[فَصْلٌ فِي تَصْحِيحِ الدَّعْوَى]
یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ یہ بیان فرما رہے ہیں کہ جب کوئی دعوی کرے تو جس چیز کے بارے میں دعوی کر رہا ہے یعنی شئ مدعیٰ اس کی نوعیت اس کی جنس اس کی صفت بیان کرنا ضروری ہے اور اگر وہ چیز مکیلی ہو تو کیل کا بھی ذکر کرنا ضروری ہے اس لیے کہ کیل جگہوں کے بدلنے سے بدل جاتا ہے یہ ممکن ہے کہ ایک جگہ کیل کا پیمانہ الگ ہو دوسری جگہ الگ، اس لیے کون سا کیل ہے اس کا متعین کرنا ضروری ہے، چنانچہ فرمایا : شئ مدعیٰ کی چند قسمیں ہیں یہاں کتاب میں ”مدعیٰ بہ“ لیکن صحیح صرف مدعیٰ ہے مدعیٰ بہ غلط ہے اگر کوئی دعوی کرے کسی مکیلی چیز کے بارے میں تو ضروری ہے کہ چیز کی جنس کا ذکر کرنا اس طور پر کہ وہ گیہوں تھا یا گندم تھا اسی طرح مدعا بہ کی نوع کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے اس طور پر کہ وہ تر تھا، خشک یا موسمی تھا اور اسی طرح اس کی صفت بھی ذکر کرنا ضروری ہے کہ وہ سفید گیہوں یا زرد رنگ گیہوں تھا، اسی طرح اس کی عمدگی و ردیت کا بھی ذکر کنا ضروری ہے اور پھر کیل کے ذریعے اس کی مقدار بھی بیان کرنا ضروری ہے اس طور پر کہ فلاں قفیز کا پیمانہ تھا یا فلاں قفیز تھا کیوں کہ اس دو قفیزوں میں تفاوت ہوتا ہے اور ساتھ میں اس کے سبب وجوب کو بھی ذکر لازمی ہے کہ مدعیٰ علیہ پر وہ چیز کیسے لازم ہوگئی یعنی اس کے قبضے میں وہ شئبکیسے آ گئی ہے،کہیں ایسا نہ ہو کہ مدعِی نے اس کو کبھی ہدیہ دی ہو یا عاریت پر دی ہو اور اب اس پر الزام لگا رہا ہو کہ اس لیے اس کے سبب وجوب کو بھی ذکر کرے گا کہ کس اعتبار سے لازم ہے وہ کیسے لے گیا اس لیے کہ دین کے احکام اسباب کے بدلنے سے بدل جاتے ہیں جیسے کہ اگر اس کا سبب سلم ہو یعنی بیع سلم کے طور پر دیا ہو تو پھر آدائیگی کی جگہ کا بیان کرنا بھی ضروری ہوگا کہ کس جگہ ہم نے اس کو وہ چیز دی ہے تا کہ اختلاف سے بچنا نفع بخش ہو اور اس چیز کا قبضے سے پہلے بدلنا بھی جائز نہیں ہے اگر بیع سلم کے طور پر ہو لیکن اگر بیع سلم کے طور پر نہ ہو بلکہ ثمن بیع ہو تو پھر قبضے سے پہلے ثمن کا بدلنا جائز ہے اس لیے کہ ثمن متعین نہیں ہوتا ہے اور اگر ثمن بیع ہو تو پھر اس صورت میں ادائیگی کی جگہ کا بیان کرنا بھی شرط نہیں ہے۔
وَالْمُدَّعَى بِهِ أَنْوَاعٌ فَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى مَكِيلًا لَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِ جِنْسِهِ بِأَنَّهُ حِنْطَةٌ أَوْ شَعِيرٌ، وَيَذْكُرُ مَعَ ذَلِكَ نَوْعَهُ أَنَّهَا سَقِيَّةٌ أَوْ بَرِّيَّةٌ وَرَبِيعِيَّةٌ، وَيَذْكُرُ مَعَ ذَلِكَ صِفَتَهَا كَالْحِنْطَةِ الْبَيْضَاءِ وَالْحَمْرَاءِ، وَيَذْكُرُ أَنَّهَا جَيِّدَةٌ أَوْ رَدِيئَةٌ، وَيَذْكُرُ قَدْرَهَا