Wednesday, August 7, 2024

d 26


اسی پانچویں قسم کی دوسری مثال باب الوکالۃ میں ذکر کی گئی ہے کہ بقول فقہاء اگر کوئی شخص کسی آدمی کو عین کے قبضے کا وکیل بنائے تو وہ وکیلِ خصومت (معاملہ اگر کسی وجہ سے قاضی کے پاس گیا ) کا وکیل نہیں ہوگا مثلا زید نے بکر کو وکیل بنایا کہ عمرو کے پاس میرا قلم ہے اس سے قلم وصول کیجئے اور خود زید کہیں چلا گیا اب بکر نے جب عمرو سے مطالبہ کیا کہ میں زید کا وکیل ہوں آپ زید کا قلم میں حوالہ کیجئے تو عمرو نے واپس زید پر دعوی کیا کہ میں تو قلم اس سے خرید چکا ہوں اور معاملہ عدالت میں پہنچا تو قاضی عمرو کا دعوی سنے گا گواہ بھی قبول کرے گا مگر دفع خصومت کے لیے کیوں کہ فی الحال قلم پر عمرو کا قبضہ ہے اور ظاہری قبضہ دوسرے کے استحقاق کے لیے دافع بننے کی صلاحیت رکھتا ہے ”ان الظاہر یدفع الاستحقاق“ البتہ عمرو جو شراء قلم کا دعویٰ کرہا ہے اس شراء سے متعلق نہ اس کا دعویٰ سنا جائے گا اور نہ اس کے گواہ قبول کئے جائیں گے، کیوں کہ شراء سے عمرو کی ملکیت قلم پر ثابت ہوگی اور ملکیت کے ثبوت کے لیے ظاہری قبضہ کافی نہیں ان الظاہر یدفع الاستحقاق ولا یوجب الاستحقاق ( القواعد الفقہیہ ) ہاں اگر عمرو ظاہری قبضہ کے ساتھ ساتھ بذریعہ شراء قلم کی ملکیت پر گواہان بھی پیش کر دے تب تو عمرو کی ملکیت درست ہونی چاہے لیکن چوں کہ یہاں زید موکل و مدعی علیہ خود حاضر نہیں اور اس نے بکر کو وکیل خاص بنایا کہ بکر کو صرف عین پر قبضہ کا وکیل بنایا ہے،بکر وکیل عام نہیں کہ عدالت میں خصومت کا بھی وکیل بنے اس لے قاضی عمرو مدعی ( پہلا مدعی علیہ) کا دعوی سنے گا گواہ قبول کرے گا لیکن اد دعوی پر عمل درآمد آمد نہیں کرے گا بلکہ موکل زید کے آنے تک معاملہ موقوف رکھے گا،اسی کو مصنف نے فرمایا ہے کہ اگر مدعی علیہ اپنے دعوی پر گواہ قائم کرے اس بات پر کہ اس نے فلاں چیز اس سے خریدی ہے جس نے اس کو وکیل بنایا ہے یعنی وکیل کے موکل سے تو اس کے گواہ قبول نہیں کیے جائیں گے شراء کے اثبات کے لیے، اگر گواہ قبول ہوں گے دفع خصومت کے لیے پس جب قاضی دفع خصومت کے لیے اس کے گواہ سنے گا تو فورا اس کے لیے فیصلہ نہیں کرے گا، بلکہ حکم موقوف رکھے یہاں تک کہ مؤکل خود حاضر ہوجائے۔ 
وَمِنْهَا مَا ذَكَرَهُ فِي بَابِ الْوَكَالَةِ لَوْ وَكَّلَهُ فِي قَبْضِ الْعَيْنِ، لَا يَكُونُ وَكِيلًا بِالْخُصُومَةِ فِي قَوْلِهِمْ، حَتَّى لَوْ أَقَامَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ الْبَيِّنَةَ أَنَّهُ اشْتَرَاهَا مِنْ الَّذِي وَكَّلَهُ، لَمْ تُقْبَلْ بَيِّنَتُهُ فِي إثْبَاتِ الشِّرَاءِ وَتُسْمَعُ بَيِّنَتُهُ لِدَفْعِ الْخُصُومَةِ، فَإِذَا سُمِعَتْ فَلَا يُحْكَمُ لَهُ وَيُتَوَقَّفُ، فِيهِ حَتَّى يَحْضُرَ الْمُوَكِّلُ.
