چھٹی فصل دعوی میں وکالت کے بیان میں
فِي حُكْمِ الْوَكَالَةِ فِي الدَّعْوَى.
توکل بالخصومت کی چار قسمیں ہیں (١) یا تو مطلق وکیل بالخصومت ہوگا کہ انکار اور اقرار میں سے کسی چیز کی نہ صراحتاً اجازت دی گئی ہوگی نہ روکا گیا ہوگا، (٢) یا وکیل بالخصومت کے ساتھ ساتھ اقرار کا بھی وکیل بنایا ہوگا گویا انکار و اقرار دونوں کی اجازت صراحتاً ہوگی، (٣) یا وکیل بالخصومت ہوگا کہ اقرار سے صراحتاً روکا گیا ہوگا اور صرف انکار کا وکیل ہوگا، (٤) یا صرف وکیل بالخصومت ہوگا اور انکار و اقرار دونوں سے صراحتاً روکا گیا ہوگا۔
التَّوْكِيلُ بِالْخُصُومَةِ لَا يَخْلُو إمَّا أَنْ يُوَكِّلَهُ بِالْخُصُومَةِ وَالْإِقْرَارِ مُطْلَقًا، أَوْ يُوَكِّلَهُ بِالْخُصُومَةِ وَالْإِقْرَارِ جَمِيعًا، أَوْ يُوَكِّلَهُ بِالْخُصُومَةِ غَيْرَ جَائِزِ الْإِقْرَارِ، أَوْ يُوَكِّلَهُ بِالْخُصُومَةِ غَيْرَ جَائِزِ الْإِقْرَارِ وَالْإِنْكَارِ.
اب یہاں سے ان چاروں قسموں کا حکم بیان کر رہے ہیں فرماتے ہیں۔
پہلی قسم: اگر وکیل بالخصومت مطلق ہو کہ اقرار و انکار میں سے کسی چیز کی صراحت نہ کی گئی ہو بلکہ مطلقا اجازت دی ہو وکیل بالخصومت کی تو ایسے میں مجلس قضاء میں اگر وکیل اپنے مؤکل پر کسی چیز کا اقرار کرتا ہے تو بعض فقہاء کے نزدیک وکیل کا اقرار اپنے مؤکل کے لیے صحیح ہوگا اور اگر مجلس قضاء سے باہر اپنے مؤکل کے لیے اقرار کرتا ہے تو اقرار کرنا صحیح نہ ہوگا جبکہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مجلس قضاء ہو یا مجلس قضاء سے باہر دونوں جگہ اس وکیل کا اپنے مؤکل پر اقرار کرنا صحیح ہوگا اور امام شافعی اور امام زفر رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ نہ مجلس قضاء اور نہ مجلس قضاء سے باہر اس وکیل کا اپنے مؤکل کے لیے اقرار کرنا صحیح ہوگا، اس لیے کہ اس کو صرف وکیل بالخصومت کا وکیل بنایا گیا ہے، اس لیے وہ صرف پیروی کر سکتا ہے۔
أَمَّا إذَا وَكَّلَهُ مُطْلَقًا وَأَقَرَّ عَلَى مُوَكِّلِهِ فِي مَجْلِسِ الْحُكْمِ يَصِحُّ، وَفِي غَيْرِهِ لَا وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ يَصِحُّ فِيهِمَا، وَعِنْدَ زُفَرَ وَالشَّافِعِيِّ لَا يَصِحُّ فِيهِمَا
دوسری قسم: وکیل بالخصومت کے ساتھ ساتھ مؤکل نے اپنے وکیل کو اقرار کی بھی اجازت دی تو اس وکیل دونوں کا وکیل ہو جائے گا یعنی اقرار کر بھی اور انکار کا بھی وکیل ہو جائے گا جبکہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ وہ اقرار کا وکیل نہیں ہوگا اور اس بنیاد اس پر ہے کہ اقرار کا وکیل بنانا امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک خود مؤکل کی طرف سے ہی اقرار ہوتا ہے گویا مؤکل اقرار کا وکیل بناتے وقت خود ہی اقرار کر چکا اس لیے جب مؤکل نے اسے اقرار کر چکا تو اب وکیل کو اقرار کرنے کی ضرورت نہیں رہی اس لیے وکیل کا اقرار عند الشافعی مؤکل کی طرف سے اقرار نہیں ہوگا،جبکہ ہمارے نزدیک وکیل کو اقرار کی اجازت دینا مؤکل کی طرف سے قرار نہیں ہوتا ہے، اس لیے وکیل اقرار کا مالک رہے گا وہ عدالت میں اس اقرار کو بروئے کار لا سکتا ہے، اس لیے کہ مؤکل نے جو اقرار کی اجازت دی ہے وہ صراحتاً اقرار ہے نہ مجازاً، بلکہ کبھی کبھی انسان دوسرے کی زبانی اقرار کرانے کا محتاج ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنی عزت کی حفاظت چاہتا ہے اور قاضی کا در کھٹکھٹانے میں اپنے چہرے سے عرق ریزی کو بچانا چاہتا ہے کیوں کہ عقلاء و شرفاء کی یہ غرض تسلیم شدہ ہے وہ اپنی عزت نفس بچانے کے لیے عدالت میں جانا نہیں چاہتے اس لیے وہ اقرار کا وکیل دوسرے کو بناتے