صبا پروین بنت محمد جمیل الحق ولد محمد تسلیم مقام بیج ناتھ بیشی ڈاکخانہ اورائی بلاک اورائی ضلع مظفر پور
شاکر حسین ولد دلاور مقام کوٹرا ڈاکخانہ کوٹرا ضلع اودائی، راجستھان
معامله هذا مؤرخه 28 / جمادی الاخری 1445ھ مطابق 11 جنوری 2024 کو ذیلی دار القضاء امارت شرعیہ مدرسہ اسلامیہ جامع العلوم مظفر پور میں بابت مطالبہ فسخ نکاح دائر نمبر ہوا اور حسب ضابطہ کارروائی ہوئی، اطلاع مع مثنیٰ درخواست دعویٰ بنام فریق دوم بذریعہ رجسٹری جاری ہوئی اور اس سے مؤرخہ 19 رجب المرجب 1445 مطابق یکم فروری 2024 تک بیان تحریری طلب کیا گیا، مجریہ اطلاع بنام فریق دوم کا کچھ پتہ نہیں چلا ، نہ اطلاع واپس آئی اور نہ فریق دوم نے بیان تحریری داخل دار القضاء کیا،پھر فریق اول کے مداخلہ نام و پتے میں سے جناب محمد افروز ولد دل آور اور جناب محمد ذاکر ولد دل آور کی معرفت اطلاع مع مثنی بنام فریق دوم جاری ہوئی، فریق دوم کے مداخلہ نام و پتہ میں سے جناب محمد افروز ولد دل آور اور جناب محمد ذاکر ولد دل آور کے نام مجریہ اطلاع کا کچھ پتہ نہیں چلا نہ اطلاع واپس آئی نہ ہی بیان تحریری داخل ہوا لہذا فریق دوم کے مداخلہ نام و پتہ میں سے جناب محمد فیروز ولد محمد دل آور اور جناب محمد سونو ولد محمد افروز کی معرفت اطلاع جاری ہوئی، جناب محمد فیروز ولد محمد دل آور اور جناب محمد سونو ولد محمد افروز کی معرفت مجریہ اطلاع کا کچھ پتہ نہیں چلا نہ اطلاع واپس آئی نہ بیان تحریری داخل ہوا،بعدہٗ متعدد تاریخ سماعت مقرر کی گئیں تاریخ سماعت پر فریق اول مع گواهان حاضر آئی، فریق اول اور اس کے گواہوں کے بیانات قلمبند کئے گئے جو شامل مسل ہیں فریق دوم کسی بھی تاریخ پر حاضر نہیں آیا اور نہ کوئی پیروی کی جبکہ آخری تاریخ سماعت کی اطلاع دیتے ہوئے اس پر واضح کر دیا گیا تھا کہ تاریخ مذکور پر عدم حاضری و عدم پیروی کی صورت میں معاملہ ھذا کا تصفیہ کیا جا سکتا ہے،
فریق اول صبا پروین بنت محمد جمیل الحق ولد محمد تسلیم کے بیان عند القضاء کا خلاصہ ہے کہ اس کی شادی شاکر حسین ولد دل آور سے مؤرخہ 26 جون 2022ء کو ہوئی بعد شادی وہ رخصت ہو کر سسرال گئی اور ڈیڑھ ماہ تک فریق دوم کے ساتھ رہی اس کے بعد میکے آئی تو اس وقت سے اب تک وہ میکے میں ہے فریق اول کی کوئی اولاد نہیں ہے، شادی کے وقت فریق دوم نے فریق اول سے کہا تھا کہ اسے کوئی سامان جہیز نہیں چاہیے اس لیے فریق اول کے میکے والے نے غربت کی وجہ سے فریق اول کو کچھ نہیں دیا لیکن جب فریق اول سسرال گئی تو فریق دوم خود اور اس کے گھر کے آدمی اسے بار بار سامان جہیز کا طعنہ دیتے اور اس کو لے کر فریق اول سے لڑائی جھگڑا کرتے مزید فریق دوم فریق اول سے کہتا کہ تم اپنے میکے سے ڈیڑھ لاکھ روپے منگواؤ جس پر وہ کچھ بولتی تو فریق دوم خود اسے بری بری گالی دیتا اور ہاتھ سے اور جو کچھ سامنے ملتا اس سے مار پیٹ کرنے لگتا ہے دس سے زائد مرتبہ ڈیڑھ ماہ میں فریق اول کو فریق دوم مارے ہوں گے ایک مرتبہ پھٹ گیا تھا، فریق