الْقِسْمُ الثَّانِي مِنْ أَقْسَامِ الْجَوَابِ: الْإِنْكَارُ.
جواب دعوئ انکار میں شرط ہے کہ انکار صریح ہو مجمل نہ ہو، چنانچہ اگر وہ ایسا کہتا ہے ”مَا أَظُنُّ لَهُ عِنْدِي شَيْئًا“ کہ میرا گمان ہے کہ اس کی کوئی چیز میرے پاس نہیں ہے تو اس کا اس طرح انکار کرنا قبول نہیں کیا جائے گا، اس لیے کہ یہ انکار مجمل ہے گمان سے یہاں کام نہیں چلتا ہاں جب وہ صراحتاً انکار کر لے تو پھر پہلے قاضی مدعی سے کہے گا کیا آپ کے پاس گواہ ہیں، اگر وہ گواہ پیش کرتا ہے اور اس کے گواہان مدعی علیہ کے خلاف قبول کئے جانے کے لائق ہوں تو فیصلہ تمام ہوگا اور اگر مدعی کہیے میرے پاس گواہ نہیں تو پھر اس سے کہا جائے گا تیرے پاس مدعی علیہ سے قسم لینے کا اختیار ہے ہے تو چاہے تو مدعی علیہ سے قسم لے سکتا ہے۔
وَيُشْتَرَطُ فِي الْإِنْكَارِ أَنْ يَكُونَ صَرِيحًا فَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ أَنْ يَقُولَ: مَا أَظُنُّ لَهُ عِنْدِي شَيْئًا ثُمَّ إذَا صَرَّحَ بِالْإِنْكَارِ فَإِنَّ الْقَاضِيَ يَقُولُ لِلْقَائِمِ: أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ ، فَإِنْ أَتَى بِهَا وَقَبِلَهَا تَمَّ الْحُكْمُ، وَإِنْ قَالَ: لَا بَيِّنَةَ لِي. يَقُولُ: لَكَ يَمِينُهُ.
گواہوں کو وضع کیا گیا ہے دعویٰ کے اثبات کے لیے اور یمین کو وضع کیا گیا ہے انکار دعوی کے لیے یعنی مدعی کا وظیفہ گواہ پیش کرنا ہے اور مدعی علیہ کا وظیفہ انکار پر قسم کھانا ہے ایسا نہیں کہ اگر مدعی علیہ انکار کرے اور وہ قسم نہ کھائے تو مدعی سے کہا جائے کہ آپ کے پاس چونکہ گواہ نہیں اس لیے آپ ہی قسم کھا کے اپنا دعوی ثابت کرو ایسا نہیں ہوگا کیونکہ مدعی کا وظیفہ صرف گواہ پیش کرنا ہے نہ کہ گواہان کی عدم میں قسم کھانا۔ اب یہاں سے فرما رہے ہیں اس کی دلیل حضرمی و کندی دو آدمیوں کا معاملہ ہے کہ انہوں نے اپنا معاملہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا تو آپ علیہ الصلاۃ والسلام نے ان میں سے مدعی کو فرمایا تھا کہ کیا آپ کے پاس گواہ ہیں جب اس نے نفی میں جواب دیا کہ میرے پاس گواہ نہیں تو آپ علیہ الصلوۃ والسلام نے اسے فرمایا کہ آپ کے پاس قسم کا آپشن ( اختیار لینے کا) ہے آپ اب مدعی علیہ سے قسم لے سکتے ہو اور اس کے علاوہ آپ کے پاس کوئی اور چارہ نہیں ہے تو یہ تقسیم خود حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے کہ مدعی کے لیے گواہ اور مدعی علیہ پر قسم۔
وَأَصْلُهُ قَضِيَّةُ الْحَضْرَمِيِّ وَالْكِنْدِيِّ فَإِنَّهُمَا اخْتَصَمَا فِي شَيْءٍ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - لِلْمُدَّعِي مِنْهُمَا: «أَلَكَ بَيِّنَةٌ؟ فَقَالَ: لَا، فَقَالَ: لَك يَمِينُهُ لَيْسَ لَك غَيْرُ ذَلِكَ» . .
اور اگر مدعی خاموش رہا نہ ”لا“ اور نہ ہی ”نعم“ سے جواب دیا کچھ نہیں کہا بس خاموش رہا جبکہ بولنے سے اسے کوئی افت سماویہ مانع نہیں تھی یعنی گونگا وغیرہ نہ تھا تو ایسی صورت میں اس کو قاضی منکر سمجھ کر اس کی خاموشی کو انکار قرار دے گا، یہاں تک کہ اگر مدعی اس پر گواہ پیش کر دے تو مدعی کے گواہوں کو سنا جائے گا اس کے خلاف اگرچہ اس نے صراحتا انکار نہیں کیا نہ اقرار کیا ہے لیکن چونکہ وہ خاموش رہا ہے اور کوئی بولنے سے کوئی شرعی مانع بھی نہیں تھا اس لیے اسے منکر ہی سمجھا جائے گا۔
وَلَوْ سَكَتَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَلَمْ يُجِبْ بِلَا أَوْ نَعَمْ وَلَمْ يَكُنْ بِهِ آفَةٌ سَمَاوِيَّةٌ تَمْنَعُهُ مِنْ الْكَلَامِ يَجْعَلُهُ الْقَاضِي مُنْكِرًا حَتَّى لَوْ أَقَامَ الْمُدَّعِي الْبَيِّنَةَ عَلَيْهِ تُسْمَعُ، اُنْظُرْ الْخُلَاصَةَ.
جوابِ دعوی کی اقسام میں سے تیسری قسم اقرار و انکار سے صراحتا انکار کرنا ہے جسے تیسری قسم امتناع کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
الثَّالِثُ مِنْ أَقْسَامِ الْجَوَابِ: الِامْتِنَاعُ مِنْ الْإِقْرَارِ وَالْإِنْكَارِ.
اس کی مثال یہ ہے کہ اگر مدعی علیہ کہے ”لَا أُقِرُّ وَلَا أُنْكِرُ“ کہ میں نہ اقرار کرتا ہوں نہ انکار کرتا ہوں تو اسی مسئلہ میں اختلاف ہے کہ کیا مدعی علیہ سے قسم لی جائے گی یا اس سے قسم نہیں لی جائے گی چنانچہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس سے قسم نہیں لی جائے گی کیونکہ قسم لی جاتی ہے جب مدعی علیہ انکار کرے، انکار پر قسم لی جاتی ہے یہاں جب وہ صراحتاً اقرار کرتا ہے نہ انکار تو قسم نہیں لی جائے گی جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس سے قسم لی جائے گی اس لیے کہ اس نے ایسا کلام کیا ہے جس میں تعارض واقع ہوا اور واذا تعارضا تساقطا، کہ تعارض کی وجہ سے کلام ساقط ہوگیا، تو اسے خاموش اور ساکت قرار دیا گیا اور سکوت کی نکول حکمی کے درجے میں ہوتا ہے گویا اسے نکول حقیقی کے درجے میں اتار کر اس سے قسم لی جائے گی یہ ایسا ہی ہے جیسے وہ کہے ”لَا أَحْلِفُ“ کہ میں قسم نہیں کھاتا گویا جب وہ صراحتاً کہیے میں قسم نہیں کھاتا تو اس کا طرف سے انکار پایا جائے گا اسی طرح یہاں بھی ہے کہ جب وہ کہتا ہے میں اقرار و انکار نہیں کرتا تو گویا اس کو نکول حکمی کے درجے میں اتار کر خاموش مان لیا گیا، اس لیے اس سے قسم لی جائے گی اور یہ جب ہے کہ سکوت ایسی آفت کی وجہ سے نہ ہو جو کلام سے مانع ہو۔
مِثَالُهُ: لَوْ قَالَ لَا أُقِرُّ وَلَا أُنْكِرُ فَقَدْ اُخْتُلِفَ فِيهِ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: لَا يُسْتَحْلَفُ، وَقَالَا: يُسْتَحْلَفُ؛ لِأَنَّ كَلَامَيْهِ تَعَارَضَا فَتَسَاقَطَا فَكَانَ سَاكِتًا وَالسُّكُوتُ يَكُونُ نُكُولًا حُكْمِيًّا فَيَنْزِلُ مَنْزِلَةَ النُّكُولِ الْحَقِيقِيِّ، كَقَوْلِهِ لَا أَحْلِفُ إذَا لَمْ يَكُنْ السُّكُوتُ عَنْ آفَةٍ مَانِعَةٍ عَنْ الْكَلَامِ.
جبکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قسم شرعاً منکر پر لازم ہوتی ہے اور اس نے ” لا انکر “ کہہ کر صراحت کی ہے کہ وہ منکر بھی نہیں ہے، اس لیے اس سے قسم لینا ممکن ہی نہیں ہے ہاں البتہ قاضی اس سے کہے گا کہ یا آپ مدعی کے دعویٰ کی تصدیق کیجئے یا صراحتاً انکار کیجئے اگر وہ پھر بھی اپنے امتناع پر مصر رہا تو قاضی اسے اولی الامر کی اطاعت کے چھوڑنے کی وجہ سے مجرم جان کر تأدیباً قید کرے گا۔
وَأَبُو حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - يَقُولُ: إنَّمَا يُتَوَجَّهُ شَرْعًا عَلَى الْمُنْكِرِ، وَقَدْ صَرَّحَ بِأَنَّهُ غَيْرُ مُنْكِرٍ فَلَا يُمْكِنُ تَحْلِيفُهُ، لَكِنَّ الْقَاضِيَ يَقُولُ لَهُ: إمَّا أَنْ تُصَدِّقَهُ فِي دَعْوَاهُ، وَإِمَّا أَنْ تُصَرِّحَ بِالْإِنْكَارِ، فَإِنْ أَصَرَّ عَلَى إنْكَارِهِ كَانَ جَانِيًا لِتَرْكِ طَاعَةِ أُولِي الْأَمْرِ فَيُؤَدِّبُهُ الْقَاضِي بِالْحَبْسِ.
(مَسْأَلَةٌ) :
ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے غلام خریدا، پھر حادثہ پیش آیا مشتری بھی مرا اور غلام بھی مر گیا اب بائع نے مشتری کے وارثین پر دعوی کیا کہ تمہارے مورث نے ہم سے غلام خریدا لیکن ثمن اس کے ذمہ باقی تھا چناں چہ وارثوں نے اقرار کیا کہ ہاں اس نے غلام تو خریدا تھا لیکن اس غلام کی قیمت کتنی تھی وہ ہمیں نہیں پتہ تو فرماتے ہیں کہ وارثوں سے قسم لی جائے گی اس بات پر کہ وہ کہیں کہ اللہ کی قسم ہم نہیں جانتے کہ اس غلام کی قیمت کتنی ہے جب وارثین قسم کھا لیں گے تو اب اس کے بعد اس ثمن کا تعین کیسے ہوگا! اس کے متعق فرمایا کہ قاضی ان تمام وارثین کو قید کرے گا یہاں تک کہ وہ کسی چیز کا اقرار کر لیں اور مزید مال میت اور ان وارثوں کے درمیان میت کا کل مال کو روکے رکھے گا یعنی تقسیم وراثت نہیں ہوگی اور قاضی کل وراثت کو کسی عادل شخص کے قبضے میں رکھے گا یہاں تک کہ وہ اپنے باپ کی طرف سے کسی قیمت کو بیان کریں گے یہ اس وجہ سے کہ اگر وارث انکار کرتے کہ ہمارے باپ نے غلام نہیں خریدا تو پھر بائع کو اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے گواہ پیش کرنے کی ضرورت تھی اور وارث پر کوئی چیز لازم نہ ہوتی لیکن چونکہ وہ غلام خریدنے کا اقرار کر چکے ہیں اب بائع مدعی گواہ پیش کرنے سے بری ہو گیا لہذا اب انہی کو قیمت بتانی پڑے گی تاکہ وہ مدعی کو قیمت ادا کی جائے اس لیے جب اقرار کر چکے تو اب جب تک نہ قیمت بیان کریں گے تب تک ان کو قید کیا جائے گا اور مورث کے ترکہ کسی نیک نام آدمی کے قبضہ میں دیا جائے گا فرماتے ہیں یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے ایک آدمی نے اقرار کیا کہ فلاں آدمی کا اس کے باپ پر قرض ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ قرض کتنا ہے تو یہاں بھی ضروری ہے کہ وہ کسی چیز کا اقرار کر لے کہ کتنا قرض ہے ورنہ قاضی اس کے اور اس کے باپ کے ترکہ کے درمیان حائل ہو کر ترکہ موقوف رکھے گا اور وراثت تقسیم نہیں ہوگی اس شخص کے درمیان جب تک نہ وہ باپ پر قرض کی کوئی مقدار بیان کرے اسی طرح یہاں بھی ہوگا، یہ تمام مسائل محیط برہانی میں مذکور ہے، یہ مسئلہ باب اثبات الدین علی الغائب میں گزر چکا ہے۔
اشْتَرَى رَجُلٌ عَبْدًا فَمَاتَ الْمُشْتَرِي وَالْعَبْدُ وَادَّعَى الْبَائِعُ الثَّمَنَ عَلَى وَرَثَتِهِ، فَقَالَتْ الْوَرَثَةُ مَا نَدْرِي مَا ثَمَنُهُ وَحَلَفُوا أَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ مَا ثَمَنُهُ، قَالَ: حَبَسَهُمْ الْقَاضِي حَتَّى يُقِرُّوا بِشَيْءٍ وَيَحُولُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْمَالِ وَيَضَعُهُ عَلَى يَدَيْ عَدْلٍ حَتَّى يُبَيِّنُوا مَا عَلَى أَبِيهِمْ مِنْ الثَّمَنِ، مِنْ الْمُحِيطِ وَقَدْ تَقَدَّمَتْ.
