_________________مدت الحیض_______________
مسئلہ۔ حیض کی مدت امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک کم از کم تین دن اور زیادہ سے زیادہ دس دن امام شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک کم سے کم ایک دن اور زیادہ سے زیادہ پندرہ دن امام مالکؒ کے نزدیک کم سے کم کوئی مدت مقرر نہیں اور زیادہ سے زیادہ سترہ دن ہے۔
اشعار۔
حیض کی مدت ہے نزد بوحنیفہ تین دن
اکثرِ مدت ہے دس تک پیارے طالب خوب سن
نزدِ احمد، شافعی کم ایک ہے پندرہ کثیر
نزدِ مالک کم نہیں کچھ اور ہے سترہ کثیر
________________مدت نفاس_________________
مسئلہ۔ نفاس کی مدت قبیلہ بالاتفاق مقرر نہیں ہے البتہ اکثر مدت میں اختلاف ہے امام شافعیؒ و مالکؒ کے نزدیک ساٹھ دن اس میں ان حضرات کے پاس کوئی نقلی دلیل نہیں ہے بس اندازہ ہے اور امام ابوحنیفہؒ و احمدؒ فرماتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ چالیس دن ہے۔
اشعار۔
اتفاقاً ہے نہیں مدت قلیلاً در نفاس
نزدِ مالک ، شافعی ہے ساٹھ لیتے ہیں قیاس
بوحنیفہ اور احمد نے کہا چالیس دن
یاد کر اقوال سارے اور ان کو خوب گن
_____________الوان الحیض________________
مسئلہ۔ حیض میں ائمہ ثلاثہ رنگوں کا اعتبار کرتے ہیں اور امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک رنگوں کا کوئی اعتبار نہیں بلکہ ایام و عادت پر اعتماد ہے پھر ائمہ ثلاثہ کے یہاں رنگوں میں اختلاف ہے امام شافعیؒ و احمدؒ فرماتے ہیں حیض میں دو رنگوں کا اعتبار ہے سرخ اور کالا امام مالکؒ فرماتے ہیں چار رنگوں کا اعتبار ہے سرخ، زرد، سواد و تربتی اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ چھے رنگوں کا خون حیض ہو سکتا ہے تربتی، حمرہ، صفرہ، سواد، زرد و کدر لیکن ان رنگوں کا کوئی اعتبار نہیں نزد اعظم۔
اشعار
خون کے رنگوں میں ما بین الائمہ ہے خلاف
غور سے طالب تو پڑھ لے لکھ رہا ہوں صاف صاف
نزدِ احمد، شافعی ہے سرخ یا پھر کالا رنگ
نزدِ مالک سرخ و زرد و کالا و مٹیالا رنگ
نزدِ اعظم تربتی و سرخ و زرد و رنگ سواد
پھر ہے پیلا اور گدھلا یوں ہیں رنگ بے اعتماد
___________اقسام المستحاضہ________________
مسئلہ۔ امامِ ابوحنیفہؒ کے بقول مستحاضہ کی تین قسمیں ہیں 1 مبتدئہ جس کو پہلی بار حیض آ رہا ہے 2 معتادہ جس کو اپنے حیض دن معلوم ہوں کیونکہ اس کی عادت بنی ہوئ ہے 3 متحیرہ اس کی پھر تین قسمیں ہیں 1 متحیرہ بالعدد جس کی ایک مدت متعین تھی لیکن اپنی عادت بھول گئی 2 متحیرہ بالزمان جس کو عددِ عادیہ تو یاد ہے کہ تین چار دن آٹھ دن دس یا دس دن آتا تھا لیکن وقت بھول گئ کہ مہینے کی کس تاریخ کو شروع ہوتا تھا
اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک چار قسمیں ہیں تین یہی ہے جن کا ذکر آگیا اور چوتھی قسم ممیزہ کی ہے یعنی جو رنگوں کے اعتبار سے حیض کے ایام جانتی ہے۔
اشعار۔
نزدِ اعظم مستحاضہ کی یہی پہچان ہے
ابتداءً آگیا یا عادت و حیران ہے
چار کا نزدِ ثلاثہ مستحاضہ میں حصار
تین گزری اور ہے ذاتِ ممیّز کا شمار
