Saturday, August 3, 2024

9 تصفیہ

 41/ 994/ 1445 (متدائرہ دار القضاء امارت شرعیہ نالندہ بہار شریف) 

تبسم پروین بنت محمد رئیس الدین مرحوم مقام محلہ چھجو نصیر پور ڈاکخانہ بہار شریف بلاک بہار شریف ضلع نالندہ
محمد تاج الدین ولد محمد قیام الدین مرحوم مقام چھجو محلہ نصیرپور ڈاکخانہ بہار شریف ضلع بہار شریف ضلع نالندہ

معاملہ ھذا 29 شعبان المعظم 1445ھ مطابق 11 مارچ 2024 کو ذیلی دار القضاء امارت شرعیہ نالندہ بہار شریف میں بابت فسخ نکاح دائر نمبر ہوا، حسب ضابطہ کارروائی ہوئی، اطلاع مع مثنیٰ درخواست دعوی بنام فریق دوم بذریعہ رجسٹری جاری ہوئی اور اس سے مؤرخہ 14 رمضان المبارک 1445 مطابق 25 مارچ 2024ء تک بیان تحریری طلب کیا گیا مجریہ اطلاع بنام فریق دوم ڈاکخانہ کی اس رپورٹ کے ساتھ واپس آئی کہ اس نے لینے سے انکار کیا، بعدہٗ تاریخ سماعت 3 محرم الحرام 1445 مطابق 10 جولائی 2024ء روز بدھ مقرر کی گئی، تاریخ مذکور پر فریق اول اپنے گواہوں کے ہمراہ دار القضاء حاضر ہوئی فریق اول اور اس کے گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے جو شامل مسل ہیں، فریق دوم کبھی دار القضاء حاضر نہیں آیا اور نہ کوئی پیروی کی جبکہ فریق دوم کو آخری اطلاع دیتے ہوئے اس پر واضح کر دیا گیا تھا کہ عدم حاضری و عدم پیروی کی صورت میں معاملہ ھذا کا تصفیہ کیا جا سکتا ہے،لہذا معاملہ ھذا کی کارروائی ختم کر دی گئی بعدہٗ یہ مسل مع رپورٹ مرکزی دارالقضاء کو موصول ہوئی، یہاں سے کارروائی ختم کر دی گئی اور اب یہ مسل میرے سامنے برائے تصفیہ پیش ہے۔

فریق اول تبسم پروین بن محمد رئیس الدین مرحوم کے بیان عند القضاء کا خلاصہ ہے کہ اس کی شادی 3 دسمبر 2009ء کو فریق دوم محمد تاج الدین ولد محمد قیام الدین مرحوم کے ساتھ ہوئی، فریق اول کے فریق دوم سے تین بچے دو ببیٹیاں روزدہ فاطمہ، ریزہ فاطمہ اور ایک بیٹا محمد عرش ہیں، فریق اول کو فریق دوم سے یہ تکلیف تھی کہ شروع ہی سے فریق دوم اسے بے حد مارپیٹ کرتے تھے، بچی پیدا ہونے کے بعد اور زیادہ مارنے لگے فریق دوم کے ہاتھ میں جو آتا اسی سے مارنے لگتے یہاں تک کہ بیٹی کو بھی مار ڈالنے کی کوشش کرتے تھے، ایک بار پنچایتی بھی ہوئی اور فریق دوم کو سمجھایا گیا پھر بھی وہ نہیں سدھرا فریق دوم فریق اول کو اپنے ساتھ دہلی لے گیا وہاں بھی ان کی یہی حرکت رہی فریق دوم فریق اول کو الگ سے کچھ بھی خرچہ نہیں دیتے تھے اور ہمیشہ فریق اول سے کہتے کہ اپنے گھر والوں سے روپے مانگ کر لاؤ، پھر کسی جرم میں فریق دوم جیل چلے گیا اور ان کے مطالبے پر فریق اول نے 40 ہزار روپے انتظام کر کے ان کو جیل سے چھڑایا انہوں نے وعدہ کیا کہ وہ یہ سب رقم فریق اول کو واپس کرے گا لیکن فریق دوم نے رقم واپس نہیں کی بلکہ دوسری شادی کر کے 2018ء سے اپنی دوسری بیوی کو لے کر نہ جانے کہاں چلا گیا، قریب چھے سال گذر گئے اس پوری مدت میں فریق دوم فریق اول کو لینے نہیں آیا نہ ہی ملنے اور نہ ہی فریق اول اور اپنی بچوں کا خرچہ دیا اس لیے فریق اول کا مطالبہ ہے کہ اس کا نکاح فریق دوم سے ختم کر دیا جائے۔ 
فریق اول کے پیش کردہ گواہوں میں سے گواہِ اول محمد فیروز ولد منظور عالم کی ببیانعند القضاء کا خلاصہ یہ ہے کہ فریق اول تبسم پروین بنت محمد رئیس الدین مرحوم کی شادی فریق دوم محمد تاج الدین ولد محمد قیام الدین مرحوم کے ساتھ 3 دسمبر 2009ء کو ہوئی فریق اول کے فریق دوم سے تین اولاد بھی ہیں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں فریق اول کو جو مارپیٹ کی تکلیف فریق دوم کی طرف سے تھی اس کی جانکاری اسے فریق اول کے بتانے سے ہوئی البتہ یہ وہ اچھی طرح جانتا ہے کہ فریق دوم نے دوسری شادی کری ہے اور دوسری بیوی کے ساتھ پانچ چھ سالوں سے نہ جانے کہاں چلا گیا ہے نہ وہ اس مدت میں فریق اول سے ملنے آیا نہ لینے اور نہ ہی فریق اول اور اپنے بچوں کا خرچہ بھیجا،فریق دوم کی طرف سے قریب چھ سالوں سے فریق اول ہر حق سے محروم ہے۔ 

