یہ فصل نسب کے دعوی کے سلسلے میں۔ یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نسب کے دعوی کے سلسلے میں اصول بیان کر رہے ہیں فرماتے ہیں کہ جو نسب محض فریقین کے اعتراف و اقرار سے ثابت ہو اس دعوی پر گواہان کو بھی سنا جائے گا اور اگر مدعی کسی حق کا دعوی کر رہا ہو اسے بھی ثابت کیا جائے گا مثلا اگر کوئی بیٹا ہونے کا دعوی کرے فلاں میرا باپ ہے یا باپ ہونے کا دعوی کرے کہ فلاں میرا بیٹا ہے اگر باپ اقرار کر لے پہلی مثال میں تو مدعی کا بیٹا ہونا ثابت ہو جائے گا اسی طرح اگر مدعی علیہ بیٹا ہونے کا اقرار کرے دوسری مثال میں تو مدعی کا باپ ہونا ثابت ہو جائے گا تو پتہ چلا یہ دونوں دعاوی یا اس طرح کے دعاوی مثلا زوجیت یا ولاء وغیرہ ان میں محض مدعی و مدعی علیہ کے اقرار و اعتراف سے نسب ثابت ہو رہا ہے اس لیے ان جیسے دعاوی میں اگر نسب کے ساتھ ساتھ کسی حق کا بھی دعوی کیا جائے تو حق کو بھی ثابت کیا جائے گا اور اس کے برخلاف جو نسب محض فریقین کے دعوی و اقرار سے ثابت نہ ہو تو اس میں اثبات نسب کے لیے گواہان کو تو نہیں سنا جائے گا البتہ اگر کسی حق کا دعویٰ کرے تو حق ثابت ہوگا بس حق کے اثبات حق کے لیے گواہان کو قبول کیا جائے گا محض نسب کے لیے گواہان نہیں سنے جائیں گے، اسی کے بارے میںقا مصنف رحمتہ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ نسب کے دعوے کے سلسلے میں اصول یہ ہے کہ متنازعہ فی نسب کی طرف دیکھا جائے گا اور اس میں غور و فکر کیا جائے گا پس اگر وہ نسب کا اقرار ایسا ہو جو محض فریقین کے اعتراف سے ثابت ہو جائے جیسا کہ باپ کا رشتہ، بیٹے کا رشتہ، زوجین کا رشتہ، ولاء کا رشتہ چناں چہ ایسے نسب میں اگر مدعی انکار کرے تو مدعی فریق بن سکتا ہے اس کا مطلب یہ ہوا جب مدعی فریق بنے گا تو فریق ہونے کے ناطے وہ چونکہ مدعی ہوگا اس لیے اگر وہ گواہ پیش کرے تو مدعی کے گواہ قبول کئے جائیں گے چاہے مدعی اپنے لیے کسی حق کا دعوی کر رہا ہو یا صرف نسب ثابت کرنا چاہتا ہو دونوں طرح سے ایسے مدعی کے گواہوں کو سنا جائے گا اور اگر دعوی ایسے نسب کا ہو جو فریقین کے اعتراف سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ کسی تیسرے شخص پر معلق ہوتا ہے، جیسا کہ بھائی کا رشتہ تو ایسے دعوی میں مدعی دعوی نسب کی وجہ سے تو بالکل فریق نہیں ہوگا البتہ کسی حق کا دعویٰ کرنے سے فریق بن سکتا ہے اسی کو مصنف نے فرمایا کہ مدعی کسی حق کا فریق بن سکتا ہے اگر نسب کے ساتھ کسی حق کا دعویٰ کرے اور اگر حق کا دعویٰ نہ کرے تو فریق نہیں بن سکتا ہے، یہی مسئلہ جامع میں بیان کیا گیا ہے۔
الْأَصْلُ فِي دَعْوَى النَّسَبِ أَنْ يُنْظَرَ إلَى النَّسَبِ الْمُتَنَازَعِ فِيهِ، فَلَوْ كَانَ مِمَّا يَثْبُتُ بِاعْتِرَافِهِمَا كَأُبُوَّةٍ وَبُنُوَّةٍ وَوَلَاءٍ وَزَوْجِيَّةٍ فَالْمُدَّعِي خَصْمٌ لَوْ أَنْكَرَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، وَتُقْبَلُ بَيِّنَتُهُ سَوَاءً ادَّعَى لِنَفْسِهِ حَقًّا أَوْ لَمْ يَدَّعِ وَلَوْ كَانَ مِمَّا لَا يَثْبُتُ بِاعْتِرَافِهِمَا كَأُخُوَّةٍ فَهُوَ خَصْمٌ لَوْ ادَّعَى حَقًّا مَعَ ذَلِكَ وَإِلَّا فَلَا، كَذَا فِي الْجَامِعِ.
