Monday, August 12, 2024

d 30

(مَسْأَلَةٌ) :
اگر دائن اپنے قرض کے وصول کے لیے کفیل سے مطالبہ کرے اور کفیل مدیون غائب کی جانب سے اداءِ دین پر گواہ پیش کر دے تو کفیل کے گواہ سن لیے جائیں گے البتہ کفیل کو مدیون غائب کی طرف سے فریق یعنی وکیل حکمی قرار دیا جائے گا اس لیے کہ دائن کا مدیون کو قرض دینا بغیر کفیل کے ممکن نہیں اسی لیے یہ صورت یہاں اختیار کی گئی کہ کفیل بھی اگر گواہ قائم کر دے مدیون غائب کی طرف سے اداء دین پر تو کفیل سے قرض تو وصول نہیں کیا جائے گا البتہ قاضی مدیون غائب پر فیصلہ کرنے کے لیے اس کفیل کو وکیل مسخر یا وکیل حکمی قرار دے گا فتوی رشید الدین میں یہی مسئلہ نقل کیا گیا ہے۔ 
لَوْ طَالَبَ الدَّائِنُ كَفِيلَهُ بِدَيْنِهِ فَبَرْهَنَ الْكَفِيلُ عَلَى أَدَاءِ الْمَدِينِ الْغَائِبِ يُقْبَلُ وَيَنْتَصِبُ الْكَفِيلُ خَصْمًا عَنْ الْمَدِينِ؛ إذْ لَا يُمْكِنُهُ دَفْعُ الدَّائِنِ إلَّا بِهَذَا، فَكَذَا يُقَالُ هُنَا، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ. مِنْ فَتَاوَى رَشِيدِ الدِّينِ.

(مَسْأَلَةٌ) :
اور اگر دائن مدیون سے وکیل بالخصومت طلب کرے، کفیل کی دو قسمیں ہیں کفیل بالمال اور کفیل بالنفس کفیل بالمال کا مطلب ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کو کفیل بنایا کہ اگر میں قرض نہ لوٹا سکا تو یہ کفیل میری طرف سے قرض ادا کرے گا یعنی مال ادا کرے گا اور کفیل بالنفس کا مطلب ہے کہ مدیون ایک کفیل مقرر کرے کہ اگر میں قرض کی ادائیگی کے لیے حاضر نہ ہوا تو یہ میرا کفیل مجھے حاضر کرے گا یعنی کفیل بالمال میں کفیل مکفول لہ کی طرف مال ادا کرتا ہے جبکہ کفیل بالنفس میں کفیل اپنی طرف سے مال نہیں ادا کرتا ہے بلکہ مدیون کو حاضر کرنے کا کفیل بنتا ہے یہاں ان دونوں صورتوں کے علاوہ تیسری صورت کے بارے میں بتا رہے ہیں کہ اگر دائن مدیون کو قرض دیتے ہوئے کہیے کہ آپ اپنا وکیل بالخصومت مقرر کیجئے، وکیل بالخصومت یہ ہے کہ اگر آپ ( مدیون ) خود حاضر نہ ہوئے تو آپ کا وکیل بالخصومت آپ کی طرف سے عدالت میں فریق بن کر پیروی کرے گا اور اس پر عدالت میں فیصلہ کیا جائے گا، چناں فرمایا کہ وکیل بالخصومت بنانے کے لیے قاضی مدیون پر زبردستی نہیں کرے گا البتہ کفیل بالمال یا بالنفس کے لیے قاضی مدیون پر جبر کر سکتا ہے چنانچہ اگر دائن نے مدیون سے وکیل بالخصومت کا مطالبہ کیا تو قاضی مدیون پر جبر نہیں کرے گا وکل بالخصومت بنانے کے لیے اور اگر مدیون نے دائن کو کفیل بالمدعیٰ دیا کفیل بالمدعی یعنی شئی مدعیٰ کو حاضر کرنے کے لیے کفیل دے دیا یا وکیل بالخصومت دے دیا، لیکن دائن مطالبہ کرے کفیل بالنفس کا تو قاضی کفیل بالنفس دینے کے لیے مدیون کو حکم دے گا ( اور دینے پر جبر بھی کر سکتا ہے) یا نفس وکیل بالخصومت دینے کا بھی مدیون کو حکم دے گا مطلق وکیل بالخصومت کا تو حکم نہیں دے سکتا نہ جبر کر سکتا ہے البتہ نفس وکیل بالخصومت ( صرف عدالت میں غائب کی طرف سے وکیل بننے کے لیے) کا حکم دے سکتا ہے، اور یہ کفیل بالنفس و نفس وکیل بالخصومت کا قاضی اس لیے حکم دے تا کہ اگر مدیون غائب ہو جائے تو ان کے ذریعے اس پر کارروائی کی جا سکے اسی کو مصنف نے فرمایا یہ اس لیے کہ اگر مدیون گواہوں کی گواہی و تزکیہ کے بعد فیصلہ سے پہلے غائب ہو جائے،تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیک تو غائب مدیون پر فیصلہ نہیں کیا جائے گا البتہ امام ابو یوسف پر رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیک قاضی اس کی طرف سے وکیل مسخر کو مقرر کرے کے اس پر فیصلہ کرے گا برخلاف اس کے کہ جب مدیون اقرار کے بعد ( قضاء سے پہلے) غائب ہو جائے تو قاضی ایسی صورت میں اس مدیون مقر کے غائبانہ میں بھی اس کے خلاف فیصلہ کر سکتا ہے اس وجہ سے کہ جو ہم نے بیان کیا یعنی اقرار بھی فی ذاتہ حجت و دلیل ہے لہذا قضاء ہر اس کے حجت ہونے کی نفی نہیں کی جاتی یعنی قضا پر بھی وہ حجت ہے جس طرح وہ فی نفسہ حجت ہے کسی بھی چیز پر، اگر وہ اقرار کرے اور دراصل مدیون کے اقرار کے بعد تو قضاء کی حاجت ہی نہ رہی قضاء کی حاجت تو تب تھی اگر مدیون انکار کرتا یا بغیر اقرار غائب ہو جاتا ہاں البتہ اس بات کی حاجت و ضرورت ہے کہ مستحق تک حق کو کیسے پہنچایا جائے گا کیونکہ مدیون تو اقرار کر کے غائب ہو گیا ہے،اب اقرار کی وجہ سے اس کے خلاف فیصلہ تو کیا جائے گا، جبکہ فیصلہ ضرورت نہیں تھی لیکن جس چیز کا فیصلہ کیا گیا وہ مدعیٰ شئ اس مدعی دائن کو مدیون مدعی علیہ کے غائبانہ میں کیسے دی جائے، اس کی ضرورت و حاجت ہے، شرح تجرید میں یہی مسئلہ مذکور ہے۔ 
إذَا طَلَبَ مِنْهُ الْوَكِيلُ بِالْخُصُومَةِ لَا يُجْبِرُهُ الْقَاضِي عَلَيْهِ، وَإِنْ أَعْطَاهُ كَفِيلًا بِالْمُدَّعَى وَوَكِيلًا بِالْخُصُومَةِ وَطَلَبَ أَنْ يُعْطِيَهُ كَفِيلًا بِنَفْسِهِ، أَمَرَهُ الْقَاضِي أَنْ يُعْطِيَهُ كَفِيلًا بِنَفْسِهِ أَوْ بِنَفْسِ الْوَكِيلِ بِالْخُصُومَةِ إلَى أَنْ يُنْقَضَ؛ لِأَنَّهُ إذَا غَابَ بَعْدَ التَّزْكِيَةِ قَبْلَ الْقَضَاءِ امْتَنَعَ الْقَضَاءُ عَلَيْهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ، وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ يُنَصِّبُ وَكِيلًا عَنْهُ فَيَقْضِي عَلَيْهِ، بِخِلَافِ مَا إذَا غَابَ بَعْدَ الْإِقْرَارِ حَيْثُ يَقْضِي عَلَيْهِ بِإِقْرَارِهِ لِمَا بَيَّنَّا أَنَّ الْإِقْرَارَ حُجَّةٌ فِي نَفْسِهِ، فَلَا يُنْفَى كَوْنُهُ حُجَّةً عَلَى الْقَضَاءِ فَلَا تَمَسُّ الْحَاجَةُ إلَى الْقَضَاءِ حَقِيقَةً وَإِنَّمَا تَمَسُّ الْحَاجَةُ إلَى إيصَالِ الْحَقِّ إلَى الْمُسْتَحِقِّ. مِنْ شَرْحِ التَّجْرِيدِ.

