Friday, January 27, 2023

الاختلاف کتاب الصلاۃ 3

____ ما جاء فیمن زاد الرکعۃ الخامس فی الرکعۃ الاخیرۃ______
مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں اگر کوئی چار رکعت پر تشہد پڑھے بغیر کھڑا ہو کر پانچویں رکعت بھی پڑھے تو چاہئے کہ وہ چھٹی رکعت بھی ملاے تا کہ یہ نفل ہو جاے اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں بس سجدۂ سہو کر لے نماز درست ہو جاے گی۔ 
اشعار۔ 
پانچ رکعت پڑھ لے کوئی بے تشہد کیا ہوا
نزدِ اعظم چھے اگر پڑھ لے نفل ہوگا ادا
پر ثلاثہ نے کہا سہو کا سجدہ کرے
اس طرح ما زادہٗ کا کچھ تو جرمانہ بھرے
____ما جاء فیمن یشک فی الزیادۃ و النقصان______
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں جس کسی کو نماز میں شک ہو کہ تین رکعت پڑھی ہیں یا چار رکعت اس کو چاہے اقل پر بنا کرے اور سجدۂ سہو کر لے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں تحری کر کے غالب گمان پر عمل کرے اور جس کو غالب گمان ہوتا  ہی نہیں بلکہ تردد ہی ہے تو وہ ائمہ ثلاثہ کے قول پر عمل کرے۔ 
اشعار۔ 
کم، زیادہ میں ہو شک گر کتنی رکعت پڑھ چکا
سجدہ ہے نزدِ ثلاثہ اور اقل پر ہے بناء
بو حنیفہ نے کہا کیجے تحری بر گمان
بے گماں کو ہے ثلاثہ کا عمل ہی مہربان
_______ما جاء فی الصلاۃ علی الدابۃ________
مسئلہ۔ امامِ ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں سواری پر جماعت قائم نہیں کی جا سکتی ہے اور ائمہ ثلاثہ و امام محمد فرماتے ہیں پڑھ سکتے ہیں کوئی کراہت نہیں ہے۔ 
شعر۔ 
نزدِ اعظم پھر سواری پر جماعت ہے نہیں
پر ثلاثہ اور محمد سے کراہت ہے نہیں
___________الصلاۃ بعد طلوع الفجر_________
مسئلہ۔ جمہور فرماتے ہیں آذان کے بعد قبل الفجر صرف دو رکعت مسنون ہے اور شوافع کے نزدیک نفل بھی پڑھ سکتے ہیں ۔ 
شعر۔ 
نزدِ جمہورِ ائمہ دو ہے بس قبل الفجر
نفل بھی پڑھ لے شوافع کا ہے یہ قول و اثر
______ما جاء فی الاضطجاع بعد رکعتی الفجر____
مسئلہ۔ ظاہریہ کہتے ہیں سنتِ فجر اور نماز فجر کے درمیان تھوڑی دیر سونا واجب ہے اور امام شافعیؒ فرماتے ہیں سنت ہے اور جمہور کے نزدیک درمیان سنت و فجر سونا سنت نہیں ہے کیوں کہ یہ حضورﷺ کی سنت ہے لیکن سنت عادیہ۔ 
اشعار۔ 
اور سونا درمیانِ سنت و فجرِ صلاۃ
شافعی کہتے ہیں سنت بعض ظاہر واجبات
یہ ہے سنت عادیہ پھر نزدِ جمہورِ عظام
اس لئے سنت نہیں کہلاے گا ایسا مقام
_______اذا اقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ الا المکتوبۃ_____
مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں اگر نماز فجر کے فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو دو سنتیں ضرور پڑھ لے اور امام شافعیؒ و امامِ احمدؒ فرماتے ہیں جماعت کھڑی ہونے کے بعد کوئی نماز نہیں چاہیے فجر کی سنتیں ہی کیوں نہ ہو حنفیہ و مالکیہ کی تائیدات میں ایسے بہت واقعات صحابہ کرام ؓ سے مروی ہیں کہ وہ جماعت کھڑی ہونے کے بعد سنت فجر پڑھتے تھے جیسے حضرت عبداللہ بن عمر کے بارے امام طحاوی نے نقل کیا ہے۔ 
اشعار۔ 
فجر کی سنت پڑھے گا گر جماعت ہو کھڑی
گر نہ ہو فوتِ جماعت نزدِ اعظم، مالکی
نزدِ احمد، شافعی بعد الاقامۃ لا صلاۃ
پر صحابہ سے ہیں مروی اس طرح کے واقعات
______ما جاء فیمن یصلی سنۃ الفجر بعد الفجر____
مسئلہ۔ جو شخص فجر سے پہلے دوگانہ سنت ادا نہ کر سکا تو امام شافعیؒ و امام احمدؒ فرماتے ہیں بعد الفجر ادا کر لے امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے بعد الفجر سنت نہیں پڑھے گا بلکہ طلوع شمس کے بعد دو نفل ادا کر لے
اشعار۔ 
فجر کی سنت پڑھے بعد الفجر چھوٹے کبھی
نزدِ احمد، شافعی قبلِ طلوعِ شمس بھی
کر سکے نا جو فجر کی سنتیں پہلے ادا
نزدِ اعظم مالکی بعدِ طلوع ہے پھر روا
__________ما جاء فی الاربع قبل الظہر_________
مسئلہ۔ ظہر نماز سے پہلے امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ کے نزدیک چار رکعت سنت ہے اور امام شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک دو رکعت مسنون ہے
شعر۔ 
چار سنت نزدِ اعظم، مالکی قبل الظہر
نزدِ احمد، شافعی ملتی ہے دو کی بھی خبر
_________ما جاء ان صلاۃ اللیل مثنیٰ مثنیٰ_____
مسئلہ۔ جمہور کہتے ہیں رات کو نفل دو دو رکعت پڑھنا افضل ہے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں رات کو بھی چار رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھے گا اور صاحبین ؒ کے نزدیک بھی رات کو دو دو کر کے پڑھے گا حنفیہ کا فتویٰ اسی قول پر ہے۔ 
اشعار۔ 
نزدِ جمہورِ ائمہ رات کو ہے دو و دو
بو حنیفہ نے کہا ہے اربعاَ لیلاً پڑھو
صاحبَین حنفیہ بھی کہتے ہیں مثنیٰ پڑھو
ہم اسی مسلک پہ دیتے آج ہے فتویٰ پڑھو
__________ما جاء فی الصلاۃ عند الزوال_________
مسئلہ۔ زوال کے وقت چار رکعت مسنون ہے امام شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک اور امام ابوحنیفہؒ و امام احمدؒ کی ایک روایت یہ ہے کہ زوال کے وقت کوئ نماز نہ پڑھے 
شعر۔ 
چار پڑھ لو نزدِ احمد، شافعی عند الزوال
بو حنیفہ اور احمد کو ہے اس میں کچھ مقال
___________کتاب العیدین___________
مسئلہ۔ جس پر جمعہ واجب ہے اس پر نماز عید بھی واجب ہے البتہ حکم صلوٰۃ مختلف فیہ ہے ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں نماز عید سنت ہے اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں عید کی نماز واجب ہے
شعر۔ 
اور نمازِ عید ہے جس پر ہے جمعَہ واجباً
نزدِ حنفیہ مگر نزدِ ثلاثہ سنتاً
___________اذا اجتمع العید و الجمعۃ___________
مسئلہ۔ اگر جمعہ و عید کی نماز ایک دن میں جمع ہو جائیں تو امام احمدؒ فرماتے ہیں عید کی نماز پڑھ لو جمعہ کی نماز ساقط ہو جاے گی جمعہ کو نہیں پڑھنا ہے ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں دونوں الگ الگ نمازیں ہیں ایک کے پڑھ لینے سے بھلا دوسری نماز کیسے ساقط ہو جاے گی دونوں نمازوں کو اپنے اپنے وقت پر ادا کرے گا۔ 
اشعار۔ 
اجتماعِ عید و جمعہ ایک دن میں ہوگیا
نزدِ احمد عید پڑھ لو جمعہ پھر ساقط ہوا
ہاں صلاۃِ جمعہ بھی پڑھ لے ثلاثہ نے کہا
اک فرض سے فرض ثانی یوں نہیں ساقط ہوا
______ما جاء فی عدد التکبیر فی العیدین_______
مسئلہ۔ نماز عید میں امام مالکؒ و امام احمدؒ کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے علاوہ گیارہ تکبیریں زوائد ہیں پہلی رکعت میں چھے اور دوسری میں پانچ اور امام شافعیؒ کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے سوا بارہ تکبیریں زوائد ہیں پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں نماز عید میں تکبیر تحریمہ کے سوا چھے تکبیریں زوائد ہیں پہلی رکعت میں تین دوسری میں تین۔ 
اشعار۔ 
نزدِ مالک اور احمد گیارہ تکبیریں ہیں کل
شافعی کہتے ہیں زائد بارہ تکبیریں ہیں کل
بو حنفیہ نے کہا کل تو چھے تکبیر ہیں
تین پہلے دوسری میں تین یہ تحریر ہیں
پہلے چھے ہیں نزدِ احمد، مالکی پھر پانچ ہیں
سات پہلے کہتے ہیں یہ شافعی پھر پانچ ہیں
تین تکبیریں ہیں پہلے بو حنیفہ نے کہا
دوسری میں تین ہیں یہ کل اصل کے ما سوا
_____ما جاء فی محل التکبیر فی العیدین_______
مسئلہ۔ نماز عید میں زوائد تکبیروں کا محل کیا ہے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں پہلی رکعت میں قبل القرأت اور دوسری رکعت میں بعد القرأت کہی جائیں گی اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں دونوں رکعتوں میں قبل القرأت کہی جائیں گی۔ 
اشعار۔ 
پہلی میں قبل القراءت دوسری میں بعدہٗ
نزدِ حنفیہ عمل ہے اس طرح سے ہو بہ ہو
دونوں رکعت میں زوائد ہیں قراءت سے قبل
نزدِ اصحاب ثلاثہ ہے یہی حکمِ اصل
____ما جاء فی رفع الیدین عند التکبیر فی العیدین__
مسئلہ۔ نماز عید میں تکبیر تحریمہ اور زوائد میں یعنی ہر تکبیر پر رفع الیدین بھی ہوگا یہ ائمہ اربعہ کا مسلک ہے امام مالکؒ سے اک روایت یہ ہے کہ صرف تکبیر تحریمہ میں ہی ہاتھ اٹھاے گا زوائد میں نہیں۔ 
شعر۔ 
پھر اٹھاۓ ہاتھ دونوں یہ ثلاثہ نے کہا
اک روایت نزدِ مالک بس اصل میں ہی اٹھا
_______لا صلاۃ قبل العیدین ولا بعدھا__________
مسئلہ۔ امام شافعیؒ کے نزدیک عید کے دن نماز عید سے پہلے بھی اور بعد میں بھی نوافل پڑھ سکتا ہے البتہ امام کے لئے مکروہ ہے جمہور ائمہ عید کے دن نوافل پڑھنے کو روا نہیں سمجھتے ہیں البتہ امام صاحب گھر میں پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں۔ 
شعر۔ 
عید کے دن نفل پڑھ لے پر ہے مکروہ للامام
یہ ہے نزدِ شافعی ،جمہور نے روکا تمام
_________ما جاء فی صلاۃ الاستسقاء__________
مسئلہ۔ تمام ائمہ متفق ہیں کہ نماز عید سنت ہے امام ابوحنیفہؒ کی طرف جو عدم سنت کی نسبت کی جاتی ہے وہ غلط ہے امام صاحب بھی سنت کے قائل ہیں۔ 
شعر۔ 
اور استسقاء ہے سنت اربعہ نے ہے کہا
عدم سنت نزدِ اعظم ایسا کہنا ہے خطا
__________ما جاء فی کیفیۃ الاستسقاء_______
مسئلہ۔ امامِ ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں نماز استسقاء عام نمازوں کی طرح ہے اور امامِ شافعیؒ و امام احمدؒ فرماتے ہیں اس میں زوائد تکبیریں بھی ہیں۔ 
شعر۔ 
اور استسقاء ہے نزدِ اعظم و مالک نماز
نزدِ احمد، شافعی تکبیرات کا بھی ہے جواز
____ما جاء فی تحویل الرداء فی الاستسقاء______
۔مسئلہ۔ پھر امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں تحویل رداء ( چادر کا پلٹنا) صرف امام کے لے ہے اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں مقتدی بھی پلٹیں گے۔ 
شعر۔ 
اور تحویلِ رداء ہے نزدِ اعظم للامام
مقتدی نزدِ ثلاثہ بھی کریں گے التزام
_______ما جاء فی صلاۃ الکسوف و الخسوف______
مسئلہ۔ کسوف ( سورج گرہن) میں جماعت بالاتفاق سنت ہے اور خسوف ( چاند گرہن) میں صرف امامِ احمدؒ و امام شافعیؒ کے نزدیک جماعت سنت ہے۔ 
شعر۔ 
اور ہے سنت جماعت نزدِ کل پھر در کسوف
نیز سنت نزدِ احمد، شافعی ہے در خسوف
__________طریقۃ صلاۃ الکسوف_______
مسئلہ۔ سورج گرہن ہو جاے تو امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں عام نمازوں کی طرح نماز پڑھ لو اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں صلاۃ کسوف میں چار رکوع ہوں گے۔ 
شعر۔ 
دو رکوع ہے گرہَنِ سورج میں نزدِ حنفیہ
ہاں رکوع ہے چار اس میں یہ ثلاثہ نے کہا
___________کیف القراۃ فی الکسوف________
مسئلہ۔ صاحبین ؒ اور امام احمدؒ فرماتے ہیں صلاۃ کسوف میں جہرا قرأت ہوگی اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں سرا قرأت ہوگی اور صلاۃ خسوف میں بالاتفاق جہر ہوگا
شعر۔ 
نزدِ یعقوب و محمد اور احمد ہے جہر
در کسوفِ شمس کہتے ہیں ثلاثہ مخفی تر
______________ما جاء فی سجود القرآن_________
مسئلہ۔ امامِ ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں تلاوت کے سجدے واجب ہیں اور ائمہ ثلاثہ کہتے ہیں سنت ہیں کیوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ ایک جمعہ آپ نے سجدہ کی آیت تلاوت فرمائی اور سجدہ نہیں کیا۔ 
شعر۔ 
نزدِ اعظم ٹھہرا واجب ہیں تلاوت کے سجود
اور ثلاثہ نے کہا سنت، عمر سے ہے ورود
________الاختلاف فی عدد السجدۃ التلاوۃ______
مسئلہ۔امام مالکؒ فرماتے ہیں قرآن میں کل گیارہ سجدے ہیں امام ابوحنیفہؒ و امام شافعیؒ فرماتے ہیں قرآن میں کل چودہ سجدے ہیں البتہ فرق یہ کہ امامِ شافعیؒ فرماتے ہیں سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں اور سورۂ صاد میں سجدہ ہے ہی نہیں امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں سورۂ حج میں ایک ہی ہے اور سورۂ صاد میں ایک اور امام احمدؒ فرماتے ہیں قرآن میں کل پندرہ سجدے ہیں حج میں دو اور صاد میں  ایک سمیت۔ 
اشعار۔ 
گیارہ سجدے نزدِ مالک ہیں فقط قرآن میں
نزدِ احمد پندرہ سجدے یہ بھی ہے فرمان میں
نزدِ اعظم، شافعی ہے چودہ سجدوں کا ثبوت
حج میں نزدِ شافعی دو صاد میں ٹھہرا سکوت
______ما جاء فی السجدۃ علی الثوب__________
مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں بدن کے ساتھ متصل کپڑے پر شدت برودت و حرارت کی وجہ سے سجدہ کرنا مکروہ ہے جمہور کہتے ہیں متصل کپڑے پر عذراً سجدہ کرنا جائز ہے
شعر۔ 
متصل کپڑے پہ سجدہ نزدِ جمہورِ عظام
ہے روا پر شافعی کہتے ہیں مکروہ ایسا کام
_______ما جاء فی الاغتسال عند ما یسلم الرجل___
مسئلہ۔ امام احمدؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں جو کوئی اسلام قبول کرے اس پر غسل واجب ہے امام ابوحنیفہؒ و امام شافعیؒ فرماتے ہیں نو مسلم پر غسل مستحب ہے ہاں اگر قبل از اسلام موجبات غسل میں سے کوئی چیز پائی گئی تب واجب ہی ہوگا۔ 
اشعار۔ 
اور نو مسلم کرے گا غسل ہے از واجبات
احمد و مالک کا اس جانب ہے ثابت التفات
شافعی و بو حنیفہ نے کہا ہے مستحب
گر غسل ہو پہلے واجب تو حکم ہے قد وجب