بِالْكَيْلِ بِأَنَّهَا كَذَا قَفِيزًا بِقَفِيزٍ كَذَا؛ لِأَنَّ الْقُفْزَانَ تَتَفَاوَتُ فِي ذَاتِهَا، وَيَذْكُرُ سَبَبَ الْوُجُوبِ؛ لِأَنَّ أَحْكَامَ الدَّيْنِ تَخْتَلِفُ بِاخْتِلَافِ أَسْبَابِهَا، فَإِنَّهُ إذَا كَانَ سَبَبُهُ السَّلَمَ يَحْتَاجُ إلَى بَيَانِ مَكَانِ الْإِيفَاءِ لِيَنْفَعَ التَّحَرُّزُ مِنْ الِاخْتِلَافِ، وَلَا يَجُوزُ الِاسْتِبْدَالُ بِهِ قَبْلَ الْقَبْضِ، وَإِنْ كَانَ مِنْ ثَمَنِ بَيْعٍ يَجُوزُ الِاسْتِبْدَالُ بِهِ قَبْلَ الْقَبْضِ، وَلَا يُشْتَرَطُ بَيَانُ مَكَانِ الْإِيفَاءِ.
اگر دعوی چیزوں میں سے کسی چیز کے بارے میں ہو دراں حالیکہ وہ چیز مدعیٰ علیہ کے قبضے میں ہو تو دعوی کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ وہ بیان کرے اس چیز نام وغیرہ جس چیز کا دعوی کر رہا ہے اور ساتھ میں ذکر کرے گا کہ وہ چیز مدعیٰ علیہ کے قبضے میں ہے کس طریقے سے آئی یعنی غصب کر کے لے گیا ہے، ظلم کر کے لے گیا ہے ودیعت کے طور پر اس کے ہاتھ قبضے میں ہے، عاریت کے طور پر اس کے قبضے میں ہے رھن کے طور پر اس کے قبضے میں ہے، اجارہ یا اس کے علاوہ کسی اور طریقے سے اس کے قبضے میں آئی ہے گویا مدعیٰ علیہ کے ہاتھ میں وہ چیز کیسے پہنچی اس سبب کو ذکر کرنا پڑے گا۔
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي شَيْءٍ مِنْ الْأَعْيَانِ وَهُوَ بِيَدِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ فَتَصْحِيحُ الدَّعْوَى أَنْ يُبَيِّنَ مَا يَدَّعِيَ وَيَذْكُرَ أَنَّهُ فِي يَدِ الْمَطْلُوبِ بِطَرِيقِ الْغَصْبِ أَوْ التَّعَدِّي أَوْ الْوَدِيعَةِ أَوْ الْعَارِيَّةِ أَوْ الرَّهْنِ أَوْ الْإِجَارَةِ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ.
بعض قاضیوں نے فرمایا کہ اگر مدعی اپنے دعوی میں اس چیز کو چھوڑ دیے یا بیان نہ کرے جس میں اس کے مطلب کا بیان ہو یعنی اپنے مطلب و فائدہ کی بات چھپا رہا ہو تو قاضی اس کو اس بات کے پورا کرنے کا حکم دے گا اور اگر مدعی کے دعوی میں کوئی باعث اشکال بات ہو تو قاضی اس کو وضاحت کرنے کا حکم دے گا کہ اپنی بات کی وضاحت کرو! پس جب دعوی صحیح ہو جائے کوئی اعتراض نہ رہے،دعوی کے تمام پہلو واضح ہوجائیں، ہر طرح کی تشنگی بجھ جائے، کیل، نوع، جنس سب ذکر کر دی اور اسی طرح کوئی اشکال بھی نہیں ہے قاضی صاحب پوری طرح سے مدعی کا دعوی سمجھ گئے تو اس کے بعد قاضی مدعی علیہ کی طرف توجہ کریں گے اور مدعیٰ علیہ سے سوالات پوچھے گا۔
قَالَ بَعْضُ الْقُضَاةِ: فَإِذَا نَقَصَ الْمُدَّعِي مِنْ دَعْوَاهُ مَا فِيهِ بَيَانُ مَطْلَبِهِ أَمَرَهُ بِتَمَامِهِ، وَإِنْ أَتَى بِإِشْكَالٍ أَمَرَهُ بِبَيَانِهِ، فَإِذَا صَحَّتْ الدَّعْوَى سَأَلَ الْحَاكِمُ الْمَطْلُوبَ.
