Sunday, August 4, 2024

چ 5

(فَصْلٌ) :
بہرحال قاضی کے رہنے سہنے کی مناسب جگہ درمیان شہر ہے کہ قاضی شہر کے بیچ ایسی جگہ اپنا گھر بنائے کہ لوگوں پر اس کی طرف قصد کرنا مشکل نہ ہو یعنی لوگوں کا اس تک پہنچنا دشوار نہ ہو اور انہیں آداب میں سے یہ ہے کہ قاضی مجلس میں ایسی حالت کے ساتھ نہ بیٹھے کہ وہ بھوک، غصہ یا پریشانی میں تشویش کا شکار ہو اس لیے کہ غصہ بھوک کے ساتھ بہت جلد اثر انداز ہوتا ہے اور چراغ فہم بھوک کے ساتھ گل ہوجاتا ہے اور دل غم کے ساتھ مشغول ہو جاتا ہے تو جب یہ چیزیں قاضی کو پیش آ جائیں تو وہ فیصلے کے لیے نہ بیٹھے اور اگر دوران مجلس یہ چیزیں قاضی پر لاحق ہو جائیں تو قاضی کو چاہیے کہ مجلس قضاء چھوڑ کر چلا جائے۔ 
وَأَمَّا مَسْكَنُهُ فَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ وَسْطَ الْبَلَدِ فِي مَوْضِعٍ لَا يَشُقُّ عَلَى النَّاسِ الْقَصْدُ إلَيْهِ وَمِنْهَا: أَنْ لَا يَجْلِسَ عَلَى حَالِ تَشْوِيشٍ مِنْ جُوعٍ أَوْ غَضَبٍ أَوْ هَمٍّ؛ لِأَنَّ الْغَضَبَ يَسْرُعُ مَعَ الْجُوعِ، وَالْفَهْمُ يَنْطَفِئُ مَعَ الشِّبَعِ، وَالْقَلْبُ يَشْتَغِلُ مَعَ الْهَمِّ، فَمَهْمَا عَرَضَ لَهُ ذَلِكَ لَمْ يَجْلِسْ لِلْقَضَاءِ، وَإِنْ عَرَضَ فِي الْمَجْلِسِ انْصَرَفَ.
انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ وہ آنے سے پہلے جانے کی جلدی میں ہو مشغول ہوتے ہوئے اس چیز کے ساتھ جس کو وہ چاہتا ہے، اپنی ضروریات کو ترجیح دیتے ہوئے بس اگر اس کو حقیقت میں کوئی ضرورت میں پیش آ جائے تو پھر کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ مجلس قضاء سے چلتا بنے۔ 

وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُسْرِعَ الْقِيَامَ تَشَاغُلًا بِمَا يُرِيدُ أَنْ يُؤْثِرَ مِنْ حَوَائِجِهِ، فَإِنْ عَرَضَتْ لَهُ حَاجَةٌ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَقُومَ.
اور انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ قاضی چلتے چلتے فیصلہ نہ کریں اس لیے کہ چلنا قاضی کی رائے کو بدل سکتا ہے اور اس کے فہم میں خلل ڈال سکتا ہے یعنی قاضی صاحب چل بھی رہے ہیں اور فیصلہ کرتے ہوئےادھر ادھر دیکھ بھی رہے ہیں ظاہر ہے کہ ایسے میں خیال بھٹک سکتا ہے تو رائی بھی بدل سکتی ہے اس لیے چلتے چلتے فیصلہ نہیں کرنا چاہیے اور مناسب ہے قاضی کے لیے مجلس قضاء میں چوکور بیٹھے یعنی اطمنان سے اور اگر قاضی ٹیک لگا کر بیٹھتا ہے تو بھی کوئی حرج نہیں اس لیے کہ ٹیک لگا کر بیٹھنا یہ انسان کے فہم میں زیادتی کا باعث ہے اس سے دماغ کی ساری رگیں کھل جاتی ہیں اور انہی آداب میں سے یہ بھی ہے کہ قاضی مجلس قضاء میں کھل کھلا کر نہ ہنسے، بلکہ بغیر غصے کے تھوڑی ترش روئی اپنے اوپر لازم کرے اور اپنے پاس شور و شغب اور غوغا سے لوگوں کو منع کرتا رہے۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَقْضِي مَاشِيًا؛ لِأَنَّهُ يُفَرِّقُ رَأْيَهُ وَيُخِلُّ فَهْمَهُ، وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ جُلُوسُهُ مُتَرَبِّعًا فِي مَجْلِسِ الْأَحْكَامِ، وَلَا بَأْسَ مُتَّكِئًا؛ لِأَنَّ الِاتِّكَاءَ يُزِيدُ فِي الْفَهْمِ. وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَتَضَاحَكُ فِي مَجْلِسِهِ، وَيَلْزَمُ الْعُبُوسَ مِنْ غَيْرِ غَضَبٍ، وَيَمْنَعُ مِنْ رَفْعِ الصَّوْتِ عِنْدَهُ.
اور انہی آداب میں سے یہ بھی ہے کہ قاضی مجلس قضاء میں ادھر ادھر کی باتوں کے ساتھ مشغول نہ ہو جائے کس سے وہ اپنے یہاں اجتماع کا ارادہ رکھتا ہو ہاں جب قاضی کوئی خالی وقت پائے تو اسے چاہیے کہ مجلس قضاء سے نکل جائے، کھڑا ہو جائے اور اپنے گھر داخل ہو جائے اور لوگوں کو بھی مجلس سے ہٹا دے۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَتَشَاغَلُ بِالْحَدِيثِ فِي مَجْلِسِ قَضَائِهِ إذَا أَرَادَ بِذَلِكَ اجْتِمَاعَ نَفْسِهِ وَإِذَا وَجَدَ الْفَتْرَةَ فَلْيَقُمْ مِنْ مَجْلِسِهِ وَيَدْخُلْ بَيْتَهُ أَوْ يَدْفَعْ النَّاسَ عَنْهُ.
انہی آداب میں سے یہ ہے کہ فیصلہ کرنے میں، معاملات کو فیصل کرنے میں بہت زیادہ جدوجہد نہ کرے اتنی جدوجہد کہ اپنے آپ کو تھکا دے اس لیے کہ جب بہت زیادہ تھک جائے گا تو اسے اونگ آئے گی اور اس میں ضبط کی کیفیت پیدا ہوگی، اس لیے کہ اگر قاضی پر ایسی کیفیت طاری ہو جائے اونگ آ رہی ہے،طبیعت میں ضبط پیدا ہو رہا ہے تو ظاہر ہے وہ ان چیزوں کو انجام دے گا جو اس کے مناسب نہیں ہے اس لیے بہت زیادہ جدوجہد اور اپنے آپ کو نہ تھکاوٹ و ماندگی کا شکار نہ بنائے،اور قاضی اپنے فیصلوں کے لیے جہاں تک ہو سکے دن کے دو طرف میں بیٹھ جائے یعنی صبح بھی تھوڑی دیر شام بھی تھوڑی دیر اور کچھ آرام بھی کرے
مِنْهَا: أَنَّهُ لَا يُكْثِرُ مِنْ الْقَضَاءِ جِدًّا حَتَّى يَأْخُذَهُ النُّعَاسُ وَالضَّجَرُ، فَإِنَّهُ إذَا عَرَضَ لَهُ ذَلِكَ أَحْدَثَ مَا لَا يَصْلُحُ، وَيَجْلِسُ طَرَفَيْ النَّهَارِ مَا اسْتَطَاعَ.
یہ فصل احکام میں قاضی کے سیرت کے بیان میں
[فَصْل فِي سِيرَة الْقَاضِي فِي الْأَحْكَامِ]
چوتھی فصل احکام کے سلسلے میں قاضی کی سیرت کے بیان میں اور اس سلسلے میں بھی چند امور قاضی کے لیے لازم ہے اہل مذہب علماء فرماتے ہیں یعنی حنفیہ کہ قاضی فیصلہ نہ کرے یہاں تک کہ اس کے دل میں اس بات کا شک نہ رہے کہ کیا وہ معاملے کو سمجھا ہے یا نہیں؟ یعنی اس کو معاملے کے سمجھنے کا یقین نہیں اس لیے فیصلہ نہ کریں بہرحال جب قاضی کو گمان ہو کہ وہ معاملہ سمجھ گیا ہے اور اسے اندیشہ ہو کہ کیا معاملہ کو سمجھا ہے یا نہیں جبکہ وہ حیرت پاتا ہو تو پھر مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ وہ فریقین کے درمیان فیصلہ کرے جبکہ وہ ایسے کیفیت پا رہا ہو یعنی ایک طرف تو شک ہے کہ کیا میں معاملہ سمجھا ہوں یا نہیں یا ایک طرف گمان اور دوسری طرف شک کیوں وہ حیرانی و سرگردانی میں ہےاس لیے فیصلہ نہیں کرے گا پہلے معاملے کو خوب سمجھ لے جب اسے یقین ہو جائے اس کے بعد فیصلہ کرے۔ 
الْفَصْلُ الرَّابِعُ: فِي سِيرَتِهِ فِي الْأَحْكَامِ وَيَلْزَمُهُ فِي ذَلِكَ أُمُورٌ قَالَ أَهْلُ الْمَذْهَبِ: لَا يَقْضِي الْقَاضِي حَتَّى لَا يَشُكَّ أَنْ قَدْ فَهِمَ فَإِمَّا أَنْ يَظُنَّ أَنَّهُ قَدْ فَهِمَ وَيَخَافَ أَنْ لَا يَكُونَ قَدْ فَهِمَ لِمَا يَجِدُ مِنْ الْحَيْرَةِ فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يَقْضِيَ بَيْنَهُمَا وَهُوَ يَجِدُ ذَلِكَ.
انہی آداب میں سے یہ ہے کہ جب کوئی فیصلہ مشکل ہو تو قاضی چھپ کر تنہائی میں اس کی حقیقت کے سلسلے میں خوب جانچ پڑتال اور تحقیق کرے اور اس معاملہ میں حق تک پہنچنے پر اپنے سے بڑے علماء و فقہاء سے مدد بھی حاصل کرے۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّ الْقَضِيَّةَ إذَا كَانَتْ مُشْكِلَةً فَيَكْشِفُ عَنْ حَقِيقَتِهَا فِي الْبَاطِنِ وَيَسْتَعِينُ بِذَلِكَ عَلَى الْوُصُولِ إلَى الْحَقِّ.
قاضی صاحب پیش آمدہ معاملات کے مسائل کے بارے میں ان معاملات والے شہر والوں کو فتوی نہ دے تاکہ فریق باطل کے ذریعے بچنے کی کوشش نہ کرے کیونکہ وہ مسئلہ معلوم کر لے گا اس کے بعد وہ بچنے کی تدبیر بھی سوچے گا اس لیے قاضی صاحب جو معاملہ پیش آیا ہے اس کے مسئلے کے سلسلے میں فتوی نہ دے ہاں ہان موجودہ معاملہ کے شہر والوں کے علاوہ لوگوں کو فتوی دے سکتا ہے اور فتوی دینے میں کوئی حرج نہیں۔ 
وَمِنْهَا: لَا يُفْتِي الْقَاضِي فِي مَسَائِلِ الْخُصُومَاتِ لِأَهْلِ بَلَدِهِ لِئَلَّا يَحْتَرِزَ الْخَصْمُ بِبَاطِلٍ وَأَمَّا فِي غَيْرِهَا فَلَا بَأْسَ.
انہی اداب میں سے یہ ہے کہ فقہاء فرماتے ہیں قاضی اہل علم کی موجودگی اور ان کے مشورے سے ہی فیصلہ کرے اس لیے کہ اللہ تعالی اپنے نبی کو حکم دے رہے ہیں {و شاورھم فی الامر} کہ ان کے ساتھ معاملے کے سلسلے میں مشورہ کیجیے حضرت حسن بصری رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم مشورے سے بے نیاز تھے لیکن پھر بھی حکم دیا گیا کہ معاملے کے سلسلے میں مشورہ کیجیے یہ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی نے ارادہ کیا اس کا تا کہ یہ حکام کے لیے سنت رہے اسی لیے حضور کو مشورے کا حکم دیا گیا۔ 

وَمِنْهَا: أَنَّهُمْ قَالُوا: لَا يَقْضِي الْقَاضِي إلَّا بِحَضْرَةِ أَهْلِ الْعِلْمِ وَمَشُورَتِهِمْ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ لِنَبِيِّهِ {وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ} [آل عمران: ١٥٩] قَالَ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ: كَانَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مُسْتَغْنِيًا عَنْ مُشَاوَرَتِهِمْ، وَلَكِنَّهُ أَرَادَ أَنْ يَصِيرَ سُنَّةً لِلْحُكَّام

فرمایا اگر اہل علم کے ساتھ بیٹھنے میں قاضی کسی نقصان کا اندیشہ کرتا ہو یا یہ کہ اس کا دل ان کی طرف مشغول ہوتا ہو اور یا ان سے کسی غلطی کی بچنے کی دل جد و جہرد کرتا ہو تو ایسے میں چونکہ یہ بھی نقصان دہ ہے اس کے فہم میں مصنف فرماتے ہیں کہ میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ یہی ہے کہ فقہاء ا س کے ساتھ نہ بیٹھیں کیوں کہ فقہاء مجلس میں بیٹھے رہیں گے تو قاضی کا دل ان کی طرف مشغول رہے گا کہ ایسا نہ ہو کہ ہم سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس طرح کا ڈر قاضی کو لگا رہے گا اور اس سے قاضی کی سوچ سمجھ میں نقصان آ سکتا ہے۔ 
قَالَ بَعْضُهُمْ: إلَّا أَنْ يَخَافَ الْمَضَرَّةَ فِي جُلُوسِهِمْ وَيَشْتَغِلَ قَلْبُهُ بِهِمْ وَبِالْحَذَرِ مِنْهُمْ حَتَّى يَكُونَ ذَلِكَ نُقْصَانًا فِي فَهْمِهِ فَأَحَبُّ إلَيَّ أَنْ لَا يَجْلِسُوا إلَيْهِ.
بعض فضلاء نے فرمایا مناسب نہیں قاضی لے کے کہ ہو اس کے ساتھ مجلس میں وہ شخص جو قاضی کی نظر کو اپنی طرف مشغول کرے چاہے وہ کوئی فقیہ آدمی ہو یا کوئی اور ہو، البتہ جب مجلس قضاء ختم ہو جائے تو قاضی کو چاہیے کہ فقہاء و علماء کے ساتھ مشورہ کرے مجلس میں ساتھ نہ بٹھائے اگر خیال ان کی طرف بھٹکتا ہو۔ 
وَقَالَ بَعْضُ الْفُضَلَاءِ: لَا يَنْبَغِي لِلْقَاضِي أَنْ يَكُونَ مَعَهُ فِي مَجْلِسِهِ مَنْ يُشْغِلُهُ عَنْ النَّظَرِ كَانُوا أَهْلَ فِقْهٍ أَوْ غَيْرَهُمْ، وَلَكِنْ إذَا ارْتَفَعَ عَنْ مَجْلِسِ الْقَضَاءِ شَاوَرَ.