ہیں کہ آپ میری طرف سے اقرار کر لیجیے گا، اس لیے اگر امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی یہ بات مان لئی جائے کہ مؤکل کا اقرار کا وکیل بنانا خود مؤکل کا اقرار ہے تو پھر یہ چیز باقی نہیں رہے گی کہ لوگ عزت کے لیے اقرار سے بچنا چاہتے ہیں اور دوسروں کے زبانی اقرار کرتے ہیں، اس لیے مؤکل کا وکیل بنانے کو مجازاً توکیل بالاقرار نام دینے کی بھی کوئی حاجت نہیں بلکہ یہاں مؤکل کے وکیل کا اقرار کرنا عدالت میں صحیح ہوگا اور وکیل اقرار کا مالک ہوگا گویا یہ خود مؤکل کا اقرار کرنا نہیں ہوگا نہ تو صراحتاً نہ مجازاً بلکہ مؤکل کی اجازت سے وکیل کا اقرار مؤکل کی طرف منسوب ہو گویا مؤکل کا اقرار کا وکیل بنانا ہی خود اقرار کرنا نہ ہوگا۔
وَأَمَّا إذَا وَكَّلَهُ بِالْخُصُومَةِ وَالْإِقْرَارِ يَصِيرُ وَكِيلًا بِهِمَا.وَقَالَ الشَّافِعِيُّ: لَا يَصِيرُ وَكِيلًا، وَهَذَا بِنَاءً عَلَى أَنَّ التَّوْكِيلَ بِالْإِقْرَارِ عِنْدَهُ يَكُونُ إقْرَارًا مِنْ الْمُوَكِّلِ، وَعِنْدَنَا لَا يَكُونُ إقْرَارًا؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُقِرَّ صَرِيحًا وَلَا مَجَازًا؛ لِأَنَّ الْإِنْسَانَ قَدْ يَحْتَاجُ إلَى الْإِقْرَارِ بِلِسَانِ غَيْرِهِ؛ صِيَانَةً لِعِرْضِهِ وَمَاءِ وَجْهِهِ مِنْ جَرِّهِ إلَى بَابِ الْقَاضِي، وَهَذَا غَرَضٌ مَطْلُوبٌ فِيمَا بَيْنَ الْعُقَلَاءِ فَلَا حَاجَةَ إلَى جَعْلِ تَوْكِيلِهِ عِبَارَةً عَنْ التَّوْكِيلِ بِالْإِقْرَارِ مَجَازًا.
تیسری قسم: مؤکل نے وکیل بالخصومت بنایا لیکن اقرار کی اجازت نہیں دی، اقرار کو استثنی کیا تو اس جگہ وکیل اقرار کا مالک نہیں ہوگا اقرار کی اسے اجازت نہیں ہوگی اس لیے کہ جب اقرار کا استثنی کیا گیا گویا کہ خود مؤکل نے کہا ہے میں تجھے صرف انکار کا وکیل بناتا ہوں چناں چہ اگر وہ اس کی صراحت کرتا یعنی صرف اتنا کہتا وَكَّلْتُكَ بِالْإِنْكَارِ میں تجھے صرف انکار کا وکیل بناتا ہوں جب بھی وہ اقرار کا وکیل نہ ہوتا۔
وَأَمَّا إذَا وَكَّلَهُ بِالْخُصُومَةِ وَاسْتَثْنَى الْإِقْرَارَ لَا يَصِيرُ وَكِيلًا؛ لِأَنَّهُ لَمَّا اسْتَثْنَى الْإِقْرَارَ فَكَأَنَّهُ قَالَ: وَكَّلْتُكَ بِالْإِنْكَارِ. وَلَوْ صَرَّحَ بِهَذَا لَا يَصِيرُ وَكِيلًا بِالْإِقْرَارِ.
چوتھی قسم: صرف وکیل بالخصومت بنایا اقرار کی اجازت دی نہ انکار کی بس خاموش رہنے کا وکیل بنایا یہ کہا کہ تم جاؤ میری طرف سے معاملہ کی پیروی کرو لیکن اقرار کیجیے نہ انکار تو ہمارے متقدمین فقہاء سے اس سلسلے میں کوئی روایت مروی نہیں ہے کہ یہ وکالت صحیح ہے یا نہیں جبکہ متاخرین نے اس میں اختلاف کیا ہے بعض حضرات نے فرمایا یہ وکالت ہی صحیح نہیں ہے، وکالت اس لیے صحیح نہیں ہے کہ وکالت کا معنی ہے کسی کو کوئی چیز سپرد کرنا یعنی کوئی معاملہ ایسے شخص کو سپرد کرنا جو اس معاملہ کو حسن تدبیر کے ساتھ انجام دے سکے اور یہ جو یہاں پر مؤکل خاموشی کا وکیل بنا رہا ہے اس میں کوئی چیز سپرد نہیں کی جا رہی ہے تو یہ توکیل نہیں بلکہ تعطیل ہے اور جب تعطیل ہے تو تفویض پائی نہیں گئی اس لیے وکیل ہی نہیں بنا کیوں کہ فریق ( مدعی علیہ ) کا جواب یا تو اقرار میں ہوتا ہے یا انکار اور جب ان دونوں سے استثنی کیا گیا گویا اس کو کوئی چیز سپرد ہی نہیں کی گئی، اس لیے یہ وکالت ہی صحیح نہیں ہے جبکہ جمہور فقہاء فرماتے ہیں کہ توکیل صحیح ہے اور یہ مجلس قضاء میں وکیل بالسکوت ہوگا یعنی جب اس کو خاموشی کا وکیل بنایا نہ اقرار کی اجازت دی نہ اقرار کی تو یہ کچھ نہ ہو کے بھی کچھ ہے وہ اس طور پر کہ جب یہ خاموش رہے گا مجلس قضاء میں تو اس کی خاموشی