ایک شخص قاضی کے پاس آیا اور قاضی سے کہا کہ میں فلاں ابن فلاں ہوں اور میں اس آدمی کو اپنے ہر حق کے وصول کرنے کا وکیل بناتا ہوں اب دو صورتیں ہوں گی، (١) قاضی مؤکل کو پہچانتا ہوگا (٢) یا قاضی اس شخص کو پہچانتا نہ ہوگا، اگر قاضی اس شخص کو پہچانتا ہے تو ایسی صورت میں جب بھی اس کا یہ وکیل کوئی فریق، کوئی معاملہ لے کر قاضی کی عدالت میں آئے گا تو قاضی اس وکیل کو وکالت کے ثبوت پر بینہ پیش کرنے کا مکلف نہیں بنائے گا کیونکہ جس شخص نے اس کو وکیل بنایا ہے قاضی اس کو پہچانتا ہے اور اس نے قاضی کے سامنے اس کو وکیل بنایا ہے اور اگر قاضی اس مؤکل کو نہ پہچانتا ہو تو اس مؤکل کا وکیل جب بھی عدالت میں معاملہ لے کر آئے گا اپنے مؤکل کے لیے قاضی اس وکیل کو اپنی وکالت کے ثبوت پر بینہ پیش کرنے کا مکلف بنائے گا کیونکہ جس شخص نے اس کو مؤکل بنایا ہے اگرچہ اس نے قاضی کے سامنے بنایا ہے لیکن قاضی اس کو نہیں پہچانتا جب یہ معاملہ لے کر آیا قاضی صاحب کو پتہ ہی نہیں ہے وہ کون آدمی ہے، اس لیے اس وکیل کو ایسی صورت میں اپنی وکالت پر گواہ پیش کرنے پڑیں گے، اسی کے متعلق فرمایا کہ اگر قاضی مؤکل کو پہچانتا ہو تو جائز ہے کہ اس کا وکیل جب بھی معاملہ لے کر آئے گا اس کو اب وکالت کے ثبوت پر گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اگر مؤکل غائب ہو گیا اور قاضی اس سے واقف نہ ہو اور پھر یہ وکیل اپنا فریق لے کر عدالت میں آیا اور قاضی سے کسی چیز کا مطالبہ کیا اپنے مؤکل کے لیے اور اس شخص کے خلاف دعوی کیا جس کو لے کر آیا ہے تو قاضی اس وکیل کو پہلے اپنی وکالت پر گواہ پیش کرنے کا مکلف بنائے گا آپ بینہ پیش کرو کہ آپ کا مؤکل فلاں ابن فلاں ہی ہے یہ اس وجہ سے کہ وکالت تو صحیح تھی معاینہ کی وجہ سے مگر یہ کہ وکالت پر فیصلہ کرنا متعذر و مشکل ہوگیا مؤکل کی معرفت نہ ہونے کی وجہ سے اور ایسی صورت میں جہالت ختم ہوگی بینہ پیش کر کے، اس لیے بینہ پیش کرنا نا گزیر ہے۔
رَجُلٌ جَاءَ إلَى الْقَاضِي وَقَالَ: أَنَا فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ وَكَّلْتُ هَذَا الرَّجُلَ بِطَلَبِ كُلِّ حَقٍّ لِي. وَالْقَاضِي يَعْرِفُ الْمُوَكَّلَ، جَازَ.
وَإِنْ غَابَ وَالْقَاضِي لَا يَعْرِفُهُ فَجَاءَ الرَّجُلُ بِخَصْمٍ سَأَلَهُ الْقَاضِي أَنْ يُقِيمَ الْبَيِّنَةَ أَنَّ الْمُوَكَّلَ فُلَانُ ابْنُ فُلَانٍ؛ لِأَنَّ الْوَكَالَةَ كَانَتْ صَحِيحَةً بِالْمُعَايَنَةِ إلَّا أَنَّهُ تَعَذَّرَ الْقَضَاءُ بِالْوَكَالَةِ بِجَهَالَةِ الْمُوَكَّلِ، فَإِذًا زَالَتْ الْجَهَالَةُ بِالْبَيِّنَةِ.