پانچویں قسم: قسم اور اس کی صفات اور اس میں شدت پیدا کرنے کے بیان میں اور وہ شخص جس پر قسم لازم ہوتی ہے اور جس پر قسم لازم نہیں ہوتی اور وہ معاملات جن میں قسم لی جائے گی اور جن میں نکول کا حکم لگایا جائے گا اور جن میں یمین مردود کے حکم کا بیان ہوگا ان احکام کے بیان میں ہے۔
[الْقِسْمُ الْخَامِسُ الْيَمِينِ وَصِفَتِهَا وَالتَّغْلِيظِ فِيهَا]
فِي ذِكْرِ الْيَمِينِ وَصِفَتِهَا، وَالتَّغْلِيظِ فِيهَا، وَفِيمَنْ تَتَوَجَّهُ عَلَيْهِ الْيَمِينُ وَمَنْ لَا تَتَوَجَّهُ، وَمَا لَا يُسْتَحْلَفُ فِيهِ، وَحُكْمِ النُّكُولِ، وَبَيَانِ حُكْمِ الْيَمِينِ الْمَرْدُودَةِ.
پھر جس پر قسم لازم ہو جائے تو قاضی اسے اللہ کی قسم کھلوائے گا غیر اللہ کی قسم ہرگز نہ کھلوائے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی فرمان کی وجہ سے کہ تم اپنے آباء و اجداد کی قسم نہ کھاؤ اور جو تم میں سے قسم کھانا چاہیے تو چاہیے کہ وہ اللہ کی قسم کھائے وگرنہ قسم کھانے کو چھوڑ دے، اسی طرح نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ طلاق کی قسم کھانے والا بھی ملعون ہے اور قسم کھلوانے والا بھی ملعون ہے گویا قسم بوقت مجبوری کھانی چاہیے اور وہ بھی صرف اللہ کی قسم یا اللہ پاک کی صفات کی جیسے قران کریم، لیکن اصل یہی ہے کہ صرف اللہ کی قسم کھاوے ہاں قسم میں شدت پیدا کرنے کے لیے اللہ تبارک و تعالی کی قسم کے ساتھ اس کی صفات کا بھی اضافہ کیا جاوے تو حرج نیست چنانچہ اللہ کی قسم کھائے گا اس طور پر ”اَحْلِفُ بِاَللَّهِ الَّذِي لَا إلَهَ إلَّا هُوَ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الَّذِي يَعْلَمُ مِنْ السِّرِّ مَا يَعْلَمُ مِنْ الْعَلَانِيَةِ“ کہ میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں جس کے سوا کوئی معبود نہیں جو عالم الغیب و الشہادہ ہے رحمن ہے رحیم ہے جو پوشیدہ چیزوں کو اور ظاہری چیزوں کو جانتا ہے اس لیے کہ الفاظ سے قسموں میں شدت پیدا کرنا جھوٹی قسم کھانے سے ڈرانے میں زیادہ بلیغ و زیادہ کامل ہے بمقابلہ دوسری طرح قسموں میں شدت پیدا کرنے کے، اس لیے کہ کبھی کبھی انسان جب اس سے زبانی اللہ کی قسم کھانے کو کہا جائے تو بے دھڑک کھا لیتا ہے لیکن اگر اس کے ہاتھ میں قران کو تھما دیا جائے جو کہ اللہ تبارک و تعالی کا کلام ہے اللہ کی صفات میں سے ہے تو وہ جھجھکتا ہے، ہچکچاتا ہے ایسی قسم کھانے سے اسے ڈر محسوس ہوتا ہے تو اس طرح سے قسم میں شدت پیدا کرنا یہ جھوٹی قسم کھانے سے ڈر پیدا کرنے کے سلسلے میں زیادہ بلیغ اور کامل ہوتا ہے۔
وَمَنْ تَوَجَّهَ عَلَيْهِ الْيَمِينُ فَالْقَاضِي يُحَلِّفُهُ بِاَللَّهِ وَلَا يُحَلِّفُهُ بِغَيْرِ اللَّهِ لِقَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ وَلَا بِالطَّوَاغِيتِ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا فَلْيَحْلِفْ بِاَللَّهِ أَوْ لِيَذَرْ» وَقَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «مَلْعُونٌ مَنْ حَلَفَ بِالطَّلَاقِ وَحَلَّفَ بِهِ» وَيَحْلِفُ بِاَللَّهِ الَّذِي لَا إلَهَ إلَّا هُوَ عَالِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الَّذِي يَعْلَمُ مِنْ السِّرِّ مَا يَعْلَمُ مِنْ الْعَلَانِيَةِ؛ لِأَنَّ التَّغْلِيظَ مِنْ حَيْثُ اللَّفْظُ فَكَانَ التَّغْلِيظُ فِي الْيَمِينِ أَبْلَغَ وَأَكْمَلَ فِي الزَّجْرِ مِنْ الْيَمِينِ الْكَاذِبَةِ.
امام اعظم ابو حنیفہ رحمت اللہ علیہ مجرد نامی کتاب میں فرماتے ہیں کہ اگر قاضی کو مدعی کے جھوٹ بولنے کا اندیشہ نہ ہو تو پھر وہ ”اَحْلِفُ بِاَللَّهِ الَّذِي لَا إلَهَ إلَّا هُوَ،“ اتنے ہی پر اکتفا کرے گا اور اگر اسے اندیشہ ہو کہ مدعی علیہ جھوٹ بولے گا تو وہ اس کی قسم میں شدت بھی پیدا کرے گا صفات کے ذریعے سے۔
وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - فِي الْمُجَرَّدِ: إنْ لَمْ يَتَّهِمْهُ الْقَاضِي اقْتَصَرَ عَلَى قَوْلِهِ بِاَللَّهِ الَّذِي لَا إلَهَ إلَّا هُوَ، وَإِنْ اتَّهَمَهُ يُغَلِّظُ فِي يَمِينِهِ.
