____ما یقول الرجل اذا رفع رأسہ من الرکوع______
مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں رکوع سے اٹھتے وقت تسمیع و تحمید ( سمع اللہ لمن حمدہ اور ربنا و لک الحمد) امام و مقتدی دونوں کا وظیفہ ہے امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں امام تسمیع کہے گا اور مقتدی تحمید یعنی دونوں میں تقسیم ہے اور امام احمدؒ و صاحبین فرماتے ہیں امام تسمیع و تحمید دونوں کہے گا اور مقتدی صرف تحمید کہے امام طحاویؒ فرماتے ہیں حنفیہ کا مفتی بہ قول یہی ہے۔
اشعار۔
حمد و تسمیعِ رفع ہے للامام و مقتدی
بس یہی تو حکم دیتے ہیں امام شافعی
بولیں تسمیع بس ائمہ مقتدی تحمید کو
نزدِ اعظم اور مالک ہے عمل تحدید کو
نزدِ یعقوب و محمد اور احمد للامام
دونوں کا پابند ٹھہرا مقتدی حمداً تمام
_________ما جاء فی وضع الیدین قبل الرکبتین_______
مسئلہ۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں سجدے میں جاتے وقت پہلے دونوں ہاتھ زمین پر رکھے جائیں گے پھر دونوں گھنٹے اور جمہور کہتے ہیں پہلے گھنٹے رکھے جائیں گے پھر دونوں ہاتھ۔
شعر۔
نزدِ مالک پہلے رکھو سجدے میں دونوں یدین
نزدِ جمہور ائمہ پہلے رکھو رکبتین
_______ما جاء یقول بین السجدتین______
مسئلہ۔ امام شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک دونوں سجدوں کے درمیان یعنی جلسے میں ذکر مسنون ہے اور امام مالکؒ و امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک جلسے میں ذکر مسنون نہیں البتہ امام اعظم کے نزدیک اگر کوئی پڑھ تو کوئی حرج نہیں۔
اشعار۔
درمیانِ دونوں سجدے نزدِ احمد، شافعی
ذکرِ اِغفر اور اِرحم ٹھہرا ہے مسنون بھی
نزدِ اعظم اور احمد ذکر تو سنت نہیں
نزدِ اعظم گر کوئی پڑھ لے تو پھر کلفت نہیں
________ما جاء فی جلسۃ الاستراحۃ________
مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں پہلی رکعت اور تیسری رکعت کے بعد جلسۂ استراحت سنت ہے اور ائمہ ثلاثہ نے فرمایا جلسۂ استراحت سنت نہیں ہے بلکہ سیدھے کھڑا ہو جاے۔
شعر۔
شافعی کہتے ہیں سنت استراحت کا قعود
اور ثلاثہ نے کہا سیدھے کھڑا ہو از سجود
__________سجدۃ السہو__________
مسئلہ۔ سجدہ سہو امام شافعیؒ کے نزدیک قبل السلام کیا جاے گا اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک بعد السلام کیا جاے گا امام مالکؒ فرماتے ہیں اگر نماز میں کسی نقصان کی وجہ سے سجدہ سہو لازم ہوا ہے تو قبل السلام کیا جاے گا القاف بالقاف اور اگر کسی زیادتی کی وجہ سے لازم ہوا ہے تو بعد السلام سجدہ کیا جاوے الدال بالدال اور امام احمدؒ فرماتے ہیں احادیث کو دیکھا جاوے گا حضورﷺ سے جس حالت میں جو کیفیت مروی ہے ویسا ہی کیا جاے ہاں جہاں کوئی روایت نہیں ملتی وہاں شافعیہ کی طرح قبل السلام کیا جاے گا۔
اشعار۔
سہو کا سجدہ ہے نزدِ شافعی قبل السلام
نزدِ اعظم بعدہٗ سجدے کا ہوگا اہتمام
اور مالک نے کہا ہے قاف و قاف و دال دال
نزدِ احمد مثلِ خبرِ مصطفیٰ رکھیو خیال