کو انکار سمجھا جائے گا چناں چہ یہ عدم جواب و سکوت نکول عن الحلف کے قائم مقام ہوگا جس کی وجہ سے اس کے خلاف کاروائی کی جائے گی اور اس کے خلاف گواہان سنے جائیں گے گویا مدعی کا فائدہ ہو رہا ہے مدعی کے دعویٰ کا مقصود حاصل ہو رہا ہے گویا کچھ نہ کچھ فائدہ اس وکالت میں بھی ہے اس لیے جب اس میں کچھ فائدہ ہے تو کسی نہ کسی چیز کی تفویض پائی جا رہی ہے، اسی کے بارے میں فرمایا کہ توکیل صحیح ہوگی اور یہ مجلس حکم میں وکیل بالسکوت ہوگا یہاں تک کہ اس کے خلاف گواہوں کو سنا جائے گا سکوت کی وجہ سے اس لیے کہ مدعی کا مقصود مدعی علیہ کے جواب دینے سے وہ تو سکوت سے بھی حاصل ہو جائے گا اور وہ مقصود ہے گواہوں کا سننا مدعی علیہ کے خلاف اور یہ سکوت سے بھی حاصل ہو جائے گا اس لیے کہ فریق کا سکوت وہ کافی ہے اس کے خلاف گواہوں کو سننے کے لیے انکار کی طرح مزید یہاں وکیل کے لیے بھی ایک گونا فائدہ ہے اس قید کے ساتھ اس کی وکالت مختصر رہے گی زیادہ جھنجٹ میں نہیں پڑنا پڑے گا اسے زیادہ لڑائی جھگڑے کی نوبت نہیں آئے گی بس خاموش بیٹھا رہے گا خود بخود معاملے کی کاروائی قاضی آگے بڑھاتا جائے گا اس کی خاموشی کو انکار مان کر گویا وکیل کا بھی کچھ نہ کچھ فائدہ ہے۔
وَأَمَّا إذَا وَكَّلَهُ بِالْخُصُومَةِ غَيْرَ جَائِزِ الْإِقْرَارِ وَالْإِنْكَارِ فَلَا رِوَايَةَ عَنْ أَصْحَابِنَا الْمُتَقَدِّمِينَ وَقَدْ اخْتَلَفَ فِيهِ الْمُتَأَخِّرُونَ.
قِيلَ لَا يَصِحُّ؛ لِأَنَّ التَّوْكِيلَ تَفْوِيضُ الْأَمْرِ إلَى مَنْ يَقُومُ بِتَدْبِيرِهِ، وَفِي هَذَا التَّوْكِيلِ تَعْطِيلٌ وَلَيْسَ بِتَفْوِيضٍ؛ لِأَنَّ جَوَابَ الْخَصْمِ إقْرَارٌ أَوْ إنْكَارٌ.فَإِذَا اسْتَثْنَاهُمَا فَلَمْ يُفَوِّضْ إلَيْهِ شَيْئًا.وَقِيلَ يَصِحُّ التَّوْكِيلُ وَيَصِيرُ وَكِيلًا بِالسُّكُوتِ فِي مَجْلِسِ الْحُكْمِ حَتَّى تُسْمَعَ الْبَيِّنَةُ عَلَيْهِ؛ لِأَنَّ مَقْصُودَ الطَّالِبِ مِنْ الْجَوَابِ يَحْصُلُ بِالسُّكُوتِ وَهُوَ سَمَاعُ الْبَيِّنَةِ فَإِنَّ السُّكُوتَ مِنْ الْخَصْمِ كَافٍ لِسَمَاعِ الْبَيِّنَةِ عَلَيْهِ كَالْإِنْكَارِ، وَلِلْوَكِيلِ نَوْعُ فَائِدَةٍ فِي قَصْرِ الْوَكَالَةِ عَلَى هَذَا الْقَيْدِ.
(فَرْعٌ) :
یہاں سے فرمانا چاہتے ہیں کہ اگر حد قذف اور قصاص میں کا وکیل بالخصومت بنایا تو کیا وہ عدالت میں اقرار کر سکتا ہے یا نہیں صحیح بات یہ ہے کہ حد قذف اور قصاص وکیل اقرار کا مالک نہیں ہوتا ہے ، مثلاً قاتل نے قتل کیا یا کسی نے کسی پر تہمت لگائی اب اس کے خلاف مدعی نے عدالت میں دعوی کیا اور قاتل نے اپنا وکیل چنا اسے کہا عدالت میں میرے خلاف پیروی کرو تو کیا یہ وکیل قاتل کی طرف سے قتل کا اقرار یا قاذف کی طرف سے قذف کا اقرار نہیں کر سکتا ہے اس لیے کہ اس میں کسی نہ کسی طرح کا شبہ پایا جاتا ہے اور حدود شبہات سے ختم ہو جاتے ہیں فرمایا وکیل بالخصومت فی حد قذف یا قصاص کا وکیل بالخصومت جب اقرار کرے مؤکل کی طرف سے تو اقرار صحیح نہیں ہوگا اس لیے کہ توکیل بالخصوص مجازاً اجتہاد کے ذریعے جواب دینے کا وکیل بنانا ہوتا ہے تو وکیل کے اقرار میں عدم اختیار کا شبہ پایا گیا اور جب شبہ پیدا ہو گیا تو اس چیز کے اٹھ جانے کا شبہ پایا گیا جس سے حدود ختم ہوتے ہیں اس لیے اقرار وکیل صحیح نہ ہوگا۔
وَالْوَكِيلُ بِالْخُصُومَةِ فِي حَدِّ الْقَذْفِ وَالْقِصَاصِ إذَا أَقَرَّ لَا يَصِحُّ؛ لِأَنَّ التَّوْكِيلَ بِالْخُصُومَةِ جُعِلَ تَوْكِيلًا بِالْجَوَابِ مَجَازًا بِاجْتِهَادٍ، فَتَمَكَّنَتْ شُبْهَةُ الْعَدَمِ فِي إقْرَارِ الْوَكِيلِ فَيُورِثُ شُبْهَةَ دَرْءِ مَا يُدْرَأُ بِالشُّبُهَاتِ.
