وَلَوْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي وَزْنٍ بَيَّنَ جِنْسَهُ بِأَنَّهُ ذَهَبٌ أَوْ فِضَّةٌ، فَلَوْ كَانَ مَضْرُوبًا يَقُولُ: كَذَا دِينَارًا، وَيَذْكُرُ نَوْعَهُ بُخَارِيُّ الضَّرْبِ أَوْ نَيْسَابُورِيُّ الضَّرْبِ، وَيَنْبَغِي أَنْ يَذْكُرَ صِفَتَهُ جَيِّدًا أَوْ رَدِيئًا أَوْ وَسَطًا، وَإِنَّمَا يُحْتَاجُ إلَى ذِكْرِ الصِّفَةِ لَوْ كَانَ فِي الْبَلَدِ نُقُودٌ مُخْتَلِفَةٌ لَا لَوْ كَانَ فِي الْبَلَدِ نَقْدٌ وَاحِدٌ.
بخاری شہر اور نیسا بوری شہر کے ذکر کے بعد اس سکّہ کا سرخ ہونے کا ذکر کرنا ضروری نہیں ہے جبکہ بعض مشائخ کے نزدیک اس کی عمدگی کا ذکر کرنا ضروری ہے اور امام نسفی رحمۃ اللہ علیہ نے ذکر کیا ہے کہ اگر خالص لال رنگ کا ذکر کرے اور اس کی عمدگی کا ذکر نا کرے جب بھی دعوی صحیح ہوگا اور کافی ہوگا
وَعِنْدَ ذِكْرِ الْبُخَارِيِّ وَالنَّيْسَابُورِيّ لَا يُحْتَاجُ إلَى ذِكْرِ كَوْنِهِ أَحْمَرَ، وَلَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِ الْجَوْدَةِ عِنْدَ عَامَّةِ الْمَشَايِخِ، وَذَكَرَ النَّسَفِيُّ: لَوْ ذَكَرَ أَحْمَرَ خَالِصًا وَلَمْ يَذْكُرْ الْجَيِّدَ كَفَاهُ.
اور اگر دعوی انگور کے بارے میں ہو اور دعوی کرے انگور میں سے دو قسموں کا اس طور پر کی دعوی کرے فلانی انگور اور ورخمینی میٹھے درمیانی درجے کے انگور ایک ہزار کا تو ضروری ہے کہ وہ کہے کہ فلانی میں سے اتنے اور ورخمینی میں سے اتنے انگور ہیں یعنی ان دونوں کی مقدار کو بیان کرنا ہوگا اس لیے کہ مقدار بیان کئے بغیر قاضی جان نہیں پائے گا کہ دونوں نوع میں سے مدعی کس نوع کے کتنی مقدار کا تقاضا کرتا ہے۔
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي الْعِنَبِ وَادَّعَى نَوْعَيْنِ مِنْ الْعِنَبِ بِأَنْ ادَّعَى أَلْفًا مِنْ الْعِنَبِ الْفُلَانِيِّ والورخميني الْحُلْوِ الْوَسَطِ لَا بُدَّ أَنْ يَقُولَ: مِنْ الْفُلَانِيِّ كَذَا وَمِنْ الورخميني كَذَا، إذْ بِدُونِهِ لَا يَدْرِي الْقَاضِي بِأَيِّ قَدْرٍ يَقْضِي مِنْ كُلِّ نَوْعٍ.
اور اگر دعوی انگور کے بارے میں ہو اور دعوی کرے کہ انگور کے ایسے ایسے حصے تو جب تک وہ اس کی رنگت لال ہونے کو یا سفید ہونے کو بیان نہ کرے دعوی صحیح نہ ہوگا، اسی طرح جب دعوی ہو حرمازی شہری انگور کے سلسلے میں تو جب تک وہ ان کی رنگت لال ہونا سفید ہونا بیان نہ کرے دعوی کافی نہ ہوگا
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي الْعِنَبِ أَيْضًا وَادَّعَى كَذَا كَذَا عِنَبًا طَائِفِيًّا لَمْ يَجُزْ مَا لَمْ يَقُلْ: أَحْمَرُ أَوْ أَبْيَضُ وَكَذَا فِي الْعِنَبِ الْحِرْمَازِيِّ لَمْ يَجُزْ مَا لَمْ يَقُلْ أَحْمَرُ أَوْ أَبْيَضُ.
