ساتویں فصل! قاضی کا نائب بنانے کے بیان میں جب امام نے قاضی کو نائب بنانے سے روکا ہو تو قاضی کے لیے گنجائش نہیں کہ وہ اپنا نائب مقرر کرے اور اگر نائب بنانے کی اجازت دے رکھی ہو تو حسب تقاضۂ اجازت وہ اپنا نائب مقرر کر سکتا ہے۔
الْفَصْلُ السَّابِعُ: فِي اسْتِخْلَافِ الْقَاضِي وَإِذَا نَهَى الْإِمَامُ الْقَاضِيَ عَنْ الِاسْتِخْلَافِ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يَسْتَخْلِفَ، وَإِنْ أَذِنَ لَهُ فِيهِ اسْتَخْلَفَ عَلَى مُقْتَضَى الْإِذْنِ.
قاضی اپنا نائب مقرر نہ کرے اگرچہ قاضی بیمار ہو یا اسے سفر کی حاجت درپیش ہو مگر خلیفہ کی اجازت سے اس لیے کہ خلیفۂ وقت ہی ہے جس نے قاضی کو فیصلے کا تصرف سپرد کیا ہے قاضی کی اپنی رائے سے دوسرے ( غیر قاضی نائب وغیرہ) کی رائی سے پس قاضی خلیفۂ وقت کی اجازت کے بغیر نائب بنانے کا مالک نہ ہوگا یہ ایسا ہی ہے جیسے بیع و شراء ،خرید و فروخت کا وکیل بنانا کہ وہ اپنی طرف سے کسی دوسرے کو وکیل نہیں بنا سکتا ہے مگر مؤکل کی اجازت سے یعنی اگر مؤکل کی جانب سے اسے اجازت عامہ حاصل ہو کہ آپ خود تصرف کرو یا کسی اور کو تصرف کا وکیل بناؤ اس طرح کی اگر عام اجازت ہو موکل کی طرف سے تو پھر وہ دوسرے کو وکیل بنا سکتا ہے ورنہ نہیں بنا سکتا اسی طرح خلیفۂ وقت جب قاضی کو حکم دے کہ آپ اپنا نائب مقرر کرو جو فیصلہ کرے گا اور پھر خلیفۂ وقت کی اجازت سے قاضی کسی کو حکم دے کہ وہ لوگوں کے درمیان فیصلہ کرے تو جائز ہے اس لیے کہ قاضی کو خلیفۂ وقت کی جانب سے اجازت عامہ حاصل تھی، ہاں اگر قاضی کے نائب نے کوئی فیصلہ کیا جبکہ امام و خلیفۂ وقت نے اس کی اجازت نہ دی ہو تو پھرت جائز نہیں اسیی وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی کہ لِأَنَّ الْخَلِيفَةَ إنَّمَا فَوَّضَ التَّصَرُّفَ إلَيْهِ بِرَأْيِهِ لَا بِرَأْيِ غَيْرِهِ لیکن اگر قاضی اپنے نائب کے فیصلہ کو جائز قرار دے اور امام وقت و خلیفۂ وقت بھی قاضی کے اس جواز کو نافذ کرے تو ایسے میں اس نائب کا قضاء نافذ ہوگا گویا یہ ایسا ہی ہوگا کہ قاضی نے خلیفۂ وقت کی اجازت سے نائب بنایا تھا، کیوں اصول یہ ہے کہ الاجازۃ اللاحقۃ کالوکالۃ السابقۃ کہ بعد میں حاصل ہونے والی اجازت پہلے ہی حاصل ہونے والی وکالت کی طرح ہےہے، اس اگرچہ قاضی کے نائب نے جس وقت فیصلہ کیا اس وقت قاضی کو خلیفۂ وقت سے نائب کے فیصلے کی اجازت حاصل نہ تھی جس کی وجہ سے نائب کا فیصلہ موقوف تھا لیکن اب جب خلیفۂ وقت نے قاضی کے نائب کے فیصلے کو جائز قرار دینے کو نافذ کیا گویا ایسا سمجھا جائے گا قاضی کو پہلے ہی اجازت حاصل ہو چکی تھی۔
َلَا يَسْتَخْلِفُ الْقَاضِي إذَا مَرِضَ أَوْ سَافَرَ إلَّا بِإِذْنِ الْخَلِيفَةِ؛ لِأَنَّ الْخَلِيفَةَ إنَّمَا فَوَّضَ التَّصَرُّفَ إلَيْهِ بِرَأْيِهِ لَا بِرَأْيِ غَيْرِهِ، فَلَا يَمْلِكُ أَنْ يَسْتَخْلِفَ إلَّا بِإِذْنِهِ، كَالْوَكِيلِ بِالْبَيْعِ لَا يَمْلِكُ أَنْ يُوَكِّلَ غَيْرَهُ إلَّا بِإِذْنِ مُوَكِّلِهِ، وَكَذَلِكَ الْخَلِيفَةُ إذَا أَمَرَ الْقَاضِيَ أَنْ يَسْتَخْلِفَ خَلِيفَةً يَحْكُمُ فَأَمَرَ رَجُلًا يَحْكُمُ بَيْنَ النَّاسِ جَازَ.فَإِنْ قَضَى خَلِيفَتُهُ وَلَمْ يَكُنْ أَمَرَهُ الْإِمَامُ بِذَلِكَ لَمْ يَجُزْ لِمَا قُلْنَا، فَإِنْ أَجَازَ الْقَاضِي قَضَاءَهُ فَأَنْفَذَهُ نَفَذَ قَضَاؤُهُ.
امام زفر رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک یہ تصرف جائز نہ ہوگا اور اس کی بناء وکیل پر ہی ہے کہ جب وہ دوسرے کو تصرف کا وکیل بنائے گا حالاں کہ اس کو مؤکل کی طرف سے اجازت نہ ہو تو دوسرے وکیل کا تصرف ہمارے نزدیک تو جائز ہوگا لیکن امام زفر کے نزدیک جائز نہیں ہوگا ہماری دلیل یہ ہے کہ جب قاضی کو نائب بنانے کی اجازت حاصل نہ ہو تو یہ تصرف ( فیصلہ کرنے ) قاضی کی اپنی رائے پر منحصر رہے گا اور جب قاضی خود اس کا نفاذ کرے تو گویا کہ وہ خود اس کا تصرف کر رہا ہے، نہ کہ اس کا نائب۔
وَعِنْدَ زُفَرَ لَا يَجُوزُ، وَهَذَا بِنَاءٌ عَلَى أَنَّ الْوَكِيلَ إذَا وَكَّلَ غَيْرَهُ بِالتَّصَرُّفِ وَلَمْ يَكُنْ مَأْذُونًا فِيهِ فَتَصَرَّفَ الْوَكِيلُ الثَّانِي جَازَ عِنْدَنَا خِلَافًا لَهُ؛ لِأَنَّهُ لَمَّا أَجَازَهُ فَقَدْ حَصَرَ هَذَا التَّصَرُّفَ رَأْيَ الْأَوَّلِ فَصَارَ كَأَنَّ الْأَوَّلَ تَصَرَّفَ بِنَفْسِهِ.
اور اگر قاضی نے کسی غلام، ذمی، بچہ یا مجنون وغیرہ کو اپنا جانشین اور نائب بنایا پھر نائب قاضی نے کوئی فیصلہ بھی کیا اور قاضی اس کو جائز بھی قرار دے جب بھی قاضی کا فیصلہ درست نہ ہوگا اس کہ ان کی تو گواہی قبول نہیں کی جاتی اور جن کی گواہی نہیں لی جاتی وہ فیصلہ کرنے کے اھل بھی نہیں ہوتے کیوں کہ قضاء کی بنیاد شہادت پر ہے اس کی بحث اگے آرہی ہے، اسی کو مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا اس لیے کہ اگر قاضی ان حضرات کی شہادت کو جائز ٹھہرائے تو قاضی کے لیے جائز نہیں ہوگا اس لیے کہ ان کی شہادت درست نہیں تو قضاء بدرجۂ اولی درست نہیں ہونا چاہئے، اس لیے کہ قضاء کی بنیاد شہادت پر ہے جو حضرات شہادت دے سکتے ہیں وہ قاضی بھی بن سکتے ہیں اور جن حضرات کی گواہی قبول کی جاتی ہے وہی حضرات کا فیصلہ بھی کر سکتے ہیں بس اگر کسی عورت کو قاضی نے اپنا نائب بنایا اور عورت نے کسی چیز کا فیصلہ کیا تو اس عورت کا فیصلہ جائز و درست ہوگا مگر یہ کہ حدود اور قصاص میں عورت فیصلہ نہیں کر سکتی ہے کیونکہ قضاء کا شہادت پر قیاس کرتے ہیں اور حدود اور قصاص میں عورت کی گواہی معتبر نہیں۔
وَلَوْ اسْتَخْلَفَ عَبْدًا أَوْ ذِمِّيًّا أَوْ صَبِيًّا أَوْ مَجْنُونًا فَقَضَى الْخَلِيفَةُ فَأَجَازَهُ الْقَاضِي لَا يَجُوزُ؛ لِأَنَّهُ لَوْ أَجَازَ شَهَادَةَ هَؤُلَاءِ لَا يَجُوزُ، فَالْقَضَاءُ أَوْلَى؛ لِأَنَّهُ مَبْنِيٌّ عَلَى الشَّهَادَةِ، وَلَوْ أَنَّ امْرَأَةً اُسْتُقْضِيَتْ فَحَكَمَتْ بِأَشْيَاءَ جَازَ حُكْمُهَا إلَّا فِي الْحُدُودِ وَالْقِصَاصِ اعْتِبَارًا لِلْقَضَاءِ بِالشَّهَادَةِ.
(فَصْلٌ) :
اگر خلیفۂ وقت نے قاضی کو حکم دیا کہ وہ کسی آدمی کو اپنا نائب مقرر کرے تاکہ وہ نائب قاضی معاملہ کو سماعت کرے، اپنے پاس گواہ قائم کرے اور اقرار وغیرہ کو لکھے لیکن قطعی طور پر فیصلہ نہ کرے یعنی ایسا کوئی نائب مقرر کرنے کا خلیفہ نے قاضی کو حکم دیا پھر قاضی نے کسی آدمی کو اپنا نائب بنایا جو ان چیزوں کی نگہداشت کرے اور قاضی کا معاون بنے تو درست ہے لیکن اس نائب کے لیے جائز نہیں کہ وہ ان چیزوں سے آگے بڑھے یعنی وہ فیصلہ کرنا بھی شروع کر دے ایسا نہیں بلکہ نائب قاضی کو جتنا اختیار ملا ہے وہ اسی میں محدود رہے آ گے ہرگز نہ بڑھے اور اگر نائب اپنے دائرۂ اختیار سے آ گے بڑھتا ہے تو آگے کا ہر تصرف اس کا باطل ہوگا یہ تو نائب قاضی کی بات ہے اگر خلیفۂ وقت قاضی کا دائرہ قضاء محدود کرے اس طور پر کہ قاضی کو حکم دے دعوی، بینہ سننے اور اقرار وغیرہ لکھنے کا تو قاضی بھی فیصلہ نہیں کر سکتا ہے، قاضی بھی اپنے دائرہ اختیار میں پابند ہوجائے جب قاضی کا دائرہ محدود ہو سکتا ہے جو کہ اصل ہے تو نائب قاضی بدرجہ اولی اپنے اختیار میں محدود ہوگا چناں چہ یہی خلیفہ اگر قاضی کو پابندی لگا دے فیصلہ کرنے کی اور قاضی سے کہے کہ آپ صرف معاملہ سماعت کیجئے، گواہوں کا بیان سن لیجئے اور اقرار کو لکھ لیجیے پھر فیصلہ کرنے کے لیے معاملہ ہمارے پاس بھیج دیے تو درست ہے اور قاضی کا اختیار فی القضاء بھی محدود ہو جائے گا قاضی بھی فیصلے کرنے کا اہل نہیں رہے گا تو اسی طرح نائب قاضی کا اختیار بھی محدود ہو سکتا ہے، اب اگر ایسے محدود اختیار میں قاضی معاملہ خلیفۂ وقت کے پاس بھیجتا ہے تو خلیفہ اس قاضی کے پاس دئ گئ شہادت پر فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ دوبارہ گواہوں سے مدعی و مدعی علیہ کی موجودگی میں شہادت لے گا، امام خصاف نے اس کی صراحت کی ہے پس اگر دوبارہ شہادت اس کے ہاں درست ہو تو اسی شہادت سے پھر فیصلہ کرے گا اور یہ اسی فصل اور ایسا حکم ہے جس سے لوگ غافل ہیں وہ نہیں جانتے اپنے نائبین کو مسلیں بھیج دیتے ہیں وہ بیان لکھ لیتے ہیں اور پھر قاضی اگر دوبارہ گواہی نہیں لیتا اور ایسے ہی فیصلہ کرتا ہے تو درست نہیں ہے ہاں اس کی ایک صورت یہ ہے جس کی وضاحت کتاب الفسخ و التفریق میں کی گئی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔آگے مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ نائب قاضی وہ گواہوں کو سنتا ہے اقرار لکھتا ہے اور پھر قاضی کے پاس معاملے کو بھیجتا ہے اور قاضی ہی ہے جو اس پر فیصلہ نافذ کرتا ہے اور مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ وہ اس گواہی پر فیصلہ کرے جو گواہوں نے نائب کے دی ہے بلکہ ضروری ہے اس پر کہ وہ مکلف بنائے گواہوں کو اپنے سامنے دوبارہ گواہی دینے کا اس لیے کہ جس نے گواہی سنی وہ نائب تھا اور وہ گواہوں کی گواہی سے اپنے لیے ولایت کا فائدہ حاصل نہ کرسکا تو جس نے گواہی سنی ہی نہیں وہ بن گواہی سنے اس سے ولایت کا فائدہ کیسے حاصل کر سکتا ہے یعنی نائب گواہی سن کے بھی فیصلہ کرنے کا اھل نہیں تو جس نے گواہی سنی ہی نہیں ( اصل قاضی) وہ بدرجہ اولی فیصلہ نہیں کر سکتا اس لیے اپنے پاس دوبارہ گواہ سنے گا مگر یہ کہ جو سورت اوپر کتاب الفسخ و التفریق سے بیان کی گئ وہ مستثنیٰ ہے،اسی طرح اقرار ہے جب مقرر اور مقرلہ حاضر ہو جائیں اور پھر اگر قاضی کے پاس دوبارہ کسی حق کا اقرار کریں یعنی اقرار کو دہرائیں تو تب قاضی اس اقرار پر فیصلہ کرے گا پہلے کہیں اقرار کیا ہوا ہے اور قاضی اس اقرار کو بنیاد بنا کر فیصلہ کر رہا ہے یہ درست نہیں۔
وَلَوْ أَمَرَ الْخَلِيفَةُ أَنْ يَسْتَخْلِفَ رَجُلًا يَسْمَعُ مِنْ الْخُصُومِ وَيُثْبِتُوا عِنْدَهُ الْبَيِّنَةَ وَيَكْتُبَ الْإِقْرَارَ وَلَا يَقْطَعَ حُكْمًا فَأَمَرَ الْقَاضِي رَجُلًا يَقُومُ بِذَلِكَ لَا يُجَاوَزُ ذَلِكَ؛ لِأَنَّ الْخَلِيفَةَ لَوْ أَمَرَ الْقَاضِيَ أَنْ يَسْمَعَ الدَّعْوَى وَالْبَيِّنَةَ وَيَكْتُبَ الْإِقْرَارَ وَلَا يَحْكُمَ بَلْ يَرْفَعَ الْأَمْرَ إلَى الْخَلِيفَةِ حَتَّى يَقْضِيَ بِهِ الْخَلِيفَةُ كَانَ صَحِيحًا، فَكَذَلِكَ فِي حَقِّ الْخَلِيفَةِ، فَإِذَا رَفَعَ الْقَاضِي لَا يَقْضِي بِتِلْكَ الْبَيِّنَةِ حَتَّى يُعِيدُوا الشَّهَادَةَ بِحَضْرَةِ الْمُدَّعِي وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ، هَكَذَا نَصَّ عَلَيْهِ الْخَصَّافُ، فَإِنْ صَحَّتْ الشَّهَادَةُ عِنْدَهُ قَضَى بِتِلْكَ الشَّهَادَةِ، وَهَذَا فَصْلٌ قَدْ غَفَلَ النَّاسُ عَنْهُ، فَإِنَّ نَائِبَ الْقَاضِي يَسْمَعُ الْبَيِّنَةَ وَيَكْتُبُ الْإِقْرَارَ وَيَبْعَثُ إلَى الْقَاضِي وَالْقَاضِي يَقْضِي بِذَلِكَ، وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَقْضِيَ بِتِلْكَ الْبَيِّنَةِ بَلْ عَلَيْهِ أَنْ يُكَلِّفَهُ إعَادَةَ الْبَيِّنَةِ بَيْنَ يَدَيْهِ؛ لِأَنَّ مَنْ سَمِعَ الْبَيِّنَةَ وَهُوَ الْخَلِيفَةُ لَا يَسْتَفِيدُ وِلَايَةَ الْحُكْمِ بِتِلْكَ الْبَيِّنَةِ، فَمَنْ لَمْ يَسْمَعْ كَيْفَ يَسْتَفِيدُ، وَكَذَلِكَ الْإِقْرَارُ يَحْضُرُ الْمُقِرُّ وَالْمُقَرُّ لَهُ حَتَّى يُقِرَّ عِنْدَهُ بِالْحَقِّ ثُمَّ يَحْكُمَ بِهِ.