اول کے ماں باپ بہت غریب ہیں وہ فریق دوم اور اس کے گھر کے لوگوں کا مطالبہ پورا نہیں کر سکتے ہیں اس لیے فریق اول فریق دوم کے گھر والوں کے کہنے کے مطابق سامان جہیز میکے سے مانگ کر نہیں لا سکی اور ان لوگوں کو بولتی تھی کہ اس کے ماں باپ نہیں دے سکتے ہیں تو اس پر فریق دوم گالی بھی دیتے اور بار بار مار پیٹ بھی کرتے کھانے پینے کی بھی تکلیف دیتے فریق دوم اور ان کے گھر والے اپنے من کے مطابق سب مل کر کھاتے اور فریق اول کو الگ کبھی ایک روٹی کبھی آدھا پلیٹ چاول دے دیا جاتا، جس سے فریق اول پیٹ کا پیٹ نہیں بھرتا تھا فریق اول اس پر بولتی تو فریق دوم مارتے بھی اور کہتے کہ ماں باپ سے لے کر آؤ کھانے پینے کی تکلیف کی وجہ سے اور فریق دوم کے مار پیٹ کی وجہ سے فریق اول کی طبیعت خراب ہوگئی تو وہ مجبور ہو کر والد کے بلانے اپنے والد کے ساتھ میکے گئیں، شادی کے ڈیڑھ ماہ کے بعد میکے آئی تھی تو اس وقت سے اب تک فریق اول میکے میں ہے جب فریق اول فریق دوم کے پاس تھی تو وہ لوگ فریق اول کو اپنے میکے بات چیت کرنے سے روکتے تھے، بالکل نہیں کرنے دیتے تھے اور جب فریق اول میکے گئی تو اس وقت سے اب تک دو سال کے قریب ہونے والے ہیں کبھی فریق دوم خود رخصتی کے لیے آئے نہ کسی کو رخصتی کے لیے بھیجا اور نہ رخصتی کے سلسلے میں کبھی بات چیت کی کبھی فون وغیرہ نہیں کیا کبھی خیریت نہیں لی فریق اول فریق دوم کے موبائل پر فون کی تو فریق دوم نے فون نہیں اٹھایا کبھی کوئی ملاقات بات چیت نہیں ہوئی قریب دو سال کے عرصے میں فریق دوم نے کھانا خرچ کے لیے ایک روپیہ بھی نہیں دیا فریق دوم فریق اول سے تعلق ختم کر کے اپنی مرضی کی زندگی گزار رہا ہے فریق اول تقریبا دو سال سے کلی طور پر نان و نفقہ اور حق زوجیت سے محروم ہو کر اپنے ماں باپ کے پاس تنہائی کی زندگی گذار رہی ہے فریق اول اب فریق دوم سے بالکل نا امید ہو گئی ہے فریق دوم کا مزاج اور دماغ صحیح معلوم نہیں ہوتا، فریق اول کا سارا خرچ اس کے ماں باپ برداشت کرتے ہیں فریق اول ایک جوان عمر لڑکی ہے اس کی عمر 22 سال ہے کب تک اپنے غریب ماں باپ کے سر پر بوجھ بن کر رہے گی اب فریق دوم سے اسے کوئی امید نہیں ماحول اور حالات خراب ہیں فریق اول کلی طور پر نفقہ اور حق زوجیت سے محروم ہے، فریق دوم اس نے اسے معلق بنا دیا ہے، فریق دوم نے جو اس کے اوپر ظلم کیے ہیں اس کی وجہ سے اب فریق اول اس سے رشتۂ نکاح کو ختم کر کے دوسری شادی کرنا چاہتی ہے تاکہ تمام حقوق کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گذار سکے اس لیے فریق اول قاضی شریعت سے درخواست و مطالبہ کرتی ہے کہ اس کا رشتۂ نکاح فریق دوم سے فسخ کر دیا جائے تاکہ وہ آزاد ہو کر دوسری شادی کر سکے۔