_________احکام المستحاضہ_________________
مسئلہ۔1 مبتدئہ کا حکم یہ ہے کہ وہ خون آنے کے وقت سے دس دن صوم و صلاۃ چھوڑ دے 2 معتادہ دس دن تک صوم و صلاۃ سے توقف کرے گی اگر دس دن کے بعد خون رک گیا تو عادت کے بعد والی تمام نمازوں کی قضاء کرے گی روزوں کی قضاء تو کرنی ہی ہے 3 متحیرہ بالعدد تین دن نماز چھوڑ دے گی پھر اکثر مدتِ حیض دس دن تک ہر نماز کے لئے غسل کرے گی اور دس دن کے بعد بقیہ بیس دن ہر نماز کے وقت پر وضو کرے گی متحیرہ بالزمان و وقت اس کو چونکہ عادت کے دن معلوم ہے لہذا ایام عادت تک صرف وضو کرے گی اور بقیہ تمام دن میں ہر نماز کے لئے غسل کرے گی اور متحیرہ بالعدد و الزماں تین دن وضو کرے گی اور بقیہ ستائیس دن غسل کرے گی متحیرہ بالزمان اور متحیرہ بالعدد و الزمان دونوں میں فرق یہ کہ پہلی والی ایام عادت تک وضو کرے گی اور بقیہ ایام وہ ستائیس بھی ہوسکتے ہیں اور بیس بھی ہو سکتے ہیں ان میں غسل کرے گی اور دوسری والی متحیرہ بالعدد و الزمان کے لئے متعین ہے کہ تین دن وضو اور بقیہ ستائیس دن غسل۔ بڑا گنجلک مسئلہ ہے اس لئے خوب سمجھنا ہے نابغۂ روزگار علامہ انور شاہ کشمیری فرماتے ہیں اسے متحریہ کہنا چاہۓ تھا جو کہ تحری سے ماخوذ ہے کیونکہ اس کو بہ ہر صورت تحری کر کے نماز پڑھنی ہے یہ عورت خود بھی حیران و سرگرداں ہے اور ایک دنیا کو حیران کر رکھا ہے کیا خوب کہا ہے ایک لفظ سے سارا مسئلہ سمجھا دیا دریا بہ کوزہ آفتاب بہ ذرہ والی تمثیل کو سند صداقت بخشی ہے وللہ در القائل،
خدا رحمت کند ایں پاک طینت را،
اشعار۔
ابتداء کا حکم بس ترکِ صلوٰۃ و صوم ہے
اورْ حکم یہ مستحاضہ کا فقط دس یوم ہے
عادیہ دس دن صلوٰۃ و صوم چھوڑے ہاں مگر
خون جاری ہو تو لوٹاے فرض اعتاد پر
حائرۂ یعنی عدد سے تین دن چھوڑے نماز
بعد اس کے سات دن وہ غسل سے جوڑے نماز
آنے والے حیض تک آگے نہیں دشوار ہے
سب نمازوں کے لئے پھر بس وضوء درکار ہے
حائراۓ وقت کو عادت تلک چاہے وضوء
اورْ غسل مطلوب ہے در روزہاۓ بعدہٗ
ضالۂ وقت و عدد کو تین دن چاہے وضوء
اوْرَ ستائییس دن پھر ہو غسل سے سرخرو
_________الوضوء لوقت الصلوۃ________________
مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ و احمدؒ کے نزدیک مستحاضہ نماز کا وقت شروع ہوتے ہی وضو کرے گی پھر اس وضو سے وقت کے اندر جتنی نمازیں اور جو بھی نمازیں پڑھنا چاہے پڑھ سکتی ہے امام شافعیؒ فرماتے ہیں ایک وضو سے صرف ایک فرض پڑھ سکتی یا اس کے توابع اور بس دوسرے فرض یا قضاء کے لے نیا وضو درکار ہے۔
اشعار۔
مستحاضہ وقت کی خاطر کرے گی بس وضوء
بوحنیفہ اور احمد کی یہی ہے گفتگو
ہر فرض با نفل کی خاطر وضوء کر لے نیا
یہ امامِ شافعی صاحب کا ہے قولِ صفا
_____________منع الحائض________________
مسئلہ۔ روافض کہتے ہیں حائضہ جب پاک ہو تو صوم و صلوٰۃ دونوں کی قضاء لازم ہے جبکہ اھل سنت والجماعت فرماتے ہیں نمازوں کی قضاء تو ہے نہیں البتہ روزوں کی قضاء لازم ہے۔
اشعار۔
اھل سنت والجماعت سب ائمہ نے کہا
حائضہ ترک نماز و صوم کی کر لے قضاء
البتہ روزہ،نمازوں کی قضاء کر لے ضرور
یہ روافض نے کہا ہے جبکہ ہو وقتِ طہور
____________اتیان الحائض________________
مسئلہ۔ اگر حیض کی حالت میں عورت سے قربت کر لی تو استغفار لازم ہے یہی ائمہ اربعہ کا مسلک ہے البتہ امام احمدؒ اور امام شافعیؒ کا قول قدیم یہ کی ایسے نابکار پر ایک دینار یا نصف دینار صدقہ کرنا ہوگا۔
اشعار۔
اور جماعِ حائضہ پر چاہے استغفار ہاں
یہ تھا مسلک اربعہ کا اب ہے کچھ تکرار ہاں
اک روایت احمد و قولِ قدیمِ شافعی
صدقۓ دینار دیوے یا نصف دینار ہی
