Sunday, August 11, 2024

d 29

یہاں سے یہ بتا رہے ہیں کہ اگر مدعٰی دو چیزیں الگ الگ ہوں اور جس چیز کا غائب پر دعوی کیا جا رہا ہے وہ سبب ہو حاضر پر مدعیٰ کے لیے تو جمہور مشائخ کے نزدیک ایسے دعویٰ میں حاضر غائب کی طرف سے وکیل حکمی نہیں بن سکتا ہے کیونکہ جمہور مشائخ کے نزدیک وکیل حکمی کے لیے شرط ہے (جیسا کہ پہلے گذرا) کہ جس چیز کا غائب پر دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ سبب ہو حاضر  پر مدعیٰ کے لیے اور ساتھ میں مدعیٰ شئی ایک ہی چیز ہونی چاہیے، لیکن اگر دو چیزیں ہوں تو پھر جمہور مشائخ کے نزدیک حاضر کے خلاف تو اس چیز کا فیصلہ کیا جائے گا لیکن غائب کے حق میں فیصلہ نہیں کیا جائے گا اور حاضر غائب کی طرف سے وکیل حکمی بھی نہیں بن سکتا ہے یہاں تک کہ اگر غائب مدعیٰ علیہ واپس آ گیا اور انکار کیا اس چیز کا جس کا دعوی اس پر کیا گیا تھا تو مدعی کو حاضر کے خلاف دوبارہ گواہ پیش کرنے ہوں گے اس کی مثال یہ ہے کہ ایک قاذف نے مقذوف پر الزام لگایا اور مقذوف نے قاضی کے پاس مقدمہ دائر کیا کہ قاضی صاحب! اس قاذف نے مجھ پر جھوٹی تہمت لگائی اس لیے اسے ٨٠ کوڑے لگنے چاہیے اور گواہوں سے قاذف کا جھوٹا ہونا بھی ثابت کردیا یا قاذف نے خود اقرار کیا اب قاذف نے قاضی سے کہا جی ہم نے جھوٹ تہمت تو لگائی لیکن ہم فلاں غائب شخص کے غلام ہیں اس لیے حد آدھی لگنی چاہیئے یعنی ٨٠ کوڑوں کے بجائے مجھ پر صرف ٤٠ کوڑے لگنے چاہیے لیکن مقذوف نے پھر دعویٰ کیا کہ اس کے آقا نے تو اسے آزاد کیا گویا یہ پہلے غلام تو تھا لیکن اس کے آقا نے اس کو آزاد کیا ہے اس لیے اس کو پوری حد ٨٠ کوڑے لگنے چاہئے اب دیکھئے مقذوف نے غائب آقا پر آزادی کا دعویٰ کیا جو آزادی سبب ہے حاضر قاذف پر کمال حد ٨٠ کوڑوں کا چناں چہ غائب آقا پر آزادی اور حاضر قاذف ( سابق غلام) پر کمال حد میں سببیت کا تعلق ہے اور مدعیٰ شئی بھی دو الگ الگ چیزیں ہیں، اس لئے جمہور مشائخ کے نزدیک ایسے دعویٰ میں حاضر قاذف پر کمال حد ٨٠ کوڑے تو ثابت ہوگی اگر مقذوف گواہوں سے ثابت کرے کہ غائب آقا نے اس قاذف کو آزاد کیا ہے لیکن حاضر پر کمال حد کے فیصلہ سے غائب آقا کی طرف سے آزادی کا فیصلہ نہ ہوگا گویا حاضر قاذف کے خلاف تو قاضی کا فیصلہ ہوا لیکن غائب آقا کے خلاف قاضی کا فیصلہ نہ ہوا کیوں مدعیٰ شئی دو الگ الگ چیزیں ہیں جبکہ جمہور مشائخ کے نزدیک حاضر کا غائب کی طرف سے وکیل حکمی بننے کے لیے مدعیٰ شئی کا ایک ہونا ضروری تھا۔ چنانچہ اگر وہ غائب آقا واپس آئے اور پھر وہ انکار کرے کہ نہیں میں نے قاذف حاضر کو آزاد نہیں کیا تھا تو اس مدعی مقذوف کو دوبارہ اس کے خلاف گواہ پیش کرنے پڑیں گے دوسری صورت یہ ہے کہ اگر مدعیٰ شئی دو الگ الگ چیزیں ہوں اور جس چیز کا غائب پر دعویٰ کیا جا رہا ہے وہ سبب غیر لازم ہو حاضر پر مدعیٰ شئی کے لیے تب بھی قاضی کا فیصلہ نزد جمہور مشائخ صرف حاضر کے خلاف ہوگا غائب کے خلاف نہ ہوگا مثال: ایک شخص نے کسی عورت سے کہا کہ آپ کے غائب شوہر نے مجھے وکیل بنایا ہے کہ میں آپ کو اس کے پاس لے جاؤں اور عورت کہہ رہی ہے نہیں میرے شوہر نے تو مجھے طلاق دی ہے اب عورت دعوی کر رہی ہے غائب شوہر پر طلاق کا ہے اور وہی طلاق سبب بن رہا ہے اس حاضر شخص کی عدم وکالت کے لیے، چناں چہ طلاق غائب، عدم وکالت حاضر میں تو سببیت کا تعلق ہے لیکن یہ لازمی تعلق نہیں یعنی ایسا نہیں کہ ہر جگہ طلاق عدم وکالت کا سبب ہو برخلاف پہلی مثال کے کہ آزادی کمال حد کا لازمی سبب ہے چناں چہ اس مثال میں بھی عورت کے دعوی سے حاضر کی عدم وکالت کا فیصلہ تو کیا جائے گا مگر عورت کے غائب شوہر پر عورت کے لیے طلاق کا فیصلہ درست نہیں۔  تیسرا مسئلہ: اگر دو فریق حاضر و غائب پپر مدعیٰ دو چیزیں ہوں اور غائب پر مدعیٰ کا دعویٰ سبب ہو حاضر پر مدعی کے لیے لیکن وقت دعوی تک بقاء کے اعتبار سے تو بھ حاضر پر فیصلہ کیا جائے گا نہ کہ غائب کے خلاف، مثلاً: ایک شخص بازار سے باندی خرید کر لایا تو باندی کہا میں شادی شدہ ہوں اب مشتری بائع کے پاس گیا اور اس سے کہا آپ نے مجھے جو باندی بیچی ہے وہ تو شادی شدہ ہے اس لیے عیب کی وجہ سے میں اسے لوٹا رہا ہوں اور بائع نے کہا وہ اس وقت شادی شدہ نہیں ہے پانچ سال پہلے تو اس کی طلاق ہو چکی ہے یعنی جس وقت میں نے آپ کو بیچی ہے اس وقت یہ شادی شدہ نہیں ہے اب دیکھیے یہاں بھی غائب پر شوہر ہونے کا اور حاضر باندی ہے پر  عیب کا دعویٰ  گویا مدعیٰ شئی دو الگ الگ چیزیں ہوئی غائب پر تو شوہر ( مدعیٰ شئی)ہونے کا دعویٰ اور اس باندی میں عیب ( مدعیٰ شئی )  ہے اور دونوں میں سب بیت کا تعلق ہے البتہ یہ دعوی تب صحیح ہوتا جب اس باندی کا نکاح ابھی تک برقرار ہوتا اگر اس پہلے اس کی طلاق ہو چکی ہو پھر عیب نہیں ہے اس لیے یہاں بقا نہیں پایا گیا لہذا ان تینوں مسئلوں میں حاضر کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا نہ کہ غائب کے خلاف اسی کو فرمایا کہ حاضر کو خصم ( وکیل حکمی) نہیں بنایا جائے گا غائب کی طرف سے اس صورت ( پہلے مسئلہ) میں اس لئے کہ مدعی نے حاضر کو ایسے مقام میں خصم بنایا کہ مدعیٰ علی الغائب مدعیٰ علی الحاضر سے ہرگز جدا نہیں ہوسکتا یعنی دونوں مدعیٰ میں لزوم کا تعلق ہے اور کوئی ضرورت نہیں جن میں مدعیٰ دوسرے مدعیٰ سے جدا ہوسکتا ہے جیسا کہ دوسرے مسئلہ میں سببیت لازمی نہیں لہذا پہلے مسئلہ میں حقیقت پر ہی عمل کیا جائے گا، اور اسی طرح اگر مدعیٰ ان دونوں فریق پر دو چیزیں ہوں لیکن جس چیز کا غائب پر دعوی کیا جا رہا ہے وہ سبب ہو حاضر پر مدعیٰ شئی کے لیے وقت دعویٰ تک بقا کے اعتبار سے تو تب  ظاہر ہے یعنی تب بھی وہی حکم ہے جو پہلی دو مسئلوں میں آیا کہ صرف حاضر کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا غائب کے خلاف فیصلہ نہیں کیا جائے گا اور نہ حاضر غائب کی طرف سے وکیل حکمی بن سکتا ہے۔ 