اور اگر گواہان نے نائب قاضی کے پاس کسی حق کی مدعی کے لیے گواہی دی ہو پھر وہ گواہان مر جائیں یا غائب ہو جائیں اور نائب قاضی اصل قاضی کو خبر دے کہ گواہان نے اس پاس اس طرح گواہی دی تھی تو قاضی نائب کی خبر قبول نہیں کرے گا اور نہ اس کے متعلق فیصلہ کرے گا
وَإِنْ كَانَ الشُّهُودُ شَهِدُوا عِنْدَ خَلِيفَتِهِ بِالْحَقِّ لِلْمُدَّعِي ثُمَّ مَاتُوا أَوْ غَابُوا فَأَعْلَمَهُ خَلِيفَتُهُ أَنَّهُمْ شَهِدُوا عِنْدَهُ عَلَى كَذَا لَمْ يَقْبَلْ ذَلِكَ وَلَمْ يَحْكُمْ بِهِ.
اسی طرح اگر مدعی علیہ نائب قاضی کے پاس کسی چیز کا اقرار اور اقرار کے بعد انکار کرے، اور پھر نائب، اصل قاضی کو خبر دے کہ مدعی علیہ نے میرے پاس ایسا ایسا اقرار کیا ہے جب بھی قاضی اس کی خبر پر فیصلہ نہیں کرے گا وجہ مذکور ہو چکی ہے کہ جس نے گواہی سنی وہ نائب تھا اور وہ گواہوں کی گواہی سے اپنے لیے ولایت کا فائدہ حاصل نہ کرسکا تو جس نے گواہی سنی ہی نہیں وہ بن گواہی سنے اس سے ولایت کا فائدہ کیسے حاصل کر سکتا ہے یعنی نائب گواہی سن کے بھی فیصلہ کرنے کا اھل نہیں تو جس نے گواہی سنی ہی نہیں ( اصل قاضی) وہ بدرجہ اولی فیصلہ نہیں کر سکتا، ہاں اگر نائب کے ساتھ ایک اور گواہ مدعی علیہ کے نائب کے پاس اس اقرار کی خبر دے تب اس طرح سے بوجہِ گواہان کے اس کا اقرار قبول کیا جائے گا اور علی حسب اقرار اس سے مواخذہ کیا جائے گا۔ یہ مسئلہ محیط برہانی میں مذکور ہے۔
وَكَذَلِكَ لَوْ أَقَرَّ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِشَيْءٍ عِنْدَ خَلِيفَتِهِ ثُمَّ جَحَدَ فَأَخْبَرَهُ خَلِيفَتُهُ أَنَّهُ أَقَرَّ لِهَذَا بِكَذَا وَكَذَا لَمْ يَقْبَلْ الْقَاضِي ذَلِكَ؛ لِأَنَّ مَنْ سَمِعَ الْبَيِّنَةَ وَالْإِقْرَارَ لَمْ يَسْتَفِدْ وِلَايَةَ الْحُكْمِ بِذَلِكَ، فَمَنْ لَمْ يَسْمَعْ كَانَ أَوْلَى إلَّا أَنْ يَشْهَدَ مَعَ خَلِيفَتِهِ غَيْرُهُ عَلَى إقْرَارِهِ فَيَقْبَلَ ذَلِكَ عَلَى طَرِيقِ الشَّهَادَةِ " مِنْ الْمُحِيطِ ".
(مَسْأَلَةٌ) :
پھر نائب قاضی میں ان تمام صفات کا ہونا شرط نہیں جو بیان کردہ صفات قاضیوں کے لیے شرط ہیں، ہاں اگر نائب تمام احکام میں مثل اصل ماذون ہو اسے تمام قضاء کے تمام اختیارات حاصل ہو اصل قاضی کی طرح تب تو ان تمام مذکورہ صفات کا نائب کی ذات میں ہونا ناگزیر ہے وگرنہ جب کسی خاص چیز کا نائب ہو مثلا صرف سماع شہادت و نقل شہادت کا نائب تو پھر انہی محدود و متعین چیزوں کے احکام سے واقف ہونا ضروری ہے۔
وَلَا يُشْتَرَطُ فِي نَائِبِ الْقَاضِي أَنْ يَكُونَ بِصِفَاتِ الْقُضَاةِ الْمُتَقَدِّمَةِ إلَّا إذَا كَانَ مُسْتَخْلَفًا فِي جَمِيعِ الْأَحْكَامِ، فَحِينَئِذٍ لَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ عَالِمًا بِهَا، وَإِنْ اُسْتُخْلِفَ فِي شَيْءٍ خَاصٍّ مِثْلِ سَمَاعِ الشَّهَادَةِ وَالنَّقْلِ فَلَا يُشْتَرَطُ فِيهِ إلَّا مَعْرِفَتُهُ بِذَلِكَ الْقَدْرِ خَاصَّةً.
[فَصْل فِي التَّحْكِيمِ]
الْفَصْلُ الثَّامِنُ {فِي التَّحْكِيمِ}
آٹھویں فصل: تحکیم کے بیان میں ہے کہ جب دو فریق کسی تیسرے آدمی کو اپنا حکم مقرر کریں دراں حالیکہ وہ دونوں کے حکم ہونے پر راضی ہو تو یہ حکم مقرر کرنا قرآن و سنت اور اجماع امت سے جائز ہے، چوں کہ اس چیز کی بہت ضرورت پڑتی یے اس لیے اگر ہم اس کی اجازت نہ دیں تو معاملہ لوگوں پر دشوار ہوگا، اس لیے بھی کہ تمام لوگوں کا مجلس قضاء میں حاضر ہونا بہت مشکل ہے اس لیے اس ضرورت کے پیش نظر الضرورۃ تتقدر بقدر الضرورۃ، الضرورۃ تبیح المحظورات، تحکیم کی اجازت دی۔
وَمَعْنَاهُ أَنَّ الْخَصْمَيْنِ إذَا حَكَّمَا بَيْنَهُمَا رَجُلًا وَارْتَضَيَاهُ لَأَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمَا فَإِنَّ ذَلِكَ جَائِزٌ بِالْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَإِجْمَاعِ الْأُمَّةِ، وَلِأَنَّا مَتَى لَمْ نُجِزْ التَّحْكِيمَ لَضَاقَ الْأَمْرُ عَلَى النَّاسِ؛ لِأَنَّهُ يَشُقُّ عَلَى النَّاسِ الْحُضُورُ إلَى مَجْلِسِ الْحُكْمِ فَجَوَّزْنَا التَّحْكِيمَ لِلْحَاجَةِ.
(فَصْلٌ) :
یہ فصل ان لوگوں کے بیان میں جن کا حکم مقرر کرنا درست ہے اور جن کا حکم مقرر کرنا درست نہیں ہے ہر وہ شخص جس کی گواہی کسی معاملے میں قبول کی جاتی ہے اس کو اس معاملے میں حکم مقرر کرنا بھی جائز ہے اور جس شخص کی گواہی کسی معاملے میں قبول نہیں کی جاتی اس شخص کو اس معاملے میں حکم بھی مقرر نہیں کیا جا سکتا ہے چنانچہ عورت بھی حکم بننے کی صلاحیت رکھتی ہے اور عورت حکم بن سکتی ہے اس کے بالمقابل بچہ، غلام، محدود فی القذف شخص اور نابینا شخص حکم بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے اس لیے کہ جو دو فریق حکم بنا رہے ہیں ان کے درمیان حکم بمنزلۂ قاضی کے ہوتا ہے یعنی جو حیثیت قاضی کی فریقین کے حق میں ہوتی ہے وہی حیثیت حکم کی ان فریقین کے درمیان ہوتی ہے جو اسے حکم بناتے ہیں چنانچہ ہر وہ شخص جو گواہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے وہی قاضی بننے کی بھی صلاحیت رکھتا ہے اور جو گواہ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ قاضی بننے کی بھی صلاحیت نہیں رکھتا پھر حکم میں اس کا دونوں حالتوں میں شہادت کا اھل ہونے کا اعتبار کیا جاتا ہے یعنی جس وقت حکم بنایا جا رہا ہے اس وقت بھی وہ شہادت کا اہل ہونا چاہیے اور جس وقت وہ فیصلہ کرے گا اس وقت بھی وہ شہادت کا اہل ہونا چاہیے مثلاً : جس وقت حکم بنایا اس وقت تو شہادت کا اہل نہیں تھا لیکن جب فیصلہ کیا اس وقت شہادت کا اہل تھا جب تو اس کا حکم بنانا درست نہیں ہے اس طور پر کہ حکم بنایا کسی غلام یا ذمی یا بچے کو گویا کہ جس وقت حکم بنا رہے ہیں اس وقت چونکہ وہ غلام یا ذمی یا صبی ہے اس وجہ سے وہ اہل شہادت نہیں ہے لیکن اگر بعد میں غلام ازاد، ذمی مسلمان اور بچہ بالغ ہو گیا اور آزادی،مسلمانیت اور بلوغ بلوغت کے بعد فیصلہ کیا تو اس کا حکم بننا و فیصلہ کرنا جائز نہیں، اور اگر ایسا ہوا کہ جس وقت حکم بنایا اس وقت تو شہادت کا اہل تھا لیکن فیصلے کے وقت وہ شہادت کا اہل نہیں تھا تو پھر بھی اس کا حکم بننا درست نہیں، اس لیے کہ حکم ان دونوں فریق کے حق میں بمنزلۂ قاضی کے ہوتا ہے اور قاضی کی ذات میں قضاء کی صحت کے لیے ان اوصاف کا اعتبار کیا جاتا ہے کہ قاضی شہادت کا اہل ہو جس وقت اسے قاضی بنایا جا رہا ہے اور جس وقت قاضی فیصلہ کر رہا ہے ہر دو صورتوں میں قاضی کا شہادت کا اہل ہونا ضروری ہے اسی طرح حکم کا بھی ہر دو صورت میں شہادت کا اہل ہونا ضروری ہے۔
فِيمَنْ يَصْلُحُ حَكَمًا وَمَنْ لَا يَصْلُحُ حَكَمًا وَكُلُّ مَنْ تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ فِي أَمْرٍ جَازَ أَنْ يَكُونَ حَكَمًا فِيهِ وَمَنْ لَا فَلَا، وَالْمَرْأَةُ تَصْلُحُ حَكَمًا، وَالصَّبِيُّ وَالْعَبْدُ وَالْمَحْدُودُ فِي الْقَذْفِ وَالْأَعْمَى لَا يَصْلُحُ حَكَمًا؛ لِأَنَّ الْحَكَمَ فِي حَقِّ الْمُحَكَّمَيْنِ بِمَنْزِلَةِ الْقَاضِي، وَكُلُّ مَنْ صَلَحَ شَاهِدًا صَلَحَ قَاضِيًا وَمَنْ لَا فَلَا ثُمَّ إنَّمَا يُعْتَبَرُ كَوْنُهُ أَهْلًا لِلشَّهَادَةِ فِي حَالَتَيْنِ: حَالَةِ التَّحْكِيمِ، وَوَقْتِ الْحُكْمِ، حَتَّى إذَا لَمْ يَكُنْ مِنْ أَهْلِ الشَّهَادَةِ وَقْتَ التَّحْكِيمِ ثُمَّ صَارَ مِنْ أَهْلِ الشَّهَادَةِ وَقْتَ الْحُكْمِ لَا يَصِيرُ حَكَمًا بِأَنْ حَكَّمَا عَبْدًا أَوْ ذِمِّيًّا أَوْ صَبِيًّا ثُمَّ أَسْلَمَ أَوْ أُعْتِقَ أَوْ بَلَغَ الصَّبِيُّ ثُمَّ حَكَمَ لَمْ يَجُزْ، وَكَذَا إذَا كَانَ شَاهِدًا وَقْتَ التَّحْكِيمِ وَلَمْ يَبْقَ شَاهِدًا وَقْتَ الْحُكْمِ لَا يَبْقَى حَكَمًا؛ لِأَنَّ الْحَكَمَ فِي حَقِّهِمَا بِمَنْزِلَةِ الْقَاضِي، وَفِي الْقَاضِي يُعْتَبَرُ لِصِحَّةِ الْقَضَاءِ كَوْنُهُ مِنْ أَهْلِ الشَّهَادَةِ، فَكَذَا هَذَا.
(مَسْأَلَةٌ) :
حکم بنانے کو کسی چیز پر معلق کرنا یا مستقبل کی طرف منسوب کرنا درست نہیں ہے اس طور پر کہ کوئی شخص غلام سے کہے یا ذمی سے کہے کہ اگر آپ ازاد ہو گئے یا اگر آپ اسلام لے ائے تو آپ ہمارے درمیان فیصلہ کیجئے گویا آزادی ااور اسلام لانے پر حکم بنانے کو معلق کر رہا ہے یہ درست نہیں یا اسی طرح کوئی شخص دوسرے سے کہہ رہا ہے کہ جب مہینے کا چاند نکلے گا تو آپ ہمارے درمیان فیصلہ کیجئے گا گویا مستقبل کی طرف حکم بنانے کو منسوخ کر رہا ہے تو یہ تعلیق امام ابو یوسف کے ہاں درست نہیں ہے، البتہ امام محمد رحمہ اللہ تعالی کی نزدیک تعلیق صحیح ہوگی۔
وَلَا يَصِحُّ التَّحْكِيمُ مُعَلَّقًا بِالْخَطْبِ وَلَا مُضَافًا إلَى الْمُسْتَقْبَلِ، بِأَنْ قَالَ لِعَبْدٍ أَوْ ذِمِّيٍّ إنْ عَتَقْت أَوْ أَسْلَمْت فَاحْكُمْ بَيْنَنَا، أَوْ قَالَ لِآخَرَ: إذَا أَهَلَّ الْهِلَالُ فَاحْكُمْ. لَا يَصِحُّ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ، وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ يَصِحُّ.