اور احمد نے کہا جس جا خبر مروی نہیں
شافعی کا قول لیجے گر مثل نبوی نہیں
_____ما جاء فی کراھیۃ الاقعا بین سجدتین________
مسئلہ۔اقعاء کے معنی ہے دونوں پاؤں کو پنجوں کے بل کھڑا کرنا اور ایڑیوں پر بیٹھنا یہ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک مکروہ ہے امامِ شافعیؒ کے نزدیک دونوں سجدوں کے درمیان اقعاء و افتراش دونوں مسنون ہے۔
شعر۔
پھر کراہت ہے ثلاثہ نے کہا اقعاء کرے
شافعی کہتے ہیں سنت جو کوئی ایسا کرے
_________کیف الجلوس فی التشھد________
مسئلہ۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں تشہد میں بحالت تورک ( دائیں پاؤں کو کھڑا اور بائیں پاؤں کو بچھا کر سرین پر بیٹھا جاوے) بیٹھنا سنت ہے اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں افتراشاً ( دائیں پاؤں کھڑا اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھا جاے) ہوگا امام شافعیؒ و احمدؒ فرماتے ہیں جلسۂ یسیر (جیسے پہلا قعدہ) مثل حنفیہ ہوگا اور جلسۂ کبیر ( دوسرا قعدہ) مثل مالکیہ کیا جائے ہاں اگر دو رکعت والی نماز ہو جس میں ایک ہی قعدہ ہوتا ہے اس میں امام شافعیؒ فرماتے ہیں مثل مالکیہ بیٹھا جاے اور امام احمدؒ فرماتے ہیں اس میں مثل حنفیہ ہی بیٹھا جاوے۔
اشعار۔
ہو تشہد میں تورّک مالکیہ نے کہا
اور مطلق افتراشاً کہتے ہیں یہ حنفیہ
پہلا قعدہ مثلِ حنفی ثانی مثلِ مالکی
یہ ہے قولِ ابنِ حنبل اور شیخِ شافعی
مثلِ اعظم قولِ احمد قعدۂ دوگانہ کر
مثل مالک ہوگا قعدہ شافعی کا ہے امر
_______ما جاء فی التشھد________
مسئلہ۔ جمہور ائمہ فرماتے ہیں تشہد پڑھنا واجب ہے امام مالکؒ کی ایک روایت یہ کہ تشہد پڑھنا سنت ہے
شعر۔
اک روایت مالکی میں ہے تشہد از سنن
اور واجب سے ہیں جمہورِ ائمہ مطمئن
______ما جاء فی عدد التسلیم فی الصلوٰۃ________
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں امام و مقتدی دونوں کو دو سلامیں کہنی ہیں ایک دائیں جانب کو ایک بائیں جانب کو امام مالکؒ فرماتے ہیں امام کو ایک ہی سلام کہنی ہے سر اٹھا کر سامنے کی طرف اور مقتدی کو تین سلامیں کہنی ہے ایک آگے کی جانب دو دائیں بائیں۔
اشعار۔
نزدِ اصحابِ ثلاثہ ہر کسی پر دو سلام
نزدِ مالک مقتدی کو تین و واحد للامام
_____ما جاء فی الصلاۃ علی النبی فی القعدۃ الاخیرۃ_____
مسئلہ۔ قعدۂ اخیرہ میں درودشریف پڑھنا ائمۂ ثلاثہ کے نزدیک سنت ہے اور امامِ شافعیؒ فرماتے ہیں درود پڑھنا فرض ہے۔
شعر۔
قعدۂ ثانی میں سنت ہے نبی پر پھر درود
شافعیہ کے یہاں ہے فرض یہ وقتِ قعود
___________قطع الصلوٰۃ__________
مسئلہ۔ امامِ احمدؒ کے نزدیک کالے کتے کا نمازی کے سامنے سے گزرنا فساد نماز کا باعث ہے اور روایت امامِ احمدؒ سے یہ بھی ہے کہ گدھے اور عورت کے گزرنے سے بھی نماز فاسد ہوگی ائمۂ ثلاثہ کے نزدیک گدھا، عورت تو کجا کتے کے گزرنے نے سے بھی نماز میں کوئی فرق نہیں پڑتا ہے۔
اشعار۔
ہو اگر پیشِ مصلّی کلبِ اسود کا مرور
نزدِ احمد پھر نمازوں کا اعادہ ہے ضرور
