(مَسْأَلَةٌ) :
اگر گواہان عبد ماذون کے خلاف غصب کی یا کسی ودیعت کے تلف کرنے کی یا غلام ماذون کے تلف ودیعت پر اقرار کرنے کی گواہی دیں یا عبد مازون کے خرید و فروخت و اجارہ کرنے پر گواہی دیں جبکہ اس کا آقا غائب ہو تو گواہان کی گواہی اس غلام ماذون کے خلاف سنی جائے گی اور اس کی گواہوں کو قبول کیا جائے گا اگرچہ اس غلام کا آقا غائب ہو۔
لَوْ شَهِدَا عَلَى قِنٍّ مَأْذُونٍ بِغَصْبٍ أَوْ بِإِتْلَافِ وَدِيعَةٍ أَوْ بِإِقْرَارِهِ بِهِ، أَوْ شَهِدَا بِبَيْعٍ أَوْ إجَارَةٍ أَوْ شِرَاءٍ، وَمَوْلَاهُ غَائِبٌ، يُقْبَلُ.
اور اگر ماذون کی جگہ محجور ہو یعنی غلام ایسا ہو جس پر حجر لگا گیا ہو اور باقی وہی صورتیں پائی جائیں یعنی غصب کی یا تلفِ ودیعت کی یا خود غلام اقرار کر لے خرید و فروخت یا اجارہ کی اور گواہان اس غلام محجور کے خلاف گواہی دیں جب بھی غلام محجور کے خلاف گواہ قبول کیے جائیں گے نہ کہ اس کے آقا کے خلاف اور اسی طرح اگر امانت کے ضائع کرنے پر اس کے خلاف دعوی کیا جائے تو امانت کے سلسلے میں امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک فیصلہ اس کے آقا پر کیا جائے گا اور طرفین رحمہما اللہ تعالی کے نزدیک امانت میں بھی غلام پر ہی فیصلہ ہوگا نہ کہ اس کے مولیٰ پر البتہ ان تمام صورتوں میں جب غلام محجور ہو اور اس کے خلاف دعوی کیا جائے اور اس پر وہ چیز ثابت بھی ہو جائے تو چونکہ وہ غلام ہے تو اس غلامیت میں اس سے وہ چیز نہیں لی جائے گی بلکہ اس کے آزاد ہونے کے بعد غلام سے اس چیز کا مواخذہ کیا جائے گا اسی طرح اقرار میں بھی غلام کے آقا پر فیصلہ نہیں کیا جائے گا چاہے اس کا آقا حاضر ہو یا غائب، بلکہ فیصلہ غلام پر ہی کیا جائے گا۔
( فائدہ ) امانت عام ہے ودیعت سے امانت خود بخود بھی انسان کے قبضے میں آ سکتی ہے جیسے لقطہ وغیرہ اور کسی کے قصد و ارادہ سے بھی امانت قبضہ میں آ سکتی ہے جبکہ ودیعت خاص ہے کہ ودیعت قصد و ارادہ سے ہی کسی کے حوالہ کی جاتی ہے۔
وَلَوْ كَانَ مَكَانُ الْمَأْذُونِ مَحْجُورًا وَالْبَاقِي بِحَالِهِ يُقْبَلُ عَلَيْهِ لَا عَلَى الْمَوْلَى، وَكَذَا فِي إتْلَافِ أَمَانَةٍ يُقْضَى عَلَى الْمَوْلَى عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ، وَعِنْدَهُمَا يُقْضَى عَلَى الْقِنِّ لَا عَلَى مَوْلَاهُ فَيُؤَاخَذُ بِهِ بَعْدَ عِتْقِهِ، وَفِي الْإِقْرَارِ: لَا يُقْضَى عَلَى مَوْلَاهُ حَضَرَ أَوْ غَابَ.
اب تک مسئلہ تھا کہ اگر ماذون و محجور غلام و بچہ کے خلاف دعوی کیا جائے اور اب یہاں سے یہ بتا رہے ہیں کہ اگر ماذون ذی شعور بچہ کسی کے خلاف دعوی کرے چنانچہ اس سلسلے میں فرمایا کہ فتاوی رشیدیہ میں ہے کہ اگر بچہ ماذون ہو اور یہ بچہ کسی دوسرے شخص پر مال کا دعوی کرے تو وصی کے حاضر ہونے کی شرط نہیں لگائی جاتی ہے، بغیر وصی کے حاضر ہوئے بھی بچہ کا دعویٰ اور اس کے گواہان کو قبول کیا جائے گا۔
وَفِي الْفَتَاوَى الرَّشِيدِيَّةِ: الصَّبِيُّ الْمَأْذُونُ لَوْ ادَّعَى عَلَى آخَرَ مَالًا لَا يُشْتَرَطُ حَضْرَةُ وَصِيِّهِ.
