Sunday, August 25, 2024

d 34

یہ فصل کن سے قسم لی جائے گی اور کن سے قسم نہیں لی جائے گی۔ 
[فَصْلٌ مَنْ يَتَوَجَّهُ عَلَيْهِ الْيَمِينُ وَمَنْ لَا يَتَوَجَّهُ]
(فَصْلٌ) :
اس مسئلہ کو سمجھنے کے لیے اولاً چند چیزیں کا سمجھنا ضروری ہے (١) مدعی، مدعی علیہ سے نکول کے لیے قسم لیتا ہے یعنی مدعی یہ سمجھ کر قسم لیتا ہے کہ مدعی علیہ قسم کھانے سے انکار کرے اور میرے لیے معاملہ ثابت ہو جائے، مدعی اس لیے مدعی علیہ سے قسم نہیں لیتا کہ وہ قسم کھائے کیوں کہ اگر مدعی علیہ قسم کھاتا ہے تو پھر وہ چیز مدعی علیہ کے لیے ثابت ہوگی اور مدعی اس چیز سے محروم ہوگا، کیوں کہ مدعی کے پاس گواہ نہیں (٢) اقرار کہتے ہیں دوسرے کے لیے اپنے اوپر کسی حق کی خبر دینا، اور ” بذل“ کہتے ہیں چھوڑنے کو یعنی قسم سے بچنے کے لیے معاملہ کو چھوڑ دینا، جیسے مدعی علیہ یہ سمجھ کر کہ قسم کھانا بہت بڑی بات ہے ایک لاکھ روپے کا ہی تو معاملہ چلو قسم نہیں کھاتے معاملہ مدعی کے لیے چھوڑ دیتے ہیں، یہ ہوا بذل۔ 
اب سمجھئے، کس مدعی علیہ سے قسم لی جائے گی اور کس سے نہیں لی جائے گی، صاحبینؒ فرماتے ہیں کہ مدعی علیہ کا قسم کھانے سے انکار کرنا گویا اقرار ہے جبکہ امام اعظم ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں مدعی علیہ جو قسم سے انکار کرتا ہے تو انکار قسم بذل ہے کیوں کہ پہلے مدعی علیہ، مدعی کے دعوی کا انکار کر چکا ہے ( جبھی تو مدعی سے گواہ طلب ہوئے ہوں گے اور اس کے پاس گواہ نہ ہونے کی وجہ اب مدعی علیہ سے قسم لینے کی نوبت آئی) اب اگر اس کے نکول عن الحلف کو اقرار سمجھ لیا جائے تو وہ جھوٹا ثابت ہوگا اور مسلمان جھوٹ نہیں بولتا ہے اس لیے امام اعظم ابوحنیفہؒ فرماتے ہیں کہ مدعی علیہ کا انکار بزل ہے گویا وہ قسم نہیں کھانا چاہتا بلکہ یوں ہی مدعی کے معاملہ چھوڑنا چاہتا ہے، اسی اصول کی وجہ سے مسائل کی چار قسمیں ہوئی ہے بعض وہ مسائل ہیں جہاں نہ بذل جائز ہے نہ اقرار، ایسے مسائل میں بالاتفاق قسم نہیں لی جائے گی، اور بعض مسائل وہ ہیں، جن میں بذل بھی جائز ہے اور اقرار بھی ایسے مسائل میں بالاتفاق قسم لی جائے گی، بعض مسائل وہ ہیں جن میں صرف بذل ہو سکتا ہے اقرار کی گنجائش نہیں، ایسے مسائل میں صرف امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نزدیک قسم لی جائے گی، اور بعض مسائل وہ ہیں جن صرف اقرار جائز ہے بذل جائز نہیں، ایسے مسائل میں صرف صاحبینؒ کے نزدیک قسم لی جائے گی امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نزدیک قسم لینا جائز نہ ہوگا۔ چناں چہ مصنفؒ فرماتے ہیں کہ طرفینؒ کے نزدیک مدعی علیہ سے مدعی کی پیش کش و چاہت پر ہی قسم لی جائے گی قاضی صاحب خود سے قسم لینے میں پیش دستی نہ کرے، جبکہ امام ابو یوسف امام ابن ابی لیلیٰ ؒ کے نزدیک مدعی کی طلب کے بغیر بھی قاضی از خود قسم کا مطالبہ کرے کیونکہ کہ عرف یہی مشہور ہے کہ مدعی کے پاس گواہ نہ ہونے پر اس کی خواہش ہوتی ہے کہ قاضی مدعی علیہ سے قسم کے چناں المعروف کالمشروط کے تحت قاضی خود قسم لیے سکتا ہے اور اس پر فی زماننا فتویٰ ہے، دوسرا مسئلہ باب سے اس کی چھوٹی بچی کے نکاح پر قسم نہیں لی جائے گی، جب باپ نکاح کا انکار کر رہا ہو امام اعظم ابوحنیفہؒ کے نزدیک کیوں نکاح میں بذل جائز ہی نہیں اس لیے امام اعظم ابوحنیفہؒ نکاح میں قسم لینے کے قائل نہیں ، بر خلاف صاحبینؒ کی باپ سے قسم لی جائے گی، اور اگر بیٹی بڑی ہو تو بالاتفاق بنت کبیرہ کے نکاح پر باپ سے قسم نہیں لی جائے گی، کیوں کہ بڑی بیٹی کے نکاح پر باپ کا نکول اقرار نہ بذل کی صلاحیت رکھتا ہے، اس لیے بالاتفاق قسم نہیں لی جائے گی، اس طرح چھوٹے بیٹے پر دعویٰ کے سلسلے میں باپ پر قسم نہیں آئے گی، اس طرح میت پر کسی مال یا حق کے دعویٰ پر وصی سے قسم نہیں لی جائے گی، اس لیے کہ قسم ایسے نکول کی امید پر لی جاتی ہے جو یا تو بذل ہوتا ہے یا اقرار، اور باپ اور وصی اقرار کے مالک ہیں نہ بذل کے اس لیے ان سے قسم لینے چنداں فائدہ نہیں ہے۔ 
وَأَمَّا مَنْ يَتَوَجَّهُ عَلَيْهِ الْيَمِينُ وَمَنْ لَا يَتَوَجَّهُ.