(مَسْأَلَةٌ) :
اب مذکورہ اصول کی مثال بھی بیان کر رہے ہیں اور اس مسئلے سے اس کی وضاحت کر رہے ہیں صاحب ایضاح فرماتے ہیں کہ اگر کسی شخص نے کسی کے لیے بھائی ہونے کا دعوی کیا تو اس کے دعوے کو نہیں سنا جائے گا مگر یہ کہ وہ اپنے اس وارث سے کسی حق کا دعوی کرے یا کسی نفقہ کا یا حق تربیت کا یا کہیں سے اٹھائے جانے کے بعد آزادی کا یا اس جیسا کوئی اور دعوی کرے تو اس کا گواہوں کو سنا جائے گا یعنی بھائی کے نسب ہونے کے سلسلے میں اس کا دعوی نہیں سنا جائے گا کیوں کہ بھائی کا نسب محض فریقین کے اعتراف سے ثابت نہیں ہوتا اس لے نسب ثابت نہ ہوگا ہاں اگر نسب اخ کے ساتھ کسی حق کا دعویٰ کرے،تو حق کے سلسلے میں گواہان کو سنا جاے گا ہاں نسب میں تب دعوی سنا جائے گا جب زوجین میں سے کوئی زوج یا زوجہ ہونے کا دعوی کرے یا ماں باپ میں سے کوئی باپ یا ماں ہونے کا دعوی کرے یا کوئی بیٹا ہونے کا دعوی کرے یا ولاء عتق و موالات ہونے کا دعوی کرے کیونکہ یہ ایسے نسب ہے جو محض فریقین کے اعتراف سے ثابت ہوتے ہیں چنانچہ ایسے نسب میں مدعی کے گواہان قبول کئے جائیں گے، اگرچہ وہ کسی حق کا دعوی نہ کرتا ہو محض نسب کا دعوی کرتا ہو جب بھی اس کے گواہ سنے جائیں گے اس لیے کہ وہ اپنی ذات کے حق کے لیے ثابت کر رہا ہے ان تمام میں یعنی زوجین ماں باپ بیٹا ولاء اور موالات کے سلسلے میں
قَالَ صَاحِبُ الْإِيضَاحِ: ادَّعَى أَنَّهُ أَخُوهُ لَا تُسْمَعُ، إلَّا أَنْ يَدَّعِيَ حَقًّا مِنْ إرْثٍ أَوْ نَفَقَةٍ أَوْ حَقِّ تَرْبِيَةٍ أَوْ حُرِّيَّةٍ فِي اللَّقِيطِ وَمَا أَشْبَهَهُ، إلَّا فِي الزَّوْجَيْنِ وَالْأَبَوَيْنِ وَالْوَلَدِ وَوَلَاءِ الْعِتْقِ وَالْمُوَالَاةِ فَإِنَّهُ تُقْبَلُ بَيِّنَتُهُ وَإِنْ لَمْ يَدَّعِ فِيهِ حَقًّا؛ لِأَنَّهُ مُثْبِتٌ لِحَقِّ نَفْسِهِ فِي ذَلِكَ كُلِّهِ.
