Saturday, August 31, 2024

الباب الثانی، فی فضل القضاء و الترغیب فی القیام فیہ بالعدل،و حکم السعی فیہ۔


اس باب میں مصنفؒ نے قرآن و حدیث کی روشنی میں قضاء کی فضیلت کو بیان کیا ہے، فرمایا ہمارے بہت سارے اسلاف نے ولایتِ قضاء لینے سے روکا اور ڈرایا ہے اور اس سلسلے میں انتہائی مبالغے سے کام لیا ہے، اس قدر سختی، ناپسندی، اعراض اور تنفر کا اظہار کیا، جس کی وجہ سے اچھے اچھے نیک نام علماء و فقہاء کی یوں ذہن سازی ہوئی کہ جو قاضی بنایا گیا، گویا وہ دین داری سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ اور اس نے اپنے آپ کو ہلاکت میں جھونک دیا، اور اس نے افضل کام کو چھوڑ کر مفضول کام کو لیا، اور اپنے عقائد کو نقصان پہنچایا، 
مصنفؓ فرماتے ہیں ایسا کہنا یا ایسا اعتقاد رکھنا صریح غلطی ہے، اور ایسا کہنے والوں اور اعتقاد رکھنے والوں کو اپنی باتوں سے رجوع کرنا چاہئے، اور ایسا کہنے اور اعتقاد رکھنے کو اللہ پاک کے حضور مافی مانگنی چاہیے،کیوں کہ اس منصب قضاء کی تعظیم بھی ضرور ہے اور دین اسلام میں اس کی کیا قدر و منزلت ہے، اس کو جاننا بھی ضروری ہے،

 فِي فَضْلِ الْقَضَاءِ وَالتَّرْغِيبِ فِي الْقِيَامِ فِيهِ بِالْعَدْلِ، وَبَيَانُ مَحَلِّ التَّحْذِيرِ اعْلَمْ أَنَّ أَكْثَرَ الْمُؤَلِّفِينَ مِنْ أَصْحَابِنَا وَغَيْرِهِمْ بَالَغُوا فِي التَّرْهِيبِ وَالتَّحْذِيرِ مِنْ الدُّخُولِ فِي وِلَايَةِ الْقَضَاءِ، وَشَدَّدُوا فِي كَرَاهِيَةِ السَّعْيِ فِيهَا، وَرَغِبُوا فِي الْإِعْرَاضِ عَنْهَا وَالنُّفُورِ وَالْهَرَبِ مِنْهَا، حَتَّى تَقَرَّرَ فِي أَذْهَانِ كَثِيرٍ مِنْ الْفُقَهَاءِ وَالصُّلَحَاءِ أَنَّ مَنْ وَلِيَ الْقَضَاءَ فَقَدْ سَهُلَ عَلَيْهِ دَيْنُهُ، وَأَلْقَى بِيَدِهِ إِلَى التَّهْلُكَةِ،وَرَغِبَ عَمَّا هُوَ الْأَفْضَلُ، وَسَاءَ اعْتِقَادُهُمْ فِيهِ، وَهَذَا غَلَطٌ فَاحِشٌ، يَجِبُ الرُّجُوعُ عَنْهُ وَالتَّوْبَةُ مِنْهُ. وَالْوَاجِبُ تَعْظِيمُ هَذَا الْمَنْصِبِ، وَمَعْرِفَةُ مَكَانَتِهِ مِنْ الدِّينِ

کیا یہ کم ہے کہ اس منصب قضاء کے لیے انبیاء و رسل علیہم السلام کو مبعوث کیا گیا۔ 
کیا یہ کم ہے کہ اس منصب قضاء کی وجہ سے ہی آسمان و زمین کو دوام حاصل ہے۔ 
کیا یہ ان نعمتوں میں سے نہیں ہے، جن پر حسد کرنا بزبانِ رسالت مآب ؑ صفت محمود قرار دیا گیا۔ 
چنانچہ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا، حسد صرف دو شخصوں پر کرنا جائز ہے، ایک وہ جسے اللہ پاک نے مال و دولت عطا کی، او ر وہ بے دریغ راہ حق میں اپنا مال خرچ کرتا ہے، دوسرا اس شخص پر جسے اللہ پاک نے علم و حکمت سے نوازا اور وہ اس کے ذریعے لوگوں کے درمیان صحیح فیصلے کرتا ہے، اور  اپنے علم پر عمل پیرا بھی ہے۔ 

فِيهِ بَعْثُ الرُّسُلِ وَ بِالْقِيَامِ بِهِ قَامَتْ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ. وَجَعَلَهُ النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مِنْ النِّعَمِ، الَّتِي يُبَاحُ الْحَسَدُ عَلَيْهَا. فَقَدْ جَاءَ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: (لَا حَسَدَ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ:رَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ مَالًا فَسُلِّطَهُ عَلَى هَلَكَتِهِ فِي الْحَقِّ، وَرَجُلٌ آتَاهُ اللَّهُ الْحِكْمَةَ فَهُوَ يَقْضِي بِمَا وَيَعْمَلُ بِهَا).

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا، کیا تم جانتے ہو بروز قیامت اللہ پاک کے سایہ کی طرف کون سبقت کرنے والے ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کی، اللہ و رسولہ اعلم، اس پر آپ نے فرمایا، وہ لوگ جن پر حق پیش کیا گیا، اور انہوں نے بخوشی قبول کیا، وہ لوگ جن سے مانگا گیا، یا پوچھا گیا تو خرچ کیا، یا جواب دیا، وہ لوگ جنہوں نے لوگوں کے درمیان انصاف کے ساتھ اس طرح فیصلہ کیا، گویا اپنے لیے فیصلہ کیا ہو، 

وَجَاءَ مِنْ حَدِيثِ عَائِشَةَ أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ: (هَلْ تَدْرُونَ مَنِ السَّابِقُونَ إِلَى ظِلِّ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالُوا: اللَّهُ أَعْلَمُ وَرَسُوْلُهُ، قَالَ: الَّذِينَ إِذَا أَعْطُوا الْحَقَّ قَبِلُوهُ، وَإِذَا سُئِلُوهُ بَذَلُوهُ، وَإِذَا حَكَمُوا لِلْمُسْلِمِينَ حَكَمُوا کَحُكْمِهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ)

کیا یہ کم ہے کہ حدیث پاک میں آتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالی بروز قیامت سات شخصوں کو اپنے عرش کا سایہ نصیب فرمائیں گے، جس دن اللہ کے عرش کے سایہ کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا، اور سب سے پہلے نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے جس شخص کا نام لیا وہ ہے الامام العادل یعنی انصاف کرنے والا امام، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا انصاف کرنے والے بروز قیامت رحمن کے دائیں جانب نور کے ممبروں پر ہوں گے، جبکہ رحمان کے دونوں ہاتھ دائیں ہیں، بائیاں کوئی نہیں کما یلیق بشانہ، 

وَفِي الْحَدِيثِ الصَّحِيحِ: (سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِهِ"). الْحَدِيث، فَبَدَأَ بِالْإِمَامِ الْعَادِلِ. وَقَالَ لَهُ : الْمُقْسِطُونَ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى يَمِينِ الرَّحْمَنِ كِلْتَا يَدَيْهِ یَمِينُ). 

قضا کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ میں ایک دن فیصلہ کروں یہ مجھے زیادہ محبوب ہے 70 سال کی عبادت سے، یعنی ایک دن عدل و انصاف کے ساتھ حق کا فیصلہ لوگوں کے درمیان کروں یا دو فریق کے درمیان کروں یہ 70 سال کی عبادت سے زیادہ افضل ہے، تو اسی طرح لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنا، ان کے جھگڑوں کو حل کرنا یہ بھی نیک اعمال میں افضل ترین نیکی ہوگی اور اجر کے درجات میں سے بلند ترین درجہ ہوگا، تو اس اعتبار سے پتہ چلتا ہے کہ قضا کی کیا عظمت ہے اور قضا کی کتنی زیادہ قدر و منزلت ہے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک، جیسا کہ خود خداوند قدوس کا فرمان ہے، وان حکمت فا حکم بینھم بالقسط ان اللہ یحب المقسطین، کہ جب تو لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا چاہے تو انصاف سے فیصلہ کر، بیشک اللہ تعالی انصاف کرنے والوں سے محبت کرتے ہیں، یعنی جو انصاف کے ساتھ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے، اور اس عمل میں دن رات سرگرم رہے، اللہ تعالی اس سے محبت کرتے ہیں، اور اللہ کی محبت سے زیادہ بڑی چیز اور کیا ہو سکتی ہے۔ 

وَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ لَأَنْ أَقْضِيَ يَوْمًا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ عُبَادَةِ سَبْعِينَ سَنَةً. وَمُرَادُهُ أَنَّهُ إِذَا قَضَى يَوْمًا بِالْحَقِّ كَانَ أَفْضَلَ مِنْ عِبَادَةِ سَبْعِينَ سَنَةً،فَكَذَلِكَ كَانَ الْعَدْلُ بَيْنَ النَّاسِ مِنْ أَفْضَلِ أَعْمَالِ الْبِرِّ وَأَعْلَى دَرَجَاتِ الْأَجْرِ . قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: (وَإِنْ حَكَمْتَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ) الْقَاعِدَةَ (١٢).
فَأَيُّ شَيْءٍ أَشْرَفُ مِنْ مَحَبَّةِ اللَّهِ تَعَالَى؟.

