Wednesday, August 28, 2024

d 36

(مَسْأَلَةٌ) :
”منتقیٰ“ نامی کتاب میں امام محمد سے ھشام کی نوادر سے نقل کیا گیا ہے کہ ایک آدمی کے پاس بہت سارے گواہ ہوں پھر وہ ان میں سے کسی کو بلائے تاکہ وہ اس کے لیے گواہی دے، اگر یہ شخص جس کو بلایا جا رہا ہے اپنے علاوہ اس کے لیے دوسرے ایسے گواہوں کو پاتا ہو جن کی گواہی اس کے حق میں قبول کی جائے گی تو پھر بلائے جانے والے شخص کے لیے گنجائش ہے کہ وہ اسے خود آنے سے منع کرے اور اگر اس کے علاوہ کوئی ایسا دوسرا شخص نہ ہو جس کی گواہی قبول کی جائے گی یا ایسا شخص تو ہو اس کے علاوہ جس کی گواہی قبول کی جائے گی لیکن یہ گواہ ان لوگوں میں سے ہو جن کی گواہی بلا کسی تأمل کے جلدی قبول کی جائے گی تو پھر اس کے لیے گواہی دینے سے منع کرنے کی گنجائش نہیں ہے اسی وجہ سے جو ہم نے بیان کیا کہ ایسے میں یہ شخص گواہی کے لیے متعین ہو جاتا ہے۔ 
ذَكَرَ فِي الْمُنْتَقَى عَنْ نَوَادِرِ هِشَامٍ عَنْ مُحَمَّدٍ: رَجُلٌ لَهُ شُهُودٌ كَثِيرَةٌ، فَدَعَا بَعْضَهُمْ؛ لِيُقِيمَ الشَّهَادَةَ وَهُوَ يَجِدُ غَيْرَهُ مِمَّنْ تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ يَسَعُهُ أَنْ يَمْتَنِعَ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ غَيْرَهُ مِمَّنْ تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ أَوْ كَانَ مِمَّنْ تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ، وَلَكِنَّ هَذَا الشَّاهِدَ مِمَّنْ تَكُونُ شَهَادَتُهُ أَسْرَعَ قَبُولًا لَا يَسَعُهُ الِامْتِنَاعُ عَنْ الْأَدَاءِ لِمَا قُلْنَا.

(مَسْأَلَةٌ) :
امام خصافؒ نے ادب القاضی میں ذکر کیا ہے کہ اگر دو آدمی آپس میں بات کر رہے ہو اس طور پر کہ ایک دوسرے کے لیے اقرار کر رہا تھا وہاں کوئی تیسرا شخص ان کا اقرار سن رہا تھا جبکہ ان دونوں آدمیوں نے اس تیسرے شخص کو بات سن رہا تھا، منع کیا گواہی سننے سے پھر کئی سالوں بعد دونوں میں جھگڑا ہوا تو اب ان میں سے مقر لہ اس شخص کو بلا رہا ہے جس کو پہلے دونوں نے گواہی سننے سے منع کیا تھا کہ آپ میرے حق میں گواہی دو تو کیا اس کی گواہی اس کے حق میں قبول کی جائے گی یا نہیں؟ اس میں دو قول ہیں، (١) یہ گواہی نہیں دے سکتا اس لیے کہ گواہی دینا امانت ہے اور ان دونوں نے اسے امانت لینے سے منع کیا تھا جب اس کے پاس امانت نہیں رکھج تو وہ امانت کیا ادا کرے گا (٢) جبکہ دوسرے حضرات فرماتے ہیں وہ گواہی دے گا اور اس کی گواہی دینا درست ہوگا اور اگر وہ گواہی نہ دے تو کتمانِ شہادت کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوگا، چناں چہ فرمایا دو آدمیوں کے درمیان تیسرے شخص کی مداخلت کو ناپسند کیا گیا یہ کہتے ہوۓ کہ آپ ہم پر گواہ نہ بنیے جو آپ ہم سے سن رہے ہیں اور نہ ہم دونوں فریق میں سے کسی کے لیے آپ گواہی دیجئے جو معاملہ ہمارے درمیان ہو رہا ہے باوجود اس کے اگر اس نے دخل اندازی کی اور ان میں سے کسی ایک کا اقرار دوسرے کے لیے سن لیا، اس کے بعد مقر لہ نے اسے شہادت کے لیے طلب کیا ، تو فرماتے ہیں بعض علماء وہ ہہیں جو فرماتے ہیں اس کے لیے گواہی دینا درست نہیں اس لیے کہ شہادت امانت ہے جبکہ ان دونوں نے اسے تحمل امانت سے منع کیا ہے اور بعض ہمارے علماء فرماتے ہیں کہ اس کے لیے گواہی دینا جائز ہے اس لیے کہ اسے گواہی کا علم ہو چکا ہے پس اگر وہ گواہی سے رکے گا اور منع کرے گا تو وہ شہادت کو چھپانے والا ہوگا اور شہادت کو چھپا ناجائز نہیں ہے۔ 
ذَكَرَ الْخَصَّافُ فِي أَدَبِ الْقَضَاءِ: وَيُكْرَهُ أَنْ يَدْخُلَ الرَّجُلُ بَيْنَ اثْنَيْنِ يَقُولَانِ: لَا تَشْهَدْ عَلَيْنَا بِمَا تَسْمَعُ مِنَّا، وَلَا تَشْهَدْ لِأَحَدِ الْفَرِيقَيْنِ بِشَيْءٍ يَدُورُ بَيْنَنَا. مَعَ هَذَا لَوْ دَخَلَ وَسَمِعَ مِنْ أَحَدِهِمَا إقْرَارَ الْآخَرِ وَطَلَبَ الْمُقَرُّ لَهُ مِنْهُ الشَّهَادَةَ.
مِنْ الْعُلَمَاءِ مَنْ قَالَ: لَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَشْهَدَ؛ لِأَنَّ الشَّهَادَةَ أَمَانَةٌ وَقَدْ مَنَعْنَاهُ عَنْ تَحَمُّلِ الْأَمَانَةِ وَعِنْدَ عُلَمَائِنَا يَحِلُّ لَهُ؛ لِأَنَّهُ حَصَلَ لَهُ الْعِلْمُ، فَلَوْ امْتَنَعَ عَنْ الشَّهَادَةِ صَارَ كَاتِمًا لِلشَّهَادَةِ، وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَكْتُمَ لِلشَّهَادَةِ.
