___________کلماتِ اذان__________
مسئلہ۔ تربیع کہتے ہیں ابتداۓ آذان میں اللہ اکبر چار مرتبہ کہنا اور ترجیع کہتے ہیں شہادتین میں سے ہر ایک کو چار مرتبہ کہنا دو مرتبہ نیچی آواز میں دو مرتبہ اونچی آواز میں امام شافعیؒ فرماتے ہیں آذان میں تربیع بھی ہوگی اور ترجیع بھی اس طرح آذان کے کلمات انیس ہوے اور امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ آذان میں ترجیع تو ہوگی لیکن تربیع نہیں ہوگی بلکہ اللہ اکبر کو دو مرتبہ کہا جاے گا تو انیس میں دو کلمے کم کر کے سترہ کلمات رہ جاتے ہیں اور امام ابوحنیفہؒ و امام احمدؒ کے نزدیک آذان میں تربیع ہوگی ترجیع نہیں ہوگی لہذا آذان کے کلمات کل پندرہ ہوے۔
اشعار
شافعی ترجیعِ آذاں کو ہیں افضل مانتے
پندرہ سے انیس کلموں کو ہیں بہتر جانتے
اور ترجیعِ اذاں کے مالکی قائل ہوے
دو کو کم تربیع میں کیجے سترہ ہی حاصل ہوے
اعظم و احمد نے فرمایا کہ بس آذان میں
پندرہ کلمے ہیں فقط اور یہ بھی ہے فرمان میں
___________کلماتِ اقامت__________
مسئلہ۔ امامِ شافعیؒ اور امام احمدؒ فرماتے اقامت کے کلمے کل گیارہ ہے کیوں کہ ان کے نزدیک شروع والی تکبیرِ صرف دو مرتبہ اور شہادتین و حیعلتین ایک ایک مرتبہ ہیں اور امام مالکؒ فرماتے ہیں دس کلمے کیونکہ ان کے نزدیک قد قامت الصلاۃ بھی ایک مرتبہ ہے اور امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نزدیک کل سترہ کلمات ہیں پندرہ وہی آذان والے اور دو مرتبہ مزید قد قامت الصلاۃ کہنا ہوگا۔
اشعار
اورْ اقامت میں ہے کلموں کا فقط گیارہ شمار
نزدِ احمد، شافعی ہے بس اسی کا اعتبار
قولِ مالک میں ہیں دس اور قولِ اعظم ایک و سات
دو کو قد قامت کے جملے سے اضافے کی ہے بات
___________کتاب الصلوۃ____________
مسئلہ۔ امام شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک فجر غلس (تاریکی) میں پڑھنا افضل ہے اور امام ابوحنیفہؒ و مالکؒ کے نزدیک اسفار (خوب روشنی) میں پڑھنا افضل ہے۔
شعر۔
قولِ احمد، شافعی میں بس غلس مختار ہے
قولِ مالک، بو حنیفہ فجر میں اسفار ہے
________وقت صلوٰۃ الظہر و العصر_________
مسئلہ۔ ظہر کا ابتدائی وقت بالاتفاق زوال کے بعد ہے البتہ انتہاء وقت میں اختلاف ہے ائمہ ثلاثہ و صاحبین و امام زفرؒ کے نزدیک ظہر کا انتہاء وقت سایہ اصلی کے علاوہ ایک مثل تک باقی رہتا ہے امام ابوحنیفہؒ کی اس سلسلے میں چار روایتیں ملتی ہیں جن میں مفتی بہ قول یہ ہے کہ ظہر کا انتہاء وقت دو مثل تک ہے ایک رویت جمہور کے مطابق، ایک روایت یہ کہ مثل اول سے مثل ثانی تک وقت مہمل ہے ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ وقت ظہر و عصر کا مشترک ہے جیسا کہ علامہ انور شاہ کشمیری ؒ فرماتے ہیں کہ یہ وقت مسافرین و معذورین کے لے ہے۔
اشعار۔
اور ہے وقت ظہر نزدِ ثلاثہ اک مثل
بو حنیفہ نے کہا ہے دو مثل تک ہے اصل
مثل جمہورِ ائمہ بھی ہے اعظم نے کہا