(مَسْأَلَةٌ) :
اگر کسی نے دو آدمیوں کو وکیل بالخصومت بنایا تو ان میں سے تنہاء ایک بھی پیروی کر سکتا ہے البتہ اس ایک کے لیے قبضہ کرنا جائز نہیں ہوگا قبضہ دونوں سے ہوگا جبکہ امام زفر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دونوں میں سے ایک معاملہ کی پیروی نہیں کر سکتا ہے جب دو کو وکیل چنا ہو تو دونوں ایک ساتھ معاملہ کی پیروی کریں گے۔
لَوْ وَكَّلَ وَكِيلَيْنِ بِالْخُصُومَةِ فَلِأَحَدِهِمَا الِانْفِرَادُ بِالْخُصُومَةِ، وَلَيْسَ لَهُ أَنْ يَقْبِضَ، وَقَالَ زُفَرُ: لَا يَنْفَرِدُ أَحَدُهُمَا بِالْخُصُومَةِ.
(مَسْأَلَةٌ) :
یہاں سے فرماتے ہیں کہ اصل مسئلہ تو امام اعظم ابو حنیفہؒ کے نزدیک یہ تھا کہ وکیل بالخصومت تب درست ہے جب مؤکل خود شہر میں حاضر نہ ہو یعنی غائب ہو یا کسی مجبوری کی وجہ سے وہ عدالت میں نہ آ سکے تو اپنا وکیل عدالت میں بھیج سکتا ہے، لیکن جمہور کی رائے یہ ہے کہ اگر خود مؤکل شہر میں حاضر بھی ہے وہ خود مجلس قضاء میں حاضر بھی ہو سکتا تھا پھر بھی اگر وہ کسی کو اپنا وکیل بناتا ہے تو جب بھی اس کا وکیل بنانا درست ہے یہ کہ وکیل کا مطلب ہے کہ جو اپنے معاملہ کا مالک ہو وہ اپنا معاملہ میں دوسرے کو وکیل بھی بنا سکتا ہے چاہے وہ خود پیروی کر سکتا تھا، فرمایا کہ امام اعظم ابو حنیفہؒ فرماتے ہیں کہ شہر میں حاضر اور صحیح تندرست شخص سے وکالت قبول نہیں کی جائے گی مگر یہ کہ دوسرا فریق راضی ہو کہ ہاں مدعی علیہ وکیل بھی بنا سکتا ہے، جبکہ صاحبین و امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے شہر میں حاضر صحیح سالم کا اپنا وکیل چننا بھی درست ہے اس لیے کہ یہ وکیل چننا محض اپنے حق میں تصرف کرنا ہے، مدعی دعوے کا وکیل بنا سکتا ہے کیونکہ دعوی اس کا خالص حق ہے اور مدعی کو دعوے میں فائدہ ہے جبکہ مدعی علیہ کا حق انکار ہے اور اس کو انکار میں فائدہ ہے اس لیے مدعی علیہ بھی اپنے حق و فائدہ کا وکیل بنا سکتا ہے۔
قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ: لَا تُقْبَلُ الْوَكَالَةُ فِي الْخُصُومَةِ مِنْ حَاضِرٍ صَحِيحٍ فِي الْمِصْرِ إلَّا بِرِضَا خَصْمِهِ.وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ وَالشَّافِعِيُّ: تَوْكِيلُهُ صَحِيحٌ؛ لِأَنَّهُ تَصَرَّفَ فِي خَالِصِ حَقِّهِ؛ لِأَنَّهُ إنْ وُجِدَ مِنْ الْمُدَّعِي فَالدَّعْوَى خَالِصُ حَقِّهِ وَإِنْ وُجِدَ مِنْ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ فَالْإِنْكَارُ خَالِصُ حَقِّهِ؛ لِأَنَّهُ يَنْتَفِعُ بِهِ.