قَالَ أَبُو حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - وَمُحَمَّدٌ: لَا يَحْلِفُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ إلَّا بِطَلَبِ الْمُدَّعِي تَحْلِيفَهُ.وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَابْنُ أَبِي لَيْلَى: يُحَلِّفُهُ بِدُونِ طَلَبِهِ، وَلَا يَحْلِفُ الْأَبُ عَلَى تَزْوِيجِ ابْنَتِهِ الصَّغِيرَةِ مَتَى أَنْكَرَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ - خِلَافًا لَهُمَا، وَإِنْ كَانَتْ الْبِنْتُ كَبِيرَةً لَا يُسْتَحْلَفُ بِالْإِجْمَاعِ، وَلَا يَمِينَ عَلَى الْأَبِ فِيمَا يَدَّعِي عَلَى ابْنِهِ الصَّغِيرِ، وَكَذَا لَا يَمِينَ عَلَى الْوَصِيِّ فِيمَا يَدَّعِي عَلَى مَيِّتٍ مَالًا أَوْ حَقًّا؛ لِأَنَّ الْيَمِينَ إنَّمَا كَانَتْ لِرَجَاءِ النُّكُولِ الَّذِي هُوَ بَذْلٌ و الْإِقْرَارِ، وَالْأَبُ وَالْوَصِيُّ لَا يَمْلِكَانِ الْبَذْلَ وَالْإِقْرَارَ فَلَا يُفِيدُ الِاسْتِحْلَافُ.
(مَسْأَلَةٌ) :
اسی طرح وکیل پر قسم لازم نہیں ہے اس لیے کہ وہ مؤکل کا نائب ہوتا ہے اور نیابت میں قسم جاری نہیں ہوتی، یہاں تک کہ اگر مؤکل نے کسی کو دین کے قبضے کا وکیل بنایا اور خود مؤکل غائب ہوگیا، اس کے بعد معاملہ قاضی کی عدالت میں پہنچا اور وکیل نے مدعی علیہ مدیون پر دعویٰ کیا جس کے جواب میں مدعی علیہ نے قاضی صاحب سے کہا میں تو دائن مؤکل کو اس کا قرض لوٹا چکا ہوں اب وکیل کو گواہ پیش کرنے تھے لیکن اس کے پاس گواہ نہیں تو ظاہر ہے وکیل اگر مدعی علیہ مدیون سے قسم لینا چاہیے دین کی ادائیگی پر تو قاضی مدعی علیہ مدیون سے وکیل کے مطالبہ پر قسم تو نہیں لے گا البتہ وکیل کی طرف دین کو ادا کرنے کا حکم دے گا اور یہ حکم دے گا کہ جب اصل مدعی یعنی موکل آ جائے تو اس سے آپ مطالبہ کیجئے قسم دے کر شرح تجرید میں یہی مسئلہ مذکور ہے۔ 
وَلَا يَمِينَ عَلَى الْوَكِيلِ؛ لِأَنَّهُ نَائِبٌ، وَالنِّيَابَةُ لَا تَجْرِي فِي الِاسْتِحْلَافِ؛ حَتَّى لَوْ وَكَّلَهُ بِقَبْضِ الدَّيْنِ وَغَابَ فَادَّعَى الْمَطْلُوبُ أَنَّهُ قَدْ أَوْفَى الطَّالِبَ وَأَرَادَ يَمِينَهُ أُمِرَ بِقَضَاءِ الدَّيْنِ وَإِتْبَاعِ الطَّالِبِ بِالْيَمِينِ، كَذَا قَالَهُ فِي شَرْحِ التَّجْرِيدِ.
عبد ماذون، عبد محجور اور مکاتب غلام ان سے قسم لی جائے گی اس لیے کہ قسم لینے کا فائدہ نکول عن الحلف ہے جیسا کہ پہلے بات آ چکی ہے اور ان تمام یعنی عبد ماذون، عبد محجور اور مکاتب غلام کا نکول درست ہے اس لیے ان سے قسم لی جا سکتی ہے۔ 
(فَرْعٌ) : وَيُسْتَحْلَفُ الْعَبْدُ الْمَأْذُونُ وَالْمَحْجُورُ وَالْمُكَاتَبُ؛ لِأَنَّ فَائِدَةَ الِاسْتِحْلَافِ النُّكُولُ، وَنُكُولُ هَؤُلَاءِ صَحِيحٌ.
ہاں البتہ بعض علماء نے فرمایا کہ عبد محجور کے آقا کو اجازت ہے کہ وہ مدعی کو منع کرے اس کے محجور غلام کو عدالت میں حاضر کرنے سے یعنی آقا کو حق ہے وہ اپنے غلام کو عدالت میں حاضر ہونے کی اجازت نہ دے، اس لیے کہ وہ مدعی سے کہہ سکتا ہے کہ اگر آپ میرے غلام کو قاضی کی عدالت میں لے جائیں گے تو وہ میری خدمت سے عاجز ہو جائے گا یعنی وہ میری خدمت نہیں کر سکے گا حالانکہ وہ میرا خادم ہے، اس لیے آپ میرے حق استخدام کو باطل کرنے کے مالک نہیں ہے چناں چہ میں اپنے غلام کو پابندی لگا رہا ہوں آپ اسے عدالت میں زبردستی حاضر نہیں کر سکتے یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ ایک آقا اپنی باندی کو جس کا نکاح کسی دوسرے مرد کے ساتھ ہوا ہو اسے اپنی شوہر کے پاس جانے سے روکے کیونکہ اگرچہ شوہر کو اپنی اس بیوی باندی سے استمتاع کا حق ہے، لیکن چونکہ یہ باندی بھی ہے اس لیے آقا اسے شوہر کے پاس جانے سے روک سکتا ہے تاکہ آقا کا جو اس ہر حق استخدام ہے وہ فوت نہ ہو اسی طرح یہ مسئلہ بھی ہے کہ اگر غلام محجور ہو تو آقا اس غلام کو مدعی کے مطالبے پر عدالت میں جانے سے روک سکتا ہے تاکہ آقا کا حق استخدام فوت نہ ہو۔ 
وَقَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ بِأَنَّ لِلْمَوْلَى أَنْ يَمْنَعَ الْمُدَّعِي مِنْ إشْخَاصِ الْعَبْدِ الْمَحْجُورِ؛ لِأَنَّهُ يَقُولُ لَوْ أَشْخَصْتُهُ إلَى بَابِ الْقَاضِي عَجَزْتُ عَنْ اسْتِخْدَامِهِ فَلَا تَمْلِكُ إبْطَالَ حَقِّي فِي الِاسْتِخْدَامِ، كَمَا أَنَّ لِلْمَوْلَى أَنْ يَمْنَعَ الْأَمَةَ الْمُزَوَّجَةَ مِنْ الزَّوْجِ وَإِنْ كَانَ لِلزَّوْجِ حَقُّ الِاسْتِمْتَاعِ بِهَا؛ كَيْ لَا يَفُوتَ حَقُّ الِاسْتِخْدَامِ لِلْمَوْلَى فَكَذَا هَذَا.