انہی آداب میں سے ہے کہ جب قاضی پر کوئی مشکل آن پڑے تو اس کو چھوڑ دے بعض حضرات نے فرمایا کہ کوئی حرج نہیں کہ قاضی فریقین کو صلح کا حکم دے اور فقہاء نے فرمایا کہ کبھی کبھی قاضی پر فریقین کی گفتگو مشکل کھڑی کر دیتی ہے اور یہ مشکل قاضی کے لیے سوچ سمجھ سے مانع بنتی ہے یعنی اسے سمجھ نہیں آتا کہ کیا فیصلہ کروں تو ایسے میں قاضی کو چاہیے کہ وہ فریقین سے کہے کہ اپنے کلام کو دوبارہ دوہراؤ یہاں تک کہ قاضی ان کے کلام کو پوری طرح سمجھ جائے کبھی کبھی قاضی فریقین کے کلام کو تو سمجھ جاتا ہے البتہ معاملہ کا حکم قاضی کے سمجھ میں نہیں آتا یہی مطلب ہے وَإِذَا أُشْكِلَ عَلَى الْقَاضِي أَمْرٌ تَرَكَهُ کا کہ معاملہ تو سمجھ آیا لیکن اس کا کوئی امر سمجھ سے بالا تر ہے جیسے حکم اور جائز نہیں ہے قاضی کے لیے کہ وہ حکم کی طرف بڑھے بالاتفاق جب تک کہ قاضی پر مسئلہ کا ہر جزء اور ہر زاویہ واشگاف نہ ہو اگر معاملہ میں ذرا بھی الجھن ہو تو ان فریقین کو صلح کی طرف رہنمائی کرے اس معاملے میں تاکہ وہ صلح کر لیں تو بہتر ہے۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ إذَا أُشْكِلَ عَلَى الْقَاضِي أَمْرٌ تَرَكَهُ وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا بَأْسَ أَنْ يَأْمُرَ فِيهِ بِالصُّلْحِ. وَقَالُوا: قَدْ يُشْكَلُ عَلَى الْقَاضِي كَلَامُ الْخَصْمَيْنِ، وَهَذَا مَانِعٌ لَهُ مِنْ التَّصَوُّرِ فَيَأْمُرُهُمَا بِالْإِعَادَةِ حَتَّى يَفْهَمَ عَنْهُمَا، وَقَدْ يَفْهَمُ عَنْهُمَا وَيُشْكَلُ عَلَيْهِ وَجْهُ الْحُكْمِ، وَهَذَا هُوَ مَعْنَى قَوْلِهِمْ: " وَإِذَا أُشْكِلَ عَلَى الْقَاضِي أَمْرٌ تَرَكَهُ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ الْإِقْدَامُ عَلَى الْحُكْمِ بِاتِّفَاقٍ "، ثُمَّ لِلْقَاضِي حِينَئِذٍ أَنْ يُرْشِدَهُمَا لِلصُّلْحِ.

فقہا نے فرمایا کہ زیادہ بہتر بات یہ ہے کہ اگر وہاں کوئی دوسرا قاضی ہو تو قاضی ان دونوں فریق کو جن کا معاملہ قاضی کو مشکل معلوم ہو رہا ہے اس دوسرے قاضی کی طرف بھیج دے اس بات کے احتمال کی وجہ سے کہ اس معاملہ کا فیصلہ دوسرے قاضی پر مشکل نہ ہو اور اگر شہر میں کوئی اس کے علاوہ قاضی ہے ہی نہیں تو پھر صرف صلح کا حکم دے گا دونوں فریق کو اگر معاملہ صلح کی گنجائش رکھتا ہو جیسے مالی معاملات وغیرہ ہو اور اگرعاملہ ایسا ہو کہ اس میں صلح کی گنجائش نہ ہو جیسے طلاق وغیرہ تو پھر توقف کرے گا جب تک کہ معاملہ پوری طرح سمجھ نہ آئے یا پھر فقہاء وقت سے مشورہ کرے۔ 

قَالُوا: وَالْأَقْرَبُ إنْ كَانَ هُنَاكَ قَاضٍ غَيْرَهُ صَرَفَهُمَا إلَيْهِ لِاحْتِمَالِ أَنْ لَا يُشْكَلَ عَلَيْهِ الْحُكْمُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِي الْبَلْدَةِ غَيْرُهُ أَمَرَهُمَا بِالصُّلْحِ إنْ كَانَ مِنْ الْأَحْكَامِ الْمَالِيَّةِ وَغَيْرِهَا الَّتِي يَتَأَتَّى فِيهَا الصُّلْحُ.
اور جب قاضی پر حق کی وجہ مشکل ہو جائے، سمجھنا مشکل ہو تو پھر فریقین کو صلح کا حکم دے گا پس اگر حکم کی وجہ واضح ہوجائے تو پھر ان کو صلح کی طرف نہیں پھیرے گا بلکہ قطعی طور پر ان کے درمیان فیصلہ کر دے پس اگر اندیشہ ہو فریقین کے درمیان حکم کے نفاذ میں معاملہ کی طوالت کا یا وہ دونوں فریق اہل فضل میں سے ہوں یا ان کے درمیان رشتہ داری ہو تو پھر ایسے میں ان کو قائل کرے گا صلح کا اور ان دونوں کو صلح کا حکم دے گا۔ 
وَإِذَا أُشْكِلَ عَلَى الْقَاضِي وَجْهُ الْحَقِّ أَمَرَهُمْ بِالصُّلْحِ، فَإِنْ تَبَيَّنَ لَهُ وَجْهُ الْحُكْمِ فَلَا يَعْدِلُ إلَى الصُّلْحِ وَلْيَقْطَعْ بِهِ، فَإِنْ خَشِيَ مِنْ طُوْلِ الْأَمْرِ بِإِنْفَاذِ الْحُكْمِ بَيْنَ الْمُتَخَاصِمَيْنِ أَوْ كَانَا مِنْ أَهْلِ الْفَضْلِ أَوْ بَيْنَهُمَا رَحِمٌ أَقَامَهُمَا وَأَمَرَهُمَا بِالصُّلْحِ.
بعض عادل قاضیوں نے پہلے دور میں اپنے سامنے سے دو نیک صالح پڑوسیوں کو اٹھا دیا اور ان کے درمیان یہ کہتے ہوئے فیصلہ نہیں کیا کہ تم دونوں اپنے معاملے کو پوشیدہ پر رکھ صلح کر لو ہم کو اپنے رازوں پر مطلع نہ کرو یعنی خود تم اس معاملہ میں صلح کر لو چنانچہ دو نیک پڑوسیوں کے درمیان صلح نہیں کی، کیونکہ ظاہر ہے قاضی کے یہاں جب فیصلہ ہوگا تو وہ ایک فریق کے حق میں ہوگا دوسرے فریق کے حق میں نہیں ہوگا تو دوسرے فریق کے دل میں کینہ پیدا ہوگا اور دو پڑوسیوں کے درمیان فریق کرانا بہت بڑا خسارہ ہے باجودیکہ یہاں قضاۃ کے لیے شرعاً فیصلہ کی گنجائش تھی مگر پھر بھی انہوں نے دونوں پڑوسی کو اٹھا دیا کہ تم خود اس میں صلح کر لو کیوں کہ صلح فیصلے سے بہتر ہے
وَقَدْ أَقَامَ بَعْضُ قُضَاةِ الْعَدْلِ مِنْ الصَّدْرِ الْأَوَّلِ رَجُلَيْنِ مِنْ صَالِحِي جِيرَانِهِ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَقَالَ: اُسْتُرَا عَلَى أَنْفُسِكُمَا وَلَا تُطْلِعَانِي عَلَى سِرِّكُمَا.
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے تھے کہ ذو رحم فریقین کے درمیان فیصلہ کرنے کو رد کرو یعنی فیصلہ کے بغیر انہیں لوٹا دو تا کہ وہ خود آپس میں کسی بات پر متفق ہو جائیں اور خود صلح کر لیں اس لیے کہ فیصلہ کرنا دلوں میں کینہ اور بغض کو پیدا کرتا ہے
وَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: رُدُّوا الْقَضَاءَ بَيْنَ ذَوِي الْأَرْحَامِ حَتَّى يَصْطَلِحُوا، فَإِنَّ فَصْلَ الْقَضَاءِ يُورِثُ الضَّغَائِنَ.

بعض حضرات نے فرمایا کہ قاضی کے لیے جائز ہے کہ وہ صلح کا حکم دے جب فریقین کے دلائل برابر کے درجے کے ہوں مگر یہ کہ ان میں سے اگر کوئی ایک فریق دوسرے سے زیادہ چرب زبان ہو تو پھر صلح کا حکم نہ دے بلکہ پھر فیصلہ ہی کرنا چاہیے کیونکہ یا دعویٰ ہی ایسے معاملات سے متعلق ہو جن کو جانے پہچانے، پرانے اور ایک طرح کے ہیں اس لیے کہ جب ایک فریق دوسرے سے زیادہ چرب زبان یا معاملہ پرانا تو پھر صلح کرانا کار گر نہ ہوگا بلکہ وہ پھر لڑ کر مرافعہ کی اپیل کریں گے، اس لیے بہتر ہے کہ فیصلہ کر دیا جائے تا کہ دوبارہ لڑنے کی نوبت ہی نہ آئے۔
قَالَ بَعْضُهُمْ: إنَّمَا يَجُوزُ لِلْقَاضِي أَنْ يَأْمُرَ بِالصُّلْحِ إذَا تَقَارَبَ الْحُجَّتَانِ بَيْنَ الْخَصْمَيْنِ غَيْرَ أَنَّ أَحَدَهُمَا يَكُونُ أَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ الْآخَرِ، أَوْ تَكُونُ الدَّعْوَى فِي أُمُورٍ دَرَسَتْ وَتَقَادَمَتْ وَتَشَابَهَتْ.
بعض حضرات نے فرمایا کہ جب قاضی پر فریقین میں سے مظلوم کے مقابلہ میں کسی کا ظالم ہونا معلوم ہو جائے، تو منجانب اللہ قاضی کو صرف فیصلہ کی ہی گنجائش ہے، کیوں کہ ظالم کو ظلم سے نہ روکنا بھی ظلم ہے، اور صلح کرانا بھی ظلم ہوگا، کیونکہ ایک کا ظالم ہونا طے ہے۔ 
وَأَمَّا إذَا تَبَيَّنَ لِلْحَاكِمِ مَوْضِعُ الظَّالِمِ مِنْ الْمَظْلُومِ لَمْ يَسَعْهُ مِنْ اللَّهِ إلَّا فَصْلُ الْقَضَاءِ.
انہی لازمی آداب میں سے یہ بھی ہے کہ جب کسی معاملہ میں جھگڑا طوالت پکڑے اور اس میں شور و شغب کے ذریعے پیچیدگی زیادہ ہوتی جائے تو ایسے میں قاضی کے لیے جائز ہے کہ فریقین کے نامہ و عرضی دعویٰ یا جو فیصلہ پہلے ہو چکا ہو اسے توڑ پھوڑ دے، تاکہ ان کے معاملہ میں دوبارہ غور و فکر کر کے از سر نو حکم جاری کیا جائے، یہ جب ہے کہ اس عمل سے ان کے معاملہ کی سلجھنے کہ امید ہو بلکہ بعض ائمہ نے اس عمل کو پسند کیا ہے، اور طرح کا رویہ پہلے پہل حضرت ابان بن عثمان کے زمانہ میں پیش آیا۔ 
اور یہ جیسا کہ قاضی حکم ایک ہی معاملہ میں دو فریق کے درمیان دو فیصلے کرے پھر وہ دونوں فریق دوسرے قاضی کے پاس شئ متنازع فیہ میں پہلے قاضی کے کئے ہوئے حکم کے ساتھ دوبارہ مقدمہ دائر کریں اور دونوں کے پاس پہلے قاضی کا حکم یہ ہو کہ یہ چیز اس کی ہے، 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ إذَا طَالَ الْخِصَامُ فِي أَمْرٍ وَكَثُرَ التَّشْغِيبُ فِيهِ فَلَا بَأْسَ لِلْقَاضِي أَنْ يُمَزِّقَ كُتُبَهُمْ إذَا رَجَا بِذَلِكَ تَقَارُبَ أَمْرِهِمْ، وَاسْتَحْسَنَهُ بَعْضُ الْأَئِمَّةِ، وَقَدْ حَدَثَ ذَلِكَ فِي زَمَانِ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ، وَهَذَا إذَا حَكَمَ الْقَاضِي لِرَجُلَيْنِ بِقَضَاءَيْنِ فِي شَيْءٍ وَاحِدٍ فَيَقُومَانِ عِنْدَ قَاضٍ غَيْرِهِ كُلُّ وَاحِدٍ مَعَهُ حُكْمُ ذَلِكَ الْقَاضِي فِي الشَّيْءِ الْمُتَنَازَعِ فِيهِ أَنَّهُ لَهُ.
