Sunday, August 4, 2024

10تصفیہ

حدیثہ خاتون بنت محمد شکیل انصاری مقام کرما ڈاکخانہ دھوریہ بلاک دھوریہ ضلع بانکا

محمد ابول ولد عبدالرزاق مقام سنگار پور ڈاکخانہ چلنا بلاک دھوریہ ضلع بانکا

معاملہ ھذا مؤرخہ 20 ذی الحجہ 1445 مطابق 27 / 6 / 2024 کو ذیلی دار القضاء مدرسہ مصباح العلوم چلنا بانکا میں دائر نمبر ہوا، حسب ضابطہ کارروائی ہوئی، فریقین نے دار القضاء حاضر ہو کر ایک مشترکہ درخواست بابت تحقیق طلاق دی درخواست منظور کرتے ہوئے کارروائی عمل میں آئی، فریقین کا بیان قلم بند کیا گیا، نیز فریقین کے نکاح کے ثبوت کے لیے ان کے گواہوں کے بیانات بھی قلم بند کئے گئے، فریقین اور گواہوں کے بیانات شامل مسل ہے، لہذا معاملہ ھذا کی کارروائی ختم کر دی گئی بعدہٗ یہ مسل مع رپورٹ مرکزی دارالقضاء کو موصول ہوئی، یہاں سے کارروائی ختم کر دی گئی اور اب یہ مسل میرے سامنے برائے تصفیہ پیش ہے۔
فریق اول حدیثہ خاتون بنت محمد شکیل انصاری کے بیان عند القضاء کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی شادی فریق دوم محمد ابول ولد عبدالرزاق سے تقریبا 16 سال پہلے ہوئی بعد شادی وہ رخصت ہو کر فریق دوم کے یہاں گئی اور ابھی پندرہ دن پہلے تک فریق دوم کے یہاں تھی درمیان میں میکے آنا جانا کرتی تھی فریق دوم سے فریق اول کے چھ بچے چار لڑکیاں نشترا خاتون عمر چودہ سال صابرہ خاتون عمر دس سال شاجرہ خاتون عمر آٹھ سال منتشا خاتون عمر پانچ سال اور دو لڑکے عبید اللہ عمر دو سال اور امداد اللہ عمر سات سال ہیں سارے بچے سوائے عبید اللہ کے فریق دوم ہی کے گھر میں ہیں جب تک وہ فریق دوم کے یہاں رہی کھانے پینے رہنے سہنے میں کوئی دقت نہیں تھی اچھے سے رہتی تھی البتہ فریق دوم کو شک تھا کہ وہ محلے کے ایک آدمی سے بات چیت کرتی تھی حالاں کہ ایسی کوئی بات نہیں تھی، اسی بات کو لے کر فریق اول اور فریق دوم کے درمیان اختلاف ہوا اور فریق دوم نے فریق اول سے کہا کہ اگر فلاں سے بات کرو گی تو تینوں جواب ہو جائیں گے، فریق اول کو پورا یاد ہے کہ فریق دوم نے یہی کہا ہے، یہ سات مہینے پہلے کا واقعہ ہے پھر فریق اول نے فریق دوم سے کہا کہ ٹھیک ہے میں اس سے بات نہیں کروں گی مگر فریق دوم کے باہر جانے کے بعد ابھی تقریبا چار مہینے پہلے جس آدمی سے بات نہ کرنے کی شرط فریق دوم نے لگائی تھی اس نے فریق اول کے بچے کو مارا بچے کو مارنے کی وجہ سے اس آدمی سے بحث و بحثی ہوئی، وہ اس طرح کہ فریق اول آنگن میں تھی اور وہ آدمی دروازے سے بولتا تھا اور فریق اول آنگن ہی سے اس کا جواب دیتی تھی سامنے آ کر فریق اول نے اس سے کوئی بات نہیں کی پھر اس آدمی نے پورے محلے میں شور کر دیا کہ میں نے اس سے بات کر لی حالاں کہ فریق اول نے بچنے کی بہت کوشش کی مگر مجبور ہو کر آنگن سے اس کی بات کا جواب دیا ہے اس بات کو لے کر فریق اول بہت پریشان ہے پندرہ دن پہلے فریق دوم بھی باہر سے گھر آیا ہے اس کے بعد سے فریق اول میکے چلی گئی ہے اور ابھی میکے میں رہتی ہے، جس وقت فریق اول کے شوہر فریق دوم نے بات نہ کرنے کی شرط لگائی تھی وہاں پر ان دونوں کے علاوہ کوئی نہیں تھا تو کیا اس طرح لڑائی جھگڑے کے درمیان پیچھے سے میرے جواب دینے سے مجھ پر تینوں طلاق پڑ گئی؟ کیا میں شوہر کے ساتھ رکھ سکتی ہوں؟ دار القضاء سے جو بھی فیصلہ ہوگا مجھے قبول و منظور ہوگا۔ 