(مَسْأَلَةٌ) :
اب یہاں سے مسئلہ ہے کہ اگر بچہ ماذون ہو یعنی اسے اپنے ولی یا وصی کی طرف سے تجارت کی اجازت ہو، کیا اس سے قسم لی جائے گی یا نہیں؟ امام محمد رحمۃ اللہ علیہ سے اس سلسلے میں دو روایتیں مروی ہیں کتاب الاستخلاف کی روایت کے مطابق صبی ماذون سے قسم لی جائے گی، کیوں استحلاف کا فائدہ نکول عن الحلف ہے اور نکول یا تو بذل ہوگا یا اقرار اور صبی ماذون سے اقرار و بذل دونوں صحیح ہیں اگر یہ بچہ تجارت پیشہ ہو یعنی کام دھندا کر رہا ہو تو اس سے پھر بذل بھی صحیح ہے اور اقرار بھی صحیح ہے اس لیے اس سے قسم لی جائے گی، دوسری روایت یہ ہے کہ صبی ماذون سے قسم نہیں لی جائے گی، اس لیے کہ نابالغ بچہ ہے اگرچہ وہ ذی شعور و ماذون فی التجارۃ ہے لیکن چونکہ وہ نابالغ ہے اس لیے اگر وہ قسم کھائے گا تو اس کے قسم کیا اعتبار، شرعاً تو اس کی قسم کے ساتھ کوئی ضمان لازم نہیں ہوتا مثلاً کفارہ وغیرہ اور نابالغی کی وجہ سے گناہ بھی لازم نہیں اس لیے اسے جھوٹی قسم کھانے میں کوئی پرواہ نہیں چنانچہ اس کا قسم کھانا کوئی فائدہ نہیں دے گا اس لیے اس دوسری روایت کے مطابق صبی معزون سے قسم نہیں لی جائے گی
الصَّبِيُّ الْمَأْذُونُ هَلْ يُسْتَحْلَفُ؟ عَنْ مُحَمَّدٍ فِيهِ رِوَايَتَانِ: فِي رِوَايَةِ كِتَابِ الِاسْتِحْلَافِ أَنَّهُ يُسْتَحْلَفُ؛ لِأَنَّ فَائِدَةَ الِاسْتِحْلَافِ النُّكُولُ، وَالنُّكُولُ بَذْلٌ أَوْ إقْرَارٌ، وَكِلَاهُمَا مِنْهُ صَحِيحٌ إنْ كَانَ مِنْ صَنِيعِ التِّجَارَةِ.وَفِي رِوَايَةٍ لَا يُسْتَحْلَفُ؛ لِأَنَّهُ لَا يَتَعَلَّقُ بِيَمِينِهِ مَغْرَمٌ وَهُوَ الْكَفَّارَةُ فَلَا يُبَالِي أَنْ يَحْلِفَ كَاذِبًا فَلَا يُفِيدُ تَحْلِيفُهُ.
اسی طرح اختلاف واقع ہے کہ دین مؤجل کے سلسلے میں مثلا مدیون نے ایک سال کی مدت پر قرض لیا ابھی چھے مہینے گزرے کی دائن نے عدالت میں دعویٰ کیا تو کیا مدیون پر قسم لازم ہوتی ہے یا نہیں چنانچہ اس سلسلے میں فرمایا کہ اس سے قسم لی جائے گی یہ اور بات ہے کہ دین مؤجل ہے اور ابھی قرض کی ادائیگی کا وقت نہیں آیا ہے اس لیے وہ قرض کو ادا نہیں کر سکتا یہ الگ مسئلہ ہے لیکن دین کو ثابت کرنے کے لیے اس سے قسم لی جائے گی ہاں قرض وہ اپنے وقت پر ادا کرے گا یہ ایسا ہی ہے جیسے کہ عبد محجور جیسا کہ اوپر مسئلہ آیا کہ اس سے قسم لی جائے گی لیکن چونکہ وہ غلام ہے اور غلام کسی مال کا مالک ہوتا اس کا سارا مال آقا کی ملکیت ہوتا ہے اس لیے اس پر عبد محجور سے قسم تو لی جائے گی البتہ مال ادا کرنے سے وہ قاصر ہے پھر جب وہ آزاد ہو جائے گا تو تب اس پر ضمان آئے گا اسی طرح یہاں میں بھی مدیون سے قسم تو لی جائے گی لیکن وہ چونکہ دین مؤجل ہے وقت مقرر ابھی آیا نہیں اس لیے صرف دین کو ثابت کرنے کے لیے قسم لی جائے گی البتہ دین وہ اپنے وقت مقررہ پر ادا کرے گا جبکہ بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ دین مؤجل میں مدیون پر قسم لازم نہیں ہوتی اور صاحب محیط نے اسی کو ظاہری قول گردانا ہے۔ 
وَاخْتَلَفُوا فِي الدَّيْنِ الْمُؤَجَّلِ هَلْ تَتَوَجَّهُ الْيَمِينُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ؟ قِيلَ: تَتَوَجَّهُ، وَاسْتَدَلُّوا بِالْعَبْدِ الْمَحْجُورِ.

وَقِيلَ: لَا تَتَوَجَّهُ، وَاسْتَظْهَرَهُ صَاحِبُ الْمُحِيطِ.

(مَسْأَلَةٌ) :
اگر میت پر دعوی کیا گیا جبکہ اس کے ورثہ میں چھوٹے نابالغ بچے، غائبین بھی تھے تو اس کے جو بالغ اور حاضر ورثہ ہوں گے ان کو تو قسم کھانے کا مکلف بنایا جائے گا لیکن چھوٹے بچے کو قسم نہیں لی جائے گی بلکہ ان کی قسم کو مؤخر کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ بالغ ہو جائیں اسی طرح غائب سے قسم نہیں لی جا سکتی کہ حاضر نہیں تو اس کی قسم کو بھی مؤخر کیا جائے گا اور انے پر قسم لی جائے گی، اس لیے کہ بچے اور غائب سے قسم لینا متعذر ہے اس لیے ان دونوں کے قسم کو مؤخر کیا جائے گا یہاں تک کہ ان سے قسم لینا ممکن ہو جائے یعنی وہ آ جائے یا بالغ ہو جائے۔ 
إذَا كَانَ فِي الْوَرَثَةِ صَغِيرٌ أَوْ غَائِبٌ وَقَدْ اُدُّعِيَ عَلَى الْمَيِّتِ حَقٌّ يُكَلَّفُ الْبَالِغُ الْحُضُورَ وَيُؤَخَّرُ الصَّغِيرُ حَتَّى يُدْرِكَ وَالْغَائِبُ حَتَّى يَقْدُمَ ثُمَّ يَحْلِفَانِ؛ لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ تَحْلِيفُ الصَّغِيرِ وَالْغَائِبِ فَيُؤَخَّرَانِ إلَى أَنْ يُمْكِنَهُمَا التَّحْلِيفُ.

