بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
پہلا باب قضاء کی حقیقت و معنی، قضاء کا حکم اور حکمت کے بیان میں۔ (٦) قضاء بمعنی اجل یعنی مدت جیسے اللہ تعالی کا فرمان ”فَمِنْهُم مَّن قَضَىٰ نَحْبَهُ“ (الاحزاب:٢٣)ترجمہ: بعض نے تو اپنا عہد پورا کر دیا۔ (۷) قضاء بمعنى : الخلق یعنی تخلیق کرنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ “ (سورۃ فصلت:۱۲)ترجمہ: پس اس نے دو دن میں سات آسمان بنا دیئے۔
(٨) قضاء بمعنى : الفعل کام کرنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَا أَمَرَهُ“ (سورۃ عبس:٢٣) ترجمہ: ہرگز نہیں۔ اس نے اب تک اللہ کے حکم کی بجا آوری نہیں کی۔ (٩) قضاء بمعنى : الإبرام پختہ ارادہ کرنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ”إِلَّا حَاجَةً فِي نَفْسِ يَعْقُوبَ قَضَاهَا“ (سورۃ یوسف:٦٨) ترجمہ: مگر یعقوب علیہ الصلوۃ و السلام کے دل میں ایک خیال پیدا ہوا جسے اس نے پورا کر لیا۔ (١٠) قضاء بمعنى العهد عہد وپیمان لینا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”إِذْ قَضَيْنَا إِلَىٰ مُوسَى الْأَمْرَ “ (سورۃ القصص:٤٤) ترجمہ: جب کہ ہم نے موسیٰ علیہ الصلوٰۃ و السلام کو حکم، یعنی احکام کی وحی پہنچائی تھی۔ (١١) قضاء بمعنى : الأداء ادا کرنا جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”فَإِذَا قُضِيَتِ الصَّلَاةُ “ (الجمعۃ:١٠) ترجمہ: پھر جب نماز ہو چکے۔
اس کے بعد مصنف ؒ نے قضاء کی تین اصطلاحی تعریفیں بیان کئ ، چناں چہ فرمایا۔(۱) فحقیقۃ القضاء الاخبار عن حکم شرعی علی سبیل الالزام، قضاء وہ خبر دینا ہے حکم شرعی کی الزام کے طریقے پر، گویا یہ خبر انشاء کے قبیل سے ہے جس میں سچ اور جھوٹ کا احتمال نہیں، کیوں کہ اس خبر سے حکم شرعی کو لازم کرنا ہے، جیسے فقہاء کے قول قضی القاضی کا معنی ہے، الزم الحق اھلہ، کہ حق والے کئے لئے حق کو لازم کیا، اس پر دلیل فرمان خداوندی ہے، فلما قضینا علیہ الموت ، پھر جب ہم نے سلیمانؑ پر موت کو لازم قرار دیا اور موت کا فیصلہ کرلیا، تو یہاں بھی قضی، الزم کے معنی میں ہے، اسی طرح باری تعالیٰ کا فرمان، فاقض ما انت قاض، جادوگرانِ فرعون نے موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لایا،تو فرعون نے دھمکی دی کہ لاقطعن ایدیکم و ارجلکم من خلاف و لاصلبنکم فی جذوع النخل، اس دھمکی کو سن کر اسیران ایمان (سابق جادوگروں) نے مطمئن ہو کر جواب دیا، لن نؤثرک علی ما جاءنا من البینات فاقض ما انت قاض انما تقضی ھذہ الحیاۃ الدنیا، تو یہاں بھی فاقض ما انت قاض، ای الزم بما شئت وصنع بما بدا لک، تو جو چاہے کر لے، جو سزا تجھ سے بن پاے اس کو ہمارے لئے لازم کر، مقرر کر تیرا سارا قہر اس دنیا کی طرح ناپائیدار و محدود ہوگا،
فَحَقِيقَةُ الْقَضَاءِ الْإِخْبَارُ عَنْ حُكْمٍ شَرْعِيٍّ عَلَى سَبِيلِ الْإِلْزَامِ. وَمَعْنَى قَوْلِهِمْ: "قَضَى الْقَاضِي أَيْ أَلْزَمَ الْحَقَّ أَهْلَهُ. وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ قَوْلُهُ تَعَالَى: (فَلَمَّا قَضَيْنَا عَلَيْهِ الْمَوْتَ) [بَا : ١٤]. أَيْ: الزَّمْنَاهُ وَحَكَمْنَا بِه عَلَيْهِ. وَقَوْلُهُ تَعَالَى: (فَاقُضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ ) [عَهِ: ۷۲] أَيْ: أَلْزِمْ بِمَا شِئْتَ وَاصْنَعْ مَا بَدَا لَكَ.