[فَصْلٌ فِيمَا يَصِحُّ فِيهِ التَّحْكِيمُ وَمَا لَا يَصِحُّ]
یہ فصل ان چیزوں کے بارے میں جن میں حکم بنانا درست ہے اور جن میں حکم بنانا درست نہیں پہلی فصل تھی جن کو حکم بنانا درست تھا اور جن کو حکم بنانا درست نہیں اور یہاں فرمایا کہ جن چیزوں کے بارے میں حکم بنانا درست ہے اور جن چیزوں کے بارے میں حکم بنانا درست نہیں ہے
(فَصْلٌ) :
جن چیزوں میں حکم بنانا درست ہے اور جن چیزوں میں حکم بنانا درست نہیں چنانچہ ہر وہ معاملہ جس میں دونوں فریق اپنے فعل کے مالک ہوں گے اس میں حکم بنانا درست ہے جیسے کہ حقوق العباد! چناں چہ بندوں کے جتنے حقوق ہیں ان میں دونوں فریق اپنے معاملے کے مالک ہوتے ہیں لہذا ان میں وہ دوسرے کو حکم بنا سکتے ہیں اور حکم صاحب ان کے اس معاملہ میں فیصلہ بھی کر سکتا ہے اور جن معاملات میں فریقین اپنے فعل کے مالک نہیں ہوتے جیسا کہ حقوق اللہ! فریقین اللہ تعالیٰ کے جتنے حقوق ہیں ان کے مالک نہیں ہوتے ہیں اس لیے حقوق اللہ میں حکم بھی نہیں بنا سکتے ہیں، یہاں تک کہ اموال، طلاق، عتاق،نکاح،قصاص اور چوری کا ضمان لازم کرنے میں حکم بنانا جائز ہو گا کیوں کہ یہ حقوق العباد ہیں اور حد زنا، حد سرقہ اور قذف میں حکم بنانا درست نہ ہوگا اس لیے کہ حکم بنانا یہ بھی تفویض ہے اور تفویض اسی چیز میں درست ہوتی ہے جس چیز کا مفوض خود مالک ہو اور اور جس چیز کا مفوض مالک نہیں ہوتا ہے اس میں وہ تفویض بھی نہیں کر سکتا جیسے کہ توکیل کہ وکالت بھی انہی معاملات میں درست ہے جن معاملات کا بندہ خود مالک ہو جس فعل کا انسان مالک نہیں ہوتا جب اس میں خود اس اصیل کے طور پر فیصلہ نہیں کر سکتا تو دوسرے کو وکیل بھی نہیں بنا سکتا، خلاصہ! جس کا خود انسان مالک نہیں اس کو انسان تفویض بھی نہیں کر سکتا جب تفویض نہیں کر سکتا گویا اس کا مالک نہیں اور جب مالک نہیں تو اس میں وہ حکم بھی نہیں بنا سکتا۔
(فائدہ) عتاق حق العبد ہے عتق حق اللہ جس طرح عتاق میں تجزی تو ہے لیکن عتق میں تجزی نہیں اگر کوئی آدھا غلام بھی آزاد کرے تو پورا غلام خود بخود آزاد ہو جائے گا۔
فِيمَا يَصِحُّ فِيهِ التَّحْكِيمُ وَمَا لَا يَصِحُّ وَيَصِحُّ التَّحْكِيمُ فِيمَا يَمْلِكَانِ فِعْلَ ذَلِكَ بِأَنْفُسِهِمَا وَهُوَ حُقُوقُ الْعِبَادِ، وَلَا يَصِحُّ فِيمَا لَا يَمْلِكَانِ - وَهُوَ حُقُوقُ اللَّهِ تَعَالَى - حَتَّى يَجُوزَ التَّحْكِيمُ فِي الْأَمْوَالِ وَالطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ وَالنِّكَاحِ وَالْقِصَاصِ وَتَضْمِينِ السَّرِقَةِ، وَلَا يَجُوزُ فِي حَدِّ الزِّنَا وَالسَّرِقَةِ وَالْقَذْفِ؛ لِأَنَّ التَّحْكِيمَ تَفْوِيضٌ وَالتَّفْوِيضُ يَصِحُّ بِمَا يَمْلِكُ الْمُفَوِّضُ فِيهِ بِنَفْسِهِ وَلَا يَصِحُّ فِيمَا لَا يَمْلِكُ كَالتَّوْكِيلِ.
اور والے مسئلہ میں یہ بات آئی کہ حدود کا تو انسان مالک نہیں کیوں وہ حقوق اللہ ہیں، البتہ قصاص کا انسان مالک ہوتا ہے، اب یہاں سے اس سلسلے میں ایک اختلاف ذکر کر رہے ہیں کہ امام خصاف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ذکر کیا حد اور قصاص میں حکم کا فیصلہ جائز نہیں ہوگا اس لیے کہ حکم کا فیصلہ وہ صلح کے درجے میں ہوتا ہے پس ہر وہ معاملہ جو صلح کی صلاحیت رکھتا ہو جس میں صلح کے استحقاق کا جواز ہو اس میں حکم کے فیصلہ کا بھی جواز ہو سکتا ہے اور جس میں صلح یا کسی بھی عقد کےاستحقاق کا جواز نہ ہو صلح کی صلاحیت نہ ہو ان معاملات میں حکم بھی نہیں بنا سکتے چنانچہ حد قذف اور قصاص یہ ایسے معاملات ہیں کہ ان کا صلح یا کسی بھی عقد کے ذریعے حاصل و حل کرنا جائز نہیں ہے۔
وَذَكَرَ الْخَصَّافُ: وَلَا يَجُوزُ حُكْمُ الْمُحَكَّمِ فِي حَدٍّ أَوْ قِصَاصٍ؛ لِأَنَّ حُكْمَ الْمُحَكَّمِ بِمَنْزِلَةِ الصُّلْحِ، فَكُلُّ مَا يَجُوزُ اسْتِحْقَاقُهُ بِالصُّلْحِ يَجُوزُ التَّحْكِيمُ فِيهِ، وَمَا لَا فَلَا، وَحَدُّ الْقَذْفِ وَالْقِصَاصِ لَا يَجُوزُ اسْتِيفَاؤُهُمَا بِالصُّلْحِ وَبِعَقْدٍ مَا فَلَا يَجُوزُ التَّحْكِيمُ فِيهِمَا.
امام خصافؒ نے قصاص کے متعلق بھی فرمایا تھا کہ قصاص میں حکم بنانا درست نہیں کما مر اب یہاں امام محمد کی کتاب اصل کے حوالہ سے ذکر کر رہے ہیں کہ اصل میں ذکر کیا گیا ہے کہ قصاص میں تحکیم جائز ہے اس لیے کہ تحکیم تفویض بھی ہے اور توکیل بھی فریقین کے حق میں اگرچہ فریقین کے علاوہ کے حق میں وہ صلح ہوتی ہے یعنی غیر کے لیے وہ صلح ہوتی ہے لیکن فریقین کے حق میں تفویض و تولیت ہوتی ہے اور وہ دونوں فریق خود قصاص وصول کرنے کے مالک ہوتے اسی لیے تو اگر وہ کسی کو معاف کرنا چاہیں تو معاف کر سکتے ہیں کیوں کہ وہ قصاص خود مالک ہیں چنانچہ جب کے قصاص کے مالک ہوئے تو اس کی تفویض غیر کی طرف کرنا بھی درست ہوگا جیسا کہ ابھی گذر انسان جس کا مالک بذاتہ ہو اسی کی تفویض و توکیل درست ہے اور جب تفویض درست ہے تو پھر قصاص کے معاملہ میں حکم بنانے میں کیا حرج ؟
وَذُكِرَ فِي الْأَصْلِ أَنَّهُ يَجُوزُ التَّحْكِيمُ فِي الْقِصَاصِ؛ لِأَنَّ التَّحْكِيمَ تَفْوِيضٌ وَتَوْلِيَةٌ فِي حَقِّهِمَا وَإِنْ كَانَ صُلْحًا فِي حَقِّ غَيْرِهِمَا وَهُمَا يَمْلِكَانِ اسْتِيفَاءَ الْقِصَاصِ فَيَصِحُّ تَفْوِيضُهُ إلَى غَيْرِهِمَا.
(مَسْأَلَةٌ) :
چنانچہ حکم کا فیصلہ تمام مجتہد فیہ مسائل میں نافذ ہوگا جیسے کہ کنایات، طلاق اور عتاق ہے یہی صحیح قول ہے، لیکن احناف کے بعض شیوخ اس مسئلہ کا فتوی دینے سے گریز کرتے تھے، تاکہ عوام ان چیزوں میں زیادتی نہ کر بیٹھے، اور جری نہ ہوجائے، ہر کوئی اپنا اپنا حکم مقرر کر کے خود سے فیصلہ کرنا شروع کر دیں گے اس لیے اور اس سے خدشہ ہے کہ حقوق العباد میں کوتاہی کا ہر کوئی شرعی علوم سے واقف نہیں ہوتا، اس لیے بعض شیوخ احناف وہ اس مسئلہ کا فتوی دینے سے روکتے تھے کہ تمام مجتہدات مسائل میں حکم فیصلہ کر سکتا ہے۔
وَيَنْفُذُ حُكْمُ الْمُحَكَّمِ فِي سَائِرِ الْمُجْتَهَدَاتِ نَحْوِ الْكِنَايَاتِ وَالطَّلَاقِ وَالْعَتَاقِ وَهُوَ الصَّحِيحُ، لَكِنَّ شُيُوخَ الْمَذْهَبِ امْتَنَعُوا عَنْ الْفَتْوَى بِهَذَا لِئَلَّا يَتَجَاسَرَ الْعَوَامُّ فِيهِ.
ہاں البتہ دم خطا کے سلسلے میں حکم کا فیصلہ جائز نہیں ہوگا اس لیے کہ قتل خطا میں قاتل پر دیت آئے گی، اور وہ دیت عاقلہ کو ادا کرنی ہوگی، اگر قاتل اقرار نہ کرے اگر قاتل اقرار کرتا ہے قتل کا، تب تو دیت عاقلہ پر نہیں آئے گی بلکہ اسی قاتل کو تنہاء دیت ادا کرنی ہوگی لیکن اگر اقرار نہیں کرتا پھر قتل خطا میں قاتل کے بجائے عاقلہ پر دیت لازم ہوتی ہے اس لیے قتل خطا میں حکم کا فیصلہ جائز نہیں ہوگا اس لیے کہ فریقین تو راضی ہے حکم بنانے میں لیکن پورے عاقلہ راضی نہیں اور حکم کسی فریق کی رضا مندی کے بغیر جائز ہی نہیں ہے، ہاں دو فریق کی ذات تک تو حکم بنانا درست ہے کہ حکم میں اتنی ہی صلاحیت ہے وہ دو فریق کا قاضی ہوتا ہے تمام کا قاضی نہیں ہوتا، اب اگر حکم قاتل پر دیت کا فیصلہ کر لے تو بالکل جائز نہ ہوگا اس لیے کہ یہ فیصلہ مخالف شرع ہے کیوں کہ قتل خطا میں بالاتفاق شریعت کا حکم ہے کہ دیت بجائے قاتل کے عاقلہ پر دیت ہوگی اس حکم یہ فیصلہ کرنا کہ دیت قاتل پر ہے سرے سے درست نہیں اور اگر حکم دیت عاقلہ پر لازم کرے جب بھی حکم کا فیصلہ درست نہیں کیوں حکم کا فیصلہ عاقلہ پر درست نہیں ہاں اگر قاتل اقرار کر لے قتل خطا کا تو پھر اس وقت حکم کا اس قاتل پر دیت کا فیصلہ کرنا جائز ہوگا اس لیے کہ جو چیز قاتل کے اعتراف سے واجب ہوتی ہے وہ اس کا ضمان عاقلہ پر نہیں آتا چنانچہ یہاں بھی اگت اقرار سے دیت قاتل پر واجب ہوئی ہے اور اگر حکم کا فیصلہ بھی یہی ہو کہ دیت قاتل پر ہے تو بالکل وہ شریعت کی موافق ہوگی کیونکہ شرعاً اقرارقاتل سے عاقلہ پر دیت نہیں بلکہ قاتل پر آتی ہے چنانچہ حکم کا فیصلہ شریعت کے موافق ہوا اور نافذ بھی ہوگا۔
خلاصہ : تین صورت بیان ہوئی، (١) حکم قتل خطا میں عاقلہ پر دیت کا فیصلہ کرے تو حکم کا فیصلہ درست نہیں کیوں کہ عاقلہ حکم کی تحکیم پر راضی نہیں۔ (٢) حکم قاتل پر ہی دیت کا فیصلہ بغیر اس کے اقرار بالجرم کے، جب بھی حکم کا فیصلہ درست نہیں شرعی حکم کے مخالفت کی وجہ سے (٣) حکم قاتل کے اقرار بالجرم کی وجہ سے قاتل پر ہی دیت کا فیصلہ کرے تو حکم کا فیصلہ درست ہوگا اس لیے کہ حکم کا فیصلہ شرع کے موافق ہے، اور فریقین کی حد تک حکم، حکم بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
وَلَا يَجُوزُ حُكْمُهُ فِي الدَّمِ الْخَطَأِ؛ لِأَنَّ الْعَاقِلَةَ لَمْ تَرْضَ بِهِ، وَحُكْمُ الْمُحَكَّمِ إنَّمَا يَنْفُذُ عَلَى مَنْ يَرْضَى بِحُكْمِهِ، وَإِنْ قَضَى بِالدِّيَةِ عَلَى الْقَاتِلِ لَا يَجُوزُ؛ لِأَنَّ هَذَا الْحُكْمَ مُخَالِفٌ لِلشَّرْعِ، فَإِنَّ الدِّيَةَ فِي قَتْلِ الْخَطَأِ عَلَى الْعَاقِلَةِ، إلَّا أَنْ يَكُونَ الْقَاتِلُ أَقَرَّ بِالْقَتْلِ خَطَأً فَيَجُوزُ حِينَئِذٍ حُكْمُهُ بِالدِّيَةِ عَلَيْهِ؛ لِأَنَّ مَا يَجِبُ بِالِاعْتِرَافِ لَا تَتَحَمَّلُهُ الْعَاقِلَةُ، وَإِنَّمَا يَجِبُ عَلَى الْمُقِرِّ وَكَانَ حُكْمُهُ مُوَافِقًا فَنَفَذَ.
[فَصْلٌ فِيمَا يَصِحُّ فِيهِ حُكْمُ الْمُحَكَّمِ وَمَا لَا يَصِحُّ]
یہ فصل ان چیزوں کے بیان میں جن میں حکم کا فیصلہ صحیح ہے اور جن میں صحیح نہیں ہے۔
(فَصْلٌ) :
فِيمَا يَصِحُّ فِيهِ حُكْمُ الْمُحَكَّمِ وَمَا لَا يَصِحُّ
فریقین نے کسی آدمی کو حکم بنایا اور قاضی نے اس کے حکم بنانے کو جائز بھی قرار دیا اس سے پہلے کہ حکم کوئی فیصلہ کرتا پھر حکم نے قاضی کی رائے کے خلاف فیصلہ کیا تو حکم کا فیصلہ جائز نہیں ہوگا اس لیے کہ فریقین کا حکم بنانا یہ قاضی کی اجازت پر موقف نہیں تھا کہ قاضی اجازت دیتا گویا کہ وہ حکم بن چکا تھا، لہذا قاضی کا اجازت دینا باطل ہوا، کیونکہ قاضی کی اجازت کے بغیر بھی ان کا حکم بنانا درست ہے گویا کہ وہ قاضی کی اجازت سے حکم نہیں بنا ہے قاضی کی اجازت سے پہلے حکم بنا ہے اب جب وہ قاضی کی رائے کے خلاف فیصلہ کرتا ہے تو اس کی فیصلہ جائز نہیں ہوگا۔
حَكَّمَا رَجُلًا فَأَجَازَ الْقَاضِي حُكُومَتَهُ قَبْلَ أَنْ يَحْكُمَ، ثُمَّ حَكَمَ بِخِلَافِ رَأْيِ الْقَاضِي لَمْ يَجُزْ؛ لِأَنَّ تَحْكِيمَهُمَا لَا يَتَوَقَّفُ عَلَى إجَازَةِ الْقَاضِي فَتَكُونُ إجَازَتُهُ بَاطِلَةً.
اسی طرح قاضی کا حکم کے فیصلے کو جائز قرار دینا بھی باطل ہے اس لیے کہ یہ معدوم کی اجازت ہے کیونکہ ابھی اس نے فیصلہ کیا ہی نہیں اور جب قاضی کی اجازت باطل ہو گئی اور پھر حکم قاضی کی رائے کے خلاف فیصلہ کرتا ہے تو قاضی اس فیصلہ کو توڑ سکتا ہے، فریقین دو حکموں پر متفق ہوئے اور انہوں نے دو لوگوں کو حکم چنا پھر اگر ان دو حکمین میں سے ایک ہی فیصلہ کرتا ہے تو جائز نہیں اس لیے کہ قضاء ایسا عہدہ ہے جس میں رائی اور اچھی تدبیر کا محتاج ہوا جاتا ہے گویا انہوں نے جو دو حکموں کو چنا تو اس لیے چنا ہے تاکہ وہ دونوں مل کر کوئی فیصلہ کوئی تدبیر اختیار کریں کیونکہ ایک کی تدبیر کمزور ہو سکتی ہے اور ایک دھوکہ کھا سکتا ہے لیکن جتنے زیادہ دماغ ملیں کے اتنا ہی زیادہ رائے و تدبیر پختہ ہو سکتی ہے اس لیے شریعت نے ہر معاملہ میں مشورہ کا حُکم دیا ہے والناس عنھا غافلون، خیر یہاں فریقین دونوں کی تدبیر سے راضی اور جب یہاں ایک ہی تدبیر قائم کر کے فیصلہ کرتا ہے تو درست نہیں، چنانچہ یہی دلیل مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمائی کہ وہ دونوں فریق ان دونوں حکموں کی رائے سے راضی ہیں نہ کہ ان میں سے ایک کی رائے پر، پس ان میں سے کوئی فیصلہ کرنے پر منفرد ہو، اور یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ خرید و فروخت کے لئے دو وکیلوں کو چننا اور اسی طرح امام جب وہ قضاء کا معاملہ دو قاضیوں کے سپرد کرے جیسا کہ آ گے آئے گا، تو وہ دونوں ایک ساتھ فیصلہ کریں گے تو درست ہوگا اگر الگ الگ کریں گے تو فیصلہ درست نہیں ہوگا کیونکہ امام نے جو دو آدمیوں کو قضاء کا عہدہ سپرد کیا ہے وہ اسی لیے تاکہ دو قاضی مل کر کوئی ڈیسیژن لے کوئی فیصلہ کریں تاکہ رائے پختہ ہو، تو اسی طرح یہاں بھی جب دو کو حکم بنایا تو ایک کا تنہا فیصلہ کرنا درست نہ ہوگا دونوں کو ایک ساتھ فیصلہ کرنا نا گزیر ہے۔
وَكَذَلِكَ إجَازَتُهُ حُكْمَ الْمُحَكَّمِ بَاطِلَةٌ؛ لِأَنَّهُ إجَازَةُ الْمَعْدُومِ، وَإِذَا بَطَلَتْ إجَازَتُهُ وَقَدْ قَضَى بِخِلَافِ رَأْيِهِ كَانَ لِلْقَاضِي نَقْضُهُ اتَّفَقَا عَلَى حُكْمَيْنِ فَحُكْمُ أَحَدِهِمَا لَمْ يَجُزْ؛ لِأَنَّ الْقَضَاءَ: أَمْرٌ يُحْتَاجُ فِيهِ إلَى الرَّأْيِ وَالتَّدْبِيرِ، وَهُمَا رَضِيَا بِرَأْيِهِمَا دُونَ رَأْيِ أَحَدِهِمَا فَلَمْ يَنْفَرِدْ أَحَدُهُمَا بِالْقَضَاءِ كَوَكِيلَيْ الْبَيْعِ وَالشِّرَاءِ وَكَالْإِمَامِ إذَا فَوَّضَ الْقَضَاءَ إلَى اثْنَيْنِ لَا يَنْفَرِدُ أَحَدُهُمَا بِهِ، فَكَذَا هَذَا.