مشترک بھی اور مہمل، مثل سے تا دوگنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وقت العصر_______________
عصر کے ابتدائی وقت میں وہی اختلاف ہے جو ظہر کے انتہائی وقت میں مذکور ہے یعنی ائمہ ثلاثہ صاحبین و امام زفرؒ کے نزدیک مثل اول کے بعد عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، جب کہ امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک مثل ثانی کے بعد عصر کا وقت شروع ہو جاتا ہے، اور عصر کا انتہائی وقت بالاتفاق سورج غروب ہوتے ہی ختم ہوجاتا ہے۔
__________وقت المغرب_____________
مغرب کا ابتدائی وقت بالاتفاق سورج غروب ہوتے ہی شروع ہوجاتا ہے، اور انتہائی وقت میں اختلاف ہے،ائمہ ثلاثہؒ فرماتے مغرب کا انتہائی وقت شفق احمر کے ختم ہوتے ہی ختم ہوجاتے، جبکہ امام ابوحنیفہؒ فرماتے شفق ابیض کے غائب ہوتے ہی وقت مغرب ختم ہوتا ہے۔
____________وقت العشاء_____________
ابتدائی وقت عشاء علی اختلاف المغرب شفق احمر یا ابیض کے ختم ہوتے ہی شروع ہو جاتا، اور انتہائی وقت تہائی رات تک رہتا ہے۔۔۔۔
__________الاوقات المنھیۃ___________
مسئلہ۔ اوقات منہیہ یعنی وہ اوقات جن میں نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے ایسے اوقات کل پانچ ہیں 1 طلوع آفتاب 2 غروب آفتاب 3 استواء شمس 4 بعد الفجر 5 بعد العصر، امامِ ابوحنیفہؒ کے نزدیک پہلے تین اوقات میں ہر طرح کی نماز پڑھنا ممنوع ہے البتہ آخری دو اوقات میں ذوات الاسباب و غیر ذوات الاسباب نفلیں پڑھنا ممنوع ہے فرائض و قضاء جائز ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ان اوقات میں کوئی فرق نہیں سب برابر ہے البتہ ائمہ ثلاثہ میں اس بات پر اختلاف ہے کہ کون سی نماز جائز ہے اور کون سی نا جائز چنانچہ امامِ مالک و امام احمدؒ کے نزدیک صرف قضاء جائز ہے جبکہ امامِ احمدؒ کے نزدیک طواف کی دوگانہ بھی جائز ہے اور امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ فرائض، قضاء اور ذوات الاسباب نفلیں جائز ہیں اور غیر ذوات الاسباب نفلیں نا جائز ہیں۔
اشعار
اور پھر اوقاتِ خمسہ میں بھی پڑھ لے گا نماز
ذو سبب نفلیں بھی نزدِ شافعی ہوے مُجاز
احمد و مالک ہیں کہتے پڑھ لے خمسہ کی قضاء
نزدِ احمد کر لے دوگانہ طوافوں کی ادا
نزدِ اعظم وقت خمسہ میں نہیں کوئی نماز
ہیں احادیثیں محرّم ہے کہاں اس کا جواز
________تحریمھا التکبیر و تحلیلھا التسلیم_____
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ و امام ابو یوسف ؒ فرماتے ہیں تکبیر تحریمہ کے وقت جملۂ اللہ اکبر کہنا فرض ہے تھوڑا سا فرق ہے وہ یہ کہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں اللہ الاکبر بھی کہہ سکتا ہے اور امام ابو یوسف ؒ فرماتے ہیں اللہ الاکبر، اللہ کبیر اور اللہ الکبیر بھی کہہ سکتا ہے اور طرفین ؒ فرماتے ہیں کلمۂ اللہ اکبر واجب ہے اور ہر ایسا کلمہ جو مشعر تعظیم ہو فرض ہے اور لفظ سلام میں بھی یہی اختلاف ہے ائمہ ثلاثہ و امام ابویوسفؒ ایک طرف لفظ سلام کو فرض کہتے ہیں اور طرفین ؒ واجب کہتے ہیں۔
اشعار۔
ابتداء میں فرض پھر کلمۂ تکبیر ہے
نزدِ یعقوب و ثلاثہ بس یہی تعبیر ہے
بو حنیفہ اور محمد سے ہیں اس کا بس وجوب
فرض ہے تعظیم اس کو یاد کیجے خوب خوب
بس یہی تکرار واقع ہے اخیراً در سلام
یعنی کہ تسلیم کے الفاظ میں ہے یہ کلام
________ما یقول عند افتتاح الصلوٰۃ_______
مسئلہ۔ تکبیرِ تحریمہ کے بعد قبل الفاتحہ امام مالکؒ کے نزدیک کوئی ذکر جائز نہیں امام شافعیؒ فرماتے ہیں توجیہ ( انّی وجھت ) پڑھنا سنت ہے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں ثناء پڑھنا سنت ہے اور امامِ احمدؒ کے نزدیک ثناء و توجیہ میں سے جو چاہے پڑھے۔
اشعار۔
بعد تکبیر تحریمہ نہیں کوئی ذکر
مسلکِ مالک یہی ہے مالکی کر لیں فکر
جب کہے تکبیرِ تحریمہ ذکر بھی ہے روا
یہ ثلاثہ نے کہا اس کو کرے پہلے ادا
پڑھ لے قبل الفاتحہ توجیہ نزدِ شافعی
نزدِ اعظم ہے ثنا اور نزدِ احمد سب سہی
____افتتاح القرأۃ بالحمد للہ رب العالمین_____
مسئلہ۔ کیا بسم اللہ قرآن کا جزء ہے امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک بسم اللہ قرآن پاک کا جزء ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں بسم اللہ سورۂ فاتحہ کا جزء ہے امام احمدؒ امام ابوحنیفہؒ کے ساتھ ہے اور امام مالک کے نزدیک بسم اللہ قرآن کا جزء نہیں ہے بلکہ یہ اذکار کے قبیل سے جو سورتوں کے درمیان فصل کرنے کے لے نازل کیا گیا ہے۔
اشعار۔
شافعی کہتے ہیں بسم اللہ ہے جزوِ فاتحہ
اور ہے یہ جزوِ قرآں بو حنیفہ نے کہا
قولِ اعظم ہی کا احمد کو بھی پھر اقرار ہے
قولِ مالک بسم اللہ مثلِ دعا اذکارہے
__________التسمیۃ فی الصلوۃ__________
مسئلہ۔ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا امام ابوحنیفہؒ و امام احمدؒ کے نزدیک سرا جائز ہے امامِ شافعیؒ سے سرا و جہرا دونوں روایتیں مذکور ہے امامِ مالکؒ فرماتے قبل الفاتحہ بسم اللہ پڑھنا بدعت ہے
اشعار۔
فاتحہ سے قبل بسم الله َ پڑھنا ہے روا
نزدِ اعظم اور احمد پر ہو یہ سراً ادا
مسلکِ مالک ہے بسم اللہَ بدعت در نماز
شافعی سے جہرو سر دونوں کا ملتا ہے جواز
__________لا صلوٰۃ الا بفاتحۃ الکتاب_________
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ کے نزدیک نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنا فرض ہے اور امامِ ابوحنیفہؒ کے نزدیک واجب ہے
شعر۔
پھر ثلاثہ نے کہا ہے فرض ہے ام الکتاب
بوحنیفہ نے کہا واجب ہی بہتر ہے جناب
___________فاتحہ خلف الامام__________
مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں فاتحہ خلف الامام فرض ہے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں امام کے پیچھے فاتحہ پڑھنا مکروہ تحریمی ہے انصات و استماع لازم ہے امام مالکؒ و امام احمدؒ اور امام محمدؒ کے نزدیک سری نماز میں مقتدی بھی پڑھے اور جہر میں ممنوع ہے