پانچویں دعوی کی تیسری مثال وہ یہ ہے کہ جب مدعی دعوی کرے کہ اس نے اپنی بیوی سے صحبت کی ہے اور بیوی عم صحبت کا دعویٰ کرے پھر عورتوں نے گواہی دیں کہ ہاں اس کی بیوی باکرہ ہے تو قاضی اس مدعی شوہر کو مہلت دے گا جیسے کہ دنیا کو مہلت دی جاتی ہے ہاں مہلت کے بعد قاضی تفریق کرے گا اس لیے جس اصل کا دعوی عورت کر رہی تھی ( عدم صحبت اور باکرہ ہونا اصل اور استصحاب حال کے موافق ہے) اس کی تائید ایک موید ( مہلت) سے ہوئی ہے، اس لیے بھی کہ بکارت اصل ہے جب عورت باکرہ ہے تو اس کا مطلب شوہر نے عورت سے صحبت نہیں کی ہے۔ 
وَمِنْهَا مَا إذَا ادَّعَى الرَّجُلُ الْإِصَابَةَ وَادَّعَتْ الزَّوْجَةُ عَدَمَهَا، فَشَهِدَتْ النِّسَاءُ أَنَّهَا بِكْرٌ يُؤَجَّلُ كَمَا فِي الْعِنِّينِ وَيُفَرَّقُ بَعْدَ مُضِيِّ الْأَجَلِ؛ لِأَنَّهَا تَأَيَّدَتْ بِمُؤَيِّدٍ؛ إذْ الْبَكَارَةُ أَصْلٌ.
پانچویں قسم کی چوتھی مثال ہے، زید اور بکر غلام کی ملکیت میں شریک تھے زید مثلا کشمیر چلا تھا گھومنے پھرنے کے لیے کہ اتنے میں دو اجنبی آدمیوں نے قاضی کے پاس گواہی دی کہ زید نے اس غلام سے اپنا حصہ آزاد کیا ہے تو یہ مسئلہ پہلے بیان ہو چکا ہے عتق میں تجزی نہیں جب احد الشریکین غلام کو آزاد کرے تو غلام پورا کا پورا آزاد ہو جائے گا تو کیا یہاں بھی قاضی گواہوں کی گواہی کے فی الفور زید کی عدم موجودگی میں غلام کی آزادی کا حکم دے گا؟ جواب کہ نہیں قاضی فیصلہ سے توقف کرے گا زید کے آنے تک البتہ جب تک زید نہ آئے غلام اور بکر ( جو اس کا دوسرا آقا ہے جس نے آزاد نہیں کیا ہے) کے درمیان قاضی فی الحال تفریق کرے گا اور جب زید آئے گا تو قاضی گواہوں کی گواہی زید کی موجودگی میں دوبارہ لے گا،محیط میں یہی مسئلہ ذکر ہے۔ 
اب یہاں یہ سوال ہے کیا مدعی کے دعوی کے بغیر بھی گواہی درست ہے ؟ 
جواب : حقوق اللہ میں درست ہے حقوق العباد میں نہیں اور عتق بھی حقوق اللہ ہے کما تقدم۔ 

وَمِنْهَا شَهِدَ أَجْنَبِيَّانِ عَلَى أَحَدِ الشَّرِيكَيْنِ أَنَّ شَرِيكَهُ الْغَائِبَ أَعْتَقَ حِصَّتَهُ مِنْ هَذَا الْعَبْدِ، يُحَالُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْحَاضِرِ وَلَا يُحْكَمُ بِعِتْقِهِ حَتَّى يَقْدُمَ الْغَائِبُ فَتُعَادُ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ مِنْ الْمُحِيطِ. 
چھٹی قسم: اس کی مثال ظاہر و باہر ہے کیونکہ اکثر اسی قسم کے مسائل دار القضاء میں دائر نمبر ہوتے ہیں، جس میں دعوی بھی سنا جاتا ہے گواہ بھی لیے جاتے ہیں اور مدعی سے دعوی کے مطابق جوابِ دعوی بھی طلب کیا جاتا ہے۔ 
النَّوْعُ السَّادِسُ: ظَاهِرُ التَّصَوُّرِ.