[فَصْلٌ إثْبَاتِ الدَّيْنِ عَلَى الْغَائِبِ]
یہ فصل غائب شخص پر دین کس طرح ثابت ہوگا۔ 
(فَصْلٌ) :

فِي إثْبَاتِ الدَّيْنِ عَلَى الْغَائِبِ.
کفیل کی اور دو قسمیں ہیں عام و خاص یا مطلق و مقید : کفیل مطلق یہ ہے کہ غائب کے ذمہ جتنا بھی قرض ہے وہ اس کا کفیل ہے۔کفیل خاص یہ ہے کہ کسی متعین معاملہ یا دو متعین فریق کے درمیان کفیل ہو چناں چہ مصنف فرماتے ہے غائب شخص پر دین کے ثابت کرنے کا طریقہ یہ ہے اگر غائب پر پورے مال کا کفیل ہو یعنی کفیل مطلق تو پھر مدعی اس کو مجلس میں خبر دے گا کہ آپ فلاں شخص کے کفیل ہیں اور اس پر میرا اتنا قرض ہے چنانچہ مدعی کفیل پر مال مقدر کا دعوی کرے گا اس کے کفیل مطلق ہونے کی وجہ سے پس اگر کفیل کفالت مطلقہ کا اقرار کرے لیکن مدیون پر دین کا انکار کرے کہ مجھے نہیں پتہ اس پر آپ کا دین ہے یا نہیں اور مدعی غائب پر اپنے دین کو گواہوں سے ثابت کر دے تو ایسی صورت میں قاضی کفیل پر اس چیز کا فیصلہ کرے گا جس کا اس پر دعوی کیا گیا ہے یعنی قرض کا اور یہ اس لیے کرے گا کیونکہ اس نے کفالت مطلقہ کا اقرار کیا ہے اگرچہ وہ دین کا انکار کر رہا ہے لیکن چونکہ کفالت کا اقرار کیا ہے اس لیے وہ غائب کی طرف سے وکیل حکمی بن جائے گا اور قاضی اس کے خلاف فیصلہ کرے گا اس کے بعد مدعی اس کفیل کو دین سے بری کرے گا اس کفیل سے قرض نہیں لے گا تو یہ دین خود بخود مدیون پر آ جائے گا یہ اس لیے کہ یہ کفیل غائب کی طرف سے فریق و وکیل حکمی مقرر ہو گیا اور یہ تو تب ہے کہ جب وہ غائب پر تمام مال کا کفیل ہو یعنی یہاں سے یہ بتا رہے کہ کہ اگر کفیل مطلق ہوگا تب دائن قرض کے ثبوت کے بعد اس کو بری کر سکتا ہے تا کہ دین مدیون پر ثابت ہو جائے، لیکن اگر کفیل مطلق نہ ہو بلکہ کفیل معین ہو اور مدعی سے گواہوں سے اس کا کفیل ہونا ثابت بھی کر دے تو قاضی کفیل پر قرض کا فیصلہ تو کرے گا لیکن یہ غائب پر فیصلہ نہیں ہوگا یہ اسی حاضر پر فیصلہ ہوگا یعنی یہاں دائن مدعی اس کفیل معین کو قرض سے بری نہیں کر سکتا تا کہ پیچھے مدیون پر قرض ثابت ہو جائے جیسا کہ کفیل مطلا میں ہوا بلکہ دین اسی کفیل پر ثابت ہوگا قاضی اسی پر فیصلہ کرے گا، اگر دائن اس کفیل معین کو بری کر دے تو معاملہ ہی ختم ہو جائے گا اس لیے کہ یہ وکیل معین ہے یہ اسی چیز کا کفیل تو ہے اگر اس کو بری کر دے گا تو پھر مطالبہ کس سے کرے گا خود مدیون غائب ہے، اسی کو مصنف نے فرمایا کہ اگر ایسا نہ ہو ( یعنی کفیل مطلق نہ ہو) بایں طور کہ مدعی دعویٰ کرے کہ فلاں کا ذمہ اس کا اتنا قرض ہے اور یہ اس کا کفیل ہے اور گواہوں سے اس کا کفیل ہونا ثابت کر دے تو قاضی کا کفیل پر فیصلہ کرنا غائب مدیون پر فیصلہ کرنا نہیں ہوگا غائب پر حکم نہیں ہوگا مگر ایک اور صورت مستثنیٰ ہے وہ یہ کہ اگر وہ کفیل غائب مدیون کے حکم سے کفیل بنا ہو اس کا مطلب یہ ہوا کہ دو صورتوں میں بعد ثبوت قرض کے دائن کفیل کو بری کر سکتا ہے اور اس پر جو کفالت کی وجہ سے دین تھا وہ خود بخود مدیون پر چلا جائے گا اور اسی مدیون پر ثابت ہو جائے گا ایک تو اس صورت میں کہ جب کفیل کفیل مطلق ہو جیسا کہ گذرا دوسری صورت یہ ہے کہ غائب نے خود کسی کو کفیل بنایا ہو یعنی کفیل جو ہے وہ غائب مدیون کے حکم سے بنا ہے نہ کہ دائن کے حکم سے یعنی ایسا نہیں کہ دائن نے قاضی کے پاس مطالبہ کیا تھا کہ یہ شخص اپنا کفیل مقرر کرے بلکہ یہ جو کفیل بنا ہے یہ غائب مدیون کے حکم سے بنا ہے اس صورت میں جب اس غائب مدیون پر دین ثابت ہو جائے گا اور کفیل اقرار کرے کہ ہاں ہم غائب شخص کے حکم سے کفیل بنے تھے تو یہاں پہ اگر دائن اس شخص کو قرض سے بری کر دے تو اس پر قرض ثابت ہونے کے بعد وہ قرض خود بخود مدیون پر ثابت ہو جائے گا اور تیسری صورت یہ ہے کہ کفیل معین ہو اور کفیل دائن کے حکم سے بنا ہو یعنی دائن کے مطالبہ سے بنا ہو تو اس صورت میں قاضی کفیل پر ہی فیصلہ کرے گا اور کفیل کے بری ہونے سے قرض مدیون پر ثابت نہیں ہوگا بلکہ کفیل کے خلاف معاملہ ہی ختم ہوگا اس لیے اس صورت میں کفیل کو بری نہیں کیا جا سکتا ہے۔ 