اشعار۔
شافعیہ نے کہا ہے فاتحہ خلف الامام
نزدِ اعظم ہے کراہت سننے کا ہو التزام
احمد و مالک، محمد نے کہا سرّی میں ہے
فاتحہ ماموم پر اور یہ منع جہری میں ہے
____________ما جاء فی التامین__________
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں آمین کہنا امام و مقتدی دونوں کا وظیفہ ہے امام مالکؒ فرماتے ہیں یہ صرف مقتدی کہے گا۔
شعر۔
مسلکِ مالک ہے آمیں بس کہے گا مقتدی
اور ثلاثہ نے کہا ہے مقتدیٰ، ماموم بھی
___________آمین بالجہر و السر__________
مسئلہ۔ امامِ شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک آمین میں جہر افضل ہے امام مالکؒ و امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں آمین میں سر افضل ہے۔
شعر۔
چھوٹے دو نے کہہ دیا ہے زور سے آمیں کہو
دو بڑوں نے کہہ دیا آہستہ بولو چپ رہو
_______ما جاء فی السکینۃ فی الصلاة_________
مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ و مالکؒ فرماتے ہیں نماز میں دو سکتے ہیں ایک قبل الفاتحہ جس میں حنفی لوگ ثناء پڑھتے ہیں اور دوسرا سکتہ بعد الفاتحہ قبل السورۃ جس میں تامین کہی جاے گی اور امام شافعیؒ و احمدؒ کے نزدیک ان دو سکتوں کے علاوہ ایک تیسرا سکتہ بھی روا ہے وہ ہے بعد القرأت قبل الرکوع۔
شعر۔
سکتۂ ثالث نہیں ہے نزدِ مالک اور ہم
شافعی، احمد ہیں کہتے سکتہ کر کے ہوگا خم
____ما جاء فی السوال و التعوذ علی آئۃ رحمۃ و عذاب___
مسئلہ۔ امام احمدؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں آیات رحمت پر دعا مانگنا اور آیات عذاب پر خدا سے پناہ مانگنا سنت ہے اور امامِ مالکؒ و امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک نفل میں ایسا جائز ہے فرائض میں نہیں۔
اشعار۔
پھر تعوذ اور دعا بر آیاتِ رحمت اور عذاب
یہ تو سنت نزدِ احمد، شافعی ٹھہرا جناب
نفل میں چاہے تعوذ اور دعا آیات پر
متفق ہے حنفیہ اور مالکی اس بات پر
___________رفع الیدین__________
امام شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک تکبیرِ تحریمہ کے سوا بھی رفع الیدین افضل ہے اور امام مالکؒ و امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک ترک رفع الیدین افضل ہے۔
شعر۔
شافعی و ابن حنبل رفع کے قائل ہوے
حنفیہ اور مالکیہ ترک کو مائل ہوے
__________تعدیلِ ارکان__________
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ نے فرمایا نماز میں تعدیل ارکان فرض ہے اور طرفین کے نزدیک واجب ہے۔
شعر۔
فرض ہے تعدیلِ ارکاں یہ ثلاثہ کی ہے بات
بو حنیفہ اور محمد نے کہا از واجبات
____________وضع الیدین___________
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ نے فرمایا فرائض ہوں یا نوافل ہاتھ بانھنا سنت ہے اور امام مالکؒ فرماتے ہیں فرائض میں ہاتھ باندھنا ٹیک لگانے کے مترادف ہے اس لئے جائز نہیں ہے اور نوافل میں جائز ہے۔