(مَسْأَلَةٌ) :
جب تک فریقین مجلس میں ہیں انہوں نے کسی کو حکم بنایا پھر انہوں نے اس حکم سے کہا اسی مجلس میں آپ ہمارے درمیان فیصلہ نہ کیجئے! اور حکم واپس کہہ رہا ہے میں تو فیصلہ کر چکا ہوں تو ایسے میں حکم کے فیصلہ کی تصدیق کی جائے گی جب تک مجلس برقرار ہے حکم کے فیصلہ کی تصدیق اس لیے کی جائے گی کہ وہ اس چیز کی خبر دے رہا ہے اس چیز کو نقل کر رہا ہے جس کے استئناف ( از سر نو) و انشاء کا وہ ابھی مالک ہے اگر اس نے ابھی تک فیصلہ نہ بھی کیا ہو لیکن اگر وہ مجلس میں اقرار کر رہا ہے کہ میں فیصلہ کر چکا ہوں یہ اقرار بھی انشاء حکم کی صلاحیت رکھتا ہے گویا کہ وہ اس چیز کے اقرار کا بھی مالک ہے اور اس چیز کے انشاء و استئناف کا بھی مالک ہے اس لیے اس کے اقرار کو بھی انشاء و استئناف مان لیا گیا ہاں کب فریقین اس کو مجلس میں کہہ دیں کہ آپ ہمارے درمیان فیصلہ نہ کیجیے گا اب! اس کے بعد اگر وہ کوئی فیصلہ کرتا ہے تو درست نہیں کیونکہ وہ اب انشاء و استئناف کا مالک نہیں۔
حَكَّمَا رَجُلًا مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ فَقَالَا: لَمْ يَحْكُمْ بَيْنَنَا، وَقَالَ: حَكَمْت، فَالْحُكْمُ مُصَدَّقٌ مَا دَامَ فِي مَجْلِسِهِ؛ لِأَنَّهُ حَكَى مَا يَمْلِكُ اسْتِئْنَافَهُ وَإِنْشَاءَهُ، فَمَلَكَ الْإِقْرَارَ بِهِ وَجُعِلَ إقْرَارُهُ كَأَنَّهُ إنْشَاءُ الْحُكْمِ، وَلَا يُصَدَّقُ بَعْدَهُ؛ لِأَنَّهُ لَا يَمْلِكُ إنْشَاءَ الْحُكْمِ.
[الرُّكْنُ الثَّانِي مِنْ أَرْكَانِ الْقَضَاء الْمَقْضِيِّ بِهِ]
ارکان قضاء کا دوسرا رکن مقضی بہ اور قضاء کے لیے اجتہاد قاضی ہے، قاضی کے لیے مناسب ہے کہ وہ فیصلہ کرے ان احکام کے ذریعے جو قران پاک میں منسوخ نہیں ہوئے ہیں اور اگر قاضی کے پاس کوئی ایسا معاملہ آیا کہ اس سلسلے میں وہ کتاب اللہ میں حکم نہ پائے تو چاہیے کہ قاضی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی سنت کے ذریعے سے فیصلہ کرے اس لیے کہ ہمیں آپ علیہ الصلوۃ والسلام کے فرامین کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے چنانچہ اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے کہ جو کچھ تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عطا کریں گے اسے لے لو اور جس چیز سے پیغمبر کریم صلی اللہ علیہ وسلم روکیں گے اس سے رک جاؤ! باز آ جاؤ! بس اگر قاضی قران پاک یا سنت رسول اللہ میں کوئی صراحت نہ پائے تو پھر وہ اجماع صحابہ سے فیصلہ کرے گا اس لیے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کا فرمان ہے کہ تم پر میری سنت اور خلفاء راشدین کی سنت لازم ہے اور اگر قاضی اقول صحابہ میں اختلاف پائے پھر اگر قاضی مجتہد ہو یعنی تمییز بین الاقوال المختلفۃ کی اس میں صلاحیت ہے، اہل نظر میں سے ہو تو پھر ایسے میں قاضی مجتہد صحابہ کے اقوال کے درمیان ترجیح و تمییز کے بعد راجح قول کو اختیار کرے گا، اور صحابہ کے اقوال کو دیکھے گا کہ جو قول ان میں حق کے زیادہ مشابہ ہو اور درستگی کے زیادہ قریب ہو اور قاضی کے یہاں جو سب سے معتبر اور مستند قول ہو قاضی اس کے ذریعے فیصلہ کرے گا حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اس فرمان کی وجہ سے کہ میرے تمام صحابہ ستاروں کے مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی اقتداء کرو گے ہدایت پا جاؤ گے، فلاح پا جاؤ گے ہاں اگر قاضی اجماع صحابہ یا اقوال صحابہ میں سے کوئی قول نہ پائے، البتہ اس میں کسی قول پر تابعین کا اجماع ہو، تو قاضی اسی تابعین کے اجماعی قول سے فیصلہ کرے گا اس لیے کہ ہر زمانے کے اجماع حجت ہے، قاضی کے لیے گنجائش نہیں کہ وہ اس کی مخالفت کرے اور اگر معاملہ ایسا ہو کہ اس میں تابعین کے درمیان اختلاف ہو تو تابعین میں سے کسی قول کو ترجیح دے کر اسی راجح قول پر فیصلہ کرے گا اور اگر وہ اجماع تابعین میں سے کسی قول کو نہ پاتا ہو اور وہ قاضی خود اہل اجتہاد میں سے ہو تو پھر وہ ان جیسے مسائل پر قیاس کر کے احکام کو مستنبط کرے گا اور اپنی اجتہادی رائے قائم کر کے درستگی تک پہنچنے کے لیے کوشش و غور و فکر کرے گا، پھر اپنی رائے سے فیصلہ کرے گا اور اگر وہ اہل اجتہاد میں سے نہ ہو تو پھر وہ اس معاملہ میں قاضی فتوی پوچھے گا اور پھر مفتی کے فتوے پر فیصلہ کرے گا بغیر جانے، سوچے، سمجھے ہرگز فیصلہ نہیں کرے گا اور نہ دوسرے سے سوال کرنے میں وہ شرم محسوس کرے تاکہ پیغمبر کریم ﷺ کے فرمان ( القضاۃ ثلاثۃ) میں ذکر کردہ وعید کا شکار نہ ہو جائے، جیسا کہ حدیث پاک گزر چکی ہے پس اگر اس نے ایک مسئلہ کا دوسرے مسئلہ پر قیاس کیا پھر درست حکم اس کے خلاف ظاہر ہوا تو وہ گنہگار ہوگا اس لیے گنہگار ہوگا کہ وہ مجتہد نہیں تھا بلکہ وہ معتد حد تجاوزی کرنے والا تھا اس کو قیاس نہیں کرنا چاہیے تھا بلکہ اس کو فتوی ہی پوچھنا چاہیے تھا پس مدعی علیہ کو قیامت کے دن قاضی کے خلاف جھگڑا و حجت کرنے کا حق ہوگا۔
" الْمَقْضِيُّ بِهِ، وَاجْتِهَادُ الْقَاضِي فِي الْقَضَاءِ " يَنْبَغِي لِلْقَاضِي أَنْ يَقْضِيَ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ الْأَحْكَامِ الَّتِي لَمْ تُنْسَخْ، وَإِنْ وَرَدَ عَلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ يَعْرِفْهُ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى يَقْضِي بِمَا جَاءَ فِي السُّنَّةِ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَنَّا أُمِرْنَا بِاتِّبَاعِهِ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى {وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا} [الحشر: ٧] الْآيَةَ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ نَصًّا يَقْضِي بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ فَقَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «عَلَيْكُمْ بِسُنَّتِي وَسُنَّةِ الْخُلَفَاءِ الرَّاشِدِينَ مِنْ بَعْدِي» فَإِنْ كَانَ بَيْنَهُمْ اخْتِلَافٌ فَإِنْ كَانَ الْقَاضِي مِنْ أَهْلِ التَّمْيِيزِ وَالنَّظَرِ مَيَّزَ أَقَاوِيلَهُمْ وَرَجَّحَ قَوْلَ بَعْضِهِمْ وَنَظَرَ إلَى أَشْبَهِهَا بِالْحَقِّ وَأَقْرَبِهَا إلَى الصَّوَابِ وَأَحْسَنِهَا عِنْدَهُ وَقَضَى بِهِ لِقَوْلِهِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «أَصْحَابِي كَالنُّجُومِ بِأَيِّهِمْ اقْتَدَيْتُمْ اهْتَدَيْتُمْ» فَإِنْ كَانَ شَيْءٌ لَمْ يَأْتِ فِيهِ مِنْ الصَّحَابَةِ قَوْلٌ وَكَانَ فِيهِ إجْمَاعُ التَّابِعِينَ قَضَى بِهِ؛ لِأَنَّ إجْمَاعَ كُلِّ عَصْرٍ حُجَّةٌ فَلَا يَسَعُهُ أَنْ يُخَالِفَهُ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ اخْتِلَافٌ بَيْنَهُمْ يُرَجِّحُ قَوْلَ بَعْضِهِمْ وَيَقْضِي بِهِ، وَإِنْ لَمْ يَجِدْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، فَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْل الِاجْتِهَادِ قَاسَهُ عَلَى مَا يُشْبِهُهُ مِنْ الْأَحْكَامِ وَاجْتَهَدَ بِرَأْيِهِ وَتَحَرَّى الصَّوَابَ ثُمَّ قَضَى بِرَأْيِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَهْلِ الِاجْتِهَادِ يَسْتَفْتِي فِي ذَلِكَ فَيَأْخُذُ بِفَتْوَى الْمُفْتِي وَلَا يَقْضِي بِغَيْرِ عِلْمٍ، وَلَا يَسْتَحْيِي مِنْ السُّؤَالِ لِئَلَّا يَلْحَقَهُ الْوَعِيدُ الْمَذْكُورُ فِي قَوْلِهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - «الْقُضَاةُ ثَلَاثَةٌ» وَقَدْ تَقَدَّمَ، فَلَوْ قَاسَ مَسْأَلَةً عَلَى مَسْأَلَةٍ فَظَهَرَ خِلَافُهُ يَأْثَمُ إذْ لَيْسَ بِمُجْتَهِدٍ وَهُوَ مُتَعَدٍّ، فَالْخُصُومَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِلْمُدَّعَى عَلَيْهِ عَلَى الْقَاضِي.
[فَصْلٌ تَفْسِيرِ الِاجْتِهَادِ وَأَهْلِيَّةِ الِاجْتِهَادِ]
یہ فصل اجتہاد اور اہل اجتہاد کی تفصیل کے بیان میں ہے
(فَصْلٌ) :
اجتہاد اور اہل اجتہاد کی تفسیر جاننا بھی ضروری ہے چنانچہ اجتہاد کہتے ہیں مقصود کے حاصل کرنے میں انتھک کوشش خرچ کرنا، طلب مقصود میں پوری جان لگا دینا، بہرحال اجتہاد کی اہلیت : تو ہمارے بعض مشائخ نے فرمایا کہ مناسب ہے مجتہد کے لیے کہ وہ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ، اجماع امت و قیاس ان تمام دلائل سے باخبر اور جاننے والا ہو اسلاف کے یہاں مجتہد ہونے کے لیے یہی ایک شرط ہے جبکہ مجتہد کے لیے ان فروع کا جاننا شرط نہیں ہے جن کا مجتہدین نے اپنی رائے سے استخراج و استنباط کیا ہے یعنی تمام فروعی مسائل کا ایک مجتہد کے لیے جاننا ضروری نہیں البتہ قران پاک، سنت رسول اللہ، اجماع اور قیاس ان تمام علوم سے واقف ہونا چاہیے۔
لَا بُدَّ مِنْ مَعْرِفَةِ تَفْسِيرِ الِاجْتِهَادِ وَأَهْلِيَّةِ الِاجْتِهَادِ. .
فَالِاجْتِهَادُ: بَذْلُ الْمَجْهُودِ فِي طَلَبِ الْمَقْصُودِ، وَأَمَّا أَهْلِيَّةُ الِاجْتِهَادِ: قَالَ بَعْضُ مَشَايِخِنَا: يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ عَالِمًا بِالنُّصُوصِ مِنْ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَالْإِجْمَاعِ وَالْقِيَاسِ هَذَا هُوَ الشَّرْطُ فِي السَّلَفِ لِصَيْرُورَةِ الرَّجُلِ مُجْتَهِدًا، وَلَا يُشْتَرَطُ مَعْرِفَةُ الْفُرُوعِ الَّتِي اسْتَخْرَجَهَا الْمُجْتَهِدُونَ بِرَأْيِهِمْ.
اور بعض فقہاء نے اس کے ساتھ یہ شرط بھی لگائی ہے کہ مجتہد ان تمام فروع سے بھی واقف ہونا چاہیے جو سلف صالحین کے اجتہاد پر مبنی ہے یعنی متقدمین مجتہدین نے جن فروع کا استنباط کیا ہے مجتہد ان تمام فروعات سے بھی واقف ہونا چاہیے جیسے کہ امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک، امام شافعی اور امام احمد یا جتنے بھی مجتہدین ہیں ان کے ہمہ فروعات سے ایک مجتہد کو واقف ہونا ناگزیر ہے اور یہ لوگوں پر آسانی کے لیے ہے پس جس شخص نے ان تمام فروعات کو سنا ہی ہوگا اور صرف ان میں فقاہت حاصل کی ہوگی وہ بھی اہل اجتہاد میں سے ہوگا۔
وَقَالَ بَعْضُهُمْ مَعَ هَذَا: أَنْ يَكُونَ عَارِفًا بِالْفُرُوعِ الْمَبْنِيَّةِ عَلَى اجْتِهَادِ السَّلَفِ كَفُرُوعِ أَبِي حَنِيفَةَ وَالشَّافِعِيِّ وَنَحْوِ ذَلِكَ، وَهَذَا لِلتَّسْهِيلِ عَلَى النَّاسِ، فَإِنَّ مَنْ سَمِعَ عَامَّةَ ذَلِكَ وَتَفَقَّهَ فِيهِ يَصِيرُ مِنْ أَهْلِ الِاجْتِهَادِ.
حضرت شیخ الاسلام شمس الائمہ سرخسی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں جس نے متقدمین و متأخرین فقہاء کے مذاہب کو یاد کیا وہ اہل اجتہاد میں سے ہوگا اسے مجتہد کہا جا سکتا ہے، پھر جب کوئی آدمی اس مبلغ اور اس حد کو پہنچ جائے تو وہ مجتہد ہو جائے گا اور مجتہد پر واجب ہے اپنے اجتہاد پر عمل کرنا اور اس پر دوسرے کی تقلید حرام ہے کیونکہ وہ خود مجتہد ہے
وَقَالَ شَيْخُ الْإِسْلَامِ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ السَّرَخْسِيُّ: مَنْ حَفِظَ الْمَبْسُوطَ وَمَذْهَبَ الْمُتَقَدِّمِينَ فَهُوَ مِنْ أَهْلِ الِاجْتِهَادِ.