[فَصْلٌ فِيمَا لَا يُسْتَحْلَفُ فِيهِ]
ابھی تک وہ مسائل بیان ہوئے جن میں یہ بتایا گیا کہ کن لوگوں سے قسم لی جائے گی اور کن سے قسم نہیں لی جائے گی اب یہاں سے بیان کر رہے ہیں کہ کن معاملات میں قسم لی جائے گی اور کن میں نہیں لیکن جن میں قسم لی جائے گی وہ چونکہ بہت سارے ہیں اس لیے ان کو بیان نہیں کریں گے بلکہ صرف ان مسائل کو بیان کریں گے جن میں قسم نہیں لی جا سکتی ہے جب یہ معاملات واضح ہو جائیں گے باقی جتنے بھی معاملات ہیں ان میں قسم لی جائے گی۔ 
(فَصْلٌ) :
حدود و قصاص میں قسم نہیں لی جائے گی بالاتفاق اس لیے کہ استخلاف کا بنیادی مقصد نکول ہے اور نکول یا تو بذل ہوتا ہے یا اقرار چناں چہ امام صاحب کے نزدیک بذل ہے اور صاحبین کے نزدیک اقرار، گویا نکول کیا ہے اس میں ہی ائمہ کے درمیان شبہ و اختلاف ہے اور و الحدود تندرأ بالشبھات کی وجہ سے چوں کہ ساقط ہو جاتے ہیں چناں چہ حدود و قصاص کے معاملات کو اس دلیل سے کیسے ثابت کیا جا سکتا ہے جس میں شبہ و اختلاف ہے اس لیے حدود و قصاص میں قسم نہیں لی جائے گی ہاں البتہ چوری کے سلسلے میں قسم لی جائے گی لیکن چوری کے سلسلے میں جو قسم لی جائے گی اس قسم کی وجہ سے سارق کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا کیونکہ وہ بھی حد ہے اور حدود قسم سے ثابت نہیں ہوتیں، البتہ سارق پر ضمان لازم کرنے کے لیے قسم تو لی جائے گی اگر اس کے پاس سامان موجود ہو لیکن حد لگنے کے لیے قسم نہیں لی جائے گی اسی کو مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا یمین کا مقصود نکول ہوتا ہے اور نکول بذل و اقرار ہوتا ہے اور اسی بذل اور اقرار ہونے میں ائمہ کے نزدیک شبہ ہے اور حد ایسی حجت سے قائم نہیں ہو سکتی جس میں شبہ ہو اس لیے کہ اس کے ختم کیے جانے کے لیے تو حیلہ بازی کی جاتی ہے البتہ چوری کے سلسلے میں قسم لی جائے گی جب مدعی ضمان کا مطالبہ کر رہا ہو چنانچہ سارق سے اللہ کی قسم لی جائے گی کہ اس کے ذمے فلاں کا مال نہیں ہے نہ اس کی کوئی چیز ہے پس اگر وہ قسم کھانے سے انکار کرے تو اس پر مال کا ضمان لازم ہوگا، البتہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اس لیے کہ مال شبہات سے تو ثابت ہوتا ہے یعنی ان دلائل سے ثابت ہوگا جن میں شبہ ہو لیکن حدود ثابت نہیں ہوتے، پس جائز ہے کہ نکول سے مال کا ضمان ثابت ہو۔ 
وَلَا يُسْتَحْلَفُ فِي الْحُدُودِ إلَّا فِي السَّرِقَةِ؛ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنْ الْيَمِينِ النُّكُولُ، وَالنُّكُولُ بَذْلٌ أَوْ قَرَارٌ فِيهِ شُبْهَةٌ وَالْحَدُّ لَا يُقَامُ لِحُجَّةٍ فِيهَا شُبْهَةٌ؛ لِأَنَّهُ يَحْتَالُ لِدَرْئِهَا، وَيُسْتَحْلَفُ فِي السَّرِقَةِ إذَا طَلَبَ الْمُدَّعِي الضَّمَانَ يُحَلِّفُهُ بِاَللَّهِ مَا لَهُ عَلَيْكَ هَذَا الْمَالُ وَلَا شَيْءٌ مِنْهُ، فَإِنْ نَكِلَ يُضَمِّنُهُ الْمَالَ وَلَا يَقْطَعُ؛ لِأَنَّ الْمَالَ يَثْبُتُ بِالشُّبُهَاتِ فَجَازَ أَنْ يَثْبُتَ بِالنُّكُولِ.
سات ایسی مخصوص چیزیں ہیں جن میں امام صاحب کے نزدیک قسم نہیں لی جائے گی البتہ صاحبین کے نزدیک قسم لی جائے گی اس اختلاف کی بنیاد اسی اصول پر ہے کہ قسم کا مقصود ننکول ہوتا ہے اور نکول بذل یا اقرار ہوتا ہے چنانچہ جن معاملات میں بذل اور اقرار دونوں جائز ہیں ان میں بالاتفاق قسم لی جائے گی، جن میں بذل اور اقرار دونوں جائز نہیں ان میں تمام ائمہ کے نزدیک قسم نہیں لی جائے گی، جن میں بذل جائز ہے اقرار جائز نہیں ان میں امام صاحب کے نزدیک قسم لی جائے گی اور جن میں صرف اقرار جائز ہے بذل جائز نہیں ان میں صرف صاحبین کے نزدیک قسم لی جائے گی، چنانچہ یہ سات معاملات ایسے ہیں کہ ان میں بذل جائز نہیں ہے اس لیے امام صاحب کے نزدیک ان سات چیزوں میں قسم نہیں لی جائے گی، البتہ ان سات چیزوں میں چوں کہ اقرار جائز ہے اور نکول صاحبین کے نزدیک نکول اقرار ہی ہے اس لیے صاحبین کے نزدیک ان معاملات میں بھی قسم لی جائے گی، ان سات معاملات میں تین معاملات نکاح کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں ایک نسب کے ساتھ اور تین غلامیت کے ساتھ متعلق ہیں وہ سات معاملات یہ ہیں (١) نکاح (٢) رجعت (٣) فئ ایلاء (٤) اثبات نسب (٥) غلامیت (٦) ولاء اور (٧) استیلاد، جبکہ صاحبین کے نزدیک قسم لی جائے گی اس لیے کہ مال کے باب میں نکول حجت ہوتی ہے اس کے اقرار ہونے کی