وَطَرِيقُهُ أَنْ يَكْفُلَ بِكُلِّ مَالِهِ عَلَى الْغَائِبِ، وَيُخَيَّرُ الْمُدَّعِي فِي الْمَجْلِسِ فَيَدَّعِي الْمُدَّعِي عَلَى الْكَفِيلِ مَالًا مُقَدَّرًا بِسَبَبِ الْكَفَالَةِ الْمُطْلَقَةِ فَيُقِرُّ الْكَفِيلُ بِالْكَفَالَةِ وَيُنْكِرُ دَيْنَهُ فَيُبَرْهِنُ الْمُدَّعِي بِدَيْنِهِ عَلَى الْغَائِبِ فَيَحْكُمُ الْقَاضِي عَلَى الْكَفِيلِ بِمَا ادَّعَاهُ عَلَيْهِ بِإِقْرَارِهِ بِكَفَالَتِهِ.ثُمَّ يُبْرِئُ الْمُدَّعِي الْكَفِيلَ فَيَثْبُتُ الدَّيْنُ عَلَى الْغَائِبِ لِانْتِصَابِ الْكَفِيلِ خَصْمًا عَنْ الْغَائِبِ، وَهَذَا إذَا كَانَتْ الْكَفَالَةُ بِكُلِّ مَالِهِ عَلَى الْغَائِبِ، أَمَّا لَوْ لَمْ تَكُنْ بِأَنْ ادَّعَى أَنَّ لَهُ عَلَى فُلَانٍ الْغَائِبِ كَذَا، وَهَذَا الْحَاضِرُ كَفِيلٌ بِهِ فَبَرْهَنَ فَحَكَمَ الْقَاضِي عَلَى الْكَفِيلِ لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ حُكْمًا عَلَى الْغَائِبِ إلَّا إذَا ادَّعَى الْكَفَالَةَ بِأَمْرِ الْغَائِبِ.
اب یہاں سے پہلی ( کفیل مطلق) اور دوسری ( کفیل غائب مدیون کے امر سے بنا ہو نہ کہ دائن کے مطالبہ سے) کا حکم بیان کر رہے ہیں کہ اگر غائب کے تمام مال کا کفیل ہو ( یعنی کفیل مطلق)تو کفیل پر مال معین کا حکم یہ غائب پر حکم ہوگا برابر ہے کہ غائب کے امر سے کفیل بننے کا دعوی ہو یا نہ ہو ذخیرہ میں یہی عبارت ہے اور بعض مشائخ کے کلام سے یہی مسئلہ واضح ہوتا ہے
أَمَّا لَوْ كَفَلَ بِكُلِّ مَالِهِ فَالْحُكْمُ عَلَى الْكَفِيلِ بِمَالٍ مُعَيَّنٍ حُكْمٌ عَلَى الْغَائِبِ، سَوَاءٌ ادَّعَى الْكَفَالَةَ بِأَمْرِهِ أَوْ لَا. مِنْ الذَّخِيرَةِ وَمِنْ كَلَامِ بَعْضِ الْمَشَايِخِ.
قسم رابع: اس قسم میں میت پر کس طرح دعوی کیا جائے گا اس صورت کو بیان کریں گے ابھی تک تو غائب شخص کا مسئلہ تھا چونکہ میت بھی غائب کے حکم میں ہے کہ وہ خود معاملہ کی پیروی نہیں کر سکتا ہے اس لیے اب میت کے بارے بیان ہوگا چناں چہ اگر میت مقروض ہو تو اس پر دعوی کس طرح ثابت کیا جائے گا فرماتے ہیں کہ میت کے مال میں دعویٰ کو نہیں سنا جائے گا ہاں اگر مدعی میت کی وفات کا ثبوت دے دے اور اس کے وارثوں کی تعداد بیان کر دے اور وارثوں میں سے ایک عاقل بالغ وارث بھی اس کے قرض کا اقرار کر لے اگرچہ وہاں پر دوسرے وارثین موجود نہ ہو تو مدعی کے لیے میت پر قرض ثابت ہو جائے گا اب مدعی دائن کو گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں رہی گی کیونکہ اقرار سے ثابت ہو چکا ہے، اقرار کے بعد گواہوں کی حاجت نہیں رہتی الاقرار اقویٰ من البینۃ، گواہوں کی ضرورت وہاں پڑتی ہے خصومت در پیش ہو مدعی علیہ دعویٰ کا انکار کرے۔ 
الْقِسْمُ الرَّابِعُ: الدَّعْوَى عَلَى الْمَيِّتِ، وَلَا تُسْمَعُ الدَّعْوَى فِي مَالِ الْمَيِّتِ إلَّا بَعْدَ ثُبُوتِ وَفَاتِهِ وَعَدَدِ وَرَثَتِهِ فَإِنْ أَقَرَّ الْوَارِثُ الرَّشِيدُ بِهَا وَلَمْ يَكُنْ ثَمَّ غَيْرُهُ لَمْ يُفْتَقَرْ إلَى ثُبُوتِهَا.

(مَسْأَلَةٌ) :
اگر کسی شخص نے میت پر دین کا دعوی کیا اور اس کے وارث چھوٹے بچے ہوں تو ایک کا حاضر ہونا بھی کافی ہوگا ذخیرہ میں یہی مسئلہ ہے۔ 
ادَّعَى دَيْنًا عَلَى الْمَيِّتِ وَلَهُ وَرَثَةٌ صِغَارٌ يَكْفِي حَضْرَةُ الْوَاحِدِ. مِنْ الذَّخِيرَةِ.