اک روایت نزدِ احمد اس میں داخل ہے حمار
اور غضب اس پر کہ عورت کا بھی اس میں ہے شمار
پر ثلاثہ نے کہا ہے کلب اسود کیا ہوا
کوئی بھی گزرے گزرنا سب کا سب باطل ہوا
___________صلوٰۃ القائم خلف القاعد__________
مسئلہ۔ امامِ مالکؒ فرماتے ہیں قاعد امام کی اقتدی مطلقا نا جائز ہے امامِ احمدؒ فرماتے ہیں قاعد امام کی اقتداء بیٹھ کر ہی جائز ہے اور امام ابوحنیفہؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں امام اگر معذور اور قاعد ہو تو مقتدی کھڑے ہوکر اس کے پیچھے نماز پڑھیں گے
اشعار۔
حضرتِ مالک ہیں کہتے ہو اگر قاعد امام
یہ بہر صورت غلط ہے اقتداء ہے نا تمام
نزدِ احمد قاعداً کی ہے قعوداً اقتداء
قولِ اعظم، شافعی ہے مقتدی ہوگا کھڑا
____________الکلام فی الصلاۃ___________
مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں اگر نا واقفیت یا بھولے سے نماز میں کلام کیا تو نماز ہو جاے گی امام مالکؒ فرماتے ہیں اگر اصلاحِ صلاۃ کے لے بات کرے تو نماز میں کوئی اثر نہیں پڑے گا یہی ایک روایت امام ابوحنیفہؒ کی ہے امام احمدؒ فرماتے ہیں اگر نمازی کو معلوم ہو کہ اس کی نماز ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے اور بات کرے تو نماز فاسد ہوگی ہاں اگر یہ خیال تھا کہ نماز مکمل ہوچکی ہے اس لئے ہم کلام ہوا پھر معلوم ہوا کہ نماز ابھی مکمل نہیں ہوئی ہے تو اس صورت میں نماز فاسد نہیں ہوگی امام احمدؒ کی اس مسئلہ میں تین روایات اور ہے تینوں اماموں کے ساتھ اور امامِ ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کلام جس حال میں ہو جیسا ہو، کم ہو یا زیادہ بہر صورت مفسد صلاۃ ہے۔
اشعار۔
عدمِ علم و بھول کر ہو گر نمازوں میں کلام
شافعی کہتے ہیں اس میں غیر مفسد ہے پیام
نزدِ مالک ہو اگر مقصود اصلاحِ صلوٰۃ
غیر مفسد ہے یہ اعظم کی یہی ہے ایک بات
حضرتِ احمد کی اس میں چار مرویات ہے
تین میں احمد ثلاثہ کے ہی ہم جذبات ہے
اک روایت ہے اگر وہ جانتا تھا ناتمام
پھر تو فاسد ہے یقیناً گر کرے گا کچھ کلام
بو حنیفہ نے کہا ہے بات کرنا در صلوٰۃ
کم، زیادہ، ہرطرح ہے یہ عمل از مفسدات
___________القنوت فی الوتر____________
مسئلہ۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں قنوت وتر صرف پورے رمضان مشروع ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں رمضان کے صرف آخری پندرہ دن مشروع ہے یہی ایک روایت امام مالکؒ و احمدؒ کی ہے اور امامِ ابوحنیفہؒ و امام احمدؒ کا راجح قول یہ ہے کہ قنوت وتر پورے سال مشروع ہے۔
اشعار۔
نزدِ مالک ہے قنوتِ وتر پھر پورے صیام
مسلکِ مالک میں ملتا ہے یہی راجح پیام
ہے قنوتِ وتر پچھلے پندرہ دن رمضان میں
مالکی و شافعی و حنبلی فرمان میں
بو حنیفہ اور احمد کا یہ واضح حال ہے
یعنی کہتے ہیں قنوتِ وتر پورے سال ہے
____________القنوت فی الفجر__________
مسئلہ۔ امام مالکؒ و امام شافعیؒ کے نزدیک قنوت فجر پورے سال مشروع ہے اور امامِ ابوحنیفہؒ و احمدؒ فرماتے ہیں قنوت فجر ایسے ایام میں مشروع ہے جب مسلمان پر کو آفت یا ابتلاء ہو