اسی طرح اگر غلام کسی دوسرے شخص پر مال کا دعوی کرے تو یہاں بھی غلام کے آقا کے حاضر ہونے کی شرط نہیں لگائی جاتی ہے اس لیے کہ غلام کا قبضہ بھی معتبر ہے
وَكَذَا قِنٌّ ادَّعَى عَلَى آخَرَ مَالًا لَا يُشْتَرَطُ حَضْرَةُ مَوْلَاهُ؛ إذْ يَدُ الْقِنِّ مُعْتَبَرَةٌ.
اب یہاں سے مدعی علیہ کی تیسری قسم بیان کر رہے ہیں کہ دعوی غائب شخص پر ہو چنانچہ اس کی دو قسمیں ہیں ایک یہ کہ قاضی کی مجلس سے غائب ہو لیکن شہر میں حاضر ہو دوسرا یہ کہ شہر سے ہی غائب ہو۔
الْقِسْمُ الثَّالِثُ: فِي الدَّعْوَى عَلَى الْغَائِبِ، وَهُوَ عَلَى قِسْمَيْنِ: غَائِبٌ عَنْ مَجْلِسِ الْحَاكِمِ حَاضِرٌ فِي الْبَلَدِ أَوْ غَائِبٌ عَنْ الْبَلَدِ.
شرح حیل کے حوالے سے فرمایا کہ غائب شخص پر فیصلہ کرنا عند الاحناف جائز نہیں چاہے مدعی علیہ قاضی کی مجلس سے غائب ہو، چاہے شہر سے ہی غائب ہو ہر دو صورت میں قضاء علی الغائب احناف کے نزدیک جائز نہیں ہے یہ گویا پتہ چلا کہ اصل مسئلہ تو احناف کے نزدیک قضاء علی الغائب کا عدم جواز ہے۔
قَالَ فِي شَرْحِ الْحِيَلِ: الْحُكْمُ عَلَى الْغَائِبِ لَمْ يَجُزْ عِنْدَنَا سَوَاءٌ كَانَ غَائِبًا عَنْ مَجْلِسِ الْحَاكِمِ حَاضِرًا فِي الْبَلَدِ أَوْ غَائِبًا عَنْ الْبَلَدِ.
اب یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے غائب شخص پر کسی چیز کا دعوی کیا تو قاضی کے لیے جائز نہیں کہ وہ غائب شخص کی جانب سے کسی وکیل کو مقرر کرے
وَلَوْ ادَّعَى عَلَى غَائِبٍ شَيْئًا لَيْسَ لِلْقَاضِي أَنْ يُنَصِّبَ عَنْهُ وَكِيلًا.
لیکن اس کے باوجود اگر حنفی قاضی قضاء علی الغیب کر دے تو کیا قضاء قاضی نافذ ہوگا یا نہیں، اس کی بھی دو صورتیں ہیں ایک صورت یہ ہے کہ قاضی حنفی نے نسیاناً و بھولے سسےاپنے مذہب کے خلاف قضاء علی الغیب پر عمل کرے، تو ایسا قضاء الغیب من جانب حنفی قاضی جائز ہے، دوسری صورت حنفی قاضی جان بوجھ کر عمداً قضاء علی الغیب پر عمل کرے تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک قاضی کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک قاضی کا فیصلہ نافذ نہیں ہوگا، چناں چہ اگر قاضی نے غائب شخص پر بغیر اس کے طرف سے خصم کے حاضر ہوئے فیصلہ کر دیا تو قاضی کے حکم کے نفاذ کے سلسلے میں امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نزدیک دو روایتیں ہیں ایک جواز کی ایک عدم جواز کی یہی فتاوی ظہیر الدین میں منقول ہیں اور فتاوی صغری میں فرمایا کہ فیصلہ کے نفاذ پر ہی فتویٰ ہے یعنی غائب شخص پر اگر قاضی فیصلہ کر دے تو قاضی کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا
وَلَوْ قَضَى عَلَى الْغَائِبِ بِلَا خَصْمٍ عَنْهُ فَفِي نَفَاذِ حُكْمِهِ رِوَايَتَانِ مِنْ فَتَاوَى ظَهِيرِ الدِّينِ وَقَالَ فِي الْفَتَاوَى الصُّغْرَى: وَالْفَتْوَى عَلَى نَفَاذِهِ.
