف تو قبول کی جائے اسی طرح اگر اعمیٰ گواہی دے اور اس کی گواہی کو لوٹا دیا جائے پھر وہ دوبارہ گواہی دیر بعد اس کے کہ وہ بینا ہو جائے تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی اس لیے کہ مردود شہادت نہیں تھی اس لیے وہ عوارض جن کی وجہ سے شہادت رد کر دی گئی جب زائل ہوں تو اس کے لیے شہادت کی اہلیت نئی ہوگی، پس جب وہ دوبارہ شہادت دے گا، تو وہ شہادت قبول کی جائے گی۔ 
وَلِهَذَا إذَا شَهِدَ الصَّبِيُّ فِي حَادِثَةٍ فَرُدَّتْ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ الْبُلُوغِ تُقْبَلُ.وَكَذَا الْعَبْدُ إذَا شَهِدَ فِي حَادِثَةٍ فَرُدَّتْ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ الْعِتْقِ تُقْبَلُ.وَكَذَا الذِّمِّيُّ إذَا شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ فَرُدَّتْ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ الْإِسْلَامِ تُقْبَلُ، وَكَذَا الْأَعْمَى إذَا شَهِدَ فَرُدَّتْ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ مَا أَبْصَرَ؛ لِأَنَّ الْمَرْدُودَ لَمْ يَكُنْ شَهَادَةً وَإِنَّمَا حَدَثَتْ لَهُ الشَّهَادَةُ بَعْدَ زَوَالِ الْعَوَارِضِ.
بر خلاف جب فاسق گواہی دے کسی معاملے میں اور فسق کی وجہ سے اس کی گواہی رد کر دی گئی پھر وہ توبہ کے بعد گواہی کو دوبارہ ادا کرے تب بھی اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اس لیے مردود شہادت بھی شہادت تھی کیوں کہ فاسق شہادت کا اہل ہوتا ہے ہمارے نزدیک، اس طرح ذمی جب کسی ذمی خلاف گواہی دے یا کسی حربی مستأمن کے خلاف گواہی دے اور اس کی گواہی رد کر دی جائے اس کے دین میں فسق کی وجہ سے یعنی ذمیوں کے دین میں کسی فسق کی وجہ سے گواہی رد کر دی گئی پھر اگر اسلام لانے کے بعد وہ دوبارہ گواہی دے تو اس کی شہادت قبول نہ ہوگی، اس لیے کہ اس کی مردود شہادت اس کے ہم جنس مذہبی کے خلاف تھی اس لیے اس مردود گواہی میں گواہی کی صلاحیت تھی مگر وہ اپنے مذہب میں فسق کی وجہ سے رد کر دی گئی، لہذا اب دوبارہ وہی گواہی قبول نہ ہوگی۔ 

بِخِلَافِ مَا إذَا شَهِدَ الْفَاسِقُ فِي حَادِثَةٍ فَرُدَّتْ لِفِسْقِهِ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ التَّوْبَةِ لَا تُقْبَلُ؛ لِأَنَّ الْمَرْدُودَ كَانَ شَهَادَةً؛ لِأَنَّ الْفَاسِقَ أَهْلٌ لِلشَّهَادَةِ عِنْدَنَا، وَكَذَا الذِّمِّيُّ إذَا شَهِدَ عَلَى ذِمِّيٍّ أَوْ حَرْبِيٍّ مُسْتَأْمَنٍ فَرُدَّتْ لِفِسْقِهِ فِي دِينِهِ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ الْإِسْلَامِ؛ لِأَنَّ لَهُ شَهَادَةً عَلَى جِنْسِهِ فَكَانَ الْمَرْدُودُ شَهَادَةً.
اسی طرح محدود فی القذف جب اس کی گواہی کسی حادثے میں رد کر دی گئی پھر وہ توبہ کے بعد دوبارہ گواہی دے اسی طرح جب وہ کسی معاملہ میں گواہی دے اور اس کی گواہی رد کر دی جائے پھر وہ العیاذ باللہ مرتد ہو کر پھر حلقہ بگوش اسلام ہو جائے اب اگر وہ دوبارہ گواہی دے تب بھی اس کی گواہی قبول نہیں ہوگی اسی وجہ سے جو ہم نے بیان کیا وہ یہ کہ شریعت نے اس کی شہادت کی اہلیت کو باطل کیا ہے ہمیشہ کے لیے اللہ تبارک و تعالی کے فرمان کی وجہ سے کہ” تم ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو“ برخلاف ذمی کے جب وہ ذمی ہونے کی حالت میں محدود فی القذف ہوگیا، پھر بحالت ذمی وہ گواہی دے اور اس کی گواہی رد کر دی گئ، اب اگر یہ محدود فی القذف ذمی دوبارہ گواہی دے اسلام لانے کے بعد تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی اس لیے کہ اس کی پہلی گواہی کافر کے خلاف تھی مگر وہ محدود فی القذف کی وجہ سے رد کر دی گئی اب وہ اسلام لانے کے بعد مسلم کے خلاف گواہی دے رہا ہے تو پہلی گواہی الگ تھی جو رد کی گئی، وہ یہ شہادت نہ تھی چناں چہ دلیل کے طور پر فرمایا کہ اس کو اس نص ( یعنی جو اوپر مطلق محدود فی القذف کی دوبارہ قبول نہیں کی گئی ذمی محدود فی القذف بھی اسی زمرہ میں آنا چاہئے تھا) سے اجماع کی وجہ سے خاص کیا گیا ہے، اسی طرح جن کی گواہی دوبارہ قبول نہیں کی جاتی ہے ان میں یہ بھی ہے کہ اگر زوجین میں سے کوئی ایک گواہی دے دوسرے کے لیے جبکہ احد الزوجین دوسرے کے حق گواہی نہیں دے سکتے ہیں، چناں چہ اگر احد الزوجین کی گواہی لوٹا دی جائے پھر وہ دوبارہ گواہی دے بعد اس کے کہ طلاق بائن واقع ہو جائے، یعنی بینونت آ جائے اب اگر ان زوجین میں کوئی دوسرے کے لیے گواہی دے تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی اس لیے کہ پہلے جو لوٹا دیے گئی وہ بھی گواہی تھی جب وہ لوٹا دی گئی تو اب بھی لوٹا دی جائے گی۔ 