اور اگر دعوی ریشم کے بارے میں ہو یا موتی کے بارے میں ہو تو پھر اس کے وزن کا ذکر کرنا شرط ہے، اہل نظر علماء نے جواہر پاروں کے بارے میں فرمایا کہ دو موتی کبھی کبھی صورتاً تو ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن ان میں وزن کا تفاوت ہوتا ہے اور وزن کے تفاوت سے ان کی قیمتوں میں تفاوت ہوتا ہے اس لیے وزن کا بیان کرنا موتی میں ضروری ہے کیونکہ وزن کی وجہ سے ان کی قیمتوں میں فرق آتا ہے اور اس لیے بھی کہ مرور زمانہ سے ان کے سوراخ میں کمی بیشی نہیں آتی اور یہ شرط تب ہے کہ جب موتی مجلس قضاء میں حاضر نہ ہو اگر قاضی کے سامنے موجود ہو تو پھر اس کے وزن کا ذکر کرنا ضروری نہیں ہوگا۔
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي الدِّيبَاجِ وَالْجَوْهَرِ يُشْتَرَطُ ذِكْرُ الْوَزْنِ، فَقَدْ قَالَ أَهْلُ النَّظَرِ بِالْجَوَاهِرِ: إنَّ الْجَوْهَرَيْنِ الْمُتَّفِقَيْنِ صُورَةً لَوْ تَفَاوَتَا وَزْنًا تَتَفَاوَتُ قِيمَتُهُمَا، إذْ لَا يَقِلُّ وَلَا يَتَّسِعُ ثُقْبُهُ بِمُرُورِ الزَّمَانِ، وَإِنَّمَا يُشْتَرَطُ ذِكْرُ وَزْنِهِ لَوْ لَمْ يَكُنْ حَاضِرًا.
اور ذخیرہ نامی کتاب میں بیان کیا ہے کہ اگر دعوی صرف چکی کے بارے میں ہو اور ساتھ میں وہ اس کے پاٹ کا بھی ذکر کر لے مگر یہ کہ ان پاٹوں کا نام و کیفیت نہ بیان کرے، تو بعض حضرات نے فرمایا دعوی صحیح نہیں ہوگا جبکہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ دعوی صحیح ہے اگر اس چکی کے تمام ادوات کا ذکر کرے ان کے ناموں کا تذکرہ ضروری نہیں پہلا قول قول اصح ہے کہ دعوی صحیح نہیں ہوگا۔
وَذُكِرَ فِي الذَّخِيرَةِ: وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي طَاحُونَةٍ وَحْدَهَا وَذَكَرَ أَدَوَاتِهَا الْقَائِمَةَ إلَّا أَنَّهُ لَمْ يُسَمِّ الْأَدَوَاتِ وَلَمْ يَذْكُرْ كَيْفِيَّتَهَا فَقَدْ قِيلَ: لَا تَصِحُّ الدَّعْوَى، وَقِيلَ: تَصِحُّ إذَا ذَكَرَ جَمِيعَ مَا فِيهَا مِنْ الْأَدَوَاتِ الْقَائِمَةِ، وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ.
اور اگر دعوی میت پر دین کے سلسلے میں ہو یعنی ایک آدمی مر گیا اور دوسرا آدمی کہہ رہا ہے کہ میت پر میرا قرض تھا تو پھر دعوی کے وقت اس میت کے وصی کا مجلس قضاء میں حاضر ہونا یا تمام وارثین میں سے کسی ایک وارث کا حاضر ہونا ضروری ہے چناں چہ دعوی کی صحت کے لیے تمام وارثوں کا نام بیان کرنا ضروری نہیں ہے پس اگر وصی میت حاضر ہو تو مدعی کہے گا کہ فلاں میت پر میرا قرض تھا اور یہ اس کا وصی ہے چناں چہ اب اس وصی پر ضروری ہے کہ اس میت کا قرض ادا کرے اس کے ترکے میں سے جو وصی کے قبضے میں ہے، یا اگر وارثین ہوں تو ان پر میت کے ذمہ قرض کا چکتا کرنا لازم ہے۔
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي دَيْنٍ عَلَى الْمَيِّتِ يَكْفِي حُضُورُ وَصِيِّهِ أَوْ الْوَارِثِ الْوَاحِدِ، وَلَا حَاجَةَ إلَى ذِكْرِ كُلِّ وَرَثَتِهِ فَلَوْ كَانَ وَصِيًّا يَقُولُ: إنَّهُ أَوْصَى إلَى هَذَا فَيَجِبُ عَلَيْهِ الْأَدَاءُ مِنْ تَرِكَتِهِ الَّتِي فِي يَدِهِ.