اب دیکھئے! چیز ایک ہے فیصلہ ایک جیسا دو فریق کے حق میں، ایک فریق کا دعویٰ ہے کہ چیز میری ہے کیوں کہ پہلے قاضی کا حکم میرے حق میں ہے دوسرے کا دعویٰ بھی یہی ہے، اب ایسے معاملہ میں یہ دوسرا قاضی کیا عملی کردار ادا کرے، (١) دونوں فریق میں سے جس کا قبضہ اس چیز پر ہو وہ اس چیز کا زیادہ حقدار ہے کیوں کہ ظاہری قبضہ بھی ایک دلیل ہے اور یہ ایک التزامی ترجیح ہے۔ (٢) ایک فریق کا تو قبضہ ہے لیکن اس کے حق میں فیصلہ پہلے ہوا ہے اور دوسرے فریق کے پاس جو فیصلہ ہے اس میں صراحتاً قاضی کا لکھا ہوا ہے یا کوئی ایسی چیز ہے جس سے پتہ چلتا ہو کہ وہ پہلے فیصلہ کو منسوخ کرتا ہے، ایسے میں قاضی دوم پہلے کے فیصلہ کو رد کر کے دوسرے کے حق میں فیصلہ کرے اور یہ ترجیح صریح ہوگی، (٣) اگر فریقین میں کسی کا قبضہ نہیں اور نہیں پہلا دوسرے سے کسی وجہ سے ممتاز ہے تو پھر فریقین میں سے جس کے گواہ زیادہ عادل ہوں گے وہی اس چیز کا زیادہ حقدار ہوگا (٤) اگر دونوں طرف دلائل برابر ہوں کہ نہ تو کسی کا قبضہ ہے، نہ دوسرا میں کوئی منسوخیت کی علامت اور دونوں کے گواہ عادل بھی ہیں، لیکن دونوں کے فیصلوں میں تاریخ لکھی ہوئی ہے تو دونوں جس فیصلہ میں تاریخ پہلے پڑی ہے وہ اس چیز کا حقدار ہوگا، (٥) ہاں اگر دوسری تاریخ والے فیصلہ میں ناسخیت مکتوب ہو تو پھر صراحتاً دوسرا فیصلہ قابل ترجیح ہوگا (٦) اگر ایک ہی فیصلہ میں تاریخ ہو تو وہی مؤرخہ والا حقدار ہوگا نہ کہ دوسرا غیر مؤرخہ (٧) اگر کسی فیصلہ میں تاریخ نہیں، کسی فریق کا قبضہ نہیں اور معاملہ قاضی پر مشکل ہو اور قاضی مناسب سمجھتا ہو کہ دونوں کے ما قبل فیصلوں کو ترک کر کے از سر نو فیصلہ کرنا چاہئے تو قاضی دوم ایسا ہی کرے، اور (٨) یہ بھی تب ہے کہ پہلے کئے ہوئے دونوں فیصلے درست ہوں اگر درست ایک غلط ہو تو پھر جو فیصلہ غلط ہو اس کے رد کرنے میں کوئی اشکال و تردد نہیں۔ 

قَالَ: فَحَائِزُهُ مِنْهُمَا أَوْلَى بِهِ، إلَّا أَنْ يَكُونَ الْحَائِزُ قَدْ حُكِمَ لَهُ بِهِ أَوَّلًا وَفِي قَضِيَّةِ الثَّانِي مَا يَنْسَخُ ذَلِكَ، فَتُرَدُّ قَضِيَّةُ الْأَوَّلِ، فَإِنْ لَمْ يَحُزْهُ وَاحِدٌ مِنْهُمَا أَوْ لَمْ يُعْلَمْ الْأَوَّلُ مِنْ الْآخِرِ، فَأَعْدَلُهُمَا بَيِّنَةً، فَإِنْ تَكَافَأَتَا وَالْقَضِيَّتَانِ مُؤَرَّخَتَانِ فَأُولَاهُمَا أَوْلَى، إلَّا أَنْ يَكُونَ فِي الثَّانِيَةِ مَا يَنْسَخُهَا، فَإِنْ كَانَتْ إحْدَاهُمَا مُؤَرَّخَةً دُونَ الْأُخْرَى فَالْمُؤَرَّخَةُ أَوْلَى، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ تَارِيخٌ وَلَمْ يَكُنْ فِي يَدِ وَاحِدٍ مِنْهُمَا وَأُشْكِلَ الْأَمْرُ عَلَى الْحَاكِمِ وَرَأَى أَنْ يَقْطَعَ الْقَضِيَّتَيْنِ وَيَسْتَأْنِفَ الْحُكْمَ فَعَلَ، وَهَذَا إذَا كَانَتَا جَمِيعًا صَوَابًا، فَإِنْ كَانَتْ إحْدَاهُمَا خَطَأً فَلَا إشْكَالَ فِي رَدِّ مَا كَانَ الْحُكْمُ فِيهِ خَطَأً.

یہ فصل ان چیزوں کے بیان جن میں غور و فکر کرنے سے قاضی ابتداء کرے گا۔ 
[فَصْل فِيمَا يَبْتَدِئُ الْقَاضِي بِالنَّظَرِ فِيهِ]
پانچویں فصل ان احکام کے بیان میں ان چیزوں کے بیان میں جن میں غور و فکر کرنے سے قاضی ابتدا کرے گا چنانچہ لازم ہے قاضی کے لیے کہ وہ پہلے ابتدا کرے گواہوں کی تحقیق اور ان گواہوں کی تزکیہ و تعدیل کرنے والوں کی تحقیق چنانچہ قاضی جانے گا ان لوگوں کا حال یا ان گواہوں کا حال جن کے حال سے وہ واقع نہیں ہے اور ان کی عدالت کے بارے میں چھان بین کرے گا تحقیق و تفتیش کرے گا پس جو ان میں سے عادل ہوں گے ان کو برقرار رکھے گا گواہی کے لیے ان کو طلب کرے گا اور جن میں جراحت ہو جو مجروح ہوں گے جن میں کوئی خرابی ہو تو ان کو رد کرے گا ان کی گواہی قبول نہیں کرے گا اور ان کی اذیت سے مسلمان ان کی اذیت سے مسلمانوں کو راحت پہنچائے گا
الْفَصْلُ الْخَامِسُ: " فِيمَا يَبْتَدِئُ بِالنَّظَرِ فِيهِ " وَيَلْزَمُهُ مِنْ أَوَّلِ مَا يَبْتَدِئُ بِهِ الْكَشْفُ عَنْ الشُّهُودِ وَالْمُوَثَّقِينَ فَيَعْرِفُ حَالَ مَنْ لَا يُعْرَفُ حَالُهُ مِنْهُمْ وَيَفْحَصُ عَنْ عَدَالَتِهِمْ، فَمَنْ كَانَ عَدْلًا أَثْبَتَهُ، وَمَنْ فِيهِ جُرْحَةٌ أَسْقَطَهُ وَأَرَاحَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ أَذِيَّتِهِ.
مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ وہ غیر عادل گواہوں کو برقرار رکھے اور ان کو لوگوں کے لیے نصب کرے اس لیے کہ اس میں مسلمانوں کے لیے دھوکہ ہے اور یہ عمل دین کے شعائر کے لیے یہ بد نما داغ ہے تو قاضی پر ضروری ہے کہ صراحت سے ان لوگوں کو معزول کرے یعنی ان لوگوں کی معزولیت کی صراحت کرے اور جھوٹے گواہ پر ہمیشہ کے لیے ایک سرٹیفکیٹ کتاب لکھ دے کہ یہ گواہ جھوٹا ہے، تا کہ دوسرے اس سے دھوکہ نہ کھائیں۔ 
وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَتْرُكَ غَيْرَ الْمَرْضِيِّ يَنْتَصِبُ لِلنَّاسِ فَإِنَّهَا خَدِيعَةٌ لِلْمُسْلِمِينَ وَوَصْمَةٌ فِي شَعَائِرِ الدِّينِ، وَعَلَيْهِ أَنْ يُصَرِّحَ بِعَزْلِ هَؤُلَاءِ، وَيُسَجِّلَ عَلَى شَاهِدِ الزُّورِ كِتَابًا مُخَلَّدًا.
اسی طرح قاضی کا دوسرا کام جب منصب قضاء پر فائز ہوگا تو ضروری ہے قاضی پر کہ وہ قیدیوں کی تحقیق کرے گا اور ان کے معاملے میں غور و فکر کرے گا جیل میں ان کی مدت قید کے سلسلے میں غور و فکر کرے گا اس لیے کہ کبھی کبھی ان میں وہ شخص بھی ہوتا ہے جس کی مدت دراز ہو چکی ہوتی ہے تو ایسے شخص کو قید میں رکھنا اس پر ظلم کے مترادف ہے
وَكَذَلِكَ يَجِبُ عَلَيْهِ الْكَشْفُ عَنْ الْمَحْبُوسِينَ فَيَنْظُرُ فِي أُمُورِهِمْ وَفِي مُدَّةِ إقَامَتِهِمْ فِي الْحَبْسِ، فَقَدْ يَكُونُ فِيهِمْ مَنْ طَالَتْ إقَامَتُهُ فَتَكُونُ إقَامَتُهُ فِي الْحَبْسِ ظُلْمًا لَهُ.
پھر قاضی وصیوں کے اور یتیموں کے اموال میں غور و فکر کرے گا اور اس شخص کو حکم دے گا جو قاضی کی اجازت سے شہر میں منادی کرے آواز لگائے کہ قاضی صاحب نے تمام ایسے یتیموں پر حجر لگا رکھا ہے جن کا کوئی ولی نہیں ہے اور تمام ان مجنون اور دیوانوں پر حجر لگا رکھا ہے جن کے اوپر نگرانی واجب ہے یعنی جو خود سوچ سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے اور لوگوں میں یہ اعلان کرے گا کہ جو تم میں سے ان دو نوعیت میں سے کسی بچے کو جانے گا جو کہ کوئی یتیم ہو کوئی مجنون ہو تو چاہیے کہ ان کا معاملہ ہمارے پاس لے آئے تاکہ ہم ان پر ذمہ دارقرر کریں اور جو تم میں سے کوئی ایسے دو طرح کے لوگوں کے ساتھ بیع و شراء کرے گا اس اعلان کے بعد تو اس کا ایسے بچوں ہا مجنون لوگوں کے ساتھ خرید و فروخت کرنا مردود ہے گا
ثُمَّ يَنْظُرُ فِي الْأَوْصِيَاءِ وَأَمْوَالِ الْأَيْتَامِ، وَيَأْمُرُ مَنْ يُنَادِي عَنْ إذْنِهِ إنَّهُ قَدْ حَجَرَ عَلَى كُلِّ يَتِيمٍ لَا وَلِيَّ لَهُ، وَعَلَى كُلِّ سَفِيهٍ مُسْتَوْجِبِ الْوِلَايَةِ عَلَيْهِ، وَأَنَّهُ مَنْ عَلِمَ مِنْكُمْ أَحَدًا مِنْ هَذَيْنِ النَّوْعَيْنِ فَلْيَرْفَعْ أَمْرَهُمَا إلَيْنَا نُوَلِّ عَلَيْهِ وَمَنْ بَاعَ مِنْهُمَا بَعْدَ النِّدَاءِ فَهُوَ مَرْدُودٌ.

[فَصْل فِي سِيرَةِ الْقَاضِي مَعَ الْخُصُومِ]
چھٹی فصل، قاضی کا فریقین کے ساتھ سیرتی پہلو کے بارے میں اور جو چیزیں قاضی کے لیے لازم ہیں
الْفَصْلُ السَّادِسُ فِي سِيرَتِهِ مَعَ الْخُصُومِ وَيَنْبَغِي لَهُ أُمُورٌ.
انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ جب قاضی کے سامنے دو فریق حاضر ہوں تو وہ ان کے درمیان برابری کا معاملہ کرے گا فریقین کی طرف دیکھنے میں، ان کے ساتھ گفتگو کرنے میں ہاں جب تک کہ ان میں سے کسی کی طرف سے کوئی نا زیبا حرکت و جھگڑا شروع نہ ہو جائے اگر کوئی ان میں سے جھگڑا کرتا ہے تو پھر کوئی حرج نہیں قاضی پر کہ وہ اس کی طرف کڑی نظر سے دیکھے اس پر تادیبی کارروائی کرتے ہوئے مزید بلند آواز سے ڈانٹ کر اس کو جھڑک بھی سکتا ہے کہ اس سے جھگڑا ظاہر ہوا ہے اور یہ اس لیے ہے کہ اللہ تبارک و تعالی کے علم میں ہے کہ اگر یہی حرکت اس کا دوسرا ساتھی کرتا تو قاضی اس کے ساتھ بھی یہ معاملہ کرتا گویا اس میں قاضی کی طرف سے ایک فریق کے ساتھ زیادتی نہیں پائی گئی اور قاضی ان دونوں کو فیصلے کے ابتداء ہی میں محبت اور وقار پر ابھارے گا نصیحت کر کے اور ان میں سے جو ڈرا کے مارے گھبراہٹ میں ہو قاضی اس کو تسکین دے گا اور جو ان میں سے خوب زدہ ہو اسے مأمون کرے گا اور جو اپنے کلام میں خوف کھایا ہوا ہو اسے بھی سہارا و تسکین دے گا یہاں تک کہ اس کا خوف دور ہو جائے، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا فرمان ہے جو انہوں نے حضرت امیر معاویہ کو لکھا اس میں فرمایا فانی کتبت کتابا فی القضاء م لم آلک و نفسی فیہ خیراً ، ادن الضعیف حتی یشتد قلبہ و ینبسط لسانہ کہ جب تمہارے پاس دو فریق آ جائیں تو کمزور کو اپنے قریب کرو یعنی اس کو سہارا دو تا کہ اس کا دل سنبھل جائے اور اس کی زبان میں سلاست پیدا ہو جائے کیوں کہ بعض مرتبہ کمزور پہلے سے ڈرا سہما اپنی بات ہی بھول جاتا ہے اور اپنی بات کو واضح نہیں کر پاتا اس لیے اس کو سہارا دینا ضروری ہے اور قاضی دونوں فریق کو اپنے سامنے بٹھائے گا چاہے وہ کمزور ہوں یا دونوں پختہ اور مضبوط ہوں یا ایک مضبوط ہو دوسرا قوی یعنی کمزور قوی کے ساتھ ہو بلکہ دونوں کو سامنے بٹھائے ان میں سے کسی ایک کو اپنے قریب نہیں کرے گا اور نہ ایک کی طرف متوجہ ہو کے دوسرے کو نظر انداز کرے گا اور نہ قاضی ان میں سے سلام کے ذریعے کسی کی طرف مائل ہوگا کہ کسی ایک کو سلام کے ساتھ خاص کرے اور نہ وہ ان میں سے کسی ایک کو مرحبا کہے خوش امدید کرے اور نہ کسی ایک کے لیے جگہ اونچی کرے اور نہ قاضی کسی ایک فریق سے اس کے حال چال کے بارے میں پوچھے گا نہ ہی کوئی خبر گیری کرے گا اور نہ ان کی اس مجلس میں کسی معاملہ کے متعلق سوال کرے گا آپ کا یہاں آنا کیسا ہوا کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی آنے میں؟ اس طرح کی بات نہیں کرے گا کسی ایک سے اور نہ ہی دونوں کے ساتھ سرگوشی کرے گا نہ ان میں سے کسی ایک کے ساتھ سرگوشی کرے گا اس لیے کہ اس سے فریقین قاضی پر جری ہو جائیں گے اور ان کے دل میں طمع و لالچ پیدا ہوگی اور وہ چیزیں جو حدود اللہ کے ہلکے پن کی طرف لے جاتی ہے وہ تمام چیزیں ممنوع ہے۔ 
مِنْهَا: أَنَّهُ إذَا حَضَرَ الْخَصْمَانِ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيُسَوِّ بَيْنَهُمَا فِي النَّظَرِ إلَيْهِمَا وَالتَّكَلُّمِ مَعَهُمَا مَا لَمْ يَتَلَدَّدَ أَحَدُهُمَا فَلَا بَأْسَ أَنْ يَسُوءَ نَظَرُهُ إلَيْهِ تَأْدِيبًا لَهُ وَيَرْفَعَ صَوْتَهُ عَلَيْهِ لِمَا صَدَرَ مِنْهُ مِنْ اللَّدَدِ وَنَحْوِ ذَلِكَ، وَهَذَا إذَا عَلِمَ اللَّهُ تَعَالَى مِنْهُ أَنَّهُ لَوْ كَانَ ذَلِكَ مِنْ صَاحِبِهِ فَعَلَ بِهِ مِثْلَ ذَلِكَ، وَيَحُضُّهُمَا عِنْدَ ابْتِدَاءِ الْمُحَاكَمَةِ عَلَى التَّوَدُّدِ وَالْوَقَارِ، وَيُسَكِّنُ جَأْشَ الْمُضْطَرِبِ مِنْهُمَا، وَيُؤَمِّنُ رَوْعَ الْخَائِفِ وَالْحَصْرِ فِي الْكَلَامِ حَتَّى يَذْهَبَ عَنْهُ ذَلِكَ، وَيُقْعِدُهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ ضَعِيفَيْنِ كَانَا أَوْ قَوِيَّيْنِ، أَوْ ضَعِيفٌ مَعَ قَوِيٍّ، وَلَا يُقَرِّبُ أَحَدَهُمَا إلَيْهِ، وَلَا يُقْبِلُ عَلَيْهِ دُونَ خَصْمِهِ، وَلَا يَمِيلُ إلَى أَحَدِهِمَا بِالسَّلَامِ فَيَخُصُّهُ بِهِ وَلَا بِالتَّرْحِيبِ، وَلَا يَرْفَعُ مَجْلِسَهُ، وَلَا يَسْأَلُ أَحَدَهُمَا عَنْ حَالِهِ وَلَا عَنْ خَبَرِهِ، وَلَا عَنْ شَيْءٍ مِنْ أُمُورِهِمَا فِي مَجْلِسِهِمَا ذَلِكَ، وَلَا يُسَارُّهُمَا جَمِيعًا وَلَا أَحَدَهُمَا، فَإِنَّ ذَلِكَ يُجَرِّئُهُمَا عَلَيْهِ وَيُطْمِعُهُمَا فِيهِ، وَمَا جَرَّ إلَى التَّهَاوُنِ بِحُدُودِ اللَّهِ فَمَمْنُوعٌ.