 أَمَّا لَوْ كَانَ الْمُدَّعَى شَيْئَيْنِ وَمَا يَدَّعِيه عَلَى الْغَائِبِ سَبَبًا لِمَا يَدَّعِيه عَلَى الْحَاضِرِ، يُحْكَمُ فِي حَقِّ الْحَاضِرِ لَا الْغَائِبِ، حَتَّى لَوْ حَضَرَ وَأَنْكَرَ يُحْتَاجُ إلَى إعَادَةِ الْبَيِّنَةِ، وَلَا يَنْتَصِبُ الْحَاضِرُ خَصْمًا عَنْ الْغَائِبِ فِي هَذِهِ الصُّورَةِ؛ لِأَنَّهُ جَعَلَهُ خَصْمًا عَنْهُ فِي مَوْضِعٍ لَا يَنْفَكُّ الْمُدَّعَى عَلَى الْغَائِبِ عَنْ الْمُدَّعَى عَلَى الْحَاضِرِ ضَرُورَةً، وَلَا ضَرُورَةَ فِيمَا يَنْفَكُّ فَيُعْمَلُ بِالْحَقِيقَةِ، وَلَوْ كَانَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمَا شَيْئَيْنِ وَالْمُدَّعَى عَلَى الْغَائِبِ سَبَبٌ لِمَا يَدَّعِيه عَلَى الْحَاضِرِ بِاعْتِبَارِ الْبَقَاءِ إلَى وَقْتِ الدَّعْوَى فَظَاهِرٌ.
بہرحال اصل ثانی اور پہلا اصل یہی تھا جو بتایا گیا کہ اگر مدعیٰ دو چیزیں ہوں لیکن غائب  پر جس چیز کا دعوی کیا جا رہا ہے وہ حاضر پر مدعی کے لیے سبب ہو یا اسی طرح سبب تو ہو لیکن لازمی سبب نہ ہو یا اسی طرح سبب تو ہو لیکن دعویٰ کے وقت تک اس کا بقا نہ رہا ہو تو ان تینوں صورتوں میں حاضر کے خلاف فیصلہ کیا جائے گا غائب کے خلاف نہیں اور دوسرا اصل یہاں سے بیان فرما رہے ہیں چناں چہ دوسرا اصل وہی پہلی مثال ہے جو بیان کی گئ ہے یعنی جب مدعیٰ شئی ایک ہی چیز ہو اسی کے بارے میں فرمایا کہ اس کا  بیان چند مسائل میں آئے گا ان میں سے ایک مسئلہ یہ ہے کہ جب کسی شخص نے کسی گھر کے بارے میں دعوی کیا کہ اس نے فلاں غائب سے اس گھر کو خریدا ہے اور وہ گھر اس کی ملکیت تھی اور جس کا قبضہ فی الحال اس گھر پر ہے وہ کہہ رہا ہے کہ نہیں یہ گھر تو میرا ہے یہ تو فلاں کا ہے نہیں یعنی وہ انکار کر رہا ہے پھر مدعی نے گواہ بھی قائم کر لیے تو حاضر اور غائب دونوں شخصوں پر فیصلہ کیا جائے گا اور غائب حاضر کی طرف سے وکیل حکمی ہوگا اور مدعی کے لیے اس گھر کی ملکیت ثابت ہو جائے گی کیونکہ مدعی نے گواہ قائم کئے ہیں، اور دونوں حاضر و غائب پر فیصلہ اس لیے کیا جائے گا کہ مدعٰی ایک ہی چیز ( گھر) ہے اور غائب پر جس کا دعوی کیا گیا ہے یعنی شراء وہ سبب ہے اس مدعیٰ ( قبضہ سے چھٹکارا) کے ثبوت کے لیے جس کا دعوی حاضر پر کیا گیا ہے، اس لیے کہ مالک سے خریدنا وہ سبب یقینی ہے ملکیت کا فصول عمادی میں اسی طرح مسئلہ مذکور ہے۔ 
وَأَمَّا الْأَصْلُ الثَّانِي فَبَيَانُهُ فِي مَسَائِلَ مِنْهَا: إذَا ادَّعَى دَارًا أَنَّهُ شَرَاهُ مِنْ فُلَانٍ الْغَائِبِ وَهُوَ يَمْلِكُهُ وَقَالَ ذُو الْيَدِ: هُوَ لِي. فَبَرْهَنَ الْمُدَّعِي، يُحْكَمُ عَلَى الْحَاضِرِ وَالْغَائِبِ؛ إذْ الْمُدَّعَى شَيْءٌ وَاحِدٌ وَهُوَ الدَّارُ، وَالْمُدَّعَى عَلَى الْغَائِبِ وَهُوَ الشِّرَاءُ مِنْهُ سَبَبٌ لِثُبُوتِ مَا يَدَّعِيهِ عَلَى الْحَاضِرِ؛ إذْ الشِّرَاءُ مِنْ الْمَالِكِ سَبَبٌ لَا مَحَالَةَ، كَذَا فِي فُصُولِ الْعِمَادِيِّ.