وجہ سے اس لیے کہ انکار کرنے والا عادۃ جھوٹی قسم کھانے سے رک جاتا ہے بس وہ دلالۃ اس حق کا اعتراف کرنے والا ہو جاتا ہے، اس لیے کہ جھوٹا شخص انکار میں ضرورتاً اقرار کرنے والا ہوتا ہے اور اقرار ان اشیاء میں صحیح ہے جبکہ امام صاحب نے اس سلسلے میں فرمایا کہ بے شک ہمارا اتفاق ہے اس بات پر کہ استخلاف شریعت میں نکول کی وجہ سے فیصلے کا فائدہ دینے کے لیے ہے اور یہاں نکول کے ذریعہ فیصلہ کرنا متعذر ہے وہ اس طور پر کہ وہ پہلے انکار کر چکا ہے جس کی وجہ سے اس پر یمین آیا اب اگر اس سے قسم کا مطالبہ کیا جائے اور وہ خاموش رہے اور اس کے نکول سے یہ سمجھا جائے کہ اقرار ہے تو گویا یا تو وہ پہلے جھوٹا تھا یا وہ اب اقرار جھوٹا ہے اس لیے امام صاحب فرماتے ہیں کیوں کسی کو جھوٹا قرار دے رہے ہو یہ سمجھو کہ وہ قسم سے بچنا چاہتا ہے اس لیے نکول بذل ہے چنانچہ یہاں بذل متعذر ہے اس لیے ان تمام معاملات میں قسم نہیں لی جائے گی اور ان تمام معاملات کے مفصل دلائل وہ بڑی بڑی کتابوں میں موجود ہیں۔ 
وَلَا يُسْتَحْلَفُ فِي أَشْيَاءَ مَخْصُوصَةٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ، وَهِيَ النِّكَاحُ وَالرَّجْعَةُ وَالْإِيلَاءُ وَالنَّسَبُ وَالرِّقُّ وَالْوَلَاءُ وَالِاسْتِيلَادُ.وَعِنْدَهُمَا يُسْتَحْلَفُ؛ لِأَنَّ النُّكُولَ فِي بَابِ الْمَالِ إنَّمَا صَارَ حُجَّةً لِكَوْنِهِ إقْرَارًا؛ لِأَنَّ النَّاكِلَ يَمْتَنِعُ عَنْ الْيَمِينِ الْكَاذِبَةِ عَادَةً فَيَصِيرُ مُعْتَرِفًا بِالْحَقِّ دَلَالَةً؛ لِأَنَّ الْكَاذِبَ فِي الْإِنْكَارِ مُقِرٌّ ضَرُورَةً، وَالْإِقْرَارُ يَصِحُّ فِي هَذِهِ الْأَشْيَاءِ. وَاحْتَجَّ بِأَنْ قَالَ: إنَّا تَوَافَقْنَا عَلَى شَرْعِ الِاسْتِحْلَافِ لِفَائِدَةِ الْقَضَاءِ بِالنُّكُولِ، وَالْقَضَاءُ بِالنُّكُولِ هَا هُنَا مُتَعَذِّرٌ، وَتَمَامُ الْحُجَجِ فِي الْمُطَوَّلَاتِ.
چھٹی فصل بینات کے بیان میں
[الْفَصْلُ السَّادِسُ فِي ذِكْرِ الْبَيِّنَاتِ]
پہلی فصل: بینۃ کی حقیقت کی تعریف کے بیان میں ہوگی اور اس میں ایک مقدمہ ہوگا جو آٹھ فصلوں پر مشتمل ہوگا چنانچہ پہلی فصل بینہ کی حقیقت اور شرعا اس کے مقام کی تعریف کے بیان میں، دوسری فصل گواہ کے علم کے ذرائع کے اقسام کے بیان میں تیسری فصل شہادت کی تعریف، حکم، حکمت اور جس معاملہ میں وہ واجب ہوتی ہے اس کے بیان میں چوتھی فصل گواہ کے صفات اور گواہ کے قبول سے اشیاء مانعۃ کے ذکر کے بیان میں پانچویں فصل ان معاملات کے بیان میں جن میں گواہوں گواہی لینے اور دینے کے بارے میں متنبہ ہونا مناسب ہے اور جن معاملات میں گواہوں کو پڑنے سے احتراز کرنا مناسب ہے ڑھنے سے ان کو بچنے کی تنبیہ کی جائے گی اور ان احکام کے بیان میں جو تعلق رکھتے ہیں وثیقہ نامہ لکھنے سے چھٹی فصل ان معاملات کے بیان میں جن میں قاضی کو متنبہ ہونا مناسب ہوگا اس کے پاس گواہی دینے کے بارے میں ساتویں فصل ان معاملات کے بیان میں جن میں گواہ اپنی شہادت کے بعد اس میں کوئی نئی چیز داخل کرے جس سے اس کی گواہی باطل ہو جائے اور اٹھویں فصل شہادت کی ادائیگی کی صفت کے بیان میں اور ان الفاظ کے بیان میں جن سے اس کا ادا کرنا صحیح ہوگا۔ 
[الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي التَّعْرِيفِ بِحَقِيقَةِ الْبَيِّنَةِ]
، وَفِيهِ مُقَدِّمَةٌ تَشْتَمِلُ عَلَى ثَمَانِيَةِ فُصُولٍ.الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي التَّعْرِيفِ بِحَقِيقَةِ الْبَيِّنَةِ وَمَوْضِعِهَا شَرْعًا.الْفَصْلُ الثَّانِي: فِي أَقْسَامِ مُسْتَنَدِ عِلْمِ الشَّاهِدِ.الْفَصْلُ الثَّالِثُ: فِي حَدِّ الشَّهَادَةِ وَحُكْمِهَا وَحِكْمَتِهَا وَمَا تَجِبُ فِيهِ.الْفَصْلُ الرَّابِعُ: فِي صِفَاتِ الشَّاهِدِ وَذِكْرِ مَوَانِعِ الْقَبُولِ.الْفَصْلُ الْخَامِسُ: فِيمَا يَنْبَغِي لِلشُّهُودِ التَّنَبُّهُ لَهُ فِي التَّحَمُّلِ وَالْأَدَاءِ، وَمَا يَحْتَرِزُوا مِنْ الْوُقُوعِ فِيهِ، وَالْأَحْكَامِ الْمُتَعَلِّقَةِ بِكِتَابَةِ الْوَثَائِقِ.الْفَصْلُ السَّادِسُ: فِيمَا يَنْبَغِي لِلْقَاضِي أَنْ يَتَنَبَّهَ لَهُ فِي أَدَاءِ الشَّهَادَةِ عِنْدَهُ.الْفَصْلُ السَّابِعُ: فِيمَا يُحْدِثُهُ الشَّاهِدُ بَعْدَ شَهَادَتِهِ فَتَبْطُلُ.الْفَصْلُ الثَّامِنُ: فِي صِفَةِ أَدَاءِ الشَّهَادَةِ وَاللَّفْظِ الَّذِي يَصِحُّ بِهِ أَدَاؤُهَا.