اشعار۔
پھر قنوتِ فجر پڑھنا ہے سبھی کو بالدوام
مالکیہ، شافعیہ، نے کیا ہے التزام
ہاں قنوتِ فجر چاہے بس کٹھن ایام میں
بو حنیفہ اور احمد کے صحیح اعلام میں
___________صلوٰۃ الوتر_________
مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک وتر کا حکم واجب ہے اور ائمہ ثلاثہ و صاحبین کے نزدیک سنت اشد التاکید ہے۔
شعر۔
وتر واجب ہے بحکمِ بو حنیفہ زینہار
کہتے ہیں سنت ثلاثہ، صاحبینؒ، ذی وقار
_______________رکعاتِ وتر_____________
مسئلہ۔ تعدادِ رکعاتِ وتر کیا ہے امام شافعیؒ و امام احمدؒ فرماتے ہیں ایک سے گیارہ رکعات وتر کی ہیں اور امامِ ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں وتر تین رکعات ہیں۔
اشعار
تین رکعت وتر میں ہے نزدِ اعظم، مالکی
ایک سے ہے گیارہ تک یہ نزدِ احمد، شافعی
____ما جاء فی القنوت قبل الرکوع و بعد الرکوع____
مسئلہ۔ قنوت کس رکعت میں اور کہاں پڑھی جاے گی امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں قنوت تیسری رکعت میں قبل الرکوع پڑھی جاے گی اور امام شافعیؒ و امام احمدؒ فرماتے ہیں تیسری رکعت میں بعد الرکوع پڑھی جاے گی اور امام احمدؒ سے ایک روایت یہ کہ وتر پڑھنے والے کو اختیار ہے چاہے قبل الرکوع پڑھے یا بعد الرکوع۔
اشعار۔
ہو قنوتِ وتر پہلے پھر رکوع کر لے جناب
نزد اعظم اور مالک ہے یہی بہتر صواب
پہلے خم ہو پھر پڑھے گا نزدِ احمد، شافعی
اک روایت حنبلی ملتی ہے پھر تخییر کی
____________ای قنوت افضل_________
مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ و امامِ مالکؒ فرماتے ہیں وتر میں اللّھمّ انا نستعیک والی دعا پڑھی جاے گی اور امامِ احمدؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں اللّھمّ اھدنا فیمن ھدیت والی دعا پڑھی جاے گی۔
اشعار۔
اور اللّھمّ انا نستعینُکْ ہے شمار
اس دعا کا اعظم و مالک ہیں کرتے اعتبار
ہے مگر فیمن ھدیتا نزدِ احمد، شافعی
اس دعا سے حنبلی و شافعی کو ہے خوشی
_________ما جاء فی الوتر علی الراحلۃ_________
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ نے فرمایا ہے کہ سواری پر بھی عذراً وتر پڑھی جا سکتی ہے کیونکہ ابن عمرؓ سے ایسا کرنا مروی ہے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں سواری پر وتر پڑھنا جائز نہیں ہے۔
شعر۔
نزدِ حنفیہ نہیں جائز سواری پر وتر
ہے روا نزدِ ثلاثہ مروی از ابنِ عمر
_____________الوتر بسلام واحد____________
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں وتر دو سلاموں کے ساتھ پڑھی جاے گی اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں تین رکعات وتر ایک سلام کے ساتھ پڑھی جاے گی
شعر۔
ہے بہ فرمانِ ثلاثہ وتر میں پھر دو سلام
نزدِ اعظم ایک ہے آخر میں ہے اس کا مقام