قسم کی شرائط میں سے قبلہ رخ ہونا، مسجد میں داخل ہونا یا ممبر پر بیٹھ کر قسم کھانا ضروری نہیں ہے، جیسے کہ مالکیہ اور شافعیہ کا مذہب ہے، البتہ اگر ان چیزوں کے اہتمام سے شدت اور فائدہ ہو تو حرج نہیں ہے لیکن یہ قسم کے شرائط میں سے نہیں۔
وَلَيْسَ مِنْ شَرْطِهِ اسْتِقْبَالُ الْقِبْلَةِ وَدُخُولُ الْمَسْجِدِ وَعِنْدَ الْمِنْبَرِ كَمَا هُوَ مَذْهَبُ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
(مَسْأَلَةٌ) :
نصرانی قسم کھائے گا ”اَحْلِفُ بِاَللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْإِنْجِيلَ عَلَى عِيسَى“ میں اس اللہ کی قسم کھاتا ہوں جس نے عیسی علیہ الصلوۃ والسلام پر انجیل کو نازل کیا، یہودی قسم کھائے گا ”اَحْلِفُ بِاَللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى“ میں اس اللہ کی قسم کھاتا ہوں جس نے موسی علیہ الصلوۃ والسلام پر تورات کو نازل کیا، یہ دونوں مطلق اللہ کی قسم نہیں کھائیں گے، اس لیے کہ نصرانی وہ مسیح علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ کا بیٹا کہتے ہیں، اور یہود بے بہبود عزیر علیہ الصلوۃ والسلام کو اللہ کا بیٹا سمجھتے ہیں، اس لیے کیا پتہ کہ وہ اپنی قسم سے ان ہی کو مراد لیتا ہو اس لیے ان سے صراحتاً منزل انجیل و تورات جو اللہ ہی ہے سے قسم کھلوائی جائے گی کہ وہ قسم کھائیں اس اللہ کی جس نے موسی اور عیسی پر اپنی کتاب کو نازل کیا ہے اور وہ اللہ ہی ہے، اور مجوسی سے قسم کھلائی جائے گی ” اَحْلِفُ بِاَللَّهِ الَّذِي خَلَقَ النَّارَ“ کہ وہ اس اللہ کی قسم کھائے جس نے آگ کو پیدا کیا ہے یہی امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے اس لیے کہ مجوسی وہ آگ کی تعظیم کا اعتقاد رکھتا ہے اس لیے اس کے قسم میں اس چیز کے ذریعے شدت پیدا کی جائے گی جس کی تعظیم کا وہ اعتقاد رکھتا ہے اور وہ آگ ہے جیسے کہ نصرانی اور یہودی کی قسم میں شدت پیدا کی تھی کہ انجیل اور تورات کے خدا کی قسم کھائے۔
وَيَحْلِفُ النَّصْرَانِيُّ بِاَللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ الْإِنْجِيلَ عَلَى عِيسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -، وَالْيَهُودِيُّ بِاَللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ -، وَلَا يَحْلِفُ بِاَللَّهِ مُطْلَقًا؛ لِأَنَّ النَّصْرَانِيَّ يَقُولُ الْمَسِيحُ ابْنُ اللَّهِ؛ وَالْيَهُودِيُّ يَقُولُ عُزَيْرٌ ابْنُ اللَّهِ، وَلَكِنَّهُمْ يَقُولُونَ بِأَنَّ الَّذِي أَنْزَلَ الْإِنْجِيلَ وَالتَّوْرَاةَ هُوَ اللَّهُ، وَالْمَجُوسِيُّ بِاَللَّهِ الَّذِي خَلَقَ النَّارَ عَلَى قَوْلِ مُحَمَّدٍ؛ لِأَنَّهُ يَعْتَقِدُ تَعْظِيمَ النَّارِ فَيُغَلِّظُ فِي يَمِينِهِ بِمَا يَعْتَقِدُ تَعْظِيمَهُ وَهُوَ النَّارُ كَمَا فِي النَّصْرَانِيِّ وَالْيَهُودِيِّ.
جبکہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما فرماتے ہیں کہ مجوسی سے صرف اللہ کی قسم دی لی جائے گی اللہ کے علاوہ کسی کی قسم نہیں لی جائے گی یعنی آگ کے پیدا کرنے والے خدا کا نام نہیں لیا جائے گا، اس لیے کہ اللہ کے علاوہ کسی اور چیز سے قسم میں شدت پیدا کرنا جائز نہیں ہے ہاں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ نصرانی اور یہودی کی قسم میں شدت پیدا کرنے کے لیے تورات اور انجیل کا ذکر کیوں کیا؟ جواباً عرض ہے کہ یہودی و نصرانی کی قسم میں تورات و انجیل کا ذکر کرنا صراحتاً نص سے ثابت ہے ابن صوریا کی حدیث میں ہے جب حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے ان سے فرمایا تھا کیا تورات میں حد کے بارے میں لکھا ہے تو انہوں نے کہا تھا تورات میں حد کے بارے میں کچھ نہیں لکھا ہے تو وہاں پر حضور نے ان کو جب قسم کھلوائی تو اس میں منزل تورات علی موسیٰ کا ذکر ہے، چناں چہ کتاب اللہ کے ذریعے قسم۔ میں شدت پیدا کرنے پر نص وارد ہوئی ہے، اور دوسری بات یہ کہ کتاب اللہ کا جو احترام ہے آگ کے لیے وہ احترام نہیں ہے اس لیے بھی کتاب اللہ سے شدت پیدا کی جا سکتی ہے۔
وَعِنْدَهُمَا يُحَلِّفُهُ بِاَللَّهِ لَا غَيْرُ؛ لِأَنَّ تَغْلِيظَ الْيَمِينِ بِغَيْرِ اللَّهِ لَا يَجُوزُ، إلَّا أَنَّ فِي حَقِّ النَّصْرَانِيِّ وَالْيَهُودِيِّ وَرَدَ نَصٌّ وَهُوَ حَدِيثُ ابْنِ صُورِيَا «أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَلَّفَهُ بِاَللَّهِ الَّذِي أَنْزَلَ التَّوْرَاةَ عَلَى مُوسَى» . وَالنَّصُّ الْوَارِدُ فِي التَّغْلِيظِ بِكِتَابِ اللَّهِ وَلَهُ مِنْ الْحُرْمَةِ مَا لَيْسَ لِلنَّارِ لَا يَكُونُ وَارِدًا فِي النَّارِ دَلَالَةً.