(مَسْأَلَةٌ) :
یہاں سے یہ مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ زید، مارکس نصرانی کا وکیل بنا اور زید نے جس شخص کے خلاف مقدمہ عدالت میں پیش کیا وہ بھی بکر نامی مسلمان تھا اور زید نے اپنے بکر (فریق) کے خلاف جو گواہ پیش کیے وہ ذمی تھے اب مارکس مؤکل نصرانی ہے اور اس کا وکیل زید مسلم ہے وکیل کا فریق بکر بھی مسلم ہے لیکن زید وکیل کے گواہ ذمی ہے تو ایسی صورت میں زید مسلم کا مارکس نصرانی کا وکیل بننا بھی درست ہے زید مسلم کا بکر مسلم کے خلاف دعوی کرنا بھی صحیح ہے لیکن زید مسلم وکیل کا بکر مسلم کے خلاف ذمی گواہوں کو پیش کرنا درست نہیں ہے کیوں کہ کافر کی گواہی مسلم کے خلاف مردود ہے اس لیے اس وکیل کا دعوی مسلمان کے خلاف نہیں سنا جائے گا نہ زید کے ذمی گواہان کی گواہی بکر مسلم کے حق میں قبول کی جائے گی، اس کی برخلاف اگر زید مسلم وکیل کا فریق مسمان کے بجائے ذمی ہی ہوتا پھر زید مسلم کے ذمی گواہان زید کے ذمی فریق کے خلاف گواہی دیتے تو زید کے گواہان کو قبول کیا جاتا،اسی کو فرمایا کہ اگر مسلمان نے دعوی کیا کہ وہ فلاں نصرانی کے حقوق طلبی کا وکیل ہے اور اس مسلم وکیل نے مسلمان فریق کو حاضر کیا، جس پر اس نے کسی حق کا دعوی کیا تھا جبکہ مسلمان مدعیٰ علیہ منکر تھا اس حق کا تو ایسے میں ذمیؤں کی شہادت مسلم کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی اس لیے کہ کافر کے حق میں مسلمان کے خلاف گواہی قبول نہیں کی جاتی اور اگر کسی نصرانی کو ہی فریق بنا کر حاضر کیا اور اس پر کسی حق کا دعوی کیا تو اس مسلم وکیل کی وکالت کے ذریعے ذمیؤں کی شہادت پر فیصلہ کر دیا جائے گا، اس لیے کہ یہ کافر پر ہی فیصلہ ہوگا اور اہل ذمیؤں کی شہادت بعض کی بعض پر قبول کی جاتی ہے محیط برہانی اور شرح تجرید میں بھی یہ مسئلہ مذکور ہے۔
وَلَوْ ادَّعَى مُسْلِمٌ أَنَّهُ وَكِيلُ فُلَانٍ النَّصْرَانِيِّ فِي حُقُوقِهِ وَأَحْضَرَ مُسْلِمًا يَدَّعِي عَلَيْهِ حَقًّا وَهُوَ يُنْكِرُ، لَمْ تُقْبَلْ شَهَادَةُ أَهْلِ الذِّمَّةِ عَلَى ذَلِكَ؛ لِأَنَّ الْكَافِرَ لَا شَهَادَةَ لَهُ عَلَى الْمُسْلِمِ.
وَإِنْ أَحْضَرَ نَصْرَانِيًّا وَادَّعَى عَلَيْهِ حَقًّا قُضِيَ بِالْوَكَالَةِ عَلَيْهِ بِشَهَادَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ وَيَكُونُ قَضَاءً عَلَى الْكَافِرِ؛ لِأَنَّ شَهَادَةَ أَهْلِ الذِّمَّةِ بَعْضِهِمْ عَلَى بَعْضٍ مَقْبُولَةٌ. مِنْ الْمُحِيطِ وَمِنْ شَرْحِ التَّجْرِيدِ.
(مَسْأَلَةٌ) :
اگر کسی عورت نے ایک شخص کو اپنے عقد نکاح کا وکیل بنایا کہ آپ میرا نکاح فلاں آدمی سے کر دیجیے وکیل نے اس عورت کا نکاح فلاں متعین آدمی سے کر دیا لیکن یہ وکیل اپنی محدود وکالت سے آگے بڑھ کر اس شوہر میاں کے گلے پڑ گیا کہ آپ اپنی بیوی کا مہر فوراً میرے حوالے کر دیجئے اور مہر کا مطالبہ اتنا بڑھ گیا کہ یہ معاملہ قاضی کی عدالت میں پہنچ گیا اور قاضی کی عدالت میں یہ عورت کا وکیل بجائے قبض مہر کے اپنی وکالت عقد نکاحپر بینہ پیش کر رہا ہے کہ عورت نے اس کو اس کے ساتھ نکاح کرنے کا وکیل بنایا ہے،تو ایسی صورت میں اس آدمی کے گواہ کو نہیں سنا جائے گا، اس لیے کہ اس عورت نے اسے صرف نکاح کا وکیل بنایا ہے مہر پر قبضہ کرنے کا وکیل نہیں بنایا اس لیے اپنی وکالت سے آگے وہ نہیں بڑھ سکتا ہے ہاں مگر جب وہ گواہ پیش کردے جو گواہ اس کے لیے گواہی دیں قبضۂ مہر کی وکالت یعنی اس عورت نے اسے مہر پر قبضہ کرنے کا بھی وکیل بنایا ہے، تو اس کا گواہ سنا جائے گا،
لِأَنَّ عَقْدَ النِّكَاحِ الخ۔۔۔ یہ دلیل پیش کی کہ جس شخص کو نکاح کا وکیل بنایا، اس کے لیے مہر پر قبضہ کرنا ضروری نہیں ہے کیوں کہ عقد نکاح یہ قبضۂ مہر کو مستلزم نہیں ہے،اس لیے کہ نکاح میں مہر پر قبضہ کرنا یہ الگ چیز ہے اس قبضہ کے بغیر بھی نکاح درست ہو سکتا ہے اس لیے اس قبضۂ مہر کی وکالت پر الگ سے ثبوت درکار ہوگا۔
وَإِذَا وَكَّلَتْ الْمَرْأَةُ رَجُلًا عَلَى عَقْدِ نِكَاحِهَا مِنْ رَجُلٍ فَعَقَدَهُ ثُمَّ قَامَ عَلَى الزَّوْجِ يَطْلُبُهُ بِالْحَالِّ مِنْ صَدَاقِهَا فَطَلَبَ مُخَاصَمَتَهُ فِي ذَلِكَ وَأَرَادَ إقَامَةَ الْبَيِّنَةِ أَنَّهُ وَكِيلُهَا فِي عَقْدِ نِكَاحِهَا، لَمْ تُسْمَعْ بَيِّنَتُهُ، إلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِبَيِّنَةٍ تَشْهَدُ لَهُ عَلَى التَّوْكِيلِ فِي قَبْضِ الصَّدَاقِ؛ لِأَنَّ عَقْدَ النِّكَاحِ لَا يَسْتَلْزِمُ قَبْضَ الصَّدَاقِ.