چنانچہ قاضی ان کے درمیان برابری کرے گا اگر ان میں سے ایک ذمی ہو اور مسلمان ذمی کے برابر میں بیٹھنے سے گریز کرے جبکہ یہی مسلمان مدعی ہو تو قاضی اس کے لیے فیصلہ نہیں کرے گا نہ اس کے معاملے کو دیکھے گا یہاں تک کہ وہ مجلس میں ذمی کے ساتھ بیٹھنے میں برابری پر راضی ہو جائے اور حق پر راضی ہو جائے اور اگر وہ مسلم مدعی علیہ ہو تو قاضی مسلم سے کہے گا کہ یا تو تم مجلس میں ذمی کے برابر بیٹھ جاؤ یا اس کے معاملہ میں تحقیق کر کے مدعی کے دعوی کی سماعت کروں گا اور تمہاری پرواہ کئے بغیر تمہاری طرف التفات نہیں کروں گا اور نہ تمہاری بات سنوں گا اور اس طرح میں معاملے کا تصفیہ کر دوں گا اگر اس نے پھر بھی تابعداری نہیں کی تو قاضی ایسا کرے گا وہ ذمہ کے معاملے کو دیکھ لے گا اور اگر تابعداری کرتا ہے تو قاضی اس کے معاملہ کو دیکھے گا۔ 
 وَيُسَوِّي بَيْنَهُمَا، فَإِنْ کَانَ أَحَدُهُمَا ذِمِّيًّا فَإِنْ أَبَى ذَلِكَ الْمُسْلِمُ وَهُوَ الطَّالِبُ فَلَا يَحْكُمُ لَهُ وَلَا يَنْظُرُ فِي أَمْرِهِ حَتَّى يَتَسَاوَيَا فِي الْمَجْلِسِ وَيَرْضَى بِالْحَقِّ، فَإِنْ كَانَ هُوَ الْمَطْلُوبَ قَالَ الْقَاضِي لِلْمُسْلِمِ: إمَّا أَنْ تُسَاوِيَهُ فِي الْمَجْلِسِ وَإِلَّا نَظَرْتُ لَهُ وَسَمِعْتُ مِنْهُ وَلَمْ أَلْتَفِتْ إلَيْك وَلَمْ أَسْمَعْ مِنْك، فَإِنْ فَعَلَ نَظَرَ لَهُ.
بعض حضرات نے فرمایا کہ ذمی اور مسلمان کے درمیان برابری نہیں کرے گا نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے فرمان کی وجہ سے کہ ذمی کو یعنی کافروں کو مجلس میں مسلمانوں کے برابر نہ بٹھاؤ مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ میرے بعض شیوخ پسند کرتے تھے کہ مسلمان کا رتبہ ذمی کے مقابلے میں تھوڑا ممتاز ہو نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے منع کرنے کی وجہ سے کہ مسلمان اور ذمی مجلس میں برابر سرابر رہیں
وَقِيلَ لَا يُسَوِّي بَيْنَهُمَا لِقَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «لَا تُسَاوُوهُمْ فِي الْمَجْلِسِ» وَاسْتَحْسَنَ بَعْضُ أَشْيَاخِي تَمْيِيزَ رُتْبَةِ الْمُسْلِمِ عَلَى الذِّمِّيِّ لِنَهْيِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - أَنْ يُسَاوَى بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالذِّمِّيِّ فِي الْمَجْلِسِ.
ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کا ایک یہودی کے ساتھ جھگڑا ہو کر قاضی شریح کی عدالت میں پہنچا تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ صدر مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے، قاضی شریح اور ذمی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابلہ میں نیچے بیٹھے ہوئے تھے اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا کہ اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجلس میں ان کے ساتھ برابری سے نہ روکا ہوتا تو میں ذمی کے برابر بیٹھتا جب کہ بعض حضرات نے فرمایا کہ قاضی ذمی اور مسلمان کو ایک ساتھ بٹھائے گا اپنے سامنے، پر مسلمان کو تھوڑا سا آگے کرے گا اسی کی طرف بعض متقدمین علماء گئے ہوئے ہیں اور حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بارے میں جو واقعہ نقل کیا گیا یہ درست نہیں ہے درست یہی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ بھی قاضی شریح کے سامنے تھے البتہ تھوڑے ممتاز تھے
وَذُكِرَ أَنَّ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - خَاصَمَ يَهُودِيًّا عِنْدَ الْقَاضِي شُرَيْحٍ، فَجَلَسَ عَلِيٌّ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فِي صَدْرِ الْمَجْلِسِ وَجَلَسَ شُرَيْحٌ وَالذِّمِّيُّ دُونَهُ، وَقَالَ عَلِيٌّ: لَوْلَا أَنَّ النَّبِيَّ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - نَهَى عَنْ مُسَاوَاتِهِمْ فِي الْمَجْلِسِ لَجَلَسْتُ مَعَهُ.قَالَ بَعْضُهُمْ: وَأَرَى أَنْ يَجْلِسَا جَمِيعًا بَيْنَ يَدَيْهِ، وَيَتَقَدَّمُهُ الْمُسْلِمُ بِالشَّيْءِ الْيَسِيرِ وَإِلَى هَذَا ذَهَبَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ الْمُتَقَدِّمِينَ 
مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ وہ جھگڑنے والوں میں سے کسی کو اپنے پاس آنے کی اجازت دے دوسرے کے غائبانہ میں نہ مجلس قضاء میں نہ خلوت میں نہ تنہائی اور گھر وغیرہ میں نہ کسی جماعت میں اگرچہ قاضی اور اس فریق کے درمیان خاص قرابت ہی کیوں نہ ہو یہاں تک کہ ان کا معاملہ عدالت سے مکمل فیصل ہو جائے ختم ہو جائے ہاں اگر مجلس قضاء سے باہر ایسی مجلس ہو جس میں دوسرے لوگ قاضی کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہوں اور یہ مجلس مجلسِ قضاء کے علاوہ ہو پھر اس مجلس میں کوئی ایک فریق آتا ہے تو وہاں آ سکتا ہے کیونکہ وہ مجلس قضاء بھی نہیں وہ تنہائی بھی نہیں اور وہ صرف اس فریق کے لیے مجلس نہیں ہے وہ عام مجلس ہے تو کوئی حرج نہیں کہ قاضی کسی ایک فریق کو اس میں اپنے ساتھ بٹھائے یا اس مجلس میں آنے کی اجازت دے اگر قاضی چاہے۔ 
وَلَا يَنْبَغِي لِلْقَاضِي أَنْ يُدْخِلَ عَلَيْهِ أَحَدَ الْخَصْمَيْنِ دُونَ صَاحِبِهِ لَا فِي مَجْلِسِ قَضَائِهِ وَلَا فِي خَلْوَتِهِ وَلَا وَحْدَهُ وَلَا فِي جَمَاعَةٍ، وَإِنْ كَانَ الَّذِي بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ خَاصًّا حَتَّى تَنْقَضِيَ خُصُومَتُهُمَا إلَّا أَنْ يَجْلِسَ خَارِجًا فِي مَجْلِسِهِ الَّذِي يَجْلِسُ النَّاسُ مَعَهُ فِي غَيْرِ مَجْلِسِ قَضَائِهِ فَلَا بَأْسَ أَنْ يُجْلِسَ أَحَدَ الْخَصْمَيْنِ فِيهِ إنْ شَاءَ. 
قاضی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ فریقین میں سے کسی ایک کی ضیافت کرے یا اسے تنہائی میں اپنے ساتھ رکھے یا اس کو اپنے ساتھ کھڑے کرے اس لیے کہ یہ چیزیں قاضی کے بارے میں سوئے ظن کا باعث بنتی ہیں
وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُضَيِّفَ أَحَدَهُمَا أَوْ يَخْلُوَ مَعَهُ أَوْ يَقِفَ مَعَهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ مِمَّا يُدْخِلُ عَلَيْهِ سُوءَ الظَّنِّ بِهِ.
مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ وہ دوسرے فریق کے غائبانہ میں کسی ایک فریق سے سوال و جواب کرے اور اس سے اس کے معاملات کے بارے میں پوچھے مگر یہ کہ اس غائب فریق کی جانب سے انکار و عدم پیروی ظاہر ہو جائے یعنی دوسرے فریق مجلس قضاء میں حاضر ہونے سے انکار کر دے ایک فریق کے ساتھ معاملہ کی کارروائی کہ جا سکتی ہے اور اس سے سوال و جواب کیا جا سکتا ہے، یا یہ کہ اگر قاضی کو مدعی کے معاملہ کی کوئی وجہ سمجھ نہ آئے تو پھر محض مدعی سے قاضی سوال کر سکتا ہے تاکہ اس کے معاملے کی پوری تحقیق ہو جائے خواہ مخواہ کسی ایک فریق سے کوئی بات نہ پوچھے گا
وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُجِيبَ أَحَدَ الْخَصْمَيْنِ فِي غَيْبَةِ الْآخَرِ إلَّا أَنْ يَظْهَرَ لَهُ اللَّدَدُ مِنْ الْخَصْمِ الْغَائِبِ أَوْ لَا يَعْرِفَ وَجْهَ خُصُومَةِ الْمُدَّعِي فَلَا بَأْسَ أَنْ يَسْأَلَهُ عَنْ ذَلِكَ لِيَعْرِفَ حَقِيقَةَ أَمْرِهِمَا.
انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ قاضی کسی ایک فریق کی دلائل سے تلقین نہیں کرے گا کوئی صاحب گڑبڑا رہا ہے لیکن قاضی اس کو لقمہ دے رہے ہیں کہ ہاں ہاں آپ نے اس سے پہلے یہ بتایا تھا اس طرح کی یعنی اس کو سہارا دے رہا ہے اس کو حجت و دلیل کی تلقین کر رہا ہے یہ ہرگز درست نہیں اس لیے کہ جب قاضی ایک فریق کی مدد کرے گا تو دوسرے کو کمزور کرے گا اور وہ دوسرا اپنی حجت بیان کرنے سے عاجز آ جائے گا۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يُلَقِّنُ أَحَدَهُمَا حُجَّتَهُ؛ لِأَنَّهُ مَتَى أَعَانَ أَحَدَهُمَا يُضْعِفُ الْآخَرَ فَيَعْجِزُ عَنْ الْإِدْلَاءِ بِحُجَّتِهِ.
اور انہیں لازمی امور میں سے یہ ہے کہ جو سب سے پہلے مقدمہ لے کر آیا ہے قاضی پہلے اس کے معاملہ کو دیکھیے گا اس کے درمیان فیصلہ کرے گا، اسی طرح قاضی مسافرین اور مجبور و معذور لوگوں کے معاملات فیصل کرے گا اور جن کے معاملات بہت اہم ہوں جبکہ ان کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو قاضی ان پہلے دیکھے گا پس اگر دشوار ہو قاضی پر اول فالاول کا جاننا یعنی پہلے کون آیا پھر کون آیا تو پھر قاضی اپنے چپڑاسی یا اپنے معاون کو حکم دے گا کہ وہ ان کے نام اندراج کی ترتیب کے مطابق پکارے گا جس حساب سے ان کا معاملہ دائر ہوا ہے اور ان کو ایک ایک کر کے بلائے گا
وَمِنْهَا أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَ الْخُصُومِ الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ، وَأَنْ يُقَدِّمَ الْمُسَافِرِينَ وَالْمَضْرُورِينَ وَمَنْ لَهُ مُهِمٌّ يَخْشَى فَوَاتَهُ، فَإِنْ كَانَ يَشُقُّ عَلَيْهِ مَعْرِفَةُ الْأَوَّلِ فَالْأَوَّلِ فَإِنَّهُ يَأْمُرُ مَنْ يَكْتُبُ أَسْمَاءَهُمْ عَلَى تَرْتِيبِ وُصُولِهِمْ وَيَدْعُو الْأَوَّلَ فَالْأَوَّلَ " اُنْظُرْ التَّجْرِيدَ ".