(۲) دوسری تعریف مدخل کے حوالے سے نقل کی، فرمایا کہ قضاء وہ خالق اور مخلوق کے درمیان ایسا ربط، کہ اس کی وجہ سے احکام الہی اور اس کے فیصلوں کو کتاب و سنت کی روشنی میں ادا کرے، گویا قضاء کی وجہ سے ہی انسان وظیفۂ بندگی کو خوب خوب ادا کرتا ہے،
وَفِي الْمَدْخَلِ: الْقَضَاءُ: مَعْنَاهُ الدُّخُولُ بَيْنَ الْخَالِقِ وَالْخَلْقِ، لِيُؤَدِّيَ فِيهِمْ أَوَامِرَهُ وَأَحْكَامَهُ بِوَاسِطَةِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ.
(۳) تیسری تعریف امام قرافی مالکیؒ سے نقل کی،
امام قرافی مالکیؒ کی تعریف نقل کرنے سے قبل یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ الزام کی دو قسمیں ہیں، (١) الزام معنوی (٢) الزام حسی، اول کے معنی ہیں لازم کرنا فقط،تعمیل ارشاد یا امتثال امر قاضی کے قضاء سے نہیں ہوتا مثلاً، قاضی صاحب نے شوہر میاں کو اپنی زوجہ کے واسطے دین مہر کے لازم ہونے کی خبر دی، اب بیگم کو مہر دلانا قاضی کا کام نہیں ہے، اسی طرح قاضی نے شوہر پر نفقۂ زوجہ کا فیصلہ سنایا، لیکن نفقہ دلانا قاضی کا کام نہیں، اسی طرح قاضی نے شفیع کے ادعا پر شفیع کی خاطر حق شفعہ کا فیصلہ سنایا، مگر مکان لے کر شفیع کو دلانا قاضی کا کام نہیں، قاضی صاحب نے حکم سنا کر ان چیزوں کو حق والوں کے لیے لازم تو کیا، لیکن یہ الزام چونکہ معنوی ہے، اس لیے قاضی کے ذمہ زبردستی یہ چیزیں لے کر حق والوں تک پہنچانا نہیں ہے۔
سوال : آپ کہیں گے پھر فتویٰ اور قضاء میں کیا فرق ہوا، فتویٰ میں بھی تو مفتی خبر دیتا ہے؟
جواب : فتویٰ میں مفتی صرف خبر دیتا ہے یعنی الاخبار عن حکم شرعی، اور اسی کو کہتے ہیں المفتی مخبر، جبکہ قضاء کی تعریف میں الزام کا اضافہ ہے، یعنی قضاء میں قاضی اخبار عن حکم شرعی کے ساتھ لازم ہونے کو بھی بتلاتا ہے، اسی کو کہتے ہیں، المفتی مخبر والقاضی مجبر۔
ثانی الزام حسی ہے یعنی لازم کرنے کے ساتھ عمل درآمد کرانا، مثلاً، شوہر کو بیوی کے نفقہ یا دین مہر ادا نہ کرنے پر زبردستی عمل کرانا یا قید کرنا، یا شفیع کو شفعہ نہ دینے پر قید کر کے اس کو شفعہ دلانا۔
اس تفصیل کے بعد امام قرافی نے قضاء کی جو تعریف کی ہے یہ ہے،