وَكَذَا الْمَحْدُودُ فِي الْقَذْفِ إذَا رُدَّتْ شَهَادَتُهُ فِي حَادِثَةٍ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ التَّوْبَةِ، وَكَذَا إذَا شَهِدَ فِي حَادِثَةٍ فَرُدَّتْ ثُمَّ ارْتَدَّ وَالْعِيَاذُ بِاَللَّهِ ثُمَّ أَسْلَمَ ثُمَّ أَعَادَهَا لَا تُقْبَلُ، لِمَا بَيَّنَّا مِنْ أَنَّ الشَّرْعَ أَبْطَلَ أَهْلِيَّةَ شَهَادَتِهِ عَلَى التَّأْبِيدِ بِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَلا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا} [النور: ٤] بِخِلَافِ الذِّمِّيِّ إذَا حُدَّ فِي قَذْفٍ ثُمَّ شَهِدَ فَرُدَّتْ شَهَادَتُهُ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ الْإِسْلَامِ حَيْثُ تُقْبَلُ؛ لِأَنَّهُ خُصَّ عَنْ هَذَا النَّصِّ بِالْإِجْمَاعِ. وَأَحَدِ الزَّوْجَيْنِ إذَا شَهِدَ لِصَاحِبِهِ فَرُدَّتْ فَأَعَادَهَا بَعْدَ الْإِبَانَةِ لَا تُقْبَلُ؛ لِأَنَّ الْمَرْدُودَ كَانَ شَهَادَةً.
[فَصْلٌ حَدُّ الْعَدَالَةِ]
یہ فصل عدالت کی تعریف کے بیان میں۔ 
(فَصْلٌ) 
عدالت کے لغوی معنی ہیں استقامت، میانہ روی، انصاف وغیرہ اور عدل یہ جور کی ضد ہے، معنى العدالة فى اللغة الاستقامة، والعدل هو المتوسط فى الأمور من غير إفراط فى طرفى الزيادة والنقصان،
عدالت کے اصطلاحی معنی : دینی اعتبار سے ممنوع چیزوں سے بچتے ہوئے راہ حق پر استقامت سے جمے رہنا، قيل هو: عبارة عن الاستقامة على طريق الحق بالاجتناب عما هو محظور دينًا (التعريفات للجرجاني، ص ١٤٧) 
عدالت کے متعلق صاحب ھدایہ فرماتے ہیں ”لا بد فی ذلک کلہ من العدالۃ“ کہ ہر قسم کی شہادت میں عدالت کا ہونا ضروری ہے، کیوں کہ قرآن پاک کا صریح فیصلہ ہے کہ ”واشھدوا ذوی عدل منکم“ 
علامہ شامی رقم طراز ہیں کہ عادل وہ شخص ہے جو تمام کبائر سے کلی اجتناب کرتا ہو، یہاں تک کہ اگر مرتکب کبیرۃ ہوگا تو عدالت ساقط ہوجائے گی، اور گناہانِ صغیرہ سے اکثر و بیشتر بچتا ہو یا گناہ صغیرہ پر مصر نہ ہو تو اس کی عدالت بر قرار رہے گی وگرنہ صغیرہ بھی کبیرہ ہی کہلائے گا، وقال صاحب رد المحتار على الدر المختار: العدل من يجتنب الكبائر كلها، حتى لو ارتكب كبيرة تسقط عدالته، وفي الصغائر العبرة الغلبة أو الإصرار على الصغيرة فتصير كبيرة. ( رد المحتار) علامہ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں: حدها الأصحاب : بأنها ملكة ، أي هيئة راسخة في النفس تمنع من اقتراف كبيرة أو صغيرة دالة على الخسة أو مباح يخل بالمروءة۔ ( الاشباہ و النظائر للسیوطی )
چوں کہ عدالت کی تعریف میں ائمۂ مجتہدین و فقہاء کی آراء مختلف و گوناگوں پائی جاتی ہیں، کیوں قرآن پاک میں حق جل جلالہ کا امر عادل گواہان کے مطالبہ کا تو ہے لیکن عدالت کی تعریف یا حد بندی کے سلسلے میں قرآن میں کوئی صراحت نہیں ہے اس عدالت کی تعریف فقہاء کے نزدیک مختلف فیہ ہے، چناں چہ اسی اختلاف کی بنا پر اس پر متفرع ہونے والے مسائل میں بھی قدرے اختلاف پایا جاتا ہے، من جملہ ان تعریفات کے اس بات پر تقریباً سب متفق ہیں کہ عادل وہ ہے جو کبیرہ گناہوں سے مکمل اجتناب کرتا ہو، اور یہی بات مصنف کی پیش کردہ تعریفات سے بھی واضح ہوتی ہے،اب ایک سوال یہ ہے کہ فی زماننا ان تعریفات کے مطابق کسی بھی عدالت میں گواہان پیش نہیں ہوتے ہیں، بلکہ فاسق گواہوں کو بھی لیا جاتا ہے اور بغیر تزکیہ کے قاضی ان کی گواہی قبول بھی کرتا ہے، جبکہ صاحبینؒ کا مسلک یہی ہے ”یسال عن حال الشهود“  کہ گواہوں کی ظاہری عدالت پر قاضی فیصلہ نہ کرے بلکہ ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا لازم ہے۔ 