بعض ائمہ نے فرمایا کہ یہ جو کہا گیا ہے کہ پہلے اول کو بلائے پھر دوسرے کو جبکہ بعض اصحاب شافعیہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی ایک فریق کے دو چند معاملات ہوں تو قاضی اس کا ایک باری و ایک نوبت میں صرف ایک ہی جھگڑا حل کرے گا پھر اس سے دوبارہ نمبر لگوا کر دوسرا معاملہ دوسری نوبت پر حل کرے گا مصنف فرماتے یہ بات میرے نزدیک ان باتوں میں سے ہے جو قابل اشکال ہے اس لیے کہ ج ایک فریق تمام فریقوں میں سے اپنے دو معاملات لے کر آگے بڑھا اور قاضی نے اس کا ایک معاملہ حل کر لیا پھر قاضی نے چاہا کہ اس کا دوسرا معاملہ بھی نمٹایا جائے جب کہ اس دوسرے معاملہ کے حل کرنے سے بعد میں آنے والے دیگر مخاصمین کے لیے باعث ضرر نہ ہو تو قاضی کو اس پر قدرت ہے کہ وہ ایسا کرے یہ ایسا ہی ہے گویا ایک شخص ایک معاملہ لے کر آیا جبکہ اس کا معاملہ قاضی کے ساتھ طویل ہوگیا تو بعد میں آنے والوں کو کوئی حق نہیں کہ اس کو منع کرے اسی طرح کبھی کبھی دو لوگوں معاملہ قاضی کے ساتھ ایک فریق کے معاملہ کی طرح کافی طویل ہوجاتا۔ 
قَالَ بَعْضُ الْأَئِمَّةِ: وَإِذَا قُلْنَا إنَّهُ يَبْدَأُ بِالْأَسْبَقِ فَالْأَسْبَقِ فَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَصْحَابِ الشَّافِعِيِّ: إنَّ الْأَوَّلَ يُقَدَّمُ فِي خِصَامِهِ مَعَ وَاحِدٍ فَقَطْ لَا فِي سَائِرِ مَطَالِبِهِ مَعَ خُصُومِهِ.
قَالَ: وَهَذَا عِنْدِي مِمَّا يُنْظَرُ فِيهِ، فَإِنْ سَبَقَ بِخَصْمَيْنِ سَائِرَ الْمُتَخَاصِمِينَ فَفَرَغَ مِنْ طَلَبِ أَحَدِهِمَا ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يُخَاصِمَ الْآخَرَ وَذَلِكَ مِمَّا لَا يَطُولُ وَلَا يَضُرُّ بِالْجَمَاعَةِ الَّذِينَ بَعْدَهُ فَإِنَّهُ قَدْ يُمَكَّنُ مِنْ ذَلِكَ، كَمَا لَوْ خَاصَمَ الْأَوَّلَ وَطَالَ خِصَامُهُ مَعَهُ فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ حَقِّ الَّذِينَ بَعْدَهُ أَنْ يَمْنَعُوهُ وَرُبَّمَا كَانَ خِصَامُ الِاثْنَيْنِ كَخِصَامِ وَاحِدٍ تَطُولُ مَعَهُ مُخَاصَمَتُهُ.
اور انہی لازمی امور میں سے ہے کہ جب فریقین میں سے کوئی ایک فریق اپنے دوسرے فریق پر ثابت کر دے وہ چیز جس کا وہ دعوی کر رہا ہے تو قاضی دوسرے فریق مدعی علیہ پر انکار و اقرار کی صورت میں جواب دینا لازم کرے گا کہ آپ اقرار کرو یا انکار کرو بس اگر وہ اقرار کرے مدعی کے دعوی کا تو الاقرار اقوی من البینۃ اور اسی طرح المرء یؤخذ علی اقرارہ کے تحت اس کے خلاف معاملہ فیصل کیا جائے گا لیکن اگر وہ جواب سے انکار کر دے تو پھر اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اس کا بیان عنقریب آئے گا۔ 
وَمِنْهَا: إذَا قَرَّرَ أَحَدُ الْخَصْمَيْنِ صَاحِبَهُ عَلَى مَا يَدَّعِيه أَلْزَمَهُ الْجَوَابَ بِالْإِقْرَارِ وَالْإِنْكَارِ، فَإِنْ امْتَنَعَ مِنْ الْجَوَابِ فَسَيَأْتِي الْكَلَامُ عَلَيْهِ.
انہی آداب میں سے ہے کہ اگر فریقین میں سے کوئی دوسرے ساتھی کو گالی دینا شروع کرے تو قاضی اس فریق کو ڈانٹ سکتا ہے اور اگر وہ حد سے زیادہ بڑھ جائے بغیر کسی حجت کے دوسرے ساتھی پر گالم گلوچ میں اس طور پر کہ وہ اسے کہے اے ظالم اے فاجر یا اس جیسی گالیاں دینا شروع کرے تو قاضی اس کو سختی سے جھڑک سکتا ہے اور اس کو مار بھی سکتا ہے مگر یہ کہ جب وہ کوئی صاحب مروت ہو پھر اس کو بری حرکت سے روک سکتا ہے ڈانٹے گا نہیں بعض کتابوں میں ہے کہ اگر چھوٹی سی غلطی ہو تو پھر اسے ڈانٹے گا مارے گا نہیں۔ 
وَمِنْهَا: إذَا شَتَمَ أَحَدُ الْخَصْمَيْنِ صَاحِبَهُ زَجَرَهُ، فَإِذَا أَسْرَعَ إلَيْهِ بِغَيْرِ حُجَّةٍ مِثْلَ قَوْلِهِ: " لَهُ يَا ظَالِمُ يَا فَاجِرُ وَنَحْوِ ذَلِكَ " زَجَرَهُ عَنْهُ، وَيَضْرِبُ فِي مِثْلِ هَذَا إلَّا أَنْ يَكُونَ ظَنَّهُ مِنْ ذِي مُرُوءَةٍ فَيَنْهَاهُ. الا ان تکون فلتۃً
انہی لازمی امور میں سے ہے کہ جب ایک فریق گواہوں سے کہے کہ آپ نے ہم پر جھوٹی گواہی دی ہے اور اس سے وہ فریق ان کو تکلیف پہنچانے کا ارادہ کرے تو قاضی بقدر جرم ان پر سرزنش کرے گا ان کو سزا دے گا اور اگر اس بات سے اس کا ارادہ یہ تھا کہ جو تم نے ہم پر گواہی دی وہ غلط تھی تو پھر قاضی ان کا تعاقب نہیں کرے گا ان کو سزا نہیں دے گا جبکہ وہ سمجھتا تھا وہ گواہی نفس الامر میں باطل تھی کہ اس کا دین مشہود بہ کو ادا کرنے کی وجہ سے، وہ سمجھتا ہے کہ میں نے ان کو دین ادا کر دیا ہے اور یہ گواہی دے رہے ہے کہ میں نے ادا نہیں کیا اور ایسا اس لیے ہوا کہ اس کے ادا پر اس کے پاس کوئی گواہ نہیں تھے اور اسی طرح قاضی فریقین میں سے کسی ایک تادیبی کارروائی کرے گا جب وہ دوسرے کے گواہوں کو برا بھلا کہے، یہی مفتیٰ بہ قول ہے یا ان سے کوئی ایسی چیز ظاہر ہو جائے جس سے وہ دوسروں کو تکلیف دینا چاہتا ہو تو قاضی اس تکلیف دینے والے کے خلاف تادیباً سرزنش کر سکتا ہے۔
وَمِنْهَا: إذَا قَالَ الْخَصْمُ لِلشَّاهِدِ " شَهِدْت عَلَيَّ بِالزُّورِ " وَقَصَدَ أَذَاهُ نَكَّلَ بِقَدْرِ حَالِهِمَا، وَإِنْ كَانَ إنَّمَا عَنِيَ أَنَّ الَّذِي شَهِدْت عَلَيَّ بَاطِلٌ لَمْ يُعَاقَبْ يَعْنِي: أَنَّهُ بَاطِلٌ فِي نَفْسِ الْأَمْرِ لِكَوْنِهِ أَدَّى الدَّيْنَ الْمَشْهُودَ بِهِ عَلَيْهِ مَثَلًا وَلَا بَيِّنَةَ لَهُ عَلَى الْأَدَاءِ وَنَحْوِ ذَلِكَ، وَكَذَلِكَ يُؤَدَّبُ أَحَدُ الْخَصْمَيْنِ إذَا أَسَاءَ عَلَى الشُّهُودِ وَعَلَیہ الْفَتْوَى أَوْ عَرَضَ لَهُمْ بِمَا يُؤْذِيهِمْ یؤدِّبہٗ مُوجِعًا.
اور لازم ہے قاضی پر کہ وہ فریقین کو حکم دے خاموشی کا جب گواہ ادائے شہادت کے لیے آ جائیں اور یہ کہ وہ گواہوں کے ساتھ تعارض نہ کریں ملامت کرتے ہوئے یا ؛عیب لگا کر یعنی گواہ گواہی دے رہے ہیں اور ایک فریق ان گواہوں کو غلط ثابت کرنے کے لیے درمیان گفتگو میں ٹوک رہا ہے کہ آپ غلط گواہی دے رہے ہو، پس اگر قاضی کے روکنے کے باوجود فریقین ایسا کریں یا کوئی ایک فریق ایسا کرے قاضی کے روکنے کے بعد تو قاضی قائل و مقول کے اعتبار سے حسب غلطی تأدیب کر سکتا ہے
وَيَلْزَمُهُ أَنْ يَأْمُرَ الْخَصْمَيْنِ إذَا جَاءَ الشُّهُودُ لِأَدَاءِ الشَّهَادَةِ عَلَيْهَما بِالسُّكُوتِ، وَأَنْ لَا يَتَعَرَّضَا لِلشُّهُودِ بِتَوْبِيخٍ وَلَا بِعَيْبٍ فَإِنْ فَعَلَا ذَلِكَ أَوْ فَعَلَهُ أَحَدُهُمَا بَعْدَ النَّهْيِ أُدِّبَ بِحَسَبِ الْقَائِلِ وَالْمَقُولِ لَهُ.
اور انہی آداب میں سے یہ ہے کہ حاکم فریقین میں سے ہر ایک کو کلام سے روکے گا جب کوئی فریق قاضی کی اجازت سے گفتگو کر رہا ہو اور اگر وہ نہ رکے اور بار بار اپنی حجت بازی بیان کر رہا ہو تاکہ دوسرے ساتھی کو تشویش میں ڈال کر اس کی باتوں کو خلط ملط کرے اور اس کو کلام سے روکے اور بار بار اس کے کلام پر معارضہ پیش کرے، تو قاضی حکم دے گا اس کو با ادب بیٹھنے کا۔ 
وَمِنْهَا: إذَا نَهَى الْحَاكِمُ أَحَدَ الْخَصْمَيْنِ عَنْ الْكَلَامِ وَلَمْ يَفْعَلْ وَأَتَى بِالْحُجَجِ لِيَخْلِطَ عَلَى صَاحِبِهِ وَيَمْنَعَهُ مِنْ الْكَلَامِ وَيُكْثِرَ مُعَارَضَتَهُ فِي كَلَامِهِ، أَمَرَ الْقَاضِي بِأَدَبِهِ.
اور انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ قاضی جمال والی اور نرم گرم گفتگو کرنے والی عورت کو بالمشافہ خود معاملے کے لیے دارالقضاء حاضر ہونے سے روکے بلکہ قاضی اس کو حکم دے گا کہ وہ اپنا ایک وکیل مقرر کرے جو اس کی طرف سے معاملے کے حل کے لیے دارالقضاء پیش ہو۔ 
وَمِنْهَا: أَنْ يَمْنَعَ ذَاتَ الْجَمَالِ وَالْمَنْطِقِ الرَّخِيمِ أَنْ تُبَاشِرَ الْخُصُومَةَ وَيَأْمُرَهَا أَنْ تُوَكِّلَ وَكِيلًا.
بعض ائمہ نے فرمایا کہ اگر دعوی کسی نوجوان عورت کے خلاف ہو جو اپنے حسن کی جلوے بکھیر رہی ہو اور اندیشہ ہو کہ اگر وہ رفع الزام میں کچھ بولے تو اس کی گفتگو اس کی محبت کا اسیر بنا دے گی تو ایسے میں قاضی اس عورت کے لیے کسی وکیل کے مقرر کرنے کا حکم دے گا اور دوسرے فریق کو کوئی حق نہیں ہوگا کہ وہ اس پری رخ کو قاضی کے حکم دینے کے بعد مجلس قضاء میں زبردستی لے آئے اور اگر بالمشافہ اس سے بات کرنے کی ضرورت ہو تو قاضی اس کی طرف کسی اپنے نائب کو بھیجے گا دراں حالیکہ وہ ماہ رخ اپنے گھر میں رہے گی اور وہ وکیل و نائب پردے کے پیچھے سے اسے مخاطب کرے گا جس کو قاضی نے اس کی طرف بھیجا ہے مگر وہ نائب ان آدمیوں میں سے ہو جو اپنے دین میں محفوظ ہو اگر قاضی کو اس طرح اس کی طرف کسی بھیجنے کی ضرورت پڑے تو قاضی ایسا ہی کرے گا۔ 
قَالَ بَعْضُ الْأَئِمَّةُ: إذَا كَانَتْ الدَّعْوَى عَلَى امْرَأَةٍ شَابَّةٍ لَهَا جَمَالٌ وَيَخَافُ عَلَيْهَا إنْ تَكَلَّمَتْ أَنْ يُؤَدِّيَ سَمَاعُ كَلَامِهَا إلَى الشَّغَفِ بِهَا فَإِنَّهَا تُؤْمَرُ بِأَنْ تُوَكِّلَ، وَلَا يَكُونُ مِنْ حَقِّ الْخَصْمِ أَنْ يَأْتِيَ بِهَا إلَى مَجْلِسِ الْقَاضِي، وَإِنْ اُحْتِيجَ إلَى أَنْ يَبْعَثَ إلَيْهَا وَهِيَ بِدَارِهَا تُخَاطِبُ مِنْ وَرَاءِ سِتْرِهَا مَنْ بَعَثَهُ الْقَاضِي إلَيْهَا مِمَّنْ يُؤْمَنُ فِي دِينِهِ فَعَلَ.
اور انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ جب قاضی سے قرض کی ادائیگی کا سوال کیا جائے تو قاضی قرضدار کو بلائے گا اگر وہ شہر میں ہو یا اس کے قرب و جوار میں ہو اگر وہ دور ہو تو پھر قاضی اس کو بلانے کے لیے کسی کو حکم نہ دے گا یہاں تک کہ اس کا جائے وقوع راجح ہو جائے کہ وہ کہاں ہے اگرچہ ایک ہی گواہ کی خبر سے ہو ایک گواہ کی خبر بھی قاضی یہاں اس سلسلے میں قبول ہوگی۔ 
وَمِنْهَا: أَنْ يُجِيبَ الْغَرِيمَ إذَا سَأَلَهُ رَفْعَ غَرِيمِهِ إنْ كَانَ فِي الْمِصْرِ أَوْ فِيمَا قَرُبَ مِنْهُ، فَإِذَا كَانَ بَعِيدًا لَمْ يُؤْمَرْ بِرَفْعِهِ حَتَّى يَتَرَجَّحَ جَانِبُهُ وَلَوْ بِإِخْبَارِ شَاهِدٍ.
انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ جب کوئی فریق نا پسندی کا طعنہ دے قاضی کو اس طور پر کہ وہ قاضی سے کہے کہ تم نے مجھ پر ظلم کیا اور وہ اس سے ارادہ کرے قاضی کو تکلیف پہنچانے کا تو قاضی اس کو تعزیر کرے گا یعنی سزا دے گا اگر قاضی اہل فضل میں سے ہو اور اس جیسے گناہ میں سزا دینا یہ زیادہ بہتر ہے یہ تو حکم تھا جب کوئی فریق طعنہ دے کر قاضی کو تکلیف پہنچائے اگر صراحتاً قاضی کو تکلیف پہنچائے تو پھر فقہاء کا ظاہری کلام یہ ہے کہ قاضی پر ضروری ہے کہ برا بھلا کہنے والے پر تادیبی کاروائی کر کے سزا دے۔ 
وَمِنْهَا: إذَا لَمَزَهُ أَحَدُ الْخَصْمَيْنِ بِمَا يَكْرَهُ فَقَالَ لَهُ ظَلَمْتنِي وَأَرَادَ أَذَاهُ فَلْيُعَزِّرْهُ إنْ كَانَ الْقَاضِي مِنْ أَهْلِ الْفَضْلِ، وَالْعُقُوبَةُ فِي مِثْلِ هَذَا أَمْثَلُ مِنْ الْعُقُوبَةِ، وَهَذَا فِي اللَّمْزِ وَأَمَّا إذَا صَرَّحَ بِالْإِسَاءَةِ عَلَى الْقَاضِي فَظَاهِرُ كَلَامِهِمْ يَجِبُ تَأْدِيبُ الْقَائِلِ.
انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ جب دو فریق قاضی کے قریب آ جائیں تو قاضی ان دونوں سے پوچھے گا یہی عادل قاضیوں کی علامت ہے ان کی شان ہے اسی کی طرف امام خصاف رحمت اللہ تعالی علیہ کا میلان ہے۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ إذَا أَدْلَى بِهِ الْخَصْمَانِ يَسْأَلُهُمَا، وَهُوَ شَأْنُ حُكَّامِ الْعَدْلِ وَإِلَيْهِ ذَهَبَ الْخَصَّافُ.
بعض فقہاء نے فرمایا کہ قاضی کو اختیار ہے اگر وہ چاہے تو خاموش رہے اور ان دونوں سے کوئی سوال نہ کرے یہاں تک کہ ان میں سے کوئی از خود بات شروع کرے اور وہ قاضی سے جواب چاہے کسی بات کا اور اگر قاضی چاہے تو ان دونوں سے سوال تثنیہ کے صیغہ کے ساتھ سوال کرے یعنی ایک کے بجائے دونوں کو مخاطب بنا کر کہے گا تم دونوں کا کیا مسئلہ ہے؟ یا تم دونوں کو کون سی حاجت یہاں لے آئی یہی درست مذہب ہے جیسا کہ محیط برہانی میں مذکور ہے
وَقَالَ بَعْضُهُمْ: هُوَ بِالْخِيَارِ إنْ شَاءَ سَكَتَ عَنْهُمَا حَتَّى يَنْطِقَ أَحَدُهُمَا وَيَسْتَدْعِيَ مِنْ الْقَاضِي الْجَوَابَ، وَإِنْ شَاءَ سَأَلَهُمَا جَمِيعًا بِلَفْظِ التَّثْنِيَةِ فَقَالَ: مَالَكُمَا أَوْ مَا حَاجَتُكُمَا وَهُوَ الْمَذْهَبُ، " كَذَا فِي الْمُحِيطِ ".
جبکہ امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ قاضی فریقین سے نہیں پوچھے گا جب وہ فریقین قاضی کے ہاں داخل ہو جائیں کہ ان میں سے کون مدعی ہے بلکہ قاضی خاموش رہے گا یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک کلام کی ابتداء کرے اور قاضی ان میں سے کسی ایک کو خاص کر کے سوال نہ کرے اس لیے کہ ان میں سے کسی ایک سے قاضی کا سوال کرنا یہ قاضی کا اس کے ساتھ عنایت و شفقت کا معاملہ کرنا بتلاتا ہے اور دوسرے فریق کو چھوڑ کر اس کی قاضی کے یہاں مقبولیت کی غمازی کرتا ہے جبکہ قاضی دونوں فریق کے درمیان انصاف کرنے پر بحکم شرع مامور ہے ان دونوں کا قاضی کے پاس داخل ہونے میں پس قاضی ان میں سے کسی کو اجازت نہ دے گا دوسرے فریق سے پہلے داخل ہونے کی، اسی طرح قاضی مامور ہے فریقین کے درمیان انصاف کرنے پر دونوں فریق کا مجلس قضاء سے باہر نکلنے میں اس لیے ان میں سے کسی ایک کو دوسرے فریق سے پہلے نا نکالے، اسی طرح قاضی دونوں فریق کی طرف دیکھنے، دونوں کی طرف توجہ کرنے، دونوں کے ساتھ کلام کرنے میں انصاف پر مامور ہے لہذا جب داخل ہونے کی اجازت دے تو دونوں کو دے جب مجلس قضاء سے نکالے تو دونوں کو نکالے، دونوں کی طرف دیکھے گا، دونوں کی طرف توجہ کرے گا دونوں کے ساتھ ہم کلام ہوگا۔ 
وَقَالَ مَالِكٌ: إنَّهُ لَا يَسْأَلُ الْخَصْمَيْنِ إذَا دَخَلَا عَلَيْهِ مَنْ الْمُدَّعِي مِنْهُمَا، بَلْ يَسْكُتُ حَتَّى يَبْدَأَ أَحَدُهُمَا بِالْكَلَامِ، وَلَا يَخُصُّ أَحَدَهُمَا بِسُؤَالٍ، فَإِنَّ سُؤَالَ أَحَدِهِمَا يُشْعِرُ بِعِنَايَةِ الْقَاضِي بِهِ وَقَبُولِهِ عَلَيْهِ دُونَ خَصْمِهِ، وَالْقَاضِي مَأْمُورٌ بِالْعَدْلِ بَيْنَهُمَا فِي مَدْخَلِهِمَا إلَيْهِ فَلَا يَأْذَنُ لِأَحَدِهِمَا قَبْلَ الْآخَرِ، وَفِي مَخْرَجِهِمَا عَنْهُ فَلَا يَصْرِفُ أَحَدَهُمَا قَبْلَ الْآخَرِ، وَفِي لَحْظِهِ وَقَبُولِهِ بِوَجْهِهِ عَلَيْهِمَا، وَفِي كَلَامِهِ لَهُمَا.

تحقیق کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس مہمان آیا اور ان سے جھگڑنے لگا تو حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے مہمان کو گھر سے نکلنے کا حکم دیا
وَقَدْ نَزَلَ ضَيْفٌ بِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ فَخُوصِمَ عِنْدَهُ، فَأَمَرَ ضَيْفَهُ أَنْ يَتَحَوَّلَ عَنْهُ مِنْ مَنْزِلِهِ.
اور جب ہم نے کہا کہ فریقین خود سوال کرکے ابتداء کریں گے پس اگر ان میں سے ہر ایک نے کہا کہ میں مدعی نہیں ہوں تو قاضی دونوں کو اپنے سامنے سے اٹھا دے گا یہاں تک کہ ان میں سے کوئی ایک دوسرے فریق کو لے کر ائے گا اور وہی لانے والا مدعی ہوجائے، پس اگر انہوں نے پھر جھگڑا کیا اس میں کہ کون مدعی ہے تو قاضی لانے والے میں غور کرے اگر قاضی نہ پہچان پائے ان کو کہ کون مدعی ہے اور نہ کسی ایک کے لیے گواہ قائم ہوسکے اس بات پر کہ یہی ہے جو دوسرے کو قاضی کے پاس لے کر آیا یعنی جالب کا گواہوں کے ذریعے بھی معلوم نہ ہو سکا، تا قاضی ان کو لوٹنے کا حکم دے گا، پس جو معاملہ کو چھونا چاہے اور راہ چلتا بنے وہ مدعی علیہ ہوگا اور جو انکار کرے گا محاکمہ و معاملہ کو چھوڑ کر جانے سے یعنی بہر صورت قاضی کے پاس معاملہ حل کرانا چاہے وہی مدعی ہوگا، کیوں کہ حاجت والا ہی عدالت کا در کھٹکھٹاتا ہے، انصاف کا شاہ نے والا ہی مدعی بن کر عدالت کے پھیرے لگاتا ہے اس لیے جو معاملہ قاضی سے حل کرانا چاہے گا وہی بظاہر مدعی ہو سکتا ہے،اگر پھر بھی پتہ نہ چلے پھر بھی وہ جھگڑا کریں تو پھر قاضی ان کے درمیان قرعہ اندازی کرے گا۔ 
وَإِذَا قُلْنَا: إنَّهُ يَبْدَؤُهُمَا بِالسُّؤَالِ فَإِنْ قَالَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا: لَسْت مُدَّعِيًا أَقَامَهُمَا حَتَّى يَأْتِيَ أَحَدُهُمَا بِخَصْمِهِ فَيَكُونُ هُوَ الطَّالِبَ، فَإِنْ تَنَازَعَا فِيمَنْ هُوَ الْمُدَّعِي نُظِرَ إلَى الْجَالِبِ، فَإِنْ لَمْ يَعْرِفْهُ أَوْ لَمْ تَقُمْ بَيِّنَةٌ لِأَحَدِهِمَا أَنَّهُ هُوَ الَّذِي دَعَا صَاحِبَهُ إلَى الْحَاكِمِ أَمَرَهُمَا بِالِانْصِرَافِ، فَمَنْ أَبَى إلَّا الْمُحَاكَمَةَ فَهُوَ الْمُدَّعِي، فَإِنْ تَنَازَعَا مَعًا أَقْرَعَ بَيْنَهُمَا.
انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ قاضی مدعی علیہ سے قسم نہ لے گا جب وہ انکار کرے بلکہ مدعی کی اجازت سے مدعی علیہ سے قسم لے گا کیونکہ اصل حکم یہی ہے کہ جب مدعی گواہ قائم نہ کر سکے اور مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کرے تب قاضی مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کرے، ہاں مگر جب حالات ایسے ہوں جو دلالت کرتے ہوں اس بات پر کہ مدعی بزبان حال قاضی کو مدعی علیہ سے قسم لینے کی اجازت دے رہا ہے تو ایسے میں قاضی از خود مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّ الْقَاضِيَ لَا يَسْتَحْلِفُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ إذَا أَنْكَرَ إلَّا بِإِذْنِ الْمُدَّعِي، إلَّا أَنْ يَكُونَ مِنْ شَاهِدِ الْحَالِ مَا يَدُلُّ عَلَى أَنَّهُ أَرَادَ تَحْلِيفَهُ مِنْ الْقَاضِي.
بعض قاضیوں کے بارے میں منقول ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے پر تیس دینار کا دعوی کیا کا مدعی علیہ نے انکار کیا کہ مجھ پر کوئی قرض نہیں ہے تو قاضی نے جب مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کیا تو مدعی نے قاضی سے کہا کہ میں نے تو آپ کو اجازت نہیں دی تھی کہ آپ مدعی علیہ سے قسم لو اور میں قسم کھلانے پر راضی بھی نہیں اس لیے دوبارہ قسم لینا ضروری ہے کیوں کہ درست مسئلہ یہی ہے کہ جب مدعی قسم کا مطالبہ کرے تب مدعی علیہ سے قسم کھلوائی جائے گی، چناں چہ قاضی نے اپنی غلام کو حکم دیا کہ وہ مدعی علیہ کی جانب سے مدعی کو اپنے (قاضی) کے مال میں سے تیس دینار دے قاضی کا اس بات کو ناپسند کرتے ہوئے کہ وہ مدعی علیہ سے دوبارہ قسم لے جس کا تقاضا وہ پہلے کر چکا تھا، ہاں جب قاضی مدعی علیہ سے قسم لے گا تو مدعی کا حاضر ہونا ضروری ہے یا اس کے وکیل کا حاضر ہونا مجلس قضاء میں ضروری ہے۔ 
وَقَدْ ذُكِرَ عَنْ بَعْضِ الْقُضَاةِ أَنَّ رَجُلًا ادَّعَى عَلَى آخَرَ بِثَلَاثِينَ دِينَارًا فَأَنْكَرَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، فَاسْتَحْلَفَهُ الْقَاضِي فَقَالَ الطَّالِبُ: لَمْ آذَنْ فِي هَذَا الْيَمِينِ وَلَمْ أَرْضَ بِهَا. وَلَا بُدَّ أَنْ تُعَادَ الْيَمِينُ، فَأَمَرَ الْقَاضِي غُلَامَهُ أَنْ يَدْفَعَ عَنْ الْمَطْلُوبِ مِنْ مَالِهِ ثَلَاثِينَ دِينَارًا كَرَاهَةَ أَنْ يُكَلِّفَهُ إعَادَةَ الْيَمِينِ الَّتِي قُضِيَ عَلَيْهِ بِهَا، وَإِذَا اسْتَحْلَفَهُ فَلَا بُدَّ مِنْ حُضُورِ الْمَحْلُوفِ لَهُ أَوْ وَكِيلِهِ.
اور انہی لازمی امور میں سے ہے کہ جب مدعی دعوی کرے تو قاضی مدعی علیہ کو مجلس قضاء میں مکلف بنائے گا کہ وہ اس کو جواب دے دے چناں چہ اگر قاضی مدعی کے دعوے کو پوری طرح سمجھ گیا ہو اور اس کے دعوے کو قاضی کا علم پوری طرح ہر زاویہ سے احاطہ کر چکا ہو اور اگر دعویٰ میں کوئی اشکال ہو یا کوئی خواہ مخواہ کی لمبی درازگی ہو تو قاضی ان کو اسی پیچیدگی کے حساب سے ایک مدت تک مہلت دے گا۔ 
وَمِنْهَا إذَا ذَكَرَ الْمُدَّعِي دَعْوَاهُ كَلَّفَ الْخَصْمَ الْجَوَابَ عَنْهَا مَكَانَهُ إنْ فَهِمَهَا وَأَحَاطَ بِهَا عِلْمًا، وَإِنْ كَانَ فِيهَا إشْكَالٌ أَوْ طُولٌ أُمْهِلَ بِحِسَابِ ذَلِكَ.
اور انہی لازمی امور میں سے ہے جب فریق اقرار کرے تو قاضی اس کے اقرار کو لکھے گا اور پھر اس کے رقعے میں تاریخ ڈالے گا اور مقر کو حکم دے گا اس چیز کے حاضر کرنے کا یا اس چیز کے لوٹانے کا مدعی علیہ مقر لہ کو جس کا اس نے اقرار کیا ہے اور جو اس پر اقرار سے واجب ہو چکا ہے۔ 
وَمِنْهَا: إذَا أَقَرَّ الْخَصْمُ كَتَبَ إقْرَارَهُ وَالتَّارِيخَ فِي رُقْعَةٍ وَأَمَرَ الْمُقِرَّ بِالْخُرُوجِ عَمَّا وَجَبَ عَلَيْهِ بِإِقْرَارِهِ.
انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ قاضی کے لیے مستحب ہے کہ وہ فریقین کے احوال کی نگہداشت کرے اور ان کی احوال پر خوب غور کرے فریقین کے دلائل اور دعویٰ حقوق کے ادائیگی کے وقت،پس اگر وہ فریقین میں سے کسی ایک کے دعوے یا جواب دعوی میں کوئی علامت پائے اور قاضی کو معلوم ہو کہ اس کے دعوے میں کوئی شبہ ہے وہ کوئی بات چھپا رہا ہے یا قاضی اس کو دعویٰ باطلہ کے ساتھ متہم کرے ہاں اگر اس کی دلائل ظاہر میں درست اور حق بجانب ہوں اور وہ حق کتاب جو اس کے ہاتھ میں ہو ( نامہ) وہ موافق ہو اس کے ظاہری دعوی کے پھر بھی قاضی باریکی سے چھان بین کرے گا اور تحقیق کرے گا اس حقیقت کی جس کے ساتھ قاضی اسے متہم کر رہا ہے اس لیے کہ فی زماننا لوگوں کی دھوکہ دہی بڑھ چکی ہے، اور وہ امانت داری سے ہاتھ دھو چکے ہیں، اگر قاضی پر تحقیق کے بعد بھی مدعی کے دعویٰ میں کمی واضح نہ ہو جو کمی اس میں تھی تو بہتر ہے کہ قاضی انہیں نصیحت کرے اگر نصیحت ان کے حق میں بہتر ہو اور ان کو اللہ کا سبحانہ و تعالی کا خوف دلائے اور ان کو نصیحت کرے اللہ تبارک و تعالی کے قول سے کہ تم ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے نہ کھاؤ، پس اگر وہ اپنی غلطی سے رجوع کریں گے اپنے غلطی تسلیم کر کے سدھاریں گے تو ٹھیک وگرنہ قاضی ظاہر پر حکم دیتے ہوئے فیصلہ کر لے گا اور اگر چھان بین کے وجہ سے قاضی کے شبہات میں بجائے دور ہونے کے مزید اضافہ ہوا تو قاضی نکل جائےاور ایک والی ان پر مقرر کرے جو ان کے معاملہ کی تحقیق کرے اور ان کو چند ایام کے لیے لوٹا دے گا اور پختہ شبہ کے ساتھ ان کے درمیان حکم دینے میں جلدی بازی سے کام نہ لے بلکہ قاضی اپنی مقدور بھر کوشش کرے یہاں تک کہ اس دعویٰ میں معاملہ کی حقیقت واضح ہو جائے، یا اس سے شبہ بالکلیہ ختم ہو جائے۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ لِلْقَاضِي أَنْ يُرَاقِبَ أَحْوَالَ الْخُصُومِ عِنْدَ الْأَدَاءِ بِالْحُجَجِ وَدَعْوَى الْحُقُوقِ، فَإِنْ تَوَسَّمَ فِي أَحَدِ الْخَصْمَيْنِ أَنَّهُ أَبْطَنُ شُبْهَةً أَوْ اتَّهَمَهُ بِدَعْوَى الْبَاطِلِ إلَّا أَنَّ حُجَّتَهُ فِي الظَّاهِرِ مُتَّجِهَةٌ وَكِتَابَ الْحَقِّ الَّذِي بِيَدِهِ مُوَافِقٌ لِظَاهِرِ دَعْوَاهُ فَلْيَتَلَطَّفْ الْقَاضِي فِي الْفَحْصِ وَالْبَحْثِ عَنْ حَقِيقَةِ مَا تَوَهَّمَ فِيهِ، فَإِنَّ النَّاسَ الْيَوْمَ كَثُرَتْ مُخَادَعَتُهُمْ وَتُرِکَتْ أَمَانَتُهُمْ، فَإِنْ لَمْ يَنْكَشِفْ لَهُ مَا يَقْدَحُ فِي دَعْوَاهُ فَحَسَنٌ أَنْ يَتَقَدَّمَ إلَيْهِ بِالْمَوْعِظَةِ إنْ رَأَى لِذَلِكَ وَجْهًا، وَيُخَوِّفُهُ اللَّهَ (سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى) ، وَيُذَكِّرُهُ قَوْله تَعَالَى {وَلا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ} [البقرة: ١٨٨] فَإِنْ أَنَابَ وَإِلَّا أَمْضَى الْحُكْمَ عَلَى ظَاهِرِهِ، وَإِنْ تَزَايَدَتْ عِنْدَهُ بِسَبَبِ الْفَحْصِ عَنْ ذَلِكَ شُبْهَةٌ فَلْيَقِفْ وَيُوَالِي الْكَشْفَ وَيُرَدِّدْهُ الْأَيَّامَ وَنَحْوَهَا، وَلَا يَعْجَلُ فِي الْحُكْمِ مَعَ قُوَّةِ الشُّبْهَةِ، وَلْيَجْتَهِدْ فِي ذَلِكَ بِحَسَبِ قُدْرَتِهِ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُ حَقِيقَةُ الْأَمْرِ فِي تِلْكَ الدَّعْوَى أَوْ تَنْتَفِي عَنْهُ الشُّبْهَةُ.
انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ مناسب ہے قاضی کے لیے کہ وہ فریقین کو نصیحت کرے اور ان کو بتلائے کہ جو جھوٹا دعوی کرے گا تو اللہ کی ناراضگی میں اپنے آپ کو جھونک دے گا اور جو جھوٹی قسم کھائے تاکہ اپنی بھائی کے مال کو ناحق ہڑپ لے تو چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنائے اور گواہوں کو بھی نصیحت کرے جیسا کہ حضرت شریح رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ وہ کہتے تھے اس شخص سے جو ان کے یہاں گواہی دیتا کہ تم اس مسلمان پر فیصلہ کرو گے اپنی گواہی کے ذریعے سے اور میں تمہیں جہنم کی آگ سے بچانے کی کوشش کر رہا ہوں چاہیے کہ تم اللہ اور اس کی آگ سے ڈرو! جھوٹی گواہی دینے سے بچو! 
وَمِنْهَا: يَنْبَغِي لِلْقَاضِي مَوْعِظَةُ الْخَصْمَيْنِ وَتَعْرِيفُهُمَا بِأَنَّ مَنْ خَاصَمَ فِي بَاطِلٍ فَإِنَّهُ خَائِضٌ فِي سَخَطِ اللَّهِ، وَمَنْ حَلَفَ لِيَقْتَطِعَ مَالَ أَخِيهِ بِيَمِينٍ فَاجِرَةٍ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ، وَيَعِظُ الشُّهُودَ أَيْضًا، كَمَا رُوِيَ عَنْ شُرَيْحٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ لِمَنْ شَهِدَ عِنْدَهُ: إنَّمَا يَقْضِي عَلَى هَذَا الْمُسْلِمِ أَنْتُمَا بِشَهَادَتِكُمَا، وَإِنِّي مُتَوَقٍّ بِكُمَا مِنْ النَّارِ، فَاتَّقِيَا اللَّهَ وَالنَّارَ.
انہی لازمی امور میں سے یہ ہے مناسب ہے قاضی کے لیے کہ وہ گواہوں کو آسانی سے آنے کی اجازت دے یعنی ان کے ساتھ نرم برتاؤ کرے اور ان کے ساتھ ٹال مٹول نہ کرے اور ان کو طول نہ دے یعنی متعدد بار تاریخ مقرر کر ان کو بلائے کہ وہ بکھر جائیں اور پھر ان کا جمع کرنا مشکل ہو جائے اور بسا اوقات یہ گواہوں کے غلط رویہ و تند خوئے صاحب حق کے لیے زچ و تنگی کا باعث بنتا ہے اور اس سبب سے وہ کبھی کبھی اپنا حق ہی چھوڑ دیتا ہے یا بعض حق چھوڑ جاتا ہے یعنی جو پوری چیز کا حق دار تھا لیکن اس کے ساتھ سخت رویہ کی وجہ سے اس کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے سے وہ مصالحت کر کے اپنے لیے آدھے حق پر راضی ہوتا ہے، اس لیے کہ وہ اپنے لیے بے وجہ مشقت پاتا ہے اس لیے یا تو وہ حق چھوڑ جاتا ہے یا بعض حق۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَنْبَغِي أَنْ يُسَهِّلَ إذْنَ الْبَيِّنَاتِ وَلَا يُمَطِّلُهُمْ فَيَتَفَرَّقُوا فَيَعْسُرُ جَمْعُهُمْ، وَرُبَّمَا أَدَّى إلَى ضَجَرِ صَاحِبِ الْحَقِّ، فَيَتْرُكُ حَقَّهُ أَوْ بَعْضَهُ بِالْمُصَالَحَةِ عَنْهُ لِمَا يُدْرِكُهُ مِنْ الْمَشَقَّةِ.
بقول مصنف میرے بعض شیوخ فرماتے تھے کہ اسی لیے ہم نے دیکھا بعض قاضیوں کو وہ مجلس قضاء لگتے ہی ابتداء میں گواہوں کو داخل ہونے کا حکم دیتے تھے اور ان کی گواہی سنتے تھے اور میرے شیخ نے فرمایا کہ مجھ سے کہا جو میرے پاس آیا کہ صاحب علم تھا کہ فلاں ابن فلاں جب اس کو جھگڑے کی آزمائش آئی اور معاملہ عدالت میں دائر ہوا تو وہ فلاں بعد میں کہا کرتے تھے کہ پہاڑ کا نقل کرنا اس کے نزدیک آسان ہے گواہ کے نقل کرنے سے یعنی گواہوں کا پیش کرنا بہت مشکل کام ہے کوئی گواہی دینے کے لیے تیار نہیں ہوتا اس لیے اگر کسی کے گواہ پیش ہوئے تو ان کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ اس گواہ ڈانٹ لیا جائے یا متنفر کر دیا جائے اور وہ گواہی دینے کے لیے پھر تیار نہ ہو جائے، اس سے صاحب حق کا حق بے وجہ مارا جائے گا اس لیے جب گواہان حاضر ہو جائیں تو قاضی ان کے ساتھ موانست کا معاملہ کرے اور ان کو قریب کرے خوش اخلاقی و خندہ پیشانی سے ان کے ساتھ پیش آئے یہ صحیح ہے کہ قاضی کو بغیر غصہ کے ترش رو اور چہرہ بظاہر ہیبت ناک ہونا چاہے لیکن اخلاق کا دامن ہرگز نہ چھوڑے، گفتگو میں سلیقہ اور فریقین و شہود کے کلام پر بردباری کا اظہار سے قاضی کبھی خود کو بے نیاز نہ سمجھے،بعض قضاۃ بات بات پر ڈانٹ ڈپٹ کرتے رہتے ہیں اور بعض قضاۃ عہدہ قضاء سنبھالنے کے بعد ہنسنا مسکرانا ہی چھوڑ دیتے ہیں کیوں کہ فریقین میں بعض لوگ صاحب فضل اور اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں بس وہ کسی مجبور کی وجہ سے دار القضاء آنے کی آزمائش سے گذرتے ہیں اور انہیں دار القضاء کے آداب پتہ نہیں ہوتے ہیں وہ قاضی کی بد کلام بے وجہ غضب سے متنفر ہوتے ہیں،خیر جب گواہان حاضر ہو جائیں تو قاضی ان سے ان کی شہادت کے بارے میں پوچھے گا اگر ان کی شہادت تام ہو تو اسے لکھ لے گا اور اگر ناقص ہو تو ان سے بقیہ شہادت کے بارے میں پوچھے گا کہ شہادت مکمل کرو اور اگر مجمل ہو تو قاضی اس کی تفسیر کا سوال کرے گا اور اگر گواہی قابل کارروائی نہ ہو تو قاضی ان کی شہادت سے اچھی طرح سے اعراض کرے، مدعی کو بتائے کہ وہ کسی چیز کو نہیں لے کر آیا ہے یعنی اس کی گواہی ناقص ہے اس لیے اسے گواہ دوبارہ لانے پڑیں گے۔ 
وَقَالَ بَعْضُ أَشْيَاخِي: وَلِهَذَا رَأَيْت بَعْضَ الْقُضَاةِ يَأْمُرُ أَوَّلَ جُلُوسِهِ بِإِدْخَالِ الْبَيِّنَةِ وَيَسْمَعُ مِنْهَا قَالَ: وَقَدْ قَالَ لِي مَنْ حَضَرَنِي مِمَّنْ عُنِيَ بِالْعِلْمِ: كَانَ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ مِمَّنْ اُمْتُحِنَ بِالْخُصُومَةِ، وَكَانَ يَقُولُ: نَقْلُ الْجِبَالِ عِنْدَهُ أَيْسَرُ مِنْ نَقْلِ الْبَيِّنَةِ: يَعْنِي إلَى مَجْلِسِ الْحَاكِمِ، فَإِذَا حَضَرُوا آنَسَهُمْ وَقَرَّبَهُمْ وَبَسَطَهُمْ وَسَأَلَهُمْ عَنْ شَهَادَتِهِمْ، فَإِنْ كَانَتْ تَامَّةً قَيَّدَهَا، وَإِنْ كَانَتْ نَاقِصَةً سَأَلَهُمْ عَنْ بَقِيَّتِهَا، وَإِنْ كَانَتْ مُجْمَلَةً سَأَلَهُمْ عَنْ تَفْسِيرِهَا، وَإِنْ كَانَتْ غَيْرَ عَامِلَةٍ أَعْرَضَ عَنْهَا إعْرَاضًا جَمِيلًا، وَأَعْلَمَ الْمُدَّعِيَ بِأَنَّهُ لَمْ يَأْتِ بِشَيْءٍ.
اور انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ قاضی حقیر اور بے قیمت چیزوں کے بارے میں دعوی سماعت نہیں کرے گا ایسی معمولی اور حقیر چیزیں کہ عقل مند لوگ جن کے حصول کی حرص نہیں رکھتے جیسے کہ کشمش چھلکا۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَسْمَعُ الدَّعْوَى فِي الْأَشْيَاءِ التَّافِهَةِ الْحَقِيرَةِ الَّتِي لَا يَتَشَاحُّ الْعُقَلَاءُ فِيهَا كَقِشْرِ سِمْسِمَةٍ.