شعر۔
نزدِ مالک در فرائض ہاتھ باندھے گا نہیں
اور ثلاثہ نے کہا ہے یہ ہے سنت بالیقیں
__________ایضاً________
مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ نماز میں ہاتھ سینے پر باندھے جائیں گے اور اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں ناف کے نیچے ہاتھ باندھے جائیں گے۔
شعر۔
شافعی کہتے ہیں رکّھے ہاتھ پھر سینے کے پاس
اور اعظم نے کہا ہے تحتَ السرۃ ہو مساس
_________السجدۃ علی الجبھۃ و الانف________
مسئلہ۔ امام احمدؒ کے نزدیک سجدہ میں ناک و پیشانی دونوں کو جھکانا ضروری ہے ایک پر اکتفاء جائز نہیں ہے امام مالکؒ، شافعیؒ اور صاحبین فرماتے ہیں پیشانی پر اکتفاء کر لے یہ تو جائز ہے لیکن ناک پر اکتفاء جائز نہیں اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک دونوں میں ایک پر بھی اکتفاء کر لے سجدہ ادا ہو جاے گا۔
اشعار۔
اور سجدہ کر لے بندے ناک و پیشانی جھکا
ایک پر جائز نہیں ہے نزدِ احمد اکتفاء
شافعی و مالکی و صاحبَین، ذی وقار
قائلِ سجدہ ہے جبہہ پر بھی ہو گر اقتصار
ناک پر بھی سجدہ ہوگا حنفیہ قائل ہوۓ
بعدہٗ وہ جانبِ جمہور بھی مائل ہوے ٔ
__________جمع بین الصلاتین_________
مسئلہ۔ دو نمازیں ایک وقت میں پڑھنا۔
احناف کے یہاں جمع صوری جائز ہے ( مثلاً ظہر کو اپنے آخری وقت میں پڑھنا اور عصر کو اپنے ابتدائی وقت میں ادا کرنا) اور جمع حقیقی نہ تقدیماً جائز ہے نہ تاخیراً، اور ائمۂ ثلاثہ کے نزدیک عذر کی بناء پر جمع حقیقی جائز ہے البتہ اعذار کیا ہے اور کتنے ہیں اس میں اختلاف ہے امام احمدؒ فرماتے عذر تین ہے مطر، مرض اور سفر امام شافعیؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں اعذار دو ہیں سفر و مطر،
اشعار۔
دو نمازیں آنِ واحد میں نہیں بالکل روا
ہاں مگر صوری چلے گا یہ تو اعظم نے کہا
پھر ثلاثہ نے کہا پڑھ لے اگر ہو عذرِ لنگ
نزدِ احمد بارش و مرض و سفر سے جو ہو تنگ
عذر ٹھہرا نزدِ مالک شافعی سفر و مطر
جمعِ تقدیم و تأخر اور حقیقی بھی تو کر
_________المشرک یدخل المسجد__________
مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں غیر مسلم مسجد میں آنا چاہے تو جاۓ حرج نہیں آسکتا ہے اور امام مالک فرماتے جائز نہیں ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں مسجد حرام کے سوا داخل ہونا جائز ہے امام احمد فرماتے ہیں امام صاحب اجازت دے تو داخل ہو سکتا ہے۔
اشعار۔
غیر مسلم مسجدوں میں داخلہ چاہے تو کیا
نزدِ اعظم ہے اجازت نزدِ مالک ہے خطا
شافعی کہتے ہیں جائز ہاں مگر جب ہو حرم
قولِ احمد ہے یہی جب ہو اجازت بھی بہم