فریق دوم محمد ابول انصاری ولد عبدالرزاق کے بیان عند القضاء کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی شادی فریق اول حدیثہ خاتون بنت محمد شکیل انصاری سے تقریبا سولہ سال پہلے ہوئی، بعد شادی فریق اول فریق دوم کے یہاں رخصت ہو کر آئی اور پندرہ دن پہلے تک فریق دوم کے گھر میں ہی تھی، درمیان میں میکے آنا جانا کرتی تھی، فریق اول سے فریق دوم کی چھے اولاد چار لڑکیاں نشترا خاتون عمر چودہ سال صابرہ خاتون عمر دس سال شاجرہ خاتون عمر آٹھ سال منتشاء خاتون عمر پانچ سال اور دو لڑکے امداد اللہ عمر سات سال اور عبید اللہ عمر دو سال سارے بچے فریق دوم ہی کے گھر میں ہیں صرف ایک عبید اللہ اپنی ماں فریق اول کے پاس ہے جب تک فریق اول اس کے یہاں رہی فریق اول کو کھانے پینے رہنے سہنے میں کوئی دقت نہیں تھی فریق دوم اس کا پورا خیال رکھتا تھا البتہ فریق اول میں یہ خرابی تھی کہ جب بھی فریق دوم کچھ بولتا تو فریق اول برداشت نہیں کرتی اور لڑائی جھگڑا شروع کر دیتی تھی اسی طرح کوئی بات ہوتی تو دوسرے سے بتا دیتی تھی حالاں کہ فریق دوم فریق اول سے کہتا تھا جو کچھ بھی بات ہو آپس میں ہی ختم کر لو مگر فریق اول نہیں مانتی تھی اور محمد رسول نامی آدمی اور اس کی بیوی کے پاس بول دیتی تھی اسی بات کو لے کر فریق دوم نے سات مہینے پہلے فریق اول سے کہا تھا کہ اگر فلاں رسول اور اس کی بیوی سے بات کرے گی تو جواب ہو جائے گا پھر فریق دوم اگلے دن باہر کمانے چلا گیا اس کے بعد پتہ چلا کہ اس آدمی نے فریق دوم کے بچے کو مارا جس کی وجہ سے فریق دوم کی بیوی فریق اول سے اس کا جھگڑا ہوا اور فریق اول آنگن ہی سے اس آدمی کی باتوں کا جواب دے رہی تھی سامنے نہیں آئی تھی، ابھی فریق دوم پندرہ، سولہ دن پہلے باہر سے گھر آیا ہے تو فریق اول اپنے میکے چلی گئی اور ابھی اپنی میکے میں ہی ہے، جس وقت فریق دوم نے بات نہ کرنے کی شرط لگائی تھی اس وقت فریقین کے علاوہ وہاں کوئی نہیں تھا فریق دوم کو پورا یاد ہے کہ اس نے یہی کہا تھا کہ فلاں رسول سے بات کرے گی تو جواب ہو جائے گا، فریق دوم اللہ کی قسم کر کہتا ہے کہ میں نے یہی کہا تھا اگر فلاں رسول سے بات کرے گی تو جواب ہو جائے گا فریق اول جو کہہ رہی ہے فریق دوم نے تینوں جواب کہا ہے وہ غلط ہے فریق اول کو سننے میں غلط فہمی ہو گئی ہے فریق دوم فریق اول کو رکھنا چاہتا ہے، فریق دوم بہت پریشان ہے چھے بچے ہیں فریق دوم اپنے اس فعل پر بہت شرمندہ بھی ہے لہذا فریق دوم کی درخواست ہے کہ ان کے درمیان شریعت کے مطابق فیصلہ کر دیا جائے۔ 
فریقین کی طرف سے اثبات نکاح میں پیش کردہ گواہوں میں سے گواہِ اول وہاب انصاری ولد محمد شکیل انصاری کے بیان عند القضاء کا خلاصہ یہ ہے کہ فریق اول حدیثہ خاتون بنت محمد شکیل انصاری کی شادی فریق دو محمد ابول ولد عبدالرزاق سے تقریباً سولہ سال پہلے ہوئی، بعد شادی فریق اول رخصت ہو کر فریق دوم کے یہاں گئی اور ابھی پندرہ دن پہلے تک فریق دوم کے یہاں تھی درمیان میں میکے آنا جانا کرتی تھی فریق اول کو فریق دوم سے چھے اولاد ہیں بڑی لڑکی کا نام نشترا ہے بقیہ بچوں کا نام ٹھیک اسے یاد نہیں ہے فریق اول جب تک فریق دوم کے یہاں تھی تو کھانے پینے رہنے سہنے میں کوئی دقت نہیں تھی، ابھی تقریباً چار مہینے پہلے اس نے فریق اول کو فون کیا تو فریق اول نے اسے بتایا کہ تین مہینے پہلے فریق دوم نے فریق اول کو کہا تھا کہ اگر فلاں رسول اور اس کی بیوی سے بات کرے گی تو جواب ہو جائے گا ابھی اس آدمی نے فریق اول کی بچی کو مارا اور فریق اول کو لڑائی جھگڑا کرنے پر مجبور کر دیا تو فریق اول آنگن سے اس آدمی کی باتوں کا جواب دے رہی تھی سامنے آ کر اس سے کوئی بات نہیں بولی پھر فریق دوم نے فریق اول کو کہا کہ میں بقرہ عید پہ گھر آ رہا ہوں پھر معلوم کرتے ہیں اور بقرہ عید سے پہلے پنچایتی بھی ہوئی اور اس میں یہ بات آئی کہ پہلے دار القضاء سے اس معاملے کو حل کر لیا جائے پھر پنچایتی ہوگی اس کے علاوہ اس کو اور کوئی بات معلوم نہیں ہے فریق اول نے ان سے تینوں جواب کا لفظ نہیں کہا تھا جیسا کہ اسے یاد ہے۔ 

