اور اگر دعوی باجرہ یا مکئی کے بارے میں ہو تو دعوی کے ساتھ یہ بھی ذکر کرے گا کہ وہ سرخ باجرہ صاف اور درمیانی درجے کی تھی اور یہ بھی ضروری ہے کہ ذکر کرے کہ وہ خزاں کے موسم کی بہار کے موسم کی تھی سو تعیین ضروری ہے۔
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي دُخْنٍ أَوْ ذُرَةٍ ذَكَرَ أَنَّهُ دُخْنٌ أَحْمَرُ نَقِيٌّ أَوْسَطُ لَا بُدَّ أَنْ يَذْكُرَ أَنَّهُ خَرِيفِيٌّ أَوْ رَبِيعِيٌّ فَلَا بُدَّ مِنْ التَّعْيِينِ،
اور اگر دعوی بیع سلم کے بارے میں ہو تو پھر بیع سلم کی جمیع شرائط کے بیان کے ساتھ دعوی کرے گا یعنی راس المال کی جنس کا اعلان اور اس کی تعین اور اسی طرح دیگر شرائط جو بیع سلم کی ہیں ان کا ذکر بھی کرے گا چنانچہ بیع سلم کے دعوی میں وہ مبیع کی نوع اس کی صفت اور اس کی مقدار وزن کے ذریعے سے، ذکر کرے گا اگر وہ چیز وزنی ہو اور ساتھ میں مجلس میں اس کے حصول کا بھی ذکر کرے گا کہ کس مجلس میں اس پر قبضہ کیا ہے تب جا کر حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ تعالی کے نزدیک دعوی صحیح ہوگا
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي السَّلَمِ فَيَذْكُرُ بَيَانَ شَرَائِطِهِ مِنْ أَعْلَامِ جِنْسِ رَأْسِ الْمَالِ وَغَيْرِهِ، وَيَذْكُرُ نَوْعَهُ وَصِفَتَهُ وَقَدْرَهُ بِالْوَزْنِ لَوْ كَانَ وَزْنِيًّا، وَانْتِقَادُهُ فِي الْمَجْلِسِ حَتَّى يَصِحَّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ - رَحِمَهُ اللَّهُ -
اور اگر بیع سلم میں بیع سلم کی جمیع شرائط کو بیان نہیں کیا البتہ یہ کہا کہ بیع سلم کے درست سبب سے میری چیز فلاں کے پاس ہے تو شمس الائمہ اوزجندی رحمتہ اللہ تعالی صحت دعویٰ کا فتوی دیتے ہیں اور شمس الائمہ رحمتہ اللہ تعالی علیہ کے علاوہ دوسرے فقہاء اس طرح کے دعوی کی صحت کا فتوی نہیں دیتے، چناں چہ شمس الائمہ کے قول کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ بیع سلم کی بہت زیادہ اضافی شرائط ہیں ان شرائط پر خواص ہی واقف کار ہوتے ہر کس نا کس کی بات نہیں کہ ان شرائط کو یاد رکھیں،فی زماننا تو خواص بھی ایسی شرائط کے جان سے محروم ہے الا ما شاء اللہ ۔
وَلَوْ قَالَ بِسَبَبِ سَلَمٍ صَحِيحٍ وَلَمْ يُبَيِّنْ شَرَائِطَهُ أَفْتَى شَمْسُ الْأَئِمَّةِ الْأُوزْجَنْدِيّ بِصِحَّةِ الدَّعْوَى، وَغَيْرُهُ لَمْ يُفْتُوا بِصِحَّتِهَا إذْ لِلسَّلَمِ شَرَائِطُ كَثِيرَةٌ وَلَا يَقِفُ عَلَيْهَا إلَّا الْخَوَاصُّ.