انہی لازمی امور میں سے ہے کہ قاضی پر واجب ہے کہ جب اس کے پاس فریقین حاضر ہوں تو وہ مدعی سے اس کے دعویٰ کے بارے میں پوچھے گا اور اس کو خوب سمجھے گا پس اگر اس کا دعوی ایسا ہو کہ اس میں مدعی علیہ پر کوئی حق لازم نہ ہوتا ہو تو وہ مدعی کو بتلائے گا کہ آپ کا دعوی کامل نہیں ہے مدعی علیہ سے کچھ نہیں پوچھے گا اور ان دونوں کو وہاں سے نکلنے کا حکم دے گا اور اگر مدعی کا دعوی ناقص ہو یا اس میں کمی ہو اس چیز کی جس سے اس کے مطلب کا واضح ہو تو قاضی صاحب اس کو دعوی مکمل کرنے کا حکم دے گا اور اگر اس کے بیان میں کوئی قابل اشکال چیز ہو تو قاضی اس کی وضاحت کا حکم دے گا پس جب دعوی صحیح ہو جائے گا اس کے بعد قاضی مدعی علیہ سے سوال کرے گا پس اگر وہ اقرار کرے یا انکار کرے تو قاضی اس معاملہ کو دیکھے گا اور اگر وہ اپنے جواب کو مبہم رکھے تو قاضی اس کو تفسیر کرنے کا حکم دے گا یہاں تک کہ وہ اشکال رفع دفع ہو جائے اور قاضی ان کی باتوں کو لکھ لے گا اگر ان میں کوئی طوالت ہو یا کوئی پوشیدگی ہو اور اگر وہ کوئی اقرب الی الفہم معاملہ ہو تو پھر لکھنے کی حاجت نہیں اور اور قضاۃ فریقین میں سے کسی کو ایسی حالت پر نہیں چھوڑتے ہیں۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَجِبُ عَلَى الْقَاضِي إذَا حَضَرَ عِنْدَهُ الْخَصْمَانِ أَنْ يَسْأَلَ الْمُدَّعِيَ عَنْ دَعْوَاهُ وَيَفْهَمُهَا عَنْهُ، فَإِنْ كَانَتْ دَعْوَى لَا يَجِبُ فِيهَا عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ حَقٌّ أَعْلَمَهُ بِذَلِكَ وَلَمْ يَسْأَلْ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ عَنْ شَيْءٍ وَأَمَرَهُمَا بِالْخُرُوجِ عَنْهُ، وَإِنْ نَقَصَ مِنْ دَعْوَاهُ مَا فِيهِ بَيَانُ مَطْلَبِهِ أَمَرَهُ بِتَمَامِهِ، إنْ أَتَى بِإِشْكَالٍ أَمَرَهُ بِبَيَانِهِ، فَإِذَا صَحَّتْ الدَّعْوَى سَأَلَ الْمَطْلُوبَ عَنْهَا، فَإِنْ أَقَرَّ أَوْ أَنْكَرَ نَظَرَ فِي ذَلِكَ، وَإِنْ أَبْهَمَ جَوَابَهُ أَمَرَهُ بِتَفْسِيرِهِ حَتَّى يَرْتَفِعَ الْإِشْكَالُ عَنْهُ، وَقَيَّدَ ذَلِكَ عَنْهُمَا إنْ كَانَ فِيهِ طُولٌ وَالْتِبَاسٌ، وَإِنْ كَانَ أَمْرًا قَرِيبًا لَمْ يَحْتَجْ إلَى تَقْيِيدِهِ، وَلَا يَدَعُ الْحُكَّامُ أَحَدَ الْخُصُومِ بِذَلِكَ.
شرح التجرید میں فرمایا کہ اگر مدعی کا دعوی صحیح ہو تو قاضی مدعی علیہ سے جواب طلب نہیں کرے گا یہی قیاس کا تقاضا ہے یہاں تک کہ مدعی مدعی علیہ سے جواب کا مطالبہ کرے تاکہ یہ کسی کشمکش پر برانگیختہ نہ کرے۔ 
قَالَ فِي شَرْحِ التَّجْرِيدِ: " فَإِنْ كَانَتْ دَعْوَاهُ صَحِيحَةً لَا يَسْأَلُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ عَنْ جَوَابِهَا فِي الْقِيَاسِ حَتَّى يَسْأَلَ الْمُدَّعِيَ مِنْهُ ذَلِكَ لِكَيْ لَا يَكُونَ تَهْيِيجًا لِلْخُصُومَةِ.
اور استحسان کا تقاضہ ہے کہ قاضی ہی مدعی علیہ سے جواب طلب کرے اس بات کے احتمال کی وجہ سے کہ مجلس قضاء ہیبت ناک ہو اور مجلس کی ہیبت مدعی کو مدعی علیہ سے سوال کرنے سے روکے اس لیے قاضی ہی مدعی علیہ کو ہاں یا نا کے ذریعے سے جواب کا مکلف بنائے گا۔ 
وَفِي الِاسْتِحْسَانِ يَسْأَلُ لِاحْتِمَالِ أَنَّ هَيْبَةَ الْمَجْلِسِ تَمْنَعُهُ، وَيُكَلَّفُ بِالْجَوَابِ بِلَا أَوْ نَعَمْ.
حضرت عیسی بن ابان رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے بارے میں منقول ہے کہ جب وہ بصرہ کے قاضی بنائے گئے اور حضرت عیسی بن ابان رحمۃ اللہ علیہ امام شافعی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے معاصرین میں سے ہیں تو ان کے دو ساتھیوں نے حضرت عیسی بن ابان کا قصد کیا اور حضرت کے پاس آئے اور یہ دونوں صاحب وہ لوگ تھے جو قاضیوں کے دروازوں کو خاص اہمیت دیتے تھے اور بھروسہ کرتے تھے تو ان میں سے ایک نے دوسرے پر کسی چیز کا دعوی کیا تو قاضی ( عیسی بن ابان) نے دوسرے سے فوراً کہا کہ مدعی کو جواب دو تو مدعی علیہ نے قاضی سے کہا کہ آپ کو کس نے اجازت دی کہ آپ مجھ سے جواب طلب کرو! آپ کا کوئی حق نہیں مجھ سے جواب طلب کرنے کا اسی طرح مدعی نے بھی قاضی سے کہا کہ ہاں ہم نے بھی آپ کو مدعی علیہ سے پوچھنے کی اجازت نہیں دی ہے کہ آپ مدعی علیہ سے جواب طلب کریں تو اس طرح قاضی صاحب یعنی عیسی بن ابان رحمۃ اللہ علیہ شرمندہ ہوئے اور انہوں نے عیسی بن ابان سے عرض کی کہ ہمارا کوئی معاملہ نہیں تھا بس ہم تو صرف اس ارادے سے آئے تھے کہ آپ کو بتلائیں کہ علم میں ہمارا مقام کیا ہے یعنی آپ کو سمجھائیں کہ آپ کو کس طرح سے فیصلہ کرنا ہے آپ کو مدعی علیہ سے جواب طلب نہیں کرنا جب تک کہ مدعی اس کی درخواست نہ کرے۔ 
وَقَدْ ذُكِرَ أَنَّ عِيسَى بْنَ أَبَانَ لَمَّا وَلِيَ قَضَاءَ الْبَصْرَةِ وَهُوَ مِمَّنْ عَاصَرَ الشَّافِعِيَّ " - رَحِمَهُ اللَّهُ - "، قَصَدَهُ أَخَوَانِ كَانَا مِمَّنْ يَتَوَكَّلَانِ فِي أَبْوَابِ الْقُضَاةِ فَادَّعَى أَحَدُهُمَا عَلَى الْآخَرِ بِشَيْءٍ، فَقَالَ الْقَاضِي لِلْآخَرِ: أَجِبْهُ فَقَالَ لَهُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ: وَمَنْ أَذِنَ لَك أَنْ تَسْتَدْعِيَ مِنِّي الْجَوَابَ؟ فَقَالَ لَهُ الْمُدَّعِي: لَمْ آذَنْ لَك فِي ذَلِكَ، فَوَجَمَ الْقَاضِي، فَقَالَ لَهُ: إنَّا أَرَدْنَا نُعْلِمُك مَكَانَنَا مِنْ الْعِلْمِ.
بعض علماء نے فرمایا یہ ایسا مناقشہ اور ایسا جھگڑا ہے جس کے تحت میں کوئی فائدہ نہیں اس لیے کہ عادت اور شواہد حال سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ مدعی علیہ کا حاضر کرنا اور اس پر دعوی کرنا یہ چیز قاضی کا زبان سے سوال کرنے سے بے نیاز کر دیتی ہے گویا قاضی کو سوال کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی ہے اور اگر قاضی سوال کرے گا بھی تو عادتا اور عرفا یہی ہوتا ہے کہ قاضی ہی سوال کرتا ہے اس لیے اس جھگڑے میں پڑنا کہ جب مدعی نے دعوی کیا تو مدعی علیہ سے قاضی نہیں پوچھے گا قاضی کو حق نہیں بنتا پوچھنے کا یہ بالکل فی زماننا درست نہیں ہے۔ 
قَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ: وَهَذِهِ مُنَاقَشَةٌ لَيْسَ تَحْتَهَا كَبِيرُ فَائِدَةٍ؛ لِأَنَّ الْمَفْهُومَ مِنْ جِهَةِ الْعَوَائِدِ وَشَوَاهِدِ الْحَالِ أَنَّ إحْضَارَ الْخَصْمِ وَالدَّعْوَى عَلَيْهِ تُغْنِيه عَنْ النُّطْقِ بِسُؤَالِ الْقَاضِي.
اصل بات تو یہ ہے کہ قاضی پر ضروری نہیں کہ وہ واقفیت و جانکاری حاصل کرے مدعی علیہ کی باتوں سے مدعی کی اجازت کے بغیر لیکن عادتاً اس طرح کے دعاوی میں یہی ہوتا ہے کہ قاضی کا سوال مدعی کے سوال کے قائم مقام ہوتا ہے یعنی اگر مدعی نے زبان سے قاضی کو اجازت بھی نہ دی ہو کہ آپ مدعی علیہ سے میرے لیے پوچھئے! جب بھی قاضی از خود پوچھ سکتا ہے کیونکہ زبان حال سے عادتا ایسے معاملات میں اجازت ہی اجازت ہوتی ہے اور یہی ظاہر ہے علماء مذہب کے نزدیک اور یہ زبان حال سے اجازت کا حصول ان چیزوں میں سے ہے جو استحسان کی دلیل کو تقویت بخشتے ہیں جس استحسان کی وجہ کو ہم نے ذکر کیا تھا کہ استحساناُ قاضی مدعی علیہ سے پوچھ سکتا ہے اور یہ کہ قاضی کے لیے درست ہے کہ وہ مدعی علیہ سے پوچھے اگرچہ مدعی نے قاضی کو نہیں بتایا ہو کہ آپ مدعی علیہ سے جواب طلب کیجئے کیوں کہ شواہد حال پر اکتفا کرتے ہوئے قاضی کے لیے ایسا کرنا جائز ہے اور یہی معلوم بھی ہوتا ہے کہ مدعی کی مراد بھی یہی ہے اگرچہ اس نے زبان قال سے نہیں کہالیکن زبان حال سے کہا ہے۔ 
وَالْأَصْلُ أَنَّهُ لَا يَجِبُ عَلَى الْقَاضِي اسْتِعْلَامُ مَا عِنْدَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ دُونَ إذْنٍ مِنْ الْمُدَّعِي، لَكِنَّ الْعَادَةَ فِي مِثْلِ هَذَا تَقُومُ مَقَامَ سُؤَالِ الْقَاضِي، وَهَذَا هُوَ الظَّاهِرُ مِنْ مَذَاهِبِ الْعُلَمَاءِ، وَهَذَا مِمَّا يُقَوِّي وَجْهَ الِاسْتِحْسَانِ الَّذِي ذَكَرْته عَنْ التَّجْرِيدِ، وَأَنَّ لِلْقَاضِي أَنْ يَسْأَلَهُ وَإِنْ لَمْ يَقُلْ الْمُدَّعِي لِلْقَاضِي سَلْهُ لِي الْجَوَابَ اكْتِفَاءً بِشَاهِدِ الْحَالِ وَمَعْلُومٌ أَنَّ ذَلِكَ مُرَادُ الْمُدَّعِي وَإِنْ لَمْ يَنْطِقْ بِهِ.
اور انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ جب قرض دار پر قرض خواہ دعوی کرے قرض کی ادائیگی کا اور قرض دار قرض خواہ کو جواب نہ دے اور حاضر نہ ہو تو قاضی اس کے خلاف تادیبی کاروائی کر سکتا ہے اور اس کو مار بھی سکتا ہے اگر قاضی عادل ہو پس اگر وہ قرض دار غائب ہو گیا تو قاضی اس کے حاضر کرنے میں سختی سے کام لے اور قاصد کی اجرت وہ مدعی پر ہی ہوگی مدعی علیہ کو لانے میں یعنی قرض دار کو لانے میں، حاضر کرنے میں جو قاصد کی اجرت آئے گی وہ مدعی اپنی جیب سے دے گا ہاں اگر مدعی علیہ غائب ہو جائے اور اس کی طرف سے انکار واضح ہو جائے اور دار القضاء سے رجسٹری اطلاع جانے پر وہ عدم پیروی کا مطظاہرہ کرے تو چونکہ اب غلطی مدعی علیہ کی ہے اس لیے اب کے بار بطور زجر و سزا اجرت مدعی علیہ پر ہوگی یہ مسئلہ پہلے بھی آ چکا ہے کہ اصل بات تو یہ ہے کہ اجرت بہر صورت مدعی پر ہونی چاہیے تھی مدعی علیہ پر نہیں ہونی چاہیے لیکن اگر مدعی علیہ سے جھگڑا ظاہر ہو جائے اور وہ آنے سے انکار کر دے تو زجراً اب مدعی علیہ پر اجرت آئے گی جبکہ بعض فقہاء نے فرمایا کہ مدعی علیہ پر کوئی چیز لازم نہیں البتہ پہلا قول ہی راجح ہے علماء فقہاء کے نزدیک۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّ الْغَرِيمَ إذَا ادَّعَى غَرِيمُهُ فَلَمْ يُجِبْهُ أَدَّبَهُ وَجَرَحَهُ إنْ كَانَ عَدْلًا، فَإِنْ تَغَيَّبَ شَدَّدَ الْقَاضِي عَلَيْهِ فِي الطَّلَبِ، وَأُجْرَةُ الرَّسُولِ عَلَى الطَّالِبِ، فَإِنْ تَغَيَّبَ الْمَطْلُوبُ وَتَبَيَّنَ لَدَدُهُ فَالْأُجْرَةُ عَلَيْهِ وَقَالَ قَوْمٌ: لَا يَلْزَمُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ شَيْءٌ، وَالْمُرَجَّحُ عِنْدَهُمْ الْأَوَّلُ.
بس فقہاء نے فرمایا جو حاکم کے دعویٰ کو ہلکے میں لے اور کوئی پیروی نہ کرے تو قاضی اس کو مار کر تادیبی کاروائی کر سکتا ہے۔ 
وَقَالَ بَعْضُهُمْ: مَنْ اسْتَهَانَ بِدَعْوَةِ الْحَاكِمِ وَلَمْ يُجِبْ ضُرِبَ تَأْدِيبًا.

No comments:

Post a Comment