(مَسْأَلَةٌ) :
عورت چاہے باکرہ ہو یا ثیبہ وہ اپنا وکیل بنانے کے سلسلے میں مرد کی طرح ہے جس طرح مرد چاہے مدعی ہو یا مدعی علیہ دونوں اپنا وکیل بنا سکتے ہیں اسی طرح عورت چاہے مدعیہ ہو یا مدعی علیہا وہ بھی اپنا وکیل چن سکتی ہیں، اس لیے کہ یہ معنی دونوں کو شامل ہے، جبکہ ہمارے بعض متاخرین فقہاء جیسے کہ حضرت ابوبکر رازی رحمۃ اللہ علیہ نے ایسی عورت کے لیے کی جو پردہ داری کی وجہ سے گھر سے باہر آنا جانا نہیں کرتی ہے جائز ہی نہیں بلکہ مستحسن سمجھا ہے کہ وہ اپنا وکیل ہی بنائے اس لیے کہ نکلنے اور عدالت میں حاضری دینے سے اس کو عیب کا ضرر لاحق ہو سکتا ہے۔
وَالْمَرْأَةُ كَالرَّجُلِ بِكْرًا كَانَتْ أَوْ ثَيِّبًا فِي هَذَا؛ لِأَنَّ الْمَعْنَى يَجْمَعُهُمَا.وَقَدْ اسْتَحْسَنَ الْمُتَأَخِّرُونَ مِنْ أَصْحَابِنَا مِنْهُمْ أَبُو بَكْرٍ الرَّازِيّ أَنَّهَا إنْ كَانَتْ غَيْرَ بَرْزَةٍ جَازَ لَهَا أَنْ تُوَكِّلَ؛ لِأَنَّهُ يَلْحَقُهَا ضَرَرٌ بِالْعَيْبِ بِالْخُرُوجِ وَالْحُضُورِ.
(مَسْأَلَةٌ) :
اگر کسی شخص کو وکیل بنایا گیا ہے عین حق وصول کرنے کا مثلاً وکیل سے کہا کہ فلاں کے پاس میری گھڑی ہے آپ کو صرف وہ گھڑی وصول کرنی ہے چناں چہ اگر کسی کو عینِ شئی کا وکیل بنایا گیا تو وہ خصومت کا وکیل نہیں ہوگا یعنی وہ عدالت میں اس معاملہ کی پیروی نہیں کر سکتا اس کی وجہ یہ ہے کہ جسے عین شئی کا وکیل بنایا گیا ہو وہ خصومت کا وکیل اس لیے نہیں بنتا کیونکہ اگر وہ عدالت میں جائے گا تو ضروری نہیں کہ فیصلہ کے بعد اسے وہی عینی چیز مل جائے کبھی کبھی فیصلہ کے بعد اس کی قیمت بھی مل سکتی ہے اور قیمت کا اس کو وکیل نہیں بنایا گیا ہے اس لیے جسے عین حق کے وصول کرنے کا وکیل بنایا گیا ہے وہ وکیل بالخصومت نہیں ہوگا اس لیے کہ جس پر وہ قبضہ کرے گا وہ عین حق پر قبضہ ہوگا اور عین شئی کے قبضہ کا وکیل وہی عین حق کے وصول کرنے وکیل ہے اس لیے وہ وکیل فی الخصومت نہیں ہوگا، یعنی جس طرح کسی کو عین شئی کے قبضہ کا وکیل بنایا جائے تو وہ اس عین کے بدل کے قبضہ کا وکیل نہ ہوگا بلکہ اس ہر ضروری ہے کہ وہ وہی عین شئی پر قبضہ کرے اس طرح جس کو عین کے وصول کرنے کا وکیل اگر خصومت کا بھی وکیل ہوجائے تو پھر ضروری نہیں کہ عدالت میں اس کے حق میں اسی عین کا فیصلہ ہو، اس لیے ضروری ہوا کہ وہ خصومت کا وکیل نہ ہو۔
وَلَوْ وَكَّلَهُ بِاسْتِيفَاءِ عَيْنِ حَقِّهِ لَا يَكُونُ وَكِيلًا فِي الْخُصُومَةِ؛ لِأَنَّ مَا يَقْبِضُهُ يَقْبِضُ عَيْنَ حَقِّهِ، وَالْوَكِيلُ بِقَبْضِ الْعَيْنِ وَكِيلٌ بِاسْتِيفَاءِ عَيْنِ حَقِّهِ فَلَا يَكُونُ وَكِيلًا فِي الْخُصُومَةِ.
(فَرْعٌ) :
اس کے برخلاف اگر کسی کو بدل شئی کے قبضہ کا وکیل بنایا گیا ہو مثلاً یہ کہا گیا ہو کہ یہ میری گھڑی فلاں کے پاس ہے آپ چاہے اس سے وہ گھڑی وصول کر لو یا اس کی قیمت وصول کر لو گویا کہ جو میرا حق ہے اس کا بدل ہمیں دلوا دو تو ایسا وکیل وکیل بالخصومت بھی ہوگا اگر وہ معاملہ عدالت میں جاتا ہے تو یہ عدالت میں اس معاملہ کی پیروی بھی کر سکتا ہے، اس لیے کہ عدالت میں فیصلہ کے بعد جو بھی چیز اس کے حق میں آئے گی مؤکل اس پر راضی ہے کیونکہ اس نے بدل کے قبضہ کا وکیل بنایا ہے اب چاہے عدالت میں اس گھڑی کا فیصلہ ہو یا اس کی قیمت کا فیصلہ ہو مؤکل اپنے وکیل سے بہر دو صورت راضی ہے، چناں چہ فرمایا اگر کسی کو اپنے حق کے بدل کے قبضہ کا وکیل بنایا ہو تو وہ وکیل بالخصومت بھی ہوگا اس لیے کہ تملیک کا وکیل وہ خرید و فروخت کے وکیل کے مشابہ ہے کہ اس کے ساتھ تمام حقوق متعلق ہوتے ہیں جس طرح کسی کو شراء کا وکیل بنا دیا تو جس طرح چاہے خرید سکتا ہے ایسے ہی یہاں بھی جس کو مطلق ملکیت کا وکیل بنایا ہو یعنی تملیک کا وکیل بنایا ہو وہ چاہے عین شئی پر قبضہ کرے یا بدل پر دونوں طرح سے جائز ہے، پتہ چلا اس وکیل کی وکالت عام ہے اس لیے یہ وکیل بالخصومت بھی بن سکتا ہے۔
وَلَوْ وَكَّلَهُ بِقَبْضِ بَدَلِ حَقِّهِ يَكُونُ وَكِيلًا فِي الْخُصُومَةِ؛ لِأَنَّهُ وَكِيلٌ بِالتَّمَلُّكِ فَأَشْبَهَ الْوَكِيلَ بِالشِّرَاءِ فَتَتَعَلَّقُ بِهِ حُقُوقُهُ.