__________باب فی الجنب یقرأ________________
مسئلہ۔ کیا حالت جنابت میں قرآن پڑھ سکتے ہیں ظاہریہ نے پڑھنے کی مطلقاً اجازت دی امام شافعیؒ نے مطلقاً قرآن پڑھنے سے روکا ہے یہی ایک قول امام ابوحنیفہؒ و امام احمدؒ کا ہے اور دوسرا قول امام ابوحنیفہؒ و احمدؒ کا یہ کہ ایک آیت سے کم کسی آیت کا ٹکڑا ہو تو پر سکتا ہے اور امام مالکؒ فرماتے ہیں دو آیتوں تک پڑھنے کی اجازت ہے یعنی قرآن میں سب سے چھوٹی سورت جو ہے اس سے کم پڑھنے کی اجازت ہے اور سب سے چھوٹی سورۃ اگر کوئی پڑھے تو تین آیات بیٹھتی ہے مثلا سورۃ الکوثر۔
اشعار۔
ظاہریہ نے کہا جنبی پڑھے قرآن کو
شافعی نے مطلقاً روکا ہے اس انسان کو
مروی ہیں قولین از نعمان و شیخ حنبلی
کم از آیت ہے اباحت اور مثل شافعی
حضرت مالک ہیں کہتے ایک دو آیت پڑھے
یعنی کم ہو جوبھی کوئی چھوٹی سی صورت پڑھے
_____________تجدید الوضوء_______________
مسئلہ۔ ہر نماز کے لئے نیا و تازہ وضو کرنا اھل سنت والجماعت کے نزدیک مستحب ہے بس تھوڑا سا فرق ہے وہ یہ کہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ پہلے وضو سے کوئی عمل کر لے مثلا کوئی فرض نماز یا نفل پڑھ لے یا قرآن اٹھا کر تلاوت کرے یا مجلس بدل دے اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں پہلے وضو سے کوئی بھی عبادت کرے یا یا مجلس بدل جاتے تب نیا وضو مستحب ہے۔
اشعار۔
پھر وضوء بھی سب نمازوں کے لیے چاہے نیا
مستحب ہے اھل سنت و الجماعت نے کہا
شافعی کہتے ہیں پہلے کچھ عمل کر لے ضرور
فرض و نفل و مسحِ مصحف یا فصل کرلے ضرور
حنفیہ پہلے وضوء سے ہیں عبادت پر مصر
یا فصل ہو جاے تو پھر ہے نہیں ایسا مضر
_______________تیمم للجنب________________
مسئلہ۔ پانی کے نہ ہوتے ہوئے تیمم کیا جائے گا اور تیمم نصِ قطعی سے ثابت ہے چاہے وضو کے لیے یا غسل کے لے اس میں کسی کا اختلاف نہیں البتہ تیمم کس سے کیا جاے اس میں اختلاف ہے امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ جنسِ زمین پر تیمم کیا جا سکتا ہے اور امام شافعیؒ و امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ مٹی پر ہی تیمم ہو سکتا اس کے علاوہ نہیں۔
اشعار۔
اور تیمم للوضو ثابت ہے اجماعاً جناب
پھر جنابت پر بھی آیا ہے تیمم کا خطاب
چاہۓ جنسِ زمیں بس نزدِ اعظم، مالکی
چاہۓ مٹی فقط بس نزد احمد شافعی
_______الحائض تتناول الشیٔ من المسجد________
مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ کے نزدیک حائضہ و جنبی کے لے جائز نہیں کہ مسجد سے ہو کے گزرے یا مسجد میں ٹھہرے اور امام شافعیؒ نے جنبی کو صرف گزر نے کی اجازت دی ہے اور حضرت ولا جنباً الا عابری سبیلٍ سے استدلال کرتے ہیں اور امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اگر جنبی وضو کر لے تو گزر سکتا ہے۔
اشعار۔
حائض و جنبی کو جائز ہی نہیں مکث و حضور
مسجدوں میں نزد اعظم مالکی پر ہو طہور
شافعی نے عابری سے ہے دیا اذنِ مرور
با وضوء جنبی کو احمد نے کہا کر لے عبور
_________التیمم طہارۃ مطلقۃ_______________
مسئلہ۔ تیمم امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک طہارت مطلقہ ہے اس سے جتنی نمازیں چاہے پڑھ سکتا ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک طہارت ضرورت ہے اس لے الضرورۃ تتقدر بقدر الضرورۃ کے پیش نظر صرف وقت کی نماز پڑھی جاے گی۔
اشعار۔
مطلقاً سمجھو طہارت تم تیمم جی حضور
ہے یہی مسلک ہمارا قولِ اعظم جی حضور
پر ثلاثہ کا ہے فتویٰ یہ طہارت ہے ولے
