____ ما جاء فیمن زاد الرکعۃ الخامس فی الرکعۃ الاخیرۃ______
مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں اگر کوئی چار رکعت پر تشہد پڑھے بغیر کھڑا ہو کر پانچویں رکعت بھی پڑھے تو چاہئے کہ وہ چھٹی رکعت بھی ملاے تا کہ یہ نفل ہو جاے اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں بس سجدۂ سہو کر لے نماز درست ہو جاے گی۔
اشعار۔
پانچ رکعت پڑھ لے کوئی بے تشہد کیا ہوا
نزدِ اعظم چھے اگر پڑھ لے نفل ہوگا ادا
پر ثلاثہ نے کہا سہو کا سجدہ کرے
اس طرح ما زادہٗ کا کچھ تو جرمانہ بھرے
____ما جاء فیمن یشک فی الزیادۃ و النقصان______
مسئلہ۔ ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں جس کسی کو نماز میں شک ہو کہ تین رکعت پڑھی ہیں یا چار رکعت اس کو چاہے اقل پر بنا کرے اور سجدۂ سہو کر لے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں تحری کر کے غالب گمان پر عمل کرے اور جس کو غالب گمان ہوتا ہی نہیں بلکہ تردد ہی ہے تو وہ ائمہ ثلاثہ کے قول پر عمل کرے۔
اشعار۔
کم، زیادہ میں ہو شک گر کتنی رکعت پڑھ چکا
سجدہ ہے نزدِ ثلاثہ اور اقل پر ہے بناء
بو حنیفہ نے کہا کیجے تحری بر گمان
بے گماں کو ہے ثلاثہ کا عمل ہی مہربان
_______ما جاء فی الصلاۃ علی الدابۃ________
مسئلہ۔ امامِ ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں سواری پر جماعت قائم نہیں کی جا سکتی ہے اور ائمہ ثلاثہ و امام محمد فرماتے ہیں پڑھ سکتے ہیں کوئی کراہت نہیں ہے۔
شعر۔
نزدِ اعظم پھر سواری پر جماعت ہے نہیں
پر ثلاثہ اور محمد سے کراہت ہے نہیں
___________الصلاۃ بعد طلوع الفجر_________
مسئلہ۔ جمہور فرماتے ہیں آذان کے بعد قبل الفجر صرف دو رکعت مسنون ہے اور شوافع کے نزدیک نفل بھی پڑھ سکتے ہیں ۔
شعر۔
نزدِ جمہورِ ائمہ دو ہے بس قبل الفجر
نفل بھی پڑھ لے شوافع کا ہے یہ قول و اثر
______ما جاء فی الاضطجاع بعد رکعتی الفجر____
مسئلہ۔ ظاہریہ کہتے ہیں سنتِ فجر اور نماز فجر کے درمیان تھوڑی دیر سونا واجب ہے اور امام شافعیؒ فرماتے ہیں سنت ہے اور جمہور کے نزدیک درمیان سنت و فجر سونا سنت نہیں ہے کیوں کہ یہ حضورﷺ کی سنت ہے لیکن سنت عادیہ۔
اشعار۔
اور سونا درمیانِ سنت و فجرِ صلاۃ
شافعی کہتے ہیں سنت بعض ظاہر واجبات
یہ ہے سنت عادیہ پھر نزدِ جمہورِ عظام
اس لئے سنت نہیں کہلاے گا ایسا مقام
_______اذا اقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ الا المکتوبۃ_____
مسئلہ۔ امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں اگر نماز فجر کے فوت ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو دو سنتیں ضرور پڑھ لے اور امام شافعیؒ و امامِ احمدؒ فرماتے ہیں جماعت کھڑی ہونے کے بعد کوئی نماز نہیں چاہیے فجر کی سنتیں ہی کیوں نہ ہو حنفیہ و مالکیہ کی تائیدات میں ایسے بہت واقعات صحابہ کرام ؓ سے مروی ہیں کہ وہ جماعت کھڑی ہونے کے بعد سنت فجر پڑھتے تھے جیسے حضرت عبداللہ بن عمر کے بارے امام طحاوی نے نقل کیا ہے۔
اشعار۔
فجر کی سنت پڑھے گا گر جماعت ہو کھڑی
گر نہ ہو فوتِ جماعت نزدِ اعظم، مالکی
نزدِ احمد، شافعی بعد الاقامۃ لا صلاۃ
