یہاں پر یہ مسئلہ ذکر کر رہے ہیں کہ اگر مدیون غائب ہو اس پاس سامان یا زمین وغیرہ ہو اور قرض خواہ اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کریں تو اس غائب مدیون کے خلاف کس طرح قاضی کارروائی کرے گا چناں چہ اگر مدیون کی ملکیت میں غیر منقولی اشیاء ہیں زمین وغیرہ تو بالاتفاق قاضی غائب مدیون کی طرف سے زمین بیچ کر قرض نہ اتارے اور اگر غائب مدیون کی منقولی اشیاء ہیں،سامان وغیرہ تو حضرت امام اعظم ابو حنیفہؒ کے نزدیک قاضی غائب مدیون کا سامان بیچ کر اس کا قرض چکتا نہیں کرے گا اور صاحبینؒ کے نزدیک غائب مدیون کا سامان قاضی بیچ سکتا ہے، اس کے بارے میں شمس الائمہ حلوانی رحمۃ اللہ علیہ نے تہذیب القلانسی میں ذکر کیا ہے کہ قاضی کو غائب شخص کے مال کی خرید و فروخت کی ولایت حاصل ہے اور اس سلسلے میں اگر غائب مدیون ہو تو امام ابو حنیفہ کے نزدیک قاضی اس کے سامان کو اس کے قرض کے بدلے میں نہیں بیچ سکتا ہے صاحبین فرماتے ہیں چونکہ قاضی کو غائب کے مال کی خرید و فروخت کی ولایت حاصل ہے اس لیے اگر مدیون غائب ہو گیا تو اس سے قرض کے بدلے میں قاضی اس کے سامان کو بیچ سکتا ہے۔
ذَكَرَ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ الْحَلْوَانِيُّ فِي تَهْذِيبِ الْقَلَانِسِيِّ: لِلْقَاضِي وِلَايَةُ بَيْعِ مَالِ الْغَائِبِ، وَفِيهِ لَوْ كَانَ الْمَدْيُونُ غَائِبًا لَا يَبِيعُ الْقَاضِي عُرُوضَهُ بِدَيْنِهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَقَالَا يَبِيعُهَا.
ہاں عقار زمین وغیرہ اتفاقا قاضی غائب شخص کی طرف سے بیچ نہیں سکتا ہے اسی کو فرمایا بہرحال عقار وغیرہ تو امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک بھی قاضی اس کے زمین وغیرہ کو نہیں بیچ سکتا ہے اور یہی صاحبینؒ کا قول ہے ظاہر روایت کے مطابق
وَأَمَّا الْعَقَارُ فَلَا يَبِيعُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَكَذَا قَوْلُهُمَا فِي الظَّاهِرِ.
البتہ پہلے والے مسئلے میں جہاں صاحبین نے فرمایا تھا کہ قاضی کو چونکہ غائب کے مال کی خرید و فروخت کی اجازت ہے اس لیے قاضی مدیون کے دین کے بدلے میں سامان کو بیچ سکتا ہے اس،اسی اختلاف پر یہ مسئلہ بھی مبنی ہے کہ عورت کے نفقہ کے سلسلے میں سامان بیچنا، امام صاحب کے نزدیک جائز نہیں،صاحبینؒ کے نزدیک جائز ہے اور اور نفقہ زوجہ میں زمین کے بیچنے کے سلسلے میں دو روایتیں ہیں جو کہ جامع العلوم میں دیکھیں جاسکتی ہیں۔
وَعَنْهُمَا أَنَّ لَهُ بَيْعَهُ بِعُرُوضِهِ، وَعَلَى هَذَا الْخِلَافِ بَيْعُ عُرُوضِهِ فِي نَفَقَةِ امْرَأَتِهِ، وَفِي الْعَقَارِ عَنْهُمَا رِوَايَتَانِ، اُنْظُرْ جَامِعَ الْفُصُولَيْنِ.