(مَسْأَلَةٌ) :
اب یہاں سے مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ ایک عورت نے اپنے شوہر پر اس کے مرنے کے بعد مہر مثل ایک ہزار کا دعوی کیا اور وارثوں نے اقرار بھی کیا کہ ہاں ہمارے باپ نے اس عورت سے شادی تو کی تھی لیکن ہمیں پتہ نہیں ہمارے باپ نے اس کا مہر کتنا رکھا ہوا تھا تو امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک یہاں وارثوں سے قسم نہیں لی جائے گی، اس لیے کہ امام اعظم ابو حنیفہؒ کے نزدیک چند مسائل ہیں جن میں قسم نہیں لی جاتی ان میں ایک نکاح بھی ہے البتہ صاحبین کے قول کے مطابق وارثوں سے قسم لی جائے گی اس طور پر کہ وہ قسم کھائیں کہ اللہ کی قسم ہم نہیں جانتے کہ اس عورت کا مہر کتنا مقرر ہوا تھا تو امام ابو یوسف صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس صورت میں ہم اس عورت کے لیے اقل مہر یعنی دس درہم کو مقرر کرتے ہیں کیونکہ جب ہمارے مہر مثل کا دعوی کیا گیا ہے لیکن وارثین اس مہر کی مقدار ہی نہیں جانتے تو مہر کی اقل مقدار دس درہم تو یقینی ہے اور اس کتنا ہے وہ مشکوک ہے تو الیقین لا یزول بالشک ( القواعد الفقہیہ) یعنی یقینی امر کو شک کی وجہ سے نہیں چھوڑا جائے گا اس لیے یقین کو ترجیح دیتے ہوئے اقل مہر دس درہم ثابت ہو جائے گا۔ 
امْرَأَةٌ ادَّعَتْ عَلَى زَوْجِهَا بَعْدَ وَفَاتِهِ أَلْفَ دِرْهَمٍ مِنْ مَهْرِهَا وَذَلِكَ مَهْرُ مِثْلِهَا، وَقَالَتْ الْوَرَثَةُ: قَدْ عَلِمْنَا أَنَّ أَبَانَا تَزَوَّجَهَا وَلَا نَدْرِي مَا مَهْرُهَا. وَحَلَفُوا عَلَى قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ بِاَللَّهِ مَا يَعْلَمُونَ مَهْرَهَا، قَالَ: إنِّي أَجْعَلُ لَهَا أَقَلَّ الصَّدَاقِ عَشَرَةَ دَرَاهِمَ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ مُتَيَقَّنٌ فِيهِ وَالزِّيَادَةُ مَشْكُوكٌ فِيهَا.

(فَرْعٌ) :
اسی کی ایک اور فرع بیان کر رہے ہیں کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے غلام خریدا، پھر حادثہ پیش آیا مشتری بھی مرا اور غلام بھی مر گیا اب بائع نے مشتری کے وارثین پر دعوی کیا کہ تمہارے مورث نے ہم سے غلام خریدا لیکن ثمن اس کے ذمہ باقی تھا چناں چہ وارثوں نے اقرار کیا کہ ہاں اس نے غلام تو خریدا تھا لیکن اس غلام کی قیمت کتنی تھی وہ ہمیں نہیں پتہ تو فرماتے ہیں کہ وارثوں سے قسم لی جائے گی اس بات پر کہ وہ کہیں کہ اللہ کی قسم ہم نہیں جانتے کہ اس غلام کی قیمت کتنی ہے جب وارثین قسم کھا لیں گے تو اب اس کے بعد اس ثمن کا تعین کیسے ہوگا! اس کے متعق فرمایا کہ قاضی ان تمام وارثین کو قید کرے گا یہاں تک کہ وہ کسی چیز کا اقرار کر لیں اور مزید مال میت اور ان وارثوں کے درمیان میت کا کل مال کو روکے رکھے گا یعنی تقسیم وراثت نہیں ہوگی اور قاضی کل وراثت کو کسی عادل شخص کے قبضے میں رکھے گا یہاں تک کہ وہ اپنے باپ کی طرف سے کسی قیمت کو بیان کریں گے یہ اس وجہ سے کہ اگر وارث انکار کرتے کہ ہمارے باپ نے غلام نہیں خریدا تو پھر بائع کو اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لیے گواہ پیش کرنے کی ضرورت تھی اور وارث پر کوئی چیز لازم نہ ہوتی لیکن چونکہ وہ غلام خریدنے کا اقرار کر چکے ہیں اب بائع مدعی گواہ پیش کرنے سے بری ہو گیا لہذا اب انہی کو قیمت بتانی پڑے گی تاکہ وہ مدعی کو قیمت ادا کی جائے اس لیے جب اقرار کر چکے تو اب جب تک نہ قیمت بیان کریں گے تب تک ان کو قید کیا جائے گا اور مورث کے ترکہ کسی نیک نام آدمی کے قبضہ میں دیا جائے گا فرماتے ہیں یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے ایک آدمی نے اقرار کیا کہ فلاں آدمی کا اس کے باپ پر قرض ہے لیکن وہ نہیں جانتا کہ قرض کتنا ہے تو یہاں بھی ضروری ہے کہ وہ کسی چیز کا اقرار کر لے کہ کتنا قرض ہے ورنہ قاضی اس کے اور اس کے باپ کے ترکہ کے درمیان حائل ہو کر ترکہ موقوف رکھے گا اور وراثت تقسیم نہیں ہوگی اس شخص کے درمیان جب تک نہ وہ باپ پر قرض کی کوئی مقدار بیان کرے اسی طرح یہاں بھی ہوگا، یہ تمام مسائل محیط برہانی میں مذکور ہے۔ 
لَوْ اشْتَرَى رَجُلٌ مِنْ رَجُلٍ عَبْدًا فَمَاتَ الْمُشْتَرِي وَالْعَبْدُ، وَادَّعَى الْبَائِعُ الثَّمَنَ عَلَى وَرَثَتِهِ فَقَالَتْ الْوَرَثَةُ: مَا نَدْرِي مَا ثَمَنُهُ. وَحَلَفُوا أَنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ مَا ثَمَنُهُ، قَالَ: حَبَسَهُمْ الْقَاضِي حَتَّى يُقِرُّوا بِشَيْءٍ وَيَحُولُ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ الْمَالِ وَيَدَعُهُ عَلَى يَدِ عَدْلٍ حَتَّى يُبَيِّنُوا مَا عَلَى أَبِيهِمْ مِنْ الثَّمَنِ بِمَنْزِلَةِ رَجُلٍ أَقَرَّ أَنَّ لِرَجُلٍ عَلَى أَبِيهِ دَيْنًا، وَقَالَ: لَا أَعْلَمُ مَا هُوَ. فَلَا بُدَّ مِنْ أَنْ يُقِرَّ بِشَيْءٍ وَأَلَّا يَحُلْ الْقَاضِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ تَرِكَةِ أَبِيهِ، فَكَذَا هَذَا الْكُلُّ مِنْ الْمُحِيطِ.