یہاں سے مصنف ایک سوال مقدر کا جواب دے رہے ہیں، سوال یہ ہے کہ منصب قضاء کے متعلق تو وعد وعید، تخویف و تہدید کی احادیث مروی ہیں، پھر یہ منصب کیسے اتنی زیادہ اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے؟ 
اس کا جواب دیتے ہوئے مصنف نے فرمایا، یہ وعید و تخویف اس شخص کے سلسلے میں ہے جو ظلم و جور سے کام لے،اور نا حق فیصلہ کرے، اور ان نام نہاد عالموں اور ان جاہلوں کے بارے میں جو بغیر علم کے خود کو منصب قضاء میں داخل کرتے ہیں اور منصب قضا پر فائز ہونا چاہتے ہیں۔ 
رہی بات، ”من ولي القضاء فقد ذبح بغير السكين“ اس حدیث پاک کی، یعنی جس شخص کو قضاء کا منصب ملا گویا وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا، اگرچہ اس حدیث پاک کو بعض لوگوں نے قضا سے بچنے اور قضاء سے دور رہنے کے سلسلے میں نقل کیا ہے، لیکن بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہ حدیث پاک قضاء کی اہمیت، قضاء کے شرف اور اس کے عظیم المرتبت ہونے پر دلالت کر رہی ہے، اس لیے کہ جس شخص کو قضاء کا والی بنایا گیا، جس شخص کو قضا کا یہ عظیم منصب عطا کیا گیا،  وہ  تو اپنے نفس کے ساتھ جہاد کر رہا ہے، وہ تو اپنی خواہشات سے لڑ رہا ہے، یہ تو اس شخص کی فضیلت پر دلالت کر رہی ہے، جس نے حق کا فیصلہ کیا گویا کہ وہ امتحاناً حق کا ذبیح ہوا، یعنی حق نے اس کو ذبح کیا ہے، اور اس کے لیے ثواب کے زیادہ ہونے کی وجہ سے احساناً، یعنی اس کا ثواب بھی زیادہ ہوگا احسانا، 
جب قاضی نے اللہ تبارک و تعالی کے حکم کے لیے اپنے سرِ تسلیم کو خم کیا، اور اپنوں و بیگانوں کی مخالفت پر ان کے جھگڑنے کے سلسلے میں صبر کیا، اور ملامت گروں کی ملامت کی کوئی پرواہ نہ کی، یہاں تک کہ وہ اپنوں اور بیگانوں کو حق کی طرف لے گیا، حق پر ان کو قائم کیا، انصاف کے کلمے کی طرف لے گیا،اور انصاف پسند بات پر انہیں جما دیا۔ 
اور انہیں خواہشات و عناد کی طرف بلانے والی چیزوں سے روکا، تو وہ اللہ کے لیے حق کا ذبیح ہوا ،ان شہداء کے درجے کو پہنچا، جن شہداء کے لیے جنت واجب قرار دی گئی۔ 
اس سے آگے ایک دوسرا جواب دیا، وہ یہ کہ یہ جو حدیث وارد ہوئی ہے کہ جسے منصب قضاء عطا کیا گیا، وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا، یہ حدیث متعلق نہیں ہے، اور نہ یہ قضا سے دور رہنے کے سلسلے میں وارد ہوئی ہے یعنی قضا کی مذمت میں بیان نہیں ہوئی ہے، بلکہ قضا اہمیت بتلانے کو وارد ہوئی ہے،اس کی دلیل یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خود حضرت علی بن ابی طالب، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت معقل ابن یسار کو منصب قضاء عطا فرمایا ہے،اور ان کو قضاء کا والی بنایا ہے، اگر قضاء کا منصب کوئی برا منصب ہوتا، تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم ان کو والی قضاء نہ بناتے، ان کو قضاء کا کام عطا کرنا، اس بات کی دلیل ہے کہ قضاء کا منصب بہت اہم منصب ہے، چنانچہ کتنے اچھے حضور علیہ الصلوۃ والسلام ذابح ہوئے اور کتنے اچھے مذبوح و ذبیح حضرت علی ابن ابی طالب، حضرت معاذ بن جبل اور حضرت معقل ابن یسار ہوئے۔ 
بس پتہ چلا کہ وعد و وعید کی جو احادیث شریعت میں وارد ہوئی ہیں، وہ ظلم و جور کے سلسلے میں ہیں، نہ کہ مطق قضاء کے سلسلے میں، اس لیے کہ احکام میں ظلم و جور اور احکام بتلانے میں یا فیصلہ کرنے میں خواہشات کی اتباع کرنا یہ سنگین اور گناہ کبیرہ میں سے ہے، چنانچہ ارشاد باری ہے، واما القاسطون فکانوا لجھنم حطباً، اور بہرحال ظلم کرنے والے سو وہ جہنم کے لیے ایندھن ہیں، اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا بے شک لوگوں میں اللہ کا سب سے زیادہ نافرمان اور لوگوں میں اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک سب سے زیادہ مبغوض، لوگوں میں اللہ تبارک و تعالی سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہے، جس شخص کو اللہ پاک نے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کے معاملے کا ولی بنادیا،  لیکن وہ ان کے درمیان انصاف سے کام نہ لے۔ 
اور بہرحال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا قاضی تین طرح کے ہیں، ایک قاضی جنت میں جائے گا اور دو طرح کے قاضی جہنم میں جائیں گے، وہ قاضی جس نے حق پر عمل کیا، حق تک پہنچ گیا اور حق کا ہی فیصلہ کیا، یہ قاضی جنت میں جائے گا، دوسرا قاضی وہ ہے جو حق تک پہنچ گیا، جس نے حق کو جان لیا، لیکن پھر بھی سرکشی کرتے ہوئے ظلم کیا، تو یہ قاضی جہنم میں جائے گا، اور تیسرا قاضی وہ جس نے بغیر علم کے فتوی دیا، اور اپنے لیے اس بات کو عار سمجھا کہ لوگ کہیں گے کہ اس کو تو پتہ ہی نہیں، چنانچہ بغیر علم کے فتوی دے دیا اور غلط فتوی دیا،ایسا قاضی بھی جہنم میں جائے گا، بہرحال اس میں جو دو قاضیوں کو جہنم میں جانے کی جو بات آئی ہے، وہ ظالم قاضی اور اس جاہل کے بارے میں ہے، جنہیں منصب قضاء میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ 
اسی طرح جو علم کے ساتھ حق تک پہنچنے کی کوشش کرے، حق تک پہنچنے کی جدوجہد کرے،اور پھر بھی غلطی کر جائے، حق تک نہ پہنچنے پائے،تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ جب کوئی حاکم، کوئی مجتہد کوشش کرتا ہے، کوشش کرتے ہوئے حق تک پہنچ جاتا ہے،اللہ تبارک و تعالی اس کو دہرا اجر عطا فرماتے ہیں، اور جو حق تک پہنچنے کی کوشش کرے اور پھر بھی غلطی کر جائے اس کو بھی ایک اجر ضرور ملتا ہے۔ 
اور اسی طرح کا حکم قران پاک نے بھی بیان کیا ہے چنانچہ ارشاد خداوندی ہے کہ داؤد اور سلیمان کا ذکر بھی قابل یاد ہے کہ جب انہوں نے ایک کھیت کے سلسلے میں فیصلہ کیا جبکہ اس کھیت میں ایک شخص کی بکریاں کود پڑی تھیں، اور ہم ان کے فیصلے کرنے کے وقت حاضر تھے، ہم نے سلیمان کو اس فیصلے کی خاص سمجھ عطا فرمائی، جبکہ ہم نے دونوں کو علم و حکمت سے نوازا تھا۔ 
اس ایت کریمہ میں اللہ جل شانہ نے حضرت داؤد علیہم الصلوۃ والسلام کی تعریف کی ہے ان کے اجتہاد کرنے کے بعد فیصلہ کرنے پر جبکہ سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام نے داؤد علیہ الصلاۃ والسلام سے زیادہ انفع اور زیادہ درست فیصلہ کیا تھا تو سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کی تعریف تو اللہ نے فرمائی ہی لیکن ساتھ میں داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کی تعریف بھی فرمائی ان کے اجتہاد کرنے پر۔ 