الاختلاف کتاب الصلاۃ 2


____ما یقول الرجل اذا رفع رأسہ من الرکوع______

مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں رکوع سے اٹھتے وقت تسمیع و تحمید ( سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا و لک الحمد) امام و مقتدی دونوں کا وظیفہ ہے امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں امام تسمیع کہے گا اور مقتدی تحمید یعنی دونوں میں تقسیم ہے اور امام احمدؒ و صاحبین فرماتے ہیں امام تسمیع و تحمید دونوں کہے گا اور مقتدی صرف تحمید کہے امام طحاویؒ فرماتے ہیں حنفیہ کا مفتی بہ قول یہی ہے۔ 

اشعار۔ 

حمد و تسمیعِ رفع ہے للامام و مقتدی
بس یہی تو حکم دیتے ہیں امام شافعی
بولیں تسمیع بس ائمہ مقتدی تحمید کو
نزدِ اعظم اور مالک ہے عمل تحدید کو
نزدِ یعقوب و محمد اور احمد للامام
دونوں کا پابند ٹھہرا مقتدی حمداً تمام
_________ما جاء فی وضع الیدین قبل الرکبتین_______

مسئلہ۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں سجدے میں جاتے وقت پہلے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے جائیں گے پھر دونوں گھنٹے اور جمہور کہتے ہیں پہلے گھنٹے رکھے جائیں گے پھر دونوں ہاتھ۔ 

شعر۔ 
نزدِ مالک پہلے رکھو سجدے میں  دونوں یدین
نزدِ جمہور ائمہ پہلے رکھو رکبتین
_______ما جاء یقول بین السجدتین______

مسئلہ۔ امام شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک دونوں سجدوں کے درمیان یعنی جلسے میں ذکر مسنون ہے اور امام مالکؒ و امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک جلسے میں ذکر مسنون نہیں البتہ امام اعظم کے نزدیک اگر کوئی پڑھ تو کوئی حرج نہیں۔ 

اشعار۔ 
درمیانِ دونوں سجدے نزدِ احمد، شافعی
ذکرِ اِغفر اور اِرحم ٹھہرا ہے مسنون بھی
نزدِ اعظم اور احمد ذکر تو سنت نہیں
نزدِ اعظم گر کوئی پڑھ لے تو پھر کلفت نہیں
________ما جاء فی جلسۃ الاستراحۃ________

مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں پہلی رکعت اور تیسری رکعت کے بعد جلسۂ استراحت سنت ہے اور ائمہ ثلاثہ نے فرمایا جلسۂ استراحت سنت نہیں ہے بلکہ سیدھے کھڑا ہو جاے۔ 

شعر۔ 

شافعی کہتے ہیں سنت استراحت کا قعود
اور ثلاثہ نے کہا سیدھے کھڑا ہو از سجود
__________سجدۃ السہو__________

مسئلہ۔ سجدہ سہو امام شافعیؒ کے نزدیک قبل السلام کیا جاے گا اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک بعد السلام کیا جاے گا امام مالکؒ فرماتے ہیں اگر نماز میں کسی نقصان کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوا ہے تو قبل السلام کیا جاے گا القاف بالقاف اور اگر کسی زیادتی کی وجہ سے لازم ہوا ہے تو بعد السلام سجدہ کیا جاوے الدال بالدال اور امام احمدؒ فرماتے ہیں احادیث کو دیکھا جاوے گا حضورﷺ سے جس حالت میں جو کیفیت مروی ہے ویسا ہی کیا جاے ہاں جہاں کوئی روایت نہیں ملتی وہاں شافعیہ کی طرح قبل السلام کیا جاے گا۔ 

اشعار۔ 

سہو کا سجدہ ہے نزدِ شافعی قبل السلام
نزدِ اعظم بعدہٗ سجدے کا ہوگا اہتمام
اور مالک نے کہا ہے قاف و قاف و دال دال
نزدِ احمد مثلِ خبرِ مصطفیٰ رکھیو خیال
اور احمد نے کہا جس جا خبر مروی نہیں
شافعی کا قول لیجے گر مثل نبوی نہیں
_____ما جاء فی کراھیۃ الاقعا بین سجدتین________

مسئلہ۔اقعاء کے معنی ہے دونوں پاؤں کو پنجوں کے بل کھڑا کرنا اور ایڑیوں پر بیٹھنا یہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مکروہ ہے امامِ شافعیؒ کے نزدیک دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء و افتراش دونوں مسنون ہے۔ 

شعر۔ 
پھر کراہت ہے ثلاثہ نے کہا اقعاء کرے
شافعی کہتے ہیں سنت جو کوئی ایسا کرے
_________کیف الجلوس فی التشھد________

مسئلہ۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں تشہد میں بحالت تورک ( دائیں پاؤں کو کھڑا اور بائیں پاؤں کو بچھا کر سرین پر بیٹھا جاوے) بیٹھنا سنت ہے اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں افتراشاً ( دائیں پاؤں کھڑا اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھا جاے) ہوگا امام شافعیؒ و احمدؒ فرماتے ہیں جلسۂ یسیر (جیسے پہلا قعدہ) مثل حنفیہ ہوگا اور جلسۂ کبیر ( دوسرا قعدہ) مثل مالکیہ کیا جائے ہاں اگر دو رکعت والی نماز ہو جس میں ایک ہی قعدہ ہوتا ہے اس میں امام شافعیؒ فرماتے ہیں مثل مالکیہ بیٹھا جاے اور امام احمدؒ فرماتے ہیں اس میں مثل حنفیہ ہی بیٹھا جاوے۔ 

اشعار۔ 
ہو تشہد میں تورّک مالکیہ نے کہا
اور مطلق افتراشاً کہتے ہیں یہ حنفیہ
پہلا قعدہ مثلِ حنفی ثانی مثلِ مالکی
یہ ہے قولِ ابنِ حنبل اور شیخِ شافعی
مثلِ اعظم قولِ احمد قعدۂ دوگانہ کر
مثل مالک ہوگا قعدہ شافعی کا ہے امر
_______ما جاء فی التشھد________

مسئلہ۔ جمہور ائمہ فرماتے ہیں تشہد پڑھنا واجب ہے امام مالکؒ کی ایک روایت یہ کہ تشہد پڑھنا سنت ہے

شعر۔ 
اک روایت مالکی میں ہے تشہد از سنن
اور واجب سے ہیں جمہورِ ائمہ مطمئن
______ما جاء فی عدد التسلیم فی الصلوٰۃ________

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں امام و مقتدی دونوں کو دو سلامیں کہنی ہیں ایک دائیں جانب کو ایک بائیں جانب کو امام مالکؒ فرماتے ہیں امام کو ایک ہی سلام کہنی ہے سر اٹھا کر سامنے کی طرف اور مقتدی کو تین سلامیں کہنی ہے ایک آگے کی جانب دو دائیں بائیں۔ 

