[الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي حَدِّ الشَّهَادَةِ وَحُكْمِهَا وَحِكْمَتِهَا وَمَا تَجِبُ فِيهِ]
بہر حال شہادت کی تعریف وہ خبر دینا ہے ایسی چیز کی جو کسی شخص معین کے ساتھ تعلق رکھتی ہو تعیین کی قید سے روایت کو نکالنا مطلوب ہے یعنی تعیین کی قید سے شہادت روایت سے الگ ہوتی ہے، اس لیے کہ روایت میں بھی اگرچہ خبر دی جاتی ہے لیکن وہ کسی شخصِ معین کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی وہ عام ہوتی ہے وہ راوی کو بھی شامل ہوتی ہے اور راوی کے علاوہ کو بھی شامل ہوتی ہے لیکن شہادت میں جو خبر دی جاتی ہے یہ صرف شخص معین مدعا علیہ کے ساتھ تعلق رکھتی ہے دوسروں کے ساتھ تعلق نہیں رکھتی حتی کہ خود شاہد کے ساتھ بھی تعلق نہیں رکھتی۔
أَمَّا حَدُّ الشَّهَادَةِ فَهُوَ إخْبَارٌ يَتَعَلَّقُ بِمُعَيَّنٍ، وَبِقَيْدِ التَّعْيِينِ يُفَارِقُ الرِّوَايَةَ.
”مجمل اللغۃ“ میں بیان کیا گیا ہے کہ شہادت وہ خبر دینا ہے اس چیز کی جس کا معائنہ کیا گیا ہو یعنی آنکھوں دیکھے واقعہ کی خبر دینا اور اس کا نام اس لیے شہادت رکھتے ہیں کہ اس سے بیان و اظہار واقع ہوتا ہے، کسی چیز کا ظاہر ہونا واقع ہو جاتا ہے اس لیے کہ شئ مدعیٰ وہ قاضی کے یہاں شہادت سے ہی واضح ہو جاتی ہے، ہاں شہادت سے شئ مدعیٰ ثابت نہیں ہوتی ہے، اس سے پتہ چلا کہ شہادت وہ مظہرِ مدعیٰ ہے نہ کہ مثبت مدعی، اس لیے کہ ثبوت وہ ایسے سبب سے ہو چکا ہے جو شہادت سے پہلے تھا لیکن شہادت سے وہ چیز جو سابق سبب سے ثابت شدہ ہے ظاہر ہوتی ہے۔
وَفِي مُجْمَلِ اللُّغَةِ: الشَّهَادَةُ: الْخَبَرُ بِمَا شَهِدَ سُمِّيَ شَهَادَةً؛ لِأَنَّ بِهِ يَقَعُ الْبَيَانُ وَالْإِظْهَارُ؛ لِأَنَّ الْمُدَّعَى يَظْهَرُ عِنْدَ الْقَاضِي بِالشَّهَادَةِ أَنَّهُ لَا يَثْبُتُ بِهَا؛ لِأَنَّ الثُّبُوتَ كَانَ بِسَبَبٍ سَابِقٍ عَلَى الشَّهَادَةِ لَكِنْ يَظْهَرُ.