فریق اول کے پیش کردہ گواہوں میں سے گواہ اول محمد عمر ولد محمد طاہر ولد ولی محمد کے بیان عند القضاء کا خلاصہ یہ ہے کہ صبا پروین بنت محمد جمیل الحق ولد محمد تسلیم کی شادی شاکر حسین ولد دل آور سے دو سال قبل ہوئی، شادی کے بعد دونوں ساتھ رہے کوئی اولاد نہیں ہے فریق اول شادی کے بعد تقریبا دو ماہ سسرال میں رہی ہے فریق دوم نے فریق اول کو اس دو ماہ میں بہت زیادہ تکلیف دئی، اس کی وجہ یہ تھی کہ فریق اول کے ماں باپ بہت غریب ہے جس کی وجہ سے سامان جہیز نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے فریق دوم اور اس کے گھر والے فریق اول کو بہت طعنہ دیتے اور لڑائی جھگڑا کرتے، روپئے کا مطالبہ کرتے، مجھے معلوم ہوا کہ فریق دوم فریق اول کو بہت مارپیٹ کرتا تھا کس چیز سے مارتا یہ مجھے معلوم نہیں ہے، مار پیٹ کی وجہ سے فریق اول کو کچھ ہوا یا نہیں یہ مجھے معلوم نہیں ہے، میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ فریق اول کے میکہ والے بہت زیادہ غریب ہیں فریق دوم کے مطالبے کو پورا نہیں کر سکتے ہیں فریق اول جب سسرال میں تھی تو اس کی طبیعت خراب ہو گئی تھی فریق دوم اور اس کے گھر والے علاج نہیں کرتے تھے تو فریق اول اپنے والد کے ساتھ میکے گئی فریق دوم نہیں آئے فریق اول کو آئے ہوئے تقریبا پورے پونے دو سال ہو گئے ہوں گے میں خود جانتا ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ فریق دوم ان پونے دو سال میں کبھی بھی نہ خود رخصتی کے لیے آیا اور نہ کسی کو رخصتی کے لیے بھیجا اور نہ کوئی بات چیت کی اور فون وغیرہ سے خیر خیرت بھی نہیں لی، کھانا خرچ کے لیے کبھی بھی ایک روپیہ تک نہیں بھیجا ہے فریق دوم نے بالکل سارے تعلق فریق سے ختم کر لئے ہیں، میں سے جانتا ہوں کہ فریق اول پورے دو سال سے کلی طور پر نان و نفقہ اور حق زو جیت سے محروم ہو کر تنہائی کی زندگی اپنے میکے میں گذار رہی ہے اور اب نا امید ہو کر رشتہ نکاح کو ختم کر کے دوسری شادی کرنا چاہتی ہے فریق اول ایک جوان عمر لڑکی ہے اس کی عمر 20 سال سے کچھ زائد ہو گئی ہے کوئی اولاد نہیں ہے میں ساری باتیں بالکل صحیح لکھا ہوں۔
فریق اول کے پیش کردہ گواہوں میں سے گواہ دوم محمد شوکت ولد محمد زبیب ولد رسول میاں کے بیان عند القضاء کا خلاصہ یہ ہے کہ صبا پروین بن محمد جمیل الحق کی شادی شاکر حسین ولد دل آور سے دو سال پہلے ہوئی بعد شادی فریق اول سسرال گئی اور ڈیڑھ ماہ رہ کر میکے واپس آئی تو اب تک تقریبا دو سال سے میکے میں ہے فریق اول کے گھر والے بہت زیادہ غریب ہیں جس کی وجہ سے شادی کے وقت عام رسم و رواج کے مطابق فریق اول کے گھر والے سامان جہیز نہیں بھیج سکے جس کی وجہ سے فریق دوم اور اس کے گھر والے فریق اول کو بہت طعنہ دیتے تھے اور مارپیٹ و گالم گلوچ کرتے تھے فریق اول کی طبیعت خراب ہو گئی وہ لوگ علاج نہیں کروائے تو فریق اول اپنے والد کو بلائی اور اپنے والد کے ساتھ میکے گئی فریق دوم نہیں آیا، فریق اول کو میکے آئے ہوئے دو سال ہو گئے ہیں میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ اس دو سال کے عرصے میں فریق دوم ایک مرتبہ بھی فریق کی رخصتی کے لیے نہ خود آیا نہ کسی کو رخصتی کے لیے بھیجا ہے اور نہ رخصتی کے سلسلے میں کبھی کوئی بات چیت کی ہے