(مَسْأَلَةٌ) :
دین کے قبضہ کا وکیل وہ حکماً عین حق وصول کرنے کا وکیل ہوگا، یعنی دین میں بھی یہی مسئلہ ہوگا جیسے اگر وکیل سے کہا گیا ہو کہ فلاں کے ذمہ میری گھڑی دین ہے تم وہ وصول کرو! تو یہ وکیل بھی عین گھڑی کے قبضہ کا وکیل ہوگا،امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک۔
وَالْوَكِيلُ بِقَبْضِ الدَّيْنِ وَكِيلٌ بِاسْتِيفَاءِ عَيْنِ حَقِّهِ حُكْمًا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ.
(فَصْلٌ) :
یہاں سے ایک اصول بیان کر رہے ہیں، پھر اس پر مسائل متفرع کریں گے اصول یہ ہے کہ جو شخص ایک مرتبہ عدالت میں کسی کی طرف سے فریق بن گیا اب وہ اس معاملہ میں گواہ نہیں بن سکتا اور جو شخص عدالت میں کسی کا گواہ بنا اب وہ فریق نہیں بن سکتا گویا فریق ہونا اور گواہ ہونا ان دونوں میں تضاد ہے یہ دونوں ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتی، پھر ائمہ احناف کے درمیان اختلاف ہے امام اعظم ابو حنیفہ و امام محمد رحمۃ اللہ علیہما کے نزدیک جس شخص کو وکیل بنایا گیا تو فریق بننے سے پہلے پہلے وہ گواہی دے سکتا ہے یعنی محض وکیل بنانے سے وہ فریق کا حکم نہیں لے گا اس لیے اگر کسی نے وکیل بنایا اور پھر اس کو عدالت میں مخاصمت سے پہلے پہلے معزول کر دیا تو یہ وکیل اپنے سابق مؤکل کے حق میں گواہی دے سکتا ہے اس معاملے میں جبکہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ کے نزدیک محض وکیل بنانے سے ہی وہ فریق کے حکم میں آجائے گا اس لیے اب چاہے اس کو معزول بھی کیا گیا مخاصمت سے پہلے یہ وکیل اس معاملے میں اپنے سابق مؤکل کے لیے گواہی نہیں دے سکتا کیونکہ اسے وکیل بنایا گیا تھا اور وکیل بنانے سے ہی نزد قاضی ابو یوسف وہ فریق بن جاتا ہے اسی کو فرمایا کہ اگر کسی نے کسی شخص کو اپنے معاملہ میں وکیل بالخصومت بنایا اور فریق بننے سے پہلے پہلے اس کو وکالت سے معزول کیا پھر اس وکیل نے اس شخص کے لیے اس معاملہ میں گواہی دی اس سے پہلے کی وہ جھگڑا لے کر عدالت میں جاتا، تو اس کی گواہی دینا جائز ہے اور اگر اس کو معزول کیا ہو بعد اس کے کہ اس نے اس معاملہ میں فریق بن کر مخاصمت کی قاضی کے پاس یعنی عدالت میں فریق بنا تو اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی یہی امام اعظم ابو حنیفہ و امام محمد رحمہما اللہ کا قول ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں دونوں فصلوں میں اس کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی چاہے وکیل بنا کر وہ اپنے مؤکل کے لیے فریق بنا یا چاہے صرف وکیل بنایا اور وکیل بنا کے اسے معزول کیا اس سے پہلے کہ وہ اپنے مؤکل کے لیے فریق بنتا دونوں صورتوں میں وہ اپنے مؤکل کے لیے گواہی نہیں دے سکتا ہے۔
وَلَوْ وَكَّلَهُ بِالْخُصُومَةِ فِي شَيْءٍ ثُمَّ عَزَلَهُ عَنْ ذَلِكَ ثُمَّ شَهِدَ لَهُ الْوَكِيلُ قَبْلَ أَنْ يُخَاصِمَ فِي ذَلِكَ فَشَهَادَتُهُ جَائِزَةٌ، وَلَوْ عَزَلَهُ بَعْدَ مَا خَاصَمَ فِي ذَلِكَ إلَى الْقَاضِي لَمْ تُقْبَلْ شَهَادَتُهُ، وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ: لَا تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ فِي الْفَصْلَيْنِ.