پہلی فصل: بینۃ کی حقیقت اور شرعا اس کے جگہ و مقام کی تعریف کے بیان میں، بینہ عام ہے اور گواہ خاص ہے بینہ میں گواہ بھی اتے ہیں، بینۃ میں دلائل قاطعہ بھی آتے ہیں بینہ میں قسم بھی آتی ہے، بینہ میں اقرار بھی آتا ہے چناں چہ بینہ ان تمام کو شامل ہے اور گواہ بینات کا ایک جز ہے لیکن نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو گواہ کا نام بینہ رکھا ہے ”البینۃ علی المدعی و الیمین علی المدعی علیہ“ وہ اس وجہ سے کیونکہ گواہوں کے قول سے ہی بیان ( وضاحت) واقع ہوتا ہے اور بینہ کے لغوی معنی بھی ہے وضاحت کے اس وجہ سے نام رکھا گیا، چنانچہ اسی کو فرمایا کہ جان لینا چاہیے کہ بینہ ہر اس دلیل کا نام ہے جو حق کو ظاہر کرتا ہے اور واضح کرتا ہے اور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے گواہوں کو بھی بینہ نام رکھا ان کی بات کے ذریعے سے بیان کے واقع ہونے کی وجہ سے اور ان کی شہادت سے اشکال کے دور ہونے کی وجہ سے اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے قول سے بیان کے واقع ہونے کی وجہ سے چنانچہ احمد بن موسی بن نصر خوئی نے کتاب الحسبہ میں اس کو بیان فرمایا ہے۔ 
[الْفَصْلُ الْأَوَّلُ: فِي التَّعْرِيفِ بِحَقِيقَتِهَا وَمَوْضُوعِهَا شَرْعًا] اعْلَمْ أَنَّ الْبَيِّنَةَ اسْمٌ لِكُلِّ مَا يُبَيِّنُ الْحَقَّ وَيُظْهِرُهُ، وَسَمَّى النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الشُّهُودَ بَيِّنَةً؛ لِوُقُوعِ الْبَيَانِ بِقَوْلِهِمْ وَارْتِفَاعِ الْإِشْكَالِ بِشَهَادَتِهِمْ، لِوُقُوعِ الْبَيَانِ بِقَوْلِ الرَّسُولِ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ -. قَالَهُ أَحْمَدُ بْنُ مُوسَى بْنِ نَصْرِ الْخُويِيُّ فِي كِتَابِ الْحِسْبَةِ.
اگے فرماتے ہیں کہ ابن قیم جوزی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ قران پاک میں بینہ کا لفظ جو آیا ہے اس سے کہیں بھی گواہ مراد نہیں ہے بلکہ بینہ کا لفظ قران پاک میں حجت، دلیل، برہان کے ارادہ سے آیا ہے، چاہے وہ بینہ کا لفظ قران میں مفرد آیا ہو یا جمع بینات کا لفظ، اور جب بینات ان معاملات میں جن میں گواہی دی جائے حقوق کے اعتبار سے مرتب ہے اور اس کے اور ان مراتب کو بیان کا محتاج ہوا جاتا ہے مزید یہ بینات ایسی چیز ہے جس میں توسع بھی ہے، جس میں تنگی بھی ہے، جس میں بھاری پن بھی ہے جس میں ہلکا پن بھی ہے، مضبوطی اور ناممکن کا امکان بھی ہے اور اس کی کو قوت ضعف کے مراتب میں بھی اختلاف ہے تو اسی وجہ سے ہم اس کے اقسام کے ذکر کے محتاج ہوئے اور اس کی اقسام کی تعداد اور ان کے مسائل کی مثال بیان کرنے کی محتاج ہوئے کیونکہ کبھی کبھی ایک عورت ہی کی گواہ سے بھی معاملہ ثابت ہو جاتا ہے یہ توسع ہے کبھی کبھی چار چار عورتوں کی گواہی سے معاملہ ثابت ہوتا ہے یہ تضییق ہے تو چونکہ اس کے مقامات کی نوعیت مختلف ہیں اس وجہ سے ان کا بیان کرنا ضروری ہوا،چنانچہ بینۃ کی تین قسمیں ہیں (١) فرد کی شہادت (٢) دو آدمیوں کی شہادت (٣) چار آدمیوں کی شہادت ان کا بیان انشاءاللہ مفصل آگے آنے والا ہے۔ 
وَقَالَ ابْنُ قَيِّمِ الْجَوْزِيَّةِ: وَلَمْ تَأْتِ الْبَيِّنَةُ فِي الْقُرْآنِ الْكَرِيمِ مُرَادًا بِهَا الشُّهُودُ. وَإِنَّمَا أَتَتْ مُرَادًا بِهَا الْحُجَّةُ وَالدَّلِيلُ وَالْبُرْهَانُ مُفْرَدَةً وَمَجْمُوعَةً، وَلَمَّا كَانَتْ الْبَيِّنَاتُ مُرَتَّبَةً بِحَسَبِ الْحُقُوقِ الْمَشْهُودِ فِيهَا وَالْمُحْتَاجِ إلَى إقَامَتِهَا وَمَا هِيَ عَلَيْهِ مِنْ التَّوْسِعَةِ وَالتَّضْيِيقِ وَالتَّثْقِيلِ وَالتَّخْفِيفِ وَإِمْكَانِ التَّوَثُّقِ وَتَعَذُّرِهِ وَاخْتِلَافِ مَرَاتِبِهَا فِي الْقُوَّةِ وَالضَّعْفِ احْتَجْنَا إلَى ذِكْرِهَا وَعَدَدِ أَنْوَاعِهَا وَتَمْثِيلِ مَسَائِلِهَا.فَأَمَّا؛ أَنْوَاعُهَا فَثَلَاثَةٌ: شَهَادَةُ الْفَرْدِ، وَشَهَادَةُ الْمُثَنَّى، وَشَهَادَةُ الْأَرْبَعِ، وَسَيَأْتِي مُفَصَّلًا.