پر صحابہ سے ہیں مروی اس طرح کے واقعات
______ما جاء فیمن یصلی سنۃ الفجر بعد الفجر____
مسئلہ۔ جو شخص فجر سے پہلے دوگانہ سنت ادا نہ کر سکا تو امام شافعیؒ و امام احمدؒ فرماتے ہیں بعد الفجر ادا کر لے امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے بعد الفجر سنت نہیں پڑھے گا بلکہ طلوع شمس کے بعد دو نفل ادا کر لے
اشعار۔
فجر کی سنت پڑھے بعد الفجر چھوٹے کبھی
نزدِ احمد، شافعی قبلِ طلوعِ شمس بھی
کر سکے نا جو فجر کی سنتیں پہلے ادا
نزدِ اعظم مالکی بعدِ طلوع ہے پھر روا
__________ما جاء فی الاربع قبل الظہر_________
مسئلہ۔ ظہر نماز سے پہلے امام ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ کے نزدیک چار رکعت سنت ہے اور امام شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک دو رکعت مسنون ہے
شعر۔
چار سنت نزدِ اعظم، مالکی قبل الظہر
نزدِ احمد، شافعی ملتی ہے دو کی بھی خبر
_________ما جاء ان صلاۃ اللیل مثنیٰ مثنیٰ_____
مسئلہ۔ جمہور کہتے ہیں رات کو نفل دو دو رکعت پڑھنا افضل ہے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں رات کو بھی چار رکعت ایک سلام کے ساتھ پڑھے گا اور صاحبین ؒ کے نزدیک بھی رات کو دو دو کر کے پڑھے گا حنفیہ کا فتویٰ اسی قول پر ہے۔
اشعار۔
نزدِ جمہورِ ائمہ رات کو ہے دو و دو
بو حنیفہ نے کہا ہے اربعاَ لیلاً پڑھو
صاحبَین حنفیہ بھی کہتے ہیں مثنیٰ پڑھو
ہم اسی مسلک پہ دیتے آج ہے فتویٰ پڑھو
__________ما جاء فی الصلاۃ عند الزوال_________
مسئلہ۔ زوال کے وقت چار رکعت مسنون ہے امام شافعیؒ و امام احمدؒ کے نزدیک اور امام ابوحنیفہؒ و امام احمدؒ کی ایک روایت یہ ہے کہ زوال کے وقت کوئ نماز نہ پڑھے
شعر۔
چار پڑھ لو نزدِ احمد، شافعی عند الزوال
بو حنیفہ اور احمد کو ہے اس میں کچھ مقال
___________کتاب العیدین___________
مسئلہ۔ جس پر جمعہ واجب ہے اس پر نماز عید بھی واجب ہے البتہ حکم صلوٰۃ مختلف فیہ ہے ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں نماز عید سنت ہے اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں عید کی نماز واجب ہے
شعر۔
اور نمازِ عید ہے جس پر ہے جمعَہ واجباً
نزدِ حنفیہ مگر نزدِ ثلاثہ سنتاً
___________اذا اجتمع العید و الجمعۃ___________
مسئلہ۔ اگر جمعہ و عید کی نماز ایک دن میں جمع ہو جائیں تو امام احمدؒ فرماتے ہیں عید کی نماز پڑھ لو جمعہ کی نماز ساقط ہو جاے گی جمعہ کو نہیں پڑھنا ہے ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں دونوں الگ الگ نمازیں ہیں ایک کے پڑھ لینے سے بھلا دوسری نماز کیسے ساقط ہو جاے گی دونوں نمازوں کو اپنے اپنے وقت پر ادا کرے گا۔
اشعار۔
اجتماعِ عید و جمعہ ایک دن میں ہوگیا
نزدِ احمد عید پڑھ لو جمعہ پھر ساقط ہوا
ہاں صلاۃِ جمعہ بھی پڑھ لے ثلاثہ نے کہا
اک فرض سے فرض ثانی یوں نہیں ساقط ہوا