فریق دوم فون وغیرہ سے کبھی خیر خیرت بھی نہیں لیا ہے میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ فریق دوم اس دو سال کے عرصے میں فریق اول کو کھانا خرچ کے لیے ایک روپیہ نہیں دیا ہے اور نہ کبھی ملنے جلنے آیا ہے فریق دوم فریق اول سے سارا تعلق ختم کر کے فریق اول کو میکے میں چھوڑ دیا ہے، فریق دوم نے نہ رشتے کو رکھنے کی کبھی کوشش کی ہے اور نہ معاملہ حل کرنے کی، یہ بات بالکل صحیح ہے کہ فریق اول دو سال سے کلی طور پر نان و نفقہ اور حق زوجیت سے محروم ہو کر اپنے غریب ماں باپ کے ساتھ تنہائی کی زندگی گذار رہی ہے ماں باپ ہی سارے اخراجات پورے کرتے ہیں فریق اول اب فریق دوم سے نا امید ہو کر اس رشتے نکاح کو ختم کر کے دوسری شادی کرنا چاہتی ہے فریق اول ایک جوان عمر لڑکی ہے اس کی عمر 22 سال ہے کوئی اولاد نہیں ہے فریق اول اور اس کے گھر والوں نے بہت کوشش کی ہے لیکن فریق دوم نہ آیا ہے اور نہ کوئی بات کی ہے میں ساری باتیں درست لکھایا ہوں۔
فریق دوم کے گواہوں سے ثابت ہے کہ اس کی شادی شاکر حسین ولد دل آور سے مؤرخہ 26 جون 2022ء کو ہوئی بعد شادی وہ رخصت ہو کر سسرال گئی، فریق اول تقریبا دو سال سے کلی طور پر منجانب شوہر فریق دوم نان و نفقہ اور حق زوجیت سے محروم ہو کر اپنے ماں باپ کے پاس تنہائی کی زندگی گذار رہی ہے۔
دوسری طرف فریق دوم کو بار بار رجسٹری اطلاع دے کر رفع الزام کے لیے دارالقضاء طلب کیا گیا لیکن وہ کسی بھی تاریخ سماعت پر دار القضاء حاضر نہیں آیا جبکہ بحیثیت مسلمان اس پر لازم و ضروری تھا کہ وہ دار القضاء حاضر ہو کر رفع الزام کرتا جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: ” إنما كان قول المؤمنين إذا دعوا إلى الله ورسوله ليحكم بينهم أن يقولوا سمعنا وأطعنا “ (النور / (۵۱) آیت مذکورہ کے ذیل میں صاحب معین الحکام لکھتے ہیں: ”وفی الآية دليل على أنه من دعى إلى حاكم فعليه الإجابة ويجرح إن تأخر “ (معين الحكام ص، (۱۴۱)
فریق دوم کا دار القضاء حاضر نہ آنا اور حاضری سے مسلسل گریز کرنا اس کی ہٹ دھرمی و سرکشی کی واضح نشانی ہے اور اس کا یہ رویہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ وہ رفع الزام سے عاجز و قاصر ہے بلکہ اس سے فریق اول کے دعاوی کی تائید ہوتی ہے۔
شامی میں ہے: ” وقضى القاضي عليه بنكوله مرة، لو نكوله في مجلس القاضي، حقيقة كقوله ”لا أحلف“ أوحكما ”کإن سکت“ (شامی (۲۶۹/۸)
زیر بحث معاملہ میں فریق اول عرصہ دراز سے منجانب فریق دوم نان و نفقہ سے محروم ہے جبکہ فریق دوم پر بحیثیت زوج لازم و ضروری تھا کہ وہ فریق اول کے نان و نفقہ کا معقول انتظام کرتا کیونکہ شریعت مطہرہ نے بیویوں کا خرچ شوہر کے ذمہ واجب قرار دیا ہے، ارشاد خداوندی ہے: ” و على المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف“ (البقرة / ۲۳۳) دوسری جگہ ہے: ”لينفق ذو سعة من سعته، ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله“ (الطلاق/۷) ہدایہ میں ہے: ”النفقة واجبة للزوجة على زوجها مسلمة كانت أو كافرة إذا سلمت نفسها إلى منزله فعليه نفقتها وكسوتها وسكناها“ هدایه، ۳۷۴/۳-۳۷۵)