یہاں سے ایک دوسرا مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ اصل مسئلہ تو احناف کے نزدیک قضاء علی الغائب کا عدم جواز ہے لیکن قضاء کی کچھ مصلحتیں ہیں ان مصلحتوں کے تحت قضاء کے لیے قانون بنائے گئے ہیں مثلا قضاء کا بنیادی مقصد ہے رفع ظلم و دفع حرج اور اسی رفع ظلم و دفع حرج کے لیے قضاء کی خاطر کچھ قانون بنائے گئے ہیں اور انہی قانون میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قضاء علی الغائب جائز نہیں ہے، لیکن یہ بات بھی حق ہے کہ قضاء کے لیے جن قانون کو متعین کیا گیا ہے اگر انہی قانون سے قضاء کا مقصد فوت ہوتا ہو تو پھر اس قانون اور قاعدہ کو وقتی طور حسب مصلحت بدلا جا سکتا، مثلا دور حاضر میں ظلم و بربریت کا دور دورہ ہے مکر و فریب دھوکہ ظلم و جبر یہ ایک عام سی بات ہو چکی ہے کتنے ایسے مسائل زوزانہ دار القضاء میں دائر ہوتے کہیں شوہر ظالم ہیں اور کہیں بیوی کی طرف سے ظلم پایا جاتا ہے بلکہ اس کے علاوہ جتنے معاملات وراثت،حقیقت وغیرہ ہر معاملہ میں ایک فریق ظالم ہوتا ہے لیکن جب انہیں نفاد حق کے لیے طلب کیا جاتا ہے تو وہ نہیں آتے تو ایسے میں اگر اس اصول ( قضاء علی الغائب کے عدم جواز ) قانون پر عمل کیا جائے تو پھر مدعی ہمیشہ مظلوم ہی رہے گا اور کسی کو مظلوم بنائے رکھنا یہ بھی ایک ظلم ہے تو چناں چہ اس قانون و قاعدہ ( قضاء علی الغائب کا عدم جواز) پر عمل کرنے کی وجہ قضاء کا بنیاد مقصد ( رفع ظلم و دفع حرج) فوت ہوتا ہے اس لیے متاخرین و متقدمین بعض فقہاء نے اس اصول میں ترمیم کی کہ اگر قضاء علی الغائب ناگزیر ہو تو قاضی رفع ظلم کے لیے غائب شخص کی طرف سے ایک وکیل مقرر کرے جسے فقہی اصطلاح میں وکیل مسخر کہتے ہیں اور قاضی اسی وکیل مسخر کے خلاف کاروائی کرے گا جو دراصل اسی غائب مدعی علیہ مؤکل پر کاروائی ہوگی تاکہ اس کی جانب سے جو ظلم پایا جا رہا ہے اس ظلم کا ازالہ ہو کیونکہ فقہ کا قاعدہ ہے الضرر یزال اسی طرح یہ بھی فقہ کا قاعدہ ہے الحرج مدفوع ان دونوں قاعدوں کی وجہ سے قضاء علی الغائب کا جو عدم جواز تھا اس میں ترمیم کی گئی تاکہ ظلم کو ختم کیا جائے اسی کے لیے مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ خوہرزادہ نے فرمایا قاضی کے لیے غائب کے حق میں بغیر کسی مخاصمت کے فیصلہ کرنا جائز نہیں ہے جیسا کہ غائب کے خلاف فیصلہ کرنا جائز نہیں مگر اس کے ساتھ اگر قاضی غائب شخص کی طرف سے کوئی وکیل مقرر کرے وکیل مسخر کے طور پر اور پھر اس پر معاملے کو حل کر کے فیصلہ کرے تو جائز ہوگا اور اسی جواز پر فتوی ہے۔
قَالَ خُوَاهَرْ زَادَهْ: لَا يَنْبَغِي لِلْقَاضِي أَنْ يَحْكُمَ لِلْغَائِبِ بِلَا خَصْمٍ كَمَا لَا يَحْكُمُ عَلَى الْغَائِبِ، إلَّا أَنَّهُ مَعَ هَذَا لَوْ وَكَّلَ وَكِيلًا وَأَنْفَذَ الْخُصُومَةَ بَيْنَهُمْ، جَازَ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى.
شیخ الاسلام ابو الیسر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ خوہرزادہ کا قول کہ اگر وہ وکیل مسخر کے درمیان فیصلہ کرے یہ دلیل ہے اس بات پر کہ وکیل بنانا نافذ نہیں ہوتا جب تک کہ دوسرا فریق مخاصمت نہ کرے اور پھر قاضی ان دونوں کے درمیان فیصلہ کرے گا اس لیے کہ وکیل بنانا یہ حکم کے تحت نہیں آتا ہے جب تک قاضی وکیل بنانے کا فیصلہ نہ کرے تب تک وکیل بنانا درست نہیں ہے۔
قَالَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ أَبُو الْيَسِرِ: قَوْلُهُ " وَأَنْفَذَ الْخُصُومَةَ بَيْنَهُمْ " دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ التَّوْكِيلَ لَا يَنْفُذُ مَا لَمْ يُخَاصِمْ وَيَقْضِي فِيمَا بَيْنَهُمْ؛ إذْ التَّوْكِيلُ لَا يَدْخُلُ تَحْتَ الْحُكْمِ وَمَا لَمْ يَقْضِ الْقَاضِي لَا يَصِحُّ.
No comments:
Post a Comment