______ما جاء فی عدد التکبیر فی العیدین_______
مسئلہ۔ نماز عید میں امام مالکؒ و امام احمدؒ کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے علاوہ گیارہ تکبیریں زوائد ہیں پہلی رکعت میں چھے اور دوسری میں پانچ اور امام شافعیؒ کے نزدیک تکبیر تحریمہ کے سوا بارہ تکبیریں زوائد ہیں پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ اور امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں نماز عید میں تکبیر تحریمہ کے سوا چھے تکبیریں زوائد ہیں پہلی رکعت میں تین دوسری میں تین۔
اشعار۔
نزدِ مالک اور احمد گیارہ تکبیریں ہیں کل
شافعی کہتے ہیں زائد بارہ تکبیریں ہیں کل
بو حنفیہ نے کہا کل تو چھے تکبیر ہیں
تین پہلے دوسری میں تین یہ تحریر ہیں
پہلے چھے ہیں نزدِ احمد، مالکی پھر پانچ ہیں
سات پہلے کہتے ہیں یہ شافعی پھر پانچ ہیں
تین تکبیریں ہیں پہلے بو حنیفہ نے کہا
دوسری میں تین ہیں یہ کل اصل کے ما سوا
_____ما جاء فی محل التکبیر فی العیدین_______
مسئلہ۔ نماز عید میں زوائد تکبیروں کا محل کیا ہے امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں پہلی رکعت میں قبل القرأت اور دوسری رکعت میں بعد القرأت کہی جائیں گی اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں دونوں رکعتوں میں قبل القرأت کہی جائیں گی۔
اشعار۔
پہلی میں قبل القراءت دوسری میں بعدہٗ
نزدِ حنفیہ عمل ہے اس طرح سے ہو بہ ہو
دونوں رکعت میں زوائد ہیں قراءت سے قبل
نزدِ اصحاب ثلاثہ ہے یہی حکمِ اصل
____ما جاء فی رفع الیدین عند التکبیر فی العیدین__
مسئلہ۔ نماز عید میں تکبیر تحریمہ اور زوائد میں یعنی ہر تکبیر پر رفع الیدین بھی ہوگا یہ ائمہ اربعہ کا مسلک ہے امام مالکؒ سے اک روایت یہ ہے کہ صرف تکبیر تحریمہ میں ہی ہاتھ اٹھاے گا زوائد میں نہیں۔
شعر۔
پھر اٹھاۓ ہاتھ دونوں یہ ثلاثہ نے کہا
اک روایت نزدِ مالک بس اصل میں ہی اٹھا
_______لا صلاۃ قبل العیدین ولا بعدھا__________
مسئلہ۔ امام شافعیؒ کے نزدیک عید کے دن نماز عید سے پہلے بھی اور بعد میں بھی نوافل پڑھ سکتا ہے البتہ امام کے لئے مکروہ ہے جمہور ائمہ عید کے دن نوافل پڑھنے کو روا نہیں سمجھتے ہیں البتہ امام صاحب گھر میں پڑھنے کی اجازت دیتے ہیں۔
شعر۔
عید کے دن نفل پڑھ لے پر ہے مکروہ للامام
یہ ہے نزدِ شافعی ،جمہور نے روکا تمام
_________ما جاء فی صلاۃ الاستسقاء__________
مسئلہ۔ تمام ائمہ متفق ہیں کہ نماز عید سنت ہے امام ابوحنیفہؒ کی طرف جو عدم سنت کی نسبت کی جاتی ہے وہ غلط ہے امام صاحب بھی سنت کے قائل ہیں۔
شعر۔
اور استسقاء ہے سنت اربعہ نے ہے کہا
عدم سنت نزدِ اعظم ایسا کہنا ہے خطا
__________ما جاء فی کیفیۃ الاستسقاء_______
مسئلہ۔ امامِ ابوحنیفہؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں نماز استسقاء عام نمازوں کی طرح ہے اور امامِ شافعیؒ و امام احمدؒ فرماتے ہیں اس میں زوائد تکبیریں بھی ہیں۔
شعر۔
اور استسقاء ہے نزدِ اعظم و مالک نماز
نزدِ احمد، شافعی تکبیرات کا بھی ہے جواز
____ما جاء فی تحویل الرداء فی الاستسقاء______
۔مسئلہ۔ پھر امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں تحویل رداء ( چادر کا پلٹنا) صرف امام کے لے ہے اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں مقتدی بھی پلٹیں گے۔
شعر۔
اور تحویلِ رداء ہے نزدِ اعظم للامام