یہ ایت کریمہ ایک خاص واقعہ سے تعلق رکھتی ہے واقعہ یہ پیش آیا کہ ایک شخص کی بکریاں دوسرے شخص کی کھیت میں چلی گئیں اور اس کا فصل تباہ کر دیا اب ان دونوں میں جھگڑا ہوا یہ دونوں حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس صلح کرانے آگئے داؤد علیہ الصلاۃ والسلام نے دونوں میں اس طرح صلح کی کہ کی بکری والے سے کہا کہ اپ کھیت والے کو بقدر نقصان معاوضہ دو یعنی جس قدر آپ کی بکریوں نے اس کھیت والے کا نقصان کیا ہے آپ اس مقدار جرمانہ ادا کرو، یہ دونوں شخص جب صلح کرا کر وہاں سے واپس لوٹ رہے تھے تو سامنے حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام مل گئے اور حضرت سلیمان علیہ السلام نے ان دونوں سے پوچھا کہ حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا فیصلہ فرمایا تو ان دونوں نے اپنا یہ فیصلہ سنا دیا اس کے بعد حضرت سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ میرے ذہن میں اور ایک ترکیب آرہی ہے، اور ایک فیصلہ میرے ذہن میں آ رہا ہے میں اگر وہ فیصلہ آپ کو سناؤں شاید وہ زیادہ بہتر رہے گا تو اس کے بعد سلیمان علیہ الصلاۃ والسلام نے اس طرح صلح فرمائی کہ جس شخص کی بکریاں دوسرے کی کھیت میں چلی گئیں تھی اس کو حکم دیا کہ آپ اپنی بکریاں اس کھیت والے کو دو اور کھیت والے سے کہا آپ اپنا کھیت اس بکری والے کو دو اور بکری والے سے کہا کہ آپ اس کھیت کی کھیتی کرو اور اس کی کھیتی تیار کرو اور کھیتی والے سے کہا کہ آپ ان بکریوں سے دودھ لیتے رہو اور ان کی خدمت کرتے رہو پھر جب اس کھیت میں دوبارہ فصل آ جائے گی اور کھیت تیار ہوگا تب آپ اپنا کھیت لیجئے گا اور ان بکریاں انہیں لوٹا دیجیے گا۔ سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کا یہ فیصلہ اس لیے زیادہ نفع بخش اور زیادہ اچھا تھا کیونکہ اس میں کسی بھی فریق کا کوئی نقصان نہیں تھا دونوں کے لیے نفع ہی نفع تھا، جبکہ حضرت داؤد علیہ الصلاۃ والسلام نے جو فیصلہ فرمایا تھا اس میں بکری والے کا تو نقصان تھا، اور کھیت والے کا نفع۔ 
اب دیکھیے اس آیت کریمہ میں اللہ تبارک و تعالی نے حضرت داؤد علیہ الصلوۃ والسلام کی تعریف بھی فرمائی ان کے اجتہاد کرنے کے بعد فیصلہ کرنے پر یعنی اجتہاد پر اور سلیمان علیہ الصلوۃ والسلام کی بھی تعریف فرمائی ان کے درست حکم دینے پر اور درست حکم تک پہنچنے پر۔ 
اسی طرح اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے کہ جو ہمیں پانے کے لیے کوشش کرتا رہے ہم انہیں ضرور بضرور اپنی راہیں سجائیں گے،اور بے شک اللہ تبارک و تعالی احسان کرنے والوں کے ساتھ ہیں۔ 
بس ضروری ہے جو شخص منصب قضا پر فائز ہوا کہ حق قائم کرنے میں اور عدل و انصاف قائم کرنے میں پوری جدوجہد صرف کرے، پوری کوشش کرتا رہے چنانچہ بعض ائمہ مذاہب رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ قضا ایک آزمائش، جو شخص قاضی بنا گیا گویا وہ بڑی آزمائش میں پڑا، بڑی آزمائش میں مبتلا ہوا اس لیے کہ اس نے اپنے آپ کو ہلاکت کے لیے پیش کیا اس لیے کہ اب اس سے چھٹکارا جس میں یہ مبتلا ہوا ہے بہت دشوار ہے اسی لیے تو نبی علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا من ولی القضاء فقد ذبح بغیر سکین، جو منصب قضا کا والی بنایا گیا گویا کہ وہ بغیر چھری کے ذبح کیا گیا اور اسی طرح ابن ابی زیب کی روایت میں ہے کہ اس کو چھری سے ذبح کر دیا گیا گویا کہ اس میں یہ بتایا گیا ہے کہ یہ بہت بڑی آزمائش ہے، یہ اپنے آپ کو ہلاکت کے لیے پیش کرنا ہے اس میں ہر ہر قدم پھونک پھونک کے انسان کو اٹھانا پڑتا ہے، بڑی آزمائش کی چیز ہے، اس لیے جب تک انسان سے ہو سکے وہ اس آزمائش سے دور رہے تو بہتر ہوگا کیونکہ اگر اس میں انسان پڑ گیا تو پھر انسان کو بہت زیادہ جدوجہد کرنی پڑے گی اور انسان مختلف قسم کے ہوتے ہیں، سستی و کاہلی انسان کو میراث میں ملی ہے، انسان بہت کمزور ہے ہر اعتبار سے تو انسان سے کبھی کبھی اونچ نیچ ہو ہی جائے گی اس لیے بہتر ہے کہ اس سے دوری رہے اور اگر منصب قضا پر فائز ہوا تو اب اسے کوئی دقیقہ نہیں چھوڑنا چاہیے حق کے قیام میں اور عدل و انصاف کے قائم کرنے میں۔ 
حضرت ابو قلابہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ قاضی کی مثال سمندر میں تیرنے والے کی سی ہے کہ کتنی ہی مرتبہ وہ تیرتا ہے اور غرق ہو جاتا ہے، ڈوب جاتا ہے، بعض ائمہ نے فرمایا کہ متقین کا شعار اس منصب قضا سے دور رہنا اور اس سے کنارہ کش ہونا ہے اور ائمہ مشاقین میں سے ایک جماعت جن کی اقتدا کی جاتی ہے انہوں نے اس منصب قضا سے دوری اختیار کی، اور اس قدر دوری اختیاری کی کہ انہوں نے تکلیف پر صبر کیا یعنی ان کو اس قضا سے دور رہنے پر حکام وقت کی طرف سے جو کلفتیں اور اذیتیں پہنچیں انہوں نے ان تکالیف کو برداشت کیا لیکن منصب قضا کو قبول نہیں کیا، حضرت امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے قصہ کی طرف ہی دیکھ لیجئے کہ انہوں نے کس قدر اس سے دوری اختیار کی حالانکہ حاکم وقت نے ان کو پس زنداں رکھااور تکالیف دیں،  لیکن انہوں نے تکلیفیں  جھیلیں، اذیتوں کو برداشت کیا لیکن منصب قضاء سے دور رہے اسی طرح بہت سارے ائمہ ہیں جن کی مثال پیش کی جا سکتی ہے کہ انہیں منصب قضاء کے لیے بلایا گیا منصب قضا کے لیے طلب کیا گیا لیکن انہوں نے منصب قضاء کو کسی بھی حالت میں قبول نہیں کیا۔ 