اور اگر دین کا دعوی کرے وراثت کے سبب سے یعنی اس کا مطلب ہے کہ کوئی وارث دعوی کر رہا ہے کہ میں گھر سے باہر تھا اور میت کے دیگر ورثاء نے سارا مال بانٹ لیا ہے مجھے نہیں دیا گویا وراثت کے سبب سے میت پر قرض ہے جووارثوں کو ادا کرنا ہے تو پھر تمام وارثوں کے نام بیان کرنا اور ان کا ذکر کرنا ضروری ہوگا مجمع النوازل میں یہی مسئلہ بیان کیا گیا ہے۔
وَلَوْ ادَّعَى الدَّيْنَ بِسَبَبِ الْوِرَاثَةِ لَا بُدَّ مِنْ بَيَانِ كُلِّ وَاحِدٍ مِنْ وَرَثَتِهِ عَنْ مَجْمَعِ النَّوَازِلِ،
اور اگر دعوی اعیان و اموال کے سلسلے میں اقرار کے سبب سے یعنی کوئی شخص کسی مال کا یا کسی چیز کا دعوی کرے اور قاضی نے جب اس سے پوچھا ہ کس وجہ سے آپ فلاں شخص پر مال کا دعویٰ کر رہیں ہیں، تو مدعی کہے کہ فلاں نے میرے لیے مال کا خود اقرار کیا ہے یعنی سبب ملک صرف اقرار کو بنائے تو بعض عام مشائخ نے فرمایا کہ دعوی درست نہ ہوگا اس لیے کہ اقرار ملکیت کے سبب ہے ہی نہیں جو سبب ملک نا ہو اس سے کسی ی ملکیت کیسے ثابت ہوگی ہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اقرار سب سے بڑی دلیل ہے گواہوں سے بڑھ کر لیکن سبب ملک ہرگز نہیں ہے مثلا اگر وہ یہ کہتا ہے کہ فلاں پر میرے لیے مال ھدیہ کے سبب سے لازم ہوا ہے اور فلاں نے اس کا اقرار بھی کیا ہے تو بالکل دعوی درست ہوگا کیوں کہ گویا وہ اقرار کو گواہوں کے بدلے دلیل بنا رہا ہے نہ کہ۔ ملکیت کا سبب کیوں کہ ملکیت کا سبب یہاں ھدیہ مصنف لیکن کتاب میں بیان کردہ دعوی میں وہ اقرار کو ہی سبب ملک بنا رہا ہے اور اقرار سبب ملک ہے نہیں اس لیے عام مشائخ نے فرمایا کہ اس کا دعوی صحیح نہیں ہوگا چنانچہ اگر اس نے دعوی کیا کہ فلاں چیز میری ہے اس وجہ سے کہ جس کا قبضہ ہے اس نے اقرار کیا ہے یا فلاں پر دعوی کیا دراہم کا اور کہا کہ اس لیے اس کے ذمہ میرے دراہم ہے کہ اس نے اقرار کیا ہے یا ابتداءاً ہی اس طرح سے کہے کہ فلاں نے اس چیز کا میرے لیے اقرار کیا ہے یا فلاں نے اس چیز کا میرے لیےاپنے ذمہ اقرار کیا ہے تو ذخیرہ نامی کتاب میں اس سلسلے میں حکم بیان کیا گیا ہے کہ یہ دعوی صحیح ہے اور بعض حضرات نے فرمایا دعوی صحیح نہیں ہے اور یہی عدم صحت کا قول عام مشائخ کا قول ہے اس لیے کہ نفسِ اقرار یہ استحقاق کا سبب بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا کیوں کہ اگر اقرار جھوٹا ہو سکتا ہے تو مقر لہ کے لیے کسی استحقاق کو ثابت نہیں کرے گا کیونکہ اس نے استحقاق کی اضافت ایسے سبب کی طرف کی ہے جو سبب بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي الْأَعْيَانِ وَالْأَمْوَالِ بِسَبَبِ الْإِقْرَارِ وَادَّعَى أَنَّهُ لَهُ لَمَّا أَقَرَّ بِهِ ذُو الْيَدِ أَوْ ادَّعَى عَلَيْهِ دَرَاهِمَ وَقَالَ لِمَا أَنَّهُ أَقَرَّ بِهَا أَوْ قَالَ ابْتِدَاءً: إنَّهُ أَقَرَّ أَنَّ هَذِهِ الْعَيْنَ لِي أَوْ أَقَرَّ أَنَّ لِي عَلَيْهِ كَذَا قَالَ فِي الذَّخِيرَةِ قِيلَ: تَصِحُّ هَذِهِ الدَّعْوَى، وَقِيلَ: لَا، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْمَشَايِخِ؛ لِأَنَّ نَفْسَ الْإِقْرَارِ لَا يَصْلُحُ سَبَبًا لِلِاسْتِحْقَاقِ، فَإِنْ كَانَ الْإِقْرَارُ كَاذِبًا لَا يَثْبُتُ الِاسْتِحْقَاقُ لِلْمُقَرِّ لَهُ، فَقَدْ أَضَافَ الِاسْتِحْقَاقَ إلَى مَا لَا يَصْلُحُ.