اشعار۔ 
نزدِ اصحابِ ثلاثہ ہر کسی پر دو سلام
نزدِ مالک مقتدی کو تین و واحد للامام

_____ما جاء فی الصلاۃ علی النبی فی القعدۃ الاخیرۃ_____

مسئلہ۔ قعدۂ اخیرہ میں درودشریف پڑھنا ائمۂ ثلاثہ کے نزدیک سنت ہے اور امامِ شافعیؒ فرماتے ہیں درود پڑھنا فرض ہے۔ 

شعر۔ 
قعدۂ ثانی میں سنت ہے نبی پر پھر درود
شافعیہ کے یہاں ہے فرض یہ وقتِ قعود

___________قطع الصلوٰۃ__________

مسئلہ۔ امامِ احمدؒ کے نزدیک کالے کتے کا نمازی کے سامنے سے گزرنا فساد نماز کا باعث ہے اور روایت امامِ احمدؒ سے یہ بھی ہے کہ گدھے اور عورت کے گزرنے سے بھی نماز فاسد ہوگی ائمۂ ثلاثہ کے نزدیک گدھا، عورت تو کجا کتے کے گزرنے نے سے بھی نماز میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔ 

اشعار۔ 
ہو اگر پیشِ مصلّی کلبِ اسود کا مرور
نزدِ احمد پھر نمازوں کا اعادہ ہے ضرور
اک روایت نزدِ احمد اس میں داخل ہے حمار
اور غضب اس پر کہ عورت کا بھی اس میں ہے شمار
پر ثلاثہ نے کہا ہے کلب اسود کیا ہوا
کوئی بھی گزرے گزرنا سب کا سب باطل ہوا
___________صلوٰۃ القائم خلف القاعد__________

مسئلہ۔ امامِ مالکؒ فرماتے ہیں قاعد امام کی اقتدی مطلقا نا جائز ہے امامِ احمدؒ فرماتے ہیں قاعد امام کی اقتداء بیٹھ کر ہی جائز ہے اور امام ابوحنیفہؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں امام اگر معذور اور قاعد ہو تو مقتدی کھڑے ہوکر اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے

اشعار۔ 
حضرتِ مالک ہیں کہتے ہو اگر قاعد امام
یہ بہر صورت غلط ہے اقتداء ہے نا تمام
نزدِ احمد قاعداً کی ہے قعوداً اقتداء
قولِ اعظم، شافعی ہے مقتدی ہوگا کھڑا
____________الکلام فی الصلاۃ___________

مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں اگر نا واقفیت یا بھولے سے نماز میں کلام کیا تو نماز ہو جاے گی امام مالکؒ فرماتے ہیں اگر اصلاحِ صلاۃ کے لے بات کرے تو نماز میں کوئی اثر نہیں پڑے گا یہی ایک روایت امام ابوحنیفہؒ کی ہے امام احمدؒ فرماتے ہیں اگر نمازی کو معلوم ہو کہ اس کی نماز ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اور بات کرے تو نماز فاسد ہوگی ہاں اگر یہ خیال تھا کہ نماز مکمل ہوچکی ہے اس لئے ہم کلام ہوا پھر معلوم ہوا کہ نماز ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے تو اس صورت میں نماز فاسد نہیں ہوگی امام احمدؒ کی اس مسئلہ میں تین روایات اور ہے تینوں اماموں کے ساتھ اور امامِ ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کلام جس حال میں ہو جیسا ہو، کم ہو یا زیادہ بہر صورت مفسد صلاۃ ہے۔ 

اشعار۔ 
عدمِ علم و بھول کر ہو گر نمازوں میں کلام
شافعی کہتے ہیں اس میں غیر مفسد ہے پیام
نزدِ مالک ہو اگر مقصود اصلاحِ صلوٰۃ
غیر مفسد ہے یہ اعظم کی یہی ہے ایک بات
حضرتِ احمد کی اس میں چار مرویات ہے
تین میں احمد ثلاثہ کے ہی ہم جذبات ہے
اک روایت ہے اگر وہ جانتا تھا ناتمام
پھر تو فاسد ہے یقیناً گر کرے گا کچھ کلام
بو حنیفہ نے کہا ہے بات کرنا در صلوٰۃ
کم، زیادہ، ہرطرح ہے یہ عمل از مفسدات
___________القنوت فی الوتر____________

مسئلہ۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں قنوت وتر صرف پورے رمضان مشروع ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں رمضان کے صرف آخری پندرہ دن مشروع ہے یہی ایک روایت امام مالکؒ و احمدؒ کی ہے اور امامِ ابوحنیفہؒ و امام احمدؒ کا راجح قول یہ ہے کہ قنوت وتر پورے سال مشروع ہے۔ 

اشعار۔ 
نزدِ مالک ہے قنوتِ وتر پھر پورے صیام
مسلکِ مالک میں ملتا ہے یہی راجح پیام
ہے قنوتِ وتر پچھلے پندرہ دن رمضان میں
مالکی و شافعی و حنبلی فرمان میں
بو حنیفہ اور احمد کا یہ واضح حال ہے
یعنی کہتے ہیں قنوتِ وتر پورے سال ہے
____________القنوت فی الفجر__________

مسئلہ۔ امام مالکؒ و امام شافعیؒ کے نزدیک قنوت فجر پورے سال مشروع ہے اور امامِ ابوحنیفہؒ و احمدؒ فرماتے ہیں قنوت فجر ایسے ایام میں مشروع ہے جب مسلمان پر کو آفت یا ابتلاء ہو

اشعار۔ 
پھر قنوتِ فجر پڑھنا ہے سبھی کو بالدوام
مالکیہ، شافعیہ، نے کیا ہے التزام
ہاں قنوتِ فجر چاہے بس کٹھن ایام میں
بو حنیفہ اور احمد کے صحیح اعلام میں
___________صلوٰۃ الوتر_________

مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک وتر کا حکم واجب ہے اور ائمہ ثلاثہ و صاحبین کے نزدیک سنت اشد التاکید ہے۔ 

شعر۔ 
وتر واجب ہے بحکمِ بو حنیفہ زینہار
کہتے ہیں سنت ثلاثہ، صاحبینؒ، ذی وقار
_______________رکعاتِ وتر_____________

مسئلہ۔ تعدادِ رکعاتِ وتر کیا ہے امام شافعیؒ و امام احمدؒ فرماتے ہیں ایک سے گیارہ رکعات وتر کی ہیں اور امامِ ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں وتر تین رکعات ہیں۔ 

اشعار

تین رکعت وتر میں ہے نزدِ اعظم، مالکی
ایک سے ہے گیارہ تک یہ نزدِ احمد، شافعی
____ما جاء فی القنوت قبل الرکوع و بعد الرکوع____

مسئلہ۔ قنوت کس رکعت میں اور کہاں پڑھی جاے گی امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں قنوت تیسری رکعت میں قبل الرکوع پڑھی جاے گی اور امام شافعیؒ و امام احمدؒ فرماتے ہیں تیسری رکعت میں بعد الرکوع پڑھی جاے گی اور امام احمدؒ سے ایک روایت یہ کہ وتر پڑھنے والے کو اختیار ہے چاہے قبل الرکوع پڑھے یا بعد الرکوع۔ 

اشعار۔ 

ہو قنوتِ وتر پہلے پھر رکوع کر لے جناب
نزد اعظم اور مالک ہے یہی بہتر صواب
پہلے خم ہو پھر پڑھے گا نزدِ احمد، شافعی
اک روایت حنبلی ملتی ہے پھر تخییر کی
____________ای قنوت افضل_________

مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ و امامِ مالکؒ فرماتے ہیں وتر میں اللّھمّ انا نستعیک والی دعا پڑھی جاے گی اور امامِ احمدؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں اللّھمّ اھدنا فیمن ھدیت والی دعا پڑھی جاے گی۔ 

اشعار۔ 
اور اللّھمّ انا نستعینُکْ ہے شمار
اس دعا کا اعظم و مالک ہیں کرتے اعتبار
ہے مگر فیمن ھدیتا نزدِ احمد، شافعی
اس دعا سے حنبلی و شافعی کو ہے خوشی
_________ما جاء فی الوتر علی الراحلۃ_________

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ نے فرمایا ہے کہ سواری پر بھی عذراً وتر پڑھی جا سکتی ہے کیونکہ ابن عمرؓ سے ایسا کرنا مروی ہے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں سواری پر وتر پڑھنا جائز نہیں ہے۔ 

شعر۔ 
نزدِ حنفیہ نہیں جائز سواری پر وتر
ہے روا نزدِ ثلاثہ مروی از ابنِ عمر
_____________الوتر بسلام واحد____________

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں وتر دو سلاموں کے ساتھ پڑھی جاے گی اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں تین رکعات وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھی جاے گی 

شعر۔ 
ہے بہ فرمانِ ثلاثہ وتر میں پھر دو سلام
نزدِ اعظم ایک ہے آخر میں ہے اس کا مقام
_________ما جاء فی الجمعۃ  فی القریٰ_______

مسئلہ۔ امام احمدؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں جس جگہ چالیس عاقل بالغ افراد جمع ہو جائیں وہاں جمعہ کی نماز قائم کیا جاے گی امامِ مالکؒ فرماتے ہیں جو گاؤں شہر سے تین کلو میٹر سے کم فاصلے پر واقع ہو اس گاؤں میں جمعہ نماز قائم کی جاے گی امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں اقامتِ جمعہ کے لئے قریۂ کبریٰ یا شہر ہونا چاہیے۔ 

اشعار۔ 
جس جگہ چالیس عاقل سے ہو کم مرداں جمع
نزدِ احمد، شافعی ہے ایسی جا جُمعَہ منع
نزدِ مالک  بادیہ جو تیں کلو میٹر سے کم
شہر سے ہو فاصلہ تو جمعہ کا ہوگا عزم
قریۂ کبریٰ ہو نزدِ بو حنیفہ یا شہر
تب جمعہ قائم کرو ورنہ وہی پڑھ لو ظہر
_____________وقتِ الجمعہ___________

مسئلہ۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں جمعہ کا وقت قبل الزوال ہے اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں جس طرح ظہر کا وقت بعد الزوال ہے اسی طرح جمعہ کا وقت بھی بعد الزوال ہے۔ 

شعر۔ 
قولِ احمد وقتِ جمْعہ ہے روا قبل الزوال
مثلِ وقت ظہر ٹھہرا ہے ثلاثہ کا خیال
__________الصلاة عند الخطبہ__________

مسئلہ۔ امام احمدؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں جو شخص خطبے کے وقت مسجد آے وہ پہلے دوگانہ تحیۃ المسجد پڑھ لے امام مالکؒ و امامِ ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں جو خطبے کے وقت آے اس پر کوئی نفل نہیں تا آں کہ امام نماز سے فارغ ہو جائے۔ 

اشعار۔ 
آنے والا وقتِ خطبہ پڑھ لے دوگانہ فقط
نزدِ احمد شافعی بس یہ حکم جانا فقط
وقتِ خطبہ آنے والے پر نہیں کوئی نماز
بو حنیفہ اور مالک کا ہے یہ قولِ گداز
_______ما جاء فی الجلوس بین الخطبتین_______

مسئلہ۔ دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھنا امام شافعیؒ و احمدؒ کے نزدیک فرض ہے امام مالکؒ و ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں بیٹھنا سنت ہے

اشعار۔ 
درمیانِ دونوں خطبے بیٹھنا ٹھرا فرض
شافعی و ابنِ حنبل کو ہے بس اس سے غرض
بو حنیفہ اور مالک نے کہا سنت قعود
ایسے جلسے میں پڑھو کوئی دعا، ذکر و درود
____ما جاء فی کراھیۃ الکلام والامام یخطب______

مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں دورانِ خطبہ بات کرنا جائز ہے اور جمہور کے نزدیک میانِ خطبہ کلام کرنا نا جائز ہے۔ 

شعر۔ 
شافعی کہتے ہیں جائز خطبہ پڑھتے ہو کلام
اور کہتے ہیں یہ نا جائز وہ جمہورِ عظام
____ما جاء فی الکلام بعد نزول الامام من المنبر____

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ و صاحبینؒ فرماتے ہیں جب امام خطبے سے فارغ ہو جائے تو نماز سے پہلے کلام کی اجازت ہے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں بعد الخطبہ قبل فراغ الصلاۃ بھی کلام کی اجازت نہیں ہے۔ 

اشعار۔ 
بعد خطبہ بھی نہیں ہے بات کرنے کا جواز
نزدِ اعظم  ہو نہ جب تک یہ مکمل کل نماز
نزدِ یعقوب و محمد اور ثلاثہ نے کہا
بعدِ خطبہ بھی ہے جائز بات کر لے گا تو کیا
______ما جاء فی الصلاۃ قبل الجمعة و بعدھا______

مسئلہ۔ جمہور ائمہ فرماتے ہیں جمعہ سے پہلے چار سنتیں مسنون ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں جمعہ سے قبل دو سنتیں مسنون ہے اور جمعہ کے بعد امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں چار سنتیں پڑھے گا اور امام احمدؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں جمعہ کے بعد بھی دو ہی پڑھے البتہ صاحبین ؒ فرماتے ہیں بعد الجمعہ چھے سنتیں مسنون ہے احناف کا فتویٰ اسی پر ہے۔ 

اشعار۔ 
نزدِ جمہورِ ائمہ پہلے بھی سنت ہے چار
شافعی کہتے ہیں جمعہ سے قبل ہے دو شمار
چار پڑھ لے بعدِ جمعہ نزدِ اعظم، مالکی
دو ہی پڑھ لے بعدِ جمعہ نزدِ احمد، شافعی
پر ہے فتویٰ صاحبین حنفیہ کے قول پر
چھے سنن ہے بعدِ جمعہ ہے یہ اچھا خوب تر
____________القصر عزیمۃ ام رخصۃ___________

مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں سفر میں قصر ہی ضروری ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں سفر میں اتمام و قصر دونوں کا اختیار ہے دونوں میں سے جو چاہے کرے امام احمدؒ و مالکؒ فرماتے ہیں اتمام ضروری ہے 

اشعار۔ 
بو حنیفہ نے کہا ہے قصر چاہے در سفر
شافعی کہتے ہیں دونوں یعنی اتمام و قصر
احمد و مالک کا ہے مسلک کہ ہے اتمام بس
ہے عزیمت ہی مقدر ہر گھڑی ہر گام بس
_____________الاختلاف فی مدۃ السفر__________

مسئلہ۔ سفر میں کتنے دن کی نیت کرنے سے مقیم کہلاے گا امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں جو پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرے وہ مقیم ہوگا اب اتمام کرے گا اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں جو چار دن کی نیت کرے وہ مقیم ہوگا اس سے کم مسافر۔ 

شعر۔ 
پندرہ دن نیت کرے تو نزدِ اعظم ہے مقیم
اور ثلاثہ نے کہا ہے چار دن ہے مستقیم
_______صلوٰۃ المفترض خلف المتنفل___________

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں فرض پڑھنے والا نفل پڑھنے والے کی اقتداء نہیں کر سکتا ہے اور امام شافعیؒ فرماتے ہیں مفترض متنفل کی اقتداء کر سکتا ہے

شعر۔ 

مقتدی ہو مفترض اور نفل والا مقتدیٰ
شافعی کہتے ہیں جائز اور ثلاثہ نے خطا
____________من ادرک رکعۃ__________

مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں جو شخص جمعہ کے دن قبل السلام امام کو پا لے وہ جمعہ کا پانے والا کہلاے گا چناں چہ اب وہ جمعہ ہی پڑھے اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں جو شخص پہلی رکعت کا رکوع پا لے تو جمعہ پڑھے اور جو رکوع کے بعد آے وہ جمعہ نہ پڑھے بلکہ ظہر پڑھے گا 

اشعار۔ 
نزدِ اعظم یومِ جمعہ شخص جو پا لے امام
جمعہ کو پاۓ گا شرکت گر کرے قبل السلام
اور ثلاثہ نے کہا پہلی رکعت پاے تو تب
ورنہ پڑھ لے گا ظہر یہ حکم ہے کتنا عجب
________الصلاة عند طلوع و الغروب___________

مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ و محمد ؒ فرماتے ہیں اگر فجر پڑھتے ہوے آفتاب طلوع ہوجاے تو نماز نہیں ہوگی طلوع آفتاب کے بعد اپنی نماز کی قضاء کر لے ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں نماز فجر کو بوقت طلوع آفتاب بھی مکمل کرے البتہ عصر کی نماز پڑھتے ہوے آفتاب غروب ہو جاے تو تمام ائمہ متفق ہے کی اپنی نماز اسی حالت میں پوری کرے کیونکہ عصر کو ناقص وقت میں شروع کیا ہے اب ناقص ہی ختم بھی کر سکتا ہے۔ 

اشعار۔ 

اور پوری عصر  پڑھ لے گر ہوا آنِ غروب
متفق ہیں اربعہ ہے ناقصاً شانِ غروب
ہاں طلوعِ شمس ہو تو فجر سے رہنا ہے باز
نزدِ اعظم اور محمد بعد میں پڑھ لے نماز
فجر کو کر لے مکمل ہو طلوع گر آفتاب
اس عمل میں ہیں ثلاثہ کس قدر بے آب و تاب
_____ما جاء فی تشدید الرحال الی المساجد______

مسئلہ۔ حدیث میں ہے لا تشد الرحال الا الی ثلاثۃ مساجد مسجد الحرام و مسجد الاقصی و مسجدی ھذا۔ اس حدیث کے پیش نظر قاضی عیاض و ابن تیمیہ فرماتے ہے  روضۂ اطہر کی جانب سفر کا قصد کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ مسجد نبوی کا قصد کرے اور پھر وہاں روضہ کی زیارت بھی کر لے جمہور کہتے ہیں روضۂ اطہر کی جانب قصد کرنا نہ یہ کہ صحیح ہے بلکہ باعث ثواب بھی ہے۔ 

اشعار۔ 
کہتے ہیں قاضی عیاض و ابن تیمیہ جناب
روضۂ اطہر کی جانب قصد کرنا ہے خراب
کیا نہیں مطلوب مومن کو محمد کی شفا
جو نہ دیکھے جالیوں کو پھر ہے وہ اھلِ جفا
______ما جاء فیمن صلی لغیر القبلۃ ثم علم_______

مسئلہ۔ جمہور کہتے ہیں جو عدم علمِ قبلہ کے وقت تحری کے بعد غیر سمت قبلہ نماز پڑھے اس پر اعادہ نہیں بلکہ وہ نماز صحیح ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں اس نماز کا دوبارہ اعادہ کرنا ہوگا 

شعر۔ 
ہے اعادہ اس پہ نزدِ شافعی بارِ دگر
غیر سمتِ قبلہ جو پڑھ لے کہ ہو وہ بے خبر
_______ما جاء فی الصلاۃ فوق بیت اللہ_________

مسئلہ۔ کعبے کے اوپر نماز پڑھنا امام شافعیؒ و ابوحنیفہؒ کے نزدیک کراہت کے ساتھ جائز ہے اور امام احمدؒ فرماتے ہیں صرف نفل جائز ہے اور امام مالکؒ فرماتے ہیں نہ فرض جائز ہے نہ نفل۔ 

اشعار۔ 
فوقِ بیت اللہَ پڑھ لے گر کوئی دانا نماز
نزدِ اعظم، شافعی ٹھہرا کراہت سے جواز
نزدِ مالک مطلقاً جائز نہیں ایسا عمل
نزدِ احمد بھی ہے ممنوع پر ادا ہوگا نفل
_________ما جاء فی الصلاۃ و معاون الابل________

مسئلہ۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں اونٹ کے باڑے میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اور جمہور کہتے جائز ہے احتیاطاً روکا گیا ہے

شعر۔ 
اونٹ کے باڑے میں ممنوع نزدِ احمد ہے صلوٰۃ
نزدِ جمہورِ ائمہ احتیاطاً کی ہے بات
______رد السلام بالاشارۃ فی الصلاۃ____________

مسئلہ۔ اشارے سے نماز میں سلام کا جواب دینا امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک مکروہ ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک جائز ہے جبکہ امامِ شافعیؒ فرماتے ہیں ایسا مستحب ہے۔ 

اشعار۔ 
اور نمازوں میں نہیں جائز حقیقت میں کلام
نزدِ اعظم ہے کراہت ہو اشارہ در سلام
اور ثلاثہ نے کہا جائز ہے اس میں کیا عجب
شافعی تو یہ بھی کہتے ہیں عمل یہ مستحب

الاختلاف کتاب الصلاۃ 1

___________کلماتِ اذان__________

مسئلہ۔ تربیع کہتے ہیں ابتداۓ آذان میں اللہ اکبر چار مرتبہ کہنا اور ترجیع کہتے ہیں شہادتین میں سے ہر ایک کو چار مرتبہ کہنا دو مرتبہ نیچی آواز میں دو مرتبہ اونچی آواز میں امام شافعیؒ فرماتے ہیں آذان میں تربیع بھی ہوگی اور ترجیع بھی اس طرح آذان کے کلمات انیس ہوے اور امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ آذان میں ترجیع تو ہوگی لیکن تربیع نہیں ہوگی بلکہ اللہ اکبر کو دو مرتبہ کہا جاے گا تو انیس میں دو کلمے کم کر کے سترہ کلمات رہ جاتے ہیں اور امام ابوحنیفہؒ و امام احمدؒ کے نزدیک آذان میں تربیع ہوگی ترجیع نہیں ہوگی لہذا آذان کے کلمات کل پندرہ ہوے۔ 

اشعار

شافعی ترجیعِ آذاں کو ہیں افضل مانتے
پندرہ سے انیس کلموں کو ہیں بہتر جانتے
اور ترجیعِ اذاں کے مالکی قائل ہوے
دو کو کم تربیع میں کیجے سترہ ہی حاصل ہوے
اعظم و احمد نے فرمایا کہ بس آذان میں
پندرہ کلمے ہیں فقط اور یہ بھی ہے فرمان میں
___________کلماتِ اقامت__________

مسئلہ۔ امامِ شافعیؒ اور امام احمدؒ فرماتے اقامت کے کلمے کل گیارہ ہے کیوں کہ ان کے نزدیک شروع والی تکبیرِ صرف دو مرتبہ اور شہادتین و حیعلتین ایک ایک مرتبہ ہیں اور امام مالکؒ فرماتے ہیں دس کلمے کیونکہ ان کے نزدیک قد قامت الصلاۃ بھی ایک مرتبہ ہے اور امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نزدیک کل سترہ کلمات ہیں پندرہ وہی آذان والے اور دو مرتبہ مزید قد قامت الصلاۃ کہنا ہوگا۔ 

اشعار
اورْ اقامت میں ہے کلموں کا فقط گیارہ شمار
نزدِ احمد، شافعی ہے بس اسی کا اعتبار
قولِ مالک میں ہیں دس اور قولِ اعظم ایک و سات
دو کو قد قامت کے جملے سے اضافے کی ہے بات
___________کتاب الصلوۃ____________

مسئلہ۔ امام شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک فجر غلس (تاریکی) میں پڑھنا افضل ہے اور امام ابوحنیفہؒ و مالکؒ کے نزدیک اسفار (خوب روشنی) میں پڑھنا افضل ہے۔ 

شعر۔ 
قولِ احمد، شافعی میں بس غلس مختار ہے
قولِ مالک، بو حنیفہ فجر میں اسفار ہے
________وقت صلوٰۃ الظہر و العصر_________