خود حضرت ابو قلابہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ مصر بھاگ گئے جب انہیں قضا کے لیے طلب کیا گیا یعنی قضا سے دور رہنے کے لیے مصر بھاگ گئے اور حضرت ایوب رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے جب حضرت ابو قلابہ سے ملاقات کی تو حضرت ایوب نے انہیں ترغیب دی کہ آپ قضا کے منصب کو قبول کیجئے، اور عرض کی کہ اگر آپ ثابت قدم رہے تو آپ یقینا بڑا اجر پائیں گے، لیکن حضرت ابو قلابہ نے جواب میں فرمایا کہ سمندر میں غرق ہونے والا کب تک تیرتا رہے گا آخر کار تو اسے ڈوبنا ہی ہے، حضرت ابو قلابہ کا وہ کلام اور جو اس سے پہلے گزرا کہ ”قاضی عالم کی مثال سمندر میں تیرنے والے کی سی ہے کہ کتنی ہی مرتبہ وہ تیرتا ہے اور ڈوب جاتا ہے“ اور یہ کلام جو اس وقت بیان کیا گیا کہ ” سمندر میں ڈوبنے والا کب تک تیرتا رہے گا “ اور اس جیسے دوسرے کلام جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ جو منصب قضا کا والی بنایا گیا اس کو بغیر چھری کے ذبح کیا گیا یہ تمام کلام وعد وعید تہدید و تخویف پر محمول ہے، اور یہ اس شخص کے حق میں ہے جو جانتا ہو کہ میں کمزور ہوں مجھ میں منصب قضاء پر فائز ہونے کی صلاحیت نہیں ہے، جانتا ہو کہ میرے پائے استقلال میں ثبات نہیں ہے، اپنی کمزوریوں سے خوب خوب واقف ہو یہ وعیدات اس شخص کے لیے ہیں، لیکن جو جانتا ہو کہ میں منصب قضاء کے لائق ہوں، میری اندر درستگی کا فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہے، اور اپنے آپ میں کوئی کمزوری نہ پاتا ہو اس کے لیے یہ وعید نہیں ہے، اسی طرح یہ اس کے لیے وعید ہے جو اپنے آپ کو منصب قضاء کا اھل تو پاتا ہو لیکن لوگ اسے منصب قضاء کے لائق نہیں سمجھتے۔ 
بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس شخص کے حق میں کوئی خیر نہیں جو اپنے آپ کو کسی چیز کا اھل تو پاتا ہو، لیکن لوگ اسے اس چیز کا اہل نہیں پاتے اور لوگوں سے مراد یہاں علماء ہے یعنی علماء کا اس کو اس چیز کا اہل سمجھنا ضروری ہے،چنانچہ اس طرف کی صفت سے جو شخص متصف ہو، اس کا منصب قضاء سے دور رہنا ضروریہے،  اور اپنے نفس کی سلامتی چاہنا ایک لازمی امر ہے۔ 
جان لینا چاہیے کہ قضا کا طلب کرنا اور قضا کے طلب حرص و لالچ رکھنا یہ حسرت و ندامت ہوگی قیامت کے لمحات میں، چنانچہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام سے مروی ہے کہ آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ عنقریب تم لوگ حصولِ امارت پر حرص و لالچ کرو گے، امارت کے ملنے کے دلدادہ وہو گے، جب کہ یہ امارت کا طلب کرنا باعث حسرت و باعث ندامت ہے قیامت کے دن میں، کتنی ہی اچھی ہے دودھ پلانے والی اور کتنی بری ہے دودھ چھڑانے والی،
سو جو شخص قضاء کو طلب کرے گا اور قضاء کا ارادہ رکھتا ہو اور قضا پر حرص و لالچ رکھتا ہو تو قضا کو اسی کے سپرد کیا جائے گا اور اس پر ہلاکت کا خوف کھایا جائے گا اور جو منصب قضا کا طلبگار نہ ہو، منصب قضا کا چاہنے والا نہ ہو لیکن اس پر زبردستی کی گئ اور اس آزمائش میں اس کو ڈالا گیا اور اسے منصب قضاء عطا کیا گیا، جب کہ وہ اس منصب قضاء کو ناپسند کرتا ہو اپنے لیے، اس سلسلے میں اپنے اوپر خوف کھاتا ہو، تو اللہ تبارک و تعالی اس منصب قضاء پر اس کی مدد فرمائیں گے۔ 
نبی علیہ الصلوۃ والسلام سے مروی ہے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ جس نے قضاء کو طلب کیا اور اس پر مدد چاہی یعنی لوگوں سے مدد کا طلبگار رہا، سفارش کرواتا رہا اور اس طرح سے قضاء کو حاصل کیا، تو قضاء کو اسی کے سپرد کیا جائے گا اب فیصلہ کا سارا دارومدار اسی پر رہے گا، اور جو قضاء کا طلبگار نہ ہو اور نہ اس پر کسی سے مدد چاہی اور پھر بھی اس کو قضاء کا منصب ملا جبکہ وہ قضاء کا طلبگار نہ تھا تو اللہ تبارک و تعالی ایک فرشتہ نازل فرمائیں گے، جو اس کو درست کی طرف لے جائے گا، یعنی الله پاک اس کی امداد کریں گے، تاکہ وہ درستگی کا فیصلہ کرے نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے عبدالرحمن! تم امارت کو طلب مت کرنا اس لیے کہ اگر تمہیں امارت بغیر مانگے مل گئی تو  تمہاری اس پر مدد کی جائے گی اور اگر تم نے سوال کر کے امارت کو حاصل کیا، طلب کر کے امارت کو حاصل کیا تو یہ قضاء کا کام تمہارے سپرد کر دیا جائے گا، اللہ تبارک و تعالٰی کی طرف سے تم مدد نہ کئے جاؤ گے۔ 
یہاں سے مصنفؒ یہ مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ اگر کسی شخص نے رشوت دے کر منصب قضاء کو حاصل کیا تو اس قاضی کا کیا حکم ہے،مصنفؒ نے یہاں دو کتابوں کا حوالہ پیش کیا (١) خلاصۃ الفتاوی نمبر (٢) نوازل، فرماتے ہیں کہ خلاصۃ الفتاوی میں لکھا ہے کہ جس نے رشوت دے کر منصب قضاء کو حاصل کیا ہے اس کا سرے سے قاضی بننا ہی صحیح نہیں ہے جب وہ سرے سے قاضی بنا نہیں تو اس کا حکم بھی نافذ نہیں ہوگا، اسی طرح اگر امام نے رشوت لے کر کسی کو قاضی بنایا یا امام نے خود رشوت تو نہیں لی لیکن قوم نے رشوت لی اور امام جانتا تھا اس کے ما تحتوں نے رشوت لی  تو کہتے ہیں کہ اس امام کا کسی کو قاضی بنانا صحیح نہیں ہے کیوں کہ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ خود رشوت دے کر قاضی بنا ہو، اور نوازل میں لکھا ہے جس کسی شخص نے رشوت دے کر منصب قضاء کو حاصل کیا یا ناجائز سفارش کرا کر منصب قضاء کو حاصل کیا اس کی حیثیت اس شخص کی سی ہے جسے حکم بنایا گیا ہو یعنی جسے دو فریقین نے اپنا حکم بنایا ہو، حکم اور قاضی میں یہ فرق ہے کہ حکم کا فیصلہ صرف فریقین کے درمیان نافذ ہوتا ہے اور انہی تک محدود رہتا ہے جبکہ قاضی کا فیصلہ ایک قوم اور ایک قبیلے اور پورے علاقے پر بھی نافذ ہو سکتا ہے اور دوسرا فرق یہ ہے کہ حکم جب کوئی فیصلہ کرتا ہے تو قاضی اس فیصلے کو توڑ سکتا ہے، کیونکہ یہ حکم امام المسلمین کی طرف سے نہیں بنا ہے بلکہ فریقین نے خود اسے حکم چنا ہے، جبکہ قاضی امام المسلمین کی طرف سے قاضی بنتا ہے، اس لیے قاضی اگر کوئی فیصلہ کرے تو کوئی دوسرا قاضی  پہلے قاضی کے فیصلے کو نہیں توڑ سکتا ہے، کیونکہ ایک اجتہاد دوسرے اجتہاد کے لیے ناقص نہیں ہوتا ہے، بلکہ اجتہاد سے کوئی اونچی دلیل پہلے اجتہاد کے لیے ناقص ہو سکتی ہے ایک اجتہاد کے لیے دوسرا اجتہاد ناقص نہیں ہوتا اسی لیے پہلے قاضی کا فیصلہ دوسرا قاضی نہیں توڑ سکتا ہے، چنانچہ نوازل میں لکھا ہے کہ اگر کسی شخص نے رشوت دے کر منصب قضاء کو حاصل کیا یا ناجائز سفارش کے طور پر منصب قضاء کو حاصل کیا، اس قاضی کی حیثیت حکم کی طرح ہے، اس کا لازمی نتیجہ کیا نکلا کہ اگر اس کا کیا ہوا فیصلہ کسی دوسرے قاضی کے پاس لے جایا گیا تو قاضی اس میں غوروفکر کرے گا اگر اسے اپنی رائے کے موافق پاتا ہے تو اسے برقرار رکھے گا اگر موافق نہیں پاتا اپنی رائے کے تو اس کو توڑ سکتا ہے، اسی طرح جو رشوت دے کر منصب قضاء کو حاصل کرے جب اس کا فیصلہ نافذ نہیں ہوا تو اس کے فیصلے کو توڑنے کی بھی ضرورت نہیں توڑا تو اس کو جائے گا جو نافذ ہو جب یہ نافذ ہی نہیں ہوا تو اسے توڑنے کی چنداں ضرورت نہیں، آگے مصنفؒ فرماتے ہیں جس کسی نے جائز سفارش کرا کر منصب قضاء کو حاصل کیا،جبکہ پہلے فرمایا تھا کہ ناجائز سفارش کرا کر منصب قضاء کو حاصل کیا، کہتے ہیں کہ وہ اس شخص کی طرح ہے جس کو حق کے ساتھ قاضی بنایا گیا ہو گویا اس کا قاضی بننا جائز سفارش کے ذریعے سے صحیح ہے لہذا اس کا فیصلہ بھی نافذ ہوگا۔ 