تیسری نوع: اس شخص کے بارے میں جو اپنے باپ یا قریبی رشتہ دار کے لیے دعویٰ کی صحت پر بینہ پیش کرنا چاہے کیا اس کے گواہوں کو سنا جائے گا یا نہیں
النَّوْعُ الثَّالِثُ: مَنْ يُرِيدُ إقَامَةَ الْبَيِّنَةِ لِصِحَّةِ مَا ادَّعَاهُ لِأَبِيهِ أَوْ لِقَرِيبِهِ.
(مَسْأَلَةٌ) :
ایک شخص نے قاضی کے پاس دوسرے فریق کو حاضر کیا یعنی مدعی نے مدعی علیہ کو قاضی کے پاس حاضر کیا اور قاضی سے کہا کہ میرے باپ کا اس شخص پر ہزار درہم ہے جبکہ میرا باپ غائب ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ آدمی بھی کہیں چھپ جائے اب یہاں صورت یہ ہے کہ باپ نے اپنے بیٹے کو اپنا وکیل نہیں بنایا ہے لیکن بیٹے نے محض اس وجہ سے کہ میرا باپ ہے کہیں اس کا پیسہ ڈوب نہ جائے بغیر وکالت کے ہی قاضی کی عدالت میں مقدمہ دائر کیا تو اب دعویٰ کے بعد اگر قاضی اس بیٹے کو اپنے باپ کا وکیل قرار دے اور باپ کے مال پر بیٹے کے گواہ کو قبول کر لے اور فیصلہ بھی کر لے اس کے بعد یہ فیصلہ کسی دوسرے قاضی کے پاس جائے تو دوسرا قاضی پہلے قاضی کے حکم کو توڑ سکتا ہے اور پہلے قاضی کے حکم کو جائز قرار نہیں دے گا اس لیے کہ پہلے قاضی کا فیصلہ غلط تھا محض رشتہ داری کی وجہ سے یا باپ ہونے کے ناطے بغیر وکالت کے اس کے بیٹے کو وکیل نہیں بنایا جا سکتا ہے اس لیے پہلے قاضی کا فیصلہ درست نہیں تھا،إذْ بَيِّنَةُ الِابْنِ الخ۔۔ سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ اس مسئلہ میں مدعی علیہ مدعی کے باب کی طرف سے وکیل حکمی نہیں بن سکتا کیوں کہ بیٹے کے گواہ غائب( باپ) کے خلاف کسی حق پر گواہ نہیں ہے کہ ان کی گواہی سے غائب ( باپ) کے خلاف کوئی فیصلہ کرنا لازم آئے گا بلکہ بیٹوں کے گواہوں سے غائب( باپ)کے حق میں فیصلہ ہوگا حالاں کہ وکیل حکمی کے لیے بتایا تھا کہ غائب کے خلاف دعویٰ وہ حاضر کے خلاف سبب ہو یہاں تو غائب کے حق میں گواہی ہے نہ کہ خلاف اور یہ مفقود الخبر کے بر خلاف بھی ہے یعنی اگر اس کا باب مفقود ہوتا اور پھر یہ بیٹا کسی آدمی کو بطور فریق عدالت میں پیش کر کے اپنے باپ کے لیے کسی حق کا دعوی کرتا تو ایسی صورت میں اگر قاضی اس بیٹے کو باپ کا وکیل بناتا تو درست تھا اس لیے کہ مفقود کے مال میں قاضی کو ولایت حاصل ہوتی ہے اس لیے قاضی مفقود کے سلسلے میں بیٹے یا کسی دوسری کو وکیل بنا سکتا ہے اسی کو فرمایا کہ یہ مفقود کے مسئلے کے برخلاف ہے اس لیے کہ قاضی مفقود کے بیٹے کو وکیل بنا سکتا ہے اپنے باپ کے حقوق کے طلب کے سلسلے میں اس لیے کہ مفقود عدالت میں میت کے درجہ میں ہوتا ہے اور قاضی کو مفقود کے مال میں ایک قسم کی ولایت ہوتی ہے یہی قاضی خان کی رائے ہے ہاں اگر بھائی بغیر وکالت کے بھائی کے لیے قائم ہو جائے پڑوسی پڑوسی کے لیے قائم ہو جائے تو ان کا گواہ قبول نہیں کیے جائیں گے جب تک نہ یہ اپنی وکالت پر بینہ پیش کریں گے۔