مسئلہ۔ ظہر کا ابتدائی وقت بالاتفاق زوال کے بعد ہے البتہ انتہاء وقت میں اختلاف ہے ائمہ ثلاثہ و صاحبین و  امام زفرؒ کے نزدیک ظہر کا انتہاء وقت سایہ اصلی کے علاوہ ایک مثل تک باقی رہتا ہے امام ابوحنیفہؒ کی اس سلسلے میں چار روایتیں ملتی ہیں جن میں مفتی بہ قول یہ ہے کہ ظہر کا انتہاء وقت دو مثل تک ہے ایک رویت جمہور کے مطابق، ایک روایت یہ کہ مثل اول سے مثل ثانی تک وقت مہمل ہے ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ وقت ظہر و عصر کا مشترک ہے جیسا کہ علامہ انور شاہ کشمیری ؒ فرماتے ہیں کہ یہ وقت مسافرین و معذورین کے لے ہے۔ 

اشعار۔ 
اور ہے وقت ظہر نزدِ ثلاثہ اک مثل
بو حنیفہ نے کہا ہے دو مثل تک ہے اصل
مثل جمہورِ ائمہ بھی ہے اعظم نے کہا
مشترک بھی اور مہمل، مثل سے تا دوگنا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت العصر_______________

عصر کے ابتدائی وقت میں وہی اختلاف ہے جو ظہر کے انتہائی وقت میں مذکور ہے یعنی ائمہ ثلاثہ صاحبین و امام زفرؒ کے نزدیک مثل اول کے بعد عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، جب کہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک مثل ثانی کے بعد عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اور عصر کا انتہائی وقت بالاتفاق سورج غروب ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔ 

__________وقت المغرب_____________

مغرب کا ابتدائی وقت بالاتفاق سورج غروب ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے، اور انتہائی وقت میں اختلاف ہے،ائمہ ثلاثہؒ فرماتے مغرب کا انتہائی وقت شفق احمر کے ختم ہوتے ہی ختم ہوجاتے، جبکہ امام ابوحنیفہؒ فرماتے شفق ابیض کے غائب ہوتے ہی وقت مغرب ختم ہوتا ہے۔ 

____________وقت العشاء_____________

ابتدائی وقت عشاء علی اختلاف المغرب شفق احمر یا ابیض کے ختم ہوتے ہی شروع ہو جاتا، اور انتہائی وقت تہائی رات تک رہتا ہے۔۔۔۔ 


__________الاوقات المنھیۃ___________

مسئلہ۔ اوقات منہیہ یعنی وہ اوقات جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ایسے اوقات کل پانچ ہیں 1 طلوع آفتاب 2 غروب آفتاب 3 استواء شمس 4 بعد الفجر 5 بعد العصر، امامِ ابوحنیفہؒ کے نزدیک پہلے تین اوقات میں ہر طرح کی نماز پڑھنا ممنوع ہے البتہ آخری دو اوقات میں ذوات الاسباب و غیر ذوات الاسباب نفلیں پڑھنا ممنوع ہے فرائض و قضاء جائز ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ان اوقات میں کوئی فرق نہیں سب برابر ہے البتہ ائمہ ثلاثہ میں اس بات پر اختلاف ہے کہ کون سی نماز جائز ہے اور کون سی نا جائز چنانچہ امامِ مالک و امام احمدؒ کے نزدیک صرف قضاء جائز ہے جبکہ امامِ احمدؒ کے نزدیک طواف کی دوگانہ بھی جائز ہے اور امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ فرائض، قضاء اور ذوات الاسباب نفلیں جائز ہیں اور غیر ذوات الاسباب نفلیں نا جائز ہیں۔ 

اشعار
اور پھر اوقاتِ خمسہ میں بھی پڑھ لے گا نماز
ذو سبب نفلیں بھی نزدِ شافعی ہوے  مُجاز
احمد و مالک ہیں کہتے پڑھ لے خمسہ کی قضاء
نزدِ احمد کر لے دوگانہ طوافوں کی ادا
نزدِ اعظم وقت خمسہ میں نہیں کوئی نماز
ہیں احادیثیں محرّم ہے کہاں اس کا جواز
________تحریمھا التکبیر و تحلیلھا التسلیم_____

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ و امام ابو یوسف ؒ فرماتے ہیں تکبیر تحریمہ کے وقت جملۂ اللہ اکبر کہنا فرض ہے تھوڑا سا فرق ہے وہ یہ کہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں اللہ الاکبر بھی کہہ سکتا ہے اور امام ابو یوسف ؒ فرماتے ہیں اللہ الاکبر، اللہ کبیر اور اللہ الکبیر بھی کہہ سکتا ہے اور طرفین ؒ فرماتے ہیں کلمۂ اللہ اکبر واجب ہے اور ہر ایسا کلمہ جو مشعر تعظیم ہو فرض ہے اور لفظ سلام میں بھی یہی اختلاف ہے ائمہ ثلاثہ و امام ابویوسفؒ ایک طرف لفظ سلام کو فرض کہتے ہیں اور طرفین ؒ واجب کہتے ہیں۔ 

اشعار۔ 

ابتداء میں فرض  پھر کلمۂ تکبیر ہے

نزدِ یعقوب و ثلاثہ بس یہی تعبیر ہے
بو حنیفہ اور محمد سے ہیں اس کا بس وجوب
فرض ہے تعظیم  اس کو یاد کیجے خوب خوب
بس یہی تکرار واقع ہے اخیراً در سلام
یعنی کہ تسلیم کے الفاظ میں ہے یہ کلام

________ما یقول عند افتتاح الصلوٰۃ_______

مسئلہ۔ تکبیرِ تحریمہ کے بعد قبل الفاتحہ امام مالکؒ کے نزدیک کوئی ذکر جائز نہیں امام شافعیؒ فرماتے ہیں توجیہ ( انّی وجھت ) پڑھنا سنت ہے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں ثناء پڑھنا سنت ہے اور امامِ احمدؒ کے نزدیک ثناء و توجیہ میں سے جو چاہے پڑھے۔ 

اشعار۔ 
بعد تکبیر تحریمہ نہیں کوئی ذکر
مسلکِ مالک یہی ہے مالکی کر لیں فکر
جب کہے تکبیرِ تحریمہ  ذکر بھی ہے روا
یہ ثلاثہ نے کہا اس کو کرے پہلے ادا
پڑھ لے قبل الفاتحہ توجیہ نزدِ شافعی
نزدِ اعظم ہے ثنا اور نزدِ احمد سب سہی
____افتتاح القرأۃ بالحمد للہ رب العالمین_____

مسئلہ۔ کیا بسم اللہ قرآن کا جزء ہے امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک بسم اللہ قرآن پاک کا جزء ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں بسم اللہ سورۂ فاتحہ کا جزء ہے امام احمدؒ امام ابوحنیفہؒ کے ساتھ ہے اور امام مالک کے نزدیک بسم اللہ قرآن کا جزء نہیں ہے بلکہ یہ اذکار کے قبیل سے جو سورتوں کے درمیان فصل کرنے کے لے نازل کیا گیا ہے۔ 

اشعار۔ 
شافعی کہتے ہیں بسم اللہ ہے جزوِ فاتحہ
اور ہے یہ جزوِ قرآں بو حنیفہ نے کہا
قولِ اعظم ہی کا احمد کو بھی پھر اقرار ہے
قولِ مالک بسم اللہ مثلِ دعا اذکارہے

__________التسمیۃ فی الصلوۃ__________

مسئلہ۔ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا امام ابوحنیفہؒ و امام احمدؒ کے نزدیک سرا جائز ہے امامِ شافعیؒ سے سرا و جہرا دونوں روایتیں مذکور ہے امامِ مالکؒ فرماتے قبل الفاتحہ بسم اللہ پڑھنا بدعت ہے

اشعار۔ 

فاتحہ سے قبل بسم الله َ پڑھنا ہے روا
نزدِ اعظم اور احمد پر ہو یہ سراً ادا
مسلکِ مالک ہے بسم اللہَ بدعت در نماز
شافعی سے جہرو سر دونوں کا ملتا ہے جواز
__________لا صلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتاب_________

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنا فرض ہے اور امامِ ابوحنیفہؒ کے نزدیک واجب ہے

شعر۔ 
پھر ثلاثہ نے کہا ہے فرض ہے ام الکتاب
بوحنیفہ نے کہا واجب ہی بہتر ہے جناب
___________فاتحہ خلف الامام__________

مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں فاتحہ خلف الامام فرض ہے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے انصات و استماع لازم ہے امام مالکؒ و امام احمدؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک سری نماز میں مقتدی بھی پڑھے اور جہر میں ممنوع ہے

اشعار۔ 
شافعیہ نے کہا ہے فاتحہ خلف الامام
نزدِ اعظم ہے کراہت سننے کا ہو التزام
احمد و مالک، محمد نے کہا سرّی میں ہے
فاتحہ ماموم پر اور یہ منع جہری میں ہے
____________ما جاء فی التامین__________

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں آمین کہنا امام و مقتدی دونوں کا وظیفہ ہے امام مالکؒ فرماتے ہیں یہ صرف مقتدی کہے گا۔ 

شعر۔ 

مسلکِ مالک ہے آمیں بس کہے گا مقتدی
اور ثلاثہ نے کہا ہے مقتدیٰ، ماموم بھی
___________آمین بالجہر و السر__________

مسئلہ۔ امامِ شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک آمین میں جہر افضل ہے امام مالکؒ و امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں آمین میں سر افضل ہے۔ 

شعر۔ 
چھوٹے دو نے کہہ دیا ہے زور سے آمیں کہو
دو بڑوں نے کہہ دیا آہستہ بولو چپ رہو
_______ما جاء فی السکینۃ فی الصلاة_________

مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ و مالکؒ فرماتے ہیں نماز میں دو سکتے ہیں ایک قبل الفاتحہ جس میں حنفی لوگ ثناء پڑھتے ہیں اور دوسرا سکتہ بعد الفاتحہ قبل السورۃ جس میں تامین کہی جاے گی اور امام شافعیؒ و احمدؒ کے نزدیک ان دو سکتوں کے علاوہ ایک تیسرا سکتہ بھی روا ہے وہ ہے بعد القرأت قبل الرکوع۔ 

شعر۔ 
سکتۂ ثالث نہیں ہے نزدِ مالک اور ہم
شافعی، احمد ہیں کہتے سکتہ کر کے ہوگا خم
____ما جاء فی السوال و التعوذ علی آئۃ رحمۃ و عذاب___

مسئلہ۔ امام احمدؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں آیات رحمت پر دعا مانگنا اور آیات عذاب پر خدا سے پناہ مانگنا سنت ہے اور امامِ مالکؒ و امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک نفل میں ایسا جائز ہے فرائض میں نہیں۔ 

اشعار۔ 
پھر تعوذ اور دعا بر آیاتِ رحمت اور عذاب
یہ تو سنت نزدِ احمد، شافعی ٹھہرا جناب
نفل میں چاہے تعوذ اور دعا آیات پر
متفق ہے حنفیہ اور مالکی اس بات پر
___________رفع الیدین__________

امام شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک تکبیرِ تحریمہ کے سوا بھی رفع الیدین افضل ہے اور امام مالکؒ و امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ترک رفع الیدین افضل ہے۔ 

شعر۔ 
شافعی و ابن حنبل رفع کے قائل ہوے
حنفیہ اور مالکیہ ترک کو مائل ہوے
__________تعدیلِ ارکان__________

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ نے فرمایا نماز میں تعدیل ارکان فرض ہے اور طرفین کے نزدیک واجب ہے۔ 

شعر۔ 
فرض ہے تعدیلِ ارکاں یہ ثلاثہ کی ہے بات
بو حنیفہ اور محمد نے کہا از واجبات
____________وضع الیدین___________

