Thursday, August 1, 2024

d 21

مذکورہ اصول پر دوسری مثال بیان کر رہے ہیں یعنی اوپر والی مثال میں سمجھایا تھا کہ بعض حضرات کے نزدیک دعوی کی صحت کے لیے اتنا کافی ہے کہ دعوی سے مدعی کو کچھ نہ کچھ فائدہ ہونا چاہیے اور بعض حضرات کے نزدیک دعوی کے لیے ضروری ہے کہ اس سے مدعی  سے کوئی چیز نکالنا لازم آئے مدعی سے کسی شئ کا استخراج لازم آئے، چنانچہ فرمایا اگر مدعی کے سلسلے میں اختلاف ہو گیا اس طور پر کہ مدعی مدعی علیہ سے قسم کو طلب کرے اور قاضی سے کہے قاضی صاحب! آپ مدعی علیہ سے فلاں معاملے میں قسم لیجئے اور مدعی علیہ واپس مدعی پر دعویٰ کرے کہ آپ نے مجھے سے پہلے قسم کھلوا چکے ہیں اور میں نے آپ کے لیے ایک مرتبہ قسم کھا چکا ہو ( چاہے اس عدالت میں یا کسی اور عدالت میں) بس آپ ( مدعی) میرے لیے حلف اٹھائیے کہ آپ نے مجھے  سے پہلے ایک مرتبہ حلف نہیں لے چکے ہیں، اس کو یوں سمجھیے کہ زید نے عمرو پر دعوی کیا لیکن زید کے پاس گواہ نہ تھے اس نے عمرو مدعی علیہ سے کہا کہ آپ قسم کھائیے اور عمرو مدعی علیہ  واپس مدعی کے طور پر کہہ رہا ہے کہ آپ نے مجھے اس سے پہلے قسم کھانے کو کہا اور میں ایک مرتبہ آپ کے لیے قسم کھا چکا ہوں اب آپ قسم کھائیے میرے لیے کہ آپ نے مجھے اس سے پہلے قسم نہیں کھلوائی گویا عمرو جو مدعی علیہ تھا زید کا وہ اب مدعی بن رہا ہے زید کے لیے اور زید جو مدعی تھا عمرو کا وہ اب مدعی علیہ بن رہا ہے عمرو کا۔ 
بس جو حضرات اس بات کے قائل ہیں کہ زید مدعی علیہ ( جو پہلا مدعی ہے) سے عمرو مدعی کے لیے قسم کھلوائی جائے گی وہ سمجھتے ہیں کہ اس اصول میں معتبر یہ کہ دعوی ایسا ہو کہ اگر مدعی علیہ (پہلا مدعی زید) اقرار کرے قسم کا کہ جی میں پہلے قسم کھلوا چکا ہوں تو مدعی ( پہلا مدعی علیہ عمرو)کو کوئی فائدہ نہ ہو زید کے اقرار سے بس اس اصول پر کہ جب قسم کھلوائے جائے اس شخص کو جس نے بینہ قائم کیا یعنی زید ( پہلا مدعی دوسرا مدعی علیہ)اور اس کے گواہوں کی عدالت بھی ہو گئی اس بنا پر کہ وہ اپنے گواہوں کے فسق کو نہ جانتا ہے اور ان کے فسق پر مطلع نہیں ہے جو کہ مدعی علیہ کہہ رہا ہے کہ میں جانتا ہوں تو اپنے گواہوں کے فسق کو جانتا ہے یعنی تیرا اپنے گواہوں کے فسق کے جاننے کو میں جانتا ہوں اس لیے اس سے کہہ رہا ہے کہ آپ اپنے گواہوں کی مجروحت کے بارے میں قسم کھائیے بس اسی طرح جب مدعی علیہ عمرو، زید مدعی سے کہے کہ آپ قسم کھاؤ کہ آپ نے مجھ سے پہلے حلف نہیں لیا اس حق پر جس کا فیصلہ ہوچکا ہے، پس قاضی کو یہاں چاہئے کہ مدعی زید ( ثانیاً مدعی علیہ) سے قسم لے اس لیے کہ جس چیز ( ماقبل میں استحلاف) کا اس پر دعوی کیا جا رہا ہے اگر وہ اس کا اقرار کرلے تو اس پر لازم ہو جائے گا(اب دوبارہ قسم نہ لینا) اس لیے کہ مستحق علیہ ( مدعی علیہ اول عمرو پر حلف ) ایک ہی حلف ہے، اور مدعی اول (زید) کے لیے گنجائش نہیں کہ مدعی علیہ اول (عمرو) سے دوبارہ قسم کھلائے۔ خلاصہ یہ کہ جن حضرات کے نزدیک دعویٰ کی حقیقت یہ ہے کہ دعویٰ سے مدعی کو کچھ فائدہ ہونا چاہیے مدعی علیہ سے کسی چیز کا استخراج ہو یا نہ ہو اس سے کوئی مطلب نہیں جیسا کہ یہی متاخرین احناف کا معتمد قول ہے ان کے نزدیک عمرو مدعی علیہ کا مدعی زید پر استحلاف ما مضی کا دعویٰ کرنا درست ہوگا اور عمرو کا دعویٰ ( جس کی وجہ سے وہ اب مدعی استخلاف اور زید مدعی علیہ استحلاف ما مضی بن رہے ہیں) زید کے خلاف قابل سماع ہوگا کیوں کہ عمرو کو دعویٰ سے کچھ نہ کچھ تو فائدہ ہو رہا ہے اگر چہ کسی چیز کا استخراج نہیں ہو رہا ہے۔ 
اب یہاں یہ اصول بیان کر رہے ہیں جب کبھی قاضی کے یہاں مقدمہ دائر نمبر ہو اور تاریخ سماعت پر فریقین اور ان کے گواہوں کے بیانات قلم بند ہوں اگر مدعی علیہ سے قسم کی نوبت آئے تو قاضی مدعی علیہ سے قسم لے اور پھر مسل میں اس بات کو لکھ کر محفوظ کر لے کہ اس معاملے میں مدعی سے قسم لی گئی اور نیچے قاضی اپنے دستخط ثبت کر لے تا کہ دوبارہ کبھی اسی معاملہ میں مدعی علیہ سے قسم لینے کا دعویٰ نہ کیا جائے کیوں کہ قسم صرف ایک بار لینی ہے، محیط برہانی میں یہی مسئلہ مذکور ہے ۔ 

وَكَذَا اخْتَلَفُوا فِي الْمُدَّعِي إذَا طَلَبَ يَمِينَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهُ الْمَطْلُوبُ: كُنْت اسْتَحْلَفْتنِي فَاحْلِفْ لِي أَنَّك لَمْ تَسْتَحْلِفْنِي، فَمَنْ ذَهَبَ إلَى اسْتِحْلَافِهِ رَأَى أَنَّ الْمُعْتَبَرَ فِي هَذَا الْأَصْلِ أَنْ تَكُونَ الدَّعْوَى لَوْ أَقَرَّ بِهَا الْمُدَّعَى عَلَيْهِ لَا تَنْفَعُ الْمُدَّعِي بِإِقْرَارِهِ، فَيَجِبُ عَلَى هَذَا أَنْ يَحْلِفَ مَنْ أَقَامَ بَيِّنَةً وَعُدِّلَتْ عَلَى أَنَّهُ لَمْ يَعْلَمْ بِفِسْقِهِمْ وَلَا اطَّلَعَ عَلَيْهِ إذَا قَالَ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ أَنَا أَعْلَمُ بِعِلْمِك بِفِسْقِ شُهُودِك، وَكَذَلِكَ إذَا قَالَ لَهُ احْلِفْ لِي أَنَّك لَمْ تَسْتَحْلِفْنِي عَلَى هَذَا الْحَقِّ فِيمَا مَضَى، فَالْقَاضِي يُحَلِّفُهُ؛ لِأَنَّهُ ادَّعَى عَلَيْهِ شَيْئًا لَوْ أَقَرَّ الْمُدَّعِي لَزِمَهُ؛ لِأَنَّ الْمُسْتَحَقَّ عَلَيْهِ يَمِينٌ وَاحِدَةٌ وَلَمْ يَكُنْ لِلْمُدَّعِي أَنْ يُحَلِّفَهُ يَمِينًا ثَانِيَةً، وَلِذَا مَضَى الْقَضَاءُ فِي هَذِهِ الْمَسْأَلَةِ أَنَّ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ إذَا حَلَفَ فَإِنَّ الْقَاضِيَ يَبْذُلُ لَهُ الْخَطَّ حَتَّى لَا يَحْلِفَ مَرَّةً أُخْرَى " اُنْظُرْ الْمُحِيطَ ".