__________من اذن فہو یقیم__________
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ فرماتے مؤذن کے کوئی دوسرا آدمی اقامت کہنا چاہے تو کہہ سکتا ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں مؤذن ہی اقامت کہے گا دوسرا نہیں۔
شعر۔
اک مؤذن دے اقامت کہتے ہیں یہ شافعی
مستحب نزدِ ثلاثہ یہ نہیں ہے واجبی
_____الاذان و الاقامۃ فی السفر___________
مسئلہ۔ سفر میں حنابلہ و شوافع کے یہاں آذان و اقامت ہر دو سنت ہے یہی ایک روایت امام ابوحنیفہؒ کی ہے اور امام ابوحنیفہؒ و مالک فرماتے ہیں بس اقامت سنت ہے
در سفر پھر ہے اقامت اور اذاں سنت سدا
حضرتِ احمد، شوافع نے یہی تو ہے کہا
بس اقامت چاہۓ گا نزدِ مالک اور ہم
اک روایت نزدِ اعظم ہے کہ دونوں ہو بہم
_________ما یقول اذا اذن المؤذن _________
مسئلہ۔ آذان کے دو جواب ہے اجابت بالقدم اور اجابت بالقول، اجابت بالقدم تو بالاتفاق واجب ہے اجابت بالقول میں اختلاف ہے امام احمدؒ و ظاہریہ کے نزدیک واجب ہے اور جمہور کے نزدیک سنت ہے
اشعار۔
اور واجب ہے اجابت بالقدم آذان کا
ہے فرق قولاً اجابت میں ذرا رجحان کا
قول سے بھی ٹھہرا واجب نزدِ احمد ظاہری
نزدِ جمہورِ ائمہ مستحب مفتیٰ بہٖ
___ما جاء فی کراھیۃ ان یأخذ المؤذن علی الاذان اجراً____
مسئلہ۔ اجرت علی الطاعات مالکیہ و شافعیہ کے نزدیک جائز ہے حنفیہ و حنابلہ کے نزدیک بقولِ قدیم جائز نہیں لیکن اب ضرورت کے پیش نظر ائمہ و مؤذنین اور تعلیم علی القرآن پر اجرت لینا جائز ہے۔
اشعار۔
گر ملے اجرت علی الطاعت تو کیجئے گا قبول
شافعی و مالکی کرتے ہیں ایسے بھی حصول
حنبلی و حنفیہ کہتے تھے پہلے ہے حرام
اب ضرورت سے ہے جائز للمؤذن و الامام
________الجماعۃ فی مسجد قد صلی فیہ مرۃ_______
مسئلہ۔ جمہور کے نزدیک ایک مسجد میں جماعت کا تکرار جائز نہیں ہے اور امام احمدؒ و ظاہریہ نے اس کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔
اشعار۔
ایک مسجد میں جماعت کا نہ ہو تکرار بھی
یہ ثلاثہ کا ہے مسلک اور ہے مختار بھی
ظاہریہ اور احمد نے کہا کر لے ادا
بس کہ جمہور ائمہ کے مخالف ہے کہا
_______ما جاء فی صلاۃ المسبوق________
مسئلہ۔ امام احمدؒ و شافعیؒ فرماتے ہیں مسبوق نے جو نماز پائ وہ اس کی اول نماز ہے اس لئے امام کے سلام پھیرتے ہی کھڑا ہو کر ما بقیہ کا اتمام کر لے حنفیہ میں شیخین فرماتے ہیں مسبوق جو نماز امام کے ساتھ پاے وہ آخری ہے ما فات کی بعدِ سلامِ امام قضاء کرلے اور امام مالک و محمد فرماتے ہیں مسبوق نے جو نماز امام کے ساتھ پائ وہ آخری ہے جو رکعتیں چھوٹ گئیں ہیں وہ قرأت کے اعتبار سے اول رکعتیں ہیں اور ارکان کے اعتبار سے آخری اور اسی پر احناف کا فتویٰ ہے کیوں کہ اس میں احتیاط ہے اور قاعدہ ہے الاحتیاط فی حقوق اللہ جائز و فی حقوق العباد لا یجوز۔
اشعار۔
نزدِ احمد، شافعی مسبوق پر اتمام ہے
اعظم و یعقوب کہتے ہیں قضاء کا کام ہے
نزدِ مالک اور محمد ہے قضاء اتمام بھی
ہے قراءت سے وہ اول فعل سے ہے آخری
No comments:
Post a Comment