بیوی اگر اپنے میکہ میں ہو اور ناشزہ نہ ہو تو بھی اس کا نفقہ شوہر کے ذمہ لازم ہے ، شامی میں ہے: ”ولو هي في بيت أبيها إذا لم يطالبها الزوج بالنقلة“ به یفتی شامی (۲۸۴/۵)
ایسی عورت جو شوہر کی جانب سے نان و نفقہ سے محروم ہو اور اس کا شوہر اس کو طلاق بھی نہ دے رہا ہو تو شریعت اسلامیہ نے ایسی عورت کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنا معاملہ قاضی کے یہاں لے جائے اور فسخ نکاح کا مطالبہ کرے، قاضی کے یہاں اگر عورت کا دعوی ثابت ہو جائے تو قاضی کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے، الحیلة الناجزة میں ہے: ”أما المتعنت أى الممتنع . عن الإنفاق ففى مجموع الأمير ما نصه: إن منعها نفقة الحال فلها القيام، فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق علیہ قال محشیہ قولہ والا طلق علیہ أى طلق عليه الحاكم من غير تلوم“ .( الحيلة الناجزة، ص ۲۱۳)
بہر حال فریق دوم پر بحیثیت زوج لازم تھا کہ وہ فریق اول کو رخصت کرا کر لے جاتا اس کے تمام حقوق ادا کرتا اور اس کو اچھی طرح سے رکھ کر :”امساک بالمعروف“ پر عمل کرتا ، اور اگر وہ ادائے حقوق پر قادر نہ تھا یا با وجود قدرت کے کسی وجہ سے ادا کرنا نہیں چاہتا تھا تو: ”تسریح بالا حسان“ پر عمل کرتے ہوئے فریق اول کو اپنی زوجیت سے الگ کر دیتا، لیکن اس نے ان دونوں راہوں کو چھوڑ کر تیسری راہ اپنائی اور فریق اول کو کالمعلقہ بنا کر میکے میں چھوڑے رکھا،جس سے اللہ رب العزت نے منع فرمایا ہے، ارشاد خداوندی ہے: ”فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقۃ“ (النساء / ۱۲۹) ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: ”ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا،ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه“ (البقرة / ۲۳۱) فریق دوم کا فریق اول کو کالمعلقہ چھوڑ دینے سے فریق اول سخت ضرر و حرج میں مبتلاء ہے، فریق دوم کا یہ رویہ اس پر سراسر ظلم ہے،اور دفع ضرر و حرج و رفع ظلم و جور فریضۂ قضاء ہے معین الحکام میں ہے: ”أما حكمته فرفع التهارج ورد النوائب وقمع الظالم ونصر المظلوم و قطع الخصومات والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر“ (معين الحكام، ص، (۷)
لہذا مندرجہ بالا مباحث و مصالح دینیہ کی رعایت کرتے ہوئے میں درج ذیل حکم دیتا ہوں :
حکم
آج میں نے بر بناء عدم اداء نان و نفقه و عدم اداء حقوق زوجیت و بوجه ترک کالمعلقه از بنظر دفع ضرر و حرج و رفع ظلم و جور و سد باب فتن و بغرض تحفظ عفت و عصمت فریق اول صبا پروین بنت محمد جمیل الحق
ولد محمد تسلیم کا عقد نکاح فریق دوم شاکر حسین ولد دل آور سے فسخ کر دیا ، اب وہ اس کی بیوی نہیں رہی ، عدت گزار کر وہ اپنے نفس کی مجاز ہے۔
( نوٹ ) واضح رہے کہ یہ ایک حکم شرعی ہے۔ فقط
No comments:
Post a Comment