چوتھی فصل جن کے لیے دعوی کیا گیا ہے ان کی تقسیم کے بیان میں اور اس سلسلے میں جن لوگوں کے حق میں گواہان سنے جائیں گے اور جن لوگوں کے حق میں گواہوں کو نہیں سنا جائے گا اس کی چند انواع ہیں۔ 
 پہلی نوع: اس شخص کے بیان میں جو اپنے لیے مدعیٰ شئ کی صحت کے لیے گواہ قائم کرنا چاہے۔ دوسری نوع: اس شخص کے بیان میں جو اپنے مؤکل کے لیے شئی مدعیٰ کی صحت کے لیے گواہ قائم کرنا چاہے۔ تیسری نوع: اس شخص کے بارے میں جو اپنے باپ یا اپنے قریبی رشتہ دار کے لیے شئی مدعیٰ کی صحت کے لیے گواہ قائم کرنا چاہے بغیر کسی وکالت کے یعنی ماں باپ قریبی رشتہ دار نے اس کو وکیل نہیں بنایا۔چوتھی نوع:  اس شخص کے بارے میں ان لوگوں کے لیے شئی مدعیٰ کی صحت پر گواہ قائم کرنا چاہے جن کی ولایت کے تحت وہ ہے یعنی اپنے ولی وصی وغیرہ کے لیے۔ پانچویں نوع: وہ شخص جو اپنے اور دوسرے کے لیے شئی مدعیٰ کی صحت کے لیے گواہ قائم کرنا چاہیے۔ 
[الْفَصْلُ الرَّابِعُ تَقْسِيمِ الْمُدَّعَى لَهِمْ وَمَا يُسْمَعُ مِنْ بَيِّنَاتِهِمْ]
فِي تَقْسِيمِ الْمُدَّعَى لَهُمْ وَمَا يُسْمَعُ مِنْ بَيِّنَاتِهِمْ وَمَا لَا يُسْمَعُ مِنْهَا وَهِيَ أَنْوَاعٌ.النَّوْعُ الْأَوَّلُ: مَنْ يُرِيدُ إقَامَتَهَا لِصِحَّةِ مَا ادَّعَاهُ لِنَفْسِهِ.النَّوْعُ الثَّانِي: مَنْ يُرِيدُ إقَامَتَهَا لِصِحَّةِ مَا ادَّعَى بِهِ لِمُوَكِّلِهِ.النَّوْعُ الثَّالِثُ: أَنْ يُرِيدُوا إقَامَتَهَا لِصِحَّةِ مَا ادَّعَى بِهِ لِأَبِيهِ أَوْ لِقَرِيبِهِ بِغَيْرِ وَكَالَةٍ.النَّوْعُ الرَّابِعُ: مَنْ يُرِيدُ إقَامَتَهَا لِصِحَّةِ مَا ادَّعَى بِهِ لِمَنْ هُوَ تَحْتَ وِلَايَتِهِ مِنْ أَبٍ أَوْ وَصِيٍّ.النَّوْعُ الْخَامِسُ: مَنْ يُرِيدُ إقَامَتَهَا لِصِحَّةِ مَا ادَّعَى بِهِ لِنَفْسِهِ وَلِغَيْرِهِ.

النَّوْعُ الْأَوَّلُ: مَنْ يُرِيدُ إقَامَتَهَا لِنَفْسِهِ،.
پہلی نوع کا بیان: وہ شخص جو اپنی ذات کے لیے کسی شئی مدعیٰ پر گواہ قائم کرنا چاہے تو اس سلسلے میں پہلے گزر چکا ہے کہ دعوی صحیحہ میں مدعی کو اپنی دعوی کی صحت پر گواہ قائم کرنے کی قدرت دی جاتی ہے ہاں اسے چند وجوہ کی بنا پر اپنے دعویٰ کی صحت پر گواہ قائم کرنے سے روکا جاتا ہے یعنی اس کے گواہوں کو نہیں سنا جاتا ہے وہ چند وجوہ کیا ہیں؟ ان میں سے چند کا یہاں مثالوں کے ساتھ ذکر کریں گے۔ 
وَقَدْ تَقَدَّمَ أَنَّ الدَّعْوَى الصَّحِيحَةَ يُمَكَّنُ مُدَّعِيهَا مِنْ إقَامَةِ الْبَيِّنَةِ عَلَى صِحَّتِهَا، وَقَدْ يُمْنَعُ مِنْ إقَامَتِهَا فِي وُجُوهٍ.
(١) پہلا مسئلہ: جہاں مدعی کا اپنے لیے کسی دعویٰ پر گواہوں کو نہیں سنا جائے گا اس کی پہلی مثال (اور یہ مسئلہ پہلے گزر چکا ہے) کہ مدعی نے مدعی علیہ کے خلاف دعوی کیا مدعی سے گواہ طلب کیے گئے مدعی نے کہا میرے پاس گواہ نہیں ہے چنانچہ مدعی نے مدعی علیہ سے قسم چاہی اور قاضی نے مدعی علیہ سے قسم لے لی اب مدعی لو لگا کہ مدعی علیہ نے تو قسم کھا لی اس لیے ہمارے ہاتھ سے تو شئی مدعیٰ جانے والی ہے اس لیے وہ مدعی اب قاضی سے کہہ رہا ہے میرے گواہ پیش خدمت ہیں، میرے پاس گواہان ہیں، جبکہ مدعی پہلے کہہ چکا تھا کہ میرے پاس گواہ نہیں ہے تو قاضی اب مدعی سے گواہ نہیں لے گا کیونکہ پہلے جب اس کو گواہ قائم کرنے کی قدرت تھی تب تو وہ انکار کر چکا ہے اس لیے اب دوبارہ اس کے گواہان قبول نہیں کیا جائے گا اسی کو فرمایا جب مدعی مدعی علیہ سے قسم طلب کرے اپنے پاس گواہوں کا علم ہوتے ہوئے بعد اس کے کہ اس نے قاضی سے کہا کہ میرے پاس گواہ نہیں ہیں اور قاضی نے مدعیٰ علیہ یعنی اس کے فریق سے قسم لے لی اور مدعی علیہ نے قسم بھی کھا لی پھر مدعی کہہ رہا ہے کہ میرے پاس گواہ حاضر ہیں تو اب امام محمد و امام ابن ابی لیلی رحمۃ اللہ علیہم کے نزدیک مدعی کے گواہوں کو نہیں سنا جائے گا یہ بات حواشی میں مذکور ہے
مِنْهَا: إذَا اسْتَحْلَفَ الْمُدَّعِي الْمَطْلُوبَ مَعَ الْعِلْمِ بِبَيِّنَتِهِ بَعْدَ مَا قَالَ: لَا بَيِّنَةَ لِي. وَطَلَبَ مِنْ الْقَاضِي تَحْلِيفَ خَصْمِهِ فَحَلَفَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ثُمَّ قَالَ: لِي بَيِّنَةٌ حَاضِرَةٌ. لَا يُسْمَعُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ. مِنْ. الْحَوَاشِي.