وَإِذَا بَلَغَ الرَّجُلُ هَذَا الْحَدَّ يَصِيرُ مُجْتَهِدًا، وَيَجِبُ عَلَيْهِ الْعَمَلُ بِاجْتِهَادِهِ وَيَحْرُمُ عَلَيْهِ تَقْلِيدُ غَيْرِهِ،
اور جب مجتہد کسی معاملہ میں اجتہاد کرے اور پوری جان لگا کوشش کرے کیا ہر حال میں مجتہد درستگی کو پہنچنے والا ہوگا یا کبھی کبھی خطا پر بھی ہوگی؟ تو اہل حق حضرات فرماتے ہیں مجتہد کبھی کبھی غلط کر جاتا ہے اور کبھی کبھی شرعی معاملات میں درستگی کو پہنچ جاتا ہے۔جبکہ بعض مشائخ فرماتے ہیں کہ مجتہد اپنے اجتہاد میں ہر حال میں ( دنیاوی اعتبار سے) درستگی کو پہنچنے والا ہوتا ہے لیکن وہ کبھی کبھی خطا کر جاتا ہے اپنے اجتہاد میں ( جہاں تک اس کو کا اجتہاد لے گیا) بایں طور کہ جہاں تک مجتہد کا اجتہاد پہنچا ہے حق اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کے برخلاف ہوتا ہے، مجتہد نے اپنی طرف کوشش کی وہ حق کو پہنچ گیا اپنے اعتبار سے البتہ کیا وہی حق اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک بھی ہے یا نہیں یہ کوئی ضروری نہیں کبھی کبھی مجتہد اپنے اعتبار سے حق کو پہنچ جاتا ہے لیکن اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک وہ حق نہیں ہوتا ہے بلکہ حق کے خلاف ہوتا ہے یہی امام اعظم ابو حنیفہ سے مروی ہے اس لیے کہ ان سے روایت کیا گیا ہے کہ ہر مجتہد درستگی کو پہنچنے والا ہے جبکہ اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک حق صرف ایک ہی ہے اور اس کی تفسیر وہی ہے جو ہم نے ذکر کی یعنی ہر مجتہد اپنے مقدور بھر اجتہاد کے اعتبار سے حق کو پہنچتا ہے ( دنیاوی اعتبار سے) لیکن وہ چیز جہاں تک مجتہد پہنچا ہے وہ کبھی کبھی اللہ پاک کے نزدیک حق نہیں ہوتا، بلکہ اس کے بر خلاف حق ہوتا۔
ثُمَّ إذَا اجْتَهَدَ الْمُجْتَهِدُ فِي ذَلِكَ وَبَالَغَ فِيهِ هَلْ يَكُونُ مُصِيبًا عَلَى كُلِّ حَالٍ أَوْ يَجُوزُ الْخَطَأُ عَلَيْهِ؟ قَالَ أَهْلُ الْحَقِّ بِأَنَّ الْمُجْتَهِدَ قَدْ يُخْطِئُ وَقَدْ يُصِيبُ فِي الشَّرْعِيَّاتِ.وَقَالَ بَعْضُ مَشَايِخِنَا: إنَّهُ مُصِيبٌ فِي اجْتِهَادِهِ بِكُلِّ حَالٍ، وَلَكِنَّهُ قَدْ يُخْطِئُ فِيمَا يُؤَدِّي إلَيْهِ اجْتِهَادُهُ بِأَنْ كَانَ عِنْدَ اللَّهِ بِخِلَافِهِ، وَهُوَ مَرْوِيٌّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ، فَإِنَّهُ رُوِيَ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: كُلُّ مُجْتَهِدٍ مُصِيبٌ، وَالْحَقُّ عِنْدَ اللَّهِ وَاحِدٌ وَتَفْسِيرُهُ مَا ذَكَرْنَا.
عام معتزلہ اور اکثر اشاعرہ فرماتے ہیں کہ ہر مجتہد شرعی احکام میں حق کو پہنچنے والا ہوتا ہے اور اس قول کی بنیاد اس پر ہے کہ یہ حضرات فرماتے ہیں کہ اجتہاد کا مقام ہی ان کے نزدیک حقوق ہیں یعنی عام معتزلہ و بعض اشاعرہ کا کہنا ہے کہ حق عند الله متعدد ہیں چناں حق اللہ پاک نے وہ حقوق بیان نہیں کئے اور مجتہد کو مکلف بنا کہ وہ اپنے اجتہاد سے کوشش کرے وہاں تک پہنچنے کی اور جب مجتہد کوشش کرتا ہے حق تک پہنچنے کی اور جہاں تک پہنچتا ہے وہی موضع اجتہاد عند حق ہے دوسرا مجتہد اجتہاد کرتا ہے وہ جس تک اپنے اجتہاد سے پہنچتا ہے وہ موضع اجتہاد بھی عند الله حق ہے چنانچہ فرماتے کہ ہر مجتہد کہ اس کا اجتہاد اسے جس چیز تک لے جائے وہ چیز اس کے لیے اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک حق ہے ہاں دوسرے مجتہد کے لیے وہ حق نہیں کیوں ضروری نہیں کہ دوسرے مجتہد کا اجتہاد اسے اسی چیز تک لے جائے کبھی اسی چیز تک پہنچا سکتی ہے کبھی کسی دوسری چیز تک تو جہاں تک دوسرے مجتہد کا اجتہاد پہنچے گا وہی اس کے لیے بھی عند الله حق ہے اس قول ( قول عام معتزلہ و بعض اشاعرہ) سے پتا چلتا ہے کہ ان کے نزدیک حق عند الله متعدد ہو سکتے ہیں، جبکہ امام ابو حنیفہ کے قول سے معلوم ہوتا ہے کہ حق عند الله ایک ہی ہے اور مجتہدین کے حق میں دنیاوی اعتبار سے متعدد حق ہے۔
وَقَالَ عَامَّةُ الْمُعْتَزِلَةِ وَأَكْثَرُ الْأَشْعَرِيَّةِ: إنَّ كُلَّ مُجْتَهِدٍ مُصِيبٌ فِي الشَّرْعِيَّاتِ، وَهَذَا بِنَاءٌ عَلَى أَنَّ مَوْضِعَ الِاجْتِهَادِ عِنْدَهُمْ حُقُوقٌ، وَكُلُّ مُجْتَهِدٍ أَدَّى اجْتِهَادُهُ إلَى شَيْءٍ يَكُونُ صَوَابًا فِي حَقِّهِ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى لَا فِي حَقِّ صَاحِبِهِ.
اہل حق کے نزدیک حق اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک ایک ہی ہے اور اجتہاد نام ہے اس حق کو طلب کرنے کا پس اگر مجتہد اس حد تک پہنچ جائے تو گویا وہ حق کو پہنچنے والا ہے اور اگر اس حق کو نہ پائے تو وہ غلطی کرنے والا ہے اپنے مقدور بھر اس حق تک پہنچنے کی ضرورت کی وجہ سے اگرچہ وہ نہ پہنچ پائے،دلائل اس کے یہ ہیں کہ یہ ( حق عند اللہ ایک ہی ہے) اس لیے ہے کہ ایک ہی شئ ایک ہی زمانہ میں ایک ہی شخص کے حق میں ایک ہی جہت سے حلال اور حرام صحیح اور فاسد ہونا من باب اجتماع تناقض میں سے ہے کہ ایک ہی زمانہ میں ایک ہی شخص کے حق میں اور ایک ہی جہت سے ایک چیز حلال بھی ہو اور حرام بھی ہو صحیح بھی ہو فاسد بھی ہو ایسا نہیں ہو سکتا یا تو حلال ہوگی یا حرام ہو گی یا صحیح ہوگی یا فاسد ہو گی چنانچہ اس تناقض سے شریعت کو پاک رکھنا واجب ہے اور بقول عام معتزلہ و بعض اشاعرہ کہ حق متعدد ہیں عند اللہ یہ صریح تناقض ہے اور حلت ایک ہی زمانہ میں ایک ہی چیز کے بارے میں ایک شخص کے حق میں ثابت ہو کسی معلوم مصلحت کی وجہ سے اور وہی مصلحت دوسرے شخص کے حق میں بھی ثابت ہو اور وہاں ظہر حرمت ثابت ہو یہ تناقض ہے اس لیے ثنت ہوا کہ حق عند الله ایک ہے دوسری دلائل یہ کہ بعض مسائل میں مجتہدین اپنے قول سے رجوع کرتے ہیں اگر حق عند اللہ متعدد ہو سکتے ہیں پھر رجوع چہ معنیٰ دارد؟ تیسری دلیل حدیث پاک میں ہے جو مجتد حق کو پہنچا اس کے لیے دہرا اجر ہے اور جو خطا کر جائے اسے بھی ایک اجر ملتا ہے اس حدیث سے صراحتاً پتہ چلتا ہے خطا بھی ہو سکتی ہے، ہاں اگر دونوں شخصوں میں مصلحتیں الگ الگ ہوں پھر مجتہدین کا اجتہاد ایک ہی مسئلہ میں حلال و حرام کا ہو تو یہ تناقض نہ ہوگا،دو شخصوں کے حق میں وہ نقیضین کی تصریح کے وقت اختلاف مصلحت دلالت حال سے پہچانی جاتی ہے۔
وَعِنْدَ أَهْلِ الْحَقِّ: الْحَقُّ عِنْدَ اللَّهِ وَاحِدٌ، وَالِاجْتِهَادُ طَلَبُ ذَلِكَ الْحَقِّ، فَإِنْ وَجَدَهُ يَكُنْ مُصِيبًا، وَإِنْ لَمْ يَجِدْهُ يَكُنْ مُخْطِئًا ضَرُورَةً وَذَلِكَ؛ لِأَنَّ الشَّيْءَ الْوَاحِدَ فِي زَمَانٍ وَاحِدٍ فِي حَقِّ شَخْصٍ وَاحِدٍ بِجِهَةٍ وَاحِدَةٍ حَلَالٌ وَحَرَامٌ صَحِيحٌ وَفَاسِدٌ مِنْ بَابِ التَّنَاقُضِ، فَيَجِبُ تَنْزِيهُ الشَّرْعِ عَنْ التَّنَاقُضِ وَالْحِلُ مَتَى كَانَ ثَابِتًا فِي زَمَانٍ وَاحِدٍ فِي شَيْءٍ وَاحِدٍ فِي حَقِّ شَخْصٍ وَاحِدٍ لِمَصْلَحَةٍ مَعْلُومَةٍ، وَتِلْكَ الْمَصْلَحَةُ قَائِمَةٌ فِي حَقِّ الشَّخْصِ الْآخَرِ ظَاهِرًا يَكُونُ تَنَاقُضًا فَأَمَّا عِنْدَ اخْتِلَافِ الْمَصْلَحَةِ فَلَا وَعِنْدَ التَّنْصِيصِ بِالنَّقِيضَيْنِ فِي حَقِّ شَخْصَيْنِ يُعْرَفُ بِدَلَالَةِ الْحَالِ اخْتِلَافُ الْمَصْلَحَةِ.
بہرحال غیر منصوص مسائل میں تو حرمت اس جیسے دوسرے شخص کے حق میں جائز نہیں ہوگی فی الحال کیوں کہ مصلحت اس کے حق میں ظاہر ہے اور وہی مصلحت پہلے شخص میں بھی تھی البتہ ہمیں کوئی علم نہیں ایسی باطنی مصلحت کا کہ اس کی وجہ سے شرعی احکام میں تناقض پایا جائے۔
فَأَمَّا فِي غَيْرِ الْمَنْصُوصِ عَلَيْهِ: لَا تَجُوزُ الْحُرْمَةُ فِي حَقِّ شَخْصٍ آخَرَ مِثْلِهِ فِي الْحَالِ، فَالْمَصْلَحَةُ فِي حَقِّهِ ظَاهِرَةٌ وَلَا عِلْمَ لَنَا بِمَصْلَحَةٍ بَاطِنَةٍ يَكُونُ تَنَاقُضًا مِنْ الشَّرْعِ.
پھر دو فصلوں کا پہچاننا ضروری ہے ان میں پہلی فصل یہ ہے کہ جب ہمارے اصحاب یعنی فقہاء حنفیہ متفق ہوں کسی مسئلہ میں اس طور پر کہ امام اعظم ابو حنیفہ امام ابو یوسف امام محمد رحمہم اللہ تعالی کا اہک ہی قول ہو تو قاضی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ان حضرات کی رائے کے خلاف اپنی رائے سے فیصلہ کرے اس لیے کہ حق ان حضرات کے قول سے تجاوز نہیں کر سکتا، اس لیے کہ امام ابو یوسفؒ محدث بھی تھے خود ان کا بیان ہے کہ انہوں نے بیس ہزار منسوخ احادیث بھی یاد کر رکھی تھیں، اگر منسوخ احادیث اس قدر حفظ تھیں تو ناسخ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ ساتھ میں حضرت فقیہ اور لغت کے امام بھی تھے۔
ثُمَّ لَا بُدَّ مِنْ مَعْرِفَةِ فَصْلَيْنِ [أَحَدُهُمَا] إذَا اتَّفَقَ أَصْحَابُنَا فِي شَيْءٍ قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ - رَحِمَهُمُ اللَّهُ -: لَا يَنْبَغِي لِلْقَاضِي أَنْ يُخَالِفَهُمْ بِرَأْيِهِ؛ لِأَنَّ الْحَقَّ لَا يَعْدُوهُمْ، فَإِنَّ أَبَا يُوسُفَ كَانَ صَاحِبَ حَدِيثٍ حَتَّى رُوِيَ أَنَّهُ قَالَ: أَحْفَظُ عِشْرِينَ أَلْفَ حَدِيثٍ مِنْ الْمَنْسُوخِ، فَإِذَا كَانَ يَحْفَظُ مِنْ الْمَنْسُوخِ هَذَا الْقَدْرَ فَمَا ظَنُّك بِالنَّاسِخِ، وَكَانَ صَاحِبَ فِقْهٍ وَمَعْنًى أَيْضًا.
اور امام محمدؒ بڑے تجربہ کار تھے، لوگوں کے احوال ان کی عادات سے خوب واقف، فقیہ و لغت کے امام تھے اسی لیے مسائل میں ان کا رجوع بہت کم ثابت ہے لغت کے علم میں امام محمد کو ایک خاص مقام و سبقت حاصل تھی اور ان کو احادیث میں بھی کافی معرفت حاصل تھی۔
وَمُحَمَّدٌ صَاحِبُ قَرِيحَةٍ يَعْرِفُ أَحْوَالَ النَّاسِ وَعَادَاتِهِمْ وَصَاحِبَ فِقْهٍ وَمَعْنًى، وَلِهَذَا قَلَّ رُجُوعُهُ فِي الْمَسَائِلِ، وَكَانَ مُقَدَّمًا فِي مَعْرِفَةِ اللُّغَةِ، وَلَهُ مَعْرِفَةٌ بِالْأَحَادِيثِ أَيْضًا.
اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ تو ان تمام چیزوں میں سب سے آ گے تھے مگر یہ کہ ان سے روایات ایک خاص نظریہ کے تحت بہت کم مروی ہیں وہ یہ کہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک حدیث کی روایت درست نہ تھی مگر جب انسان کو حدیث سننے کے وقت سے لے کر روایت کرنے کے وقت تک خوب و ازبر یاد ہو۔
وَأَبُو حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - كَانَ مُقَدَّمًا فِي ذَلِكَ كُلِّهِ، إلَّا أَنَّهُ قَلَّتْ رِوَايَتُهُ لِمَذْهَبٍ خَاصٍّ لَهُ فِي بَابِ الْحَدِيثِ، وَهُوَ أَنَّهُ إنَّمَا تَحِلُّ رِوَايَةُ الْحَدِيثِ عِنْدَهُ إذَا كَانَ يَحْفَظُ الْحَدِيثَ مِنْ حِينَ سَمِعَ إلَى أَنْ يَرْوِيَ.
دوسری فصل جس کا جاننا ضروری ہے وہ یہ کہ جب ان ائمہ احناف کے درمیان کسی مسئلہ میں اختلاف ہو تو بقول عبد اللہ ابن مبارک رحمۃ اللہ تعالی علیہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ کے قول کو اختیار کیا جائے گا اس لیے کہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ ایک تو تابعین میں سے تھے دوسرا یہ کہ فتاویٰ میں دوسرے فقہاء امام ابوحنیفہ ؒ کے مزاحم بھی رہے کہ ان فقہاء کے ساتھ بحث و تمحیص کے بعد ہی امام اعظم ابوحنیفہؒ کی قول کو اختیار فرماتے تھے۔
[وَالثَّانِي] إذَا اخْتَلَفُوا فِيمَا بَيْنَهُمْ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ: يُؤْخَذُ بِقَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ -؛ لِأَنَّهُ كَانَ مِنْ التَّابِعِينَ وَزَاحَمَهُمْ فِي الْفَتْوَى.