اگر دعوی منقولی چیز کے بارے میں ہو ایسی منقولی چیز جس کو نقل کرنا متعذر ہے بعض اشیاء غیر منقولہ ہوتی ہیں جسے زمین، مکان وغیرہ اور بعض اشیاء منقولہ اور اشیاء منقولہ میں بھی بعض چیزیں وہ ہیں جن کو اگرچہ نقل کرنا ممکن ہے لیکن بہت مشکل ہے تو اگر ایسی ہی چیز ہو جس کا نقل کرنا بہت مشکل ہو جیسے کہ چکی یا اس جیسی چیز، تو پھر حاکم اس جگہ پر حاضر ہوگا یا وہاں اپنے کسی امانت دار آدمی کو بھیجے گا معائنے کے لیے، مجتبی نامی کتاب میں علامہ اسبیجابی رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے گائے کے چوری کا مسئلہ بیان کرتے ہوئے فرمایا اگر گائے چوری ہو گئی اور پھر اس کے رنگ کے بارے مدعی اور اس کے گواہوں میں اختلاف ہو گیا تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک گواہوں کی گواہی جب بھی قبول کی جائے گی اور صاحبین رحمہما اللہ تعالی کے نزدیک گواہوں کی گواہی قبول نہیں ہوگی کیونکہ صاحبین رحمہما اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جس طرح مدعی اور اس کے گواہوں کی باتوں میں اتفاق ہونا ضروری ہے مثلا اگر مدعی کہتا ہے گائے کا رنگ سفید تھا تو گواہان بھی شہادت دینے چاہیں کہ ہاں گائے کا رنگ سفید تھا اسی طرح گواہ اور گواہ دونوں گواہوں کی گواہی میں اتفاق ہونا بھی ضروری ہے ایسا نہ ہو کہ ایک گواہ تو سفید گائے کا ذکر کر رہا ہے اور دوسرا گواہ کالا رنگ بیان کر رہا ہے تو صاحبین رحمہما اللہ کے نزدیک مدعی اور ان کے گواہوں کی باتوں میں بھی اتفاق ہونا ضروری ہے اور گواہوں کی باتوں کا بھی آپس میں متفق ہونا ضروری ہے اس لیے فرمایا اگر گائے چوری ہو گئی اور اس کے رنگ کے بارے میں اختلاف ہو گیا تو امام صاحب کے نزدیک تو شہادت قبول ہے لیکن صاحبین رحمہما اللہ تعالی کے نزدیک شہادت قبول نہیں ہوگی اب اس مسئلے کو بیان کر کے مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ استدلال کرتے ہیں کہ اس مسئلے سے پتہ چلتا ہے اور یہ مسئلہ دلالت کرتا ہے اس بات پر کہ منقولی اشیاء کا عدالت میں قاضی کے سامنے حاضر کرنا صحت دعوی کی شرائط میں سے نہیں ہے یعنی اگر کوئی مدعی مدعیٰ کو عدالت میں حاضر نہ کرے تو اس کے بغیر بھی اس کا دعوی کرنا صحیح ہوگا مدعیٰ کا عدالت میں حاضر ہونا ضروری نہیں کیونکہ اگر مدعیٰ کا عدالت میں حاضر کرنا صحت دعوی کی شرائط میں سے ہوتا تو پھر یہاں پر اس گائے کو حاضر کرنا تھا اور اگر گائے حاضر ہوتی تو رنگ میں اختلاف نہ ہوتا گائے کے رنگ میں اختلاف ہونا اس بات کی دلیل ہے کی گائے حاضر نہیں ہے اور جب گائے حاضر نہیں تو مدعیٰ شئی منقولی حاضر نہیں اسی سے پتہ چلا کہ منقولی اشیاء کا عدالت میں حاضر کرنا ضروری نہیں ہے اسی کو مصنف نے فرمایا کہ اگر اگر شئی مدعیٰ منقولہ کا عدالت میں حاضر کرنا شرط ہوتا تو یہاں گائے بھی حاضر کی جاتی اور جب گائے حاضر حاضر خدمت کی جاتی تو مشاہدہ میں اختلاف نہ ہوتا پھر فرمایا کہ لوگ اس چیز سے غافل ہیں انہیں پتہ ہی نہیں وہ سمجھتے ہیں کہ اشیاء منقولہ کا حاضر کرنا عدالت میں ضروری ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي الْمَنْقُولَاتِ الَّتِي يَتَعَذَّرُ نَقْلُهَا كَالرَّحَى وَنَحْوِهَا حَضَرَ الْحَاكِمُ عِنْدَهَا أَوْ بَعَثَ أَمِينًا وَفِي الْمُجْتَبِي قَالَ الْإِسْبِيجَابِيُّ فِي مَسْأَلَةِ سَرِقَةِ الْبَقَرَةِ: لَوْ اُخْتُلِفَ فِي لَوْنِهَا تُقْبَلُ الشَّهَادَةُ عِنْدَهُ خِلَافًا لَهُمَا، وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ تَدُلُّ عَلَى أَنَّ إحْضَارَ الْمَنْقُولِ لَيْسَ بِشَرْطٍ لِصِحَّةِ الدَّعْوَى، وَلَوْ شَرَطَ لَأُحْضِرَتْ وَلَمَا وَقَعَ الِاخْتِلَافُ عِنْدَ الْمُشَاهَدَةِ ثُمَّ قَالَ: وَالنَّاسُ عَنْهَا غَافِلُونَ،
اگر دعوی ہلاک شدہ چیز کے سلسلے میں ہو یعنی جو چیز ختم ہو گئی ہو تو مدعی اس کی قیمت کا ذکر کرے گا اس لیے کہ کسی چیز کو محض وصف سے نہیں پہچانا جاتا ہے بلکہ جب تک قیمت نہ بیان کرے تو اس چیز کی تائید نہیں ہوتی اس لیے کہ کبھی کبھی بہت ساری چیزیں ایک طرح کی ہوتی ہیں اس لیے محض وصف سے مدعیٰ معلوم نہیں ہوگی اور ہاں قیمت وصف کے ذریعے پہچانی جاتی ہے پس اگر کوئی کہے مثلا کہ اس کی قیمت دس دراہم تھی عمدہ چاندی میں سے یا اسی طرح صاف و عمدہ دنانیر یا رکنی سونے کے دس دینار ( یہاں کتاب میں الذھب الرکنی ہے جبکہ بعض جگہ الزکی ہے)تو اس چیز سے اس کی قیمت معلوم ہوگی ایسی صفت سے قیمت کی تعین ہو گئی اسی طرح بعض حضرات نے فرمایا جیسا کہ ”نہایۃ“ میں ہے کہ قیمت ایسی چیز ہے جس کے ذریعے کسی چیز کے عین کو پہچانا جاتا۔
وَإِنْ كَانَتْ هَالِكَةً ذَكَرَ الْمُدَّعِي قِيمَتَهَا؛ لِأَنَّ الْعَيْنَ لَا تُعْرَفُ بِالْوَصْفِ، إذْ رُبَّمَا تُوجَدُ أَعْيَانٌ كَثِيرَةٌ بِذَلِكَ الْوَصْفِ فَلَا يَكُونُ الْمُدَّعَى مَعْلُومًا بِهِ، وَالْقِيمَةُ تُعْرَفُ بِالْوَصْفِ، فَإِنَّهُ إذَا قَالَ مَثَلًا: قِيمَتُهُ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ مِنْ الْفِضَّةِ الْجَيِّدَةِ أَوْ كَذَا دِينَارًا مِنْ الذَّهَبِ الرُّكْنِيِّ تَصِيرُ قِيمَتُهُ مَعْلُومَةً بِهَذَا الْوَصْفِ، كَذَا قِيلَ. وَفِي النِّهَايَةِ: وَالْقِيمَةُ شَيْءٌ تُعْرَفُ الْعَيْنُ بِذَلِكَ الشَّيْءِ.