اسی طرح فقہا نے اختلاف کیا ہے، کہ کیا اقرار کا دعوی بطور دفع کے صحیح ہوگا یا نہیں؟ دفع کہتے ہیں کہ مدعی کا مدعی علیہ پر دعوی کرنا اور مدعی علیہ کا بجائے رفع الزام کے واپس مدعی پر ایسا دعوی کرنا جس سے مدعی کا دعوی ہی ختم ہوجائے، مثلاً بیوی نے شوہر پر دعوی کیا کہ شوہر مجھے نفقہ نہیں دیتا تو بیوی مدعی ہے اور شوہر مدعی علیہ، لیکن جب شوہر مدعی علیہ سے پوچھا گیا تو شوہر مدعی علیہ نے کہا کہ میں نے تو اس کو طلاق دے دی ہے گویا مدعی بیوی نے جو دعوی کیا تھا شوہر مدعی علیہ بجائے رفع الزام یا رفع دعوی کے ایسا دعوی کر رہا ہے جس سے بیوی کا دعوی نفقہ ہی ختم ہو گیا کیوں کہ اگر اس نے طلاق دی ہے تو نفقہ کیوں کر دے گا اسی کو کہتے دفع دعوی اب یہاں اختلاف کیا گیا ہے کیا اگر دفع کے طریقے سے کوئی اقرار کو سبب ملک بناتا ہے اور اقرار کا دعوی کرتا ہے کیا یہ دفع میں اقرار دعوی صحیح ہوگا یا نہیں جیسے اگر مدعی علیہ گواہ پیش کر لے کہ مدعی نے اقرار کیا ہے کہ اس کا مدعی علیہ پر یا اس ہر گواہ پیش کرے کہ مدعی علیہ ( جو پہلے مدعی تھا) نے ہی اقرار کیا ہے کہ یہ چیز مدعی ( جو پہلا مدعی علیہ تھا) کی ہے مصنف نے فرمایا کہ اس طور پر ( یعنی دفع میں) بھی اقرار کو بطور سبب ملک قبول نہیں کیا جائے گا البتہ عام مشائخ کا یہاں قول یہ ہے کہ دفع میں اقرار دعوی صحیح ہے۔
وَكَذَا اخْتَلَفُوا هَلْ تَصِحُّ دَعْوَى الْإِقْرَارِ مِنْ طُرُقِ الدَّفْعِ، حَتَّى لَوْ بَرْهَنَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ أَنَّ الْمُدَّعِيَ أَقَرَّ أَنَّهُ لَا حَقَّ لَهُ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، أَوْ أَنَّ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ أَقَرَّ أَنَّ هَذَا مِلْكُ الْمُدَّعِي، قِيلَ: لَا يُقْبَلُ، وَعَامَّتُهُمْ عَلَى أَنَّهُ يَصِحُّ.