بہرحال گواہی دینے کا طریقہ: وہ یہ ہے کہ شاہد کو بلایا جائے گا تاکہ وہ اس چیز کی گواہی دے جسے وہ جانتا ہے اور جس گواہی کو اس نے یاد کیا ہے اور اس پر یہ گواہی دینا واجب ہے اللہ تبارک و تعالی کے فرمان کی وجہ سے کہ ”تم گواہی کو مت چھپاؤ!“ اسی طرح اللہ تبارک و تعالی کے فرمان کہ ”اللہ کے لیے گواہی قائم کرو“ کی وجہ سے۔ 
وَأَمَّا الْأَدَاءُ وَهُوَ أَنْ يُدْعَى لِيَشْهَدَ بِمَا عَلِمَهُ وَاسْتَحْفَظَ إيَّاهُ فَإِنَّ ذَلِكَ وَاجِبٌ عَلَيْهِ؛ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَلا تَكْتُمُوا الشَّهَادَةَ} [البقرة: ٢٨٣] ؛ وقَوْله تَعَالَى {وَأَقِيمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ} [الطلاق: ٢]
گواہی دینے کی حکمت کیا ہے؟ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ گواہی دینے کی مشروعیت کی حکمت وہ حقوق کی حفاظت ہے تاکہ لوگوں کے حقوق کی حفاظت ہو۔ 
وَأَمَّا حِكْمَتُهَا، قَالَ بَعْضُهُمْ: حِكْمَةُ مَشْرُوعِيَّتِهَا صِيَانَةُ الْحُقُوقِ.
بہرحال وہ معاملات جن میں گواہ بنانا واجب ہوتا ہے اور جن میں گواہ بنانا واجب نہیں ہوتا ہے، چنانچہ اس سلسلے میں دو فصلوں میں کلام کیا گیا ہے نمبر ایک حقوق کے معاملات میں گواہ بنانے کا حکم جیسے بیع، اجارہ، قرض اور وہ تمام حقوق جو اس معنی میں آتے ہیں جیسا کہ اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے کہ ” تم گواہ بناؤ جب تم لین دین کرو“ اور وہ معاملات جو مختلف قسم پر حقوق کی خرید و فروخت کے قائم مقام ہے ان تمام معاملات میں اختلاف ہے بعض علماء کے نزدیک ان معاملات میں گواہ بنانا واجب ہے اسی پر اکثر فقہاء ہے جبکہ احناف و مالکیہ کی رائے یہ ہے کہ ان میں گواہ بنانا مستحب ہے، دوسری فصل وہ ہے نکاح، طلاق اور رجعت کے سلسلے میں گواہ بنانا تو یہاں بھی بعض حضرات نے گواہ بنانے کو واجب کہا ہے جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ نکاح میں گواہ بنانا شرط ہے اور بقیہ طلاق اور رجعت میں گواہ بنانا مستحب ہے۔ 
وَأَمَّا مَا تَجِبُ فِيهِ فَالْكَلَامُ فِيهِ فِي فَصْلَيْنِ.الْأَوَّلُ: فِي حُكْمِ اشْهَادِ فِي الْحُقُوقِ كَالْبَيْعِ وَالْإِجَارَةِ وَالسَّلَمِ وَالْقَرْضِ وَمَا فِي مَعْنَى ذَلِكَ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {وَأَشْهِدُوا إِذَا تَبَايَعْتُمْ} [البقرة: ٢٨٢] وَيَجْرِي مَجْرَى الْمُبَايَعَةِ الْحُقُوقُ عَلَى اخْتِلَافِ أَنْوالنَّدْب، وَقَدْ اُخْتُلِفَ فِي هَذَا الْأَمْرِ فَقَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ: هُوَ عَلَى الْوُجُوبِ، وَعَلَيْهِ الْأَكْثَرُ وَقَالَ مَالِكٌ: هُوَ عَلَى النَّدْبِ. الثَّانیْ فِي حُكْمِ اشْهَادِ فِي الْحُقُوقِ کَالنِّکَاحِ و الطَّلاقِ و الرَّجْعَۃِ الاَصَحُّ الشَّرطُ فی النِّکاحِ و فِي غَيْرِھِمَا النُّدُبُ.

[الْفَصْلُ الرَّابِعُ فِي صِفَاتِ الشَّاهِدِ وَذِكْرِ مَوَانِعِ الْقَبُولِ]
چوتھی فصل: گواہ کے فضیلت و صفات کے بیان میں اور جن مواقع میں گواہی دینا منع کیا گیا ہے، اس میں دو فصلیں آئیں گی پہلی فصل گواہ کی فضیلت اور اس کی صفات کے بیان میں چنانچہ گواہ کا مقام بہت بڑا ہے ان کی گواہ کے نام کو اللہ پاک نے اپنے صفات نام کے ساتھ منسوب کیا ہے، چنانچہ جہاں بھی اللہ تبارک و تعالی نے اپنے لیے گواہی کا لفظ استعمال کیا ہے ساتھ میں انسانوں کی گواہی کا بھی وہاں ذکر کیا ہے فرشتوں کی گواہی کا بھی ذکر کیا تو گواہی بہت بڑا مقام رکھتی ہے اسے معمولی نے سمجھا جائے کیونکہ اس سے رفع ظلم ہوتا ہے اور اس سے انصاف قائم ہوتا ہے اور اسی انصاف کی وجہ سے یہ دنیا چل رہی ہے چنانچہ جگہ جگہ قران پاک میں اللہ تبارک و تعالی نے گواہی کی فضیلت بیان فرمائی ہے بایں طور کہ قران عظیم گویا ہے شہادت کی فضیلت اور اس کی بلندی کے بارے میں اور گواہی کو اللہ تبارک و تعالی نے اپنی طرف منسوب کیا ہے اور شہادت کی وجہ سے ملائکہ اور اپنے رسول اور اپنے برگزیدہ بندوں کو شرف بخشا ہے چنانچہ فرمان خداوندی ہے ”لیکن اللہ تبارک و تعالی گواہی دیتا ہے جو اس نے آپ کی طرف نازل کیا اور جو اپنے علم سے نازل کیا ہے اور ملائکہ بھی گواہی دیتے ہیں“ اس طرح اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے کہ ”پس کیسا ہوگا وہ دن جب ہم لے کر آئیں گے ہر امت میں سے گواہ یعنی ان کے نبی کو اور ہم لے کر ائیں گے آپ کو ان لوگوں پر گواہ“ یعنی پہلی امتوں پر آپ علیہ الصلوۃ والسلام بھی گواہ ہون گے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالی نے ہر نبی کو اپنی امت پر گواہ بنایا