اوپر والی مثال میں یہ بتایا تھا کہ اگر کوئی ایسا دعوی کر رہا ہو نسب کے سلسلے میں جو نسب محض فریقین کے اعتراف سے ثابت ہوتا ہے تو اس میں چاہے حق کا دعوی کرتا ہو یا صرف نسب کا دعوی کرتا ہو دونوں طرح سے مدعی کے گواہ کو سنا جائے گا اور دوسری قسم تھی کہ اگر مدعی ایسے نسب کا دعوی کرتا ہو جو فریقین کے اعتراف سے ثابت نہیں ہوتا ہے بلکہ کسی تیسری شخص پر معلق رہتا ہے اس میں اگر مدعی کسی حق کا دعوی کرتا ہو تب تو اس کے گواہ سنے جائیں گے لیکن اگر صرف نسب کا اقرار کر رہا ہو تو پھر گواہ نہیں سنے جائیں گے اب یہاں سے فرما رہے ہیں کہ ایک شخص دعوی کر رہا ہے کہ اس ( اشارہ کرتے ہوئے) احمد بن محمد بن احمد پر میرے اتنے درہم قرض ہیں اور اس کے گواہوں نے بھی کہا کہ ہاں اس احمد بن محمد بن احمد پر مدعی کے اتنے درہم ہے تو کیا مدعی کے دعوی درھم سے احمد بن محمد بن احمد کا نسب بھی ثابت ہوگا یا نہیں کیوں کہ یہاں مدعی اور اس کے گواہان نے مدعی علیہ ( احمد) کا نسب نامہ بھی پڑھا ہے،فرماتے ہیں یہاں صرف مدعی کا حق درہم ثابت ہوگا کیونکہ گواہوں سے حق دراہم ثابت ہے لیکن احمد بن محمد بن احمد کا نسب ثابت نہ ہوگا،کیوں کہ نہ مدعی نے نسب کے اثبات کے لیے دعوی کیا ہے نہ ہی گواہان نے اثبات نسب کے لیے گواہی دی ہے بلکہ اگر وہ احمد الخ کی جگہ اور کچھ بیان کرتے یا سر سے نام ہی نہ لیتے جب بھی اشارہ سے احمد مذکور کی ذات متعین ہوتی اور مال لازم ہوتا،اسی کو مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ یہاں پر مال تو ثابت ہوگا لیکن نصب ثابت نہیں ہوگا اس لیے کہ مدعی اور اس کے گواہان یہاں خصم نہیں ہیں اثبات نسب کے لیے، کیوں ان کی مراد نسب کا اثبات نہیں نہ انہوں نے دعوی و گواہی اس لیے دی ہے اس لیے نسب ثابت نہیں ہوگا البتہ مال اشارے کے پائے جانے کی وجہ سے ثابت ہوگا یہی مسئلہ فتاویٰ رشید الدین میں مذکور ہے
وَلَوْ كَانَتْ الدَّعْوَى عَلَى رَجُلٍ وَقَالَ لِي عَلَى هَذَا أَحْمَدَ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ كَذَا دِرْهَمًا وَهُوَ هَذَا فَشَهِدَ شُهُودُهُ أَنَّ هَذَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ وَلَهُ عَلَيْهِ كَذَا يَثْبُتُ الْمَالُ لَا النَّسَبُ، إذْ الْمُدَّعِي وَشُهُودُهُ لَيْسُوا بِخَصْمٍ فِي إثْبَاتِ النَّسَبِ فَلَا يَثْبُتُ ویَثْبُتُ الْمَالُ لِوُجُودِ الْإِشَارَةِ إلَيْهِ، كَذَا وَقَعَ فِي فَتَاوَى رَشِيدِ الدِّينِ.
یہاں پر مصنف رحمتہ اللہ پہلے اور دوسرے والے مسئلہ میں فرق بیان ہوا ہے اس پر اعتراض کریں گے لیکن مصنف نے اس اعتراض کا پھر جواب نہیں دیا ہے اور یہاں جو مسئلہ اخریٰ فرمایا اس کا مطلب ہے پہلا مسئلہ، مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ پہلے والے مسئلہ کے قیاس پر وہ یہ کہ جب مدعی نے دعوی کیا کہ میرے فلاں پر دینار ہیں اور وہ فلاں مر گیا ہے اور میں اس کا وارث ہوں یا اس