اس سوال کے جواب میں امام قرافی کی یہ عبارت کافی و شافی ہوگی جسے مصنف نے بھی نقل کیا ہے،اما قرافی کی پیش کردہ عبارت کا خلاصہ ہے کہ فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی معاملہ میں صرف غیر عادل گواہ ہو تو ان میں سے جو درست احوال کے اعتبار سے بڑھا ہوا ہو، فجور و بد کاری کے اعتبار سے سب سے کمتر ہو اس کی گواہی قبول کی جائے گی اور یہی طریق کار قضاء وغیرہ میں ضروری ہے، تاکہ مصالح دینیہ و دنیاویہ ضائع نہ ہوں، مزید امام قرافی فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں کوئی اس سے اختلاف نہیں کر سکتا، اس لیے کہ شرع نے جس چیز کا مکلف بنایا ہے وہ ہے امکان ( اور جب عدالت ک امکان نہ ہو اور لوگوں کی حق تلفی کا اندیشہ ہو تغیر احوال کی وجہ سے اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے) اور یہ سب ضرورت کی وجہ سے ہے تا کہ اموال برباد نہ ہوں اور حقوق ضائع نہ ہوں، بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ جب دو چند لوگون کے سوا بقیہ فساق و فجار ہوں تو ان میں بعض کی شہادت بعض پر قبول ہوگی اور درجہ بدرجہ ان فساق کی گواہی قبول کی جائے گی یہی وہ صحیح طریقہ ہے جس پر عمل ہے، اگر چہ بہت سے فقہاء نے صراحتاً اس کا انکار کیا ہے، جیسے کہ فاسق کی ولایت صحیح ہے یا نہیں اور اس کے احکام کے نفاذ ہوں گے یا نہیں ( اگر قاضی بنا دیا جائے)  فاسق کے ولی نکاح ہونے یا نہ ہونے میں ، وصی مال ہونے یا نہ ہونے میں، بعض فقہاء نے اس کا صراحتاً انکار کیا ہے، جبکہ جمہور فاسق کہ ولایت، اس کے احکام کے نفاذ، ولی نکاح و وصی مال ہونے پر متفق ہیں اور اسی طرح عمل جاری ہے، چناں چہ بعض فقہاء کی اس بات سے امام قرافی سے جو منقول ہے، اس کی تائید ہوتی ہے۔ اور جب فاسق کے سچے ہونے کا غلبہ ظن حاصل ہو جائے تو اس کی شہادت قبول ہو جائے گی اور اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔  قال القرافي في باب السياسة: نص بعض العلماء على أنه إذا لم نجد في جهة إلا غير العدول اقمنا أصلحهم وأقلهم فجورا للشهادة عليهم ويلزم ذلك في القضاة وغيرهم لئلا تضيع المصالح قال وما أظن أحدا يخالف في هذا، فإن التكليف مشروط بالامكان وهذا كله للضرورة لئلا تهدر الأموال وتضيع الحقوق. قال بعضهم: إذا كان الناس فساقا إلا القليل النادر قبلت شهادة بعضهم على بعض ويحكم بشهادة الأمثل فالاً مثل من الفساق هذا هو الصواب الذى عليه العمل وان انكره كثير من الفقهاء بألسنتهم كما أن العمل على صحة ولاية الفاسق ونفوذ أحكامه وإن أنكروه بألسنتهم وكذلك العمل على صحة كون الفاسق وليا في النكاح ووصيا في المال وهذا يؤيد ما نقله القراقي، وإذا غلب على الظن صدق الفاسق قبلت شهادته وحكم بها. 
اس عبارت کو ملاحظہ کرنے کے بعد عصر حاضر میں کسی بھی دارالقضاء کی عملی صورت پر نہ تو ھدایہ، شامی اور علامہ جرجانی وغیرہ کی تعریفات سے کوئی اشکال ہوگا اور نہ ہی صاحبین رحمہما اللہ کا فتوی موجب قلق ہوگا، کیوں وہ ایک زمان و امکان کی شرط کے ساتھ مشروط ہے، لہذا جب اس شرط کی وجہ سے مصالح دینیہ اور احکام شرعیہ کی پامالی لازم آتی ہوں ظلم و جبر میں ازالہ کے بجائے اضافہ ہو رہا ہو تو ”ان الاحکام تتغیر بتغیر الاحوال“ ”الضرر یزال“ ” الحرج مدفوع “ فاسق کی گواہی فاسق کے ھو میں قابل قبول ہوگی، اس سلسلے میں خلاصہ کے طور پر یہ عرض ہے کہ ایک شاہد کے عادل ہونے کے لیے جس عدل کا اعتبار ہے وہ اس کی شہادت کے اعتبار سے، یعنی ادائے شہادت میں وہ در خوار اعتناء اور قابل شہادت ہونا چاہیے، زندگی کی بقیہ مرحلوں میں وہ کن وادیوں میں بھٹکتا ہے اس سے کوئی سروکار نہیں، چناں چہ جب اس کا ادائے شہادت میں سچا ہونا معلوم ہو جائے اور اور اس کا فسق جھوٹ کے سوا ہو اور اس معاملہ میں بھی اس کے سچ کا غلبہ ظن ہو تو اس کی شہادت یقینا قبول ہوگی وہ زندگی کے دیگر مرحلوں میں فاسق ہے ا س کی وجہ سے اس کی شہادت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، مصنف آگے لکھا ہے، فإذا علم صدق لهجته وأنه من أصدق الناس وإن فسقه بغير الكذب فلا وجه لرد شهادته ۔ جب کسی کا صدق لہجہ معلوم ہو اور یہ بات کہ وہ لوگوں میں سب سے سچا ہے اور یہ کہ اس کا فسق غیر کذب میں ہے تو اس کی شہادت رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔اور اس پر ابن قیم جوزی کا یہ فتویٰ نہلے پہ دہلے کے مترادف ہے فرماتے ہیں، وقال ابن قيم الجوزية الحنبلي وسر المسئلة أن مدار قبول الشهادة وردها على غلبة ظن الصدق وعدمه قال والصواب المقطوع به ان العدالة تتبعض فيكون الرجل عدلا في شئ وفاسقا في شئ فإذا تبين للحاكم انه عدل فيما شهد به قبلت شهادته ولم يضره فسقه فی غیره۔ ترجمہ:ابن قیم جوزی حنبلی نے کہا، مسئلہ کا راز یہ ہے کہ قبول شہادت اور رد شہادت کی بنیاد صدق کے غلبہ ظن اور اس کے عدم پر ہے۔ ابن قیم کہتےہیں ، سچی اور پختہ بات یہی ہے کہ عدالت تقسیم کو قبول کرتی ہے، پس ایک شخص بعض چیزوں میں عادل ہوتا ہے اور بعض میں فاسق ہاں جب  حاکم کے پاس یہ بات ظاہر ہو جائے کہ شاہد اپنی شہادت میں عادل ہے، تو اس کی شہادت قبول کی جائے گی اور دوسری حیثیات سے اس کا فسق قبول شہادت کے لیے مضر نہ ہوگا۔
قال ابن عاصم في تحفته:
 وشاهد صفته المرعيه * عدالة تيقظ حرية
والعدل من يجتنب الكبائرا * ويتقي في الغالب الصغائرا
وما أبيح وهو في العيا ن * يقدح في مروءة الإنسان .

چناں چہ مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”فتاویٰ صاعد“ میں عدالۃ کی تعریف میں یوں بیان کی گئی ہے: عدالت کی تعریف یہ ہے کہ گواہان آزاد، عاقل، بالغ ہوں گناہانِ کبیرہ کے ارتکاب کرنے والے نہ ہوں اور گناہانِ صغیرہ پر مصر نہ ہوں اور ان سے جھوٹ ظاہر نہ ہوا ہو، امام طحاویؒ فرماتے ہیں گناہ کبیرہ یہ ہے کہ جس پر جہنم کی وعید سنائی گئی ہو، جب کہ دوسرا حضرات فرماتے ہیں کہ گناہ کبیرہ وہ ہے جس کے ارتکاب سے حد اور زجر کا مستحق ہوتا ہو،  ”فتاویٰ ابی لیث“ میں ہے کہ عدالت کی شرط یہ ہے کہ وہ امور معیوبہ سے بچتا ہو اور بندہ بیدار مغز ہو اور ساہی القلب یعنی غفلت بھرا دل نہ رکھتا ہو۔ 
قَالَ فِي فَتَاوَى صَاعِدٍ: حَدُّ الْعَدَالَةِ أَنْ يَكُونُوا أَحْرَارًا عُقَلَاءَ بَالِغِينَ غَيْرَ مُرْتَكِبِينَ كَبِيرَةً وَلَا مُصِرِّينَ عَلَى صَغِيرَةٍ وَلَمْ يَظْهَرْ مِنْهُمْ كَذِبٌ.قَالَ الطَّحَاوِيُّ: قَالَ مَا أَوْعَدَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالنَّارِ.وَقَالَ غَيْرُهُ: مَا يَتَعَلَّقُ الْحَدُّ أَوْ الزَّجْرُ بِهِ.وَفِي فَتَاوَى أَبِي اللَّيْثِ: شَرْطُ الْعَدَالَةِ أَنْ يَجْتَنِبَ الْأُمُورَ الْمُسْتَشْنَعَةَ وَفِيهِ يَقَظَةٌ، وَلَا يَكُونُ سَاهِيَ الْقَلْبِ.
بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا کہ عدالت وہ ایسی ہیئت ہے جو نفس کے اندر راسخ ہوتی ہے جو انسان کو کبائر سے بچنے کے ساتھ ساتھ تقوی کے لزوم پر ابھارتی ہے اور صغائر سے بھی انسان کی حفاظت کرتی ہے اور رزائل مباحہ سے بھی انسان کو بچاتی ہو۔ 
قَالَ بَعْضُهُمْ أَيْضًا: وَالْعَدَالَةُ هَيْئَةٌ رَاسِخَةٌ فِي النَّفْسِ تَحُثُّ عَلَى مُلَازَمَةِ التَّقْوَى بِاجْتِنَابِ الْكَبَائِرِ وَتَوَقِّي الصَّغَائِرِ وَالتَّحَاشِي عَنْ الرَّذَائِلِ الْمُبَاحَةِ.
بعض حضرات نے فرمایا کہ عدالۃ سے مراد دینی احوال میں اعتدال ہے، بایں طور کہ امانت کو ظاہر کرنے والا، محارم سے بچنے والا، گناہوں سے پرہیز کرنے والا، شکوک سے دور اور رضا اور غضب سے مامون ہو ایسا نہ ہو کہ کسی نے تعریف کی تو حق کو پسِ پشت ڈال کر اسی کے ہو کے رہ گئے، یا کسی نے کچھ کہا تو آپے سے باہر آگۓ اور برا بھلا کہنا شروع کر دیا، عدالت کی صفت یہ ہے کہ عیش ہو یا طیش انسان سنجیدگی و طمانینت کا مظاہرہ کرے۔ 
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا
وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا 
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی
جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا 

وَقَالَ بَعْضُهُمْ: الْمُرَادُ بِهَا الِاعْتِدَالُ فِي الْأَحْوَالِ الدِّينِيَّةِ، وَذَلِكَ بِأَنْ يَكُونَ ظَاهِرُ الْأَمَانَةِ عَفِيفًا عَنْ الْمَحَارِمِ مُتَوَقِّيًا عَنْ الْمَآثِمِ بَعِيدًا مِنْ الرَّيْبِ مَأْمُونًا فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ.