ہے اس لیے کہ ہر نبی اپنے زمانے میں اپنی قوم میں افضل ہوتا ہے اسی طرح فرمان خداوندی ہے کہ ” اللہ گواہی دیتا ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور ملائکہ گواہی دیتے ہیں، اہل علم گواہی دیتے ہیں، انصاف کو قائم کرتے ہوئے کہ نہیں ہے کوئی معبود مگر اللہ پاک جو غالب اور زبردست حکمت والا ہے“ اور شہادت کے شرف کے لیے اتنا کافی ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے فاسق کو اس کی شہادت کی قبولیت سے گرا دیا ہے اور عادل شخص کو بلند کیا ہے اس سے گواہی کی قبولیت کی وجہ سے، چنانچہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا کہ ” اگر تمہارے پاس فاسق کوئی خبر لے کر ائے تو اس کی خوب چھان بین کرو“ اسی طرح اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے کہ ” تم میں سے دو عادل شخص گواہی دیں“ اور اللہ سبحانہ و تعالی نے خبر دی ہے کہ انصاف پسند ہی زمرۂ مرضیون میں آتے ہیں کہ جن گواہی سے راضی ہوا جاتا ہے، چنانچہ فرمان باری ہے کہ ”جن کو تم لوگ پسند کرتے ہو گواہوں میں سے“ اور اللہ نے بتلایا کہ یہی گواہ ہے جن سے دنیا میں عالم کا نظام قائم ہے، یہی عالم کے ستون ہیں، کیوں کہ ان سے ظلم رفع دفع ہوتا ہے انصاف قائم ہوتا ہے چنانچہ اللہ تبارک و تعالی نے فرمایا کہ ”اگر اللہ پاک بعض لوگوں سے بعضوں کو دور نہ کرتا تو زمین میں فساد برپا ہو جاتا“ چنانچہ بعض حضرات نے فرمایا کہ یہ اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اللہ تبارک و تعالی لوگوں سے گواہی کے ذریعے دور کرتا وہ چیزیں جن سے ان کے مال کی حفاظت، نفس کی حفاظت، خون کی حفاظت، آبرو کی حفاظت ہوتی ہے بس یہ امام کی حجت ہے اور ان ہی کے قول سے احکام کی تنقید ہوتی ہے۔ 
، [وَفِيهِ فَصْلَانِ] الْأَوَّلُ: فِي فَضْلِ الشَّاهِدِ وَصِفَتِهِ، وَقَدْ نَطَقَ الْقُرْآنُ الْعَظِيمُ بِفَضْلِ الشَّهَادَةِ وَرَفَعَهَا وَنَسَبَهَا إلَى نَفْسِهِ وَشَرَّفَ بِهَا مَلَائِكَتَهُ وَرُسُلَهُ وَأَفَاضِلَ خَلْقِهِ، فَقَالَ تَعَالَى {لَكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ وَالْمَلائِكَةُ يَشْهَدُونَ} [النساء: ١٦٦] وَقَالَ تَعَالَى {فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا} [النساء: ٤١] فَجَعَلَ كُلَّ نَبِيٍّ شَهِيدًا عَلَى أُمَّتِهِ؛ لِكَوْنِهِ أَفْضَلَ خَلْقِهِ فِي عَصْرِهِ، وَقَالَ تَعَالَى {شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لا إِلَهَ إِلا هُوَ وَالْمَلائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ} [آل عمران: ١٨] وَيَكْفِي الشَّهَادَةَ شَرَفًا أَنَّ اللَّهَ تَعَالَى خَفَضَ الْفَاسِقَ عَنْ قَبُولِ شَهَادَتِهِ وَرَفَعَ الْعَدْلَ بِقَبُولِهَا مِنْهُ، فَقَالَ تَعَالَى {إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا} [الحجرات: ٦] وَقَالَ تَعَالَى {وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ} [الطلاق: ٢] وَأَخْبَرَ سُبْحَانَهُ أَنَّ الْعَدْلَ هُوَ الْمَرْضِيُّ بِقَوْلِهِ {مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} [البقرة: ٢٨٢] وَعَرَّفَنَا سُبْحَانَهُ أَنَّهُمْ قَوَامُ الْعَالَمِ فِي الدُّنْيَا فَقَالَ تَعَالَى {وَلَوْلا دَفْعُ اللَّهِ النَّاسَ بَعْضَهُمْ بِبَعْضٍ لَفَسَدَتِ الأَرْضُ} [البقرة: ٢٥١] قَالَ بَعْضُهُمْ: الْإِشَارَةُ إلَى مَا يَدْفَعُ اللَّهُ عَنْ النَّاسِ بِالشُّهُودِ فِي حِفْظِ الْأَمْوَالِ وَالنُّفُوسِ وَالدِّمَاءِ وَالْأَعْرَاضِ فَهُمْ حُجَّةُ الْإِمَامِ وَبِقَوْلِهِمْ تَنْفُذُ الْأَحْكَامُ.
اسی طرح حدیث پاک میں آتا ہے کہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا گواہوں کے مراتب کا اکرام کرو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالی نے ان کے ذریعہ سے لوگوں کے حقوق دلوائے ہیں لوگوں کے حقوق کا استخراج کیا ہے اور ان کے ذریعہ لوگوں سے ظلم کو دور کیا ہے، ظلم کو اٹھایا ہے اور یہ بھی اس کی فضیلت ہے کہ اللہ تبارک و تعالی نے گواہ کے نام کو اپنے اچھے ناموں میں سے ایک نام سے مشتق کر دیا ہے اور وہ نام ہے شہید یہ اس کی فضیلت اور اس کے اکرام کی وجہ سے ہے۔ 
وَفِي الْحَدِيثِ أَنَّهُ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - قَالَ «أَكْرِمُوا مَنَازِلَ الشُّهُودِ، فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَسْتَخْرِجُ بِهِمْ الْحُقُوقَ وَيَرْفَعُ بِهِمْ الظُّلْمَ» وَاشْتَقَّ اللَّهُ تَعَالَى لَهُمْ اسْمًا مِنْ أَسْمَائِهِ الْحُسْنَى وَهُوَ الشَّهِيدُ تَفَضُّلًا وَكَرَمًا.