فریق اول کی طرف سے پیش کردہ گواہوں میں سے گواہِ دوم ساحل اعظم ولد محمد رئیس الدین مرحوم کے بیان عند القضاء کا خلاصہ یہ ہے کہ تبسم پروین بنت محمد رئیس الدین مرحوم کی شادی فریق دوم محمد تاج الدین ولد محمد قیام الدین مرحوم کے ساتھ 3 دسمبر 2009 کو ہوئی، فریق اول کے فریق دوم سے تین اولاد بھی ہیں ایک بیٹا اور دو بیٹیاں اس نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ فریق دوم نے فریق اول کو بری طرح مارا تین بار مارتے ہوئے اس نے خود دیکھا، جیل سے فریق دوم کو اس کی بہن فریق اول نے 40 ہزار روپے خرچ کر کے نکالا فریق دوم نے وعدہ کیا تھا کہ یہ روپے وہ واپس کرے گا لیکن واپس نہیں کیا، قریب چھے سال پہلے فریق دوم نے دوسری شادی کر لی ہے اور اسی دوسری بیوی کے ساتھ نہ جانے کہاں چلا گیا ہے قریب چھے سالوں سے نہ تو فریق دوم فریق اول سے ملنے آیا نہ لینے اور نہ ہی فریق اول اور اپنے بچوں کا کوئی خرچ بھیجا، اسی لیے فریق اول نے فریق دوم سے نکاح ختم کرنے کی درخواست دی ہے۔ 

فریق اول کے پیش کردہ گواہوں سے ثابت ہے کہ اس کی شادی 3 دسمبر 2009ء کو فریق دوم محمد تاج الدین ولد محمد قیام الدین مرحوم کے ساتھ ہوئی، فریق اول کے فریق دوم سے تین بچے ہیں۔ قریب چھے سال گذر گئے اس پوری مدت میں فریق دوم فریق اول کو لینے نہیں آیا نہ ہی ملنے اور نہ ہی فریق اول اور اپنی بچوں کا خرچہ دیا ہے۔ 
دوسری طرف فریق دوم کو بار بار رجسٹری اطلاع دے کر رفع الزام کے لیے دارالقضاء طلب کیا گیا لیکن وہ کسی بھی تاریخ سماعت پر دار القضاء حاضر نہیں آیا جبکہ بحیثیت مسلمان اس پر لازم و ضروری تھا کہ وہ دار القضاء حاضر ہو کر رفع الزام کرتا جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: ” إنما كان قول المؤمنين إذا دعوا إلى الله ورسوله ليحكم بينهم أن يقولوا سمعنا وأطعنا “ (النور / (۵۱) آیت مذکورہ کے ذیل میں صاحب معین الحکام لکھتے ہیں: ”وفی الآية دليل على أنه من دعى إلى حاكم فعليه الإجابة ويجرح إن تأخر “ (معين الحكام ص، (۱۴۱)

فریق دوم کا دار القضاء حاضر نہ آنا اور حاضری سے مسلسل گریز  کرنا اس کی ہٹ دھرمی و سرکشی کی واضح نشانی ہے اور اس کا یہ رویہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ وہ رفع الزام سے عاجز و قاصر ہے بلکہ اس کا یہ طرز عمل نکول عن الحلف کے قائم مقام ہو کر اقرار دعوی کے حکم میں ہے۔
شامی میں ہے: ” وقضى القاضي عليه بنكوله مرة، لو نكوله في مجلس القاضي، حقيقة كقوله ”لا أحلف“ أوحكما ”إن سکت“ (شامی (۲۶۹/۸)