قاضی خان و صاحب ذخیرہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ عین شی غائب ہو یعنی موجود نہ ہو لیکن مدعی نے دعوی کیا کہ وہ مدعیٰ علیہ کے قبضے میں ہے اور مدعیٰ علیہ انکار کرے کہ ہمارے قبضے میں نہیں ہے اب اگر مدعی اس غائب چیز کی قیمت اور اس کی صفت کو ذکر کرے گا تو پھر مدعی کا دعوی سنا جائے گا اور اس کی گواہوں کو قبول کیا جائے گا اور اگر اس کی صفت بیان کرے لیکن قیمت بیان نہ کرے اور یہ کہے کہ اس نے مجھ سے عین اس طرح سے چیز غصب کی ہے لیکن میں نہیں جانتا کہ وہ چیز ہلاک ہوگئ ہے اس کے ہاتھ میں یا اس کے قبضے میں موجود ہے اور میں اس کی قیمت بھی نہیں جانتا صرف اس کی صفت جانتا ہوں تو عام۔ کتب فقہ میں مذکور ہے کہ ایسے میں مدعی کا دعوی سنا جائے گا اس لیے کہ انسان بسا اوقات اپنے چیز اپنے مال کی قیمت کو نہیں جانتا ہے کہیں سے ہدیہ آیا، کسی نے دیا تو ضرور نہیں کہ اس کی قیمت معلوم ہو پس اگر اس کی قیمت بیان کرنے کا اس کو مکلف بنایا جائے تو اس میں اس کو ضرر پہنچے گا کبھی کبھار وہ دعوی چھوڑ کے ہی چلا جائے گا اور اس سے حق تلفی ہو سکتی ہے جبکہ بعض حضرت نے فرمایا کہ وصف کے ساتھ ساتھ قیمت کا بھی بیان کرنا ضروری ہے
وَقَالَ قَاضِي خَانَ وَصَاحِبُ الذَّخِيرَةِ: لَوْ كَانَتْ الْعَيْنُ غَائِبَةً وَادَّعَى أَنَّهَا فِي يَدِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ فَأَنْكَرَ، إنْ بَيَّنَ الْمُدَّعِي قِيمَتَهُ وَصِفَتَهُ تُسْمَعُ دَعْوَاهُ وَتُقْبَلُ بَيِّنَتُهُ، وَإِنْ لَمْ يُبَيِّنْ الْقِيمَةَ وَقَالَ غَصَبَ مِنِّي عَيْنَ كَذَا وَلَا أَدْرِي أَنَّهُ هَالِكٌ أَوْ قَائِمٌ وَلَا أَدْرِي كَمْ كَانَتْ قِيمَتُهُ. ذُكِرَ فِي عَامَّةِ الْكُتُبِ أَنَّهُ تُسْمَعُ دَعْوَاهُ؛ لِأَنَّ الْإِنْسَانَ رُبَّمَا لَا يَعْرِفُ قِيمَةَ مَالِهِ، فَلَوْ كُلِّفَ بَيَانَ الْقِيمَةِ لَتَضَرَّرَ بِهِ. وَقِيلَ: لَا بُدَّ مِنْ بَيَانِ قِيمَتِهِ.
فخر الاسلام بزدوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب مسئلہ مختلف فیہ ہو تو مناسب ہے قاضی کے لیے کہ وہ مدعی کو مکلف بنائے گا قیمت کے بیان کرنے کا تاکہ وہ قیمت بھی بیان کرے اور جب وہ اس کو مکلف بنائے لیکن پھر بھی وہ اس کی قیمت بیان نہ کر سکے تو اس کا دعوی سنا جائے گا اور ائمہ ثلاثہ کے نزدیک ھلاک شدہ اشیاء میں مثل یا قیمت کا ذکر زیادہ بہتر و موکد ہے۔
وَقَالَ فَخْرُ الْإِسْلَامِ: إذَا كَانَتْ الْمَسْأَلَةُ مُخْتَلَفًا فِيهَا يَنْبَغِي لِلْقَاضِي أَنْ يُكَلِّفَ الْمُدَّعِيَ بَيَانَ الْقِيمَةِ، فَإِذَا كَلَّفَهُ وَلَمْ يُبَيِّنْ تُسْمَعُ دَعْوَاهُ وَعِنْدَ الْأَئِمَّةِ الثَّلَاثَةِ ذِكْرُ الْمِثْلِ أَوْ الْقِيمَةِ فِي التَّالِفَةِ آكَدُ.