یہ بات بھی گزر چکی کہ شہادت کی دو حالتیں ہیں ایک ہے تحمل شہادت اور دوسری ہے ادائے شہادت چنانچہ حالت تحمل کے لیے کچھ شرطیں ہیں اور حالت ادا کے لیے بھی کچھ شرطیں ہیں جو شرطیں حالت تحمل کی ہے وہ حالت ادا کی بھی ہیں لیکن حالت ادا میں شرطوں کا مزید اضافہ ہے چنانچہ ادا کی شرائط میں سے حریت، بلوغت، اور اسلام ہے ان کا وجود ادا کے وقت شرط ہے نہ کہ تحمل کے وقت، چناں چہ تحمل کے وقت اگر انسان غلام، نابالغ یا غیر مسلم بھی ہو جب بھی تحمل شہادت کر سکتا ہے، لیکن ادا نہیں کر سکتا کیونکہ ادا کے وقت یہ شرائط ہونی چاہیے۔
تحمل شہادت کی تین شرطیں ہیں، (١) عاقل ہونا (٢) بینا ہونا (٣) معاینہ کرنا۔ 
 ادائیگی شہادت کی عمومی شرطیں دس ہیں جن میں سات شرطیں مثبت ہیں کہ ان میں سے تین یہاں مذکور ہیں، (١) آزاد ہونا (٢) بالغ ہونا (٣) عاقل ہونا (٤) بینا ہونا (٥) عالم بمشہود بہ (٦) عادل ہونا (٧) گویائی ہونا، بقیہ منفی شرطیں ہیں، (٨) غیر محدود فی القذف ہونا (٩) غیر جالب منفعت و غیر دافعِ مضرت ہو (١٠) غیر فریق ہونا۔ 
اور ادائیگی شہادت کی خصوصی شرطیں سات ہیں جو خاص معاملات سے متعلق ہیں، (١) مسمان ہونا، چناں چہ مسلمان کے خلاف گواہی دینے کے لیے مسلمان ہونا شرط ہے وگرنہ نہیں (٢) مذکر ہونا، جیسے حدود و قصاص میں صرف مذکر گواہی دے سکتے ہیں (٣) قیام رائحہ بالشہادت، جیسے شرب خمر کی شہادت میں (٤) تقدم دعویٰ (٥) موافقت فی الشہادۃ، موافقت فی الدعویٰ، یعنی دعویٰ کے بعد شہادت دینا (٦) شہادت علی الشہادۃ وقت تعذر حضور اصل گواہ (٧) اصالہ فی الشہادۃ مثلاً حدود و قصاص میں شہادت علی الشہادۃ نہیں چلے گی، یہ کل بیس شرائط ہوئیں، تین شرطیں تحمل شہادت کی، سترہ شرطیں ادائے شہادت کی، دس عام سات خاص۔ 
وَقَدْ تَقَدَّمَ أَنَّ لِلشَّاهِدِ حَالَتَيْنِ: حَالَةُ التَّحَمُّلِ، وَحَالَةُ الْأَدَاءِ، وَأَنَّ مِنْ شَرْطِ الْأَدَاءِ الْحُرِّيَّةَ وَالْبُلُوغَ وَالْإِسْلَامَ، فَيُشْتَرَطُ وُجُودُ ذَلِكَ عِنْدَ الْأَدَاءِ وَلَا يُشْتَرَطُ ذَلِكَ عِنْدَ التَّحَمُّلِ.
ادا کی اہلیت وہ ثابت ہوگی ان چیزوں کے ذریعے سے بھی جن کے ذریعے ثابت ہوتی ہے تحمل کی اہلیت اور دوسرے امور کے ذریعے سے بھی یعنی جو چیزیں تحمل کی اہلیت کے شرط ہے وہ ادا کے لیے بھی شرط ہیں لیکن ادا کے لیے کچھ اور ضروری شرائط بھی ہیں وہ کیا ہے وہ ہے گویائی اس لیے کہ اگر گویائی نہ ہو تو پھر کس چیز کی گواہی دے گا، اسی طرح یادداشت کا ہونا ضروری ہے اس لیے کہ اگر یادداشت نہیں تو جس شہادت کا تحمل کیا ہے اس کو یاد کیسے رکھے گا، اسی طرح بیدار مغزی بھی ضروری ہے ادا کے لیے اس لیے کہ اگر بیداری نہ ہوگی تو غفلت میں صحیح بھی غلط کہے گا اس لیے کی حفظ سے وہ مضمون باقی رہے گا جس کا اس نے تحمل کیا ہے شہادت سے لے کر ادائیگی کے وقت تک اور نطق کے ذریعے وہ ادا کرنے پر قادر ہوگا اور بیداری کے ذریعے سے وہ اس چیز کے ادا سے غافل نہیں ہوگا جس کا ادا کرنا اس پر واجب ہے یہاں تک کہ نو شخصوں کی گواہی قبول نہیں کی جاتی ہے یعنی جو شرائط ادا اور تحمل کی ہیں ان کے خلاف وہ شرائط جن گواہوں میں نہیں پائی جائیں گی، ان کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ 
وَأَهْلِيَّةُ الْأَدَاءِ تَثْبُتُ بِمَا تَثْبُتُ بِهِ أَهْلِيَّةُ التَّحَمُّلِ وَبِأُمُورٍ أُخَرَ، وَهُوَ النُّطْقُ وَالْحِفْظُ وَالْيَقَظَةُ؛ لِأَنَّ بِالْحِفْظِ يَبْقَى عِنْدَهُ مَا يَتَحَمَّلُهُ مِنْ الشَّهَادَةِ إلَى حِينِ أَدَائِهَا، وَبِالنُّطْقِ يَقْدِرُ عَلَى الْأَدَاءِ؛ وَبِالْيَقَظَةِ لَا يَغْفُلُ عَنْ أَدَاءِ مَا يَجِبُ أَدَاؤُهُ، حَتَّى أَنَّهُ لَا تُقْبَلُ شَهَادَةُ تِسْعَةٍ: 
(١) اس بچے کی گواہی قبول نہیں کی جاتی جو غیر عاقل و غیر ممیز ہو، (٢) اسی طرح مجنون کی گواہی صحیح نہیں ہے اس کے عقل مند نہ ہونے کی وجہ سے، (٣) گونگے کی گواہی قبول نہیں اس میں قوت گویائی کے نہ ہونے کی وجہ سے، (٤) اعمیٰ، نابینا کی گواہی قبول نہیں کی جاتی ہے کہ وہ دیکھ نہیں سکتا اور ادا کے لیے بینا ہونا ضروری ہے اور اگر تحمل شہادت کے وقت تو بینا تھا لیکن ادا کے وقت نابینا ہو جب بھی امام صاحب اور امام محمد کے نزدیک گواہی قبول نہیں کی جائے گی حضرت امام ابو یوسف کے نزدیک گواہی قبول کی جائے گی، طرفین کے نزدیک گواہی اس لیے قبول نہیں کی جائے گی کہ وہ اس شخص کی تمییز اور دیکھنے پر قادر نہیں جس کے خلاف گواہی دے رہا ہے اس لیے نابینا کی گواہی قبول نہیں ہے اسی ( قول طرفین) پر فتوی ہے، (٥) عاقل بچہ جو سدھ بدھ رکھتا ہو اس کی گواہی بھی قبول نہیں یعنی ادائے شہادت، اس لیے کہ شریعت نے اسے غیر عاقل قرار دیا ہے ان تصرفات میں جن میں عموماً نقصان ہوتا ہے اور ان تصرفات میں جو نفع و ضرر کا احتمال رہتا ہے، اور شہادت ان تمام چیزوں میں سے ضروری ہے چنانچہ وہ شرعاً شہادت کا اہل نہیں رہا۔ 
الصَّبِيِّ الَّذِي لَا يَعْقِلُ، وَالْمَجْنُونِ لَا يَصِحُّ لِعَدَمِ عَقْلِهِمَا، وَالْأَخْرَسِ لِعَدَمِ نُطْقِهِ.وَالْأَعْمَى لِعَدَمِ الْبَصَرِ، وَإِنْ كَانَ بَصِيرًا وَقْتَ التَّحَمُّلِ أَعْمَى عِنْدَ الْأَدَاءِ لَا تُقْبَلُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ، خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ؛ لِأَنَّهُ لَا يَقْدِرُ عَلَى تَمْيِيزِ مَنْ شَهِدَ عَلَيْهِ وَبِهِ الْفَتْوَى، وَالصَّبِيِّ الَّذِي يَعْقِلُ؛ لِأَنَّ الشَّرْعَ أَلْحَقَهُ بِعَدِيمِ الْعَقْلِ فِي حَقِّ التَّصَرُّفَاتِ الضَّارَّةِ وَالدَّائِرَةِ بَيْنَ الضَّرَرِ وَالنَّفْعِ، وَالشَّهَادَةُ مِنْ جُمْلَةِ ذَلِكَ فَلَمْ يَبْقَ أَهْلًا شَرْعًا.