شہادت کا حکم کیا ہے؟ شہادت کی دو قسمیں ہیں: ایک ہے تحمل شہادت دوسری ہے اداء شہادت یعنی ایک ہے شہادت لینا دوسری ہےشہادت کا دینا، پھر شرائط کی بھی دو قسمیں ہیں کچھ شرائط اصلیہ ہیں، کچھ شرائط زائدہ ہیں، شرائط اصلیہ وہ شرائط ہیں جن کا تعلق عام ہے تمام قسم کی شہادات کے ساتھ ہیں، اور شرائط زائدہ بعض خاص شہادات سے تعلق رکھتی ہیں اس یہ شرائط خاص ہیں، خاص شرائط کو مصنف یہاں بیان نہیں کریں گے بلکہ آگے بیان کریں گے، چنانچہ مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ بہرحال شہادت کا حکم تو اس کی دو حالتیں ہیں(١) حالت تحمل (٢) حالت ادا جیسا کہ ہم عنقریب بیان کریں گے انشاءاللہ، اور ضروری ہے کہ آپ جان لیں کہ شہادت کی شرائط وہ شرط اصلی اور شرط زائد دو قسم کی ہوتی ہیں، اور ہماری مراد اصلی سے وہ وجود کی شرط ہے، وہ یہ کہ رکن شہادت صادر ہو اہل سے دراں حالیکہ اپنے محل کی طرف منصوب ہو یعنی جو گواہی دے رہا ہے وہ شہادت کا اہل ہونا چاہیے اور جس کی گواہی دے رہا ہے وہ شہادت کا محل بھی ہونا چاہیے اس پر شہادت دینے کی صلاحیت ہو، اس لیے کہ تصرف کے ذات کا قیام اصل کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کے حکم کا قیام محل کے ساتھ ہوتا ہے یعنی تصرف کسی ذات سے ہی ممکن ہے اور اس تصرف پر جو حکم لگے گا وہ اس محل کے ساتھ لگے گا۔
وَأَمَّا حُكْمُهَا فَلَهُ حَالَتَانِ: حَالَةُ تَحَمُّلٍ، وَحَالَةُ أَدَاءً كَمَا سَنُبَيِّنُ وَيَجِبُ أَنْ تَعْلَمَ أَنَّ شَرْطَهَا يَتَنَوَّعُ إلَى شَرْطٍ أَصْلِيٍّ وَشَرْطٍ زَائِدٍ، وَنَعْنِي بِالْأَصْلِيِّ شَرْطَ الْوُجُودِ وَهُوَ صُدُورُ الرُّكْنِ مِنْ الْأَهْلِ مُضَافًا إلَى الْمَحِلِّ لِأَنَّ قِيَامَ ذَاتِ التَّصَرُّفِ بِالْأَصْلِ وَقِيَامَ حُكْمِهِ بِالْمَحِلِّ.
بس جب تصرف پایا گیا ایسی چیز کا جو کسی ذات کے ساتھ متعلق ہو تو حکم بھی اس ذات کے ساتھ پایا جائے گا، چاہے حکم شرعی ہو یا حسی لیکن حسی میں حقیقی اہلیت اور محلیت کا اعتبار کیا جاتا ہے اور شرعی حکم میں شرعی اہلیت اور محلیت کا اعتبار کیا جاتا ہے۔ فَإِذَا وُجِدَ مِنْ التَّصَرُّفِ مَا يَقُومُ بِذَاتِهِ، وَحُكْمُهُ يُوجَدُ بِذَاتِهِ، وَحُكْمُهُ حِسِّيًّا كَانَ أَوْ شَرْعِيًّا، لَكِنَّ فِي الْحِسِّيِّ تُعْتَبَرُ الْأَهْلِيَّةُ الْحَقِيقِيَّةُ وَالْمَحَلِّيَّةُ، وَفِي الشَّرْعِيِّ تُعْتَبَرُ الْأَهْلِيَّةُ شَرْعًا، وَكَذَا الْمَحَلِّيَّةُ.
پھر شہادت کی اہلیت وہ تحمل کی اہلیت اور ادا کی اہلیت ہر دو قسم کی ہوتی ہے، اب یہاں سے تحمل شہادت کی شرائط کو بیان کر رہے ہیں، تحمل کے اہلیت عقل اور حواس خمسہ سے ثابت ہوگی یعنی تحمل شہادت کے لیے عقل اور حواس خمسہ م ہونا چاہئے، اور یہ اس لیے ہے کہ کسی چیز کا اہل وہ ہوگا جو اس پر قادر ہو، اور تحمل پر قدرت اس چیز کے علم کے ساتھ ثابت ہوگی جس کا تحمل کیا جا رہا ہے اور جس کے خلاف تحمل کیا جا رہا ہے اور جس کے لیے تحمل کیا