قضاء کی حقیقت و ماہیت الزام یا اطلاق ( مطلق چھوڑنا) کا انشاء ہے، دوسرے الفاظ میں کہئے،انشاءِ الزام یا انشاءِ اطلاق ہے،اور الزام سے بھی الزام معنوی مراد ہے، جیسے نفقہ، مہر اور شفعہ کا الزامی فیصلہ فقط ، اس لئے کہ قضاء اور حکم اصل الزام ( معنوی ) کے لیے ہی آتے ہیں، اور جو حکم الزام (معنوی) کے لیے ہو وہی اصل قضاء اور حکم ہے۔
وَقَالَ الْقِرَافِيُّ: حَقِيقَةُ الْحُكْمِ إِنْشَاءُ إِلْزَامٍ أَوْ إِطْلَاقٍ فَالْإِلْزَامُ : كَمَا إِذَا حَكَمَ بِلُزُومِ الصَّدَاقِ أَوْ النَّفَقَةِ أَوْ الشُّفْعَةِ وَنَحْوِ ذَلِكَ، فَالْحُكْمُ بِالْإِلْزَامِ هُوَ الْحُكْمُ.
پھر مصنف نے آگے خود فرمایا کہ الزام سے الزام حسی مراد نہیں ہے،یعنی جبراً امتثال امر ( زبردستی حکم پر عمل کرانا) یا قید کرنا وغیرہ، اس لئے کہ یہ حقیقت میں حکم ہے ہی نہیں کیوں اس سے کبھی کبھی قاضی عاجز ہوتا ہے،اگرچہ کبھی کبھی اس کے دائرۂ اختیار میں یہ ترسیم و حبس ہوتا جب امام المسلمین نے اس کو صراحتاً ( شرطہ وغیرہ دے کر کے) امتثال امر کا اختیار دیا ہو۔
فائدہ: ترسیم کے معنی ہے امتثال امر، جیسا کہ شیخ ابو الفتاح ابو غدہؒ نے الاحکام فی تمییز الفتاوی عن الاحکام وتصرفات القاضی و الامام کے حاشیہ میں لکھا ہے۔
بہرحال قضاء سے مراد الزام معنوی ( جس کے بارے میں مصنف نے فرمایا فالحکم بالالزام ھو الحکم ) ہی ہے، اس لیے کہ اس میں عجز کی صورت ہی نہیں۔
اس جگہ یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے جس کو مصنف نے بھی یوں کہہ کر بیان کیا، وقد یکون الحکم ایضاً بعدم الالزام، یعنی کبھی کبھی حکم سے عدم الزام بھی مراد ہوتا ہے، اور یہ تب ہوگا جب قاضی ایسا حکم دے جس سے عدم الزام ہی ضروری ہو، جیسے، قاضی صاحب زوجہ کے دعوی دائر کر نے پر شوہر پر نفقہ کے لزوم کا حکم دے، یہ اس کا مثبت پہلو ہے اور اس سے شوہر پر نفقہ لازم ہوگا،لیکن اگر بیوی صاحبہ ناشزہ ہو، اور شوہر کے لاکھ کہنے باوجود اپنے میکہ کو چھوڑنا ہی نہیں چاہتی ہو،تو ایسے میں چوں کہ نفقہ دینا شوہر میاں پر لازم نہیں، تو قاضی صاحب عدم الزامِ نان و نفقہ کا حکم دیں گے، اور یہ حکم کا منفی پہلو ہے، چناں چہ یہاں انشاءِ الزام کے دونوں پہلو ( الزام و عدم الزام) مراد ہیں، آگے مصنف ؒ فرماتے کہ معاملہ میں اباحت و عدم حجر متعین ہوتا ہے، یعنی اصل شئی اباحت ہے، جیسا ک اصول فقہ کا قاعدہ ہے الاصل الاباحۃ، گویا پتہ چلا اصل تو ہر معاملہ میں اباحت اور عدم حجر ہوتا ہے ہاں البتہ پابندی و حجر کسی خارجی وجہ سے طاری ہوتی ہیں۔