قَدَّمَهُ إلَى الْقَاضِي وَقَالَ: إنَّ لِأَبِي عَلَى هَذَا أَلْفًا وَأَبِي غَائِبٌ وَأَنَا أَخَافُ أَنْ يَتَوَارَى هَذَا. فَجَعَلَهُ الْقَاضِي وَكِيلًا لِأَبِيهِ وَقَبِلَ بَيِّنَةَ الِابْنِ عَلَى الْمَالِ وَحَكَمَ بِهِ، فَرَفَعَ إلَى قَاضٍ آخَرَ فَإِنَّ الثَّانِي لَا يُجِيزُ حُكْمَ الْأَوَّلِ؛ إذْ بَيِّنَةُ الِابْنِ لَمْ تَقُمْ بِحَقٍّ عَلَى الْغَائِبِ حَتَّى يَكُونَ ذَلِكَ حُكْمًا عَلَى الْغَائِبِ.وَإِنَّمَا قَامَتْ لِغَائِبٍ، وَهَذَا بِخِلَافِ الْمَفْقُودِ فَإِنَّ الْقَاضِيَ يَجْعَلُ ابْنَ الْمَفْقُودِ وَكِيلًا فِي طَلَبِ حُقُوقِهِ؛ إذْ الْمَفْقُودُ كَمَيِّتٍ وَلِلْقَاضِي نَوْعُ وِلَايَةٍ فِي مَالِهِ. قَالَهُ قَاضِي خَانْ وَكَذَلِكَ الْأَخُ يَقُومُ لِأَخِيهِ، وَالْجَارُ يَقُومُ لِجَارِهِ فَلَيْسَ لَهُمَا ذَلِكَ إلَّا بِوَكَالَةٍ.
چوتھی نوع: جو شخص ایسے لوگوں کے لیے دعوی کی صحت گواہ پیش کرنا چاہے جو لوگ اس کی زیر ولایت و زیر نگرانی ہیں۔
النَّوْعُ الرَّابِعُ: مَنْ يُرِيدُ إقَامَةَ الْبَيِّنَةِ لِصِحَّةِ مَا ادَّعَى بِهِ لِمَنْ هُوَ تَحْتَ وِلَايَتِهِ.
اس کی مثال یہ ہے کہ ایک آدمی کا چھوٹا بچہ تھا اس چھوٹے بچے کا مال یا کوئی زمین وغیرہ تھی اور اس پر کسی آدمی نے ناحق طریقے سے قبضہ کر رکھا تھا چناں چہ جب اس باپ نے کسی آدمی کو اپنے بیٹے کی زمین پر ناحق قبضہ کیے ہوئے پایا تو اس باپ نے قاضی کے پاس دعویٰ و مطالبہ کیا اور اپنے مطالبہ پر گواہان بھی پیش کیے، کہ یہ زمین وغیرہ اس کے بیٹے یا اس کے محجور شخص کی ہے، چناں چہ اس باپ اور اس نگراں کے گواہوں کو سنا جائے گا اور اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں کیونکہ باپ کو بیٹے یا اپنے ما تحت (سفیہ وغیرہ جس پر اس نے حجر لگا رکھی ہو) کے اوپر ولایت حاصل ہے اس لیے وہ بطور ولی قاضی کے عدالت میں مقدمہ دائر کر سکتا ہے۔
مِثَالُهُ: رَجُلٌ لَهُ وَلَدٌ صَغِيرٌ وَلَهُ مَالٌ أَوْ عَقَارٌ وَجَدَهُ فِي يَدِ رَجُلٍ بِغَيْرِ طَرِيقٍ فَطَلَبَهُ إلَى قَاضٍ وَادَّعَى عَلَيْهِ وَأَقَامَ الْبَيِّنَةَ أَنَّ ذَلِكَ لِوَلَدِهِ أَوْ لِمَحْجُورِهِ، تُقْبَلُ بَيِّنَتُهُ، وَأَمْثَالُ ذَلِكَ كَثِيرَةٌ.