مقتدی نزدِ ثلاثہ بھی کریں گے التزام
_______ما جاء فی صلاۃ الکسوف و الخسوف______
مسئلہ۔ کسوف ( سورج گرہن) میں جماعت بالاتفاق سنت ہے اور خسوف ( چاند گرہن) میں صرف امامِ احمدؒ و امام شافعیؒ کے نزدیک جماعت سنت ہے۔
شعر۔
اور ہے سنت جماعت نزدِ کل پھر در کسوف
نیز سنت نزدِ احمد، شافعی ہے در خسوف
__________طریقۃ صلاۃ الکسوف_______
مسئلہ۔ سورج گرہن ہو جاے تو امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں عام نمازوں کی طرح نماز پڑھ لو اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں صلاۃ کسوف میں چار رکوع ہوں گے۔
شعر۔
دو رکوع ہے گرہَنِ سورج میں نزدِ حنفیہ
ہاں رکوع ہے چار اس میں یہ ثلاثہ نے کہا
___________کیف القراۃ فی الکسوف________
مسئلہ۔ صاحبین ؒ اور امام احمدؒ فرماتے ہیں صلاۃ کسوف میں جہرا قرأت ہوگی اور ائمہ ثلاثہ فرماتے ہیں سرا قرأت ہوگی اور صلاۃ خسوف میں بالاتفاق جہر ہوگا
شعر۔
نزدِ یعقوب و محمد اور احمد ہے جہر
در کسوفِ شمس کہتے ہیں ثلاثہ مخفی تر
______________ما جاء فی سجود القرآن_________
مسئلہ۔ امامِ ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں تلاوت کے سجدے واجب ہیں اور ائمہ ثلاثہ کہتے ہیں سنت ہیں کیوں حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کہ ایک جمعہ آپ نے سجدہ کی آیت تلاوت فرمائی اور سجدہ نہیں کیا۔
شعر۔
نزدِ اعظم ٹھہرا واجب ہیں تلاوت کے سجود
اور ثلاثہ نے کہا سنت، عمر سے ہے ورود
________الاختلاف فی عدد السجدۃ التلاوۃ______
مسئلہ۔امام مالکؒ فرماتے ہیں قرآن میں کل گیارہ سجدے ہیں امام ابوحنیفہؒ و امام شافعیؒ فرماتے ہیں قرآن میں کل چودہ سجدے ہیں البتہ فرق یہ کہ امامِ شافعیؒ فرماتے ہیں سورۃ الحج میں دو سجدے ہیں اور سورۂ صاد میں سجدہ ہے ہی نہیں امام ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں سورۂ حج میں ایک ہی ہے اور سورۂ صاد میں ایک اور امام احمدؒ فرماتے ہیں قرآن میں کل پندرہ سجدے ہیں حج میں دو اور صاد میں ایک سمیت۔
اشعار۔
گیارہ سجدے نزدِ مالک ہیں فقط قرآن میں
نزدِ احمد پندرہ سجدے یہ بھی ہے فرمان میں
نزدِ اعظم، شافعی ہے چودہ سجدوں کا ثبوت
حج میں نزدِ شافعی دو صاد میں ٹھہرا سکوت
______ما جاء فی السجدۃ علی الثوب__________
مسئلہ۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں بدن کے ساتھ متصل کپڑے پر شدت برودت و حرارت کی وجہ سے سجدہ کرنا مکروہ ہے جمہور کہتے ہیں متصل کپڑے پر عذراً سجدہ کرنا جائز ہے
شعر۔
متصل کپڑے پہ سجدہ نزدِ جمہورِ عظام
ہے روا پر شافعی کہتے ہیں مکروہ ایسا کام
_______ما جاء فی الاغتسال عند ما یسلم الرجل___
مسئلہ۔ امام احمدؒ و امام مالکؒ فرماتے ہیں جو کوئی اسلام قبول کرے اس پر غسل واجب ہے امام ابوحنیفہؒ و امام شافعیؒ فرماتے ہیں نو مسلم پر غسل مستحب ہے ہاں اگر قبل از اسلام موجبات غسل میں سے کوئی چیز پائی گئی تب واجب ہی ہوگا۔
اشعار۔
اور نو مسلم کرے گا غسل ہے از واجبات
احمد و مالک کا اس جانب ہے ثابت التفات
شافعی و بو حنیفہ نے کہا ہے مستحب
گر غسل ہو پہلے واجب تو حکم ہے قد وجب
No comments:
Post a Comment