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ نے فرمایا فرائض ہوں یا نوافل ہاتھ بانھنا سنت ہے اور امام مالکؒ فرماتے ہیں فرائض میں ہاتھ باندھنا ٹیک لگانے کے مترادف ہے اس لئے جائز نہیں ہے اور نوافل میں جائز ہے۔ 

شعر۔ 
نزدِ مالک در فرائض ہاتھ باندھے گا نہیں
اور ثلاثہ نے کہا ہے یہ ہے سنت بالیقیں
__________ایضاً________

مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ نماز میں ہاتھ سینے پر باندھے جائیں گے اور اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں ناف کے نیچے ہاتھ باندھے جائیں گے۔ 

شعر۔ 
شافعی کہتے ہیں رکّھے ہاتھ پھر سینے کے پاس
اور اعظم نے کہا ہے تحتَ السرۃ ہو مساس
_________السجدۃ علی الجبھۃ و الانف________

مسئلہ۔ امام احمدؒ کے نزدیک سجدہ میں ناک و پیشانی دونوں کو جھکانا ضروری ہے ایک پر اکتفاء جائز نہیں ہے امام مالکؒ، شافعیؒ اور صاحبین فرماتے ہیں پیشانی پر اکتفاء کر لے یہ تو جائز ہے لیکن ناک پر اکتفاء جائز نہیں اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک دونوں میں ایک پر بھی اکتفاء کر لے سجدہ ادا ہو جاے گا۔ 

اشعار۔ 
اور سجدہ کر لے بندے ناک و پیشانی جھکا
ایک پر جائز نہیں ہے نزدِ احمد اکتفاء
شافعی و مالکی و صاحبَین، ذی وقار
قائلِ سجدہ ہے جبہہ پر بھی ہو گر اقتصار
ناک پر بھی سجدہ ہوگا حنفیہ قائل ہوۓ
بعدہٗ وہ جانبِ جمہور بھی مائل ہوے ٔ
__________جمع بین الصلاتین_________

مسئلہ۔ دو نمازیں ایک وقت میں پڑھنا۔ 

احناف کے یہاں جمع صوری جائز ہے ( مثلاً ظہر کو اپنے آخری وقت میں پڑھنا اور عصر کو اپنے ابتدائی وقت میں ادا کرنا) اور جمع حقیقی نہ تقدیماً جائز ہے نہ تاخیراً، اور ائمۂ ثلاثہ کے نزدیک عذر کی بناء پر جمع حقیقی جائز ہے البتہ اعذار کیا ہے اور کتنے ہیں اس میں اختلاف ہے امام احمدؒ فرماتے عذر تین ہے مطر، مرض اور سفر امام شافعیؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں اعذار دو ہیں سفر و مطر، 

اشعار۔ 

دو نمازیں آنِ واحد میں نہیں بالکل روا
ہاں مگر صوری چلے گا یہ تو اعظم نے کہا
پھر ثلاثہ نے کہا پڑھ لے اگر ہو عذرِ لنگ
نزدِ احمد بارش و مرض و سفر  سے جو ہو تنگ
عذر ٹھہرا نزدِ مالک شافعی سفر و مطر
جمعِ تقدیم و تأخر اور حقیقی بھی تو کر
_________المشرک یدخل المسجد__________

مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں غیر مسلم مسجد میں آنا چاہے تو جاۓ حرج نہیں آسکتا ہے اور امام مالک فرماتے جائز نہیں ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں مسجد حرام کے سوا داخل ہونا جائز ہے امام احمد فرماتے ہیں امام صاحب اجازت دے تو داخل ہو سکتا ہے۔ 

اشعار۔ 
غیر مسلم مسجدوں میں داخلہ چاہے تو کیا
نزدِ اعظم ہے اجازت نزدِ مالک ہے خطا
شافعی کہتے ہیں جائز ہاں مگر جب ہو حرم
قولِ احمد ہے یہی جب ہو اجازت بھی بہم
__________من اذن فہو یقیم__________

مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ فرماتے مؤذن کے کوئی دوسرا آدمی اقامت کہنا چاہے تو کہہ سکتا ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں مؤذن ہی اقامت کہے گا دوسرا نہیں۔ 

شعر۔ 

اک مؤذن دے اقامت کہتے ہیں یہ شافعی
مستحب نزدِ ثلاثہ یہ نہیں ہے واجبی
_____الاذان و الاقامۃ فی السفر___________

مسئلہ۔ سفر میں حنابلہ و شوافع کے یہاں آذان و اقامت ہر دو سنت ہے یہی ایک روایت امام ابوحنیفہؒ کی ہے اور امام ابوحنیفہؒ و مالک فرماتے ہیں بس اقامت سنت ہے 
در سفر پھر ہے اقامت اور اذاں سنت سدا
حضرتِ احمد، شوافع نے یہی تو ہے کہا
بس اقامت چاہۓ گا نزدِ مالک اور ہم
اک روایت نزدِ اعظم ہے کہ دونوں ہو بہم
_________ما یقول اذا اذن المؤذن _________

مسئلہ۔ آذان کے دو جواب ہے اجابت بالقدم اور اجابت بالقول، اجابت بالقدم تو بالاتفاق واجب ہے اجابت بالقول میں اختلاف ہے امام احمدؒ و ظاہریہ کے نزدیک واجب ہے اور جمہور کے نزدیک سنت ہے

اشعار۔ 
اور واجب ہے اجابت بالقدم آذان کا
ہے فرق قولاً اجابت میں ذرا رجحان کا
قول سے بھی ٹھہرا واجب نزدِ احمد ظاہری
نزدِ جمہورِ ائمہ مستحب مفتیٰ بہٖ
___ما جاء فی کراھیۃ ان یأخذ المؤذن علی الاذان اجراً____

مسئلہ۔ اجرت علی الطاعات مالکیہ و شافعیہ کے نزدیک جائز ہے حنفیہ و حنابلہ کے نزدیک بقولِ قدیم جائز نہیں لیکن اب ضرورت کے پیش نظر ائمہ و مؤذنین اور تعلیم علی القرآن پر اجرت لینا جائز ہے۔ 

اشعار۔ 
گر ملے اجرت علی الطاعت تو  کیجئے گا قبول
شافعی و مالکی کرتے ہیں ایسے بھی حصول
حنبلی و حنفیہ کہتے تھے پہلے ہے حرام
اب ضرورت سے ہے جائز للمؤذن و الامام
________الجماعۃ فی مسجد قد صلی فیہ مرۃ_______

مسئلہ۔ جمہور کے نزدیک ایک مسجد میں جماعت کا تکرار جائز نہیں ہے اور امام احمدؒ و ظاہریہ نے اس کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔ 

اشعار۔ 
ایک مسجد میں جماعت کا نہ ہو تکرار بھی
یہ ثلاثہ کا ہے مسلک اور ہے مختار بھی
ظاہریہ اور احمد نے کہا کر لے ادا
بس کہ جمہور ائمہ کے مخالف ہے کہا
_______ما جاء فی صلاۃ المسبوق________

 مسئلہ۔ امام احمدؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں مسبوق نے جو نماز پائ وہ اس کی اول نماز ہے اس لئے امام کے سلام پھیرتے ہی کھڑا ہو کر ما بقیہ کا اتمام کر لے حنفیہ میں شیخین فرماتے ہیں مسبوق جو نماز امام کے ساتھ پاے وہ آخری ہے ما فات کی بعدِ سلامِ امام قضاء کرلے اور امام مالک و محمد فرماتے ہیں مسبوق نے جو نماز امام کے ساتھ پائ وہ آخری ہے جو رکعتیں چھوٹ گئیں ہیں وہ قرأت کے اعتبار سے اول رکعتیں ہیں اور ارکان کے اعتبار سے آخری اور اسی پر احناف کا فتویٰ ہے کیوں کہ اس میں احتیاط ہے اور قاعدہ ہے الاحتیاط فی حقوق اللہ جائز و فی حقوق العباد لا یجوز۔ 

اشعار۔ 
نزدِ احمد، شافعی مسبوق پر اتمام ہے
اعظم و یعقوب کہتے ہیں قضاء کا کام ہے
نزدِ مالک اور محمد ہے قضاء اتمام بھی
ہے قراءت سے وہ اول فعل سے ہے آخری

Monday, January 23, 2023

فراقِ شہرِ طیبہ/نعت شہہءدیںﷺ/نعت رسول/پرھنوزادہ طاؔرق حسین

مدتوں سے شہر طیبہ جانے کا ہے انتظار
دیکھ لوں جنت  زمیں پر دھن  لگی ہے بار بار

ہم فراقِ شہرِ طیبہ میں لیۓ غم سو ہزار
دور ہوں غم دیکھ لوں میں گر مدینہ ایک بار

جب دیار مصطفی کو جاتے دیکھا کارواں
حاضری کو دل تڑپ اٹھا ہوا میں بے قرار

ان کے در پہ حاضر ی کا شرف ہے ان کی رضا
کب وہاں جانے میں چلتا ہے کسی کا اختیار

آخری دم ہو نبیؐ کے آستانے پر خدا
ہو وہیں تجہیز و تکفیں ہو وہیں میرا مزار

ارض طیبہ رشکِ حور و جن و انسان و ملک
میں بھی طاؔرق خاکِ طیبہ پہ کروں خود کو نثار

پرھنوزادہ طاؔرق حسین

نظم بر ختم بخاری اول /پرھنوزادہ طاؔرق حسین/دار العلوم دیوبند/حضرت اقدس مفتی ابو القاسم نعمانی دام ظلہ

وقتِ رُخصت ہے یہ فرقت کی گھڑی آئی ہے
ہر طرف دردِ جدائی کی گھٹا چھائی ہے

چار دن آکے ملے بن کے چمن کی رونق
بے نصیبی ہی گلستاں سے اٹھا لائی ہے

بزمِ نعمانی میں تھا کیسا ہجومِ رنداں
کوئی بے خود سا ہے پی کر کوئی شیدائی ہے

کیسے اٹھے گا کوئی محفلِ بو القاسم سے
تیرے رندوں کو بڑی تجھ سے شناسائی ہے

آخری درسِ بخاری میں یہ تیرے آگے
بیٹھے بسمل ہے کہ تیری جلوۂ آرائی ہے

فاضلانِ دیوُبند تو نے بنایا ہم کو
شیخ جی تیری نظر میں کیا مسیحائی ہے

الوداع اے میرے ہمدم کہ تری یادوں نے
قلبِ طارق میں بڑی اچھی جگہ پائی ہے

Tuesday, January 10, 2023

الاختلاف کتاب الطہارت 4

_________________مدت الحیض_______________

مسئلہ۔ حیض کی مدت امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک کم از  کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن امام شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک کم سے کم ایک دن اور زیادہ سے زیادہ پندرہ دن امام مالکؒ کے نزدیک کم سے کم کوئی مدت مقرر نہیں اور زیادہ سے زیادہ سترہ دن ہے۔ 

اشعار۔ 
حیض کی مدت ہے نزد بوحنیفہ تین دن
اکثرِ مدت ہے دس تک پیارے طالب خوب سن
نزدِ احمد، شافعی کم ایک ہے پندرہ کثیر
نزدِ مالک کم نہیں کچھ اور ہے سترہ کثیر
________________مدت نفاس_________________

مسئلہ۔ نفاس کی مدت قبیلہ بالاتفاق مقرر نہیں ہے البتہ اکثر مدت میں اختلاف ہے امام شافعیؒ و مالکؒ کے نزدیک ساٹھ دن اس میں ان حضرات کے پاس کوئی نقلی دلیل نہیں ہے بس اندازہ ہے اور امام ابوحنیفہؒ و احمدؒ فرماتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ چالیس دن ہے۔ 