فریقین کی طرف سے اثبات نکاح میں پیش کردہ گواہوں میں سے گواہ دوم محمد صبور ولد عبدالرزاق کے بیان عند القضاء کا خلاصہ یہ ہے کہ فریق دوم محمد ابول ولد عبدالرزاق کی شادی فریق اول سے تقریبا سولہ سال پہلے ہوئی، فریق اول اور اس کے والد کا نام اسے یاد نہیں ہے، فریق اول یہی ہے جو میرے دائیں جانب بیٹھی ہے فریق اول کا گھر کرما تھانہ دھوریہ ضلع بانکا میں ہے فریق اول شادی کے بعد رخصت ہو کر فریق دوم کے یہاں آئی اور تقریباً پندرہ دن پہلے تک فریق دوم ہی کے یہاں تھی دونوں بہت اچھے سے رہتے تھے فریق اول کو رہنے سہنے میں کوئی دقت نہیں تھی فریق دوم کو فریق اول سے چھ اولاد ہیں چار لڑکیاں اور دو لڑکے ہیں تمام بچوں کا نام اس کو معلوم نہیں، ایک لڑکی کا نام نشترا ہے دو تین مہینے پہلے جب فریق اول کے بچے کو ایک ادمی رسول نے مارا تھا تو اسی سے جھگڑا ہوا تھا پھر اسی وقت سننے کو ملا کہ فریق دوم نے پہلے شرط لگائی تھی کہ اگر فلاں رسول سے بات کرے گی تو جواب یا طلاق اسی طرح کچھ سننے کو ملا اس کے بعد پنچایت ہوئی اس میں جب طلاق کی بات آئی تو سب نے کہا پہلے دار القضاء سے معاملہ کو حل کر لیا جائے پھر پنچایتی ہوگی اس کے علاوہ اسے وہ کچھ نہیں جانتا ہے، اس کی یہی خواہش ہے کہ دونوں صحیح سے رہیں بچوں کی پرورش کریں طلاق کی جو بات ہے وہ لڑائی جھگڑے سے پہلے کی بات ہے وہاں صرف دونوں فریق ہی تھے۔ 