وَأَمَّا إِلْزَامُ الْحِسِّی مِنْ التَّرْسِيمِ وَالْحَبْسِ فَلَيْسَ بِحُكْمٍ؛ لِأَنَّ الْحَاكِمَ قَدْ يَعْجِزُ عَنْ ذَلِكَ. وَقَدْ يَكُونُ
الْحُكْمِ أَيْضًا بِعَدَمِ الْإِلْزَامِ، وَذَلِكَ إِذَا كَانَ مَا حَكَمَ بِهِ هُوَ عَدَمُ الْإِلْزَامِ، وَأَنَّ الْوَاقِعَةَ يَتَعَيَّنُ فِيهَا الْإِبَاحَةُوَعَدَمُ الْحَجْرِ.
دوسری قسم بقول امام قرافی مالکیؒ انشاءِ اطلاق ہے،
مثلاً : ایک بنجر زمین تھی، جو حاکم وقت نے زید کو بطور ملک عطا کی تھی، سالہاسال گزر گئے،پر زید اب زمین کو آباد نہیں کر رہا ہے، بلکہ یوں ہی بیکار چھوڑ رکھا ہے، تو قاضی صاحب کے پاس اس زمین کے متعلق مرافعہ گیا، اور قاضی صاحب نے زید کی ملکیت زائل کر دی۔
قاضی کا زید کی ملکیت زائل کرنا ہی اس زمین کے لیے اطلاق ( اطلاق کا انشاء) ہے، تو یہ زمین اب ہر ایک کے لیے مباح ہے، اس زمین سے مخصوص ملکیت ( ملکیت زید ) کی پابندی ہٹ گئی۔
اسی طرح قاضی نے ارض عنوۃ( وہ زمین جو دشمن سے لڑ جھگڑ کر فتح ہوئی) کو وقف علی المسلمین قرار نہ دیتے ہوے طِلْق ( مطلق چھوڑے رکھنے ) کا فیصلہ سنایا،جیسا کہ شافعیہ کا مسلک ہے، جبکہ امام مالکؒ فرماتے ہیں امام وقت چاہے تو تمام مسلمانوں کے لیے بطور وقف اس کو رکھ سکتا ہے، اسی طرح شکار، مدھو مکھیاں، کبوتر جنہیں شکار کیا گیا تھا،شکاری کے ہاتھ سے چھوٹے یا شکاری نے خود آزاد کیا، اور قاضی نے ملکیت زائل کر دی، تو یہ سب چیزیں بھی ہر ایک کے لیے اب مباح ہے، لہذا جب پہلے حاصل کرنے والے کی ملکیت زائل کر دی گئی، تو دوسرے حاصل کرنے والے کی ملکیت خود بخود ثابت ہو جائے گی۔
وَأَمَّا الْحُكْمُ بِالْإِطْلَاقِ: فَكَمَا إِذَا رُفِعَتْ لِلْحَاكِمِ أَرْضٌ زَالَ الْإِحْيَاءُ عَنْهَا، فَحَكِمَ بِزَوَالِ مِلْكِ ؛ فَإِنَّهَا تَبْقَى مُبَاحَةً لِكُلِّ أَحَدٍ وَكَذَلِكَ إِذَا حَكَمَ بِأَنَّ أَرْضَ الْعَنْوَةِ طِلْقٌ لَيْسَتْ وَقْفًا عَلَى مَا قَالَهُ جَمْعٌ مِنْ الْعُلَمَاءِ، وَالْحَاكِمُ الشَّافِعِيُّ يَرَى الطِّلْقَ دُونَ الْوَقْفِ فَإِنَّهَا تَبْقَى مُبَاحَةً وَكَذَلِكَ الصَّيْدُ وَالنَّحْلُ وَالْحَمَّامُ الْبَرِّيُّ إِذَا حِيزَ، فَحَكَمَ الْحَاكِمُ بِزَوَالِ مِلْكِ الْحَائزِ الاَوَّلِ صَارَ مِلْكًا لِلْحَائِزِ الثَّانِي.