اشعار۔ 
اتفاقاً ہے نہیں مدت قلیلاً در نفاس
نزدِ مالک ، شافعی ہے ساٹھ لیتے ہیں قیاس
بوحنیفہ اور احمد نے کہا چالیس دن
یاد کر اقوال سارے اور ان کو خوب گن
_____________الوان الحیض________________

مسئلہ۔ حیض میں ائمہ ثلاثہ رنگوں کا اعتبار کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک رنگوں کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ ایام و عادت پر اعتماد ہے پھر ائمہ ثلاثہ کے یہاں رنگوں میں اختلاف ہے امام شافعیؒ و احمدؒ فرماتے ہیں حیض میں دو رنگوں کا اعتبار ہے سرخ اور کالا امام مالکؒ فرماتے ہیں چار رنگوں کا اعتبار ہے سرخ، زرد، سواد و تربتی اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ چھے رنگوں کا خون حیض ہو سکتا ہے تربتی، حمرہ، صفرہ، سواد، زرد و کدر لیکن ان رنگوں کا کوئی اعتبار نہیں نزد اعظم۔ 

اشعار
خون کے رنگوں میں ما بین الائمہ ہے خلاف
غور سے طالب تو پڑھ لے لکھ رہا ہوں صاف صاف
نزدِ احمد، شافعی ہے سرخ یا پھر کالا رنگ
نزدِ مالک سرخ و زرد و کالا و مٹیالا رنگ
نزدِ اعظم تربتی و سرخ و زرد و رنگ سواد
پھر ہے پیلا اور گدھلا یوں ہیں رنگ بے اعتماد
___________اقسام المستحاضہ________________

مسئلہ۔ امامِ ابوحنیفہؒ کے بقول مستحاضہ کی تین قسمیں ہیں 1 مبتدئہ جس کو پہلی بار حیض آ رہا ہے 2 معتادہ جس کو اپنے حیض دن معلوم ہوں کیونکہ اس کی عادت بنی ہوئ ہے 3 متحیرہ اس کی پھر تین قسمیں ہیں 1 متحیرہ بالعدد جس کی ایک مدت متعین تھی لیکن اپنی عادت بھول گئی 2 متحیرہ بالزمان جس کو عددِ عادیہ تو یاد ہے کہ تین چار دن آٹھ دن دس یا دس دن آتا تھا لیکن وقت بھول گئ کہ مہینے کی کس تاریخ کو شروع ہوتا تھا 

اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک چار قسمیں ہیں تین یہی ہے جن کا ذکر آگیا اور چوتھی قسم ممیزہ کی ہے یعنی جو رنگوں کے اعتبار سے حیض کے ایام جانتی ہے۔ 

اشعار۔ 
نزدِ اعظم مستحاضہ کی یہی پہچان ہے
ابتداءً آگیا یا عادت و حیران ہے
چار کا نزدِ ثلاثہ مستحاضہ میں حصار
تین گزری اور ہے ذاتِ ممیّز کا شمار
_________احکام المستحاضہ_________________

مسئلہ۔1 مبتدئہ کا حکم یہ ہے کہ وہ خون آنے کے وقت سے دس دن صوم و صلاۃ چھوڑ دے 2 معتادہ دس دن تک صوم و صلاۃ سے توقف کرے گی اگر دس دن کے بعد خون رک گیا تو عادت کے بعد والی تمام نمازوں کی قضاء کرے گی روزوں کی قضاء تو کرنی ہی ہے 3 متحیرہ بالعدد تین دن نماز چھوڑ دے گی پھر اکثر مدتِ حیض دس دن تک ہر نماز کے لئے غسل کرے گی اور دس دن کے بعد بقیہ بیس دن ہر نماز کے وقت پر وضو کرے گی متحیرہ بالزمان و وقت اس کو چونکہ عادت کے دن معلوم ہے لہذا ایام عادت تک صرف وضو کرے گی اور بقیہ تمام دن میں ہر نماز کے لئے غسل کرے گی اور متحیرہ بالعدد و الزماں تین دن وضو کرے گی اور بقیہ ستائیس دن غسل کرے گی متحیرہ بالزمان اور متحیرہ بالعدد و الزمان دونوں میں فرق یہ کہ پہلی والی ایام عادت تک وضو کرے گی اور بقیہ ایام وہ ستائیس بھی ہوسکتے ہیں اور بیس بھی ہو سکتے ہیں ان میں غسل کرے گی اور دوسری والی متحیرہ بالعدد و الزمان کے لئے متعین ہے کہ تین دن وضو اور بقیہ ستائیس دن غسل۔ بڑا گنجلک مسئلہ ہے اس لئے خوب سمجھنا ہے نابغۂ روزگار علامہ انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں اسے متحریہ کہنا چاہۓ تھا جو کہ تحری سے ماخوذ ہے کیونکہ اس کو بہ ہر صورت تحری کر کے نماز پڑھنی ہے یہ عورت خود بھی حیران و سرگرداں ہے اور ایک دنیا کو حیران کر رکھا ہے کیا خوب کہا ہے ایک لفظ سے سارا مسئلہ سمجھا دیا دریا بہ کوزہ آفتاب بہ ذرہ والی تمثیل کو سند صداقت بخشی ہے وللہ در القائل، 

خدا رحمت کند ایں پاک طینت را، 

اشعار۔ 
ابتداء کا حکم بس ترکِ صلوٰۃ و صوم ہے
اورْ حکم یہ مستحاضہ کا فقط دس یوم ہے
عادیہ دس دن صلوٰۃ و صوم چھوڑے ہاں مگر
خون جاری ہو تو لوٹاے فرض اعتاد پر
حائرۂ یعنی عدد سے تین دن چھوڑے  نماز
بعد اس کے سات دن وہ غسل سے جوڑے نماز
آنے والے حیض تک آگے نہیں دشوار ہے
سب نمازوں کے لئے پھر بس وضوء درکار ہے
حائراۓ وقت کو عادت تلک چاہے وضوء
اورْ غسل مطلوب ہے  در روزہاۓ بعدہٗ
ضالۂ وقت و عدد کو تین دن چاہے وضوء
اوْرَ ستائییس دن پھر ہو غسل سے سرخرو
_________الوضوء لوقت الصلوۃ________________

مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ و احمدؒ کے نزدیک مستحاضہ نماز کا وقت شروع ہوتے ہی وضو کرے گی پھر اس وضو سے وقت کے اندر جتنی نمازیں اور جو بھی نمازیں پڑھنا چاہے پڑھ سکتی ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں ایک وضو سے صرف ایک فرض پڑھ سکتی یا اس کے توابع اور بس دوسرے فرض یا قضاء کے لے نیا وضو درکار ہے۔ 

اشعار۔ 
مستحاضہ وقت کی خاطر کرے گی بس وضوء
بوحنیفہ اور احمد کی یہی ہے گفتگو
ہر فرض با نفل کی خاطر وضوء کر لے نیا
یہ امامِ شافعی صاحب کا ہے قولِ صفا
_____________منع الحائض________________

مسئلہ۔ روافض کہتے ہیں حائضہ جب پاک ہو تو صوم و صلوٰۃ دونوں کی قضاء لازم ہے جبکہ اھل سنت والجماعت فرماتے ہیں نمازوں کی قضاء تو ہے نہیں البتہ روزوں کی قضاء لازم ہے۔ 

اشعار۔ 
اھل سنت والجماعت سب ائمہ نے کہا
حائضہ ترک نماز و صوم کی کر لے قضاء
البتہ روزہ،نمازوں کی قضاء کر لے ضرور
یہ روافض نے کہا ہے  جبکہ ہو وقتِ طہور
____________اتیان الحائض________________

مسئلہ۔ اگر حیض کی حالت میں عورت سے قربت کر لی تو استغفار لازم ہے یہی ائمہ اربعہ کا مسلک ہے البتہ امام احمدؒ اور امام شافعیؒ کا قول قدیم یہ کی ایسے نابکار پر ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا ہوگا۔ 

اشعار۔ 
اور جماعِ حائضہ پر چاہے استغفار ہاں
یہ تھا مسلک اربعہ کا اب ہے کچھ تکرار ہاں
اک روایت احمد و قولِ قدیمِ شافعی
صدقۓ دینار دیوے یا نصف دینار ہی
__________باب فی الجنب یقرأ________________

مسئلہ۔ کیا حالت جنابت میں قرآن پڑھ سکتے ہیں ظاہریہ نے پڑھنے کی مطلقاً اجازت دی امام شافعیؒ نے مطلقاً قرآن پڑھنے سے روکا ہے یہی ایک قول امام ابوحنیفہؒ و امام احمدؒ کا ہے اور دوسرا قول امام ابوحنیفہؒ و احمدؒ کا یہ کہ ایک آیت سے کم کسی آیت کا ٹکڑا ہو تو پر سکتا ہے اور امام مالکؒ فرماتے ہیں دو آیتوں تک پڑھنے کی اجازت ہے یعنی قرآن میں سب سے چھوٹی سورت جو ہے اس سے کم پڑھنے کی اجازت ہے اور سب سے چھوٹی سورۃ اگر کوئی پڑھے تو تین آیات بیٹھتی ہے مثلا سورۃ الکوثر۔ 

اشعار۔ 

ظاہریہ نے کہا جنبی پڑھے قرآن کو
شافعی نے مطلقاً روکا ہے اس انسان کو
مروی ہیں قولین از نعمان و شیخ حنبلی
کم از آیت ہے اباحت اور مثل شافعی
حضرت مالک ہیں کہتے ایک دو آیت پڑھے
یعنی کم ہو جوبھی کوئی چھوٹی سی صورت پڑھے
_____________تجدید الوضوء_______________

مسئلہ۔ ہر نماز کے لئے نیا و تازہ وضو کرنا اھل سنت والجماعت کے نزدیک مستحب ہے بس تھوڑا سا فرق ہے وہ یہ کہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ پہلے وضو سے کوئی عمل کر لے مثلا کوئی فرض نماز یا نفل پڑھ لے یا قرآن اٹھا کر تلاوت کرے یا مجلس بدل دے اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں پہلے وضو سے کوئی بھی عبادت کرے یا یا مجلس بدل جاتے تب نیا وضو مستحب ہے۔ 

اشعار۔ 
پھر وضوء بھی سب نمازوں کے لیے چاہے نیا
مستحب ہے اھل سنت و الجماعت نے کہا
شافعی کہتے ہیں پہلے کچھ  عمل کر لے ضرور
فرض و نفل و مسحِ مصحف یا فصل کرلے ضرور
حنفیہ پہلے وضوء سے ہیں عبادت پر مصر
یا فصل ہو جاے تو پھر ہے نہیں ایسا مضر
_______________تیمم للجنب________________

مسئلہ۔ پانی کے نہ ہوتے ہوئے تیمم کیا جائے گا اور تیمم نصِ قطعی سے ثابت ہے چاہے وضو کے لیے یا غسل کے لے اس میں کسی کا اختلاف نہیں البتہ تیمم کس سے کیا جاے اس میں اختلاف ہے امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ جنسِ زمین پر تیمم کیا جا سکتا ہے اور امام شافعیؒ و امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ مٹی پر ہی تیمم ہو سکتا اس کے علاوہ نہیں۔ 

اشعار۔ 
اور تیمم للوضو ثابت ہے اجماعاً جناب
پھر جنابت پر بھی آیا ہے تیمم کا خطاب
چاہۓ جنسِ زمیں بس نزدِ اعظم، مالکی
چاہۓ مٹی فقط بس نزد احمد شافعی
_______الحائض تتناول الشیٔ من المسجد________

مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ کے نزدیک حائضہ و جنبی کے لے جائز نہیں کہ مسجد سے ہو کے گزرے یا مسجد میں ٹھہرے اور امام شافعیؒ نے جنبی کو صرف گزر نے کی اجازت دی ہے اور حضرت ولا جنباً الا عابری سبیلٍ سے استدلال کرتے ہیں اور امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اگر جنبی وضو کر لے تو گزر سکتا ہے۔ 

