مدتوں سے شہر طیبہ جانے کا ہے انتظار
دیکھ لوں جنت زمیں پر دھن لگی ہے بار بار
ہم فراقِ شہرِ طیبہ میں لیۓ غم سو ہزار
دور ہوں غم دیکھ لوں میں گر مدینہ ایک بار
جب دیار مصطفی کو جاتے دیکھا کارواں
حاضری کو دل تڑپ اٹھا ہوا میں بے قرار
ان کے در پہ حاضر ی کا شرف ہے ان کی رضا
کب وہاں جانے میں چلتا ہے کسی کا اختیار
آخری دم ہو نبیؐ کے آستانے پر خدا
ہو وہیں تجہیز و تکفیں ہو وہیں میرا مزار
ارض طیبہ رشکِ حور و جن و انسان و ملک
میں بھی طاؔرق خاکِ طیبہ پہ کروں خود کو نثار
پرھنوزادہ طاؔرق حسین
No comments:
Post a Comment