ساتویں قسم وہ دعوی ہے کہ جس میں نہ تو دعوی سنا جائے گا اور نہ ہی گواہ لیے جائیں گے بلکہ مدعی جس چیز کا دعوی کر رہا ہے اس سے اس چیز کا جرمانہ لیا جائے گا اس کا ضمان لیا جائے گا اس کی مثال دیتے ہوئے مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جیسے کہ ایک شخص پر ودیعت کا دعوی کیا گیا اور مدعی علیہ اصلاً تو انکار کرے کہ میرے پاس آپ نے کوئی ودیعت نہیں رکھی پھر جب مدعی نے اس پر گواہ قائم کیے تو اب وہ کہہ رہا ہے اچھا اچھا وہ ودیعت ہاں ہاں وہ ودیعت تو آپ نے میرے پاس رکھی تھی چناں گواہ قائم کرنے کے بعد اب اس ودیعت کا تو اقرار کیا لیکن ساتھ میں کہہ رہا ہے میں تو وہ آپ کو لوٹا چکا ہوں گویا اب واپس مدعی علیہ رد ودیعت کا دعوی کر رہا ہے تو مصنف نے فرمایا کہ اگر اس نے اب رد ودیعت کا دعوی کیا اور وہ رد ودیعت پر گواہ بھی قائم کرنا چاہتا ہے، لیکن اب اس مدعی علیہ ( جو کہ رد ودیعت کے دعوی سے مدعی بننا چاہتا ہے) سے رد ودیعت کا دعوی نہیں سنا جائے گا نہ اس کے گواہوں کو قبول کیا جائے گا یعنی اسے اپنے دعوت پر گواہ قائم کرنے کی قدرت نہیں دی جائے گی بلکہ اس پر جس چیز کا دعوی کیا گیا ہے اس کا ضمان لیا جائے گا اور اس کی فقہ میں بہت ساری مثالیں مذکور ہیں۔ 
النَّوْعُ السَّابِعُ: كَمَنْ اُدُّعِيَ عَلَيْهِ بِوَدِيعَةٍ فَجَحَدَهَا أَصْلًا فَأُقِيمَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ بِهَا فَادَّعَى أَنَّهُ رَدَّهَا وَأَرَادَ إقَامَةَ الْبَيِّنَةِ عَلَى ذَلِكَ، فَلَا تُسْمَعُ دَعْوَاهُ وَلَا يُمَكَّنُ مِنْ إقَامَةِ الْبَيِّنَةِ عَلَى مَا ادَّعَاهُ، وَلَهَا نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ فِي الْفِقْهِ.

[فَصْل تَقْسِيم الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ]
یہ فصل مدعی علیہ کی تقسیم کے بیان میں۔اس تیسری فصل میں مدعی علیہ کے اقسام یان کریں گے اور فرمایا کہ مدعی علیہ کی چار قسمیں ہیں (١) دعوی کیا جائے ایسے مدعی علیہ پر جو حاضر ہو اور اپنے معاملے کا خود مالک و مختار ہو (٢) دعویٰ کیا جائے ایسے مدعی علیہ پر جو بچہ یا ایسا مجنون وغیرہ ہو جس پر ولی کو قائم کیا گیا ہو یا دگر الفاظ میں کہئے کہ دعوی کیا جائے ایسے مدعی علیہ پر جو اپنے معاملے کا مالک نہ ہو (٣) دعوی کیا جائے ایسے مدعی علیہ پر جو حاضر نہ ہو (٤) دعوی کیا جائے یتیم کے مال میں۔ 
الْفَصْلُ الثَّالِثُ فِي تَقْسِيمِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ وَهُمْ عَلَى أَرْبَعَةِ أَقْسَامٍ: دَعْوَى عَلَى الْحَاضِرِ الْمَالِكِ لِأَمْرِهِ، وَدَعْوَى عَلَى الصَّغِيرِ وَالسَّفِيهِ الْمُوَلَّى عَلَيْهِ وَدَعْوَى عَلَى الْغَائِبِ وَدَعْوَى فِي مَالِ الْيَتِيمِ.
پہلی قسم: کسی عاقل و حاضر شخص پر دعویٰ کرنا اور ایسے مدعی علیہ پر دعوی کی صحت کے لیے جو چیزیں شرط لگائی جاتی ہیں ان کا ذکر گذر چکا ہے اب ان کو یہاں دوبارہ بیان کرنے کی حاجت نہیں ہے، فمن شاء الاطلاع فلیراجع۔ 
الْقِسْمُ الْأَوَّلُ: الدَّعْوَى عَلَى الْحَاضِرِ الرَّشِيدِ، وَيُشْتَرَطُ فِي صِحَّةِ الدَّعْوَى عَلَيْهِ مَا تَقَدَّمَ وَذَلِكَ يُغْنِي عَنْ إعَادَتِهِ.
دوسری قسم: بچے یا سفیہ و مجنون پر دعوی کرنا۔ 
الْقِسْمُ الثَّانِي: الدَّعْوَى عَلَى الصَّغِيرِ وَالسَّفِيهِ.