دوسرا مسئلہ: ایک شخص نے دوسرے کو وکیل بالبیع بنایا، وکیل نے کوئی چیز خریدی اس کے بعد وکیل مؤکل سے کہتا ہے کہ میں نے مشتری سے ابھی تک ثمن نہیں لیا ہے یعنی میں نے آپ چیز تو بیچ دی لیکن ابھی تک ثمن وصول نہیں کیا ہے مگر مشتری نے گواہ قائم کر دیے کہ یہ شخص مجھ سے ثمن وصول کر چکا ہے، مشتری کے گواہان کی گواہی کے بعد اب وکیل کہہ رہا ہے ہاں ہاں میں تو ثمن لے چکا ہوں لیکن وہ ثمن مجھ سے تلف ہو گیا یا ثمن مجھ سے ضائع  ہو گیا تو ثمن کے ضیاع پر اب اس وکیل کا دعوی نہیں سنا جائے گا کیوں کہ وکیل اپنے دعوئ ضیاع ثمن اور گواہان کو جھٹلا چکا ہے یہ کہہ کر کہ میں نے ثمن وصول نہیں کیا ہے، اگر اس کا دعویٰ و گواہان درست ہوتے تو جھوٹ گھڑنے کی کیا ضرورت تھی، اسی کو فرمایا کہ اگر وکیل بالبیع انکار کرے ثمن پر قبضہ کا اور مدعی علیہ مشتری نے بینہ قائم کر دیا کہ وکیل ثمن لے چکا ہے، اب مدعی یعنی وکیل کہہ رہا ہے کہ وہ ثمن مجھ سے ضائع ہو چکا ہے یا میں اسے آپ ( مشتری) کی طرف واپس لوٹا چکا ہوں، تو ایسے میں اس وکیل مدعی کے دعوی کو نہیں سنا جائے گا اور نہ اس کے گواہوں کو قبول کیا جائے گا اس لیے کہ یہ پہلے اس چیز کو جھٹلا چکا ہے، قنیہ نامی کتاب میں مسئلہ مذکور ہے من شاء الاطلاع فلیراجع۔ 
وَمِنْهَا: لَوْ أَنْكَرَ الْوَكِيلُ بِالْبَيْعِ قَبْضَ الثَّمَنِ فَقَامَتْ عَلَيْهِ الْبَيِّنَةُ فَقَالَ: تَلِفَ. أَوْ: رَدَدْتُهُ. لَمْ تُسْمَعْ دَعْوَاهُ وَلَا بَيِّنَتُهُ؛ لِأَنَّهُ 
كَذَّبَهَا. اُنْظُرْ الْقِنْيَةَ. .
اور اسی طرح ”محیط برہانی“ سے ایک مسئلہ نقل کیا گیا ہے اس سے ملتا جلتا مسئلہ، ایک شخص نے دعوی کیا دعویٰ پر گواہان قائم کر دیے، قاضی نے مدعی کے لیے فیصلہ کر دیا اب وہ مدعی خود اپنے گواہوں کی گواہی  میں سے بعض گواہی کو جھٹلا رہا ہے کہ جی میرے گواہان نے یہ گواہی غلط دی تھی تو فیصلہ توڑ دیا جائے گا اور اس سے وہ چیز واپس لی جائے گی اور اس کے گواہوں کو اب نہیں سنا جائے گا ایسا ہی یہاں بھی جو چیز اس نے پہلے کہی کہ میں ثمن پر قبضہ نہیں کر چکا تو اب وہ اس کو جھٹلا رہا ہے۔ 
وَمَا حُكِيَ عَنْ الْمُحِيطِ مِنْ هَذَا الْمَعْنَى مِنْ أَنَّ الْمَقْضِيَّ لَهُ إذَا كَذَّبَ شُهُودَهُ فِي بَعْضِ مَا شَهِدُوا بِهِ انْتَقَضَ الْقَضَاءُ فَكَذَا هَذَا.
تیسرا مسئلہ: زید نے دعوی کیا کہ عمرو نے مجھ سے فلاں چیز لی ہے اس چیز کی نوع و صفت بھی بیان کی عمرو (مدعی علیہ) واپس گواہ پیش کر رہا ہے کہ قاضی صاحب! زید (مدعی) نے کل اقرار کیا کہ یہ چیز جس کا یہ مجھ پر دعوی کر رہا ہے اس سے بکر نے لی ہے یعنی میں نے نہیں لی، لیکن زید (مدعی) انکار کر رہا ہے کہ نہیں! مجھ سے عمرو ( مدعی علیہ) نے ہی یہ چیز لی ہے بکر نے نہیں لی ہے اور میں کل کوئی اقرار نہیں کر چکا ہوں تو ایسے میں عمرو ( مدعی علیہ) کا یہ دعوی اقرار زید اور اس دعوی پر عمرو کے گواہوں کو نہیں سنا جائے گا زید (مدعی) کا دعوی اس سے باطل نہیں ہوگا اور یہ اس لیے کہ عمرو (مدعی علیہ) زید ( مدعی) کے خلاف بکر کے خلاف اقرار کا دعویٰ کر رہا ہے اور اقرارِ زید پر گواہ قائم کر رہا ہے، اس لیے رد ہوگا کہ بکر تیسرا فریق عدالت میں حاضر نہیں ہے گویا عمرو اس شخص کے خلاف اقرار کا دعوی کر رہا ہے جو خصم فریق دارالقضاء میں حاضر نہیں حالانکہ دعوی تب صحیح ہے جب خصم فریق دارالقضاء میں حاضر ہو یعنی جس کے خلاف اقرار کیا جا رہا ہے، جس کے خلاف دعوی کیا جا رہا ہے وہ دارالقضاء میں حاضر ہونا چاہیے اور یہاں تو بکر حاضر ہے نہیں جس کے لیے عمرو اقرار کر رہا ہے اس لیے زید(مدعی)کا دعوی عمرو پر برقرار رہے گا اور اس کے گواہوں کو سنا جائے گا، عمرو کی زید مدعی کے حق کو باطل کرنے میں تصدیق نہیں کی جائے گی ولا یصدق فی ابطال حق الغیر ( القواعد الفقہیہ) فتاویٰ ظہیریہ میں یہ مسئلہ مذکور ہے۔ 
وَمِنْهَا: لَوْ ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّهُ أَخَذَ مِنْهُ مَالًا وَبَيَّنَ نَوْعَهُ وَصِفَتَهُ وَأَقَامَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بَيِّنَةً عَلَى إقْرَارِ الْمُدَّعِي أَنَّهُ أَخَذَ مِنْهُ فُلَانٌ آخَرُ هَذَا الْمَالَ الْمُسَمَّى وَأَنْكَرَ الْمُدَّعِي ذَلِكَ، لَمْ تُقْبَلْ هَذِهِ الْبَيِّنَةُ وَلَا يَكُونُ ذَلِكَ إبْطَالًا لِلدَّعْوَى مِنْ الْفَتَاوَى الظَّهِيرِيَّةِ.