کا بیٹا ہوں اور اس کے باپ کا نام یہ ہے اس کے دادے کا نام یہ ہے اور اس حق کو گواہوں سے ثابت بھی کیا تو اس کے گواہان بھی سنے جائیں گے اور اس کا نسب بھی ثابت ہو گیا مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دوسرے والے مسئلے میں بھی ایسا ہی ہونا چاہیے تھا جہاں مدعی نے کہا کہ یہ احمد بن محمد بن احمد ہے اور اس پر میرے دینار ہے یہ فرق کیوں اوپر نسب ثابت ہو رہا ہے نیچے نسب ثابت کیوں نہیں ہو رہا ہے مسلم رحمتہ اللہ علیہ نے یہاں اس کا جواب نہیں دیا لیکن اس کا جواب یہ ہے کہ اوپر والے مسئلہ میں اثبات نسب کی ضرورت تھی وہاں نسب کا دعوی کر رہا تھا وہ اور وہاں نسب کے ثبوت پر ہی اس کا حق ثابت ہو رہا تھا اگر نسب ثابت نہ ہو تو پھر اس کے لیے کوئی حق بھی نہیں بنتا مثلا انسان دعوی کر رہا ہے کہ فلاں میرا بیٹا ہے اور وہ مر گیا ہے تو اگر اس کا بیٹا ہونا ثابت ہو جائے تبھی تو اسے وراثت ملے گی اور اس دوسرے والے مسئلہ میں جہاں یہ دعوی کر رہا ہے کہ اس احمد بن محمد بن احمد پر میرے اتنی دینار ہیں یہاں چاہے احمد بن محمد بن احمد کا نسب ثابت ہو یا نہ ہو اس کا حق اس کے بغیر بھی ثابت ہو رہا ہے اشارے سے اس لیے وہاں چونکہ نسب ثابت کرنا ضروری تھا تب مدعی کا حق ثابت ہو رہا تھا اس لیے وہاں پہلے نسب ثابت کیا اس کے بعد حق ثابت کیا اور اس دوسرے والے مسئلہ میں چونکہ نسب کے ساتھ کوئی سروکار نہیں اس کے بغیر بھی مدعی کا حق ثابت ہو رہا ہے اس لیے یہاں صرف مال تو ثابت ہوا پر نسب ثابت نہیں ہوا۔
دوسرا جواب وہی ہوگا کہ یہاں نسب کا دعویٰ ہی نہیں کیا ہے صرف نام بیان کیا ہے نسب تو صرف وہاں ثابت ہوگا جہاں نسب کا دعویٰ ہو اور وہ بھی ایسے نسب کا جو محض فریقین کے اعتراف بھی ثابت ہوتا ہے۔
ثُمَّ قَالَ: وَعَلَى قِيَاسِ مَسْأَلَةٍ أُخْرَى، وَهِيَ أَنَّهُ لَوْ ادَّعَى أَنَّ لِي عَلَى فُلَانٍ دِينَارًا وَأَنَّهُ مَاتَ وَأَنْتَ وَارِثُهُ وَابْنُهُ وَاسْمُ أَبِيك كَذَا وَاسْمُ جَدِّك كَذَا وَبَرْهَنَ يُقْبَلُ وَيَثْبُتُ النَّسَبُ، يَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ هُنَا كَذَلِكَ.
[فَصْل فِي تَقْسِيمِ الدَّعَاوَى]
یہ فصل دعوی کی تقسیم کے سلسلے میں مصنف رحمتہ اللہ علیہ نے دعوی کی تقسیم سات قسموں پر منقسم کی ہیں یعنی دعوی سات قسم کا ہو سکتا ہے۔
الْفَصْلُ الثَّانِي: فِي تَقْسِيمِ الدَّعَاوَى
دعاوی سات قسم کے ہوتے ہیں (١) ان میں سے ایک وہ دعوی ہے جس دعویٰ کو قاضی نا تو سنے گا اور نہ ہی مدعی کے دعویٰ کی وجہ سے کسی چیز کو لازم نہیں کرے گا۔