جا رہا ہے یعنی جس کے لیے گواہی دے رہا ہے، جس کے خلاف گواہی دے رہا ہے اور جس چیز کی گواہی دے رہا ہے ان تمام چیزوں کا علم ہونا چاہیے تب تحمل شہادت ممکن ہے اور علم اپنے سبب پر مرتب ہوتا ہے اور وہ سبب عقل اور حواس ہیں، جیسا کہ بیان کیا گیا جبکہ خزانۃ الفقہ میں تحمل شہادت کی جواز کے لیے آٹھ چیزوں کے جاننے کی شرط لگائی گئی ہے، مقر کی ذات کی معرفت یعنی جو اقرار کر رہا ہے اس مقر کی ذات کو بعینہ جاننا اس کے نام اس کے نسب کو جاننا مثلا کوئی اقرار کر رہا ہے اور دوسرا شخص اس مقر کے خلاف گواہی دے رہا ہے تو جو گواہی دے رہا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقر کی بذات کو جانتا ہو اس کے نام سے واقف ہو اس کے نسب سے بھی واقف ہو اس لیے کہ اسی سے یعنی ذات کی معرفت، نام کی معرفت، نسب کی معرفت سے ہی اس شخص کی معرفت مکمل و تام ہوگی جس کے خلاف گواہی دے رہا ہے۔
وَأَهْلِيَّةُ الشَّهَادَةِ تَتَنَوَّعُ إلَى أَهْلِيَّةِ تَحَمُّلِهَا وَأَهْلِيَّةِ أَدَائِهَا، فَأَهْلِيَّةُ التَّحَمُّلِ تَثْبُتُ بِالْعَقْلِ وَالْحَوَاسِّ الْخَمْسِ، فَإِنَّ أَهْلَ الشَّيْءِ مَنْ يَكُونُ قَادِرًا عَلَيْهِ، وَالْقُدْرَةُ عَلَى التَّحَمُّلِ تَثْبُتُ بِالْعِلْمِ مَا يَتَحَمَّلُهُ عَلَى مَنْ يَتَحَمَّلُهُ وَلِمَنْ يَتَحَمَّلُهُ، وَالْعِلْمُ يَتَرَتَّبُ عَلَى سَبَبِهِ وَهُوَ الْعَقْلُ وَالْحَوَاسُّ كَمَا بَيَّنَّا، وَقَدْ شَرَطَ فِي خِزَانَةِ الْفِقْهِ فِي جَوَازِ تَحَمُّلِهَا مَعْرِفَةَ ثَمَانِيَةٍ: مَعْرِفَةُ الْمُقِرِّ بِعَيْنِهِ وَاسْمِهِ وَنَسَبِهِ؛ لِأَنَّ بِهِ يَحْصُلُ مَعْرِفَةُ مَنْ يَتَحَمَّلُ عَلَيْهِ الشَّهَادَةَ.
مشہود علیہ کے عقل و رشد کا جاننا اور اس کا اپنے اقرار میں خوش حال ہونے کا جاننا ( یعنی مقر کا بغیر کسی دباؤ اپنی رضا و رغبت سے اقرار کرنا ) اس لیے کہ اسی کے ذریعے سے یعنی جب وہ عاقل ہوگا اور اپنے اقرار میں راضی ہوگا بخوشی قرار کر رہا ہوگا، اقرار کی صحت کی شرائط کا علم حاصل ہوگا، اسی طرح اس چیز کی مقدار کا جاننا جس پر گواہی دے رہا ہے تاکہ مشہود بہ کی مقدار معلوم ہو جائے، مثلا گواہی دے رہا ہے کہ فلاں نے اقرار کیا ہے کہ فلاں کا اس پر قرض ہے، کتنا قرض ہے وہ نہیں بتا رہا ہے تو مجمل مجمل اقرار ہے اس لیے مشہود بہ جس کی گواہی دے رہا ہے اس کا معلوم ہونا بھی ضروری ہے اس کی مقدار کی معرفت ضروری ہے، اور اس شخص کی معرفت ضرورت ہے جس کے لیے اقرار کر رہا ہے جس کے لیے حق واجب ہو رہا ہے تاکہ مشہود لہ بھی معلوم ہو، خلاصہ یہ ہے کہ مشہود بہ بھی معلوم ہونا چاہیے اور مشہود لہ بھی معلوم ہونا چاہیے۔
وَمَعْرِفَةُ عَقْلِهِ وَرُشْدِهِ وَكَوْنِهِ طَائِعًا فِي إقْرَارِهِ؛ لِأَنَّ بِهِ تَحْصُلُ مَعْرِفَةُ شُرُوطِ صِحَّةِ الْإِقْرَارِ.وَمَعْرِفَةُ قَدْرِ مَا يَجِبُ لِيَصِيرَ الْمَشْهُودُ بِهِ مَعْلُومًا وَمَنْ يَجِبُ لَهُ لِيَصِيرَ الْمَشْهُودُ لَهُ مَعْلُومًا.