چوتھا مسئلہ: شرح زیادات میں ذکر کیا گیا ہے کہ کسی شخص نے دوسرے پر زمین یا گھر کے سلسلے میں دعوی کیا گواہوں سے مدعی اپنا حق ثابت کر چکا، لہذا قاضی نے مدعی کے لیے فیصلہ کردیا، پھر وہ مدعی مر گیا جس کے لیے زمین کا فیصلہ کیا گیا تھا، اب اس کے بیٹے وغیرہ اس کے تمام حقوق کے وارث ہیں، لیکن اس مدعی  کو سوجھی کہ مدعی تو جاں بحق ہو گئے اس لیے اس نے پھر اس زمین پر دعوی کیا لیکن اب ملک مطلق کے ساتھ دعوی کیا، ایک ملک بالسبب ہے ایک ملک مطلق ہے، ملک مطلق کا مطلب ہے کہ میں پہلے سے ہی اس چیز کا مالک ہوں، ازل و ابتداء نسل در نسل وہ چیز میری ہے اور ملک بالسبب کا مطلب ہے کہ میں اس چیز کا کسی سبب سے اب مالک ہوچکا ہو اگرچہ پہلے میری نہ تھی چنانچہ اگر یہ دوبارہ اس زمین پر ملک بالسبب کے طور پر دعوی کرے تو پھر اس کا دعویٰ سنا جاتا اس کے گواہوں کو قبول کیا جاتا ( کیوں کہ نیا سبب کچھ بھی ہو سکتا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس نے مدعی ( جس کے لئے پہلے فیصلہ ہو چکا تھا) کے بیٹوں سے مدعی کے مرنے کے دوبارہ اسے خرید ہو چناں چہ ملک بالسبب کا دعویٰ ہوتا تو سن لیا جاتا) لیکن وہ چونکہ ملک مطلق کا دعوی کر رہا ہے کہ پہلے سے ہی میں اس کا مالک ہوں تو اس کا دعوی نہیں سنا جائےگا، اور اس کی گواہوں کو قبول نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ اس زمین پر ایک مرتبہ مدعی ( پہلا مدعی جو مرا ہے ) کے حق میں فیصلہ ہو چکا ہے اور یہ وارثین اس مورث کے قائم مقام ہیں یہ اس چیز کی ملکیت ان کے حق میں ثابت ہے اور مدعی ( پہلا مدعیٰ علیہ) دعوی کر رہا ہے ملک مطلق کا، سوال یہ ہے کہ اگر آپ کی ملکیت پہلے سے ہے پھر ایک مرتبہ آپ کے خلاف کیسے فیصلہ ہو چکا ہے ملک مطلق کا مطلب ہے وہ پہلے سے آپ کی زمین ہے لیکن جب آپ کے خلاف آپ کا فیصلہ ہو چکا ہے تو پتہ چلا ملک مطلق کا دعویٰ کرنا باطل ہے اس لیے اس مدعی کا نہ سنا جائے گا نہ ہی گواہ قبول ہوں گے، یہ مسئلہ منیۃ میں مذکور ہے۔ 
وَمِنْهَا: مَا ذَكَرَهُ فِي شَرْحِ الزِّيَادَاتِ قَالَ: لَوْ ادَّعَى عَلَيْهِ مَحْدُودًا وَأَقَامَ بَيِّنَةً وَقَضَى الْقَاضِي لَهُ ثُمَّ مَاتَ ادَّعَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ ذَلِكَ الْمَحْدُودَ مِلْكًا مُطْلَقًا، لَا تُسْمَعُ دَعْوَاهُ وَلَا بَيِّنَتُهُ؛ لِأَنَّهُ صَارَ مَقْضِيًّا عَلَيْهِ وَالْوَارِثُ قَامَ مَقَامَ الْمَوْرُوثِ، مِنْ الْمَنِيَّةِ.
دوسری نوع: اس شخص کے بارے میں جو اپنے مؤکل کے لیے شئی مدعیٰ کی صحت پر گواہ قائم کرنا چاہے، تو کیا اس کے گواہوں کو سنا جائے گا یا نہیں۔ 
النَّوْعُ الثَّانِي: مَنْ يُرِيدُ إقَامَةَ الْبَيِّنَةِ عَلَى صِحَّةِ مَا ادَّعَى بِهِ لِمُوَكِّلِهِ.
ایک شخص نے قاضی کے پاس دعوی کیا کہ فلاں شخص نے مجھے اپنے ہر حق کا وکیل بنایا ہے یعنی وکیل مطلق بنایا ہے اور اس بات کو ثابت کرنے کے لیے گواہ بھی قائم کر لئے تو اس شخص کی گواہوں کو نہیں سنا جائے گا ایک تو اس لیے کہ وکالت عقد لازم نہیں اور اس لیے بھی کہ یہ غائب مدعیٰ علیہ پر بینہ قائم کر رہا ہے کیونکہ جس کے لیے یہ مؤکل ہونے کا دعوی کر رہا ہے وہ حاضر نہیں ہے تو یہ تو قضاء علی غائب ہو جائے گا ( اور یہاں قضاء علی الغائب کی جواز کی صورتوں میں سے کوئی صورت بھی نہیں پائی جاتی ہے) ہاں یہ تب درست ہوتا کہ جس کے لیے یہ وکیل ہونے کا دعوی کر رہا ہے اگر اس کے مقابل ( مدعی علیہ) کوئی خصم و فریق دار القضاء میں حاضر ہوتا تو وہ وکیل حکمی اس کی طرف سے بن جاتا لیکن یہاں کوئی فریق بھی حاضر نہیں ہے خصم و فریق کے بغیر محض غائب شخص پر فیصلہ درست نہیں ہے اس لیے اس نام نہاد وکیل کا گواہوں کو نہیں سنا جائے گا غائب شخص پر مؤکل ہونے کے لیے، البتہ اگر یہ قاضی سے کہے کہ قاضی صاحب! آپ میرے گواہوں کو سن لیجئے گا اور ان کی گواہی دوسرے قاضی کے پاس بہیجنے کے لیے لکھ لیجیے تاکہ دوسرے قاضی کو وہ گواہی پہنچائی جائے مثلاً فرض کیجئے کہ مؤکل دبئی میں ہے اب یہ وکیل قاضی سے کہہ رہا میں دبئ کی عدالت میں اپنا معاملہ درج کروں گا تا کہ وہاں مؤکل مدعیٰ علیہ بھی خود حاضر ہو سکے لیکن میں گواہوں کو دبئ نہیں لے سکتا اس لیے