اور اس بات فقہاء کا اجماع ہے کہ اگر کوئی کہے یہ میری ملکیت ہے اور صاح قبضہ نے بھی اسی کا اقرار کیا ہے یا یہ کہا کہ میرا اس کے ذمہ اتنا قرض وغیرہ ہے اور فلاں مدعی علیہ نے بھی میری لئے اس قرض کا اقرار کیا ہے مصنف فرماتے ہیں کہ اس طرح سے اقرار صحیح ہوگا اور اس کے پیش کردہ گواہان سنے جائیں گے اس لیے کہ مدعی یہاں اقرار کو سبب ملک نہیں بنا رہا ہے اور اس صورت میں اگر مدعی علیہ انکار کر دے کہ نہیں! میں نے اقرار نہیں کیا ہے، کیا اس سے منکر ہونے کے ناطے قسم لی جائے گی ؟اس میں اختلاف ہے امام ابو یوسف رحمۃ اللہ تعالی فرماتے ہیں قسم لی جائے گی اور امام محمد رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں قسم نہیں لی جائے گی۔
وَأَجْمَعُوا أَنَّهُ لَوْ قَالَ: هَذَا مِلْكِي وَهَكَذَا أَقَرَّ ذُو الْيَدِ أَوْ قَالَ: لِي عَلَيْهِ كَذَا وَهَكَذَا أَقَرَّ بِهِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ يَصِحُّ وَتُسْمَعُ الْبَيِّنَةُ عَلَى إقْرَارِهِ، إذْ لَمْ يَجْعَلْ الْإِقْرَارَ سَبَبًا لِلْوُجُوبِ وَفِي هَذِهِ الصُّورَةِ لَوْ أَنْكَرَ هَلْ يَحْلِفُ عَلَى إقْرَارِهِ؟ فِيهِ خِلَافٌ.
اور اگر دعوی وراثت طلبی کے سلسلے میں ہو اور وارث دعوی کرے کہ وہ میت کا چچا ہے تو دعوی کی صحت کے لیے شرط ہے کہ وہ اس کا حقیقی چاچا یا اخیافی چاچا ہونا بیان کرے اور اس کا ایسا کہنا بھی شرط ہے کہ وہ میت کا وارث ہے اور اس کے علم میں نہیں کہ اس کے علاوہ میت کا اور کوئی وارث ہے دوسرے ورثاء کی نفی ڈائریکٹ نہیں کرے گا کہ ہمارے علاوہ اس کا کوئی وارث نہیں اور ضروری ہے گواہوں کے لیے کہ وہ میت اور اس وارث کے نسب کو بیان کریں باپ دادا تک اور کہیں گے کہ وہ اس کا وارث ہے اور ہم نہیں جانتے کہ اس کے علاوہ میت کا اور کوئی وارث ہے یعنی یہی ایک وارث ہے میت کا۔
وَلَوْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي طَلَبِ إرْثٍ فَادَّعَى أَنَّهُ عَمُّ الْمَيِّتِ يُشْتَرَطُ لِصِحَّتِهِ أَنْ يُبَيِّنَ أَنَّهُ عَمُّهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ أَوْ لِأُمِّهِ، وَيُشْتَرَطُ قَوْلُهُ هُوَ وَارِثُهُ لَا وَارِثَ لَهُ غَيْرُهُ، وَلَا بُدَّ لِشُهُودِهِ أَنْ يَنْسِبُوا الْمَيِّتَ وَوَارِثَهُ حَتَّى يَلْتَقِيَا إلَى أَبٍ وَاحِدٍ وَيَقُولُوا هُوَ وَارِثُهُ لَا وَارِثَ لَهُ غَيْرُهُ.
اسی طرح اگر میت کا بھائی یا دادا ہونے کا کوئی دعوی کرے تاکہ وراثت ملے اگر گواہوں نے گواہی دی کہ وہ میت کا دادا ہے یعنی میت کے باپ کا باپ تو ضروری ہے کہ گواہ کہیں کہ وہ اس کا وارث ہے اور اس کے علاوہ میت کا کوئی وارث نہیں ہے یا ایسا کہیں گے کہ وہ میت کا بھائی ہے حقیقی بھائی یا علاتی و اخیافی وغیرہ اور ہم اس کے علاوہ میت کے کسی وارث کا علم نہیں رکھتے تو دعوی صحیح و جائز ہوگا اور بقول قاضی خان اس میں تمام وارثین کے نام کا ذکر شرط نہیں لگائی جاتی ہے۔
وَكَذَا فِي الْأَخِ وَالْجَدِّ، فَإِذَا شَهِدُوا أَنَّهُ جَدُّ الْمَيِّتِ أَبُو أَبِيهِ لَا بُدَّ أَنْ يَقُولُوا هُوَ وَارِثُهُ لَا وَارِثَ لَهُ غَيْرُهُ، فَلَوْ شَهِدُوا بِهِ أَوْ شَهِدُوا أَنَّهُ أَخُو الْمَيِّتِ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ أَوْ لِأَبِيهِ وَوَارِثِهِ لَا نَعْلَمُ لَهُ وَارِثًا غَيْرَهُ جَازَ، وَلَا يُشْتَرَطُ فِيهِ ذِكْرُ الْأَسْمَاءِ، قَالَهُ قَاضِي خَانَ.