سوال : مذکورہ تمام قسمیں اطلاقات کے قبیل سے ہیں،مگر اس کے مفہوم مخالف سے عدم الزام یا عدم اختصاص ثابت ہو رہا ہے، یعنی جب پہلے کی ملکیت زائل ہوگئ، اور دوسرے کی ملکیت ثابت، تو دوسرے کی ملکیت کا الزام پہلے والے شخص کی ملکیت کا عدم الزام یا عدم اختصاص ثابت کر رہا ہے۔
جواب : یقیناً اطلاقات میں طرفِ آخر ( مفہومِ مخالف ) سے عدم اختصاص ثابت ہو رہا ہے، لیکن یہ بطریق لزوم ثابت ہو رہا ہے، جو قاضی کا مطلوب و مقصود نہیں ہے، آپ نے ایک طالب علم سے کہا لو یہ قلم تمھارا ہے،اس کا مطلب یہ قلم دوسروں کا نہیں ہے، لیکن آپ کا مقصود اس طالب علم کو قلم دینا ہے، اس قلم پر اس طالب علم کی ملکیت ثابت کرنا ہے،دوسروں سے ملکیتِ قلم کی نفی آپ کا مقصود نہیں،اس کو یوں بھی سمجھ لیں مثلا زید نے عمرو سے کہا کھڑے رہو، اس کا مفہومِ مخالف ہے، کہ بیٹھنا نہیں ہے، لیکن یہاں زید کا مقصود صرف عمرو کو کھڑا رکھنا ہے، نہ بیٹھنے کا امر مقصود نہیں ہے، وہ تو خود بخود بطریق لزوم ثابت ہوا، اسی کو مصنف نے فرمایا کما ان المقصود الاول من الامر الوجوب،کہ امر سے مقصودِ اول وجوب ہے اگرچہ اس کی ضد اور طرف آخر سے نہی اور تحریم ثابت ہو رہی ہے، جیسے کھڑے رہنے کا امر کرنا اپنی ضد اور طرف آخر سے بیٹھنے کی نہی یعنی عدم قعود کو ثابت کرہا ہے، لیکن جب حقائق کی بات ہو تو جو رتبہ میں پہلا ہو مقصود اور روئے سخن بھی وہی ہوتا، اس کی ضد اور مفہومِ مخالف سے کیا ثابت ہو رہا ہے، اس سے بحث نہیں ہوتی، نہ وہ مقصود ہوتا ہے۔ علامہ قرافی مالکیؒ نے اپنی کتاب ”الاحکام فی تمییز الفتاوی عن الاحکام و تصرفات القاضی و الامام“ میں لکھا ہے، کہ اس قاعدے ( الکلام فی الحقائق انما یقع فیما ھو فی الرتبۃ الاولیٰ لا فیما بعدھا) سے ناواقفیت کی بنا پر علامہ ابو القاسم عبداللہ بن محمد الکعبی البلخی م٣١٧ھ نے کہا ہے کہ ہر مباح واجب ہے، اور دلیل یہ بیان کی کہ مباح کی مشغولیت حرام سے روکتی ہے، یعنی جب مباح کو اختیار کرے گا تو اس کا مطلب ہے حرام چھوڑ رہا ہے، اور ہر حرام سے بچنا واجب ہے، چناں چہ صغریٰ، کبریٰ ملا کر نتیجہ یہ نکلا کہ مباح بھی واجب ہے، علامہ قرافی مالکیؒ فرماتے یہ مذکورہ قاعدہ سے نا واقفیت کی غماز ہے کیوں اس کے من جملہ نتائج