احناف میں سے متأخرین شیوخ فرماتے ہیں کہ جس قول پر دو امام جمع ہو جائیں اور اگر ان میں ایک امام اعظم ابو حنیفہ ہو تو انہیں دو کے قول کو لیا جائے گا اور اگر امام اعظم ابو حنیفہ ایک طرف ہوں اور صاحبینؒ دوسری طرف ہوں تو اگر قاضی مجتہد و اہل نظر ہو تو اسے اس سلسلے میں مختار ہے اپنے اجتہاد سے جس قول اصوب الفقہ پائے اس کو اختیار کرے گا اور اگر مجتہد نہ ہو تو پھر قاضی دوسرے سے فتوی پوچھے گا اور عامی کی طرح اسی فتوے پر فیصلہ کرے گا۔
وَقَالَ الْمُتَأَخِّرُونَ مِنْ الشُّيُوخِ: إذَا اجْتَمَعَ اثْنَانِ مِنْهُمْ عَلَى شَيْءٍ وَفِيهِمَا أَبُو حَنِيفَةَ يُؤْخَذُ بِقَوْلِهِمَا، وَإِنْ كَانَ أَبُو حَنِيفَةَ فِي جَانِبٍ وَهُمَا فِي جَانِبٍ، فَإِنْ كَانَ الْقَاضِي مِنْ أَهْلِ النَّظَرِ وَالِاجْتِهَادِ يَتَخَيَّرُ فِي ذَلِكَ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مِنْ أَهْلِ الِاجْتِهَادِ يَسْتَفْتِ غَيْرَهُ فَيَأْخُذُ بِقَوْلِهِ بِمَنْزِلَةِ الْعَامِّيِّ.
حسن بن زیاد رحمۃ اللہ تعالی علیہ اپنی کتاب ادب قاضی میں ذکر فرماتے ہیں کہ ناخواندہ و نا واقف جب کسی فقیہ سے فتوی پوچھے گا اور وہ فقیہ اسے کسی ایک فقیہ کے قول پر فتوی دے تو وہ عامی انسان اسی فقیہ کے قول کو اختیار کرے گا اور اس کے لیے گنجائش نہیں کہ دوسرے فقیہ کے قول کی طرف تجاوز کرے اور اگر شہر میں دو فقیہ ہوں اور دونوں فقیہ لوگوں کے یہاں مقبول منظور ہوں تو وہ عامی انسان ان دونوں فقیہ کے قول کو اختیار کرے گا اگر وہ دونوں فقیہ کسی ایک قول پر متفق ہوں اور اگر ان دونوں فقیہ کے اقول الگ الگ فتوی ہوں یعنی ان دونوں میں اختلاف ہو جائے تو پھر عامی انسان ان دونوں فقیہ کے فتوؤں کو دیکھے گا جس فتوے کے بارے میں اس کا دل کہے کہ یہ زیادہ درست ہے عامی انسان اسی قول کو اختیار کرے گا، اور اگر شہر میں تین فقیہ ہوں اور ان میں سے دو فقیہ کسی قول پر متفق ہو جائیں تو عامی انہی دو کے قول کو اختیار کرے گا اور اس عامی کے لیے گنجائش نہیں کہ تیسرے فقیہ کے قول کی طرف تجاوز کرے اور اگر ان تینوں فقیہ میں اختلاف ہو ان میں دو فقیہ کسی قول پر متفق نہ ہو، سب کا الگ الگ قول ہو تو پھر عامی کوشش کرے گا اور اس رائے جس میں انہوں نے فتوی دیا ہے ان میں جو بھی قول اس کے نزدیک درست ہو اسی پر عمل کرے گا اور اس کے لیے گنجائش نہیں ان میں سے کسی ایک کے علاوہ کے قول سے عمل کرے یعنی تینوں میں سے کسی ایک کے قول کو اختیار کرنا ہے۔
وَذَكَرَ الْحَسَنُ بْنُ زِيَادٍ فِي أَدَبِ الْقَاضِي لَهُ: الْجَاهِلُ بِالْعِلْمِ إذَا اسْتَفْتَى فَقِيهًا فَأَفْتَاهُ بِقَوْلِ أَحَدٍ أَخَذَ بِقَوْلِهِ وَلَا يَسَعُهُ أَنْ يَتَعَدَّى إلَى غَيْرِهِ، وَإِنْ كَانَ فِي الْمِصْرِ فَقِيهَانِ كِلَاهُمَا رِضًا يَأْخُذُ عَنْهُمَا، فَإِنْ اخْتَلَفَا عَلَيْهِ فَلْيَنْظُرْ أَيُّهُمَا يَقَعُ فِي قَلْبِهِ أَنَّهُ أَصْوَبُهُمَا وَسِعَهُ أَنْ يَأْخُذَ بِهِ، فَإِنْ كَانُوا ثَلَاثَةَ فُقَهَاءَ وَاتَّفَقَ اثْنَانِ أَخَذَ بِقَوْلِهِمَا وَلَا يَسَعُهُ أَنْ يَتَعَدَّى إلَى قَوْلِ الثَّالِثِ، وَإِنْ اخْتَلَفُوا وَلَمْ يَتَّفِقْ اثْنَانِ مِنْهُمْ عَلَى شَيْءٍ اجْتَهَدَ هُوَ وَرَأْيُهُ فِيمَا أَفْتُوهُ فِيهِ، فَأَيُّهُمْ كَانَ أَصْوَبَ عِنْدَهُ قَوْلًا عَمِلَ بِذَلِكَ، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَعْمَلَ بِقَوْلِ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْهُمْ.
ابو العباس ناطفی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ جب عامی مستقتی اہل عراق کے مذہب پر ہو یعنی وہ اہل عراق کے مذہب سے فتوی پوچھنے والا ہو اور اہل عراق میں سے ایک عالم اس کو امام اعظم ابو حنیفہ کے قول پر فتوی دے دوسرا امام ابو یوسف کے قول پر فتوی تیسرا امام محمد یا امام ظفر کے قول پر فتوی دے تو قاضی کے لیے گنجائش نہیں کہ وہ ان تین اقوال کو چھوڑ کر امام شافعی کی قول کو اختیار کرے یا امام مالک کے قول کو اختیار کرے بلکہ اس عامی مستفتی کے لیے جائز ہے کہ وہ قاضی کے قول کو اختیار کرے گا اگرچہ وہ قاضی اس عامی کو اس کے مذہب کے خلاف حکم دے۔
وَقَالَ أَبُو الْعَبَّاسِ النَّاطِفِيُّ: هَذَا إذَا كَانَ الْمُسْتَفْتِي عَلَى مَذْهَبِ أَهْلِ الْعِرَاقِ أَفْتَى عَالِمٌ بِقَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - وَأَفْتَى عَالِمٌ بِقَوْلِ أَبِي يُوسُفَ وَأَفْتَى عَالِمٌ بِقَوْلِ مُحَمَّدٍ أَوْ بِقَوْلِ زُفَرَ فَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِ الشَّافِعِيِّ وَلَا بِقَوْلِ مَالِكٍ، وَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِ الْقَاضِي إذَا حَكَمَ عَلَيْهِ بِخِلَافِ مَذْهَبِهِ.
اور اگر شہر میں بہت سارے فقیہ ہوں تو پھر قاضی ان کے ساتھ اس معاملے میں مشورہ کرے گا اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی نے اپنے رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورے کا حکم دیا ہے اپنے اس قول کے ذریعے سے ” وشاورھم فی الامر“ اور قاضی کی فی ذاتہ رسول پاک صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے زیادہ ذہین نہیں ہوتا پس اگر فقیہ کسی قول پر متفق ہو جائیں اور قاضی کی رائے بھی انہی کے رائے کے مطابق ہو تو پھر وہ اسی رائے سے حکم کا فیصلہ کر دے گا اور اگر وہ فقیہ اختلاف کریں تو قاضی غور و فکر سے کام لے کہ ان میں سے کون سا قول حق کے زیادہ قریب ہے جو قول اقرب الی الحق ہو اسے اختیار کرے گا اور اسی پر فیصلہ کرے گا اور اگرچہ قاضی اہل اجتہاد میں سے ہو ہاں اس سلسلے میں عمر کی درازی اور ایک طرف زیادہ لوگوں کا ہونا یعنی کثرت کا اعتبار نہیں ہے اس لیے کہ کبھی کبھی چھوٹا اور تنہاء آدمی بھی حق کے موافق کسی معاملے میں فیصلہ کر دیتا ہے جبکہ بڑا عمر رسیدہ اور کوئی جماعت اس حق کو نہیں پہنچ پاتی۔
وَإِنْ كَانَ فِي الْمِصْرِ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْفِقْهِ شَاوَرَهُمْ فِي ذَلِكَ؛ لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى أَمَرَ رَسُولَهُ بِذَلِكَ بِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَشَاوِرْهُمْ فِي الأَمْرِ} [آل عمران: ١٥٩] وَالْقَاضِي لَا يَكُونُ أَفْطَنَ فِي نَفْسِهِ مِنْ الرَّسُولِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -، فَإِنْ اتَّفَقُوا عَلَى شَيْءٍ وَكَانَ رَأْيُهُ كَرَأْيِهِمْ فَصَلَ الْحُكْمَ، وَإِنْ اخْتَلَفُوا نَظَرَ إلَى أَقْرَبِ الْأَقْوَالِ مِنْ الْحَقِّ وَأَمْضَى ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الِاجْتِهَادِ، وَلَا يُعْتَبَرُ السِّنُّ وَلَا كَثْرَةُ الْعَدَدِ؛ لِأَنَّ الْأَصْغَرَ وَالْوَاحِدَ قَدْ يُوَفَّقُ لِلصَّوَابِ فِي حَادِثَةٍ مَا لَا يُوَفَّقُ الْأَكْبَرُ وَالْجَمَاعَةُ.
البتہ کسی کی زیادتئ ذہانت اور قوی یاداشت، طبیعت کی عمدگی اور فہم کے پاکیزگی کی وجہ سے اس کے قول کو اختیار کیا جا سکتا ہے کیا آپ نہیں دیکھتے کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ مشورہ لیتے تھے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ سے اور ان سے کہتے تھے کہ ایک غوطہ لگانے والے غوطہ لگا اور جب حضرت ابن عباس کوئی درست مشورہ دیتے تو حضرت فاروق اعظم ان سے فرماتے کہ پاکیزہ فطرت کو میں اس کے آباؤ و اجداد سے پہچانتا ہوں یہ ایک مثل تھی عرب لوگ اکثر بولتے تھے جب کسی کو اس کے باپ، دادا سے تشبیہ دیتے تھے اور حضرت فاروق اعظم حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ کے قول کو اختیار کرتے تھے جبکہ فاروق اعظم خود عمر میں ان سے بہت بڑے تھے، خیر جب شہر کے فقہاء کسی قول پر اجماع کریں اور قاضی کے رائے ان فقہاء شہر کے خلاف ہو تو مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ وہ حکم دینے میں جلد بازی کرے یہاں تک کہ وہ اس سلسلے میں دوسرے لوگوں سے خط و کتابت کرے اور ان سے مشورہ لے پھر وہ ان میں سے سب سے بہتر اور احسن قول کو دیکھیے گا اور اسی پر عمل کرے گا اس لیے کہ غائب سے کتابت کے ذریعے مشورہ کرنا حاضر کے ساتھ بالمشافہہ بات چیت کے ذریعے مشورہ کرنے کے درجے میں ہے اس لیے اگر ان کے رائے قاضی کی رائے کے موافق ہو جائے تو قاضی اسی رائے پر فیصلہ کرے گا اور اگر فقہاء کی رائے قاضی کے رائے کے خلاف ہو تو قاضی اپنی رائے پر فیصلہ کرے گا اس لیے کہ قاضی کی رائے وہ زیادہ درست ہے قاضی کے نزدیک اور دوسرے فقہاء کی رائے درست نہیں قاضی کے نزدیک اس لیے جو قاضی کی رائے ہے اس ہر فیصلہ کرے گا نہ کہ اس رائے پر جو دوسروں کے پاس ہے۔
إمَّا لِكَثْرَةِ فِطْنَتِهِ وَحِفْظِهِ أَوْ لِجَوْدَةِ خَاطِرِهِ وَذَكَاءِ فَهْمِهِ - أَلَا يُرَى أَنَّ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - كَانَ يُشَاوِرُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَكَانَ يَقُولُ لَهُ: غُصْ يَا غَوَّاصُ، وَكَانَ إذَا أَصَابَ يَقُولُ لَهُ: " شَنْشَنَةٌ أَعْرِفُهَا مِنْ أَخَزَمَ "، وَهَذَا مَثَلٌ تَذْكُرُهُ الْعَرَبُ لِمَنْ يُشْبِهُ أَبَاهُ، وَكَانَ يَأْخُذُ بِقَوْلِهِ، وَعُمَرُ أَكْبَرُ سِنًّا، فَإِذَا اجْتَمَعَ فُقَهَاءُ الْبَلَدِ عَلَى شَيْءٍ وَكَانَ رَأْيُهُ خِلَافَ ذَلِكَ فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يَعْجَلَ بِالْحُكْمِ حَتَّى يَكْتُبَ فِيهِ إلَى غَيْرِهِمْ وَيُشَاوِرَهُمْ ثُمَّ يَنْظُرُ إلَى أَحْسَنِ ذَلِكَ فَيَعْمَلُ بِهِ؛ لِأَنَّ الْمَشُورَةَ بِالْكِتَابِ مِنْ الْغَائِبِ بِمَنْزِلَةِ الْمَشُورَةِ بِالْخِطَابِ مِنْ الْحَاضِرِ، فَإِنْ وَافَقَ رَأْيَهُ رَأْيُهُمْ يَقْضِي بِهِ، وَإِنْ خَالَفَ رَأْيَهُ رَأْيُهُمْ قَضَى بِرَأْيِ نَفْسِهِ؛ لِأَنَّ رَأْيَهُ أَصْوَبُ عِنْدَهُ وَرَأْيَ غَيْرِهِ لَيْسَ بِصَوَابٍ فَيَقْضِي بِمَا عِنْدَهُ لَا بِمَا عِنْدَ غَيْرِهِ.
پس اگر قاضی پر کوئی معاملہ مشکل پڑ گیا اور قاضی نے اس سلسلے میں کسی فقیہ سے مشورہ کیا کہ وہ اس معاملہ میں غور و فکر کرے، اب اگر قاضی اہل اجتہاد میں سے نہ ہو تو اس کے لیے گنجائش ہے کہ وہ اس فقیہ کا قول اختیار کرے اس لیے کہ جب وہ اہل اجتہاد میں سے نہیں تو واجب ہے اس پر کہ وہ اس کے بارے میں فتوی حاصل کرے اور پھر اسی مفتی کے قول پر فیصلہ کرے اور اسی کو اختیار کرے اور اگر وہ اہل رائے میں سے ہو اور اس کی رائے اس فقیہ کے رائے کے خلاف ہو تو قاضی فیصلہ کرے گا اپنی رائے سے اس لیے کہ اس کی رائے اس کے نزدیک زیادہ درست ہے اسی لیے تو اس کی رائے مفتی کی رائے کے خلاف ہو گئی مگر یہ کہ ابتداء میں اسے مشورے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ اس غیر کی رائے قاضی کی رائے سے مل جائے، پس جس دوسرے کی رائے قاضی کی رائے سے نہیں ملی نہیں ملی تو قاضی دوسرے فقیہ کی رائے کے بدلے اپنی رائے کو نہیں چھوڑے گا، چناں چہ اب اگر قاضی اپنی رائے پر فیصلہ کرے، تو فیصلہ نافذ ہو جائے گا اور اگر دوسرے فقیہ کی رائے پر فیصلہ کرے گا تو امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک جب بھی اس کا فیصلہ نافذ ہوگا اور صاحبینؒ کے نزدیک اس کا فیصلہ نافذ نہیں ہوگا، اس لیے کا اگر بادشاہ وقت اس قاضی کے فیصلے کو توڑنا چاہے تو وہ اسے توڑ سکتا ہے محیط برہانی میں یہی مسئلہ مذکور ہے
فَإِنْ أَشْكَلَ عَلَى الْقَاضِي شَيْءٌ فَشَاوَرَ فِيهِ فَقِيهًا يَنْظُرُ فِيهِ إنْ لَمْ يَكُنْ الْقَاضِي مِنْ أَهْلِ الِاجْتِهَادِ يَسَعُهُ أَنْ يَأْخُذَ بِقَوْلِهِ؛ لِأَنَّ الْوَاجِبَ عَلَيْهِ أَنْ يَسْتَفْتِيَ فَيَأْخُذَ بِقَوْلِ الْمُفْتِي، وَإِنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الرَّأْيِ وَرَأْيُهُ خِلَافُ رَأْيِ هَذَا الْفَقِيهِ يَقْضِي بِرَأْيِهِ؛ لِأَنَّ رَأْيَهُ صَوَابٌ عِنْدَهُ إلَّا أَنَّهُ أُمِرَ بِالْمَشُورَةِ فِي الِابْتِدَاءِ رَجَاءَ أَنْ يَنْضَمَّ رَأْيُ غَيْرِهِ إلَى رَأْيِهِ، فَإِنْ لَمْ يَنْضَمَّ فَلَا يَدَعْ رَأْيَهُ بِرَأْيِ غَيْرِهِ، فَإِنْ قَضَى بِرَأْيِهِ نَفَذَ قَضَاؤُهُ، وَإِنْ قَضَى بِرَأْيِ الْفَقِيهِ نَفَذَ قَضَاؤُهُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَعِنْدَهُمَا: لَا يَنْفُذُ حَتَّى كَانَ لِلسُّلْطَانِ أَنْ يَنْقُضَ قَضَاءَهُ " اُنْظُرْ الْمُحِيطَ.