(٦) اسی طرح غلام گواہی نہیں دے سکتا تحمل کر سکتا ہے پر گواہی نہیں دے سکتا ہے اس لیے کہ شریعت نے اسے عاجز قرار دیا ہے (٧) اسی طرح کافر کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اس لیے کہ شریعت نے مسلم کے خلاف اس کی شہادت کی اہلیت کو باطل قرار دیا ہے یعنی مسلم کے خلاف وہ گواہی نہیں دے سکتا، (٨) محدود فی القذف گواہی ادا نہیں کر سکتا اس لیے کہ شریعت نے ہمیشہ کے لیے اس کی اہلیت کو باطل قرار دیا ہے اور اسے گونگے کے ساتھ ملا ڈالا ہے اس لیے کہ اس نے زبان سے ایسی جنایت کی ہے کہ اس کی سزا اس کی زبان کا کو کاٹ دینے مانند ہے گویا وہ گونگا ہے، (٩) اسی طرح مغفل یعنی بھولنے والا شخص امام محمد کے نزدیک اس کی گواہی بھی قبول نہیں، امام محمد فرماتے ہیں میں امید کرتا ہوں اس کے دعا کی لیکن اس کی شہادت کو قبول نہیں کرتا،
 
وَالْعَبْدِ؛ لِأَنَّ الشَّرْعَ أَلْحَقَهُ بِالْعَاجِزِ وَالْكَافِرِ؛ لِأَنَّ الشَّرْعَ أَبْطَلَ أَهْلِيَّتَهُ فِي حَقِّ الشَّهَادَةِ عَلَى الْمُسْلِمِ.وَالْمَحْدُودِ فِي الْقَذْفِ؛ لِأَنَّ الشَّرْعَ أَبْطَلَ أَهْلِيَّتَهُ عَلَى التَّأْبِيدِ وَأَلْحَقَهُ بِالْأَخْرَسِ؛ لِأَنَّهُ جَنَى بِلِسَانِهِ فَعَاقَبَهُ بِقَطْعِ لِسَانِهِ مَعْنًى.
وَالْمُغَفَّلِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ فَإِنَّهُ قَالَ: أَرْجُو دُعَاءَهُ وَلَا أَقْبَلُ شَهَادَتَهُ، 
یہاں سے ایک اصول بیان فرما رہے ہیں کہ اگر شہادت کا اہل نہ ہونے کی وجہ سے یعنی شہادت کی صلاحیت اس میں آئی ہی نہیں، ایسے میں کسی کی گواہی رد کر دی گئی پھر اگر عوارض مانعہ ختم ہو کر شہادت کی اہلیت آنے کے بعد دوبارہ وہ گواہی دے تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی، بر اس کے اگر شہادت کی اہلیت ہونے کے باوجود کسی کے گواہی رد کر دی گئ تو پھر اس کی گواہی دوبارہ قبول نہ کی جائے گی، اسی لیے جب بچہ گواہی دے کسی معاملہ میں لیکن بچے ہونے کی وجہ سے اس کی گواہی لوٹا دی جائے پھر وہ دوبارہ گواہی دے بالغ ہونے کے بعد تو تو بلوغت کے بعد اس کی گواہی قبول کی جائے گی، اسی طرح غلام جب کسی معاملے میں گواہی دے لیکن اس کی گواہی غلامیت کی وجہ سے رد کر دی جائے پھر وہ آزاد ہونے کے بعد دوبارہ گواہی دے تو قبول کی جائے گی اسی طرح ذمی جب مسلم کے خلاف گواہی دے اور ذمی ہونے کی وجہ سے مسلم کے خلاف گواہی نہیں دے سکتا اس لیے اس کی گواہی رد کر دینے کے بعد پھر وہ اسلام لانے کے بعد دوبارہ گواہی دے مسلمان کے خلاف تو قبول کی جائے اسی طرح اگر اعمیٰ گواہی دے اور اس کی گواہی کو لوٹا دیا جائے پھر وہ دوبارہ گواہی دیر بعد اس کے کہ وہ بینا ہو جائے تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی اس لیے کہ مردود شہادت نہیں تھی اس لیے وہ عوارض جن کی وجہ سے شہادت رد کر دی گئی جب زائل ہوں تو اس کے لیے شہادت کی اہلیت نئی ہوگی، پس جب وہ دوبارہ شہادت دے گا، تو وہ شہادت قبول کی جائے گی۔ 
وَلِهَذَا إذَا شَهِدَ الصَّبِيُّ فِي حَادِثَةٍ فَرُدَّتْ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ الْبُلُوغِ تُقْبَلُ.وَكَذَا الْعَبْدُ إذَا شَهِدَ فِي حَادِثَةٍ فَرُدَّتْ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ الْعِتْقِ تُقْبَلُ.وَكَذَا الذِّمِّيُّ إذَا شَهِدَ عَلَى مُسْلِمٍ فَرُدَّتْ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ الْإِسْلَامِ تُقْبَلُ، وَكَذَا الْأَعْمَى إذَا شَهِدَ فَرُدَّتْ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ مَا أَبْصَرَ؛ لِأَنَّ الْمَرْدُودَ لَمْ يَكُنْ شَهَادَةً وَإِنَّمَا حَدَثَتْ لَهُ الشَّهَادَةُ بَعْدَ زَوَالِ الْعَوَارِضِ.
بر خلاف جب فاسق گواہی دے کسی معاملے میں اور فسق کی وجہ سے اس کی گواہی رد کر دی گئی پھر وہ توبہ کے بعد گواہی کو دوبارہ ادا کرے تب بھی اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اس لیے مردود شہادت بھی شہادت تھی کیوں کہ فاسق شہادت کا اہل ہوتا ہے ہمارے نزدیک، اس طرح ذمی جب کسی ذمی خلاف گواہی دے یا کسی حربی مستأمن کے خلاف گواہی دے اور اس کی گواہی رد کر دی جائے اس کے دین میں فسق کی وجہ سے یعنی ذمیوں کے دین میں کسی فسق کی وجہ سے گواہی رد کر دی گئی پھر اگر اسلام لانے کے بعد وہ دوبارہ گواہی دے تو اس کی شہادت قبول نہ ہوگی، اس لیے کہ اس کی مردود شہادت اس کے ہم جنس مذہبی کے خلاف تھی اس لیے اس مردود گواہی میں گواہی کی صلاحیت تھی مگر وہ اپنے مذہب میں فسق کی وجہ سے رد کر دی گئی، لہذا اب دوبارہ وہی گواہی قبول نہ ہوگی۔ 

بِخِلَافِ مَا إذَا شَهِدَ الْفَاسِقُ فِي حَادِثَةٍ فَرُدَّتْ لِفِسْقِهِ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ التَّوْبَةِ لَا تُقْبَلُ؛ لِأَنَّ الْمَرْدُودَ كَانَ شَهَادَةً؛ لِأَنَّ الْفَاسِقَ أَهْلٌ لِلشَّهَادَةِ عِنْدَنَا، وَكَذَا الذِّمِّيُّ إذَا شَهِدَ عَلَى ذِمِّيٍّ أَوْ حَرْبِيٍّ مُسْتَأْمَنٍ فَرُدَّتْ لِفِسْقِهِ فِي دِينِهِ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ الْإِسْلَامِ؛ لِأَنَّ لَهُ شَهَادَةً عَلَى جِنْسِهِ فَكَانَ الْمَرْدُودُ شَهَادَةً.