بھیانک ہیں، مثلا اسکا مطلب یہ ہوا کہ واجب مکروہ ہے، کیوں کہ واجب کی مشغولیت انسان کو مندوب سے روکتی ہے، اور مندوب کو چھوڑنا مکروہ ہے، اتنا ہی نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ بھی ہوا کہ واجب حرام ہے، کیوں کہ ایک واجب کی مشغولیت دوسرے واجب سے روکتی ہے، اور کسی بھی واجب کا ترک حرام ہے، اس لیے واج کا ارتکاب حرام ہوا وغیرہ وغیرہ، اس لیے اگرچہ اطلاقات کے طرف آخر اور مفہوم مخالف سے عدم اختصاص ثابت ہو رہا ہے، پر اس کا کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ وہ در اصل مقصود ہی نہیں ہے۔
فَهَذِهِ الصُّورَةُ وَمَا أَشْبَهَهَا كُلُّهَا إِطْلَاقَاتٌ، وَإِنْ كَانَ يَلْزَمُهَا إِلْزَامُ الْمِلْكِ عَدَمَ الِاخْتِصَاصِ، لَكِنَّ هَذَا بِطَرِيقِ اللُّزُومِ. وَالْكَلَامُ إِنَّمَا هُوَ فِي الْمَقْصُودِ الْأَوَّلِ بِالذَّاتِ لَا فِي اللُّزُومِ، كَمَا أَنَّ الْمَقْصُودَ الْأَوَّلَ مِنْ الْأَمْرِ الْوُجُوبُ. وَإِنَّمَا كَانَ يَلْزَمُهُ النَّهْيُ عَنْ الضِّدِّ وَتَحْرِيمُهُ، فَالْكَلَامُ فِي الْحَقَائِقِ إِنَّمَا يَقَعُ فِيمَا هُوَ فِي الرُّتْبَةِ الْأُولَى لَا فِيمَا بَعْدَهَا.
اس کے علاوہ حکم کے ایک معنیٰ ہے، روکنا، منع کرنا جیسے کہ کہا جاتا ہے حکمتُ السفیۃ ای منعتُ السفیہ یعنی میں نے نادان کو روکا، فلاں تصرف کرنے سے، فلاں جگہ جانے سے، اسی وجہ سے حاکم کو حکم کہتے ہیں، کیوں کہ وہ ظالم کو ظلم سے روکتا ہے، اسی طرح جب کہا جاتا ہے، حکم الحاکم تو اس کا مطلب ہوتا ہے، وضع الحق فی اھلہ و منع من لیس باھلہ، یعنی حق والے کو حق دیا، اور جو حق والا نہ تھا اس سے حق کو روکا، یہاں بھی حکم کے معنی ہے روکنا، مزید بر آں جو لوہا لگام کے کنارے اور گھوڑے کی ناک اور تالو میں ہوتا ہے ، اس کو اسی لئے عرب حکمۃ کہتے ہیں، کیوں کہ وہ ہلاکت کی جگہوں سے گھوڑے کو روکتا ہے، ابن جریر طبری نے لکھا ہے حکمۃ وہ لوہا ہے جو وہ گھوڑے کو سوار کی مخالفت سے روکتا ہے، حدیدۃ فی اللجام تکون علی انف الفرس و حنکہ تمنعہ عن مخالفۃ راکبہ،
حکم اور قضاء دونوں ایک ہیں، قضی بہت سارے معنوں کے لئے آتا ہے، ان میں ایک حکم بھی ہے، قرآن پاک میں فرمان خدا ہے، وقضی ربک الا تعبدوا الا ایاہ، حکم اور قضاء اسی طرح قاضی اور حاکم دونوں ایک ہیں۔