زیر بحث معاملہ میں فریق اول عرصہ دراز سے منجانب فریق دوم نان و نفقہ سے محروم ہے جبکہ فریق دوم پر بحیثیت زوج لازم و ضروری تھا کہ وہ فریق اول کے نان و نفقہ کا معقول انتظام کرتا کیونکہ شریعت مطہرہ نے بیویوں کا خرچ شوہر کے ذمہ واجب قرار دیا ہے، ارشاد خداوندی ہے: ” و على المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف“ (البقرة / ۲۳۳) دوسری جگہ ہے: ”لينفق ذو سعة من سعته، ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله“ (الطلاق/۷) ہدایہ میں ہے:  ”النفقة واجبة للزوجة على زوجها مسلمة كانت أو كافرة إذا سلمت نفسها إلى منزله فعليه نفقتها وكسوتها وسكناها“ هدایه، ۳۷۴/۳-۳۷۵)
بیوی اگر اپنے میکہ میں ہو اور ناشزہ نہ ہو تو بھی اس کا نفقہ شوہر کے ذمہ لازم ہے ، شامی میں ہے: ”ولو هي في بيت أبيها إذا لم يطالبها الزوج بالنقلة“ به یفتی شامی (۲۸۴/۵)
 ایسی عورت جو شوہر کی جانب سے نان و نفقہ سے محروم ہو اور اس کا شوہر اس کو طلاق بھی نہ دے رہا ہو تو شریعت اسلامیہ نے ایسی عورت کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنا معاملہ قاضی کے یہاں لے جائے اور فسخ نکاح کا مطالبہ کرے، قاضی کے یہاں اگر عورت کا دعوی ثابت ہو جائے تو قاضی کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے، الحیلة الناجزة میں ہے: ”أما المتعنت أى الممتنع . عن الإنفاق ففى مجموع الأمير ما نصه: إن منعها نفقة الحال فلها القيام، فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق علیہ قال محشیہ قولہ والا طلق علیہ أى طلق عليه الحاكم من غير تلوم“ .( الحيلة الناجزة، ص ۲۱۳) 
اسی طرح فریق اول نے اپنے بچوں کا بھی نفقہ ادا نہیں کیا، جبکہ بحیثیت والد اس پر لازم و ضروری تھا کہ وہ اپنی بچوں کا نان و نفقہ ادا کرتا کیونکہ شریعت اسلامیہ نے نابالغ اولاد کا نفقہ باپ کے ذمہ لازم کیا ہے ، ہدایہ میں ہے " ونفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كما لا يشاركه فى نفقة الزوجة . (هدايه، ۳۹۵/۳)
بہر حال فریق دوم پر بحیثیت زوج لازم تھا کہ وہ فریق اول کو رخصت کرا کر لے جاتا اس کے تمام حقوق ادا کرتا اور اس کو اچھی طرح سے رکھ کر :”امساک بالمعروف“ پر عمل کرتا ، اور اگر وہ ادائے حقوق پر قادر نہ تھا یا با وجود قدرت کے کسی وجہ سے ادا کرنا نہیں چاہتا تھا تو: ”تسریح بالا حسان“ پر عمل کرتے ہوئے فریق اول کو ایک طلاق بائن دیدیتا لیکن اس نے ان دونوں راہوں کو چھوڑ کر تیسری راہ اپنائی اور فریق اول کو کالمعلقہ بنا کر میکے میں چھوڑے رکھا،جس سے اللہ رب العزت نے منع فرمایا ہے، ارشاد خداوندی ہے: ”فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقۃ“ (النساء / ۱۲۹) ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: ”ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا،ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه“ (البقرة / ۲۳۱) فریق دوم کا فریق اول کو کالمعلقہ چھوڑ دینے سے فریق اول سخت ضرر و حرج میں مبتلاء ہے، فریق دوم کا یہ رویہ اس پر سراسر ظلم ہے،اور دفع ضرر و حرج و رفع ظلم و جور فریضۂ قضاء ہے معین الحکام میں ہے: ”أما حكمته فرفع التهارج ورد النوائب وقمع الظالم ونصر المظلوم و قطع الخصومات والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر“ (معين الحكام، ص، (۷)
 لہذا مندرجہ بالا مباحث و مصالح دینیہ کی رعایت کرتے ہوئے میں درج ذیل حکم دیتا ہوں :

حکم

آج میں نے بر بناء عدم اداء نان و نفقه و عدم اداء حقوق زوجیت و بوجه ترک کالمعلقه از بنظر دفع ضرر و حرج و رفع ظلم و جور و سد باب فتن و بغرض تحفظ عفت و عصمت فریق اول تبسم پروین بنت محمد رئیس الدین مرحوم کا عقد نکاح فریق دوم محمد تاج الدین ولد محمد قیام الدین مرحوم سے فسخ کر دیا ، اب وہ اس کی بیوی نہیں رہی ، عدت گزار کر وہ اپنے نفس کی مجاز ہے۔ فقط
 ( نوٹ ) واضح رہے کہ یہ ایک حکم شرعی ہے۔

No comments:

Post a Comment