پانچویں نو جو اپنے اور دوسرے کے لیے ایک ساتھ دعویٰ کی صحت پر گواہ پیش کرنا چاہیے اگر اکیلے اپنے لیے دعوی کرتا ہے تو درست ہوتا لیکن یہ اپنے حق کے ساتھ دوسرے کے حق کو بھی ملا کر دعوی کر رہا ہے۔
النَّوْعُ الْخَامِسُ: مَنْ يُرِيدُ إقَامَتَهَا لِصِحَّةِ مَا ادَّعَى بِهِ لِنَفْسِهِ وَلِغَيْرِهِ۔
اس کی مثال میں فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے گواہ پیش کیے کہ اس کا اور فلاں غائب کا اس شخص پر ایک ہزار درہم ہے اور گواہ بھی پیش کر لیے قاضی نے نصف یعنی پانچ سو درہم کا اس کے لیے فیصلہ کیا، تو کیا اس سے غائب شخص کا حق بھی ثابت ہوا یعنی اگر غائب شخص واپس آئے گا تو کیا س کو اپنا حق اسی شخص سے ثابت کرنے کے لیے دوبارہ گواہ پیش کرنے ہوں گے یا اس حاضر شخص نے جو گواہ پیش کیے یہ اس کی طرف سے بھی کافی ہوں گے اس کے بارے میں فرمایا کہ اس کے بعد جب وہ غائب واپس آ گیا تو یہ اس قرضدار سے پیسہ وصول کرنے کے لیے پہلے حاضر شخص پر عطف نہیں کرے گا بلکہ اس کو دوبارہ گواہ پیش کرکے اپنا حق وصول کرنا پڑے گا اس لیے کہ حاضر شخص نے جو پانچ ہزار درہم لیے ہیں وہ صرف اسی کے تھے اس کے گواہ اپ کے حق میں قبول نہیں ہوں گے اس لیے اگر آپ کو حق لینا ہے تو آپ کو دوبارہ گواہ پیش کرنے پڑیں گے اپنے حق کے وصول یابی کے لیے ہاں البتہ اگر یہ غائب شخص جو واپس آیا ہے اپنے اس حاضر شریک شخص سے وصول کیے ہوئے پانچ سو درہم میں سے آدھا ( ڈھائی ہزار درہم) لینا چاہیے تو لے سکتا ہےاس لیے کہ حاضر فریق نے قاضی کے پاس اس غائب کے ساتھ شرکت کا اقرار کیا ہے گویا جو اس نے پانچ ہزار درہم لیے ہیں ان ہزار درہم کے آدھے کا شریک غائب بھی تھا کیوں جب پیسے دینے میں شرکت ہے تو لینے میں بھی شرکت ہونے چاہئے اور جب اس حاضر سے آدھا لے تو اب دونوں کا مدعی علیہ کے پاس آدھا بچے گا کیوں کہ اس آدھے میں بھی دونوں شریک ہیں۔منتقیٰ کتاب سے یہ مسئلہ لیا گیا ہے۔
بَرْهَنَ أَنَّ لَهُ وَلِفُلَانٍ الْغَائِبِ عَلَى هَذَا أَلْفًا وَأَقَامَ الْبَيِّنَةَ فَحُكِمَ لَهُ بِنِصْفِهِ فَقَدِمَ الْغَائِبُ فَلَا يَأْخُذُ مِنْ الْغَرِيمِ شَيْئًا إلَّا أَنْ يُبَرْهِنَ، وَلَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ شَرِيكِهِ نِصْفَ مَا أَخَذَهُ بِإِقْرَارِهِ بِشَرِكَتِهِ. مِنْ الْمُنْتَقَى.
پانچویں فصل
[الْفَصْلُ الْخَامِسُ أَحْكَامٍ يَتَوَقَّفُ سَمَاعُ الدَّعْوَى بِهَا عَلَى إثْبَاتِ أُمُورٍ]
ان احکام پر تنبیہ کرنے کے بیان میں جن احکام پر دعوی کا سماع چند امور کے اثبات پر موقوف رہتا ہے۔
فِي التَّنْبِيهِ عَلَى أَحْكَامٍ يَتَوَقَّفُ سَمَاعُ الدَّعْوَى بِهَا عَلَى إثْبَاتِ أُمُورٍ. .
بعض حضرات نے فرمایا کہ قاضی کے لیے مناسب ہے کہ وہ کسی عورت کو نکاح کرنے یا کرانے کی قدرت نہ دے مگر ان چیزوں کو ثابت کرنے کے بعد جن کے ذریعے نکاح تک پہنچا جاتا ہے، اور یہ تین قسموں پر منقسم ہوگا۔
قَالَ بَعْضُهُمْ: يَنْبَغِي لِلْحَاكِمِ أَنْ لَا يُمَكِّنَ الْمَرْأَةَ مِنْ النِّكَاحِ إلَّا بَعْدَ ثُبُوتِ مَا يُتَوَصَّلُ بِهِ إلَى ذَلِكَ، وَذَلِكَ عَلَى ثَلَاثَةِ أَقْسَامٍ.
نمبر (١) جب قاضی کے شہر کی کوئی باکرہ یتیمہ لڑکی نکاح کرنا چاہے اور قاضی سے اس کا مطالبہ کرے تو قاضی اس کو مکلف بنائے گا کہ پہلے وہ اپنا یتیم ہونا ثابت کرے، اپنا باکرہ ہونا ثابت کرے، اپنی بلوغت ثابت کرے اور بے شوہر ہونا ثابت کرے اور اس بات کو ثابت کرے کہ وہ عورت نہیں جانتی ہیں کہ اس کے باپ یا اس کے وصی نے اس کے نکاح کرانے کا اختیار کسی کو سپرد کیا ہے اور نا ہی یہ معاملہ کسی قاضی کے پاس پہلے دائر نمبر ہوا ہے اور یہ بھی ثابت کرے کہ اس کا کوئی نسبی ولی نہیں ہے مثلاً بھائی، چاچا، اور دادا وغیرہ یا دور دراز کا ولی تو ہے لیکن قاضی اس ولی سے زیادہ حقدار ہے، اور زوج کے کفات کو بھی ثابت کرے گی کہ جس سے وہ شادی کرنا چاہتی ہے وہ اس کے کفو کا ہے اور یہ کہ اس عورت کا مہر مثل شوہر کے مہر مثل کے برابر ہے،جب یہ چیزیں ایک عورت ثابت کرے اور اپنا معاملہ قاضی کے سپرد کرے فلاں شخص سے نکاح کرانے میں تو اب قاضی باس کا نکاح کرائے گا، اس ایسی باکرہ عورت کی خاموشی بھی سماع و اجازت ہوگی۔
الْأَوَّلُ: الْبِكْرُ الْيَتِيمَةُ الْبَلَدِيَّةُ إذَا أَرَادَتْ الزَّوَاجَ كَلَّفَهَا إثْبَاتَ يُتْمِهَا وَبَكَارَتِهَا وَبُلُوغِهَا وَخُلُوِّهَا مِنْ زَوْجٍ، وَأَنَّهُمْ مَا عَلِمُوا أَنَّ أَبَاهَا أَوْصَى بِهَا إلَى أَحَدٍ، وَلَا أَنَّ أَحَدًا مِنْ الْقُضَاةِ قَدَّمَ عَلَيْهَا مُقَدَّمًا، وَيُثْبِتُ أَيْضًا أَنَّهُ لَا وَلِيَّ نَسَبٍ لَهَا أَوْ أَنَّ لَهَا وَلِيًّا هُوَ أَحَقُّ بِعَقْدِ النِّكَاحِ وَتُثْبِتُ كَفَاءَةَ الزَّوْجِ، وَأَنَّ الصَّدَاقَ صَدَاقُ مِثْلِهَا عَلَى مِثْلِهِ، وَأَنَّهَا فَوَّضَتْ لِلْقَاضِي فِي نِكَاحِهَا بِذَلِكَ، وَسَمَاعُهُمْ مِنْهَا صَتْمًا.