چنانچہ اگر ایسے بچے پر دعوی کیا گیا ہے جس پر حجر لگایا گیا ہو جبکہ اس کا وصی بھی حاضر ہو تو پھر بچے کا دار القضاء میں حاضر کرنا شرط نہیں ہے ااگر وصی کے اپنے عمل سے بچے کے مال میں دین لازم ہوا ہو یعنی وصی نے بچے کے مال میں کوئی تصرف کیا جس کی وجہ سے بچے کے مال میں دین لازم ہوا تو پھر بچے کا دار القضاء حاضر کرنا شرط نہیں ہے اور اگر بچے کے مال میں دین خود بچے کے عمل سے لازم ہوا جیسے کہ بچہ کوئی چیز کسی کی ھلاک و تلف کر دے یا اس طرح کا کا کوئی فعل بچہ کر لے تو پھر بچے کا دار القضاء حاضر کرنا شرط ہوگا اور یہ اس لیے ہوگا تاکہ گواہ جو گواہی دیں تو ان کو بچے کی طرف اشارہ کرنے کی ضرورت پڑے گی۔ 
لَوْ اُدُّعِيَ عَلَى صَبِيٍّ حُجِرَ عَلَيْهِ وَلَهُ وَصِيٌّ حَاضِرٌ لَا يُشْتَرَطُ إحْضَارُ الصَّبِيِّ، وَلَوْ وَجَبَ الدَّيْنُ بِمُبَاشَرَةِ هَذَا الْوَصِيِّ لَا يُشْتَرَطُ إحْضَارُ الصَّبِيِّ، وَلَوْ وَجَبَ لَا بِمُبَاشَرَتِهِ كَإِتْلَافٍ وَنَحْوِهِ يُشْتَرَطُ إحْضَارُهُ.

(مَسْأَلَةٌ) :
اسی دوسری قسم کی مثال بیان کر رہے ہیں فرماتے ہیں کہ اگر محجور علیہ بچے پر کسی مال کا دعوی کیا گیا کہ بچے نے ہلاک کیا یا غصب کیا، چناں چہ اگر مدعی کہے کہ میرے پاس گواہ حاضر ہیں تو بچے کا دار القضاء حاضر کرنا شرط ہوگا اس لیے کہ یہی بچہ تو ہے جس کے افعال کا مواخذہ ہوگا یعنی اسی کے فعل کا تو دعویٰ کیا گیا ہے اور اسی کے عمل پر ضمان لازم کیا جائے گا اس لیے گواہان کو گواہی دیتے وقت اس کی طرف اشارہ کرنے کی احتیاج ہوگی کہ ہاں یہی بچہ ہے جس کے خلاف ہم گواہی دے رہے ہے ہیں یا ہاں یہی بچہ ہے جس نے اس چیز کو ہلاک کیا ہے چناں چہ ہر چند اس بچے کی طرف اشارہ کرنے کی ضرورت پڑے گی اس لیے بچے دار القضاء حاضر کرنا شرط ہے اور اس کے بچے کے ساتھ ساتھ اس کے باپ یا وصی کا حاضر ہونا بھی ضروری ہے اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے کیونکہ جو چیز بچے پر لازم و ثابت ہوگی اس چیز کو باپ یا وصی ہی تو ادا کریں گے اس لیے وصی یا باپ کا دار القضاء میں بچے کے ساتھ ہونا ضروری ہے اور اگر بچے کا نہ باپ ہو نہ کوئی وصی ہو اور مدعی قاضی سے مطالبہ کرے کہ بچے کا وصی مقرر کیجئے! تو قاضی بچی کے لیے وصی بھی مقرر کرے گا لیکن وصی مقرر کرنے کے لیے بھی بچے کا حاضر کرنا شرط ہوگا کیونکہ یہ تو پتہ چلے کہ اس بچے کا وصی مقرر کیا جا رہا ہے تو اس بچے کی طرف اشارہ کرنے کی ضرورت پڑے گی ورنہ پتہ ہی نہیں بچہ کون ہے وصی کس کا مقرر کیا جا رہا ہے اس لیے بچے کا وصی مقرر کرنے کے لیے بھی بچے کا دار القضاء حاضر ہونا ضروری ہے
اُدُّعِيَ عَلَى صَبِيٍّ حُجِرَ عَلَيْهِ مَالًا بِإِهْلَاكٍ أَوْ غَصْبٍ لَوْ قَالَ الْمُدَّعِي: لِي بَيِّنَةٌ حَاضِرَةٌ، يُشْتَرَطُ حَضْرَةُ الصَّبِيِّ؛ لِأَنَّهُ مُؤَاخَذٌ بِأَفْعَالِهِ وَيَحْتَاجُ الشُّهُودُ إلَى الْإِشَارَةِ إلَيْهِ، لَكِنْ يَحْضُرُ مَعَهُ أَبُوهُ أَوْ وَصِيُّهُ لِيُؤَدِّيَ عَنْهُ مَا يَثْبُتُ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ أَبٌ أَوْ وَصِيٌّ وَطَلَبَ الْمُدَّعِي أَنْ يُنَصَّبَ لَهُ وَصِيٌّ، يُنَصِّبُ لَهُ الْقَاضِي وَصِيًّا لَكِنْ يُشْتَرَطُ حَضْرَةُ الصَّبِيِّ لِنَصْبِ الْوَصِيِّ.