اور اگر ذمے میں کسی چیز کا دعوی کرے تو پھر اس کی مقدار کو بیان کرے گا جیسا کہ گذر گیا البتہ اس کی نوع اس کی جنس وغیرہ کا ذکر کرنا ضروری نہیں اس لیے کہ ذمے میں کوئی چیز متعین نہیں ہوتی ہے صرف اس کی مقدار بیان کرے گا کہ کتنا اس کے ذمے ہے مگر یہ کہ وہ محتاج نہیں ہے اس چیز میں کہ وہ ذکر کرے وہ شئ اس کے قبضے میں ہے یا نہیں بلکہ ذکر کرے گا کہ اس کے ذمے میں وہ چیز کیسے آئی، بیع کے ذریعے اس کے ذمے میں آئی یا قرض کے ذریعے یا بیع سلم کے ذریعے یا اس جیسی کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي شَيْءٍ فِي الذِّمَّةِ فَيُبَيِّنُ قَدْرَهُ كَمَا تَقَدَّمَ إلَّا أَنَّهُ لَا يَحْتَاجُ فِي هَذَا إلَى ذِكْرِ أَنَّهُ فِي يَدِهِ، بَلْ يَذْكُرُ أَنَّهُ تَرَتَّبَ فِي الذِّمَّةِ مِنْ بَيْعٍ أَوْ قَرْضٍ أَوْ سَلَمٍ وَنَحْوِ ذَلِكَ.
اگر دعوی گھر یا زمینوں کے عقار کے سلسلے میں ہو تو اس کی جائے وقوع کا بیان کرنا ضروری ہے یعنی کس شہر،کس محلے،کس گلی میں ہے
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي دَارٍ أَوْ عَقَارٍ مِنْ الْأَرَاضِي فَيُبَيِّنُ مَوْضِعَهَا مِنْ الْبَلَدِ وَالْمَحِلَّةِ ثُمَّ السِّكَّةِ،
پھر اختلاف ہوا کہ زمین یا عقار وغیرہ کی چیزوں میں جب کوئی ان کا دعویٰ کرے اور جگہ بیان کرنا چاہے تو ابتداء کہاں سے کرے گا ؟ عام سے خاص کی طرف آئے گا یا خاص سے عام کی طرف جائے گا مثلا کوئی اپنی زمین کو متعین کرنے کے لیے ایسا کہے کہ میری زمین ایشیاء کے ہندوستان کے بہار کے پٹنہ کے پھلواری شریف میں ہے یہ ہو گیا عام سے خاص کی طرف یا خاص سے عام کی طرف جائے مثلا یہ کہے کہ میری زمین پھلواری شریف میں ہے جو پٹنہ میں ہے پٹنہ بہار میں ہے بہار ہندوستان میں ہے ہندوستان ایشیاء کا حصہ ہے چنانچہ اسی کے سلسلے میں فرمایا کہ بقول امام محمد وہ پہلے ضلع کا ذکر کرے گا پھر محلہ کو وغیرہ کو اس لیے کہ امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب یہی ہے کہ وہ ابتدا کرے گا عام سے خاص کی طرف بعض حضرات نے فرمایا کہ خاص سے ابتدا کرے گا عام کی چنانچہ وہ کہے گا کہ فلاں گھر فلاں جو فلاں گلی میں فلاں محلہ میں فلاں ضلع میں ہے ان حضرات نے نسب پر قیاس کیا اس طور پر کی نسب میں کہا جاتا ہے کہ فلاں ہے پھر کہا جاتا ہے کہ فلاں کا بیٹا ہے یعنی خاص سے عام کی طرف جاتے ہیں کوئی ایسا نہیں کہتا کہ آدم علیہ الصلوۃ والسلام پھر اس کے بیٹے پھر اس کے بیٹے پھر پوچھتے پہچانے فلاں کا بیٹا