اشعار۔ 
حائض و جنبی کو جائز ہی نہیں مکث و حضور
مسجدوں میں نزد اعظم مالکی پر ہو طہور
شافعی نے عابری سے ہے دیا اذنِ  مرور
با وضوء جنبی کو احمد نے کہا کر لے عبور
_________التیمم طہارۃ مطلقۃ_______________

مسئلہ۔ تیمم امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک طہارت مطلقہ ہے اس سے جتنی نمازیں چاہے پڑھ سکتا ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک طہارت ضرورت ہے اس لے الضرورۃ تتقدر بقدر الضرورۃ کے پیش نظر صرف وقت کی نماز پڑھی جاے گی۔ 

اشعار۔ 
مطلقاً سمجھو طہارت تم تیمم جی حضور
ہے یہی مسلک ہمارا قولِ اعظم جی حضور
پر ثلاثہ کا ہے فتویٰ یہ طہارت ہے ولے
مطلقہ تو ہے نہیں ہاں ضرورت ہے ولے
_____________باب التیمم_________________

مسئلہ۔ طہور المسلم الماء و التراب پانی موجود نہ تو تیمم کیجئے اختلافی صورت یہ کہ میں کتنی ضربیں ہیں تو ائمہ ثلاثہ کے نزدیک دو ضربیں ہیں للوجہ و للیدین اور امام احمدؒ کے نزدیک اک ہی ضرب ہے پھر ائمۂ ثلاثہ فرماتے کہ ہاتھوں کا مسحِ ضرب تا مرفقین (کہنیوں) ہے اور امام احمدؒ کے نزدیک ہاتھوں پر مسح تا رسغین (کلایوں) تک ہوگا۔ 

اشعار۔ 
ہے طہورِ مومن و مسلم کہ پانی و تراب
بس تیمم ہے مقرر گر نہ پاے کوئی آب
البتہ ہیں ضربیں دو نزدِ ثلاثہ یاد رکھ
اور احمد نے کہا ہے اک ضرب دل شاد رکھ
پھر ثلاثہ نے کہا ہے اک ضرب تا مرفقین
نزدِ احمد کیفیت رسغین تک ہے از یدین
____________________________________

امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اگر متیمم وقت کے اندر پانی پر قادر ہو جاے تو وضو کر کے نماز لوٹانی ہوگی اور ائمہ ثلاثہ نے پہلے والی تیمم کو ہی جائز قرار دیا پانی پر قدرت کے بعد بھی اب اس کو لوٹانا نہیں ہے۔ 

شعر۔ 
وقت میں پا لے اگر پانی تو لوٹاے نماز
یہ ہے قولِ شافعی قولِ ثلاثہ ہے مُجاز
_________یجد البلل بعد النوم________________

مسئلہ۔ سو کر اٹھنے کے بعد جو کپڑے پر تری دیکھے تو کیا غسل واجب ہے یا نہیں یہ وہ سات صورتیں ہیں جن میں احتلام بھی یاد ہے اور تری بھی دیکھے اور ان میں سے چھے صورتوں میں غسل واجب ہے اور ایک صورت میں غسل واجب نہیں وہ صورت جس میں غسل واجب نہیں ہے یہ ہے۔ ودی کا یقین ہو اور احتمال یاد ہو تو غسل واجب نہیں اور بقیہ چھے صورتیں جن میں غسل واجب ہے یہ ہے 1منی کا یقین ہو اور احتلام یاد ہو 2 مذی کا یقین ہو اور احتلام یاد ہو 3 منی اور مذی میں شک ہو اور احتلام یاد ہو 4 منی اور ودی میں شک ہو اور احتلام یاد ہو 5 مذی اور ودی میں شک ہو اور احتلام یاد ہو 6 منی، مذی ، ودی تینوں میں شک ہو۔ 

اشعار۔ 
بعد استیقاظ کپڑے پر جو دیکھے گا تری
یا تیقن ہے منی کا یا ودی کا یا مذی
یا ہو شک اس کو منی میں با مذی یا کہ ودی
یا ہو شک بین المذی اور ہو ودی میں اور منی
عدمِ ایقانِ ودی ہو ذہن میں ہو احتلام
پھر غسل کا نزدِ حنفی  کیجئے گا اہتمام
________الجنب یغسل رأسہ بالخطمی___________

مسئلہ۔ شئ طاہر اگر پانی میں ملائ جاے تو کیا اس پانی سے غسل جائز ہے یا نہیں حنیفہ کے نزدیک جائز ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک نا جائز ہے 

شعر۔

 ماۓ خطمی سے غسل بھی نزدِ حنفی ہے روا

اور نا جائز ہے ایسا یہ ثلاثہ نے کہا

______________کیف یطھر الارض______________

مسئلہ۔ اگر زمین ناپاک ہو تو اس کو کیسے پاک کیا جا سکتا ہے ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں کہ زمین کو صرف پانی سے پاک کیا جا سکتا ہے اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں کہ تین طرح سے پاک ہوگی 1 خشک ہونے سے 2 کھود کرید کر مٹی اٹھا دی جاے 3 یا پانی سے دھویا جاے۔ 

شعر۔ 
پانی سے دھونا زمیں ہے یہ ثلاثہ نے کہا
نزدِ اعظم از جفاف و حُفر سے یا صبِّ ماء
_____________غسل یوم الجمعة_______________

مسئلہ۔ جمعہ کے دن غسل کرنا سنت ہے یہ ائمہ اربعہ کا مسلک ہے اور ظاہریہ غسلِ یومِ جمعہ کو واجب گردانتے ہیں۔ 

شعر۔ 
غسلِ جمعہ ہے سنن میں سب ائمہ نے کہا
البتہ واجب ہے ایسا ظاہریہ نے کہا

Wednesday, January 4, 2023

الاختلاف از پرھنوزادہ طارق حسین کشمیری

_________________مدت الحیض_______________
حیض کی مدت ہے نزد بوحنیفہ تین دن
اکثرِ مدت ہے دس تک پیارے طالب خوب سن
نزدِ احمد، شافعی کم ایک ہے پندرہ کثیر
نزدِ مالک کم نہیں کچھ اور ہے سترہ کثیر
________________مدت نفاس_________________
اتفاقاً ہے نہیں مدت قلیلاً در نفاس
نزدِ مالک ، شافعی ہے ساٹھ لیتے ہیں قیاس
بوحنیفہ اور احمد نے کہا چالیس دن
یاد کر اقوال سارے اور ان کو خوب گن
____________________الوان الحیض________________
خون کے رنگوں میں ما بین الائمہ ہے خلاف
غور سے طالب تو پڑھ لے لکھ رہا ہوں صاف صاف
نزدِ احمد، شافعی ہے سرخ یا پھر کالا رنگ
نزدِ مالک سرخ و زرد و کالا و مٹیالا رنگ
نزدِ اعظم تربتی و سرخ و زرد و رنگ سواد
پھر ہے پیلا اور گدھلا یوں ہیں رنگ بے اعتماد
___________________اقسام المستحاضہ________________
نزدِ اعظم مستحاضہ کی یہی پہچان ہے
ابتداءً آگیا یا عادت و حیران ہے
چار کا نزدِ ثلاثہ مستحاضہ میں حصار
تین گزری اور ہے ذاتِ ممیّز کا شمار
__________________احکام المستحاضہ_________________
ابتداء کا حکم بس ترکِ صلوٰۃ و صوم ہے
اور حکم یہ مستحاضہ کا فقط دس یوم ہے
عادیہ دس دن صلوٰۃ و صوم چھوڑے ہاں مگر
خون جاری ہو تو لوٹاے فرض اعتاد پر
حائرۂ یعنی عدد سے تین دن چھوڑے  نماز
بعد اس کے سات دن وہ غسل سے جوڑے نماز
آنے والے حیض تک آگے نہیں دشوار ہے
سب نمازوں کے لئے پھر بس وضوء درکار ہے
حائراۓ وقت کو عادت تلک چاہے وضوء
اور غسل مطلوب ہے  در روزہاۓ بعدہٗ
ضالۂ وقت و عدد کو تین دن چاہے وضوء
اور ستائیس دن پھر ہو غسل سے سرخرو
_________________الوضوء لوقت الصلوۃ________________
مستحاضہ وقت کی خاطر کرے گی بس وضوء
بوحنیفہ اور احمد کی یہی ہے گفتگو
ہر فرض با نفل کی خاطر وضوء کر لے نیا
یہ امامِ شافعی صاحب کا ہے قولِ صفا
_________________منع الحائض________________
اھل سنت والجماعت سب ائمہ نے کہا
حائضہ ترک نماز و صوم کی کر لے قضاء
البتہ روزہ،نمازوں کی قضاء کر لے ضرور
یہ روافض نے کہا ہے  جبکہ ہو وقتِ طہور
___________________اتیان الحائض_________________
اور جماعِ حائضہ پر چاہے استغفار ہاں
یہ تھا مسلک اربعہ کا اب ہے کچھ تکرار ہاں
اک روایت احمد و قولِ قدیم شافعی
صدقۓ دینار دیوے یا نصف دینار ہی
________________باب فی الجنب یقرأ________________
ظاہریہ نے کہا جنبی پڑھے قرآن کو
شافعی نے مطلقاً روکا ہے اس انسان کو
مروی ہیں قولین از نعمان و شیخ حنبلی
کم از آیت ہے اباحت اور مثل شافعی
حضرت مالک ہیں کہتے ایک دو آیت پڑھے
یعنی کم ہو جوبھی کوئی چھوٹی سی صورت پڑھے
__________________تجدید الوضوء_______________
پھر وضوء بھی سب نمازوں کے لیے چاہے نیا
مستحب ہے اھل سنت و الجماعت نے کہا
شافعی کہتے ہیں پہلے کچھ  عمل کر لے ضرور
فرض و نفل و مسح مصحف یا فصل کرلے ضرور
حنفیہ پہلے وضوء سے ہیں عبادت پر مصر
یا فصل ہو جاے تو پھر ہے نہیں ایسا مضر
___________________تیمم للجنب________________
اور تیمم للوضو ثابت ہے اجماعاً جناب
پھر جنابت پر بھی آیا ہے تیمم کا خطاب
چاہۓ جنسِ زمیں بس نزدِ اعظم، مالکی
چاہۓ مٹی فقط بس نزد احمد شافعی
______________الحائض تتناول الشیٔ من المسجد______________
حائض و جنبی کو جائز ہی نہیں مکث و حضور
مسجدوں میں نزد اعظم مالکی پر ہو طہور
شافعی نے عابری سے ہے دیا اذنِ  مرور
با وضوء جنبی کو احمد نے کہا کر لے عبور
___________________التیمم طہارۃ مطلقۃ_______________
مطلقہ سمجھو طہارت تم تیمم جی حضور
ہے یہی مسلک ہمارا قولِ اعظم جی حضور
پر ثلاثہ کا ہے فتویٰ یہ طہارت ہے ولے
مطلقہ تو ہے نہیں ہاں ضرورت ہے ولے
_________________باب التیمم_________________
ہے طہورِ مومن و مسلم کہ پانی و تراب
بس تیمم ہے مقرر گر نہ پاے کوئی آب
البتہ ہیں ضربیں دو نزدِ ثلاثہ یاد رکھ
اور احمد نے کہا ہے اک ضرب دل شاد رکھ
پھر ثلاثہ نے کہا ہے اک ضرب تا مرفقین
نزدِ احمد کیفیت رسغین تک ہے از یدین
____________________الجنب یغسل رأسہ بالخطمی______________
ماۓ خطمی سے غسل بھی نزدِ حنفی ہے روا
اور نا جائز ہے ایسا یہ ثلاثہ نے کہا
_________________کیف یطھر الارض______________
پانی سے دھوۓ زمیں کو یہ ثلاثہ نے کہا
نزدِ اعظم از جفاف و حُفر سے یا صبِّ ماء