(مَسْأَلَةٌ) :
مدیون قرض ادا کرنا چاہتا ہے لیکن دائن غائب ہے تو قاضی غائب دائن کی طرف سے کسی کو وکیل مقرر کر کے اس کے قرض پر قبضہ کر سکتا ہے، اس کا نتیجہ کب نکلے گا یا یوں کہئے اثر کہاں ظاہر ہوگا ،چناں چہ اگر اسی مدیون نے اپنی بیوی سے کہا اگر میں فلاں کا قرض ایک مہینے کے اندر چکتا نہ کیا تو تم کو طلاق، اب مدیون ایک مہینے کے اندر قرض کی ادائیگی چاہتا ہے لیکن دائن غائب ہے تو بچنے کی یہی صورت ہے کہ مدیون قاضی کے پاس مقدمہ دائر کردے اور قاضی غائب دائن کی طرف سے وکیل مقرر کر کے قرض پر قبضہ کرا سکتا ہے اس طرح ایک مہینے کے اندر مدیون قرض سے بری ہوگا اس کی بیگم وقوع طلاق سے بچ سکتی ہے، اسی کو فرمایا قاضی غائب شخص کے طرف سے وکیل مقرر کر سکتا ہے اور پھر مدیون سے دین لے کر اس وکیل کے ہاتھ میں پکڑا کر مدیون کو بری کر سکتا ہے اسی پر فتویٰ ہے جیسا کہ محیط برہانی میں مذکور ہے۔
الْقَاضِي يُنَصِّبُ عَلَى الْغَائِبِ وَكِيلًا وَيَقْبِضُ مِنْ الْمَدِينِ فَيَبْرَأُ، وَبِهِ يُفْتَى، كَذَا فِي الْمُحِيطِ.
اب یہاں یہ مسئلہ بیان کر رہے کہ اصل تو یہی ہے کہ غائب کے حق میں یا غائب کے خلاف فیصلہ جائز نہیں، لیکن متقدمین و متأخرین فقہاء نے معاملات کی سنگینی و رفع ظلم و دفع حرج کی وجہ سے قاضی کو توکیل عن الغائب کی اجازت دی ہے، اب فرما رہے کہ اس توکیل کی اولاً دو قسمیں ہیں (١) توکیل حقیقی و قصدی کہ توکیل الغائب ایاہ یعنی غائب شخص خود کسی کو وکیل بنائے، (٢) توکیل حکمی اس توکیل حکمی کے بارے میں چار گروہ ہوگئے (١) بعض مشائخ کا جن میں شیخ الاسلام علامہ بزدوی اور شمس الاسلام علامہ اوزجندی ہیں، یہ حضرات فرماتے وکیل حکمی یہ ہے کہ غائب شخص پر شئ مدعیٰ سبب ہو حاضر شخص کے شئی مدعیٰ کے لیے، یعنی جس چیز کا غائب پر دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ شئ سبب ہو اس دعویٰ کے لیے جس کا دعویٰ حاضر پر کیا جا رہا ہے، مثلا زید کہے عمرو کے قبضے میں جو بکر کی زمین ہے وہ میری ہے تو بکر کی زمین ( شئ مدعیٰ) سبب ہے عمرو کے قبضے میں زمین ( شئی مدعیٰ) کے لیے یا دوسری تعریف غائب شخص پر شئ مدعیٰ شرط ہو حاضر شخص کے شئی مدعیٰ کے لیے مثلا زید اپنی بیوی سے کہے اگر بکر اپنی بیوی کو طلاق دے تو تمہیں طلاق اب اس مثال میں بکر کی بیوی پر طلاق ( شئی مدعیٰ) زید کی بیوی پر طلاق ( شئی مدعیٰ) کے لیے شرط ہے چناں چہ پہلی مثال میں عمرو بکر کے لیے اور دوسری مثال میں زید کی بیوی بکر کے لیے وکیل حکمی ہوگی
(١) عام مشائخ کا قول : غائب پر شئی مدعیٰ حاضر پر شئ مدعیٰ کے لیے صرف شرط ہو تب وکیل حکمی ہوگا۔