اس کے بعد مصنفؒ دوسرا مسئلہ ذکر کر رہے ہیں،کہ ایک شخص قاضی بنایا گیا، قاضی بننے کے بعد اگر اس قاضی نے رشوت لی اور اس کے بعد کوئی فیصلہ کیا تو اس سلسلے میں تین اقوال ذکر فرمائے (١) قاضی نے جن معاملات و فیصلوں میں رشوت لی ان میں اس کا حکم نافذ نہیں ہوگا اور جن معاملات و فیصلوں میں رشوت نہیں لی ان میں قاضی کا حکم نافذ ہوگا یہ محیط کی بات تھی محیط میں یہی مسئلہ لکھا ہے، (٢) نوادر ابن رستم میں ہے کہ جن معاملات و فیصلوں میں رشوت لی ان میں بھی نافذ ہوگا اور جن معاملات و فیصلوں میں رشوت نہیں لی ان میں بھی قاضی کا حکم نافذ ہوگا، (٣) بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ دونوں طرح کے فیصلوں میں، دونوں طرح کے معاملات میں قاضی کا حکم بالکل نافذ نہیں ہوگا، اصل میں اس اختلاف کی بنیاد اس چیز پر ہے جو حضرات فرماتے ہیں کہ دونوں معاملات میں یعنی جن فیصلوں میں رشوت لی یا جن فیصلوں میں رشوت نہیں لی قاضی کا حکم نافذ ہوگا ان حضرات کا موقف یہ ہے کہ جب اس کو امام نے قاضی بنایا اب وہ کیسے فیصلہ کرتا ہے یہ اس پر ہے، دوسری بات یہ حضرات کہتے کہ قاضی قاضی بننے کے بعد فاسق ہو گیا تو محض فسق کی وجہ سے وہ خود بخود معزول نہیں ہوتا بلکہ قضاء پر برقرار رہتا ہے، جب قضا پر برقرار رہا تو اس کا کیا ہوا فیصلہ بھی نافذ ہوگا یہ الگ مسئلہ ہے کہ اس نے رشوت لی، اس کا گناہ اس کے سر ہوگا، اس سے قاضی کے کئے ہوئے فیصلہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن جو حضرت فرماتے ہیں دونوں طرح کے فیصلوں میں (جن فیصلوں میں رشوت لی یا جن فیصلوں میں رشوت نہیں لی) اس کا حکم نافذ نہیں ہوگا  ان حضرات کا موقف یہ ہے کہ قاضی جب فاسق ہو گیا تو وہ منصب قضاء سے خود بخود معزول ہو گیا، اور جب معزول ہوگیا تو اس کا کیا ہوا فیصلہ نافذ نہیں ہوگا۔ 
خیر یہ تین قول اس سلسلے میں مصنفؒ نے ذکر کیے (١) جن فیصلوں اور جن معاملات میں قاضی رشوت لے ان میں اس کا حکم نافذ نہیں ہوگا اور جن معاملات و فیصلوں میں رشوت نہ لے وہ فیصلے نافذ ہوں گے (٢) جو نوادرِ ابن رستم میں ہے کہ دونوں طرح کے فیصلوں میں قاضی کا حکم نافذ ہوگا اور (٣) جو بعض مشائخ کا ہے کہ دونوں طرح کے معاملات میں قاضی کا حکم بالکل نافذ نہیں ہوگا۔ 
آگے مصنفؒ فرماتے ہیں کہ شمس الائمہ سرخیؒ نے پہلے قول کو لیا ہے،پہلے قول کو اختیار فرمایا ہے، وہ قول یہ ہے کہ جن معاملات میں رشوت لے ان میں فیصلہ نافذ نہیں ہوگا اور جن فیصلوں میں رشوت نہ لے وہ فیصلے نافذ ہوں گے،
آگے مصنفؒ فرماتے ہیں کہ قاضی صاحب کے بیٹے نے رشوت لی یا قاضی صاحب کے بعض کارکنوں نے رشوت لی پس اگر یہ رشوت لینا قاضی صاحب کے حکم یا اس کی رضامندی سے ہو یعنی قاضی صاحب جانتے تھے میرا بیٹا رشوت لے رہا ہے یا میرے بعض کارندے رشوت لے رہے ہیں اور قاضی صاحب خاموش رہے تو فرماتے ہیں یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ خود قاضی رشوت حاصل کر رہا ہے، جب ایسا ہے تو قاضی کا فیصلہ مردود ہوگا،قاضی کے فیصلے کی اب کوئی حیثیت نہیں، اور اگر یہ رشوت لینا قاضی کے علم کے بغیر ہو تو قاضی کا حکم نافذ ہوگا البتہ جس نے رشوت لی ہے اسے چاہئے کہ جو رشوت حاصل کی ہے وہ واپس لوٹا دے اور اگر رشوت قاضی نے لی اور اس کے بعد فیصلہ کیا یا فیصلہ کیا اور اس کے بعد رشوت حاصل کی یا قاضی کے بیٹے نے رشوت لی یا اس شخص نے رشوت لی جن کی شہادت قاضی کے حق میں قابلِ قبول نہیں، جیسے کہ بیٹا یا باپ کہ ان کی شہادت انسان کے حق میں قبول نہیں ہوتی ہے،  کہتے ہیں کہ اس قاضی کا حکم بالکل نافذ نہیں ہوگا اس لیے کہ یہ ایسا ہی ہے گویا کہ اپنے نفس کے لیے کام کر رہا ہے یا اپنے بیٹے کے لیے کام کر رہا ہے۔
اور اگر قاضی صاحب نے دیکھا کہ اگر میں فیصلہ کروں اور رشوت لوں تو یہ گناہ ہے، اس لئے اس نے یہ حیلہ کیا کہ رشوت تو خود لی لیکن پھر فیصلہ کے لیے دوسرے قاضی کے پاس بھیج دیا،مثلا کسی شافعی قاضی کے پاس، یوں سمجھیے کہ رضاعت کا مسئلہ تھا احناف کے نزدیک ایک گھونٹ ہو یا دو گھونٹ، جتنے بھی پیے ہوں، ایک ہی قطرہ کیوں نہ ہو  رضاعت ثابت ہوتی ہوگی مگر جب مدت رضاعت میں  کسی نے عورت کا دودھ پیا ہو، جبکہ شوافع حضرات فرماتے ہیں کہ جب تک نہ کم از کم پانچ گھونٹ پئے ہوں گے تب تک رضاعت کا حکم ثابت نہ ہوگا، چناں چہ اس نے رشوت خود لی اور پھر شافعی قاضی کے پاس فیصلہ کے لیے فریقین کو بھیج دیا، تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے کہتے ہیں کہ دوسرے قاضی کا فیصلہ نافذ نہیں ہوگا، اس لیے کہ پہلے والے قاضی نے اپنی ذات کے لیے کام کیا ہے اس لیے کہ اس نے رشوت لی، ہاں اگر دوسرے قاضی کے پاس تو بھیجا تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے، لیکن پہلے والے قاضی نے ان کے معاملہ کی نوعیت یہاں خود لکھی، اور اس کے بعد دوسرے قاضی کے پاس بھیجا، اور ان سے کتابتِ معاملہ کی اجرت وصول کی، اس صورت میں جس قاضی کے پاس یہ معاملہ بھیجا جائے گا جب وہ فیصلہ کرے گا تو اس کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا اس لیے کہ پہلے والے نے جو پیسے وصول کیے ہیں وہ لکھائی کے پیسے ہیں کتابت کی اجرت ہے، رشوت نہیں ہے، اس لیے کہ کسی بھی قاضی کے ذمے معاملہ لکھنا نہیں ہے،معاملہ کی نوعیت اور کوئی لکھتا ہے، قاضی تو صرف فیصلہ سناتا ہے، قاضی تو لکھا ہوا معاملہ پڑھتا ہے، اور اس کے بعد فیصلہ کرتا ہے یہ معاملہ کس نے لکھا ہے یہ قاضی کے ذمے نہیں ہے، اس لیے اگر قاضی معاملہ خود لکھتا ہے اور اس کی اجرت لینا چاہیے تو اس کی اجرت حاصل کر سکتا ہے، ذخیرہ نامی کتاب میں اسی طرح مسئلہ کی عبارت ہے۔
یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ علیہ امام محمد رحمہ اللہ تعالی سے یہ عبارت نقل فرما رہے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالی سے مروی ہے کہ جب خلیفہ کا حکم یعنی خلیفہ کی کتاب خراسان کے گورنر کو پہنچی اور اس میں یہ لکھا تھا کہ آپ خراسان کے فقہاء و علماء کو جمع کیجئے اور ان سے ان کے قاضی کے بارے میں پوچھئے، اگر خراسان کے فقہاء و علماء اپنے قاضی پر راضی نہ ہوں تو پھر اس موجودہ قاضی کو معزول کیجئے تو خراسان کے گورنر نے ایسا ہی کیا یعنی جیسا کہ خلیفہ کا حکم تھا اس نے خراسان کے فقہا و علماء کو جمع کیا اور ان سے ان کے قاضی کے بارے میں پوچھا اور وہ موجودہ قاضی پر راضی نہ تھے لیکن اس نے خراسان کے موجودہ قاضی کو معزول نہیں کیا، جیسا کہ خلیفہ کی کتاب میں لکھا تھا، اور خلیفہ کا حکم جس کا متقاضی تھا اس لیے کہ خراسان کے علماء و فقہاء موجودہ قاضی پر راضی نہ تھے، مگر گورنر نے رشوت لی اور اسے معزول نہیں کیا تو امام محمد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہ قاضی اپنے قضاء پر برقرار رہے گا، یہ معزول نہیں ہوگا اس لیے کہ خلیفہ کے پاس معزول نہیں ہوتا ہے وہ جس کو خلیفہ معزول ہی نہ کرے اور یہاں بھی یہ قاضی معزول نہیں ہوگا اس لیے کہ اس کو خراسان کے موجودہ گورنر نے معزول نہیں کیا ہے یعنی خراسان کے گورنر کو جو اختیار ملا تھا خلیفہ کی طرف سے اس نے اس اختیار کو استعمال میں نہیں لایا، اس اختیار کی پیروی نہیں کی اور جب انہوں نے ابھی اس اختیار پر عمل درآمد کیا ہی نہیں تو وہ موجودہ قاضی اپنے قضاء پر برقرار رہے گا وہ معزول نہیں ہوگا اس کے برخلاف اگر خلیفہ نے گورنر کو لکھا کہ آپ فقہاء و علماء کو جمع کیجئے اور ان سے کسی شخص کے بارے میں پوچھیے اگر وہ کسی شخص پر اجماع کرتے ہیں اور اس پر راضی ہوتے ہیں تو اسے قاضی بنا دیجئے اور جس پر وہ راضی نہیں ہوتے ان میں سے کسی کو قاضی نہ بنائیے یعنی خلاصے کے طور پر جس پر وہ راضی ہوتے ہیں اسے قاضی بنا دیجیے تو گورنر نے علماء و فقہاء کو جمع کیا ان سے لوگوں کے بارے میں پوچھا لوگوں نے فلاں شخص کے بارے میں رائے دی کہ فلاں شخص کو قاضی بنا دیا جائے، اور ایک شخص پر انہوں نے اجماع کیا، لیکن اس گورنر نے رشوت لی اور جس پر فقہاء نے اجماع کیا تھا اس شخص کو قاضی نہ بنا کر کسی دوسرے شخص کو قاضی بنایا تو امام محمدؒ فرماتے ہیں کہ یہ شخص قاضی نہیں بنے گا اس لیے کہ اس کو جو اختیار دیا گیا تھا وہ ایک شرط کے ساتھ مشروط تھا اور وہ شرط پائی ہی نہیں گئی کہ خلیفہ کا حکم تھا جس شخص پر فقہاء راضی ہو جائیں،،جس شخص پر فقہاء اجماع کریں گے اس کو قاضی بنا دیجئے گویا خلیفہ کا حکم اجماعِ فقہاء پر منحصر ہے اور یہاں جس کو قاضی بنایا جا رہا ہے اس کے حق میں وہ شرط نہیں پائی جا رہی ہے کیونکہ فقہاء اس پر راضی نہیں ہیں،وہ غیر مجمع علیہ ہے، گویا کہ خلیفہ کا حکم پایا نہیں گیا اور جب خلیفہ کا حکم نہیں پایا گیا تو وہ شخص قاضی نہیں بن سکتا اسی کو امام محمد رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ یہ شخص اس لیے قاضی نہیں بنے گا کیونکہ جس شخص ( خلیفہ) کو قضاء کی تولیت حاصل تھی، قضاء کی ولایت حاصل تھی، اس کے حکم کے بغیر اس کو قاضی بنایا گیا ہے، اس لئے یہ قاضی نہیں بن سکتا ہے۔ 
ابن شریح شافعی رحمہ اللہ تعالی کے تلامذہ میں سے ابو العباس بھی ہیں کتاب ”ادب القاضی“ میں وہ لکھتے ہیں کہ جس شخص نے سرکشی کر کے قضاء کو قبول کیا، جو شخص سرکشی کر کے عہدہ قضاء پر فائز ہوا اور عہدہ قضاء کو حاصل کرنے کے لیے اس نے رشوت دی تو کہتے ہیں کہ اس کا قضاء کا عہدہ حاصل کرنا باطل ہے، اس کا کیا ہوا فیصلہ مردود ہے، اگرچہ وہ حق کا فیصلہ کرے، جب بھی اس کا فیصلہ کرنا مردود ہے اس وجہ سے کہ اس نے سرکشی کر کے عہدہ قضاء کو قبول کیا ہے اور اس نے قضاء کو حاصل کرنے کے لیے رشوت دی ہے۔ 
آگے ایک مسئلہ اور بیان فرماتے ہیں گویا یہ دو مسئلے ہیں، ایک مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے حاکم کو رشوت دی کہ آپ فلاں شخص کو معزول کیجئے اور مجھے اس کی جگہ قاضی بنا دیجیے دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے قاضی صاحب کو رشوت دی کہ آپ فلاں شخص کو معزول کیجئے قطع نظر اس سے کہ اس کو قاضی بنایا جائے یا نہ بنایا جائے اس بارے میں اس نے کچھ نہیں بتایا۔ 
ان دونوں مسئلوں میں فرق ہے پہلا مسئلہ جب ایک شخص نے حاکم وقت کو رشوت دی یہ کہہ کر کہ آپ فلاں قاضی کو معزول کیجئے اور مجھے اس کی جگہ قاضی بنائیے فرماتے ہیں اس کا قاضی بننا بھی مردود ہے، اس کی ولایت بھی مردود ہے اور اس کا فیصلہ بھی مردود ہوگا اور اگر رشوت دی کہ آپ فلاں شخص کو معزول کیجئے لیکن اپنی ولایت کا کوئی ذکر نہیں کیا کہ مجھے آپ قاضی بنا دیجئے اور پھر پہلے قاضی کو معزول کیا گیا رشوت کے ذریعے اور اس کے بعد اس رشوت دینے والے کو قضاء کے لیے طلب کیا گیا، حاکم وقت نے اسے منصب قضاء دینا چاہا بغیر رشوت کے یعنی اب منصب قضاء کو لینے کے لیے رشوت الگ سے نہیں دے رہا ہے رشوت تو صرف اس لیے دی تھی کہ فلاں قاضی کو معزول کیجیے، اس کا حکم الگ ہے، کہ یہاں اب جس کو معزول کیا گیا ہے اس کو دیکھا جائے گا اگر وہ عادل شخص تھا، انصاف کرنے والا تھا تو پھر اس کے معزول کرنے پر اس کا رشوت دینا اور حاکم وقت کا رشوت لینا بالکل حرام ہے، اور وہ اپنے ولایت پر باقی رہے گا وہ معزول نہیں ہوگا، کیونکہ وہ عادل ہے، وہ انصاف پرور ہے، ہاں تب معزول ہوگا جب حاکم وقت نے اس کو معزول کرنے سے پہلے پہلے رشوت لوٹا کر توبہ کی ہو، اس لیے کہ حاکم وقت کا رشوت لوٹا کر توبہ کر کے اب اگر وہ اس کو معزول کر رہا ہے تو اس کا مطلب ہے وہ خود اس کو معزول کر رہا ہے وہ کسی کے رشوت دینے پر اسے معزول نہیں کر رہا ہے اور حاکم وقت کو اختیار ہے وہ کسی کو قاضی بنائے رکھے اور کسی کو عہدۂ قضاء سے بغیر کسی عذر کے معزول کرے۔ 