دوسری قسم: اور اگر کوئی ثیبہ عورت قاضی کے پاس مقدمہ لے کر آئے کہ میری شادی کرا دیجئے! جبکہ وہ ثیبہ عورت قاضی کے شہر کی ہو تو اس کے شرائط میں سے یہ ہے کہ جب ثیبہ قاضی سے نکاح کرانے کو طلب کرے تو قاضی اسے مکلف بنائے گا کہ وہ پہلی شادی کی حقیقت کو ثابت کرے کہ اس کی پہلی شادی ہوئی تھی اور پہلے شوہر سے طلاق کو ثابت کرے یا اس کا مرنا ثابت کرے اور یہ کہ اس نے اس کے بعد کسی دوسرے شوہر سے شادی نہیں کی اگر پہلے شوہر اور اب تک لمبا زمانہ گزرا ہو اور یہ ثابت کرے کہ اس کا کوئی ولی نہیں ہے یا اس کا ولی تو ہے لیکن قاضی اس کے نکاح کا اس ولی سے زیادہ حقدار ہے اور کفائت بھی ثابت کرے۔
الثَّانِي: الثَّيِّبُ الْبَلَدِيَّةُ مِنْهَا إذَا طَلَبَتْ الثَّيِّبُ الزَّوَاجَ كَلَّفَهَا أَنْ تُثْبِتَ أَصْلَ الزَّوْجِيَّةِ وَطَلَاقَ الزَّوْجِ لَهَا أَوْ وَفَاتَهُ عَنْهَا، وَأَنَّهَا لَمْ تَخْتَلِفْ زَوْجًا إنْ تَخَلَّلَ ذَلِكَ طَوْلٌ، وَأَنَّ لَا وَلِيَّ لَهَا، وَأَنَّ لَهَا وَلِيًّا، وَأَنَّهُ أَحَقُّ بِعَقْدِ نِكَاحِهَا وَتُثْبِتُ الْكَفَاءَةَ.
تیسری قسم: خود باپ بیٹی کا نکاح کے لئے قاضی کے پاس آئے لیکن شادی کرانے والا باپ غیر معروف ہو مثلاً قاضی کے شہر کا نیا نیا رہنے والا ہو تو جب وہ قاضی کے پاس آئے تاکہ قاضی اس کی بیٹی کی شادی کرائے تو موجودہ زمانہ کے بعض قضاۃ نے ایسے آدمی کو مکلف بنایا ہے کہ وہ ثابت کرے سب سے پہلے کہ جس لڑکی کی وہ شادی کرانا چاہتا ہے قاضی کے ذریعے سے وہ لڑکی اسی کی بیٹی ہے ایسا نہ ہو کہ اس بستی کا نیا نیا رہنے والا ہو اور کسی کی بیٹی کو اٹھا کر قاضی سے کہیں کہ اس کی شادی کرا دو اس لیے پہلے اس لڑکی کا اپنی بیٹی ہونا ثابت کرے تب قاضی اس پر اس کے نکاح کرانے کا اقدام کرے گا۔
الثَّالِثُ: أَنْ يَكُونَ الْأَبُ غَيْرَ مَعْرُوفٍ وَيَأْتِي إلَى حَاكِمٍ لِيُزَوِّجَ ابْنَتَهُ، فَقَدْ كَلَّفَهُ بَعْضُ قُضَاةِ الْعَصْرِ أَنْ يُثْبِتَ أَنَّ لَهُ ابْنَةً.