بعض متأخرین فرماتے ہیں کہ دعویٰ کے وقت بچے کا دار القضاء حاضر ہونا شرط ہے چاہے بچہ مدعی ہو یا مدعی علیہ لیکن درست، مجمع علیہ اور اتفاقی بات یہ ہے کہ دودھ پیتے بچے کا دارالقضاء حاضر کرنا ضروری نہیں ہے جیسا کہ محیط میں یہی مذکور ہے اور فتاوی رشیدیہ میں مذکور ہے کہ وصی کے مقرر کرنے کے لیے بچے کا دار القضاء حاضر ہونا شرط نہیں ہے البتہ یہ شرط ہے کہ قاضی کے علم میں بچے کی موجودگی کا علم ہو یعنی قاضی کو پتہ ہو کہ ایسا بچہ ہے جس نے کوئی مال تلف کیا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی بچہ ہے ہی نہیں خوامخواہ دعویٰ کیا جا رہا ہے اور اس کے لیے وصی مقرر کیا جا رہا ہے بچہ ہو تب ہی تو دعوی صحیح ہوگا اس لیے قاضی کے علم میں کم از کم اتنا ہونا چاہیے کہ ایسا بچہ ہے جس کا نام لیا گیا ہے وہ پیدا بھی ہوا ہے وہ دنیا میں ہے اور یہ بھی قاضی کے علم میں ہونا چاہیے کہ یہ بچہ اسی قاضی کی ولایت میں ہیں ایسا نہ ہو کہ وہ کسی اور ملک میں ہو اور یہ کسی اور ملک میں چناں چہ جس بچے پر مدعی دعوی کر رہا ہے وہ اسی قاضی کی ولایت میں ہے یا نہیں اس کا علم قاضی کو ہونا بھی ضروری ہے۔ 
وَقَالَ بَعْضُ الْمُتَأَخِّرِينَ: حَضْرَةُ الصَّبِيِّ عِنْدَ الدَّعْوَى شَرْطٌ، سَوَاءٌ كَانَ الصَّبِيُّ مُدَّعِيًا أَوْ مُدَّعًى عَلَيْهِ وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ لَا يُشْتَرَطُ حَضْرَةُ الْأَطْفَالِ الرُّضَّعِ، كَذَا فِي الْمُحِيطِ وَقَالَ فِي الْفَتَاوَى الرَّشِيدِيَّةِ، لَا يُشْتَرَطُ حَضْرَةُ الصَّبِيِّ لِنَصْبِ الْوَصِيِّ بَلْ يُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ الْقَاضِي عَالِمًا بِوُجُودِ الصَّبِيِّ، وَأَنْ يَكُونَ الصَّبِيُّ فِي وِلَايَتِهِ.
اس کے بعد مصنف رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ مذکورہ عبارت ( متأخرین کا قول و فتاوی رشیدیہ کی عبارت سے بعض حضرات نے سمجھا کہ) یہ دلیل ہے اس بات کی کہ بچے کا حاضر ہونا دعوے کے وقت اور قضاء کے وقت شرط نہیں ہے لیکن مختار مذہب یہی ہے کہ دعوی کے وقت بچے کا حاضر ہونا ضروری ہے فیصلے کے وقت ضروری نہیں ہے۔ 
قَالَ: هَذَا دَلِيلٌ عَلَى أَنَّهُ لَا يُشْتَرَطُ حَضْرَتُهُ عِنْدَ الدَّعْوَى وَالْقَضَاءِ، وَلَكِنَّ الْمُخْتَارَ أَنَّهُ يُشْتَرَطُ حَضْرَتُهُ عِنْدَ الدَّعْوَى.

No comments:

Post a Comment