اسی طرح محدود فی القذف جب اس کی گواہی کسی حادثے میں رد کر دی گئی پھر وہ توبہ کے بعد دوبارہ گواہی دے اسی طرح جب وہ کسی معاملہ میں گواہی دے اور اس کی گواہی رد کر دی جائے پھر وہ العیاذ باللہ مرتد ہو کر پھر حلقہ بگوش اسلام ہو جائے اب اگر وہ دوبارہ گواہی دے تب بھی اس کی گواہی قبول نہیں ہوگی اسی وجہ سے جو ہم نے بیان کیا وہ یہ کہ شریعت نے اس کی شہادت کی اہلیت کو باطل کیا ہے ہمیشہ کے لیے اللہ تبارک و تعالی کے فرمان کی وجہ سے کہ” تم ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو“ برخلاف ذمی کے جب وہ ذمی ہونے کی حالت میں محدود فی القذف ہوگیا، پھر بحالت ذمی وہ گواہی دے اور اس کی گواہی رد کر دی گئ، اب اگر یہ محدود فی القذف ذمی دوبارہ گواہی دے اسلام لانے کے بعد تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی اس لیے کہ اس کی پہلی گواہی کافر کے خلاف تھی مگر وہ محدود فی القذف کی وجہ سے رد کر دی گئی اب وہ اسلام لانے کے بعد مسلم کے خلاف گواہی دے رہا ہے تو پہلی گواہی الگ تھی جو رد کی گئی، وہ یہ شہادت نہ تھی چناں چہ دلیل کے طور پر فرمایا کہ اس کو اس نص ( یعنی جو اوپر مطلق محدود فی القذف کی دوبارہ قبول نہیں کی گئی ذمی محدود فی القذف بھی اسی زمرہ میں آنا چاہئے تھا) سے اجماع کی وجہ سے خاص کیا گیا ہے، اسی طرح جن کی گواہی دوبارہ قبول نہیں کی جاتی ہے ان میں یہ بھی ہے کہ اگر زوجین میں سے کوئی ایک گواہی دے دوسرے کے لیے جبکہ احد الزوجین دوسرے کے حق گواہی نہیں دے سکتے ہیں، چناں چہ اگر احد الزوجین کی گواہی لوٹا دی جائے پھر وہ دوبارہ گواہی دے بعد اس کے کہ طلاق بائن واقع ہو جائے، یعنی بینونت آ جائے اب اگر ان زوجین میں کوئی دوسرے کے لیے گواہی دے تو گواہی قبول نہیں کی جائے گی اس لیے کہ پہلے جو لوٹا دیے گئی وہ بھی گواہی تھی جب وہ لوٹا دی گئی تو اب بھی لوٹا دی جائے گی۔ 
وَكَذَا الْمَحْدُودُ فِي الْقَذْفِ إذَا رُدَّتْ شَهَادَتُهُ فِي حَادِثَةٍ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ التَّوْبَةِ، وَكَذَا إذَا شَهِدَ فِي حَادِثَةٍ فَرُدَّتْ ثُمَّ ارْتَدَّ وَالْعِيَاذُ بِاَللَّهِ ثُمَّ أَسْلَمَ ثُمَّ أَعَادَهَا لَا تُقْبَلُ، لِمَا بَيَّنَّا مِنْ أَنَّ الشَّرْعَ أَبْطَلَ أَهْلِيَّةَ شَهَادَتِهِ عَلَى التَّأْبِيدِ بِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَلا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا} [النور: ٤] بِخِلَافِ الذِّمِّيِّ إذَا حُدَّ فِي قَذْفٍ ثُمَّ شَهِدَ فَرُدَّتْ شَهَادَتُهُ ثُمَّ أَعَادَهَا بَعْدَ الْإِسْلَامِ حَيْثُ تُقْبَلُ؛ لِأَنَّهُ خُصَّ عَنْ هَذَا النَّصِّ بِالْإِجْمَاعِ. وَأَحَدِ الزَّوْجَيْنِ إذَا شَهِدَ لِصَاحِبِهِ فَرُدَّتْ فَأَعَادَهَا بَعْدَ الْإِبَانَةِ لَا تُقْبَلُ؛ لِأَنَّ الْمَرْدُودَ كَانَ شَهَادَةً.