فریقین کے پیش کردہ گواہوں کی گواہی سے ثابت ہے کہ فریق اول کی شادی فریق دوم محمد ابول ولد عبدالرزاق سے تقریبا سولہ سال پہلے ہوئی بعد شادی وہ رخصت ہو کر فریق دوم کے یہاں گئی۔ فریقین کے چھے بچے چار بیٹیاں اور دو لڑکے ہیں، 
زیر بحث معاملہ میں فریق اول کا دعویٰ ہے کہ فریق دوم نے اس سے کہا اگر فلاں سے بات کرو گی تو تینوں جواب ہوجائے گا اور سات مہینے پہلے فلاں مذکور نے فریق اول کے بیٹے کو مارا جس کی وجہ سے فریق اول نے فلاں مذکور سے جھگڑا و بحث و بحثی میں آنگن سے اس کی باتوں کا جواب دیا، فریق دوم نے فریق اول کے دعوی مذکور کی تائید کرتے ہوئے اس بات کا حلفیہ انکار کیا ہے کہ اس نے تینوں جواب کا لفظ استعمال نہیں کیا، چناں چہ فریق دوم کا حوالہ سے بیان ہے کہ فریق دوم اللہ کی قسم کر کہتا ہے کہ میں نے یہی کہا تھا اگر فلاں رسول سے بات کرے گی تو جواب ہو جائے گا فریق اول جو کہہ رہی ہے فریق دوم نے تینوں جواب کہا ہے وہ غلط ہے فریق اول کو سننے میں غلط فہمی ہو گئی ہے۔ 

زیر بحث معاملہ میں واقعہ مذکور پر فریق اول کے ذمہ گواہ پیش کرتا تھا لیکن اس کے پاس کوئی گواہ نہیں ہے اور اس معاملہ میں پیش ہونے والے گواہوں کے بیانات بھی اس تعلق سے سماعی شہادت پر محمول ہیں، جو عند القضاء معتبر نہیں لا یجوز لشاہد ان یشہد بغیر لم یعاینہ ( ھدایہ ) لہذا اصول شرع البيئة على المدعى واليمين على من انكر كے تحت فریق دوم ( مدعی علیہ ) سے قسم لی جاتی ہے۔ چنانچہ فریق دوم نے عند القاضی انکار تین جواب پر قسم کھا لیا، لهذا القول قوله مع اليمين کے تحت فریق دوم کی بات تسلیم کی جائے گی۔ اس لیے فریق اول کا دعوئی تین جواب عند القضاء ثابت نہیں ہے۔ البتہ ایک جواب کا فریق دوم نے اقرار کیا ہے چناں چہ فریق دوم کا بیان ہے کہ فریق دوم نے سات مہینے پہلے فریق اول سے کہا تھا کہ اگر فلاں رسول اور اس کی بیوی سے بات کرے گی تو جواب ہو جائے گا۔ لہذا الاقرار اقویٰ من البینۃ کے تحت فریق اول پر ایک طلاق رجعی ثابت ہے اور عدت گذر جانے کی وجہ سے وہ بائنہ ہو چکی ہے، 

No comments:

Post a Comment