ہے تو جس طرح نسب میں خاص سے عام کی طرف جاتے ہیں اسی طرح یہاں پر بھی خاص سے عام کی جائے گا چنانچہ جس طرح نسب میں پہلے فلاں کو ذکر کیا جاتا ہے پھر فلاں ابن فلاں پھر اس کے دادے کو یعنی نسب میں ابتداء کی جاتی ہے اقرب سے پھر ابعد کی طرف چڑھا جاتا ہے اسی یہاں زمین و وقار کی تعیین میں بھی پہلے اقرب پھر ابعد کی طرف جائیں گے،اب یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالی کا قول احسن ہے جبکہ عام خاص سے پہچانا جاتا ہے نہ کہ اس کے برعکس، خاص عام سے نہیں پہچانا جاتا،
فَيَبْدَأُ أَوَّلًا بِذِكْرِ الْكُورَةِ ثُمَّ الْمَحَلَّةِ اخْتِيَارًا لِقَوْلِ مُحَمَّدٍ، فَإِنَّ مَذْهَبَهُ أَنْ يَبْدَأَ بِالْأَعَمِّ ثُمَّ بِالْأَخَصِّ.
وَقِيلَ: يَبْدَأُ بِالْأَخَصِّ ثُمَّ بِالْأَعَمِّ، فَيَقُولُ: دَارُ كَذَا فِي سِكَّةِ كَذَا فِي الْمَحَلَّةِ فِي كُورَةِ كَذَا، وَقَاسَهُ عَلَى النَّسَبِ حَيْثُ يُقَالُ: فُلَانٌ ثُمَّ يُقَالُ ابْنُ فُلَانٍ، ثُمَّ يُذْكَرُ الْجَدُّ، فَيَبْدَأُ بِمَا هُوَ أَقْرَبُ فَيَتَرَقَّى إلَى الْأَبْعَدِ، وَقَوْلُ مُحَمَّدٍ أَحْسَنُ وَالْعَامُّ يُعْرَفُ بِالْخَاصِّ لَا بِالْعَكْسِ
یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ وہی مسئلہ ذکر کرتے ہیں جو ہم اس سے پہلے لکھ چکے ہیں کہ زمین اور گھر کے سلسلے میں جو تعیین ہوگی اس زمین تعیین اس کے چاروں اطراف کو بیان کرنے سے ہوگی اور اگر چار اطراف میں سے تین ہی کو ذکر کرے گا پھر بھی دعوی صحیح ہوگا اور سنا جائے گا یعنی تین اطراف کا ذکر کرنا بھی صحیح ہے کیونکہ تین اطراف کو ذکر کر کے جو چوتھا طرف ہوگا وہ خود بخود متعین ہو جائے گا اسی کو مصنف فرمایا کہ ضروری ہے گھر اور عقار کی حد بندی کو ذکر کرنا پس اگر اس نے دو حد کو ذکر کیا تو ظاہر الروایۃ کے مطابق اس کا دعوی کی صحت کو کافی نہیں ہوگا اور دعوی مکمل نہیں ہوگا اور اگر تین حدوں کو ذکر کیا تو کافی ہوگا اور چوتھی حد وہ تیسری حد کے آخری حصہ سےآئے گی یہاں تک کہ پہلی حد کے ابتدائی حصہ پر اس کی انتہا ہوگی۔
وَلَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِ تَحْدِيدِ الدَّارِ وَالْعَقَارِ، فَلَوْ ذَكَرَ حَدَّيْنِ لَا يَكْفِي فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَلَوْ ذَكَرَ الثَّلَاثَةَ كَفَاهُ وَيُجْعَلُ الْحَدُّ الرَّابِعُ بِإِزَاءِ الْحَدِّ الثَّالِثِ حَتَّى يَنْتَهِيَ إلَى مَبْدَأِ الْأَوَّلِ.
No comments:
Post a Comment