_________ما جاء فی الجمعۃ فی القریٰ_______
مسئلہ۔ امام احمدؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں جس جگہ چالیس عاقل بالغ افراد جمع ہو جائیں وہاں جمعہ کی نماز قائم کیا جاے گی امامِ مالکؒ فرماتے ہیں جو گاؤں شہر سے تین کلو میٹر سے کم فاصلے پر واقع ہو اس گاؤں میں جمعہ نماز قائم کی جاے گی امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں اقامتِ جمعہ کے لئے قریۂ کبریٰ یا شہر ہونا چاہیے۔
اشعار۔
جس جگہ چالیس عاقل سے ہو کم مرداں جمع
نزدِ احمد، شافعی ہے ایسی جا جُمعَہ منع
نزدِ مالک بادیہ جو تیں کلو میٹر سے کم
شہر سے ہو فاصلہ تو جمعہ کا ہوگا عزم
قریۂ کبریٰ ہو نزدِ بو حنیفہ یا شہر
تب جمعہ قائم کرو ورنہ وہی پڑھ لو ظہر
_____________وقتِ الجمعہ___________
مسئلہ۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں جمعہ کا وقت قبل الزوال ہے اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں جس طرح ظہر کا وقت بعد الزوال ہے اسی طرح جمعہ کا وقت بھی بعد الزوال ہے۔
شعر۔
قولِ احمد وقتِ جمْعہ ہے روا قبل الزوال
مثلِ وقت ظہر ٹھہرا ہے ثلاثہ کا خیال
__________الصلاة عند الخطبہ__________
مسئلہ۔ امام احمدؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں جو شخص خطبے کے وقت مسجد آے وہ پہلے دوگانہ تحیۃ المسجد پڑھ لے امام مالکؒ و امامِ ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں جو خطبے کے وقت آے اس پر کوئی نفل نہیں تا آں کہ امام نماز سے فارغ ہو جائے۔
اشعار۔
آنے والا وقتِ خطبہ پڑھ لے دوگانہ فقط
نزدِ احمد شافعی بس یہ حکم جانا فقط
وقتِ خطبہ آنے والے پر نہیں کوئی نماز
بو حنیفہ اور مالک کا ہے یہ قولِ گداز
_______ما جاء فی الجلوس بین الخطبتین_______
مسئلہ۔ دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھنا امام شافعیؒ و احمدؒ کے نزدیک فرض ہے امام مالکؒ و ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں بیٹھنا سنت ہے
اشعار۔
درمیانِ دونوں خطبے بیٹھنا ٹھرا فرض
شافعی و ابنِ حنبل کو ہے بس اس سے غرض
بو حنیفہ اور مالک نے کہا سنت قعود
ایسے جلسے میں پڑھو کوئی دعا، ذکر و درود
____ما جاء فی کراھیۃ الکلام والامام یخطب______
مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں دورانِ خطبہ بات کرنا جائز ہے اور جمہور کے نزدیک میانِ خطبہ کلام کرنا نا جائز ہے۔
شعر۔
شافعی کہتے ہیں جائز خطبہ پڑھتے ہو کلام
اور کہتے ہیں یہ نا جائز وہ جمہورِ عظام
____ما جاء فی الکلام بعد نزول الامام من المنبر____
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ و صاحبینؒ فرماتے ہیں جب امام خطبے سے فارغ ہو جائے تو نماز سے پہلے کلام کی اجازت ہے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں بعد الخطبہ قبل فراغ الصلاۃ بھی کلام کی اجازت نہیں ہے۔
اشعار۔
بعد خطبہ بھی نہیں ہے بات کرنے کا جواز
نزدِ اعظم ہو نہ جب تک یہ مکمل کل نماز
نزدِ یعقوب و محمد اور ثلاثہ نے کہا
بعدِ خطبہ بھی ہے جائز بات کر لے گا تو کیا