یہ مسئلہ تب تھا جب ایک ہی مدعیٰ ایک ہی چیز تھی اور حاضر شخص ملکیت کا انکار کر رہا تھا کہ نہیں یہ گھر میرا ہے لیکن اگر یہاں ایک عجوبہ ہے کہ اگر حاضر شخص اقرار کر لے اس طور پر کہ آپ جو غائب پر خریدنے کا دعوی کر رہے ہیں یقینا یہ آپ کی ملکیت ہے تو اس صورت میں فرماتے ہیں کہ مدعی کے لیے کوئی ملکیت ثابت نہیں ہوگی اور نہ قاضی اس کے لیے کوئی فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ اس صورت میں یہ حاضر شخص جو اقرار کر رہا ہے گویا اس پر اس کی ملکیت ہے نہیں پر جب اس کی ملکیت نہیں ہے یہ تو خوامخواہ قبضہ کیے ہوئے ہے اس لیے غائب پر جس چیز کا دعوی کیا جا رہا ہے وہ اس حاضر پر مدعیٰ شئی کے لیے سبب ہی نہیں بنے گا اور اس لیے بھی کہ جب حاضر اس چیز کا مالک نہیں اس کے اقرار کی وجہ سے تو اس پر دعویٰ کا کیا فائدہ دعویٰ تو تب ہوگا کہ مدعیٰ علیہ انکار کرے اور جب یہ معلوم ہوا کہ حاضر کا اس گھر کا مالک نہیں تو یہ حاضر غائب کی طرف سے وکیل حکمی بھی نہیں بن سکتا ہے اور جب وکیل حکمی نہیں بن سکتا تو قاضی غائب شخص پر فیصلہ نہیں کر سکتا حالانکہ اگر انکار کرتا تب تو اس کی طرف سے وکیل بنتا کیونکہ تب وہ مدعیٰ علیہ اور یہ دعویٰ کرنے والا اس کے خلاف بھی مدعی بن رہا تھا لیکن جب اقرار کر رہا ہے گویا یہ دعویٰ کرنے والا اس کے خلاف مدعی نہیں ہوا یہ صرف اب اصل مالک کے خلاف مدعی ہے اور وہ غائب ہے۔
چنانچہ عماد الدین رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہاں ایک عجوبہ ہے جس کو فتاوی صغری میں ذکر کیا گیا ہے کہ اگت اس گھر پر قابض و حاضر شخص اقرار کر لے کہ ہاں یہ گھر تمہارا ہے، تو قاضی اس قابض کو حکم نہیں دے گا کہ وہ مدعی کو گھر خالی کر کے سپرد کر دے تاکہ غائب پر اس قابض کے اقرار سے مدعی کے خریدنے کی وجہ سے حکم کرنا لازم نہ آئے یہ ایک عجیب بات ہے۔ 
قَالَ عِمَادُ الدِّينِ: وَهُنَا أُعْجُوبَةٌ، ذَكَرَ فِي الْفَتَاوَى الصُّغْرَى: لَوْ صَدَّقَهُ ذُو الْيَدِ فِي ذَلِكَ، فَالْقَاضِي لَا يَأْمُرُ ذَا الْيَدِ بِالتَّسْلِيمِ إلَى الْمُدَّعِي؛ لِئَلَّا يُحْكَمَ عَلَى الْغَائِبِ بِالشِّرَاءِ بِإِقْرَارِهِ، وَهِيَ عَجِيبَةٌ.

No comments:

Post a Comment