[فَصْلٌ حَدُّ الْعَدَالَةِ]
یہ فصل عدالت کی تعریف کے بیان میں۔ 
(فَصْلٌ) 
عدالت کے لغوی معنی ہیں استقامت، میانہ روی، انصاف وغیرہ اور عدل یہ جور کی ضد ہے، معنى العدالة فى اللغة الاستقامة، والعدل هو المتوسط فى الأمور من غير إفراط فى طرفى الزيادة والنقصان،
عدالت کے اصطلاحی معنی : دینی اعتبار سے ممنوع چیزوں سے بچتے ہوئے راہ حق پر استقامت سے جمے رہنا، قيل هو: عبارة عن الاستقامة على طريق الحق بالاجتناب عما هو محظور دينًا (التعريفات للجرجاني، ص ١٤٧) 
عدالت کے متعلق صاحب ھدایہ فرماتے ہیں ”لا بد فی ذلک کلہ من العدالۃ“ کہ ہر قسم کی شہادت میں عدالت کا ہونا ضروری ہے، کیوں کہ قرآن پاک کا صریح فیصلہ ہے کہ ”واشھدوا ذوی عدل منکم“ 
علامہ شامی رقم طراز ہیں کہ عادل وہ شخص ہے جو تمام کبائر سے کلی اجتناب کرتا ہو، یہاں تک کہ اگر مرتکب کبیرۃ ہوگا تو عدالت ساقط ہوجائے گی، اور گناہانِ صغیرہ سے اکثر و بیشتر بچتا ہو یا گناہ صغیرہ پر مصر نہ ہو تو اس کی عدالت بر قرار رہے گی وگرنہ صغیرہ بھی کبیرہ ہی کہلائے گا، وقال صاحب رد المحتار على الدر المختار: العدل من يجتنب الكبائر كلها، حتى لو ارتكب كبيرة تسقط عدالته، وفي الصغائر العبرة الغلبة أو الإصرار على الصغيرة فتصير كبيرة. ( رد المحتار) علامہ جلال الدین سیوطیؒ فرماتے ہیں: حدها الأصحاب : بأنها ملكة ، أي هيئة راسخة في النفس تمنع من اقتراف كبيرة أو صغيرة دالة على الخسة أو مباح يخل بالمروءة۔ ( الاشباہ و النظائر للسیوطی )
چوں کہ عدالت کی تعریف میں ائمۂ مجتہدین و فقہاء کی آراء مختلف و گوناگوں پائی جاتی ہیں، کیوں قرآن پاک میں حق جل جلالہ کا امر عادل گواہان کے مطالبہ کا تو ہے لیکن عدالت کی تعریف یا حد بندی کے سلسلے میں قرآن میں کوئی صراحت نہیں ہے اس عدالت کی تعریف فقہاء کے نزدیک مختلف فیہ ہے، چناں چہ اسی اختلاف کی بنا پر اس پر متفرع ہونے والے مسائل میں بھی قدرے اختلاف پایا جاتا ہے، من جملہ ان تعریفات کے اس بات پر تقریباً سب متفق ہیں کہ عادل وہ ہے جو کبیرہ گناہوں سے مکمل اجتناب کرتا ہو، اور یہی بات مصنف کی پیش کردہ تعریفات سے بھی واضح ہوتی ہے،اب ایک سوال یہ ہے کہ فی زماننا ان تعریفات کے مطابق کسی بھی عدالت میں گواہان پیش نہیں ہوتے ہیں، بلکہ فاسق گواہوں کو بھی لیا جاتا ہے اور بغیر تزکیہ کے قاضی ان کی گواہی قبول بھی کرتا ہے، جبکہ صاحبینؒ کا مسلک یہی ہے ”یسال عن حال الشهود“  کہ گواہوں کی ظاہری عدالت پر قاضی فیصلہ نہ کرے بلکہ ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنا لازم ہے۔ 
اس سوال کے جواب میں امام قرافی کی یہ عبارت کافی و شافی ہوگی جسے مصنف نے بھی نقل کیا ہے،اما قرافی کی پیش کردہ عبارت کا خلاصہ ہے کہ فرماتے ہیں کہ جب ہم کسی معاملہ میں صرف غیر عادل گواہ ہو تو ان میں سے جو درست احوال کے اعتبار سے بڑھا ہوا ہو، فجور و بد کاری کے اعتبار سے سب سے کمتر ہو اس کی گواہی قبول کی جائے گی اور یہی طریق کار قضاء وغیرہ میں ضروری ہے، تاکہ مصالح دینیہ و دنیاویہ ضائع نہ ہوں، مزید امام قرافی فرماتے ہیں کہ میرے خیال میں کوئی اس سے اختلاف نہیں کر سکتا، اس لیے کہ شرع نے جس چیز کا مکلف بنایا ہے وہ ہے امکان ( اور جب عدالت ک امکان نہ ہو اور لوگوں کی حق تلفی کا اندیشہ ہو تغیر احوال کی وجہ سے اس میں ترمیم کی جا سکتی ہے) اور یہ سب ضرورت کی وجہ سے ہے تا کہ اموال برباد نہ ہوں اور حقوق ضائع نہ ہوں، بعض فقہاء نے فرمایا ہے کہ جب دو چند لوگون کے سوا بقیہ فساق و فجار ہوں تو ان میں بعض کی شہادت بعض پر قبول ہوگی اور درجہ بدرجہ ان فساق کی گواہی قبول کی جائے گی یہی وہ صحیح طریقہ ہے جس پر عمل ہے، اگر چہ بہت سے فقہاء نے صراحتاً اس کا انکار کیا ہے، جیسے کہ فاسق کی ولایت صحیح ہے یا نہیں اور اس کے احکام کے نفاذ ہوں گے یا نہیں ( اگر قاضی بنا دیا جائے)  فاسق کے ولی نکاح ہونے یا نہ ہونے میں ، وصی مال ہونے یا نہ ہونے میں، بعض فقہاء نے اس کا صراحتاً انکار کیا ہے، جبکہ جمہور فاسق کہ ولایت، اس کے احکام کے نفاذ، ولی نکاح و وصی مال ہونے پر متفق ہیں اور اسی طرح عمل جاری ہے، چناں چہ بعض فقہاء کی اس بات سے امام قرافی سے جو منقول ہے، اس کی تائید ہوتی ہے۔ اور جب فاسق کے سچے ہونے کا غلبہ ظن حاصل ہو جائے تو اس کی شہادت قبول ہو جائے گی اور اس پر فیصلہ کیا جائے گا۔  قال القرافي في باب السياسة: نص بعض العلماء على أنه إذا لم نجد في جهة إلا غير العدول اقمنا أصلحهم وأقلهم فجورا للشهادة عليهم ويلزم ذلك في القضاة وغيرهم لئلا تضيع المصالح قال وما أظن أحدا يخالف في هذا، فإن التكليف مشروط بالامكان وهذا كله للضرورة لئلا تهدر الأموال وتضيع الحقوق. قال بعضهم: إذا كان الناس فساقا إلا القليل النادر قبلت شهادة بعضهم على بعض ويحكم بشهادة الأمثل فالاً مثل من الفساق هذا هو الصواب الذى عليه العمل وان انكره كثير من الفقهاء بألسنتهم كما أن العمل على صحة ولاية الفاسق ونفوذ أحكامه وإن أنكروه بألسنتهم وكذلك العمل على صحة كون الفاسق وليا في النكاح ووصيا في المال وهذا يؤيد ما نقله القراقي، وإذا غلب على الظن صدق الفاسق قبلت شهادته وحكم بها. 
