وقتِ رُخصت ہے یہ فرقت کی گھڑی آئی ہے
ہر طرف دردِ جدائی کی گھٹا چھائی ہے
چار دن آکے ملے بن کے چمن کی رونق
بے نصیبی ہی گلستاں سے اٹھا لائی ہے
بزمِ نعمانی میں تھا کیسا ہجومِ رنداں
کوئی بے خود سا ہے پی کر کوئی شیدائی ہے
کیسے اٹھے گا کوئی محفلِ بو القاسم سے
تیرے رندوں کو بڑی تجھ سے شناسائی ہے
آخری درسِ بخاری میں یہ تیرے آگے
بیٹھے بسمل ہے کہ تیری جلوۂ آرائی ہے
فاضلانِ دیوُبند تو نے بنایا ہم کو
شیخ جی تیری نظر میں کیا مسیحائی ہے
الوداع اے میرے ہمدم کہ تری یادوں نے
قلبِ طارق میں بڑی اچھی جگہ پائی ہے
No comments:
Post a Comment