______ما جاء فی الصلاۃ قبل الجمعة و بعدھا______
مسئلہ۔ جمہور ائمہ فرماتے ہیں جمعہ سے پہلے چار سنتیں مسنون ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں جمعہ سے قبل دو سنتیں مسنون ہے اور جمعہ کے بعد امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں چار سنتیں پڑھے گا اور امام احمدؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں جمعہ کے بعد بھی دو ہی پڑھے البتہ صاحبین ؒ فرماتے ہیں بعد الجمعہ چھے سنتیں مسنون ہے احناف کا فتویٰ اسی پر ہے۔
اشعار۔
نزدِ جمہورِ ائمہ پہلے بھی سنت ہے چار
شافعی کہتے ہیں جمعہ سے قبل ہے دو شمار
چار پڑھ لے بعدِ جمعہ نزدِ اعظم، مالکی
دو ہی پڑھ لے بعدِ جمعہ نزدِ احمد، شافعی
پر ہے فتویٰ صاحبین حنفیہ کے قول پر
چھے سنن ہے بعدِ جمعہ ہے یہ اچھا خوب تر
____________القصر عزیمۃ ام رخصۃ___________
مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں سفر میں قصر ہی ضروری ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں سفر میں اتمام و قصر دونوں کا اختیار ہے دونوں میں سے جو چاہے کرے امام احمدؒ و مالکؒ فرماتے ہیں اتمام ضروری ہے
اشعار۔
بو حنیفہ نے کہا ہے قصر چاہے در سفر
شافعی کہتے ہیں دونوں یعنی اتمام و قصر
احمد و مالک کا ہے مسلک کہ ہے اتمام بس
ہے عزیمت ہی مقدر ہر گھڑی ہر گام بس
_____________الاختلاف فی مدۃ السفر__________
مسئلہ۔ سفر میں کتنے دن کی نیت کرنے سے مقیم کہلاے گا امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں جو پندرہ دن یا اس سے زیادہ ٹھہرنے کی نیت کرے وہ مقیم ہوگا اب اتمام کرے گا اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں جو چار دن کی نیت کرے وہ مقیم ہوگا اس سے کم مسافر۔
شعر۔
پندرہ دن نیت کرے تو نزدِ اعظم ہے مقیم
اور ثلاثہ نے کہا ہے چار دن ہے مستقیم
_______صلوٰۃ المفترض خلف المتنفل___________
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں فرض پڑھنے والا نفل پڑھنے والے کی اقتداء نہیں کر سکتا ہے اور امام شافعیؒ فرماتے ہیں مفترض متنفل کی اقتداء کر سکتا ہے
شعر۔
مقتدی ہو مفترض اور نفل والا مقتدیٰ
شافعی کہتے ہیں جائز اور ثلاثہ نے خطا
____________من ادرک رکعۃ__________
مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں جو شخص جمعہ کے دن قبل السلام امام کو پا لے وہ جمعہ کا پانے والا کہلاے گا چناں چہ اب وہ جمعہ ہی پڑھے اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں جو شخص پہلی رکعت کا رکوع پا لے تو جمعہ پڑھے اور جو رکوع کے بعد آے وہ جمعہ نہ پڑھے بلکہ ظہر پڑھے گا
اشعار۔
نزدِ اعظم یومِ جمعہ شخص جو پا لے امام
جمعہ کو پاۓ گا شرکت گر کرے قبل السلام
اور ثلاثہ نے کہا پہلی رکعت پاے تو تب
ورنہ پڑھ لے گا ظہر یہ حکم ہے کتنا عجب