اس اختلاف کی بنیاد اس اختلاف پر ہے جس کی تخریج کی گئی ہے ایسے اصل سے جو اصل متفق علیہ ہے وہ یہ کہ جو کسی معاملہ میں فریق بنا اس کی گواہی اس معاملے میں قبول نہیں کی جائے گی اور اگر فریق نہیں بنا یہاں تک کہ اس کو معزول کر دیا گیا تو اس کی گواہی قبول کی جائے گی اس معاملہ میں
وَهَذَا الْخِلَافُ بِنَاءً عَلَى الْخِلَافِ فِي التَّخْرِيحِ مِنْ أَصْلٍ مُجْمَعٍ عَلَيْهِ، وَهُوَ أَنَّ مَنْ انْتَصَبَ خَصْمًا فِي حَادِثَةٍ لَا تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ فِيهَا، وَإِنْ لَمْ يَنْتَصِبْ خَصْمًا حَتَّى عُزِلَ تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ فِيهَا.
جب کہ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں وہ محض وکیل بنانے سے ہی فریق بن جاتا ہے اسی وجہ سے اگر وہ قاضی کے مجلس کے علاوہ باہر کسی جگہ بھی وکیل بننے کے بعد اقرار کرتا ہے تو اس کا اقرار ثابت ہو جائے گا کیونکہ وہ وکیل بنا ہے اور اگر وہ معزول ہونے کے بعد گواہی دیتا ہے قاضی کے پاس معاملہ جانے سے پہلے یا معاملہ جانے کے بعد تو اس کی گواہی دونوں صورتوں میں قبول نہیں کی جائے گی امام ابو یوسف کے نزدیک کیونکہ قاضی کے پاس جانا یا قاضی کے پاس معاملہ کا نہ جانا دونوں ان کے نزدیک برابر ہے کیوں کہ محض وکالت سے ہی وہ فریق بن جاتا ہے جبکہ طرفین رحمۃ اللہ علیہما کے نزدیک وہ فریق نہیں بنے گا جب تک وہ قاضی کے پاس معاملہ لے کر نہ جائے قاضی کے سامنے۔
وَأَبُو يُوسُفَ يَقُولُ: الْوَكِيلُ صَارَ خَصْمًا بِالتَّوْكِيلِ، وَلِهَذَا إذَا أَقَرَّ فِي غَيْرِ مَجْلِسِ الْقَاضِي يَنْفُذُ عِنْدَهُ، وَإِذَا شَهِدَ بَعْدَ الْعَزْلِ قَبْلَ الْمُرَافَعَةِ إلَى الْقَاضِي أَوْ بَعْدَهَا لَا تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ، وَعِنْدَهُمَا لَا يَصِيرُ خَصْمًا مَا لَمْ يَتَخَاصَمْ إلَى الْقَاضِي.
اگر کوئی قاضی کے ہاں معاملہ لے کر گیا جبکہ اس کو مؤکل نے اپنے تمام حقوق کا وکیل بنایا تھا تو جس دن وکیل بنایا تھا اس دن کے کل معاملات اور وکالت کے دن کے بعد وکیل کے معزول ہونے سے پہلے پہلے جو معاملات مؤکل کے ہوں گے ان تمام میں اس وکیل کی گواہی مؤکل کے لیے جائز نہیں ہوگی ہاں معزول ہونے کے بعد جو بھی معاملہ ہوگا اس میں وہ فریق بن سکتا ہے اور اگر فریق نہ بنا تو گواہی دے سکتا ہے اسی کو فرمایا کہ اگر اس نے قاضی کے پاس مرافعہ کیا اور جب کہ اسے مؤکل نے اپنے تمام حقوق کا وکیل بنایا تھا تو اس کی گواہی جائز نہ ہوگی ان معاملات میں جو توکیل کے دن یا توکیل کے دن کے بعد معزول ہونے سے پہلے پیش آئیں گے، اس لیے کہ وہ ان معاملات میں توکیل کے دن ہی فریق بنانا ہے۔
وَلَوْ خَاصَمَ إلَى الْقَاضِي وَقَدْ وَكَّلَهُ بِكُلِّ حَقٍّ لَهُ لَمْ تَجُزْ شَهَادَتُهُ فِيمَا كَانَ يَوْمَ التَّوْكِيلِ أَوْ حَدَثَ بَعْدَ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُخْرِجَهُ؛ لِأَنَّهُ صَارَ خَصْمًا فِيمَا كَانَ يَوْمَ التَّوْكِيلِ.