جودہ 2

جودۃ 1

Monday, August 26, 2024

d 35

تیسری فصل شہادت کی تعریف اس کے حکم اس کی حکمت اور جن معاملات میں شہادت واجب ہوتی ہے ان کے بیان میں۔ 
[الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي حَدِّ الشَّهَادَةِ وَحُكْمِهَا وَحِكْمَتِهَا وَمَا تَجِبُ فِيهِ]
بہر حال شہادت کی تعریف وہ خبر دینا ہے ایسی چیز کی جو کسی شخص معین کے ساتھ تعلق رکھتی ہو تعیین کی قید سے روایت کو نکالنا مطلوب ہے یعنی تعیین کی قید سے شہادت روایت سے الگ ہوتی ہے، اس لیے کہ روایت میں بھی اگرچہ خبر دی جاتی ہے لیکن وہ کسی شخصِ معین کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی وہ عام ہوتی ہے وہ راوی کو بھی شامل ہوتی ہے اور راوی کے علاوہ کو بھی شامل ہوتی ہے لیکن شہادت میں جو خبر دی جاتی ہے یہ صرف شخص معین مدعا علیہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے دوسروں کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی حتی کہ خود شاہد کے ساتھ بھی تعلق نہیں رکھتی۔ 
أَمَّا حَدُّ الشَّهَادَةِ فَهُوَ إخْبَارٌ يَتَعَلَّقُ بِمُعَيَّنٍ، وَبِقَيْدِ التَّعْيِينِ يُفَارِقُ الرِّوَايَةَ.
”مجمل اللغۃ“ میں بیان کیا گیا ہے کہ شہادت وہ خبر دینا ہے اس چیز کی جس کا معائنہ کیا گیا ہو یعنی آنکھوں دیکھے واقعہ کی خبر دینا اور اس کا نام اس لیے شہادت رکھتے ہیں کہ اس سے بیان و اظہار واقع ہوتا ہے، کسی چیز کا ظاہر ہونا واقع ہو جاتا ہے اس لیے کہ شئ مدعیٰ وہ قاضی کے یہاں شہادت سے ہی واضح ہو جاتی ہے، ہاں شہادت سے شئ مدعیٰ ثابت نہیں ہوتی ہے، اس سے پتہ چلا کہ شہادت وہ مظہرِ مدعیٰ ہے نہ کہ مثبت مدعی، اس لیے کہ ثبوت وہ ایسے سبب سے ہو چکا ہے جو شہادت سے پہلے تھا لیکن شہادت سے وہ چیز جو سابق سبب سے ثابت شدہ ہے ظاہر ہوتی ہے۔ 
وَفِي مُجْمَلِ اللُّغَةِ: الشَّهَادَةُ: الْخَبَرُ بِمَا شَهِدَ سُمِّيَ شَهَادَةً؛ لِأَنَّ بِهِ يَقَعُ الْبَيَانُ وَالْإِظْهَارُ؛ لِأَنَّ الْمُدَّعَى يَظْهَرُ عِنْدَ الْقَاضِي بِالشَّهَادَةِ أَنَّهُ لَا يَثْبُتُ بِهَا؛ لِأَنَّ الثُّبُوتَ كَانَ بِسَبَبٍ سَابِقٍ عَلَى الشَّهَادَةِ لَكِنْ يَظْهَرُ.
شہادت کا حکم کیا ہے؟ شہادت کی دو قسمیں ہیں: ایک ہے تحمل شہادت دوسری ہے اداء شہادت یعنی ایک ہے شہادت لینا دوسری ہےشہادت کا دینا، پھر شرائط کی بھی دو قسمیں ہیں کچھ شرائط اصلیہ ہیں، کچھ شرائط زائدہ ہیں، شرائط اصلیہ وہ شرائط ہیں جن کا تعلق عام ہے تمام قسم کی شہادات کے ساتھ ہیں، اور شرائط زائدہ بعض خاص شہادات سے تعلق رکھتی ہیں اس یہ شرائط خاص ہیں، خاص شرائط کو مصنف یہاں بیان نہیں کریں گے بلکہ آگے بیان کریں گے، چنانچہ مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بہرحال شہادت کا حکم تو اس کی دو حالتیں ہیں(١) حالت تحمل (٢) حالت ادا جیسا کہ ہم عنقریب بیان کریں گے انشاءاللہ، اور ضروری ہے کہ آپ جان لیں کہ شہادت کی شرائط وہ شرط اصلی اور شرط زائد دو قسم کی ہوتی ہیں، اور ہماری مراد اصلی سے وہ وجود کی شرط ہے، وہ یہ کہ رکن شہادت صادر ہو اہل سے دراں حالیکہ اپنے محل کی طرف منصوب ہو یعنی جو گواہی دے رہا ہے وہ شہادت کا اہل ہونا چاہیے اور جس کی گواہی دے رہا ہے وہ شہادت کا محل بھی ہونا چاہیے اس پر شہادت دینے کی صلاحیت ہو، اس لیے کہ تصرف کے ذات کا قیام اصل کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کے حکم کا قیام محل کے ساتھ ہوتا ہے یعنی تصرف کسی ذات سے ہی ممکن ہے اور اس تصرف پر جو حکم لگے گا وہ اس محل کے ساتھ لگے گا۔ 
وَأَمَّا حُكْمُهَا فَلَهُ حَالَتَانِ: حَالَةُ تَحَمُّلٍ، وَحَالَةُ أَدَاءً كَمَا سَنُبَيِّنُ وَيَجِبُ أَنْ تَعْلَمَ أَنَّ شَرْطَهَا يَتَنَوَّعُ إلَى شَرْطٍ أَصْلِيٍّ وَشَرْطٍ زَائِدٍ، وَنَعْنِي بِالْأَصْلِيِّ شَرْطَ الْوُجُودِ وَهُوَ صُدُورُ الرُّكْنِ مِنْ الْأَهْلِ مُضَافًا إلَى الْمَحِلِّ لِأَنَّ قِيَامَ ذَاتِ التَّصَرُّفِ بِالْأَصْلِ وَقِيَامَ حُكْمِهِ بِالْمَحِلِّ.