[الْفَصْلُ الثَّانِي فِي أَقْسَامِ مُسْتَنَدِ عِلْمِ الشَّاهِدِ]
یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ علیہ فصل ثانی میں گواہ کے لیے علم کے ذرائع کے اقسام کیا ہوں گے ان کو بیان کریں گے چنانچہ فرمایا کہ کسی گواہ کے لیے صحیح نہیں کہ کسی معاملے کی شہادت دے یہاں تک کہ اس کا اسے پورا علم نہ ہو جائے، اس لیے کہ گواہی دینا صحیح نہیں ہے مگر ان معاملات میں جن کا علم ہو جائے اور جن کی معرفت کا قطعی یقین ہو، نہ کہ ان معاملے میں گواہی دی جائے جن میں انسان کو شک ہو اور نہ ان معاملے میں گواہی دی جائے جن کی معرفت کا ظن غالب ہو جیسے کہ اللہ تبارک و تعالی کا فرمان ہے یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے لیے کہ ہم نے گواہی نہیں دی مگر اس چیز کی جس کا ہمیں علم الیقین تھا، ہاں البتہ کبھی کبھی اس علم یقین کے ساتھ ظن غالب کو بھی لاحق کیا جاتا ہے ضرورت کی وجہ سے کچھ جگہوں میں جن کا ذکر انشاءاللہ آگے آئے گا جیسے کہ کسی کو مفلس قرار دینے میں گواہی دینا، مثلاً کسی نے قاضی سے کہا کہ میں دین ادا نہیں کر سکتا کیونکہ میں مفلس ہوں یہ میرے دو پڑوسی میرے گواہ ہیں، ظاہر ہے پڑوسی جو اس کی مفلسی کی گواہی دیں گے تو وہ ظن غالب سے دیں گے کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں گھر میں بجلی نہیں ہے، گھر میں کھانے کو کوئی چیز نہیں لیکن کیا اس کی یہی حقیقت ہے؟ کوئی ضروری نہیں کیا پتہ اس نے بنک بیلنس بنا رکھا ہو لیکن چونکہ پڑوسیوں کو اس کے اندورنی معاملات پتہ نہیں وہ تو ظاہر کو دیکھ کر بس ظن غالب کے اعتبار سے گواہی دے رہے ہیں، اسی طرح گواہوں کا گواہی دینا کسی کے ورثہ کی تعداد میں کہ جی فلاں میت مر گیا اس کے تین وارث ہیں حالانکہ کیا پتہ اس نے زندگی میں کبھی کہیں دور جا کر چھپ کر کے دوسری شادی کی ہو اور وہاں اس کے اور بیٹے ہوں اور اس کے اور وارث ہوں لیکن چونکہ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ شادی کے بارے میں سب جانتے ہیں تو ظن غالب کے اعتبار سے اگر ظاہر کو دیکھ کر گواہان یہ سمجھ کر کہ ہم روزانہ دیکھتے ہیں اس کے تو تین ہی بیٹے ہیں اور گواہی دے دی کہ اس کے تین ہی بیٹھے ہیں تو یہاں بھی یہ ظن غالب سے دی گئی گواہی قبول ہے اور اس طرح کے دیگر معاملات۔ 
وَلَا يَصِحُّ لِشَاهِدٍ شَهَادَةٌ بِشَيْءٍ حَتَّى يَحْصُلَ لَهُ بِهِ عِلْمٌ؛ إذْ لَا تَصِحُّ الشَّهَادَةُ إلَّا بِمَا عُلِمَ وَقُطِعَ بِمَعْرِفَتِهِ لَا بِمَا شُكَّ فِيهِ وَلَا بِمَا يَغْلِبُ عَلَى الظَّنِّ مَعْرِفَتُهُ، قَالَ اللَّهُ تَعَالَى (وَمَا شَهِدْنَا إلَّا بِمَا عَلِمْنَا) وَقَدْ يَلْحَقُ الظَّنُّ الْغَالِبُ بِالْيَقِينِ لِلضَّرُورَةِ فِي مَوَاضِعَ يَأْتِي ذِكْرُهَا، كَالشَّهَادَةِ فِي التَّفْلِيسِ وَحَصْرِ الْوَرَثَةِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ.
اب یہاں سے بیان فرما رہے ہیں کہ گواہوں کو جو علم ہوگا وہ چار چیزوں میں سے کسی ایک کے ذریعے سے حاصل ہوگا یا تو محض عقل سے علم حاصل ہوگا یا عقل کے ساتھ حواس خمسہ میں سے کسی ایک کے ذریعے سے یا خبر متواتر سے علم ہوگا چوتھی چیز غور و فکر سے علم حاصل ہوگا، جس کو علم نظری و علم استدلالی بھی کہتے ہیں۔ 
وَالْعِلْمُ يُدْرَكُ بِأَحَدِ أَرْبَعَةِ أَشْيَاءَ.
پہلا: علم کا ذریعہ تنہا عقل ہے اس لیے کہ بعض علوم ضروریہ کو عقل سے ادراک کیا جاتا ہے جیسے دو ایک کا ڈبل ہے یا دو ایک سے زائد ہے ظاہر ہے یہ عقل کا نتیجہ ہے کہ ایک کم ہوتا ہے اور دو زیادہ اسی طرح عقل کے ذریعے ہی جانا جاتا ہے اپنے نفس کے حالات کو اپنی تندرستی و بیماری کو اپنے ایمان کی حرارت اور کفر کی خباثت کو چنانچہ اسی عقل کے ذریعے شہادت دینا اپنے آپ پر ان جیسے معاملات میں درست ہوگا
الْأَوَّلُ: الْعَقْلُ بِانْفِرَادِهِ، فَإِنَّهُ يُدْرِكُ بِهِ بَعْضَ الْعُلُومِ الضَّرُورِيَّةِ مِثْلَ أَنَّ الِاثْنَيْنِ أَكْثَرُ مِنْ الْوَاحِدِ، وَيَعْلَمُ بِهِ حَالَ نَفْسِهِ مِنْ صِحَّتِهِ وَسَقَمِهِ وَإِيمَانِهِ وَكُفْرِهِ، وَتَصِحُّ بِذَلِكَ شَهَادَتُهُ عَلَى نَفْسِهِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ.