یہ نصرانی یہودی اور مجوسی کا مسئلہ تھا اب اگر ان کے علاوہ مشرک ہو تو اس سے صرف اللہ کی قسم لی جائے گی، مشرک سے اس خدا کی قسم نہیں لی جائے گی جس نےدیوی دیوتا اور بتوں اور پیدا کیا اس لیے کہ بتوں کے ذریعے قسم میں شدت پیدا کرنا تعظیماً ہوگا جبکہ بتوں کی اہانت کا حکم دیا گیا ہے اس لیے مشرک سے بتوں کے پیدا کرنے والے کی قسم نہیں لی جائے گی بتوں کا تذکرہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس میں بھی ایک طرح کی تعظیم ہے جب کہ ان کی تذلیل و توہین کا حکم دیا گیا یہاں سے امام محمد رحمۃ اللہ علیہ پر اعتراض ہوا جاتا تھا کہ آپ نے مجوسی کے لیے قسم کھانے میں آگ تذکرہ کا اعتبار کیا وہاں آگ کی بھی تو اہانت ہونی چاہیے تھی جبکہ آگ کا تذکرہ کر کے اس کی تعظیم ہو رہی ہے۔ لِأَنَّ بَعْضَ النَّاسِ اتَّخَذَهُ إلَهًا الخ سے مصنف امام محمد کی طرف سے جواب دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ بتوں کو بعض لوگوں نے معبود بنا رکھا ہے اس لیے بتوں کی اہانت کا صراحتاً حدیث میں ذکر ہے جبکہ آگ کو کوئی معبود نہیں سمجھتا بلکہ صرف آگی کی تعظیم کی جاتی ہے اس لیے اس لیے نزد محمد قسم میں بتوں اور آگ کے ذکر میں فرق ہوا اسی کو فرمایا کہ کہ بتوں کی اہانت کا شریعت نے اس لیے حکم دیا ہے کہ بعض لوگوں نے بتوں کو اپنا معبود بنایا ہے جب کہ آگ کی اہانت کا حکم نہیں دیا گیا ہے کیوں کہ آگ کو کسی نے معبود نہیں بنایا ہے اسی لیے امام محمد نے نار کے ذکر سے شدت پیدا کرنے کو جائز قرار دیا جبکہ ”صنم“ بتوں کے ذکر سے قسم میں شدت پیدا کرنے کو جائز قرار نہیں دیا کیونکہ صنم کو بعض لوگوں نے خدا بھی بنایا ہے۔
وَغَيْرُهُمْ مِنْ أَهْلِ الشِّرْكِ يَحْلِفُ بِاَللَّهِ، وَلَا يَحْلِفُ بِاَللَّهِ الَّذِي خَلَقَ الْوَثَنَ وَالصَّنَمَ؛ لِأَنَّ فِي تَغْلِيظِ الْيَمِينِ بِالصَّنَمِ تَعْظِيمًا لَهُ مِنْ وَجْهٍ وَقَدْ أُمِرْنَا بِإِهَانَتِهِ؛ لِأَنَّ بَعْضَ النَّاسِ اتَّخَذَهُ إلَهًا وَلَمْ يُؤْمَرْ بِإِهَانَةِ النَّارِ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَتَّخِذْهَا أَحَدٌ إلَهًا، وَلِهَذَا جَوَّزَ مُحَمَّدٌ التَّغْلِيظَ بِذِكْرِ النَّارِ وَلَمْ يُجَوِّزْهُ بِذِكْرِ الصَّنَمِ.
(فَرْعٌ) :
گونگے سے کس طرح قسم لی جائے گی فرماتے ہیں قاضی گونگے سے اس طرح قسم لے گا ”عَلَيْكَ عَهْدُ اللَّهِ إنْ كَانَ لِهَذَا هَذَا الْحَقُّ“ کہ تجھ پر اللہ کا عہد ہو اگر تیرے ذمہ اس کا یہ حق ہو اور اس کے جواب میں گونگا ہاں کے ذریعے اشارہ کرے گا ( چاہے وہ اشارہ سر کے ذریعہ ہو یا ہاتھ کے ذریعہ ہو موجود گونگے کا اشارہ معووف ہونا چاہئے جس سے سمجھ آئے کہ وہ ہاں کہہ رہا ہے ) ہاں البتہ منفی انداز میں گونگے سے قسم نہیں لی جائے گی یعنی گونگے سے قاضی اس طور پر قسم نہیں لے گا ”بِاَللَّهِ مَا لِهَذَا عَلَيْكَ أَلْفٌ“ کہ تجھ اللہ کی قسم تیرے ذمے فلاں کا ہزار درہم نہیں ہے اور اس کے جواب میں پھر وہ اپنے سر کے ذریعے ہاں کہہ کر اشارہ کرے تو یہ قسم درست نہیں اور منفی انداز میں اس لیے قسم درست نہیں کہ جب اس سے کہا جائے گا کھاؤ اللہ کی قسم کہ تجھ پر فلاں کا ہزار روپے نہیں ہے اگر وہ ہاں کے ذریعے اشارہ کرتا ہے تو یہ کیسے سمجھا جائے کہ ہاں کس چیز کے بارے میں ہے، ہزار درہم کے ذمے نہ ہونے کے بارے میں ہے یا قسم کھانے کے بارے میں ہاں کر رہا ہے کہ میں قسم کھاؤں گا، اس لیے منفی انداز میں قسم نہیں لی جائے گی بلکہ مثبت انداز میں ہی قسم لی جائے گی، چناں چہ گونگے کا اشارہ کیوں کر معتبر ہو؟ اس کے لیے فرمایا کہ جب گونگے کا اشارہ تمام احکام میں نفی اور اثبات میں بولنے والے کے کلام کے درجہ میں مشہور و معروف ہے تو قسم میں بھی گونگے کا اشارہ بولنے والے کے کلام کی طرح معتبر ہوگا۔
وَاسْتِحْلَافُ الْأَخْرَسِ أَنْ يَقُولَ الْقَاضِي: عَلَيْكَ عَهْدُ اللَّهِ إنْ كَانَ لِهَذَا هَذَا الْحَقُّ، وَيُشِيرُ الْأَخْرَسُ أَيْ نَعَمْ، وَلَا يَسْتَحْلِفُ بِاَللَّهِ مَا لِهَذَا عَلَيْكَ أَلْفٌ فَيُشِيرُ الْأَخْرَسُ بِرَأْسِهِ أَيْ نَعَمْ؛ لِأَنَّ الْإِشَارَةَ مِنْ الْأَخْرَسِ إذَا كَانَتْ مَعْرُوفَةً مِنْ النَّفْيِ وَالْإِثْبَاتِ بِمَنْزِلَةِ الْعِبَارَةِ مِنْ النَّاطِقِ فِي سَائِرِ الْأَحْكَامِ، فَكَذَا فِي حَقِّ الْحَلِفِ.