(٢) ان میں سے ایک وہ دعویٰ ہے کہ قاضی دعوی کی سماعت بھی نہیں کرے گا اور ساتھ مدعی کو اس کے دعوی کی وجہ سے تأدیبی کارروائی بھی کرے گا۔(٣)ان میں سے ایک دعویٰ وہ ہے کہ حاکم اس دعوی کی سماعت کرے گا اور مدعی کو قدرت دے گا گواہ کے گواہ قائم کرنے پر اس کے دریا کی صحیح ہونے کی وجہ سے، لیکن حاکم لازم نہیں کرے گا مدعی علیہ پر جواب دینا، (٤) ایک دعوی وہ ہے کہ قاضی جس کی سماعت کرے گا لیکن مدعی علیہ پر جواب کو لازم نہیں کرے گا مگر چند شرائط کے ساتھ (٥) ان میں ایک دعوی وہ ہے کہ جس کی قاضی سماعت بھی کرے گا اور مدعی کو اپنے دعوی پر گواہ قائم پر کرنے پر قدرت بھی دے گا لیکن گواہوں کی گواہی سے جو ثابت ہو رہا ہے فی الفور قاضی اس کا حکم نہیں دے گا (٦) ان میں ایک دعوی وہ ہے کہ جس کی سماعت قاضی کرے گا اور مدعی کو اپنے دعوی پر گواہ قائم کرنے کی قدرت بھی دے گا اور مدعی پر جواب کو بھی لازم کرےگا (٧) ان۔ میں ایک دعوی وہ ہے کہ جس کی قاضی سماعت کرے گا اور مدعی کو اپنے دعوی کی صحت پر گواہ قائم کرنے کی قدرت نہیں دے گا البتہ مدعی پر تاوان لازم کرے کا اس چیز کا جس کا وہ دوسرے پر دعوی کر رہا ہے۔ تو یہ کل ساتھ قسمیں ہوئیں۔
الدَّعَاوَى سَبْعَةُ أَنْوَاعٍ: (١)مِنْهَا مَا لَا يَسْمَعُهُ الْحَاكِمُ وَلَا يُلْزِمُ الْمُدَّعِي بِسَبَبِ مَا ادَّعَاهُ شَيْئًا.(٢)وَمِنْهَا مَا لَا يَسْمَعُهُ الْحَاكِمُ وَيُؤَدِّبُ الْمُدَّعِيَ بِسَبَبِ مَا ادَّعَاهُ (٣) وَمِنْهَا مَا يَسْمَعُ الْحَاكِمُ الدَّعْوَى بِهِ وَيُمَكِّنُ الْمُدَّعِيَ مِنْ إقَامَةِ الْبَيِّنَةِ عَلَى صِحَّةِ مَا ادَّعَاهُ، وَلَا يُلْزِمُ الْحَاكِمُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِالْجَوَابِ.(٤) وَمِنْهَا مَا يَسْمَعُهُ الْحَاكِمُ وَلَا يُلْزِمُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ الْجَوَابَ عَنْهَا إلَّا بِشَرْطٍ (٥) وَمِنْهَا مَا يَسْمَعُهُ الْحَاكِمُ وَيُمَكِّنُ الْمُدَّعِيَ مِنْ إقَامَةِ الْبَيِّنَةِ بِمَا ادَّعَاهُ وَلَا يَحْكُمُ لَهُ بِمُوجَبِ مَا شُهِدَ لَهُ بِهِ عَلَى الْفَوْرِ.(٦) وَمِنْهَا مَا يَسْمَعُهُ الْحَاكِمُ وَيُمَكِّنُ الْمُدَّعِيَ مِنْ إقَامَةِ الْبَيِّنَةِ عَلَى دَعْوَاهُ وَيُلْزِمُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِالْجَوَابِ (٧) وَمِنْهَا مَا يَسْمَعُهُ الْحَاكِمُ وَلَا يُمَكِّنُ الْمُدَّعِيَ مِنْ إقَامَةِ الْبَيِّنَةِ عَلَى صِحَّةِ مَا ادَّعَاهُ وَيَغْرَمُ مَا ادَّعَى عَلَيْهِ بِهِ فَهَذِهِ سَبْعَةُ أَنْوَاعٍ.
پہلی قسم جہاں قاضی دعوی ہی نہیں سنے گا وہ دعوی فاسدہ ہے جس کا ذکر گزر چکا ہے۔
النَّوْعُ الْأَوَّلُ: الدَّعْوَى الْفَاسِدَةُ، وَقَدْ تَقَدَّمَ ذِكْرُهَا.
دوسری قسم جہاں قاضی دعوی بھی نہیں سنے گا اور ساتھ ساتھ گواہوں کے سننے کے بجائے مدعی پر تأدیبی کاروائی کرے گا یہ وہ دعوی ہے جو دین دار، تقوی شعار،اور نیک کار لوگوں کے خلاف ہو ان چیزوں کے متعلق جو چیزیں ان متقی اور نیک لوگوں کے مناسب نہیں اور اس کا ذکر تیسری فصل احکام سیاست کے باب میں آئے گا۔
النَّوْعُ الثَّانِي: الدَّعَاوَى عَلَى أَهْلِ الدِّينِ وَالصَّلَاحِ بِمَا لَا يَتَعَلَّقُ بِهِمْ، وَسَيَأْتِي ذِكْرُهَا فِي أَحْكَامِ السِّيَاسَةِ.