دوسری قسم: علم حاصل ہونے کے ذرائع میں سے دوسری قسم ہے عقل کے ساتھ حواس خمسہ، سننے کا، دیکھنے کا، سونگنے کا، چکھنے کا، اور چھونے کا حاسہ چنانچہ عقل کے ساتھ جب سماعت کا حاصہ ملے گا تو کسی کلام کا علم ہوگا، اسی طرح عقل کے ساتھ جب دیکھنے کا حاسہ ملے گا تو تمام اجسام، تمام سامان تمام دیکھنے والی چیزوں کا ادراک ہوگا، عقل کے ساتھ جب چکھنے کا حاسہ ملے گا تو تمام مطعومات اور چکھنے والی چیزوں کے ذائقہ کا علم ہوگا عقل کے ساتھ جب لمس چھونے کا حاسہ ملے گا تو تمام چھونے والی چیزوں کا علم ہوگا، مختلف انواع کے اختلاف پر مختلف علم ہوگا۔ 
الثَّانِي: الْعَقْلُ مَعَ الْحَوَاسِّ، حَاسَّةِ السَّمْعِ وَحَاسَّةِ الْبَصَرِ وَحَاسَّةِ الشَّمِّ وَحَاسَّةِ الذَّوْقِ وَحَاسَّةِ اللَّمْسِ، فَيُدْرِكُ بِالْعَقْلِ مَعَ حَاسَّةِ السَّمْعِ الْكَلَامَ، وَيُدْرِكُ بِالْعَقْلِ مَعَ حَاسَّةِ الْبَصَرِ جَمِيعَ الْأَجْسَامِ وَالْأَعْرَاضِ وَالْمُبْصَرَاتِ، وَيُدْرِكُ بِالْعَقْلِ مَعَ حَاسَّةِ الذَّوْقِ جَمِيعَ الطُّعُومِ وَالْمَذُوقَاتِ، وَيُدْرِكُ بِالْعَقْلِ مَعَ حَاسَّةِ اللَّمْسِ جَمِيعَ الْمَلْمُوسَاتِ، عَلَى اخْتِلَافِ أَنْوَاعِهَا.
تتیسری قسم: خبر متواترہ کے ذریعے علم کا حاصل ہونا اس لیے کہ خبر متواتر ہی کے ذریعے سے دور دراز شہروں کا علم حاصل ہوتا ہے، عہد گزشتہ کے زمانوں کا علم ہوتا ہے، نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کے ظہور کے کا علم ہوتا ہے اور پھر نبی ﷺ کا اپنی قوم کو اسلام کی طرف بلانے کا علم ہوتا ہے، قواعد شرعیہ اور دین کے شعائر کا علم ہوتا ہے خبر متواتر سے اسی طرح ایسے علم سے خبر دینا جائز ہے جو علم اخبار صحیحہ کے ذریعے سے حاصل ہوا ہو نکاح کے باب میں، نسب میں، موت کے سلسلےمیں، ولایت قاضی کے سلسلے میں، قاضی کے معزول ہونے کے سلسلے میں اور اس طرح کے جو معاملات ہیں اور ان تمام کی مثال ہم باب قضاء میں انشاءاللہ بالاستیعاب بیان کریں گے سماع کی شہادت کے ذریعے۔ 
الثَّالِثُ: حُصُولُ الْعِلْمِ بِالْأَخْبَارِ الْمُتَوَاتِرَةِ، فَإِنَّهُ يَحْصُلُ بِهِ الْعِلْمُ بِالْبُلْدَانِ النَّائِيَةِ وَالْقُرُونِ الْمَاضِيَةِ وَظُهُورِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ وَدُعَائِهِ إلَى الْإِسْلَامِ وَقَوَاعِدِ الشَّرْعِ وَمَعَالِمِ الدِّينِ، وَكَذَلِكَ تَجُوزُ الشَّهَادَةُ بِعِلمٍ منْ جِھَۃِ الاخْبَارِ الصَّحِيحَةِ فِي بَابِ النِّكَاحِ وَالنَّسَبِ وَالْمَوْتِ وَوِلَايَةِ الْقَاضِي وَعَزْلِهِ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ، وَقَدْ اسْتَوْعَبْت ذَلِكَ فِي بَابِ الْقَضَاءِ بِشَهَادَةِ السَّمَاعِ.
چوتھی قسم: چوتھا ذریعہ علم وہ علم ہے جو نظر و استدلال سے حاصل ہوتا ہے، نظر و استدلال سے حاصل ہونے والا علم بھی جائز ہے جیسے کہ جائز ہے ان معاملات کی گواہی جن میں علم بدیہی کے ذریعے سے علم ہوا ہو اور اس علم نظری ہی کی وجہ سے حکماء کی شہادت دینا کسی معاملے میں عیب کےپرانے ہونے یا عیب کے نیا ہونے کے سلسلے میں جائز ہے یعنی ڈاکٹروں کے پاس انسان گیا اور ان سے پوچھا کہ فلاں مریض میں یہ مرض کب سے ہو سکتا ہے تو ڈاکٹر علم نظری و استدلال کے ذریعے سے بتلاتا ہے کہ یہ عیب اس میں پانچ سال پرانا ہے یا یہ عیب اس میں ایک مہینے کا نیا پیدا ہوا ہے تو اسی کو فرمایا کہ اسی نظر و استدلال کے ذریعے سے حکماء کی شہادت کسی عیب کے قدیم اور کسی عیب کے نئے ہونے میں صحیح ہے، اسی طرح اہل معرفت کی گواہی کسی ضرر کے قدیم اور نئے ہونے میں اور اسی معنی کے اعتبار سے امت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت قیامت کے دن تمام انبیاء کے لیے ان کی امتوں پر رسالت کا پیغام پہنچانے میں جائز ہے، یہ اس امت کی خصوصیت ہے، اسی علم نظری کے ذریعے سے مومن کی گواہی درست ہے اس طور پر کہ اللہ پاک ایک ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور وہ ہمیشہ سے زندہ رہنے والا ہے جاننے والا ہے قادر ہے اور اس طرح کے دیگر صفات جو اللہ کے لیے ثابت ہے اور ان صفات کا علم بھی نظر و استدال سے حاصل ہوگا، یہ باب بہت وسیع ہے۔ 
الرَّابِعُ: الْعِلْمُ الْمُدْرَكُ بِالنَّظَرِ وَالِاسْتِدْلَالِ جَائِزٌ كَمَا يَجُوزُ بِمَا عُلِمَ مِنْ جِهَةِ الضَّرُورَةِ، وَمِنْ ذَلِكَ شَهَادَةُ الْحُكَمَاءِ فِي قِدَمِ الْعُيُوبِ وَحُدُوثِهَا، وَشَهَادَةُ أَهْلِ الْمَعْرِفَةِ فِي قِدَمِ الضَّرَرِ وَحُدُوثِهِ، وَمِنْ هَذَا الْمَعْنَى شَهَادَةُ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِلنَّبِيِّينَ عَلَى أُمَمِهِمْ بِالْإِبْلَاغِ، وَشَهَادَةُ الْمُؤْمِنِ بِأَنَّ اللَّهَ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّهُ حَيٌّ عَالِمٌ قَادِرٌ إلَى غَيْرِ ذَلِكَ مِنْ الصِّفَاتِ الَّتِي هُوَ عَلَيْهَا.وَالْعِلْمُ بِذَلِكَ مِنْ جِهَاتِ النَّظَرِ أَوْ الِاسْتِدْلَالِ وَهَذَا بَابٌ وَاسِعٌ.

No comments:

Post a Comment