[فَصْلٌ الْمُقَلِّدُ وَالْمُفْتِي يَأْخُذُ بِقَوْلٍ يُنْسَبُ إلَى إمَامِهِ]
یہ فصل اس مقلد اور مفتی جو اپنے مسلک کے امام کی طرف منسوب قول سے فتویٰ دیتے ہیں۔
(فَصْلٌ) :
علامہ ابن صلاح رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے جو شخص اپنے امام کے مذہب کو نقل کرتا ہوئے فتویٰ دیتا ہو جب کہ وہ اپنے مسلک کی کتابوں پر اعتماد کرتا ہو اس کے لیے صرف ان کتابوں پر اعتماد کرنا جائز ہے جو جن کی صحت کی توثیق کی گئی ہے جو اپنی صحت میں پختہ ہیں، اگر ایسا ہے تو پھر اس مفتی کے لیے اپنے امام سے فتوی نقل کرنا جائز ہے جیسا کہ روایت حدیث میں راوی کا اپنی کتاب پر اعتماد کونا جائز ہے یعنی روایت حدیث میں ایک راوی اپنی لکھی ہوئی کتاب اعتماد کر کے اس سے روایت کو نقل کرتا جسے اس راوی کے لیے جائز ہے ایسے ہی یہاں بھی مقلد و مفتی کے لیے جائز ہے جب اور جیسا کہ مستفتی کا اعتماد مفتی کی لکھی ہوئی تحریر پر کرنا جائز ہے، ایک مستقتی نے فتوی پوچھا اور مفتی نے فتوی تحریر کر کے دے دیا مستفتی نے مفتی کو تحریر لکھتے ہوئے نہیں دیکھا لیکن جب دار الافتاء سے فتوی نکلا اس پہ دار الافتاء کی مہر ہے مفتی صاحب کے دستخط ہے تو مستفتی کو اب اس تحریر پر اعتماد کر لینا چاہیے اسی طرح جب کتاب معتمد ہو تو اس سے فتوی نقل کرنے میں پس و پیش نہیں کرنا چاہئے، یہ تتو حکم تو معتمد و محررہ کتابوں کے بارے میں ہے، اب اگر کتاب غیر معتمد اور غیر محررہ ہو اس کتاب سے کوئی فتوی نقل کرنے میں کیسے اعتماد حاصل کیا جا سکتا ہے اس کے لیے فرمایا وَيَحْصُلُ لَهُ الثِّقَةُ الخ کہ ان مسائل میں جن کو وہ ایسے نسخوں میں پاتا ہے جو کہ غیر معتمد کتابوں میں ہیں یعنی ایک تو ہے کہ مفتی مقلد معتمد کتابوں سے فتوی نقل کرتا ہے، اگر کوئی ایسا مسئلہ ہے کہ اس سلسلے میں معتمد کتابوں میں کچھ منقول نہیں البتہ غیر معتمد کتابوں میں وہ مسئلہ پا رہا ہے، تو اس جزئیہ کے لیے مفتی صاحب کو اعتماد کہاں سے حاصل ہوگا؟ تو فرمایا مفتی کو ایسے غیر معتمد کتابوں سے فتوی نقل کرنے میں اعتماد حاصل ہوگا بایں طور پر کہ جب وہ دیکھیے منتظم کلام کو کہ اس کا جزئیہ دوسری کتابوں میں شامل ہو مگر یہ تب ہے کہ وہ مفتی بہت زیادہ علم رکھنے والا بہت زیادہ ذہین ہو اور اس پر استنباط اور رد و بدل کے مواقع مخفی نہ ہوں تو پھر وہ غیر معتمد کتابوں سے کسی جزئیہ کو لے کر اس کی توثیق کسی اور کتاب سے کرا سکتا ہے اور اگر وہ مفتی نہ پائے اس مسئلہ یا جزئیہ کو مگر صرف غیر معتمد کتابوں میں یعنی اس کے مثل کوئی جزئیہ کسی معتمد کتاب میں نہیں ہے بس جو کچھ ہے وہ صرف غیر معتمد کتابوں میں ہے تو پھر وہ مقلد مفتی اس مسئلہ میں غور و فکر سے کام لے، اب دو صورتیں ہوں گی (١) مفتی مقلد مجتہدانہ صلاحیت رکھتا ہو، مفتی مقلد اہل تخریج میں سے ہو اور وہ اس جیسے مسئلہ کی اپنے مذہب کے مطابق تخریج کر سکتا ہو تو وہ اس پیش آمدہ مسئلہ کو جس کو اپنے مذہب کی کتابوں میں منقول نہیں پاتا ہے اپنے مذہب کے اصول کے مطابق پرکھے گا اگر وہ مسئلہ اس مفتی مقلد کے مذہب کے اصول میں سے کسی اصل پر فٹ آتا ہو تو اسی اصل پر فتوی دے گا اور جب وہ اس فتوی کو اپنے امام سے نقل کرنا چاہیے گا تو وہ نہیں کہے گا کہ امام شافعی نے اس طرح فرمایا ہے یا امام ابو حنیفہ نے اس طرح فرمایا ہے بلکہ چاہئے کہ کہے میں نے امام اعظم ابو حنیفہ سے یہ مسئلہ اس طرح منقول پایا ہے یا امام شافعی سے میری طرف یہ مسئلہ اس طرح پہنچا، یا اس کے مشابہ جتنی بھی عبارتیں فقہ میں موجود ہیں ان کے ذریعے فتوی نقل کرے گا ڈائرکٹ یہ نہیں کہے گا کہ امام شافعی صاحب نے ایسا فرمایا ہے یا امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہم نے ایسا فرمایا، تا کہ کہیں ان کی طرف جھوٹ کا انتساب نہ ہو۔
قَالَ ابْنُ الصَّلَاحِ: لَا يَجُوزُ لِمَنْ كَانَتْ فَتْوَاهُ نَقْلًا لِمَذْهَبِ إمَامِهِ إذَا اعْتَمَدَ فِي نَقْلِهِ عَلَى الْكُتُبِ أَنْ يَعْتَمِدَ إلَّا عَلَى كِتَابٍ مَوْثُوقٍ بِصِحَّتِهِ، وَجَازَ ذَلِكَ، كَمَا جَازَ اعْتِمَادُ الرَّاوِي عَلَى كِتَابِهِ، وَاعْتِمَادُ الْمُسْتَفْتِي عَلَى مَا يَكْتُبُهُ الْمُفْتِي وَيَحْصُلُ لَهُ الثِّقَةُ بِمَا يَجِدُهُ فِي النُّسْخَةِ الَّتِي هِيَ غَيْرُ مَوْثُوقٍ بِهَا بِأَنْ يَرَاهُ كَلَامًا مُنْتَظِمًا وَهُوَ خَبِيرٌ فَطِنٌ لَا يَخْفَى عَلَيْهِ فِي الْغَالِبِ مَوَاقِعُ الِاسْتِنْبَاطِ وَالتَّغْيِيرِ، وَإِذَا لَمْ يَجِدْهُ إلَّا فِي مَوْضِعٍ لَمْ يَثِقْ بِصِحَّتِهِ نُظِرَ، فَإِنْ وَجَدَهُ مُوَافِقًا لِأُصُولِ الْمَذْهَبِ وَهُوَ أَهْلٌ لِيُخَرِّجَ مِثْلَهُ عَلَى الْمَذْهَبِ لَوْ لَمْ يَجِدْهُ مَنْقُولًا فَلَهُ أَنْ يُفْتِيَ بِهِ، فَإِنْ أَرَادَ أَنْ يَحْكِيَهُ عَنْ إمَامِهِ فَلَا يَقُولُ:قَالَ الشَّافِعِيُّ مَثَلًا كَذَا، وَلَا أَبُو حَنِيفَةَ كَذَا وَكَذَا، وَلْيَقُلْ: وَجَدْت عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ كَذَا وَكَذَا، أَوْ بَلَغَنِي عَنْ الشَّافِعِيِّ أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ الْعِبَارَاتِ.
اور بہرحال جب مفتی مقلد اجتہاد کی صلاحیت نہ رکھتا ہو کہ وہ اس جیسے مسئلہ کی اپنے مذہب کے اصول پر تخریج کر سکے تو اس کے لیے زبردستی تخریج کر کے اس پر فتوی نقل کرنا جائز نہ ہوگا اور گنجائش نہیں اس کے لیے کہ وہ اس مسئلے کو پختہ یقین کے ساتھ ذکر کرے کہ امام صاحب کا ایسا مسئلہ ہے اس لیے کہ اس جیسے مقلد اور مفتی کا طریقہ کار تو محض نقل کرنا ہے کہ صاف کہے کہ میں نے اس طرح غیر معتمد کتاب میں پایا ہے حالانکہ مجھے اس کی صحت کے بارے میں کوئی علم نہیں تاکہ کوئی اس کے بارے میں دھوکا نہ کھائے اس لیے کہ اس جیسے مفتی مقلد کو وہ مقام حاصل نہیں ہوا جس مقام ( اہل تخریج)کی وجہ سے جائز ہوا تھا فتوی نقل کرنا پہلے مفتی مقلد کو، چونکہ وہ تخریج کی صلاحیت رکھتا تھا وہ اس جیسے مسئلہ کو اپنے مذہب کی کتابوں کے اصول پر پرکھ سکتا تھا، لیکن یہ دوسرا مفتی چونکہ اجتہاد استنباط کی صلاحیت نہیں رکھتا تخریج کی صلاحیت نہیں رکھتا اس کا کام تو صرف نقل محض ہے اس لیے یہ صاف صاف الفاظ میں فتوی نقل کرنا چاہیے اسی کو مصنف نے فرمایا کہ جائز ہے اس مفتی مقلد کے لیے کہ وہ ذکر کرے فتوی کے مقام کے علاوہ میں فتوی کی حالت کی صراحت کے ساتھ تو وہ کہے گا کہ میں نے فلاں کی کتاب کے نسخے میں ایسا پایا ہے یا فلاں کی کتاب سے ایسا نقل کرتا ہوں اور میں اس کی صحت کو نہیں جانتا کہ وہ مسئلہ درست ہے یا نہیں یا میں نے فلاں سے ایسا ایسا مروی پایا یا مجھے فلاں سے مسئلہ اس طرح پہنچا یا اس طرح کی کوئی واضح عبارت نقل کرے جو فقہ میں مذکور ہے تا کہ جس سے نقل کر رہا ہے اس کی طرف جھوٹ منسوب نہ ہو۔
وَأَمَّا إذَا لَمْ يَكُنْ أَهْلًا لِيُخَرِّجَ مِثْلَهُ فَلَا يَجُوزُ لَهُ ذَلِكَ فِيهِ، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَذْكُرَهُ بِلَفْظٍ جَازِمٍ، فَإِنَّ سَبِيلَ مِثْلِهِ النَّقْلُ الْمَحْضُ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَحْصُلْ لَهُ مَا يُجَوِّزُ لَهُ مِثْلَ مَا جَازَ لِلْأَوَّلِ، وَيَجُوزُ لَهُ أَنْ يَذْكُرَهُ فِي غَيْرِ مَقَامِ الْفَتْوَى مُفْصِحًا بِحَالِهِ فِيهِ فَيَقُولُ: وَجَدْته فِي نُسْخَةٍ مِنْ الْكِتَابِ الْفُلَانِيِّ أَوْ مِنْ كِتَابِ فُلَانٍ لَا أَعْرِفُ صِحَّتَهَا، أَوْ وَجَدْت عَنْ فُلَانٍ كَذَا وَكَذَا، أَوْ بَلَغَنِي عَنْهُ كَذَا أَوْ مَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنْ عِبَارَاتٍ.
حضرت علامہ عز الدین بن عبدالسلام رحمۃ اللہ علیہ شافعیہ میں سے تھے ان سے کسی نے پوچھا کہ وہ مقلد اور مفتی جو اپنے مذہب کے امام کی طرف منسوب قول سے فتویٰ دیتا ہے حالانکہ یہ مفتی اپنے مذہب کے امام سے اس قول کو سنداً روایت نہیں کرتا ہے بغیر سند کے اپنے امام کی طرف قول کو منسوب کر کے فتوی دیتا ہے کیا جبکہ یہ مفتی مقلد محض اپنے مذہب کی کتابوں کو یاد رکھے ہوئے ہے دراں حالیکہ وہ کتابیں اپنے مؤلفین سے نہ مروی ہیں نہ ان کی کوئی سند بیان کی گئی ہے، کیا جس مفتی کی ایسی حالت ہو اس کے لیے فتوی دینا جائز ہی یا نہیں چناں چہ یہ ایک لمبا سوال ہے جو چند مسائل پر مشتمل ہے۔
وَسُئِلَ عِزُّ الدِّينِ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ مِنْ الشَّافِعِيَّةِ عَنْ الْمُقَلِّدِ وَالْمُفْتِي يَأْخُذُ بِقَوْلٍ يُنْسَبُ إلَى إمَامِهِ وَلَا يَرْوِيهِ هَذَا الْمُفْتِي عَنْ صَاحِبِ مَذْهَبِهِ، وَإِنَّمَا حَفِظَهُ مِنْ كُتُبِ الْمَذْهَبِ وَهِيَ غَيْرُ مَرْوِيَّةٍ وَلَا مُسْنَدَةٍ إلَى مُؤَلِّفِهَا، فَهَلْ يَسُوغُ لِمَنْ هَذِهِ حَالَتُهُ الْفُتْيَا أَمْ لَا؟ وَهُوَ سُؤَالٌ طَوِيلٌ فِيهِ مَسَائِلُ عَدِيدَةٌ.
تو امام عز الدین بن عبدالسلام نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ فقہ کی صحیح معتمد کتابوں پر عتماد کرنا بتحقیق ان کتابوں کے اعتماد کے جواز پر اس زمانہ کے علماء کا اتفاق ہے اس لیے کہ ان کتابوں پر بھروسہ حاصل ہوا ہے جیسا کہ روایت حدیث پر بھروسہ حاصل ہوا ہے، اس لیے تو لوگ نے نحو، لغت، طب اور دیگر تمام علوم کی مشہور کتابوں پر اعتماد کیا ہے،ایک تو اس لیے کہ ان کتابوں پر بھروسہ حاصل ہوا ہے اور دوسرا اس لیے بھی کہ یہ کتابیں تدلیس سے بھی دور ہیں، چناں چہ جس طرح نحو، طب کی کتابیں تدلیس سے دور ہیں اسی طرف فقہ کی کتابیں بھی تدلیس سے دور ہیں اصل میں روایت حدیث میں سند تب تک ضروری تھی جب تک حدیث کی کتابیں مدون نہیں ہوئی تھیں اور جب تک تدلیس کا خطرہ تھا پھر جب تدلیس کا اندیشہ ختم ہو گیا اور حدیث کی کتابیں مدون کی گئیں تو اس کے بعد سند کی چنداں حاجت نہیں رہی جیسا کہ مشکوۃ شریف کہ اس ممیں بغیر سند کے احادیث کو روایت کیا گیا ہے رواہ البخاری، رواہ الترمذی اور رواہ المسلم وغیرہ وغیرہ اور جتنی بھی نحو، لغت اور طب کی کتابیں ہیں یا دیگر فنون میں جتنی بھی مشہور کتابیں ہیں ان پر لوگوں نے اعتماد کیا ہے کیونکہ ان کتابوں پر ایک تو بھروسہ حاصل ہو گیا ہے اور ان میں چونکہ تدلیس کا خطرہ نہیں رہا تھا اسی طرح فقہ میں بھی تدلیس کا خطرہ نہیں رہا تو فقہ کی مشہور کتابوں پر بھی اعتماد کیا گیا
فَأَجَابَ عَنْ هَذَا الْفَصْلِ بِأَنْ قَالَ: وَأَمَّا الِاعْتِمَادُ عَلَى كُتُبِ الْفِقْهِ الصَّحِيحَةِ الْمَوْثُوقِ بِهَا فَقَدْ اتَّفَقَ الْعُلَمَاءُ فِي الْعَصْرِ عَلَى جَوَازِ الِاعْتِمَادِ عَلَيْهَا؛ لِأَنَّ الثِّقَةَ قَدْ حَصَلَتْ بِهَا كَمَا تَحْصُلُ بِالرِّوَايَةِ، وَلِذَلِكَ قَدْ اعْتَمَدَ النَّاسُ عَلَى الْكُتُبِ الْمَشْهُورَةِ فِي النَّحْوِ وَاللُّغَةِ وَالطِّبِّ وَسَائِرِ الْعُلُومِ لِحُصُولِ الثِّقَةِ بِذَلِكَ وَبُعْدِ التَّدْلِيسِ.