تیسری قسم جہاں قاضی دعوی کی سماعت کرے گا اور گواہ بھی سنے گا لیکن گواہوں سے جو ثابت ہو رہا ہے وہ مدعی علیہ پر لازم نہیں کرے گا یہ وہ دعوی ہے جوبچے یا مجنون پر کیا گیا ہو اور اس کا ذکر بھی عنقریب دوسری فصل میں آ رہا ہے۔
النَّوْعُ الثَّالِثُ: الدَّعْوَى عَلَى الصَّغِيرِ وَالسَّفِيهِ، وَسَيَأْتِي ذِكْرُ ذَلِكَ قَرِيبًا.
چوتھی قسم جہاں قاضی مدعی کا دعوی سنے گا، گواہان بھی سنے گا اور مدعی علیہ پر شئ مدعیٰ کو چند شرائط کے ساتھ لازم کرے گا وہ ایسا دعوی ہے جو آدمی زمین یا عقار وغیرہ کے سلسلے میں کرتا ہے وہ بھی ایسے شخص پر کہ اس پر دعوی کرنا جائز بھی ہو تو مدعی علیہ پر جواب دینا لازم نہیں ہوگا مگر چند شرائط کے ساتھ جیسے کہ ماقبل میں گزرا کہ دار، وقار وغیرہ کے سلسلے میں جو دعوی ہو اس کے لیے جو شرائط گزرے ہیں جب ان شرائط کی رعایت کرے گا تو دعوی سنا جائے گا، اور اس پر عملی اقدام ہوگا اس کا بھی مزید ذکر آگے آ رہا ہے۔
النَّوْعُ الرَّابِعُ: دَعْوَى الرَّجُلِ الدَّارَ أَوْ الْعَقَارَ عَلَى مَنْ هُوَ حَائِزٌ لِذَلِكَ فَلَا يَلْزَمُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِذَلِكَ الْجَوَابُ إلَّا بِشُرُوطٍ يَأْتِي ذِكْرُهَا.
پانچویں قسم جہان قاضی دعوے کو سماعت بھی کرے گا گواہوں کو بھی سنے گا لیکن فی الفور اس پر عمل نہیں کرے گا اس کی مثال محیط میں بیان کی گئی ہے کہ ایسی عورت جو دعوی کرے کہ شوہر نے اس کو تین طلاقیں دی اور اس پر گواہ بھی قائم کرے جبکہ شوہر انکار کر رہا ہو کہ میں نے تین طلاقیں نہیں دی بس قاضی فوراً عورت کے گواہ نہیں سنے گا اور فی الفور عورت کو شوہر کے گھر سے نہیں نکالے گا یعنی گواہان کو سننے کے بعد جو ثابت ہو رہا ہے قاضی اس پر جلدی عملی اقدام نہیں کرے گا، اس لیے عورت کو گھر سے نہیں نکالے گا کیوں کہ فی الفور عورت کو گھر سے نکالے گا تو اس میں بھی حرج ہے کیوں ابھی گواہوں کا بیان مکمل نہیں ہوا گواہوں کی تعدیل و تزکیہ باقی ہے اور اگر ڈائریکٹ طلاق ہی کو ثابت کرے گا تو پھر عورت کی جان کو خطرہ ہے شوہر کے گھر میں رہنے سے کیوں کہ طلاق کے بعد وہ اس کا شوہر نہیں رہے گا اس لیے قاضی اس کے ساتھ کسی بھروسے مند اور مامون عورت کو رکھے گا تاکہ وہ اس کی حفاظت کرے اور اس کے شوہر کو اس کے اس کے پاس آنے سے روکے یہاں تک کہ قاضی گواہوں سے مکمل تحقیق و گواہوں کی تعدیل کے بعد طلاق کو ثابت کرے گا تو اس وقت اس عورت کے دعوی پر عملی اقدام ہوگا۔
النَّوْعُ الخَامِسُ: مَا ذُكِرَ فِي الْمُحِيطِ فِي امْرَأَةٍ ادَّعَتْ أَنَّ زَوْجَهَا طَلَّقَهَا ثَلَاثًا وَأَقَامَتْ عَلَى ذَلِكَ بَيِّنَةً وَالزَّوْجُ يُنْكِرُ، فَالْقَاضِي لَا يَسْمَعُ الْبَيِّنَةَ وَلَا يُخْرِجُهَا مِنْ بَيْتِ الزَّوْجِ، لَكِنْ يَجْعَلُ مَعَهَا امْرَأَةً ثِقَةً مَأْمُونَةً تَحْفَظُهَا وَتَمْنَعُ زَوْجَهَا مِنْهُ حَتَّى يَسْأَلَ عَنْ شُهُودِهَا.
No comments:
Post a Comment