در اصل یہاں یہ اصول سمجھنا چاہیے کہ کوئی ایسا معاملہ جس میں اگرچہ شرائط ہیں لیکن وہ عام شرائط ہیں کوئی اضافی الگ سے شرط اس میں نہ ہو تو بعض حضرات کے نزدیک ایسے معاملہ کے دعوی میں شرائط کا ذکر کرنا ضروری نہیں لیکن جو معاملہ خاص معاملہ ہو اس کی کچھ اضافی شرائط ہوں تو ایسے معاملہ کا دعویٰ جبھی صحیح ہوگا کہ دعویٰ میں اس اس کی ہمہ شرائط کا ذکر کرے چنانچہ اگر بیع کا دعوی کیا اور یہ کہا کہ بیع صحیح کے سبب سے فلاں کے پاس وہ مال ہے تو بالاتفاق مدعی کا دعوی صحیح ہوگا اس لیے کہ بیع ایسا معاملہ ہے جس کی شرائط عام ہے اور کوئی اضافی شرط بھی نہیں ہے ہاں اگر بیع سلم کا دعویٰ کرے اور یہ کہے کہ درست بیع سلم کے سبب سے فلاں کے پاس وہ چیز ہے اور بیع سلم کی شرائط ذکر نہ کرے تو عام مشائخ کے نزدیک دعوی نہیں سنا جائے گا کیوں کہ سلم ایسا معاملہ ہے جو خاص معاملہ ہے اور اس کی اضافی شرائط بھی ہے لہذا ان شرائط کا دعوی کے ساتھ ذکر نا گزیر ہے جبکہ شمس الائمہ اوزجندی فرماتے ہیں بیع سلم کا دعوی بھی بغیر اس کی شرائط کے ذکر کے درست ہے کیوں بیع سلم کی شرائط کثیر ہیں ہر شخص ان شرائط پر مطلع نہیں ہوتا اسی اصول کے تحت مصنف نے فرمایا کہ ہر وہ سبب جس کی اضافی شرائط کثیر ہوں تو دعوی کی صحت کے لیے ان کا شمار کرنا عام مشائخ کے نزدیک ضروری ہے یہ کہنا کہ درست سبب سے یہ معاملہ ہوا ہے کافی نہ ہوگا اور وہ معاملہ جس کے لیے اضافی اور زیادہ شرائط نہ ہوں وہاں یوں کہنا کہ درست سبب سے یہ معاملہ ہوا ہے اتنا بھی کافی ہے
وَفِي دَعْوَى الْبَيْعِ: لَوْ قَالَ بِسَبَبِ بَيْعٍ صَحِيحٍ تَصِحُّ الدَّعْوَى وِفَاقًا، وَعَلَى هَذَا فَكُلُّ سَبَبٍ لَهُ شَرَائِطُ كَثِيرَةٌ لَا بُدَّ مِنْ عَدِّهَا لِصِحَّةِ الدَّعْوَى عِنْدَ عَامَّةِ الْمَشَايِخِ، وَلَا يُكْتَفَى بِقَوْلِهِ بِسَبَبٍ صَحِيحٍ، وَلَوْ لَمْ يَكُنْ لَهُ شَرَائِطُ كَثِيرَةٌ لَاكْتَفَى بِقَوْلِهِ " بِسَبَبِ كَذَا صَحِيحٌ،
اور اگر دعوی ترکی خالص غلام کے سلسلے میں ہو کہ جس کا اس نے دعوی کیا ہے اس کی صفات بھی بیان کی اور دعویٰ کرتے ہوئے یہ بھی استدعاء کی کہ شئ غلام کو حاضر کیا جائے تاکہ دعویٰ واضح ہو جائے، پھر قاضی نے اس غلام کو طلب کیا تو کیا دیکھا کہ اس مدعِی کی بعض بیان کردہ صفات وہ مخالفت کرتی ہے بعض صفات کے جو اس مدعی نے بیان کی تھی یعنی مدعی نے غلام کی کچھ صفات دعویٰ میں بیان کی تھیں، کہ وہ پانچ فٹ ہے وہ موٹا ہے لیکن جب غلام سامنے آیا دیکھا تو وہ چھ سات فٹ ہے اونچائی میں اور دیکھا کہ وہ بہت دبلا پتلا ہے اب ایسے میں کیا ہوگا؟ پس اگر مدعی یہ کہے کہ یہی میرا غلام ہے اور گواہ پیش کر دے تو مدعی کا دعوی سنا جائے گا مدعی کے دعوے کو قبول کیا جائے گا فقہا نے فرمایا یہ جواب درست ہوگا اس صورت میں جب وہ دعوی کرے کہ یہی میری ملکیت ہے اور اس چیز پر کوئی چیز زیادہ نہ کرے یعنی یعنی کوئی اور صفت وغیرہ بیان نہ کرے بلکہ صرف یہ کہے کہ یہی میری ملکیت ہے گویا ایسا سمجھا جائے گا (جو کل اس نے صفات بیان کی تھی اگرچہ وہ اس غلام میں نہیں ہے) کہ کل کا دعویٰ اس نے چھوڑ دیا اس وقت یہ مجلس میں الگ اور از سر نو دعوی کر رہا ہے کہ یہ میرا غلام ہے لیکن اگر اس نے یہ کہا کہ یہی وہ قن غلام ہے جس کا کل میں نے دعوی کیا تھا یا پہلے دعوی کر چکا ہوں تو ایسے میں کل کا دعویٰ مبتدی اور آج کی بات اس کی خبر ہوگی اور صفات میں مطابقت نہ ہونے کی وجہ سے دعویٰ مردود ہوگا کہ کل جو صفات بیان کی تھیں ان صفات کا دور دور تک اس میں نام و نشان نہیں اس لیے تناقض کی وجہ سے اس کا دعوی نہیں سنا جائے گا دعوی اور بینات کی کتاب میں اسی طرح مسئلہ مذکور ہے
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي قِنٍّ تُرْكِيٍّ ادَّعَاهُ وَبَيَّنَ صِفَاتِهِ وَطَلَبَ إحْضَارَهُ لِيُبَرْهِنَ فَأَحْضَرَ قِنًّا خَالَفَ بَعْضُ صِفَاتِهِ بَعْضَ مَا وَصَفَهُ فَقَالَ الْمُدَّعِي: هَذَا مِلْكِي وَبَرْهَنَ يُقْبَلُ. قَالُوا: وَهَذَا الْجَوَابُ يَسْتَقِيمُ فِيمَا لَوْ ادَّعَى أَنَّهُ مِلْكُهُ فَقَالَ: هَذَا مِلْكِي وَلَمْ يَزِدْ عَلَيْهِ، تُسْمَعُ دَعْوَاهُ وَيُجْعَلُ كَأَنَّهُ ادَّعَاهُ ابْتِدَاءً.
فَأَمَّا لَوْ قَالَ: هَذَا هُوَ الْقِنُّ الَّذِي ادَّعَيْته أَوَّلًا، لَا تُسْمَعُ لِلتَّنَاقُضِ، كَذَا فِي كِتَابِ الدَّعَاوَى وَالْبَيِّنَاتِ.
اور اگر دعوی زمین یا کسی بھی محدود ( جن کی حد بندی کی جاتی ہے) اشیاء کے سلسلے میں ہو جیسے کہ گھر وغیرہ کے بارے میں تو اس کے حدود کو بھی ذکر کرنا ہوگا اگر درستگی کو پہنچے اس طور پر کہ اپنی پیش کردہ تعریف میں کہے کہ اس زمین میں درخت ہیں پھر وہ چیز ویسے ہی پائی گئی تو دعوی درست ہے لیکن اگر اس نے اس زمین میں درختوں کا ذکر کیا تھا لیکن جب دیکھا گیا تو زمین درختوں سے خالی تھی تو کیا اس کا دعوی رد کیا جائے گا یا اس کے دعوت کو برقرار رکھا جائے گا چنانچہ اس سلسلے میں مسئلہ یہ ہے کہ اگر مدعی نے آج دعوی کیا اور یہ بتلایا کہ فلاں زمین کا دعوی ہے اور اس میں درخت ہے پھر اس کا معائنہ ایک مدت کے بعد کیا گیا اگر درمیانی مدت میں جو گزری ہے اس زمین میں کوئی ایسا بدلاؤ آیا ہے جو اس مدت میں ممکن تھا تو پھر مدعی کا دعوی قبول ہوگا اگر کوئی ایسا بدلاؤ آیا ہو جو اس مدت میں ممکن نہ ہو تو مدعی کا دعوی قبول نہیں کیا جائے گا مثلا یہی مذکور دعویٰ کہ کہا میری اس زمین میں درخت ہیں لیکن جب معاینہ کیا گیا تو زمین درختوں سے خالی تھی تو مدعی کا دعویٰ قبول کیا جائے گا کیوں درخت ختم ہونے یا کاٹنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا اور درمیان میں مدت طویل ہو پھر تو ظاہر ہے اسی طرح اگر درخت کی جگہ دیوار ہوئے جبکہ اس نے درخت کا ذکر کیا تھا جب بھی مدعی کا دعویٰ صحیح ہوگا کیوں کہ یہاں درختوں کے ذکر کی چنداں ضرورت نہیں تھی، لیکن اگر اس نے دعوی کیا تھا کہ میرے زمین میں درخت نہیں پھر جب قاضی صاحب گئے تو دیکھا اس کی زمین میں بہت بڑے بڑے درخت ہیں اور ایک سال میں اتنا بڑا درخت