مطلقہ تو ہے نہیں ہاں ضرورت ہے ولے
_____________باب التیمم_________________
مسئلہ۔ طہور المسلم الماء و التراب پانی موجود نہ تو تیمم کیجئے اختلافی صورت یہ کہ میں کتنی ضربیں ہیں تو ائمہ ثلاثہ کے نزدیک دو ضربیں ہیں للوجہ و للیدین اور امام احمدؒ کے نزدیک اک ہی ضرب ہے پھر ائمۂ ثلاثہ فرماتے کہ ہاتھوں کا مسحِ ضرب تا مرفقین (کہنیوں) ہے اور امام احمدؒ کے نزدیک ہاتھوں پر مسح تا رسغین (کلایوں) تک ہوگا۔
اشعار۔
ہے طہورِ مومن و مسلم کہ پانی و تراب
بس تیمم ہے مقرر گر نہ پاے کوئی آب
البتہ ہیں ضربیں دو نزدِ ثلاثہ یاد رکھ
اور احمد نے کہا ہے اک ضرب دل شاد رکھ
پھر ثلاثہ نے کہا ہے اک ضرب تا مرفقین
نزدِ احمد کیفیت رسغین تک ہے از یدین
____________________________________
امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ اگر متیمم وقت کے اندر پانی پر قادر ہو جاے تو وضو کر کے نماز لوٹانی ہوگی اور ائمہ ثلاثہ نے پہلے والی تیمم کو ہی جائز قرار دیا پانی پر قدرت کے بعد بھی اب اس کو لوٹانا نہیں ہے۔
شعر۔
وقت میں پا لے اگر پانی تو لوٹاے نماز
یہ ہے قولِ شافعی قولِ ثلاثہ ہے مُجاز
_________یجد البلل بعد النوم________________
مسئلہ۔ سو کر اٹھنے کے بعد جو کپڑے پر تری دیکھے تو کیا غسل واجب ہے یا نہیں یہ وہ سات صورتیں ہیں جن میں احتلام بھی یاد ہے اور تری بھی دیکھے اور ان میں سے چھے صورتوں میں غسل واجب ہے اور ایک صورت میں غسل واجب نہیں وہ صورت جس میں غسل واجب نہیں ہے یہ ہے۔ ودی کا یقین ہو اور احتمال یاد ہو تو غسل واجب نہیں اور بقیہ چھے صورتیں جن میں غسل واجب ہے یہ ہے 1منی کا یقین ہو اور احتلام یاد ہو 2 مذی کا یقین ہو اور احتلام یاد ہو 3 منی اور مذی میں شک ہو اور احتلام یاد ہو 4 منی اور ودی میں شک ہو اور احتلام یاد ہو 5 مذی اور ودی میں شک ہو اور احتلام یاد ہو 6 منی، مذی ، ودی تینوں میں شک ہو۔
اشعار۔
بعد استیقاظ کپڑے پر جو دیکھے گا تری
یا تیقن ہے منی کا یا ودی کا یا مذی
یا ہو شک اس کو منی میں با مذی یا کہ ودی
یا ہو شک بین المذی اور ہو ودی میں اور منی
عدمِ ایقانِ ودی ہو ذہن میں ہو احتلام
پھر غسل کا نزدِ حنفی کیجئے گا اہتمام
________الجنب یغسل رأسہ بالخطمی___________
مسئلہ۔ شئ طاہر اگر پانی میں ملائ جاے تو کیا اس پانی سے غسل جائز ہے یا نہیں حنیفہ کے نزدیک جائز ہے اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک نا جائز ہے
شعر۔
ماۓ خطمی سے غسل بھی نزدِ حنفی ہے روا
اور نا جائز ہے ایسا یہ ثلاثہ نے کہا
______________کیف یطھر الارض______________
مسئلہ۔ اگر زمین ناپاک ہو تو اس کو کیسے پاک کیا جا سکتا ہے ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں کہ زمین کو صرف پانی سے پاک کیا جا سکتا ہے اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں کہ تین طرح سے پاک ہوگی 1 خشک ہونے سے 2 کھود کرید کر مٹی اٹھا دی جاے 3 یا پانی سے دھویا جاے۔
شعر۔
پانی سے دھونا زمیں ہے یہ ثلاثہ نے کہا
نزدِ اعظم از جفاف و حُفر سے یا صبِّ ماء
_____________غسل یوم الجمعة_______________
مسئلہ۔ جمعہ کے دن غسل کرنا سنت ہے یہ ائمہ اربعہ کا مسلک ہے اور ظاہریہ غسلِ یومِ جمعہ کو واجب گردانتے ہیں۔
شعر۔
غسلِ جمعہ ہے سنن میں سب ائمہ نے کہا
البتہ واجب ہے ایسا ظاہریہ نے کہا
No comments:
Post a Comment