بس جب تصرف پایا گیا ایسی چیز کا جو کسی ذات کے ساتھ متعلق ہو تو حکم بھی اس ذات کے ساتھ پایا جائے گا، چاہے حکم شرعی ہو یا حسی لیکن حسی میں حقیقی اہلیت اور محلیت کا اعتبار کیا جاتا ہے اور شرعی حکم میں شرعی اہلیت اور محلیت کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ فَإِذَا وُجِدَ مِنْ التَّصَرُّفِ مَا يَقُومُ بِذَاتِهِ، وَحُكْمُهُ يُوجَدُ بِذَاتِهِ، وَحُكْمُهُ حِسِّيًّا كَانَ أَوْ شَرْعِيًّا، لَكِنَّ فِي الْحِسِّيِّ تُعْتَبَرُ الْأَهْلِيَّةُ الْحَقِيقِيَّةُ وَالْمَحَلِّيَّةُ، وَفِي الشَّرْعِيِّ تُعْتَبَرُ الْأَهْلِيَّةُ شَرْعًا، وَكَذَا الْمَحَلِّيَّةُ.
پھر شہادت کی اہلیت وہ تحمل کی اہلیت اور ادا کی اہلیت ہر دو قسم کی ہوتی ہے، اب یہاں سے تحمل شہادت کی شرائط کو بیان کر رہے ہیں، تحمل کے اہلیت عقل اور حواس خمسہ سے ثابت ہوگی یعنی تحمل شہادت کے لیے عقل اور حواس خمسہ م ہونا چاہئے، اور یہ اس لیے ہے کہ کسی چیز کا اہل وہ ہوگا جو اس پر قادر ہو، اور تحمل پر قدرت اس چیز کے علم کے ساتھ ثابت ہوگی جس کا تحمل کیا جا رہا ہے اور جس کے خلاف تحمل کیا جا رہا ہے اور جس کے لیے تحمل کیا جا رہا ہے یعنی جس کے لیے گواہی دے رہا ہے، جس کے خلاف گواہی دے رہا ہے اور جس چیز کی گواہی دے رہا ہے ان تمام چیزوں کا علم ہونا چاہیے تب تحمل شہادت ممکن ہے اور علم اپنے سبب پر مرتب ہوتا ہے اور وہ سبب عقل اور حواس ہیں، جیسا کہ بیان کیا گیا جبکہ خزانۃ الفقہ میں تحمل شہادت کی جواز کے لیے آٹھ چیزوں کے جاننے کی شرط لگائی گئی ہے، مقر کی ذات کی معرفت یعنی جو اقرار کر رہا ہے اس مقر کی ذات کو بعینہ جاننا اس کے نام اس کے نسب کو جاننا مثلا کوئی اقرار کر رہا ہے اور دوسرا شخص اس مقر کے خلاف گواہی دے رہا ہے تو جو گواہی دے رہا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقر کی بذات کو جانتا ہو اس کے نام سے واقف ہو اس کے نسب سے بھی واقف ہو اس لیے کہ اسی سے یعنی ذات کی معرفت، نام کی معرفت، نسب کی معرفت سے ہی اس شخص کی معرفت مکمل و تام ہوگی جس کے خلاف گواہی دے رہا ہے۔ 
 وَأَهْلِيَّةُ الشَّهَادَةِ تَتَنَوَّعُ إلَى أَهْلِيَّةِ تَحَمُّلِهَا وَأَهْلِيَّةِ أَدَائِهَا، فَأَهْلِيَّةُ التَّحَمُّلِ تَثْبُتُ بِالْعَقْلِ وَالْحَوَاسِّ الْخَمْسِ، فَإِنَّ أَهْلَ الشَّيْءِ مَنْ يَكُونُ قَادِرًا عَلَيْهِ، وَالْقُدْرَةُ عَلَى التَّحَمُّلِ تَثْبُتُ بِالْعِلْمِ مَا يَتَحَمَّلُهُ عَلَى مَنْ يَتَحَمَّلُهُ وَلِمَنْ يَتَحَمَّلُهُ، وَالْعِلْمُ يَتَرَتَّبُ عَلَى سَبَبِهِ وَهُوَ الْعَقْلُ وَالْحَوَاسُّ كَمَا بَيَّنَّا، وَقَدْ شَرَطَ فِي خِزَانَةِ الْفِقْهِ فِي جَوَازِ تَحَمُّلِهَا مَعْرِفَةَ ثَمَانِيَةٍ: مَعْرِفَةُ الْمُقِرِّ بِعَيْنِهِ وَاسْمِهِ وَنَسَبِهِ؛ لِأَنَّ بِهِ يَحْصُلُ مَعْرِفَةُ مَنْ يَتَحَمَّلُ عَلَيْهِ الشَّهَادَةَ.