(مَسْأَلَةٌ) :
اگر کوئی عورت قاضی کے پاس آتی ہے اور یہ کہتی ہے کہ میں مغلظہ چکی ہوں اور اپنے پہلے شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی ہوں تو اس عورت کو ثابت کرنا پڑے گا کہ اس نے پہلے شوہر کے بعد دوسرے شوہر سے شادی کی ہے اور دوسرے شوہر سے دخول کو ثابت کرے یہ بھی ثابت کرے کہ شوہر ثانی کے ساتھ وہ راتیں بھی بتا چکی ہے، اسی کو فرمایا کہ موجودہ زمانہ کے قاضیوں کی عادت رہی ہے کہ وہ مبتوتہ (مغلظہ)عورت کو روکتے ہیں کہ وہ اپنے طلاق دینے والے شوہر کی پاس دوبارہ لوٹے یہاں تک کہ وہ دوسرے شوہر سے دخول کو ثابت کرے اور اس کے پاس رہنا ثابت کرے۔
قَالَ بَعْضُهُمْ: جَرَتْ عَادَةُ قُضَاةِ الْعَصْرِ بِمَنْعِ الْمَرْأَةِ الْمَبْتُوتَةِ مِنْ رَجْعَةِ مُطَلِّقِهَا حَتَّى يَثْبُتَ دُخُولُ الزَّوْجِ الثَّانِي بِهَا وَأَنَّهُ كَانَ يَبِيتُ عِنْدَهَا.
اگر یہی مبتوتہ مغلظہ عورت قاضی کے پاس آئے اور قاضی سے کہے کہ میں شادی کرنا چاہتی ہوں اور وہ شوہر جس نے اس کو پہلے طلاق دی ہے وہ چاہتا ہو کہ وہ اس سے دوبارہ شادی کرے تو حضرت ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ ”اجماع کے مراتب“ میں فرماتے ہیں کہ مجھے معلوم نہیں کسی کے بارے میں کہ اس نے کہا ہو عورت کی تصدیق نہ کئ جائے گی بلکہ درست یہی ہے کہ اس کی تصدیق کی جانے چاہیے جب وہ خود کہتی ہے کہ میں دوسرے شوہر کے پاس گئی ہوں، دخول ثابت کر رہی ہے اور اب میں وہ طلاق کے بعد واپس اپنے سابق شوہر کے پاس لوٹنا چاہتی ہہے تو اس کی تصدیق کی جانی چاہیے۔
أَمَّا لَوْ قَدِمَتْ امْرَأَةٌ مَبْتُوتَةٌ فَقَالَتْ: قَدْ تَزَوَّجْتُ. فَأَرَادَ الَّذِي طَلَّقَهَا أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فَقَالَ ابْنُ الْمُنْذِرِ فِي مَرَاتِبِ الْإِجْمَاعِ: لَا أَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ إنَّهَا لَا تُصَدَّقُ.
(مَسْأَلَةٌ) :
دعاوی میں سے ایک دعوی یہ بھی ہے کہ ایک آدمی نے دوسرے آدمی پر اپنے باپ کے دین یا اپنے مورث کے دین کا دعوی کیا کہ میں فلاں مرنے والے کا وارث ہوں اور اس کا دین اس شخص پر ہے تو فرماتے ہیں دعوی تب صحیح ہوگا جب یہ اپنے باپ یا اپنے مورث کی موت کو ثابت کرے گا، اس کے کل وارثین کی تعداد کو ثابت کرے گا، اسی کو فرمایا کہ جب ایک آدمی دوسرے پر اپنے میت باپ کی طرف سے یا مورث کی طرف سے دین کا دعوی کرے تو لازم ہے اس پر کہ وہ اپنے مورث کی موت کو ثابت کرے اس کے ورثاء کی تعداد کو ثابت کرے تاکہ اس حق کو جانا جائے جس کا وہ دعویٰ سے مستحق ہو رہا ہے ( کہ دوسرے وارثوں سے مل کر اس کا کتنا حق ہے،؛س لیے وارثوں کی تعداد بیان کرنا ضروری ہے) پھر اس کے دعوے کی صحت میں غور و فکر کیا جائے گا۔
مِنْ الدَّعَاوَى إذَا ادَّعَى رَجُلٌ عَلَى آخَرَ دَيْنًا مِنْ قِبَلِ أَبِيهِ الْمَيِّتِ أَوْ مُوَرِّثِهِ فَيَلْزَمُهُ أَنْ يُثْبِتَ مَوْتَ مُوَرِّثِهِ وَعِدَّةَ وَرَثَتِهِ؛ لِيَعْلَمَ مَا يَسْتَحِقُّهُ مِمَّا يَدَّعِيهِ، ثُمَّ يُنْظَرُ فِي صِحَّةِ دَعْوَاهُ.
اسی طرح اگر کسی نے دوسرے شخص پر دعوی کیا کہ اس کے پاس سامان ہے یا کوئی چیز ہے میرے مورث کی یا میرے میت باپ کی اور یہ دعوی کیا کہ وہ چیز جو فلاں کے پاس ہے وہ مجھے میراث میں ملی ہے اپنے مورث سے تو یہاں پر بھی لازم ہے اس کے لیے کہ اپنے مورث کی موت کو ثابت کرے، اس کی وورثاءکی تعداد کو ثابت کرے اور یہ ثابت کرے کہ یہ چیز اس کے پاس میراث کے ذریعے سے منتقل ہوئی ہے تو تب اس کے دعوی میں غور و فکر کیا جائے گا۔
وَكَذَلِكَ لَوْ ادَّعَى عَلَيْهِ أَنَّ عِنْدَهُ عُرُوضًا أَوْ نَحْوُهَا لِمُوَرِّثِهِ وَادَّعَى أَنَّهَا صَارَتْ إلَيْهِ بِالْمِيرَاثِ فَيَلْزَمُهُ إثْبَاتُ مَوْتِ مُوَرِّثِهِ وَعِدَّةِ وَرَثَتِهِ وَانْتِقَالِ الْمِيرَاثِ إلَيْهِمْ ثُمَّ يُنْظَرُ فِي الدَّعْوَى.