یہاں سے یہ اصول بیان کر رہے ہیں کہ اگر کسی مدعی نے مدعی علیہ پر دعوی کیا ساتھ گواہ بھی پیش کر دئے اور گواہوں کی تعدیل بھی ہو گئی اب واپس اسی معاملہ میں مدعی علیہ، مدعی بن کر ایس ادعویٰ کر رہا ہے پہلے مدعی ( جو اب مدعی علیہ بن رہا ہے) کے خلاف اگرچہ مدعی (ثانی) کو اس سے کوئی فائدہ نہ ہو تو یہ مدعی علیہ کا واپس دعوی استحلاف کرنا تب درست ہے جب وہ شرعی قواعد کے خلاف نہ ہو اگر شرعی قواعد کے خلاف ہوگا تو پھر اس کا دعوی معتبر نہ ہوگا مثلا زید نے امر پر دعوی کیا گواہ پیش کر دے گواہوں کی تعدیل بھی ہو گئی اب عمرو واپس مدعی زید پر دعوی استحلاف ما قبل کرے تو یہ درست ہے کیونکہ شرعا معتبر ہے قواعد شرع کے مطابق ہے لیکن اگر یہی عمرو قاضی صاحب پر دعویٰ استحلاف کرے کہ قاضی صاحب! آپ قسم کھائیے کہ آپ نے فیصلہ حق بہ جانب کیا ہے کوئی ظلم نہیں کیا ہے چونکہ یہ دعوی  شرعی قواعد کے خلاف ہے اس لیے عمرو کا دعویٰ مسموع نہ ہوگا اوموری قاضی سے قسم نہیں لی جائے یا اسی طرح عمرو مدعی علیہ واپس قاضی سے کہے کہ آپ زید کے گواہوں سے قسم لیجئے تو یہ دعویٰ بھی رد ہوگا کیوں کہ گواہوں کا مقام تو اونچا ہے گواہوں سے قسم نہیں لی جاتی اس لیے عمرو مدعی علیہ کا دعوی اس صورت میں درست نہیں ہوگا ضابطہ یہی ہے کہ مدعی علی اگر دوبارہ دعوی کرے تو اس کا دعوی شرعی قواعد کے مطابق ہو تب درست ہے اسی کو مصنف نے فرمایا کہ اس صورت میں مذہب کا قاعدہ یہ ہے کہ ہر وہ دعوی جب مدعی علیہ اس کا اقرار کر لے تو اگرچہ مدعی کو اس اقرار سے فائدہ بھی نہ ہو تب بھی دعویٰ قابل سماعت ہے اور ج  مدعی علیہ اقرار نہ کرے بلکہ انکار کر لے تو بالجملہ مدعی پر یمین لازم ہو جائے گا لیکن یمین تب لازم ہوگی جب مدعی کے دعویٰ یمین سے کسی شرعی قواعد کے خلاف نہ واقع ہو یا اس کا یہ اقرار شریعت کے قواعد کے اصلاً خلاف نہ ہو اس کی مثال دیتے ہوئے مصنف نے فرمایا کہ محکوم علیہ یا مدعی علیہ قاضی سے یمین طلب کرے کہ انہوں نے ظلم نہیں کیا ہے، تو مدعی کا یہ دعوی درست نہ ہوگا اسی طرح اگر مدعی علیہ زید کے گواہوں سے قسم طلب کرے اس طور پر کہ انہوں نے اپنی گواہی میں جھوٹ نہیں بولا تو اس کا یہ دعوی بھی درست نہیں کیونکہ گواہوں سے قسم نہیں لی جاتی بس یہ ایسا دعوی ہے جس دعویٰ کے سقوط میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں کیوں کہ دعویٰ ہی شرعی قواعد کے خلاف ہے اور اس کی طرف کسی کے التفات نہ ہونے  میں بھی کسی کا اختلاف نہیں اس لیے کہ وہ دعویٰ احکام میں شرعی قواعد کو فاسد کرتا ہے اور شرعی قاعدہ کی مخالفت کرتا ہے اور کسی کے لیے مناسب نہیں کہ قاضی کے رتبے کو گھٹائے یا گواہوں کے رتبے کو کم کرے مگر یہ کہ ایسا دعوی کرے یہاں تک کہ وہ قضاء اور شہادت سے موقوف کی طرف لے جائے جس سے فیصلہ اور گواہی دینا کا عمل ہی معطل ہوجائےاور توقف کرنا پڑے اس لیے اگر ایسا  دعوی کرتا ہے تو وہ دعوی قابل قبول نہیں ہوگا۔ 
 اب یہاں سے ایک اور بات بیان فرما رہے ہیں کہ سوال تھا گواہوں سے قسم تو کبھی کبھی لی جاتی ہے، تو آپ نے کیسے کہا کہ گواہوں سے قسم نہیں لی جائے گی تو اس کے بارے میں جواب دیتے ہوئے فرمایا بہرحال اگرچہ بعض مرتبہ گواہوں سے قسم کھلائی جاتی ہے وہ اس باب میں نہیں اس کا ذکر انشاءاللہ قسم ثالث یعنی سیاست کے باب میں آئے گا کہ کبھی کبھی گواہوں سے بھی قسم لی جاتی ہے لیکن وہ الگ مسئلہ ہے اس طور پر نہیں جیسا کہ یہاں عمرو قسم کھلوانے کو کہہ رہا ہے وہ سیاسی طور پر قاضی کے صوابدید پر منحصر ہے
وَقَاعِدَةُ الْمَذْهَبِ أَيْضًا أَنَّ كُلَّ دَعْوَى إذَا أَقَرَّ بِهَا الْمُدَّعَى عَلَيْهِ لَا نْتَفَعَ الْمُدَّعِيَ بِإِقْرَارِهِ، فَإِنَّهُ إذَا لَمْ يُقِرَّ وَأَنْكَرَ تَعَلَّقَتْ عَلَيْهِ الْيَمِينُ عَلَى الْجُمْلَةِ مَا لَمْ يَخْرُجْ ذَلِكَ أَصْلًا عَنْ قَوَاعِدِ الشَّرْعِ، مِثْلَ أَنْ يَطْلُبَ الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ الْقَاضِيَ بِالْيَمِينِ أَنَّهُ مَا جَارَ عَلَيْهِ، أَوْ يَطْلُبَ الْمَشْهُودُ عَلَيْهِ يَمِينَ الشُّهُودِ أَنَّهُمْ لَمْ يَكْذِبُوا فِي شَهَادَاتِهِمْ، فَإِنَّ هَذَا لَا يَخْتَلِفُ فِي سُقُوطِ الدَّعْوَى وَكَوْنِهَا لَا يُلْتَفَتُ إلَيْهَا؛ لِأَنَّهَا تُفْسِدُ قَوَاعِدَ الشَّرْعِ فِي الْأَحْكَامِ، وَلَا يَشَاءُ أَحَدٌ أَنْ يَحُطَّ مَنْزِلَةَ الْقَاضِي أَوْ الشُّهُودِ إلَّا وَادَّعَى مِثْلَ ذَلِكَ حَتَّى يُؤَدِّيَ ذَلِكَ إلَيَّ الْوُقُوفِ عَنْ الْقَضَاءِ وَالشَّهَادَةِ.

وَأَمَّا تَحْلِيفُ الشُّهُودِ: فَلَيْسَ مِنْ هَذَا الْبَابِ، وَسَيَأْتِي ذِكْرُهُ فِي قِسْمِ السِّيَاسَةِ.

No comments:

Post a Comment