آگے فرما رہے ہیں کہ اگر اقرار سر ورق لکھا گیا ہو تو پھر اس مکتوب کے مضمون کو از اول تا آخر گواہ کو پڑھ کر سنانا بھی شرط ہے تاکہ اس کو اپنے اقرار کا علم حاصل ہو جائے کہ کیا چیز لکھی ہوئی ہے اور وہ کس چیز کا اقرار کر رہا ہے اور اگر گواہی دینے والا عجمی ہو تو عجمی گواہ کو عجمی زبان میں وہ مضمون پڑھ کر سنانا ہوگا جو ورق پر لکھا گیا ہے وہ سارا مضمون اس کو عجمی کو اس کی زبان میں سنانا شرط ہے اور انہیں شرائط پر اقرار کے علاوہ دوسرے تصرفات کا قیاس ہوگا، چاہے اقرار کی گواہی دے رہا ہو یا کسی اور چیز کی وہان بھی ان شرائط کا لحاظ ہوگا۔
وَإِنْ كَانَ إقْرَارُهُ بِالْكِتَابِ يَشْتَرِطُ قِرَاءَةَ الْمَكْتُوبِ عَلَيْهِ مِنْ أَوَّلِهِ إلَى آخِرِهِ حَتَّى يَحْصُلَ لَهُ الْعِلْمُ بِإِقْرَارِهِ، وَإِنْ كَانَ الشَّاهِدُ أَعْجَمِيًّا يُقْرَأُ لَهُ بِالْعَجَمِيَّةِ مَا تَضَمَّنَهُ الْكِتَابُ، وَعَلَى هَذَا غَيْرُ الْإِقْرَارِ مِنْ التَّصَرُّفَاتِ،
اب یہاں سے فرما رہے ہیں کہ اگر گواہ عاقل بچہ، غلام یا کافر ہو تو وہ بھی تحمل شہادت کر سکتے ہیں ایسا نہیں کہ نابالغ تحمل شہادت نہیں کر سکتا، کر سکتا ہے کافر بھی کر سکتا ہے، غلام بھی کر سکتا ہے، باپ اپنے بیٹے کے لیے بیٹا اپنے باپ کے لیے تحمل شہادت کر سکتا ہے، ہاں البتہ ادائے شہادت ان سے درست نہیں ہے چنانچہ فرمایا کہ عاقل بچہ، غلام یا کافر جب تحمل شہادت کریں پھر اس کو ادا کرنے کی نوبت بلوغت کے بعد یا یا آزادی کے بعد یا اسلام لانے کے بعد ہو تو ان کی گواہی قبول کی جائے گی اس لیے کہ حریت، بلوغت اور اسلام وہ ادا کی شرط ہے نہ کہ تحمل کی شرط اگرچہ تحمل کے وقت یہ چیزیں اس میں نہیں تھی لیکن جو تحمل کے لیے شرائط ہیں وہ اس وقت پائی جا رہی تھیں، اب اس وقت گواہی دے رہا ہے تو وہ شرطیں بھی پائی جا رہی ہیں جوادائے شہادت کے لیے شرط ہے چنانچہ ان شرائط کا ادا کے وقت پایا جانا ضروری ہے اور ادا کی اہلیت وہ ثابت ہوگی ان چیزوں کے ذریعے سے بھی جن کے ذریعے ثابت ہوتی ہے تحمل کی اہلیت اور دوسرے امور کے ذریعے سے بھی یعنی جو چیزیں تحمل کی اہلیت کے شرط ہے وہ ادا کے لیے بھی شرط ہیں لیکن ادا کے لیے کچھ اور ضروری شرائط بھی ہیں وہ کیا ہے وہ ہے گویائی اس لیے کہ اگر گویائی نہ ہو تو پھر کس چیز کی گواہی دے گا، اسی طرح یادداشت کا ہونا ضروری ہے اس لیے کہ اگر یادداشت نہیں تو جس شہادت کا تحمل کیا ہے اس کو یاد کیسے رکھے گا، اسی طرح بیدار مغزی بھی ضروری ہے ادا کے لیے اس لیے کہ اگر بیداری نہ ہوگی تو غفلت صحیح بھی غلط کہے گا اس لیے کی حفظ سے وہ مضمون باقی رہے گا جس کا اس نے تحمل کیا ہے شہادت سے لے کر ادائیگی کے وقت تک اور نطق کے ذریعے وہ ادا کرنے پر قادر ہوگا اور بیدار مغزی سے وہ اس چیز سے غافل نہیں ہوگا جس کو وہ ادا کر رہا ہے
وَالصَّبِيُّ الْعَاقِلُ أَوْ الْعَبْدُ أَوْ الْكَافِرُ إذَا تَحَمَّلَ الشَّهَادَةَ ثُمَّ أَدَّاهَا بَعْدَ الْبُلُوغِ وَالْعِتْقِ وَالْإِسْلَامِ تُقْبَلُ؛ لِأَنَّ الْحُرِّيَّةَ وَالْبُلُوغَ وَالْإِسْلَامَ شَرْطُ الْأَدَاءِ لَا شَرْطُ التَّحَمُّلِ فَيُشْتَرَطُ وُجُودُهَا عِنْدَ الْأَدَاءِ، وَأَهْلِيَّةُ الْأَدَاءِ تَثْبُتُ بِمَا تَثْبُتُ بِهِ أَهْلِيَّةُ التَّحَمُّلِ وَبِأُمُورٍ أُخَرَ، وَهُوَ النُّطْقُ وَالْحِفْظُ وَالْيَقَظَةُ؛ لِأَنَّ بِالْحِفْظِ يَبْقَى عِنْدَهُ مَا تَحَمَّلَهُ مِنْ الشَّهَادَةِ إلَى حِينِ أَدَائِهَا، وَبِالنُّطْقِ يَقْدِرُ عَلَى الْأَدَاءِ وَبِالْيَقَظَةِ لَا يَغْفُلُ عَنْ أَدَاءِ مَا يَجِبُ أَدَاؤُهُ.