موکل کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے وکیل کو معزول کرے مگر ایک صورت میں جائز نہیں ہے کہ وہ خود سے اپنے وکیل کو معزول کرے گا وہ سورۃ اگے مسئلے میں ارہی ہے
[فَصْلٌ لِلْمُوَكِّلِ أَنْ يَعْزِلَ وَكِيلَهُ]
(فَصْلٌ) :
فرماتے ہیں مؤکل کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے وکیل کو معزول کرے مگر یہ کہ مؤکل کا وکیل وہ مدعی کے مطالبہ پر وکیل بنا ہو تو اس صورت میں مدعی علیہ مؤکل اپنے وکیل کو معزول نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے ساتھ مدعی کا حق بھی وابستہ ہو گیا ہے اسی کے لیے فرمایا مگر یہ کہ وکیل بنا ہو مدعی کی طرف سے مطالبہ پر تو ایسی صورت میں مؤکل کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے وکیل کو معزول کرے مگر یہ کہ مدعی فریق حاضر ہو یعنی جس کے مطالبہ پر وکیل بنا ہے اس کے علم میں ہونا ضروری ہے کہ مؤکل اپنے وکیل کو معزول کر رہا ہے اس لیے کہ اس وکیل کے ساتھ مدعی کا حق متعلق ہے اس لیے مدعی علیہ مؤکل معزول کرنے کا مالک نہ ہوگا مگر مدعی کی رضامندی سے محیط، شرح تجرید اور ایضاح میں یہی مسئلہ مذکور ہے۔
وَلِلْمُوَكِّلِ أَنْ يَعْزِلَ وَكِيلَهُ إلَّا أَنْ يَكُونَ الْمَطْلُوبُ وُكِّلَ بِطَلَبٍ مِنْ جِهَةِ الطَّالِبِ فَلَا يَكُونُ لَهُ أَنْ يُخْرِجَهُ إلَّا بِمَحْضَرٍ مِنْ الْخَصْمِ؛ لِأَنَّهُ تَعَلَّقَ بِهِ حَقٌّ لِلطَّالِبِ فَلَا يَمْلِكُ أَنْ يُطَالِبَهُ إلَّا بِرِضَاهُ. مِنْ الْمُحِيطِ وَمِنْ شَرْحِ التَّجْرِيدِ وَمِنْ الْإِيضَاحِ.
چوتھی قسم: جوابِ دعوی کے بیان میں ہے اب تک دعویٰ، اس کے متعلقات کا بیان تھا اب جب مدعی کا دعوی مکمل ہو ہر طرح سے چاہے وہ خود دعوی کرے یا اس کا وکیل دعوی کرے اس کے بعد باری آتی ہے مدعی سے جواب دعوی طلب کرنے کی تو اس باب میں اسی جواب دعوی کا بیان ہوگا۔
[الْقِسْمُ الرَّابِعُ الْجَوَابِ عَنْ الدَّعْوَى]
فرمایا چوتھا باب وہ جواب دعوی کے حکم کے بیان میں ہے جب دعوی صحیحہ اپنے تمام شرائط متقدمہ سے مربوط ہو اور قاضی مدعی کے کلام سے مطمئن ہو اس سے تمام چیز حاصل کر چکے اور اس کے دعویٰ کو پوری طرح سے سمجھ جائے یہاں تک کہ اس دعویٰ میں اشکال و احتمال کے باعث کوئی تشنہ لبی باقی نہ رہے تو قاضی مدعی علیہ کو جواب دعوی کا حکم دے گا اور جواب دعویٰ تین طرح کا ہوگا (١) یا تو مدعی علیہ اقرار کرے گا (٢) یا انکار کرے گا (٣) یا اقرار و انکار صراحتاً دونوں کا انکار کرے۔
فِي حُكْمِ الْجَوَابِ عَنْ الدَّعْوَى. وَإِذَا وَقَعَتْ الدَّعْوَى الصَّحِيحَةُ بِشُرُوطِهَا الْمُتَقَدِّمَةِ، وَاسْتَفْرَغَ الْقَاضِي كَلَامَ الْمُدَّعِي وَفَهِمَهُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ عِنْدَهُ فِيهِ إشْكَالٌ وَلَا احْتِمَالٌ، أَمَرَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِالْجَوَابِ، وَهُوَ أَحَدُ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: إمَّا إقْرَارٌ، أَوْ إنْكَارٌ، أَوْ امْتِنَاعٌ.
پہلی قسم کا جواب دعوی اقرار ہے۔
الْأَوَّلُ: الْإِقْرَارُ.
چنانچہ جب مدعی علیہ اقرار کر چکے تو قاضی کے لیے مناسب ہے کہ وہ اس کے اقرار کو لکھ لے جب اس کے اقرار کو لکھ لیا جائے گا تو حکم مکمل ہو جائے گا اور مدعی علیہ کے اقرار کو لکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ قاضی لکھے کہ فلاں حاکم محترم کی مجلس میں فلاں بن فلاں نے فلاں ابن فلاں کے معاملے میں اس طرح اقرار کیا ہے، اس طور پر کہ اس کے ذمہ وہ چیز ہے جس کا اس کے اوپر دعوی کیا گیا ہے اور وہ چیز اس طرح اس طرح ہے اور وہ چیز فلاں سبب سے اس پر لازم ہوئی ہے، نقد لازم ہوئی ہے یا ادھار لازم ہوئی ہے اور اس معاملہ میں اس کے خلاف فلاں اور فلاں نے گواہی دی ہے۔
فَإِذَا أَقَرَّ فَإِنَّ الْقَاضِيَ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُقَيِّدَ إقْرَارَهُ، فَإِذَا قَيَّدَهُ تَمَّ الْحُكْمُ، وَصِفَةُ تَقْيِيدِ الْإِقْرَارِ أَنْ يَقُولَ: أَقَرَّ بِمَجْلِسِ الْحَاكِمِ الْعَزِيزِ الْفُلَانِيِّ فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ بِمُنَازَعَةِ فُلَانِ بْنِ فُلَانٍ بِأَنَّ لَهُ فِي ذِمَّتِهِ مَا ادَّعَاهُ عَلَيْهِ وَذَلِكَ كَذَا وَكَذَا وَجَبَ لَهُ مِنْ وَجْهِ كَذَا حَالَّةً أَوْ مُؤَجَّلَةً شَهِدَ عَلَيْهِ بِذَلِكَ فُلَانٌ وَفُلَانٌ.
No comments:
Post a Comment