اس عبارت کو ملاحظہ کرنے کے بعد عصر حاضر میں کسی بھی دارالقضاء کی عملی صورت پر نہ تو ھدایہ، شامی اور علامہ جرجانی وغیرہ کی تعریفات سے کوئی اشکال ہوگا اور نہ ہی صاحبین رحمہما اللہ کا فتوی موجب قلق ہوگا، کیوں وہ ایک زمان و امکان کی شرط کے ساتھ مشروط ہے، لہذا جب اس شرط کی وجہ سے مصالح دینیہ اور احکام شرعیہ کی پامالی لازم آتی ہوں ظلم و جبر میں ازالہ کے بجائے اضافہ ہو رہا ہو تو ”ان الاحکام تتغیر بتغیر الاحوال“ ”الضرر یزال“ ” الحرج مدفوع “ فاسق کی گواہی فاسق کے ھو میں قابل قبول ہوگی، اس سلسلے میں خلاصہ کے طور پر یہ عرض ہے کہ ایک شاہد کے عادل ہونے کے لیے جس عدل کا اعتبار ہے وہ اس کی شہادت کے اعتبار سے، یعنی ادائے شہادت میں وہ در خوار اعتناء اور قابل شہادت ہونا چاہیے، زندگی کی بقیہ مرحلوں میں وہ کن وادیوں میں بھٹکتا ہے اس سے کوئی سروکار نہیں، چناں چہ جب اس کا ادائے شہادت میں سچا ہونا معلوم ہو جائے اور اور اس کا فسق جھوٹ کے سوا ہو اور اس معاملہ میں بھی اس کے سچ کا غلبہ ظن ہو تو اس کی شہادت یقینا قبول ہوگی وہ زندگی کے دیگر مرحلوں میں فاسق ہے ا س کی وجہ سے اس کی شہادت میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، مصنف آگے لکھا ہے، فإذا علم صدق لهجته وأنه من أصدق الناس وإن فسقه بغير الكذب فلا وجه لرد شهادته ۔ جب کسی کا صدق لہجہ معلوم ہو اور یہ بات کہ وہ لوگوں میں سب سے سچا ہے اور یہ کہ اس کا فسق غیر کذب میں ہے تو اس کی شہادت رد کرنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔اور اس پر ابن قیم جوزی کا یہ فتویٰ نہلے پہ دہلے کے مترادف ہے فرماتے ہیں، وقال ابن قيم الجوزية الحنبلي وسر المسئلة أن مدار قبول الشهادة وردها على غلبة ظن الصدق وعدمه قال والصواب المقطوع به ان العدالة تتبعض فيكون الرجل عدلا في شئ وفاسقا في شئ فإذا تبين للحاكم انه عدل فيما شهد به قبلت شهادته ولم يضره فسقه فی غیره۔ ترجمہ:ابن قیم جوزی حنبلی نے کہا، مسئلہ کا راز یہ ہے کہ قبول شہادت اور رد شہادت کی بنیاد صدق کے غلبہ ظن اور اس کے عدم پر ہے۔ ابن قیم کہتےہیں ، سچی اور پختہ بات یہی ہے کہ عدالت تقسیم کو قبول کرتی ہے، پس ایک شخص بعض چیزوں میں عادل ہوتا ہے اور بعض میں فاسق ہاں جب  حاکم کے پاس یہ بات ظاہر ہو جائے کہ شاہد اپنی شہادت میں عادل ہے، تو اس کی شہادت قبول کی جائے گی اور دوسری حیثیات سے اس کا فسق قبول شہادت کے لیے مضر نہ ہوگا۔
قال ابن عاصم في تحفته:
 وشاهد صفته المرعيه * عدالة تيقظ حرية
والعدل من يجتنب الكبائرا * ويتقي في الغالب الصغائرا
وما أبيح وهو في العيا ن * يقدح في مروءة الإنسان .

چناں چہ مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”فتاویٰ صاعد“ میں عدالۃ کی تعریف میں یوں بیان کی گئی ہے: عدالت کی تعریف یہ ہے کہ گواہان آزاد، عاقل، بالغ ہوں گناہانِ کبیرہ کے ارتکاب کرنے والے نہ ہوں اور گناہانِ صغیرہ پر مصر نہ ہوں اور ان سے جھوٹ ظاہر نہ ہوا ہو، امام طحاویؒ فرماتے ہیں گناہ کبیرہ یہ ہے کہ جس پر جہنم کی وعید سنائی گئی ہو، جب کہ دوسرا حضرات فرماتے ہیں کہ گناہ کبیرہ وہ ہے جس کے ارتکاب سے حد اور زجر کا مستحق ہوتا ہو،  ”فتاویٰ ابی لیث“ میں ہے کہ عدالت کی شرط یہ ہے کہ وہ امور معیوبہ سے بچتا ہو اور بندہ بیدار مغز ہو اور ساہی القلب یعنی غفلت بھرا دل نہ رکھتا ہو۔ 
قَالَ فِي فَتَاوَى صَاعِدٍ: حَدُّ الْعَدَالَةِ أَنْ يَكُونُوا أَحْرَارًا عُقَلَاءَ بَالِغِينَ غَيْرَ مُرْتَكِبِينَ كَبِيرَةً وَلَا مُصِرِّينَ عَلَى صَغِيرَةٍ وَلَمْ يَظْهَرْ مِنْهُمْ كَذِبٌ.قَالَ الطَّحَاوِيُّ: قَالَ مَا أَوْعَدَ اللَّهُ عَلَيْهِ بِالنَّارِ.وَقَالَ غَيْرُهُ: مَا يَتَعَلَّقُ الْحَدُّ أَوْ الزَّجْرُ بِهِ.وَفِي فَتَاوَى أَبِي اللَّيْثِ: شَرْطُ الْعَدَالَةِ أَنْ يَجْتَنِبَ الْأُمُورَ الْمُسْتَشْنَعَةَ وَفِيهِ يَقَظَةٌ، وَلَا يَكُونُ سَاهِيَ الْقَلْبِ.
بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا کہ عدالت وہ ایسی ہیئت ہے جو نفس کے اندر راسخ ہوتی ہے جو انسان کو کبائر سے بچنے کے ساتھ ساتھ تقوی کے لزوم پر ابھارتی ہے اور صغائر سے بھی انسان کی حفاظت کرتی ہے اور رزائل مباحہ سے بھی انسان کو بچاتی ہو۔ 
قَالَ بَعْضُهُمْ أَيْضًا: وَالْعَدَالَةُ هَيْئَةٌ رَاسِخَةٌ فِي النَّفْسِ تَحُثُّ عَلَى مُلَازَمَةِ التَّقْوَى بِاجْتِنَابِ الْكَبَائِرِ وَتَوَقِّي الصَّغَائِرِ وَالتَّحَاشِي عَنْ الرَّذَائِلِ الْمُبَاحَةِ.
بعض حضرات نے فرمایا کہ عدالۃ سے مراد دینی احوال میں اعتدال ہے، بایں طور کہ امانت کو ظاہر کرنے والا، محارم سے بچنے والا، گناہوں سے پرہیز کرنے والا، شکوک سے دور اور رضا اور غضب سے مامون ہو ایسا نہ ہو کہ کسی نے تعریف کی تو حق کو پسِ پشت ڈال کر اسی کے ہو کے رہ گئے، یا کسی نے کچھ کہا تو آپے سے باہر آگۓ اور برا بھلا کہنا شروع کر دیا، عدالت کی صفت یہ ہے کہ عیش ہو یا طیش انسان سنجیدگی و طمانینت کا مظاہرہ کرے۔ 
ظفرؔ آدمی اس کو نہ جانئے گا
وہ ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا 
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی
جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا 

وَقَالَ بَعْضُهُمْ: الْمُرَادُ بِهَا الِاعْتِدَالُ فِي الْأَحْوَالِ الدِّينِيَّةِ، وَذَلِكَ بِأَنْ يَكُونَ ظَاهِرُ الْأَمَانَةِ عَفِيفًا عَنْ الْمَحَارِمِ مُتَوَقِّيًا عَنْ الْمَآثِمِ بَعِيدًا مِنْ الرَّيْبِ مَأْمُونًا فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ.

No comments:

Post a Comment