نہیں ہو سکتا تو ایسی صورت میں اس کا دعوی خارج کر دیا جائے گا، اسی کو مصنف رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا اگر اپنی تعریف میں اس نے کہا کہ میری زمین میں درخت ہیں پھر جب معائنہ کیا گیا تو زمین درختوں سے خالی تھی تو محض اس کا دعوی اس وجہ سے باطل نہیں ہوگا کہ اس میں درخت نہیں اسی طرح جب درختوں کی جگہ دیوار ہوں اس لیے کہ وہ محتاج نہیں درختوں کے ذکر کرنے کا تو دیوار کا بھی ذکر کرنے کا محتاج نہیں ہے کیونکہ اس میں تبدیلی آ سکتی ہے لیکن اگر اس نے کہا اپنی تعریف میں دعوے کرتے ہوئے میری زمین میں کوئی درخت نہیں نہ کوئی دیوار ہے پس جب زمین کا معائنہ کیا گیا تو اس میں بڑے بڑے درخت تھے اتنے بڑے کہ دعویٰ کے بعد ان درختوں کا پیدا ہو کر اتنا بڑا ہونا متصور نہیں کیا جا سکتا ہے تو اس صورت میں مدعی کا دعوی باطل ہوگا یہ قاضی خان رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے۔
وَإِنْ كَانَتْ فِي مَحْدُودٍ ذَكَرَ حُدُودَهُ، فَإِنْ أَصَابَ وَقَالَ فِي تَعْرِيفِهِ: وَفِيهِ أَشْجَارٌ. وَكَانَ خَالِيًا عَنْ الْأَشْجَارِ لَا تَبْطُلُ الدَّعْوَى وَكَذَلِكَ لَوْ كَانَ مَكَانَ الْأَشْجَارِ حِيطَانٌ؛ لِأَنَّهُ غَيْرُ مُحْتَاجٍ إلَى ذِكْرِ الشَّجَرِ.وَلَوْ قَالَ فِي تَعْرِيفِهِ: لَيْسَ فِيهِ شَجَرٌ وَلَا حَائِطٌ. فَإِذَا فِيهِ أَشْجَارٌ عَظِيمَةٌ لَا يُتَصَوَّرُ حُدُوثُهَا بَعْدَ الدَّعْوَى بَطَلَتْ دَعْوَاهُ، قَالَهُ قَاضِي خَانَ.
اور اگر دعوی امانت کے سلسلے میں ہو تو امانت سپرد کرنے کی جگہ کا ذکر بھی ضروری ہے یعنی کس شہر میں دیا ہے چاہیے اس کو اٹھانے کی مشقت اور لانے لے جانے میں پیسہ وغیرہ لگتا ہو یا نہ لگتا ہو پھر بھی شہر کا تذکرہ ضروری ہے۔
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي الْوَدِيعَةِ فَلَا بُدَّ مِنْ ذِكْرِ بَلَدِ الْإِيدَاعِ سَوَاءً كَانَ لَهُ حَمْلٌ وَمُؤْنَةٌ أَوْ لَا.
اور غصب کے سلسلے میں دعویٰ کرنا اگر اس کو اٹھا کر لانے لے جانے میں کوئی مشقت و خرچہ نہ لگتا ہو پھر غصب کی جگہ کا تذکرہ شرط نہیں ہے اسی طرح اگر غیر مثلی شئی کے غصب اور اس کی ھلاکت کا دعویٰ ہو، ظاہر الروایہ کے مطابق غصب کے دن کی قیمت بیان کرنا مناسب ہے کیوں چیز غیر مثلی ذوات القیم میں سے ہے اور دوسری روایت یہ ہے کہ مالک کو اختیار دیا جائے گا چاہے وہ غصب کے دن کی قیمت لے یا جس دن ہلاک ہوئی ہے اس دن کی قیمت لے بس ضروری ہے اس کی چیز کا ثمن مثلی بیان کرے۔
وَفِي دَعْوَى الْغَصْبِ لَوْ لَمْ يَكُنْ حَمْلٌ وَمُؤْنَةٌ لَا يُشْتَرَطُ بَيَانُ مَكَانِ الْغَصْبِ وَفِي غَصْبِ غَيْرِ الْمِثْلِيِّ وَإِهْلَاكِهِ يَنْبَغِي أَنْ يُبَيِّنَ قِيمَتَهُ يَوْمَ غَصْبِهِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ، وَفِي رِوَايَةٍ يُخَيَّرُ الْمَالِكُ بَيْنَ أَخْذِ قِيمَتِهِ يَوْمَ غَصْبِهِ أَوْ يَوْمَ إهْلَاكِهِ فَلَا بُدَّ مِنْ بَيَانِ أَنَّهَا قِيمَتُهُ: أَيْ الثَّمَنُ.