 مشہود علیہ کے عقل و رشد کا جاننا اور اس کا اپنے اقرار میں خوش حال ہونے کا جاننا ( یعنی مقر کا بغیر کسی دباؤ اپنی رضا و رغبت سے اقرار کرنا ) اس لیے کہ اسی کے ذریعے سے یعنی جب وہ عاقل ہوگا اور اپنے اقرار میں راضی ہوگا بخوشی قرار کر رہا ہوگا، اقرار کی صحت کی شرائط کا علم حاصل ہوگا، اسی طرح اس چیز کی مقدار کا جاننا جس پر گواہی دے رہا ہے تاکہ مشہود بہ کی مقدار معلوم ہو جائے، مثلا گواہی دے رہا ہے کہ فلاں نے اقرار کیا ہے کہ فلاں کا اس پر قرض ہے، کتنا قرض ہے وہ نہیں بتا رہا ہے تو مجمل مجمل اقرار ہے اس لیے مشہود بہ جس کی گواہی دے رہا ہے اس کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے اس کی مقدار کی معرفت ضروری ہے، اور اس شخص کی معرفت ضرورت ہے جس کے لیے اقرار کر رہا ہے جس کے لیے حق واجب ہو رہا ہے تاکہ مشہود لہ بھی معلوم ہو، خلاصہ یہ ہے کہ مشہود بہ بھی معلوم ہونا چاہیے اور مشہود لہ بھی معلوم ہونا چاہیے۔ 
وَمَعْرِفَةُ عَقْلِهِ وَرُشْدِهِ وَكَوْنِهِ طَائِعًا فِي إقْرَارِهِ؛ لِأَنَّ بِهِ تَحْصُلُ مَعْرِفَةُ شُرُوطِ صِحَّةِ الْإِقْرَارِ.وَمَعْرِفَةُ قَدْرِ مَا يَجِبُ لِيَصِيرَ الْمَشْهُودُ بِهِ مَعْلُومًا وَمَنْ يَجِبُ لَهُ لِيَصِيرَ الْمَشْهُودُ لَهُ مَعْلُومًا.
آگے فرما رہے ہیں کہ اگر اقرار سر ورق لکھا گیا ہو تو پھر اس مکتوب کے مضمون کو از اول تا آخر گواہ کو پڑھ کر سنانا بھی شرط ہے تاکہ اس کو اپنے اقرار کا علم حاصل ہو جائے کہ کیا چیز لکھی ہوئی ہے اور وہ کس چیز کا اقرار کر رہا ہے اور اگر گواہی دینے والا عجمی ہو تو عجمی گواہ کو عجمی زبان میں وہ مضمون پڑھ کر سنانا ہوگا جو ورق پر لکھا گیا ہے وہ سارا مضمون اس کو عجمی کو اس کی زبان میں سنانا شرط ہے اور انہیں شرائط پر اقرار کے علاوہ دوسرے تصرفات کا قیاس ہوگا، چاہے اقرار کی گواہی دے رہا ہو یا کسی اور چیز کی وہان بھی ان شرائط کا لحاظ ہوگا۔ 
وَإِنْ كَانَ إقْرَارُهُ بِالْكِتَابِ يَشْتَرِطُ قِرَاءَةَ الْمَكْتُوبِ عَلَيْهِ مِنْ أَوَّلِهِ إلَى آخِرِهِ حَتَّى يَحْصُلَ لَهُ الْعِلْمُ بِإِقْرَارِهِ، وَإِنْ كَانَ الشَّاهِدُ أَعْجَمِيًّا يُقْرَأُ لَهُ بِالْعَجَمِيَّةِ مَا تَضَمَّنَهُ الْكِتَابُ، وَعَلَى هَذَا غَيْرُ الْإِقْرَارِ مِنْ التَّصَرُّفَاتِ،
اب یہاں سے فرما رہے ہیں کہ اگر گواہ عاقل بچہ، غلام یا کافر ہو تو وہ بھی تحمل شہادت کر سکتے ہیں ایسا نہیں کہ نابالغ تحمل شہادت نہیں کر سکتا، کر سکتا ہے کافر بھی کر سکتا ہے، غلام بھی کر سکتا ہے، باپ اپنے بیٹے کے لیے بیٹا اپنے باپ کے لیے تحمل شہادت کر سکتا ہے، ہاں البتہ ادائے شہادت ان سے درست نہیں ہے چنانچہ فرمایا کہ عاقل بچہ، غلام یا کافر جب تحمل شہادت کریں پھر اس کو ادا کرنے کی نوبت بلوغت کے بعد یا یا آزادی کے بعد یا اسلام لانے کے بعد ہو تو ان کی گواہی قبول کی جائے گی اس لیے کہ حریت، بلوغت اور اسلام وہ ادا کی شرط ہے نہ کہ تحمل کی شرط اگرچہ تحمل کے وقت یہ چیزیں اس میں نہیں تھی لیکن جو تحمل کے لیے شرائط ہیں وہ اس وقت پائی جا رہی تھیں، اب اس وقت گواہی دے رہا ہے تو وہ شرطیں بھی پائی جا رہی ہیں جوادائے شہادت کے لیے شرط ہے چنانچہ ان شرائط کا ادا کے وقت پایا جانا ضروری ہے اور ادا کی اہلیت وہ ثابت ہوگی ان چیزوں کے ذریعے سے بھی جن کے ذریعے ثابت ہوتی ہے تحمل کی اہلیت اور دوسرے امور کے ذریعے سے بھی یعنی جو چیزیں تحمل کی اہلیت کے شرط ہے وہ ادا کے لیے بھی شرط ہیں لیکن ادا کے لیے کچھ اور ضروری