آپ میرے گواہوں کا بیان سن لکھ لیجئے تا کہ دبئ کے قاضی کو وہ لکھی ہوئی گواہی بھیجی جا سکی تو اس اعتبار سے قاضی ان گواہوں کو سنے گا ان کی گواہی لکھے گا کیونکہ قاضی کا بیان لکھنا یہ فیصلہ نہیں ہوتا اسی کو فرمایا مگر یہ کہ اگر وہ مدعی وکیل چاہے کہ اس کے گواہوں کو سنا جائے اور قاضی ان کی گواہی لکھ کر دوسرے قاضی کو بھیجے تو قاضی کا عمل درست ہے اس لیے کہ قاضی کا لکھنا یہ فیصلہ نہیں ہے بلکہ یہ تو صرف نقل ہے اور نقل کے لیے دوسرے فریق کے حاضر ہونے کی ضرورت نہیں اسی ( لکھنے کی طرح) اگر قاضی نے بغیر خصم کے مدعی کے گواہ سن بھی لیے تو بھی جائز ہے، اس لیے کہ گواہوں کے بیان کو سننے کے لیے خصم دوسرے فریق کا انکار شرط نہیں بلکہ گواہوں کو قبول کرنے کے لیے خصم کا انکار شرط ہے یعنی خصم انکار کرے گا تبھی تو گواہوں کو قبول کیا جائے گا جب دوسرا فریق انکار نہیں کر رہا ہے تو گواہ کس پر قبول کیے جائیں گے اس لیے اگر صرف گواہوں کو سن رہا ہے تو بغیر فریق کے حاضر ہوئے گواہوں کو سننا جائز ہے۔ 
(مَسْأَلَةٌ) :
ادَّعَى رَجُلٌ عِنْدَ الْقَاضِي أَنَّ فُلَانًا وَكَّلَهُ بِكُلِّ حَقٍّ هُوَ لَهُ وَأَرَادَ إثْبَاتَهُ، لَا تُسْمَعُ بَيِّنَتُهُ؛ لِأَنَّ هَذِهِ بَيِّنَةٌ عَلَى الْغَائِبِ وَلَمْ يَنْتَصِبْ عَنْهُ خَصْمٌ إلَّا أَنْ يُرِيدَ أَنْ يَسْمَعَ شَهَادَتَهُ لِيَكْتُبَ إلَى قَاضٍ آخَرَ لِأَنَّ كِتَابَ الْقَاضِي لَيْسَ بِقَضَاءٍ بَلْ هُوَ نَقْلٌ فَلَا يَفْتَقِرُ إلَى حُضُورِ الْخَصْمِ، فَإِنْ سَمِعَ الْبَيِّنَةَ بِغَيْرِ خَصْمٍ جَازَ؛ لِأَنَّ إنْكَارَ الْخَصْمِ شَرْطٌ لِقَبُولِ الْبَيِّنَةِ عِنْدَنَا.

مسئلہ: ایک آدمی نے دوسرے فریق کو دارالقضاء میں حاضر کای اور اس پر اپنے مؤکل کے لیے کسی حق کا دعوی کیا اور گواہوں کو بھی قائم کر لیا کہ فلاں شخص نے مجھے اپنے تمام حقوق کو حاصل کرنے کے لیے وکیل بنایا ہے اور تمام معاملات میں جھگڑا کرنے کا بھی وکیل بنایا ہے، تو یہاں پر مدعی وکیل کا دعوی سنا جائے گا اس کے گواہوں کو قبول کیا جائے گا اور اس کے لیے وکالت کا فیصلہ بھی کیا جائے گا اس میں اور پہلے مسئلہ میں فرق یہ ہے کہ پہلے مسئلہ میں مؤکل غائب تھا اور اس کے خلاف مقابل میں کوئی فریق دار القضاء میں حاضر نہیں تھا لیکن اس مسئلہ میں مؤکل تو غائب ہے لیکن اس کے خلاف مقابل میں دوسرا فریق کو پکڑ کر لایا گیا ہے دار القضاء وہ وکیل حکمی کے طور پر خصم بن رہا ہے یعنی یہ وہی مسئلہ ہے جو پہلا گزر چکا کہ مؤکل کے خلاف ایسا دعوی ہے جو اس فریق پر دعویٰ کے لیے سبب بن رہا ہے کیونکہ مؤکل غائب پر دعوی ہے وکیل بنانے کا اور وہ وکالت سبب ہے اس حاضر کیے ہوئے شخص پر دعوی ( کہ اس کے اوپر مؤکل کا حق ہے) کا اس لیے یہ دوسرا فریق اس مؤکل غائب کی طرف سے وکیل حکمی بن جائے گا لہذا یہاں پر وکیل مدعی کا دعوی سنا جائے گا اس کے گواہوں کو قبول کیا جائے گا اور اس کے اوپر وکالت کا فیصلہ بھی کیا جائے گا اور جب اس کے اوپر ایک مرتبہ وکیل بننے کا فیصلہ ہو چکا (چونکہ بینہ سے جو چیز ثابت ہو جاتی ہے وہ علی کافۃ الناس ثابت ہوتی ہے) تو یہ فیصلہ ( وکیل بننے کا) اس فریق پر بھی ہوگا اور تمام لوگوں کے لیے بھی یہ فیصلہ ہوگا،یہاں تک کہ اگر یہ اس کے بعد کسی دوسرے شخص کو حاضر کرے کہ اس کے اوپر بھی میرے مؤکل کا حق ہے تو اب اس کو دوبارہ اپنے مؤکل کی طرف سے وکیل ہونے پر بینۃ پیش کرنے کا مکلف نہ بنایا جائے گا کیوں کہ ایک مرتبہ وکالت تو ثابت ہو چکی ہے اس لیے اب صرف اس کو اس حق پر گواہ پیش کرنے ہوں گے۔ 
(مَسْأَلَةٌ) :
وَلَوْ أَحْضَرَ رَجُلًا وَادَّعَى عَلَيْهِ حَقًّا لِمُوَكِّلِهِ وَأَقَامَ الْبَيِّنَةَ عَلَى أَنَّهُ وَكَّلَهُ فِي اسْتِيفَاءِ حُقُوقِهِ وَالْخُصُومَةِ فِي ذَلِكَ قُبِلَتْ وَيُقْضَى بِالْوَكَالَةِ وَيَكُونُ الْقَضَاءُ قَضَاءً عَلَيْهِ وَعَلَى كَافَّةِ النَّاسِ؛ لِأَنَّهُ ادَّعَى عَلَيْهِ حَقًّا بِسَبَبِ الْوَكَالَةِ فَكَانَ إثْبَاتُ السَّبَبِ عَلَيْهِ إثْبَاتًا عَلَى الْكَافَّةِ، حَتَّى لَوْ أَحْضَرَ آخَرَ وَادَّعَى عَلَيْهِ حَقًّا لَا يُكَلَّفُ بِإِعَادَةِ الْبَيِّنَةِ عَلَى الْوَكَالَةِ.

No comments:

Post a Comment