________الصلاة عند طلوع و الغروب___________
مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ و محمد ؒ فرماتے ہیں اگر فجر پڑھتے ہوے آفتاب طلوع ہوجاے تو نماز نہیں ہوگی طلوع آفتاب کے بعد اپنی نماز کی قضاء کر لے ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں نماز فجر کو بوقت طلوع آفتاب بھی مکمل کرے البتہ عصر کی نماز پڑھتے ہوے آفتاب غروب ہو جاے تو تمام ائمہ متفق ہے کی اپنی نماز اسی حالت میں پوری کرے کیونکہ عصر کو ناقص وقت میں شروع کیا ہے اب ناقص ہی ختم بھی کر سکتا ہے۔
اشعار۔
اور پوری عصر پڑھ لے گر ہوا آنِ غروب
متفق ہیں اربعہ ہے ناقصاً شانِ غروب
ہاں طلوعِ شمس ہو تو فجر سے رہنا ہے باز
نزدِ اعظم اور محمد بعد میں پڑھ لے نماز
فجر کو کر لے مکمل ہو طلوع گر آفتاب
اس عمل میں ہیں ثلاثہ کس قدر بے آب و تاب
_____ما جاء فی تشدید الرحال الی المساجد______
مسئلہ۔ حدیث میں ہے لا تشد الرحال الا الی ثلاثۃ مساجد مسجد الحرام و مسجد الاقصی و مسجدی ھذا۔ اس حدیث کے پیش نظر قاضی عیاض و ابن تیمیہ فرماتے ہے روضۂ اطہر کی جانب سفر کا قصد کرنا صحیح نہیں ہے بلکہ مسجد نبوی کا قصد کرے اور پھر وہاں روضہ کی زیارت بھی کر لے جمہور کہتے ہیں روضۂ اطہر کی جانب قصد کرنا نہ یہ کہ صحیح ہے بلکہ باعث ثواب بھی ہے۔
اشعار۔
کہتے ہیں قاضی عیاض و ابن تیمیہ جناب
روضۂ اطہر کی جانب قصد کرنا ہے خراب
کیا نہیں مطلوب مومن کو محمد کی شفا
جو نہ دیکھے جالیوں کو پھر ہے وہ اھلِ جفا
______ما جاء فیمن صلی لغیر القبلۃ ثم علم_______
مسئلہ۔ جمہور کہتے ہیں جو عدم علمِ قبلہ کے وقت تحری کے بعد غیر سمت قبلہ نماز پڑھے اس پر اعادہ نہیں بلکہ وہ نماز صحیح ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں اس نماز کا دوبارہ اعادہ کرنا ہوگا
شعر۔
ہے اعادہ اس پہ نزدِ شافعی بارِ دگر
غیر سمتِ قبلہ جو پڑھ لے کہ ہو وہ بے خبر
_______ما جاء فی الصلاۃ فوق بیت اللہ_________
مسئلہ۔ کعبے کے اوپر نماز پڑھنا امام شافعیؒ و ابوحنیفہؒ کے نزدیک کراہت کے ساتھ جائز ہے اور امام احمدؒ فرماتے ہیں صرف نفل جائز ہے اور امام مالکؒ فرماتے ہیں نہ فرض جائز ہے نہ نفل۔
اشعار۔
فوقِ بیت اللہَ پڑھ لے گر کوئی دانا نماز
نزدِ اعظم، شافعی ٹھہرا کراہت سے جواز
نزدِ مالک مطلقاً جائز نہیں ایسا عمل
نزدِ احمد بھی ہے ممنوع پر ادا ہوگا نفل
_________ما جاء فی الصلاۃ و معاون الابل________
مسئلہ۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں اونٹ کے باڑے میں نماز پڑھنا جائز نہیں ہے اور جمہور کہتے جائز ہے احتیاطاً روکا گیا ہے
شعر۔
اونٹ کے باڑے میں ممنوع نزدِ احمد ہے صلوٰۃ
نزدِ جمہورِ ائمہ احتیاطاً کی ہے بات
______رد السلام بالاشارۃ فی الصلاۃ____________
مسئلہ۔ اشارے سے نماز میں سلام کا جواب دینا امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک مکروہ ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک جائز ہے جبکہ امامِ شافعیؒ فرماتے ہیں ایسا مستحب ہے۔
اشعار۔
اور نمازوں میں نہیں جائز حقیقت میں کلام
نزدِ اعظم ہے کراہت ہو اشارہ در سلام
اور ثلاثہ نے کہا جائز ہے اس میں کیا عجب
شافعی تو یہ بھی کہتے ہیں عمل یہ مستحب
No comments:
Post a Comment