شرائط بھی ہیں وہ کیا ہے وہ ہے گویائی اس لیے کہ اگر گویائی نہ ہو تو پھر کس چیز کی گواہی دے گا، اسی طرح یادداشت کا ہونا ضروری ہے اس لیے کہ اگر یادداشت نہیں تو جس شہادت کا تحمل کیا ہے اس کو یاد کیسے رکھے گا، اسی طرح بیدار مغزی بھی ضروری ہے ادا کے لیے اس لیے کہ اگر بیداری نہ ہوگی تو غفلت صحیح بھی غلط کہے گا اس لیے کی حفظ سے وہ مضمون باقی رہے گا جس کا اس نے تحمل کیا ہے شہادت سے لے کر ادائیگی کے وقت تک اور نطق کے ذریعے وہ ادا کرنے پر قادر ہوگا اور بیدار مغزی سے وہ اس چیز سے غافل نہیں ہوگا جس کو وہ ادا کر رہا ہے
 وَالصَّبِيُّ الْعَاقِلُ أَوْ الْعَبْدُ أَوْ الْكَافِرُ إذَا تَحَمَّلَ الشَّهَادَةَ ثُمَّ أَدَّاهَا بَعْدَ الْبُلُوغِ وَالْعِتْقِ وَالْإِسْلَامِ تُقْبَلُ؛ لِأَنَّ الْحُرِّيَّةَ وَالْبُلُوغَ وَالْإِسْلَامَ شَرْطُ الْأَدَاءِ لَا شَرْطُ التَّحَمُّلِ فَيُشْتَرَطُ وُجُودُهَا عِنْدَ الْأَدَاءِ، وَأَهْلِيَّةُ الْأَدَاءِ تَثْبُتُ بِمَا تَثْبُتُ بِهِ أَهْلِيَّةُ التَّحَمُّلِ وَبِأُمُورٍ أُخَرَ، وَهُوَ النُّطْقُ وَالْحِفْظُ وَالْيَقَظَةُ؛ لِأَنَّ بِالْحِفْظِ يَبْقَى عِنْدَهُ مَا تَحَمَّلَهُ مِنْ الشَّهَادَةِ إلَى حِينِ أَدَائِهَا، وَبِالنُّطْقِ يَقْدِرُ عَلَى الْأَدَاءِ وَبِالْيَقَظَةِ لَا يَغْفُلُ عَنْ أَدَاءِ مَا يَجِبُ أَدَاؤُهُ.
شرط زائد تو انشاءاللہ اس کا ذکر عنقریب آئے گا اپنے محل میں اور وہ محل شرائط زائدہ کے ذکر کرنے کے لیے یہاں کے مقابلے میں زیادہ مناسب ہے۔ 
وَأَمَّا شَرْطُ الزَّائِدِ فَسَيَأْتِي إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى فِي مَحَلٍّ هُوَ أَلْيَقُ بِهِ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ.
بہرحال شہادت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کسی آدمی کو بلائے تاکہ وہ اس چیز کا معائنہ کرے جس کی وہ آگے گواہی دے گا اور اس گواہی کو ذہن نشین کرے گا چناں چہ ایسی شہادت کا تحمل فرض کفایہ ہے جیسا کہ بعض لوگ بعض کے گواہ بنتے ہیں اور گواہی کا تحمل کرتے ہیں جہاں تحملِ شہادت کا محتاج ہوا جائے اور عدم شہادت سے حق کے تلف کا اندیشہ ہو وہاں تحمل شہادت فرض کفایہ ہے کہ انسان گواہی دینے کے لیے تیار ہو جائے اور تحمل شہادت کرے جب اس کو بلایا جائے ورنہ اگر آدمی ایسے مقام پر ہو کہ وہاں کوئی دوسرا نہ ہو جو تحمل شہادت کا اہل ہو تو پھر یہ شخص ادائے شہادت کے لیے متعین ہو جائے گا اور پھر تحمل شہادت ضروری ہوگا پس اگر وہ منع کرے گواہی دینے سے حاکم کے پاس تو وہ گنہگار ہوگا اس لیے کہ حق مسلم میں تحمل شہادت عبادت کی طرح ہے اور جہاں یہ متعین نہ ہو بلکہ دوسرے لوگ بھی ہوں جو شہادت کا تحمل کر سکتے ہیں تو چوں کہ یہ شخص متعین نہیں ہوا اس لیے یہ گنہگار نہ ہوگا۔ 
وَطَرِيقُ التَّحَمُّلِ هُوَ أَنْ يُدْعَى لِيَشْهَدَ وَيُسْتَحْفَظَ الشَّهَادَةَ، فَإِنَّ ذَلِكَ فَرْضُ كِفَايَةٍ تَحَمَّلَهُ بَعْضُ النَّاسِ عَنْ بَعْضٍ حَيْثُ يُفْتَقَرُ إلَى ذَلِكَ وَيُخْشَى تَلَفُ الْحَقِّ بِعَدَمِ الشَّهَادَةِ، فَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ فِي مَوْضِعٍ لَيْسَ فِيهِ مَنْ يَحْمِلُ ذَلِكَ عَنْهُ تَعَيَّنَ عَلَيْهِ أَدَاءُ الشَّهَادَةِ، فَبِالِامْتِنَاعِ عَنْهَا عِنْدَ الْحَاكِمِ يَلْحَقُهُ الْمَأْثَمُ؛ لِأَنَّهُ قَدْ صَارَ ذَلِكَ فِي حَقِّ الْمُسْلِمِ كَالْعِبَادَةِ، وَمَتَى لَمْ يَتَعَيَّنْ ذَلِكَ فِي حَقِّهِ لَا يَلْحَقُهُ الْمَأْثَمُ.