چنانچہ اگر قاضی کسی بولنے والے سے منفی انداز میں اللہ کی قسم لے کہ قسم۔ کھاؤ کہ تیرے ذمے فلاں کا ہزار درہم نہیں ہے اور پھر وہ بولنے والا صرف ہاں کہہ دے تو قسم معتبر نہیں ہوگی، گویا یہ ایسا ہی ہے جیسے وہ کہے کہ میں قسم کھاؤں گا چنانچہ جب بولنے والے کے حق میں منفی انداز میں قسم نہیں تو گونگے حق میں منفی انداز میں قسم لینا بدرجہ اولی معتبر نہیں ہونا چاہئے، گونگی میں تو ویسے بھی خفا ہی خفا ہے، اور جب قاضی مدعی علیہ سے مثبت انداز میں لے کہ تجھ پر اللہ کا عہد ہے اور گونگا مدعی علیہ جواباً اپنے سر سے ہاں کا اشارہ کرے تو یہ قسم ہو جائے گی یہ ایسا ہے کہ گویا اس نے کہا کہ ہاں مجھ پر اللہ کا عہد ہے اگر فلاں کا میرے ذمے اس طرح کا حق ہو۔
وَالْقَاضِي لَوْ اسْتَحْلَفَ النَّاطِقَ بِاَللَّهِ مَا لِهَذَا عَلَيْكَ أَلْفُ دِرْهَمٍ فَقَالَ: نَعَمْ. لَا يَكُونُ يَمِينًا؛ لِأَنَّهُ يَصِيرُ كَأَنَّهُ قَالَ أَحْلِفُ وَذَلِكَ لَا يَكُونُ حَلِفًا، فَكَذَلِكَ الْأَخْرَسُ.وَلَوْ قَالَ عَلَيْكَ عَهْدُ اللَّهِ فَقَالَ لَهُمْ بِرَأْسِهِ أَيْ نَعَمْ كَانَ يَمِينًا؛ لِأَنَّهُ يَصِيرُ كَأَنَّهُ قَالَ عَلَيَّ عَهْدُ اللَّهِ إنْ كَانَ لِهَذَا عَلَيَّ كَذَا.
[فَصْلٌ الِاسْتِحْلَافُ عَلَى قِسْمَيْنِ]
(فَصْلٌ) :
قسم لینے کے دو طریقوں کو یہاں سے بیان کریں گے اس بات کو سمجھنے کے لیے پہلے چار چیزوں کو سمجھنا ضروری ہے (١) عقود شرعیہ، جسے بیع و شراء، نکاح وغیرہ یعنی ہر وہ عقد جس میں دو فریق کا آپس میں معاملہ ہو، (٢) افعال حسیہ اس کے معنی ہیں جو فعل یک طرفہ پایا جائے جسے کسی نے غصب یا چوری کی تو ظاہر ہے یہ فعل دو طرفہ نہیں ہوتا بلکہ ایک طرفہ معاملہ پایا جاتا ہے (٣) حاصل و مقصود پر قسم لینا (٤) سبب پر قسم لینا، مثلا کسی نے نکاح کیا نکاح کے بعد بگیم جانی مکر گئی اور شوہر نے قاضی کے پاس دعوی کر دیا کہ میں نے فلاں عورت کے ساتھ نکاح کیا ہے لیکن وہ میرے پاس آنا نہیں چاہتے تو اس معاملے میں سبب تو نکاح کرنا ہے اور اس کا حاصل و مقصود کسی کا بیوی کا شوہر ہونا ہے اسی طرح اگر بیع، اجارہ وغیرہ ہیں کہ ان میں بیع و شراب کرنا تو سبب ہے لیکن اس کا اثر، حاصل و مقصود اس چیز پر ملکیت کا آنا ہے، چناں چہ ان اصطلاحات کو زہن میں رکھ کر آنے والے مسئلوں کو سمجھیے فرمایا قسم دو طرح کے ہوں گے ایک عقود شرعیہ پر قسم لینا دوسرا افعال حسیہ پر قسم لینا، اور پھر قسم لینے کی نوعیت بھی دو قسم پر ہوگی یا حاصل و مقصود پر قسم لئ جائے گی یا سبب پر قسم۔ لئ جائے گی۔
ثُمَّ الِاسْتِحْلَافُ عَلَى قِسْمَيْنِ: أَحَدُهُمَا عَلَى الْعُقُودِ الشَّرْعِيَّةِ، وَالْآخَرُ عَلَى الْأَفْعَالِ الْحِسِّيَّةِ.
پہلی قسم یعنی عقود شرعیہ پر قسم لینا حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں وہ عقود شرعیہ میں حاصل پر قسم لی جائے گی جبکہ صاحبین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں عقود شرعیہ میں سبب پر قسم لی جائے گی، امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں بسا اوقات ایک عقد ہونے کے بعد سبب پائے جانے کے باوجود حاصل و مقصود انسان کو حاصل نہیں ہوتا وہ اس طور پر کہ کسی نے بیع کئ اور بیع کرنے کے بعد اسے اقالہ کے ذریعہ فسخ بھی کیا تو گویا پہلے بیع ہونے کی وجہ سے سبب تو پایا گیا ہے لیکن چونکہ اس کے بعد دوسری عقد بصورت اقالہ پایا گیا جس کی وجہ سے پہلی بیع کا اثر اور اس کا مقصد حاصل نہیں ہوا ہے، اس اگر سبب پر قسم کھلائی جائے تو مدعی علیہ کا نقصان ہوگا کیوں کہ مدعی علیہ اگر سبب پر قسم کھائے کہ اللہ کی قسم ہم نے بیع کی تو اس پر وہ چیز لازم ہوگی جبکہ اس کو وہ چیز( مقصود) حاصل نہیں ہوا ہے کیوں کہ اس کے بعد تو اقالہ سے فسخ بھی ہوا ہے اس لیے امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عقود شرعیہ میں سبب پر قسم کھانے کے بجائے حاصل پر مقصود پر قسم کھائی جائے گی جبکہ صاحبین رحمۃ اللہ علیہما فرماتے ہیں کہ عقود شرعیہ میں سبب پر قسم کھائی جائے گی اور اگر اس کے بعد کوئی نئی بیع بصورت اقالہ ہوئی ہے جس کی وجہ سے مقصود حاصل نہیں ہوا ہے تو مدعی علیہ قاضی کے سامنے اس کا ذکر کرے گا اور جب اس کا ذکر کرے گا تو پھر قاضی حاصل اور مقصود پر ہی قسم لے گا چنانچہ فرمایا کہ پہلی قسم یعنی عقود شرعیہ وہ یہ ہے کہ قاضی حاصلِ عقد پر قسم لے گا ”بِاَللَّهِ مَا لَهُ قِبَلَكَ مَا ادَّعَى مِنْ الْحَقِّ“ کہ اللہ کی قسم، نہیں ہے فلاں کا تجھ پر کوئی حق جس کا اس نے دعویٰ کیا ہے اور قاضی ایسے شخص کو سبب پر قسم نہیں لے گا اور وہ سبب بیع، اجارہ، کفالہ وغیرہ وغیرہ ہیں جبکہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ قاضی اسے سبب پر قسم لے گا اس طور پر کہ ”بِاَللَّهِ مَا اشْتَرَيْتُ وَلَا اسْتَأْجَرْتُ وَلَا كَفَلْتُ وَنَحْوَهَا“ اللہ کی قسم میں نے فلاں سے نہیں خریدا فلاں سے اجارہ نہیں کیا فلاں سے کفالت نہیں کیا وغیرہ وغیرہ ہاں اگر اس کے بعد کوئی نئی بیع بصورت اقالہ ہوئی ہے جس کے باعث مقصود حاصل نہ ہوا ہو تو اس کے بارے میں فرمایا کہ اگر قاضی پر اعتراض کیا جائے اور مدعی علیہ کہے کہ کتنے ہی مشتری و مستأجر ہیں جو عقد کو فسخ کر لیتے ہیں گویا کہ اشارہ ہو کہ ہم نے بھی بیع کو فسخ کیا تھا تو ایسی صورت میں قاضی حاصل بیع پر قسم لے گا اس لیے کہ صاحبین کی دلیل یہ ہے کہ یمین دعویٰ و رفع دعویٰ و الزام کے اعتبار سے واجب ہوتی ہے اور یہاں بھی دعوی عقد یعنی سب کے بارے میں واقع ہوا ہے نہ کہ حاصلِ عقد کے بارے میں اس لیے قسم بھی عقد یعنی سبب کے بارے میں لی جائے گی نہ کہ حاصل کے بارے میں۔