اسی طرح فرماتے ہیں کہ جس کو اب قاضی بنایا گیا یعنی دوسرا قاضی اس کا فیصلہ بھی باطل ہے اس کا تعلق پیچھے عبارت سے ہے یعنی جہاں فرمایا تھا کہ رشوت دینا عادل قاضی پر حرام ہے وہ اپنی ولایت پر برقرار رہے گا معزول نہیں ہوگا، اس پر اس کا عطف ہے کہ جس شخص کو اس کے مقابلے میں قاضی بنایا گیا ہے اس کا فیصلہ بھی باطل ہے کیونکہ جب وہ معزول ہی نہیں ہوا تو دوسرا قاضی بنا ہی نہیں اس لیے اس دوسرے قاضی کا فیصلہ مردود ہے ہاں تب اس کا فیصلہ مردود نہیں ہوگا جب کہ اس نے بھی رشوت واپس لے کر توبہ کی ہو، یعنی اس شخص (جس نے رشوت دی تھی)نے بھی توبہ کی اور اس ( حاکم وقت جس نے رشوت لی تھی)نے بھی توبہ کی تو پھر اگر حاکم وقت نے کسی کو معزول کیا اور اس دوسرے شخص کو قاضی بنایا بغیر کسی رشوت کے، اب رشوت کا اس میں کوئی دخل نہیں، تو اس کا قاضی بننا بھی صحیح ہے اور اس کا فیصلہ کرنا بھی صحیح ہوگا۔ 
دوسرا مسئلہ ذکر کر رہے ہیں، ابھی تک تو یہ فرمایا تھا کہ اگر وہ عادل تھا تو معزول کو دیکھا جائے گا، اگر وہ عادل تھا تو یہ مسئلہ تھا جو ذکر کیا گیا، لیکن اگر وہ ظالم ہے، جابر ہے،،تو پھر جو دوسرا قاضی ہے اس کا فیصلہ باطل نہیں ہوگا، کیونکہ پھر اس دوسرے کا قاضی بننا صحیح ہے اور اس پہلے والے کا معزول ہونا صحیح ہے۔ 
یہاں سے یہ مسئلہ بیان فرماتے ہیں کہ طلب قضاء کا کیا حکم ہے کہ انسان خود قضاء کے لیے اپنے آپ کو پیش کر رہا ہے خود اپنے ذات کو پیش کر رہا ہے منصب قضا کے لیے تو اس کے لیے کیا حکم ہے مصنف فرماتے ہیں کہ مناسب نہیں انسان کے لیے کہ وہ عہدہ قضاء کے لیے خود کو پیش کرے ہاں وہ شخص جس کو اپنی ذات پر بھروسہ ہو جس کو پتہ ہو کہ میں انصاف کر سکتا ہوں جس کو پتہ ہو کہ لوگوں میں میری ضرورت ہے میں لوگوں کے ساتھ انصاف سے پیش آ سکتا ہوں وہ اپنے آپ کو پیش کر سکتا ہے اور اسے پتہ ہے کہ یہاں اس جگہ کوئی قاضی بھی نہیں ہے اور اس کی ذات متعین ہے قضاء کے لیے تو یہ اپنے آپ کو قضاء کے لیے پیش کر سکتا ہے اسی طرح وہ شخص جس کو امام وقت، امام عادل قضاء کے لیے جبر کرے کیونکہ امام عادل کو اجبار کا حق حاصل ہے کہ وہ کسی نیک انسان پر زبردستی کرے کہ آپ عہدہ قضاء کو قبول کیجئے اگر امام وقت ضرورت محسوس کرے، تو یہ امام وقت کی ذمہ داری ہے، لیکن اس شخص کی ذمہ داری ہے جب امام وقت اس کو زبردستی کرے عہدہ قضاء قبول کرنے کے لیے تو اس شخص کی ذمہ داری یہ ہے کہ یہ اس چیز سے بھاگنے کی کوشش کرے اور اس سے دور رہنے کی کوشش کرے مگر یہ کہ جس شخص کو پتہ ہو کہ یہاں میرے علاوہ کسی میں قضاء کی صلاحیت نہیں ہے کوئی میرے علاوہ قاضی بنے تو وہ لوگوں کے ساتھ ظلم کر سکتا ہے چونکہ اس کی ذات پھر قضاء کے لیے متعین ہے تو پھر اس کے لیے قضاء کا قبول کرنا واجب ہے اور اسی طرح ایسا شخص جس کو پتہ ہے کہ یہ ایسی جگہ ہے یہاں پر میرے سوا کوئی قضاء کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے تو اس وقت اس کے لیے اس سے دور بھاگنا اس سے روکنا جائز نہیں ہے بلکہ اس پر اس کی طلب میں، اس کو حاصل کرنے میں کوشش کرنا واجب ہے اس لیے کہ اس فرض کے ساتھ اس کا قیام متعین ہو گیا ہے اور اس پر دلالت کر رہا ہے اللہ تبارک و تعالی کا فرمان جو یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے قصے کو نقل کر رہا۔ اللہ پاک نے بیان کیا ہے کہ عزیز مصر سے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے از خود یہ فرمایا تھا کہ آپ مجھے خزانہ کا ذمہ دار بنا دیجئے تاکہ ہم لوگوں کو اس میں سے غلہ دیں،،ہم کو اس کا ذمہ دار بنا دیجئے اس لیے کہ ہم اس کی خوب خوب حفاظت بھی کرنے والے ہیں اور ہم اس کے بارے میں کچھ نہ کچھ علم بھی رکھتے ہیں تو یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے خود یہ عہدہ طلب کیا تھا تو یہ دلیل ہے کہ عہدے قضاء طلب کیا جا سکتا ہے جب انسان کو پتہ ہو میں لوگوں کے ساتھ انصاف کر سکتا ہوں اور میں ایسی جگہ پر ہوں جہاں میرے سوا کوئی قضاء کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے اس لیے کہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام قوم کفار کے درمیان تھے اور یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کا ارادہ تھا کہ ان کی اصلاح بھی کر سکیں اور ان کو اللہ تبارک و تعالی کی طرف بلا بھی سکیں اس ولایت میں دوڑ دھوپ کر نے کی اس کے علاوہ کوئی اور مقصد نہ تھا۔ 
دوسری بات یا دوسری دلیل یہ ہے کہ بندوں کے درمیان جو رزق بانٹنے والا ہوتا ہے رزق دینے کا یعنی راشن دینے کا جو ذمہ دار ہوتا ہے اس کی طرف لوگوں کی گردنیں جھکتی ہیں اور بڑے سے بڑا سخت دل ہو وہ بھی اس کے سامنے مجبور ہو جاتا ہے اور اس کے دروازے سے کوئی بے نیاز نہیں ہوتا سب کو اس کی ضرورت پڑتی ہے کیونکہ رزق کی طلب سب کو ہوتی ہے اس لیے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بطور خاص مرتبے اور اس عہدے کو طلب کیا نہ کی کوئی اور امارت یا وزارت یعنی وہ وقت کے بادشاہ عزیز مصر سے کسی چیز کی امارت بھی طلب کر سکتے تھے کوئی وزارت بھی طلب کر سکتے تھے لیکن آپ نے ان کو چھوڑ کر اس غلہ کے عہدے کو طلب کیا۔ 
 مصنف فرماتے ہیں کہ یہ نہ کہا جائے کہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام نے اس عہدے کو اس لیے طلب کیا تھا تاکہ وہ عہدہ اپنے بھائیوں کی ملاقات کا ذریعہ بن سکے یعنی وہ اس تک ملاقات کا ذریعہ بن سکے، یہ بات ہرگز نہیں ہے،اس لیے کہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی ذات اس سے بہت زیادہ بلند اور اس سے بہت زیادہ کامل تھی ہاں یہ ضروری ہے اگرچہ یہ غرض بھی تھی لیکن یہ طبعی طور پر تھی یعنی طبعی طور پر یہ غرض تھی، اس کے اطراف میں سے تھا کہ یوسفؑ کے بھائی ان تک پہنچے گے، حالانکہ یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کی غرض نہیں تھی لیکن یہ خود بخود اس میں طبعی طور پر شامل تھی جب یوسف علیہ الصلوۃ والسلام اس عہدے کے والی ہو گئے تو ان کے بھائیوں کے لیے اس کے پاس آنا بھی ضروری ہو گیا اور یہ طبعی طور پر تھا کیونکہ ان کے بھائیوں کو بھی غلہ وغیرہ کی ضرورت تھی اسی کو فرمایا کہ بے شک یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بھائی ان کے لیے کوئی چارہ نہ تھا غلہ سے اور قوت یعنی کھانے پینے کی چیزوں کے طلب سے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام سے، درود ہو یوسف علیہ الصلوۃ والسلام پر ہمارے نبی اور تمام انبیاء و مرسلین پر صلی الله علیہم و سلم۔ 