قَالَ غَيْرُهُ وَالْحُكْمُ فِيمَا دُونَهُ بِمَعْنَى الْمَنْعِ وَمِنْهُ حَكَمْتُ السَّفِيهَ إِذَا أُخِذَتْ عَلَى يَدِهِ وَمُنِعَتْهُ مِنْ التَّصَرُّفِ، وَمِنْهُ سُمِّيَ الْحَاكِمُ حَاكِمًا لِمَنْعِهِ الظَّالِمَ مِنْ ظُلْمِهِ وَمَعْنَى قَوْلِهِمْ: حُكْمُ الْحَاكِمِ، أَيْ: وَضْعُ الْحَقِّ فِي أَهْلِهِ، وَمَنَعُ مَنْ لَيْسَ بِأَهْلِهِ وَبِذَلِكَ سُمِّيَتْ الْحِكْمَةُ الَّتِي فِي لِجَامِ الْفَرَسِ؛ لِأَنَّهَا تَرُدُّ الْفَرَسَ عَنْ الْمَعَاطِبِ، وَالْعَرَبُ تَقُولُ: حَكَمَ وَأَحْكَمُ بِمَعْنَى مَنَعَ وَالْحُكْمُ فِي اللُّغَةِ: الْقَضَاءُ أَيْضًا، فَحَقِيقَتُهُمَا مُتَقَارِبَةٌ.
قضاء کا حکم: قضاء فرض کفایہ ہے، اور قضاء کے وجوب پر پوری امت متفق ہیں، زمانہ نبوت سے لیکر آج تک یہ کام مسلسل چلا آ رہا ہے، اور پھر حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ فرمان ”القضاء فریضۃ محکمۃ و سنۃ متبعۃ“ اس کے وجوب پر شاہد عدل ہے، ہاں اس کے لئے کوئی شخص متعین نہیں، اور نہ یہ قضاء کسی کے ساتھ خاص ہے، جس میں قضاء کی صلاحیت ہو وہ اس کام کو لے سکتا ہے، اور اس کے سپرد یہ منصب کیا جا سکتا ہے، ہاں اگر کسی شخص میں قضاء کی اہلیت ہو اور اس کے علاوہ کوئی منصب قضاء کے لائق نہیں، تو پھر اسے مجبور بھی کیا جا سکتا ہے،
وَأَمَّا حُكْمُهُ فَهُوَ فَرْضُ كِفَايَةٍ، وَلَا خِلَافَ بَيْنَ الْأَمَةِ أَنَّ الْقِيَامَ بِالْقَضَاءِ وَاجِبٌ، وَلَا يَتَعَيَّنُ عَلَى أَحَدٍ، إِلَّا أَنْ لَا يُوجَدَ مِنْهُ عِوَضٌ، وَقَدْ اجْتَمَعَتْ فِيهِ شَرَائِطُ الْقَضَاءِ فَيُجْبَرُ عَلَيْهِ.
قضاء کی حکمت: قتل و غارت اور کشیدگی کو دور کرنا،مصائب کو ختم کرنا،ظالم کو مٹانا، ظلم سے روکنا، مظلوم کی مدد کرنا،پیش آمدہ نزاعی معاملات کو فیصل کرنا، نیک کاموں کا حکم اور برے کاموں سے روکنا یہ قضاء کی حکمت ہے۔
وَأَمَّا حِكْمَتُهُ: فَرَفْعُ التَّهَارُجِ، وَرَدُّ النَّوَائِبِ، وَقَمْعُ الظَّالِمِ، وَنَصْرُ الْمَظْلُومِ، وَقَطْعُ الْخُصُومَاتِ، وَالْأَمْرُبِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنْ الْمُنْكَرِ.
No comments:
Post a Comment