(٣) خوہرزادہ فرماتے ہیں تین وجہوں سے وکیل حکمی بنایا جا سکتا ہے (١) توکیل الحاضر ای توکیل الغائب الحاضرَ یعنی غائب خود حاضر کو وکیل بنائے، (٢) ہر چند شئی مدعیٰ غائب پر سبب ہو حاضر پر شئ مدعیٰ کے لیے اور غائب وحاضر کی شئی مدعیٰ ایک ہی ہو، جیسے اوپر زید، عمرو اور بکر کی زمین کی مثال گزر چکی ہے۔ (٣) کہ سبب کا ہی علاقہ ہو لیکن مدعیٰ شئی دو ہوں۔ چنان چہ خوہر زادہ کے نزدیک ان تین وجوہ کی بنا پر وکیل حکمی بنایا جا سکتا ہے اور قضاء علی الغائب کیا جا سکتا ہے گویا ان کے نزدیک شرطیۃ کے تعلق سے وکیل حکمی کا صدور نہیں ہوتا، بلکہ خوہرزادہ نے مدعیٰ کے ایک شئی یا دو شئی ہونے میں برابری اور دونوں مدعیٰ میں سببیت کا تعلق ضروری جانا ہے حاضر شخص کو غائب کی طرف سے خصم وکیل حکمی مقرر کرنے میں۔
(٤) مسلک جمہور کا ہے کہ شئ مدعیٰ ایک ہی ہو اور دونوں مدعیٰ میں سببیت کا تعلق ہو، چناں چہ اسی کو مصنف نے فرمایا عام مشائخ نے ذکر کیا ہے کہ سببیت شرط لگائی جاتی اس دعویٰ میں جس میں شئی مدعیٰ ایک ہی ہو یہی فقہ کے زیادہ قریب و مشابہ ہے یقیناً سببیت میں۔
وَفِيهِ: الْأَصْلُ أَنَّ الْحُكْمَ لِلْغَائِبِ وَعَلَيْهِ لَمْ يَجُزْ إلَّا أَنْ يُخْصَمَ عَنْهُ حَاضِرًا، إمَّا قَصْدِيٌّ وَهُوَ بِتَوْكِيلِ الْغَائِبِ إيَّاهُ، وَإِمَّا حُكْمِيٌّ وَهُوَ أَنْ يَكُونَ الْمُدَّعَى عَلَى الْغَائِبِ سَبَبًا لِمَا يُدَّعَى عَلَى الْحَاضِرِ لَا مَحَالَةَ، أَوْ شَرْطًا لَهُ عَلَى مَا ذَكَرَهُ بَعْضُ الْمَشَايِخِ مِنْهُمْ الْبَزْدَوِيُّ وَشَمْسُ الْإِسْلَامِ الْأُوزْجَنْدِيّ، وَعِنْدَ عَامَّتِهِمْ تُشْتَرَطُ السَّبَبِيَّةُ فَقَطْ.قَالَ خُوَاهَرْ زَادَهْ: يَجُوزُ بِأَحَدِ مَعَانٍ ثَلَاثَةٍ: أَحَدُهَا تَوْكِيلُ الْحَاضِرِ.وَالثَّانِي كَوْنُ الْمُدَّعَى عَلَى الْحَاضِرِ وَالْغَائِبِ شَيْئًا وَاحِدًا، وَمَا يُدَّعَى عَلَى الْغَائِبِ سَبَبًا لِمَا يُدَّعَى عَلَى الْحَاضِرِ لَا مَحَالَةَ.وَالثَّالِثُ كَوْنُ الْمُدَّعَى شَيْئَيْنِ بَيْنَهُمَا سَبَبِيَّةٌ لَا مَحَالَةَ كَمَا مَرَّ.فَفِي هَذِهِ الصُّوَرِ يُحْكَمُ عَلَى الْغَائِبِ، سَوَّى خُوَاهَرْ زَادَهْ بَيْنَ الشَّيْءِ وَالشَّيْئَيْنِ، فَشَرْطُ السَّبَبِيَّةِ لِانْتِصَابِ الْحَاضِرِ خَصْمًا عَنْ الْغَائِبِ فِي الْفَصْلَيْنِ.وَذَكَرَ عَامَّةُ الْمَشَايِخِ أَنَّ السَّبَبِيَّةَ تُشْتَرَطُ فِيمَا لَوْ كَانَ الْمُدَّعَى شَيْئًا وَاحِدًا وَهُوَ الْأَشْبَهُ وَالْأَقْرَبُ إلَى الْفِقْهِ هَذَا فِي السَّبَبِيَّةِ لَا مَحَالَةَ،
No comments:
Post a Comment