شرط زائد تو انشاءاللہ اس کا ذکر عنقریب آئے گا اپنے محل میں اور وہ محل شرائط زائدہ کے ذکر کرنے کے لیے یہاں کے مقابلے میں زیادہ مناسب ہے۔
وَأَمَّا شَرْطُ الزَّائِدِ فَسَيَأْتِي إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى فِي مَحَلٍّ هُوَ أَلْيَقُ بِهِ مِنْ هَذَا الْمَوْضِعِ.
بہرحال شہادت کا طریقہ یہ ہے کہ وہ کسی آدمی کو بلائے تاکہ وہ اس چیز کا معائنہ کرے جس کی وہ آگے گواہی دے گا اور اس گواہی کو ذہن نشین کرے گا چناں چہ ایسی شہادت کا تحمل فرض کفایہ ہے جیسا کہ بعض لوگ بعض کے گواہ بنتے ہیں اور گواہی کا تحمل کرتے ہیں جہاں تحملِ شہادت کا محتاج ہوا جائے اور عدم شہادت سے حق کے تلف کا اندیشہ ہو وہاں تحمل شہادت فرض کفایہ ہے کہ انسان گواہی دینے کے لیے تیار ہو جائے اور تحمل شہادت کرے جب اس کو بلایا جائے ورنہ اگر آدمی ایسے مقام پر ہو کہ وہاں کوئی دوسرا نہ ہو جو تحمل شہادت کا اہل ہو تو پھر یہ شخص ادائے شہادت کے لیے متعین ہو جائے گا اور پھر تحمل شہادت ضروری ہوگا پس اگر وہ منع کرے گواہی دینے سے حاکم کے پاس تو وہ گنہگار ہوگا اس لیے کہ حق مسلم میں تحمل شہادت عبادت کی طرح ہے اور جہاں یہ متعین نہ ہو بلکہ دوسرے لوگ بھی ہوں جو شہادت کا تحمل کر سکتے ہیں تو چوں کہ یہ شخص متعین نہیں ہوا اس لیے یہ گنہگار نہ ہوگا۔
وَطَرِيقُ التَّحَمُّلِ هُوَ أَنْ يُدْعَى لِيَشْهَدَ وَيُسْتَحْفَظَ الشَّهَادَةَ، فَإِنَّ ذَلِكَ فَرْضُ كِفَايَةٍ تَحَمَّلَهُ بَعْضُ النَّاسِ عَنْ بَعْضٍ حَيْثُ يُفْتَقَرُ إلَى ذَلِكَ وَيُخْشَى تَلَفُ الْحَقِّ بِعَدَمِ الشَّهَادَةِ، فَإِنْ كَانَ الرَّجُلُ فِي مَوْضِعٍ لَيْسَ فِيهِ مَنْ يَحْمِلُ ذَلِكَ عَنْهُ تَعَيَّنَ عَلَيْهِ أَدَاءُ الشَّهَادَةِ، فَبِالِامْتِنَاعِ عَنْهَا عِنْدَ الْحَاكِمِ يَلْحَقُهُ الْمَأْثَمُ؛ لِأَنَّهُ قَدْ صَارَ ذَلِكَ فِي حَقِّ الْمُسْلِمِ كَالْعِبَادَةِ، وَمَتَى لَمْ يَتَعَيَّنْ ذَلِكَ فِي حَقِّهِ لَا يَلْحَقُهُ الْمَأْثَمُ.
No comments:
Post a Comment