أَمَّا الْأَوَّلُ: وَهُوَ أَنَّ الْقَاضِيَ يُحَلِّفُهُ عَلَى الْحَاصِلِ بِالْعَقْدِ بِاَللَّهِ مَا لَهُ قِبَلَكَ مَا ادَّعَى مِنْ الْحَقِّ وَلَا يُحَلِّفُهُ عَلَى السَّبَبِ وَهُوَ الْبَيْعُ وَالْإِجَارَةُ وَالْكَفَالَةُ وَنَحْوُهَا.وَرُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ يُحَلِّفُهُ عَلَى السَّبَبِ بِاَللَّهِ مَا اشْتَرَيْتُ وَلَا اسْتَأْجَرْتُ وَلَا كَفَلْتُ وَنَحْوَهَا، إلَّا أَنْ يَعْرِضَ الْقَاضِي فَيَقُولُ: كَمْ مِنْ مُشْتَرٍ أَوْ مُسْتَأْجِرٍ يَفْسَخُ الْعَقْدَ؟ فَيُحَلِّفُهُ عَلَى الْحَاصِلِ؛ لِأَنَّ الْيَمِينَ تَجِبُ عَلَى حَسَبِ الدَّعْوَى وَرَفْعِهِ، وَالدَّعْوَى وَقَعَتْ فِي الْعَقْدِ لَا فِي الْحَاصِلِ بِهِ.
دوسری قسم: افعال حسیہ ہیں اس کی بھی دو قسمیں ہیں ایک نوع جس میں حاصل پر قسم لی جائے گی نہ کہ سبب پر جیسے کہ غصب اور چوری وغیرہ چناں چہ اگر شئ مغصوب و شئ مسروق موجود ہو، ہلاک نہ ہوئی ہو تو قاضی مدعی علیہ سے قسم لے گا اس چیز کی طرف اشار کر کے کہ اللہ کی قسم کھاؤ کہ یہ کپڑا فلاں کا نہیں ہے یا تجھ پر اس چیز کا فلاں کو سپرد کرنا لازم نہیں ہے یا تیرے ذمہ کسی چیز کا مدعی کو سپرد کرنا لازم نہیں ہے اور اگر وہ چیز ہلاک ہو گئی ہو تو پھر ایک قول تو یہ ہے کہ اس کی قیمت پر قسم لی جائے گی نہ کہ حاصل پر یہی امام صاحب کا بھی ایک قول ہے جبکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا دوسرا قول یہ ہے کہ سبب اور حاصل یعنی چرائے گئے کپڑے اور اس کی قیمت دونوں پر قسم لی جائے گی اور صاحبین کے نزدیک صرف قیمت ہی پر قسم لی جائے گی اس اختلاف کی بنیاد اس اسول پر ہے کہ شئی مغصوب یا مسروق کے ہلاکت کے بعد سارق یا غاصب پر کیا چیز لازم ہوتی ہے جو چیز لازم ہوگی قسم بھی اسی کی لئ جائے گی چناں چہ صاحبین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سارق و غاصب پر قیمت لازم ہوگی کیوں شئی مغصوب و مسروق ہلاک ہو چکی ہے جبکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قیمت براہ راست لازم نہ ہوگی بلکہ پہلے وہ چیز لازم ہوگی اور اگر وہ چیز موجود نہ ہو تو والی کے فیصلہ کے بعد اس کی قیمت لازم ہوگی اس لیے یہاں بھی فرق ہو صاحبین رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک شئی مغصوب و مسروق کی ہلاکت کے بعد صرف اس کی قیمت پر قسم لئ جائے گی اور امام صاحب کے نزدیک دونوں پر قسم لئ جائے گی،اسی کو مصنف نے فرمایا، ”بِنَاءً عَلَى أَنَّ عِنْدَهُمَا الْحَقَّ فِي الْقِيمَةِ“ بنا کرتے ہوئے اس اصول پر کے صاحبین رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حق قیمت میں ثابت ہوتا ہے نہ کہ عین شئی میں اور امام اعظم ابو حنیفہؒ کے نزدیک حق عین کے ساتھ متعلق ہوتا ہے نہ کہ قیمت کے ساتھ جب تک کہ قاضی قیمت کا فیصلہ نہ کرے یا وہ دونوں کسی قیمت پر راضی نہ ہو جائیں اور اسی لیے اگر شئی مغصوب و مسروق ہلاک ہونے کے بعد اتفاق کر لیں کسی زیادہ قیمت پر تو امام صاحب کے نزدیک جائز ہوگا اور صاحبین رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک جائز نہ ہوگا۔
وَأَمَّا الْقِسْمُ الثَّانِي: وَهُوَ الِاسْتِحْلَافُ عَلَى الْأَفْعَالِ الْحِسِّيَّةِ وَهِيَ نَوْعَانِ: نَوْعٌ يُسْتَحْلَفُ عَلَى الْحَاصِلِ لَا عَلَى السَّبَبِ كَالْغَصْبِ وَالسَّرِقَةِ إنْ كَانَ الْمَغْصُوبُ وَالْمَسْرُوقُ قَائِمًا يُحَلِّفُهُ بِاَللَّهِ مَا هَذَا الثَّوْبُ لِهَذَا وَلَا عَلَيْكَ تَسْلِيمُهُ وَلَا تَسْلِيمُ شَيْءٍ مِنْهُ إلَى الْمُدَّعِي، وَإِنْ كَانَ مُسْتَهْلَكًا قِيلَ يُسْتَحْلَفُ عَلَى الْقِيمَةِ لَا غَيْرُ.وَقِيلَ يَحْلِفُ عَلَى الثَّوْبِ وَالْقِيمَةِ جَمِيعًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - وَعِنْدَهُمَا يَحْلِفُ عَلَى الْقِيمَةِ بِنَاءً عَلَى أَنَّ عِنْدَهُمَا الْحَقَّ فِي الْقِيمَةِ لَا فِي الْعَيْنِ.وَعِنْدَهُ الْحَقُّ فِي الْعَيْنِ لَا فِي الْقِيمَةِ مَا لَمْ يَقْضِ الْقَاضِي بِالْقِيمَةِ أَوْ يَتَرَاضَيَا عَلَيْهَا، حَتَّى لَوْ اصْطَلَحَا عَلَى أَكْثَرِ مِنْ قِيمَتِهِ جَازَ عِنْدَهُ خِلَافًا لَهُمَا.