فتاوی رشید الدین میں لکھا ہے کہ اگر مدعی دعوی کرے کہ وہ میت کا چچا زاد بھائی ہے تو ضروری ہے کہ وہ چچا اور باپ کا نسب دادا تک بیان کرے تاکہ اس کا نسب معلوم ہو سکے باپ تک نسب بیان کرنا کافی نہ ہوگا بلکہ دادا تک نسب بیان کرنا ضروری ہے تاکہ اس کا نسب معلوم ہو جائے اس لیے کہ دادا تک نسب معلوم۔ ہی ہوتا ہے اور اس لیے بھی کہ اس کا یہ نسب نامہ دادا تک قاضی کے یہاں ثابت نہیں اس لیے تو اس کو دعویٰ کی ضرورت پڑھی،اس لیے شرط لگائی گئی ہے بیان نسب کی تاکہ مدعی کے بارے میں جانا جائے کہ وہ میت کا حقیقی بھائی ہے۔
وَقَالَ فِي فَتَاوَى رَشِيدِ الدِّينِ: ادَّعَى أَنَّهُ ابْنُ عَمِّ الْمَيِّتِ يَحْتَاجُ إلَى أَنْ يَذْكُرَ نِسْبَةَ الْأَبِ وَالْعَمِّ إلَى الْجَدِّ لِيَصِيرَ مَعْلُومًا؛ لِأَنَّ انْتِسَابَهُ إلَى الْجَدِّ يَصِيرُ مَعْلُومًا؛ لِأَنَّ انْتِسَابَهُ بِهَذِهِ النِّسْبَةِ لَيْسَ بِثَابِتٍ عِنْدَ الْقَاضِي فَيُشْتَرَطُ الْبَيَانُ لِيَعْلَمَ الْمُدَّعِي أَنَّهُ أَخُوهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ.
اور اگر گواہوں نے گواہی دی مگر انہوں نے اس کے باپ دادے کا نام ذکر نہیں کیا تو ان کی شہادت قبول نہیں کی جائے گی کامل تعارف نہ پائے جانے کی وجہ سے دعوی مکمل نہیں ہوا، بعض حضرات نے فرمایا کہ ان کی گواہی قبول کی جائے گی اس لیے کہ امام محمد رحمہ اللہ تعالی نے ایک کتاب میں ذکر فرمایا ہے کہ اگر مدعی نے گواہ پیش کیے کہ مدعی میت کا حقیقی بھائی ہے تو اس کے گواہوں کی گواہی قبول کی جائے گی اور اس میں دادا کا ذکر شرط نہیں ہے امام محمد کا مسلک یہی ہے کہ صرف باپ تک نسب بیان کرنا ضروری ہے دادا تک نسب کا بیان کرنا ضروری نہیں شمس الائمہ سرخسی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں اگر کسی نے میت کا بھائی ہونے کا دعوی کیا تو دادا وغیرہ کا نام ذکر کرنا ضروری نہیں ہے بہرحال اگر دعوی کرے کہ وہ میت کا چچا زاد بھائی ہے، مصنف فرماتے ہیں کہ باپ دادا کا ذکر کرنا اور ان تک نسب بیان کرنا ضروری ہوگا۔
وَلَوْ شَهِدُوا وَلَمْ يَذْكُرُوا اسْمَ الْأَبِ أَوْ الْجَدِّ لَا تُقْبَلُ لِعَدَمِ التَّعْرِيفِ وَقِيلَ تُقْبَلُ؛ لِأَنَّهُ ذَكَرَ مُحَمَّدٌ مَرَّةً فِي الْكِتَابِ بَرْهَنَ أَنَّهُ أَخُوهُ لِأَبِيهِ وَأُمِّهِ تُقْبَلُ، وَلَمْ يُشْتَرَطْ ذِكْرُ الْجَدِّ وَذَكَرَ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ السَّرَخْسِيُّ فِي الْأَخِ: لَا يُشْتَرَطُ ذِكْرُ اسْمِ الْجَدِّ وَغَيْرِهِ أَمَّا لَوْ ادَّعَى أَنَّهُ ابْنُ عَمِّهِ لَا بُدَّ أَنْ يَذْكُرَ اسْمَ أَبِيهِ وَجَدِّهِ.
No comments:
Post a Comment