اب یہاں سے باب حجر میں سے ایک مسئلہ بیان کر رہے ہیں کہ ایک آدمی آیا اس نے قاضی پاس مقدمہ دائر کیا قاضی صاحب! یہ فلاں یتیم ہے یہ میرے پاس کھاتا پیتا تھا اب اس کی نقد رقم جو میرے پاس تھی ختم ہو چکی ہے، اس کی فلاں زمین ہے آپ اسے بیچ دیجئے تاکہ وہاں سے کچھ نقد پیسہ آ جائے اور میں اسے اس رقم سے کھلا پلا سکوں کیونکہ اس پیسہ ختم ہو چکا ہے تو فرماتے ہیں قاضی کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں مگر یہ کہ سب سے پہلے وہ اس کی ملکیت کو ثابت کرے کہ وہ زمین یتیم کی ملکیت میں ہے پھر اس کے پاس جو قبضہ ہے اس کو ثابت کرے کہ میرے پاس یتیم کے مال کا قبضہ ہے اور پھر اس کے بیچنے کی حاجت کو بھی ثابت کرے اور یہ کہ اس کے بیچنے میں آسانی و فائدہ ہے یہ بھی ثابت کرے چنانچہ اسی کے متعلق فرمایا کہ جب حاکم کے پاس معاملہ آ گیا یتیم بچے کے مال کا اور قاضی سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس مال کو بیچے بچہ کی ضرورت کی وجہ سے تو قاضی کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں مگر اس کی ملکیت کے ثبوت کے بعد، اس کے قبضہ کے ثبوت کے بعد اور اس کے بیچنے کی حاجت کے ثبوت کے بعد اور اس بات کے ثبوت کے بعد کہ اس کا بیچنا آسان ہے اور نفع بخش ہے ( ایسا نہ ہو کہ بیچنے میں کوئی غبن یا نقصان ہو) ابھی تک تو وہ معاملہ لا رہا تھا جو وصی نہ تھا چاہے وہ خود یتیم کا ذمہ دار بنا تھا یا محلہ کی کمیٹی وغیرہ نے ذمہ دار مقرر کیا تھا، لیکن اگر معاملہ لانے والا خود اس یتیم بچے کا وصی ہو تو پھر وہاں اس شرط کا اضافہ ہے کہ وہ اپنا وصی ہونا ثابت کرے کہ میں اس بچے کا وصی ہوں اور ان چیزوں کو ثابت کرے جن کا تذکرہ گزر گیا یعنی ملک، قبضہ اور حاجت جب یہ سب ثابت ہو جائے تو پھر قاضی اس بچے کے مال کو بیچنے کا حکم دے گا لیکن ساتھ ساتھ میں یہ قید ہے کہ اس بات کو بھی ثابت کرے کہ جو مال بیچا جا رہا ہے لوگوں کو اس چیز میں رغبت ہے اور ثمن درست ہے ایسا نہ ہو کہ سردیوں میں گرمیوں کی چیز بیچ رہا ہے گرمیوں میں سردی کی چیز بیچ رہا ہے اور لوگوں کو اس میں رغبت نہیں تو لوگ اس کی قیمت میں کمی بیشی کریں گے اس لیے وہ چیز جس کو بیچا جا رہا ہے لوگوں کو اس میں رغبت ہونی چاہیے اس چیز کو بھی ثابت کرنا پڑے گا اور ثمن درست ہے کوئی غبن نہیں اس بات کو بھی ثابت کرنا پڑے گا۔
مَسْأَلَةٌ مِنْ بَابِ الْحَجْرِ: إذَا رُفِعَ إلَى الْحَاكِمِ مَالُ يَتِيمٍ وَسَأَلُوهُ أَنْ يَبِيعَهُ لِضَرُورَتِهِ لَمْ يَجُزْ لَهُ ذَلِكَ إلَّا بَعْدَ ثُبُوتِ مِلْكِهِ وَحِيَازَتِهِ وَالْحَاجَةِ إلَى الْبَيْعِ وَكَوْنِهِ أَيْسَرَ مَا يُبَاعُ عَلَيْهِ، وَإِنْ كَانَ الَّذِي رُفِعَ إلَى الْقَاضِي وَصِيًّا فَلَا بُدَّ مِنْ إثْبَاتِ وَصِيَّتِهِ وَإِثْبَاتِ مَا تَقَدَّمَ ثُمَّ يَأْمُرُ بِالْبَيْعِ، وَلَا بُدَّ حِينَئِذٍ مِنْ ثُبُوتِ الرَّغَبَاتِ وَالسَّدَادِ فِي الثَّمَنِ.
No comments:
Post a Comment