طلب قضاء کی پانچ قسمیں ہیں یعنی قضاء کا طلب کرنا پانچ قسموں پر منقسم ہے، (١) واجب (٢) مباح (٣) مستحب (٤) مکروہ (٥) حرام
پہلی وجہ ! قضاء کا طلب کرنا واجب ہے جب کہ ایک انسان اہل اجتہاد میں سے ہو اور اہل علم میں سے ہو، اسی طرح صاحب عدل بھی ہو، یا یہ ایسی جگہ پر ہو جہاں کوئی قاضی بھی نہیں ہے یا قاضی تو ہے لیکن اس کے لیے ولایت درست نہیں یعنی اس کا قاضی ہونا درست نہیں ہے یا یہ اس شہر میں ہے کہ اس کے علاوہ وہاں کوئی شخص قاضی بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا یا یہ خود ایسا عالم ہے کہ اگر یہ قاضی نہ بنا تو پھر ایسے شخص کو قاضی بنایا جائے گا جس کے لیے قاضی بننا درست نہیں یا قضاء کا منصب ایسے شخص کے ہاتھوں میں ہے، ایسے شخص کے قبضے میں ہے جس کا قضا پر باقی رہنا اب درست نہیں ہے اور کوئی صورت بھی نہیں اس کو معزول کرنے کی بجز اس کے کہ اس کو منصب قضاء عطا کیا جائے تو ان تمام صورتوں میں قضاء کا کام اس کے لیے متعین ہے اور اس شخص کو اس میں کوشش کرنی چاہیے جبکہ یہ قضاء کے طلب سے ارادہ رکھتا ہو حقوق کی حفاظت کا اور شریعت کے مطابق احکام کے جاری و نافظ کرنے کا، اس لیے کہ اس شخص کے منصب قضاء کے حاصل کرنے میں فرض کفایہ کا قیام عمل میں آئے گا۔ 
دوسری وجہ! قضاء کا حاصل کرنا مباح ہے اس شخص کے لیے جو خود فقیر ہو اور صاحب عیال بھی تو جائز ہے اس کے لیے قضاء کے حصول میں کوشش کرنا تاکہ وہ اپنے فقر کو روک دے اور اسی طرح جب اس کا ارادہ اپنے نفس سے ضرر کو دور کرنا ہو تو اس کے لیے قضا کا حاصل کرنا مباح ہے۔ 
تیسری وجہ! قضاء کا حاصل کرنا مستحب کس کے لیے ہے، جب کوئی عالم ایک ایسی جگہ میں ہو کہ لوگوں سے اس کا علم پوشیدہ ہو اور امام ارادہ کرے کہ منصب قضا اس کو سپرد کر کے اس کی تشہیر کرے تاکہ وہ عالم صاحب جاہل کو بتلائے اور پوچھنے والے کو فتوی دے یا یہ شخص خود گمنام ہو، نہ ہی امام اس کو پہچانتا ہے نہ لوگ اسے جانتے ہیں اور یہ شخص خود کوشش کرے قضاء کے طلب میں تاکہ اس کا مبلغ علم اور اس کی علمی پہچان جانی جائے تو اس شخص کے لیے منصب قضاء کا حاصل کرنا مستحب ہے، اور اس نیت سے منصب قضاء میں داخل ہونا بھی مستحب ہے، بعض حضرات فرماتے ہیں کہ قضاء کا طلب کرنا اس شخص کے لیے بھی مستحب ہے جو شخص قضاء کے لیے متعین تو نہیں ہے لیکن یہ شخص اپنے آپ کو زیادہ حقدار، زیادہ درست اور مسلمانوں کے لیے زیادہ نفع بخش سمجھتا ہے ایسے شخص سے جس کو منصب قضاء سپرد کیا جائے جب کہ وہ دوسرا شخص بھی تولیت کا مستحق ہے لیکن وہ نفع بخش اس سے کم ہے اور یہ مسلمانوں کے لیے اس سے زیادہ نفع بخش ہے۔ 
چوتھی وجہ یعنی قضا کا طلب کرنا مکروہ ہے! 
ہر اس شخص کے لیے جو لوگوں پر غلبے اور جاہ و منصب کے حصول کے لیے قضا کے طلب میں تگ و دو کرتا ہو اس کے لیے قضا کے طلب میں کوشش کرنا مکروہ ہے اور اسی طرح بعض حضرات نے فرمایا کہ حرام ہے اور حرام کہنے کی وجہ بھی ظاہر ہے کیونکہ اللہ تبارک و تعالی کا ارشاد ہے کہ یہ آخرت کا گھر ہے ہم نے ہر اس شخص کے لیے بنایا ہے جو زمین میں فساد و تعلی کا ارادہ نہ کرتے ہوں اور انجام کار پرہیزگاروں کے لیے ہے اور مکروہ ہے قضا کا طلب کرنا اس شخص کے لیے جو قضا کے ذریعے رزق لینے سے بے نیاز ہو اور مشہور بھی ایسا ہو کہ قضا کے ذریعے اس کا مبلغ علم اور اس کی شخصیت محتاج تعارف نہ ہو
پانچویں وجہ قضاء کا طلب کرنا حرام ہے اس شخص کے لیے جو منصب قضاء کے حصول کے لیے کوشش کرتا ہو جب کہ وہ ایسا جاہل ہو جس میں قضاء کی سرے سے کوئی صلاحیت ہی نہیں یا وہ عالم تو ہے اور منصب قضاء کے حصول کے لیے کوشش کرتا ہے لیکن وہ موجبِ فسق کاموں میں پڑا ہوا ہے یا وہ منصب قضاء کی ولایت سے ارادہ رکھتا ہو اپنے دشمنوں سے انتقام کا یا فریقین سے رشوت حاصل کرنے کا یا اس کے علاوہ جتنے بھی مقاصد قبیحہ ہے ان کا ارادہ رکھتا ہو تو اس شخص کے لیے قضا کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کرنا حرام ہے۔ 

No comments:

Post a Comment