اور دوسری قسم افعال حسیہ میں سے یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی پر دعوی کرے کہ اس مدعی علیہ نے اس کے دیوار پر کوئی لکڑی رکھ دی ہے یا اس کے دیوار پر کوئی تعمیر کر دی یا اس کے چھت یا اس کے دروازے میں میزاب و پرنالہ جاری کر دیا یا اس کے حق میں کوئی دروازہ وغیرہ کھولا یا اس کی زمین میں کوئی مٹی وغیرہ پھینک دی یا کوئی مردار وغیرہ پھینک دیا ہے یا اس جیسا اور کوئی دعوی جس کی وجہ سے پھینکنے والے مدعی علیہ پر اس کا نقل کرنا اٹھانا واجب ہو جائے پھر ایسی صورت میں قاضی مدعی علیہ سے قسم لینا چاہیے تو ایسی صورت میں اتفاق ہے کہ قاضی صاحب مدعی علیہ سے سبب پر قسم لے گا اس طور پر کہ اللہ کی قسم کھاؤ کہ تم نے ایسا نہیں کیا اس لیے کہ یہاں سبب پر قسم کھانے میں مدعی علیہ کا کسی بھی طور پر ضرر نہیں ہے اس لیے کہ مدعی کے لیے حق ثابت ہونے کے بعد یعنی ان چیزوں کو اٹھانے کا استحقاق ثابت ہونے کے بعد اگر مدعی اپنا حق ساقط بھی کر لے ساقط کرنے کے اسباب میں سے کسی بھی سبب کی وجہ سے( مثلا یہ مدعی، مدعی علیہ سے کہے اچھا رکھ لو کوڑا میری زمین پر یا رکھ لو میری دیوار پر اپنی لکڑی ) تو بھی مدعی علیہ کا کوئی نقصان نہیں ہے بلکہ مدعی علیہ کا فائدہ ہی فائدہ ہے جبکہ عقود شرعیہ میں نقصان ہو رہا تھا اس طور پر کہ اگر بیع ہونے کے بعد اقالہ ہو چکا ہو تو مشتری پر خواہ مخواہ کی قیمت لازم ہو جاتی، اس لیے وہاں امام صاحب حاصل بیع پر قسم لینے کے قائل ہوئے، اگر وہ ابتداء میں ہی اس کو اپنی دیوار پر لکڑی رکھنے دیتا ہے یا اپنی زمین میں مردار، کوڑا پھینکنے کی اجازت دیتا ہے تو یہ اس کی طرف سے بیع عاریت ہو جاتی اس کے بعد جب بھی اس کو مرضی ہوتی وہ مطالبہ کرتا کہ آپ یہاں سے اٹھا لو تو جائز تھا اس لیے ایسا کرنا چنانچہ جب ابتداء میں ایسا کرنا صحیح ہے تو انتہا میں بھی ان چیزوں کے ایسا کرنا جائز ہوگا ( یعنی جھگڑا کے بعد بھی اگر وہ راضی ہو جائے اور اجازت دے تو جائز ہے) ہاں البتہ اگر مدعی اس حق کو بیچنا چاہے اور مدعی علیہ سے پیسے لے کر کہے کہ آپ میرے حق ( دیوار) پر اپنی لکڑی رکھ دو یا میری دیوار پر اپنی دیوار کھڑی کر دو تو ایسی بیع کرنا صحیح نہیں ہے اس لیے کہ یہ منافع و حق کی بیع ہے اور حق و منافع کی بیع جائز نہیں ہے۔
وَأَمَّا النَّوْعُ الثَّانِي وَهُوَ مَا إذَا ادَّعَى عَلَى رَجُلٍ أَنَّهُ وَضَعَ عَلَى حَائِطِهِ خَشَبَةً، أَوْ بَنَى عَلَيْهِ بِنَاءً، أَوْ أَجْرَى عَلَى سَطْحِهِ أَوْ فِي دَارِهِ مِيزَابًا، أَوْ فَتَحَ عَلَيْهِ فِي حَقِّهِ بَابًا، أَوْ رَمَى تُرَابًا فِي أَرْضِهِ أَوْ مَيْتَةً، وَنَحْوَ ذَلِكَ مِمَّا يَجِبُ عَلَى صَاحِبِهِ نَقْلُهُ وَأَرَادَ اسْتِحْلَافَهُ عَلَى ذَلِكَ فَإِنَّهُ يُحَلِّفُهُ عَلَى السَّبَبِ بِاَللَّهِ مَا فَعَلْتَ هَذَا؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ فِي التَّحْلِيفِ هَا هُنَا ضَرَرٌ بِالْمُدَّعَى عَلَيْهِ؛ لِأَنَّهُ بَعْدَمَا ثَبَتَ هَذَا الْحَقُّ لِلْمُدَّعِي وَهُوَ اسْتِحْقَاقُ رَفْعِ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ عَنْ أَرْضِهِ لَا يَتَضَرَّرُ بِسُقُوطِهِ بِسَبَبٍ مِنْ الْأَسْبَابِ، فَإِنَّهُ لَوْ أُذِنَ لَهُ فِي الِابْتِدَاءِ أَنْ يَضَعَ الْخَشَبَةَ عَلَى حَائِطِهِ أَوْ يُلْقِيَ الْمَيْتَةَ فِي أَرْضِهِ كَانَ ذَلِكَ إعَارَةً مِنْهُ، فَمَتَى بَدَا لَهُ كَانَ لَهُ أَنْ يُطَالِبَهُ بِرَفْعِهِ، وَإِنْ بَاعَ مِنْهُ ذَلِكَ لَا يَجُوزُ؛ لِأَنَّ هَذَا بَيْعُ الْحَقِّ وَبَيْعُ الْحَقِّ لَا يَجُوزُ.
No comments:
Post a Comment