اس کے بعد بھی جو شخص اعتقاد رکھے اور کہے کہ تمام لوگوں نے اس سلسلے میں غلطی پر اتفاق کیا ہے یعنی یہ کہے کہ لوگوں کو فقہ میں بھی سند بیان کرنی چاہیے تھی دیگر علوم میں بھی سند بیان کرنی چاہیے تھی کہ لوگوں نے سند بیان نہ کر کے خطا پر اتفاق کیا ہے چناں چہ جو شخص ایسی سوچ رکھتا ہو کہ تمام لوگ غلطی پر ہے علامہ عز الدین بن عبدالسلام فرماتے ہیں کہ یہ شخص ان لوگوں کے مقابلہ میں بدرجۂ اولی غلطی پر ہے، جو شخص دوسرے تمام لوگوں کو پاگل کہے گویا وہ خود پاگل ہے اگر ان کتابوں کے اعتقاد کا جواز نہ ہوتا تو بہت سارے مصالح معطل ہو جاتے، جو طب، لغت، نحو وغیرہ کے ساتھ متعلق ہیں کیونکہ بہت سارے مسائل میں شریعت نے طب حوالہ دیا ہے اور بہت ساری جگہوں میں لغت کا حوالہ دیا گیا ہے جیسا کہ فقہ کتابوں میں ماہر ڈاکٹر کے کہنے پر بعض مسائل میں رخصت دی گئی ہے، گویا شریعت بھی کبھی کبھار ڈاکٹروں کا حوالہ دیتی ہے طب کا حوالہ دیتی ہے تو اگر تمام کتابوں میں سند کا بیان کرنا ضروری ہوتا اور بغیر سند کے اعتماد جائز نہ ہوتا تو پھر تو بہت سارے مصالح معطل ہو جاتے ہیں جن کا تعلق طب، نحو، لغت کی کتابوں سے ہے جبکہ شریعت نے بہت سارے مسائل میں اطباء کی طرف رجوع کیا ہے جب کہ طب کی کتابیں دراصل کفار سے مروی ہیں لیکن یہ کفار کی کتب کا حوالہ اس لیے دیا جاتا ہے کہ جب ان کتابوں میں تدلیس کا شائبہ ختم ہوا تو ان پر اعتماد کیا گیا جس طرح کہ لغت میں اعتماد کیا جاتا ہے کفار عرب کے اشعار پر تدلیس کے ختم ہونے کی وجہ سے۔
وَمَنْ اعْتَقَدَ أَنَّ النَّاسَ اتَّفَقُوا عَلَى الْخَطَإِ فِي ذَلِكَ فَهُوَ أَوْلَى بِالْخَطَإِ مِنْهُمْ، وَلَوْلَا جَوَازُ اعْتِقَادِ ذَلِكَ لَتَعَطَّلَ كَثِيرٌ مِنْ الْمَصَالِحِ الْمُتَعَلِّقَةِ بِالطِّبِّ وَالنَّحْوِ وَاللُّغَةِ الْعَرَبِيَّةِ فِي الشَّرِيعَةِ، وَقَدْ رَجَعَ الشَّرْعُ إلَى أَقْوَالِ الْأَطِبَّاءِ فِي صُوَرٍ، وَلَيْسَتْ كُتُبُهُمْ فِي الْأَصْلِ إلَّا عَنْ قَوْمٍ كُفَّارٍ، وَلَكِنْ لَمَّا بَعُدَ التَّدْلِيسُ فِيهَا اُعْتُمِدَ عَلَيْهَا كَمَا اُعْتُمِدَ فِي اللُّغَةِ عَلَى أَشْعَارِ كُفَّارٍ مِنْ الْعَرَبِ لِبُعْدِ التَّدْلِيسِ فِيهَا.
ابن صلاح رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صیمری نے فرمایا میں نے بہت کم لوگوں کو مفتی پر جھوٹ بولتے ہوئے سنا یہ اس لیے کہ اللہ تبارک و تعالی نے اپنی دین کی حفاظت کرنا چاہی تو اس پر اللہ کے لیے تمام حمد اور تمام شکر ہیں۔
قَالَ ابْنُ الصَّلَاحِ: قَالَ الصَّيْمَرِيُّ: قَلَّمَا وَجَدْت التَّزْوِيرَ عَلَى الْمُفْتِي، وَذَلِكَ إنْ شَاءَ اللَّهُ حَرَسَ أَمْرَ الدِّينِ فَلَهُ الْحَمْدُ وَالشُّكْرُ.
(مَسْأَلَةٌ) :
امام قرافی مالکیؒ نے الاحکام فی تمییز الفتاوی عن الاحکام و تصرفات الامام و الحکام میں بیان فرمایا کہ اصل کا تقاضا تو یہی تھا کہ فتوی جائز نہ ہو مگر ان کتابوں سے جن کو عادل راوی نقل کرے دوسرے عادل سے اور یہ سلسلہ چلتا رہے ایسے مجتہد تک کہ مفتی جس مجتہد کی تقلید کرتا ہوں تاکہ مفتی کے نزدیک بھی یہ اسناد صحیح ہو جائے جیسا کہ احادیث میں مستند سند سے مجتہد محدث سے روایت کیا جاتا ہے اس لیے کہ دونوں مقام میں یہ اللہ تبارک و تعالی کے دین کو نقل کرنا ہے، فقہ میں بھی اور احادیث میں بھی جس طرح وہاں سند بیان کی جاتی ہے اسی طرح فقہ میں بھی راوی عادل در عادل مجتہد تک سند کا بیان ہونا چاہیے تھا اور اسی اصل پر مناسب تھا کہ اس کے علاوہ یعنی بغیر سند کے فتوی نقل کرنا حرام ہونا چاہیے تھا مگر اس زمانہ کے فقہاء نے اس سلسلے میں کافی وسعت سے کام لیا اور وہ ایسی کتابوں سے فتوی نقل کرنے لگے جن کا وہ مطالعہ کرتے ہیں بغیر روایت کے یعنی بغیر سند بیان کیے ہوئے فقہاء متاخرین جن کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں ان سے فتوی بیان کرنے لگے جب کہ یہ بہت بڑا خطرہ ہے دین میں اور قواعد سے یکسر خروج ہے مگر پھر بھی کتب مشہورہ اپنے شہرت کے باعث رد و بدل اور جھوٹ سے کوسوں دور ہیں اس لیے فقہاء نے ان کتابوں کو ان کے ظاہری حال پر مکمل اعتماد کیا،اسی لیے تو لغت کی کتب کی روایت عادل شخص عنعنہ کے ذریعے چھوڑ دی گئی، ان کتابوں کا تحریف سے دوری ہونے کی بنیاد پر جب کہ لغت ہی شریعت میں کتاب و سنت کی بنیاد ہے پس لغت، نحو و صرف میں بیان سند کا چھوڑ دینا پہلے اور نئے زمانہ میں بھی یہ کتب فقہ میں بیان سند کے چھوڑ دینے پر اس زمانہ کے فقہاء کو تقویت بخشتا ہے ایسی جامعیت و علت کی وجہ سے جس جامعیت کی وجہ سے یہ تمام کتابیں تحریف سے دور ہیں اور اسی اصول پر یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ فتوی دینا حرام ہے ایسے اجنبی اور غیر معتمد کتابوں سے جو مشہور نہ ہوئی ہوں یہاں تک کہ ان پر قلوب جمع ہو جائے جمع خاطر نہ ہو یا دل ان کتابوں پر اعتماد نہ حصل کر لے اور ان کی صحت کا علم نہ ہو جائے اسی طرح نئی تصنیف شدہ کتابیں جب تک کہ جو کچھ ان میں مرقوم ہے اس کی نسبت کتب مشہورہ کی طرف مشہور نہ ہو جائے۔
وَمِثْلُ هَذَا ذَكَرَهُ الْقَرَافِيُّ فِي كِتَابِ الْأَحْكَامِ فِي تَمْيِيزِ الْفَتَاوَى عَنْ الْأَحْكَامِ فَقَالَ: كَانَ الْأَصْلُ يَقْتَضِي أَنْ لَا تَجُوزَ الْفُتْيَا إلَّا بِمَا يَرْوِيه الْعَدْلُ عَنْ الْعَدْلِ عَنْ الْمُجْتَهِدِ الَّذِي يُقَلِّدُهُ الْمُفْتِي حَتَّى يَصِحَّ ذَلِكَ عِنْدَ الْمُفْتِي كَمَا تَصِحُّ الْأَحَادِيثُ عِنْدَ الْمُجْتَهِدِ؛ لِأَنَّهُ نَقْلٌ لِدِينِ اللَّهِ فِي الْمَوْضِعَيْنِ، وَعَلَى هَذَا كَانَ يَنْبَغِي أَنْ يَحْرُمَ غَيْرُ ذَلِكَ،غَيْرَ أَنَّ النَّاسَ تَوَسَّعُوا فِي هَذَا الْعَصْرِ فَصَارُوا يُفْتُونَ مِنْ كُتُبٍ يُطَالِعُونَهَا مِنْ غَيْرِ رِوَايَةٍ، وَهُوَ خَطَرٌ عَظِيمٌ فِي الدِّينِ وَخُرُوجٌ عَنْ الْقَوَاعِدِ، غَيْرَ أَنَّ الْكُتُبَ الْمَشْهُورَةَ لِأَجْلِ شُهْرَتِهَا بَعُدَتْ بُعْدًا شَدِيدًا عَنْ التَّحْرِيفِ وَالتَّزْوِيرِ فَاعْتَمَدَ النَّاسُ عَلَيْهَا اعْتِمَادًا عَلَى ظَاهِرِ الْحَالِ، وَلِذَلِكَ أَيْضًا أُهْمِلَتْ رِوَايَةُ كُتُبِ النَّحْوِ وَاللُّغَةِ بِالْعَنْعَنَةِ عَنْ الْعُدُولِ بِنَاءً عَلَى بُعْدِهَا عَنْ التَّحْرِيفِ وَإِنْ كَانَتْ اللُّغَةُ هِيَ أَسَاسُ الشَّرْعِ فِي الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ، فَإِهْمَالُ ذَلِكَ فِي النَّحْوِ وَاللُّغَةِ وَالتَّصْرِيفِ قَدِيمًا وَحَدِيثًا يُعَضِّدُ أَهْلَ الْعَصْرِ فِي إهْمَالِ ذَلِكَ فِي كُتُبِ الْفِقْهِ بِجَامِعِ بُعْدِ الْجَمِيعِ عَنْ التَّحْرِيفِ، وَعَلَى هَذَا تَحْرُمُ الْفُتْيَا مِنْ الْكُتُبِ الْغَرِيبَةِ الَّتِي لَمْ تُشْتَهَرْ حَتَّى تَتَظَافَرَ عَلَيْهَا الْخَوَاطِرُ وَيُعْلَمَ صِحَّةُ مَا فِيهَا، وَكَذَلِكَ الْكُتُبُ الْحَدِيثَةُ التَّصْنِيفِ إذَا لَمْ يَشْتَهِرْ عَزْوُ مَا فِيهَا مِنْ الْمَنْقُولِ إلَى الْكُتُبِ الْمَشْهُورَةِ،
جس طرح کتب مشورہ کے بارے میں ابھی تک مسئلہ آیا تھا اسی طرح کتابوں کے حواشی کے بارے میں بھی منقول ہے کہ ان کے ذریعہ فتوی دینا بھی حرام ہے ان کے صحیح نہ ہونے کی وجہ سے اور ان پر بھروسہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ بات مکمل ہوگئ، آگے اس کی وضاحت فرماتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے جب حواشی غریب و اجنبی ہو جس کے لکھنے والے کا کوئی اتا پتا نہ ہو ہاں مگر جب حواشی اصل کتابوں میں موجود ہو یا اپنے محل کی طرف منسوب ہو یا ایسے خط میں مرقوم ہو کہ جس خط کی توثیق کی جاتی ہو جس خط کو پہچانا جاتا ہو جس کے مصنف کا پتہ ہو تو پھر اس حواشی اور تمام تصانیف کے درمیان کوئی فرق نہیں جو حیثیت اصل کتاب کی ہے وہی حیثیت ان حواشی کی ہے، اسی لیے تو علماء کرام برابر فتاویٰ نقل کرتے رہیں ہیں ان کتب ائمہ کے حواشی سے جن کے علم کی توثیق کی گئی ہے اور جن کا لکھنا معروف و مشہور ہے اور جیسا کہ برہان الدین صاحب محیط کی کتاب میں بھی حواشی موجود تھے، اسی طرح برہان الدین صاحب ہدایہ کی کتاب میں بھی حاشیہ موجود تھا اس طرح اور بھی کتابوں میں حواشی موجود تھے پھر جب فقہاء ان حواشی کے کاتبوں کو پہچان گئے تو انہوں نے ان حواشی کو انہوں کاتبوں سے نقل کیا اور انہیں کی طرف منسوب کیا اور ان حواشی کو اپنی کتابوں کے اندر داخل بھی کیا چناں چہ بہت سارے مصنفین نے اپنی مشہور کتابوں میں حواشی سے مسئلہ بیان کیے ہیں کہ فلاں کتاب کے حاشیہ میں اس طرح ہے فقہ حنفیہ کی سب معتبر و مستند کتاب فتاویٰ شامی کو ہی دیکھ لئے جگہ جگہ ابن عابدینؒ نے حاشیہ کا حوالہ دیا، ہاں جس حاشیہ کے کاتب کے بارے میں علم نہ ہو، جس حواشی کا کاتب مجہول ہو اور اس کا نقل بھی غریب محض ہو تو کوئی شک نہیں جو کچھ اس کے سلسلے میں کہا گیا ہے یعنی اس پر اعتماد کرنا جائز نہیں۔ واللہ اعلم
وَكَذَلِكَ حَوَاشِي الْكُتُبِ يَحْرُمُ الْفُتْيَا بِهَا لِعَدَمِ صِحَّتِهَا وَالْوُثُوقِ بِهَا انْتَهَى وَمُرَادُهُ إذَا كَانَتْ الْحَوَاشِي غَرِيبَةَ النَّقْلِ.وَأَمَّا إذَا كَانَ مَا فِيهَا مَوْجُودًا فِي الْأُمَّهَاتِ أَوْ مَنْسُوبًا إلَى مَحِلِّهِ وَهِيَ بِخَطِّ مَنْ يُوثَقُ بِهِ فَلَا فَرْقَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ سَائِرِ التَّصَانِيفِ، وَلَمْ تَزَلْ الْعُلَمَاءُ يَنْقُلُونَ مَا عَلَى حَوَاشِي كُتُبِ الْأَئِمَّةِ الْمَوْثُوقِ بِعِلْمِهِمْ الْمَعْرُوفَةِ خُطُوطُهُمْ، وَذَلِكَ مَوْجُودٌ لِبُرْهَانِ الدِّينِ صَاحِبُ الْمُحِيطِ، وَبُرْهَانِ الدِّينِ السَّمَرْقَنْدِيِّ صَاحِبِ الْهِدَايَةِ وَغَيْرِهِ إذَا وَجَدُوا حَاشِيَةً يَعْرِفُونَ كَاتِبَهَا نَقَلُوا ذَلِكَ عَنْهُ وَنَسَبُوهَا إلَيْهِ وَأَدْخَلُوا ذَلِكَ فِي مُصَنَّفَاتِهِمْ وَأَمَّا حَيْثُ يُجْهَلُ الْكَاتِبُ وَيَكُونُ النَّقْلُ غَرِيبًا فَلَا شَكَّ فِيمَا قَالَهُ - وَاَللَّهُ أَعْلَمُ -.
No comments:
Post a Comment