اور اگر دعوی چیزوں کو ہلاک کرنے کے وجہ دنانیر کا ہو تو ھلاکت کی جگہ میں ان دنانیر کی کیا قیمت ہے اس کو بھی بیان کرنا ضروری ہے دنانیر کی قیمت مختلف ہوتی ہے اسی طرح ان اعیان (چیزوں) کا ذکر بھی ضروری ہے کیوں کہ اعیان ذوات الامثال و القیم دونوں طرھ کی ہوتی ہیں پس اگر وہ چیز مثلی ہوگی تو ان کا مثل دینا پڑے گا اور اگر وہ قیم میں سے ہو تو ان کی قیمت دینی پڑے گی۔
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي دَنَانِيرَ بِسَبَبِ إهْلَاكِ الْأَعْيَانِ فَلَا بُدَّ أَنْ يُبَيِّنَ قِيمَتَهَا فِي مَوْضِعِ الْإِهْلَاكِ، وَكَذَا لَا بُدَّ مِنْ بَيَانِ الْأَعْيَانِ، فَإِنَّ مِنْهَا مَا هُوَ مِثْلِيٌّ وَمِنْهَا مَا هُوَ قِيَمِيٌّ.
اور اگر گیہوں کے بارے میں دعوی ہو اور وہ اس کا دعوی کر رہا ہو وزنی ہونے کا تو کہا گیا ہے کہ دعوی صحیح ہوگا حالانکہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم نے جن چھے ربوی چیزوں کا ذکر کیا ہے ان میں ایک بر بھی ہے لیکن حضور کے زمانے میں ان اشیاء ستہ ربویہ میں سے صرف سونا اور چاندی وزنی ہوتی تھیں باقی چار چیزیں کیلی ہوتی تھیں، اصل میں اس کی بنیاد اس اختلاف پر ہے کہ بعض حضرات کے نزدیک ان چھے چیزوں میں جو چیزیں حضورﷺ کے زمانہ میں یا چو بزبان رسالت وزنی کہلائیں وہ ہمیشہ وزنی رہیں گی اور جو کیلی تھیں یا کیلی کہلوائیں وہ کیلی رہیں گی، اور بعض حضرات کے نزدیک اس کا دار ومدار عرف پر ہے ان اشیاء ستہ ربویہ میں جو جہاں وزنی ہوگی وہ وزنی جو جہاں کیلی ہوگی وہ کیلی حضورﷺ نے ان اشیاء کو بطور عرف اپنے مبارک زمانے کے بیان کیا ہے،اب اگر کوئی یہاں دعوی کر رہا ہے گیہوں کا لیکن ساتھ میں دعوی کرتا ہے وزنی ہونے کا کہ وہ وزن سے لیا ہے، جو بعض حضرات اس کا دار ومدار عرف پر چھوڑتے ہیں ان کے نزدیک اس کا دعویٰ صحیح ہوگا، اور جن حضرات کے نزدیک یہ چیزیں عرف سے نہیں بدلتی ان کے نزدیک دعوی صحیح نہ ہوگا، اسی طرح مکئ اور نمک وغیرہ ان کا بھی عرف سے اعتبار ہوگا ( یہاں ذرہ کے ساتھ ملح درست معلوم نہیں ہوتا کیوں کہ ملح بھی اشیاء ستہ ربویہ میں سے ہے، ان کے بارے میں ابھی عرف کی تفصیل گذری، بعض نسخوں میں اس جگہ لفظ ہے جو درست ہے) بہرحال اشیاء ستہ ربویہ : ان کی مقدار چار میں تو وہ کیلی ہو گی اور وہ چار یہ ہے، گیہوں، گندم، کھجور، اور نمک اور دو چیزوں میں مقدار وزن ہو گی وہ دو چیزیں یہ ہیں سونا اور چاندی۔
وَإِنْ كَانَتْ الدَّعْوَى فِي الْبُرِّ وَادَّعَاهَا بِوَزْنٍ قِيلَ: يَصِحُّ. وَقِيلَ: لَا وَفِي الذُّرَةِ وَالْمِلْحِ يُعْتَبَرُ الْعُرْفُ، أَمَّا الْأَشْيَاءُ السِّتَّةُ فَالْمِقْدَارُ هُوَ الْكَيْلُ فِي الْأَرْبَعَةِ مِنْهَا وَهُوَ بُرٌّ وَشَعِيرٌ وَتَمْرٌ وَمِلْحٌ، وَفِي الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ الْمِقْدَارُ هُوَ الْوَزْنُ.
No comments:
Post a Comment