Friday, August 23, 2024

الباب الثالث فی ولایۃ القضاء وما یستاد بھا

تیسرا باب، قضاء کی ولایت کے سلسلے میں اور ان چیزوں کے سلسلے میں جن معاملات و احکام میں غور و فکر اور جن کی دیکھ ریکھ حاصل ہوتی ہے قضا کے ذریعے اور اسی طرح ولایت کے مراتب کے بیان میں جو اہلیت قضاء کا فائدہ دیں یا جو ولایت قضاء میں سے کسی چیز کا فائدہ دے اس سلسلے میں۔ . 
بہرحال ولایت قضاء تو اس سلسلے میں امام قرافی مالکی رحمہ اللہ تعالی ذخیرہ نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ولایت قضاء صرف حکم کو یعنی فیصلے کو شامل ہے، حکم اور فیصلے کے علاوہ اس میں کوئی چیز داخل نہیں ہوتی اور دوسری جگہ یہ لکھتے ہیں کہ قاضی کے لیے سیاست عامہ نہیں ہے چنانچہ امام قرافی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی عبارت سے جو ذخیرہ نامی کتاب میں انہوں نے نقل فرمائی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قضاء کا دائرہ بہت محدود ہے اس لیے کہ امام قرافی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ قضاء کی ولایت سے قاضی کو صرف فیصلے کا اختیار حاصل ہوتا ہے اس کے علاوہ اسے کوئی اختیار حاصل نہیں ہوتا اور پھر دوسری جگہ اسی ذخیرہ نامی کتاب میں لکھتے ہیں قضاء کے دائرے کو اور محدود کر کے کہ قاضی کو سیاست عامہ حاصل نہیں ہے کہ قاضی کو چونکہ صرف قضا کا عہدہ دیا گیا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ قضاء کے عہدے سے صرف فیصلہ کرے شرعی احکام میں، سیاست عامہ میں حصہ نہ لے یہ قاضی کے ذمہ نہیں ہے، آگے امام قرافی فرماتے ہیں کہ ایسا قاضی جس کو تنفیذ پر کوئی قدرت نہیں یعنی وہ فیصلہ کرتا ہے فیصلے کے بعد اس فیصلے پر عمل درآمد کرانا یہ قاضی کے اختیار میں چونکہ ہے ہی نہیں تو جس قاضی کو تنفیذ کی قوت حاصل نہیں اسے چاہیے کہ اس سیاست عامہ میں بالکل بھی حصہ نہ لے یہ اس حاکم کی طرح ہے جو ضعیف القدرت ہے یعنی ایک بادشاہ ہے اس نے کسی کو حاکم بنایا اور بادشاہ ظالم ہے تو یہ حاکم جو ظالم بادشاہ کے تحت ہے یہ ظالم بادشاہ پر اگر کوئی فیصلہ سناتا ہے تو فیصلے کی تو اسے قدرت ہے لیکن اس فیصلے کو نافذ کرانا یہ اس کے اختیار میں نہیں ہے اس حاکم کو اس پر قدرت حاصل نہیں ہے اسی طرح اس قاضی کی حیثیت ہے یہ تنفیذ کی چوں کہ قدرت نہیں رکھتا اس لیے اسے سیاست عامہ بھی نہیں کرنی چاہیے بس قضاء کی ولایت یہ صرف الزام کا انشاء ہے بادشاہ پر، کیونکہ بادشاہ پر صرف فیصلہ کیا جا سکتا ہے اس فیصلے کو نافذ نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ بادشاہ کے تحت کام کرتا ہے جس کی وجہ سے بادشاہ کے بارے میں صرف فیصلہ سنا سکتا ہے یعنی الزام کا انشاء کر سکتا ہے لیکن اس کے حاشیہ خیال میں بھی یہ بات نہیں آ سکتی کہ میں بادشاہ پر اس حکم کو نافذ کروں گا اس لیے کہ یہ اس سے معذور ہے، اسی طرح قاضی بھی معذور ہوتا ہے بس حاکم اور قاضی کے دائرہ اختیار میں صرف انشاء ہے تنفیذ نہیں ہے،ہاں البتہ کہیں کہیں قاضی و حاکم کے دائرہ اختیار میں قوت تنفیذ بھی ہوتی ہے، ہر جگہ نہیں۔ 
اس کے بعد امام قرافی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ قوت تنفیذ یہ ایک امر زائد ہے یعنی حاکم ہونے کی حیثیت سے، قاضی ہونے کی حیثیت سے اگر اس کو قوت تنفیذ بادشاہ کی طرف سے حاصل ہو تو وہ حکم نافذ کر سکتا ہے ورنہ نہیں کر سکتا اس اعتبار سے پتہ چلا کہ اگر اسے قوت تنفیذ بادشاہ کی طرف سے حاصل ہو تو وہ فیصلہ نافذ کر سکتا ہے ورنہ فیصلہ نافذ نہیں کر سکتا اس لیے کہ کبھی کبھی بادشاہ کی طرف سے قاضی کو قوت تنفیذ حاصل ہوتی ہے اور کبھی کبھی اس کی ولایت میں قوت تنفیذ حاصل نہیں ہوتی ہے مزید فرماتے ہیں کہ اسی طرح قاضی کے دائر اختیار میں مال غنیمت کا تقسیم کرنا نہیں ہے، اسی طرح مصالح پر بیت المال کے مال کا بانٹنا قاضی کے دائرے اختیار میں نہیں ہے، حدود کا قائم کرنا قاضی کے دائرے اختیار میں نہیں ہے، جیوش مسلمین کی ترتیب یعنی عساکر و افواج کی ترتیب و تدبیر یہ قاضی کے دائرے اختیار میں نہیں ہے، سرکشوں سے قتال کرنا قاضی کے دائرے اختیار میں نہیں ہے، بنجر زمینوں کی تقسیم قاضی کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے، معادن وغیرہ جو زمینی خزانے ہیں ان کی دیکھ ریکھ یہ قاضی کے دائرۂ اختیار میں نہیں ہے، اور اس کے علاوہ جتنی بھی چیزیں ہیں قاضی کو چاہیے کہ ان میں حصہ نہ لے یہ قاضی کے دائرہ اختیار سے خارج چیزیں ہیں پس جائز نہیں ہے کسی ایک کے لیے وہ ان پر اقدام کرے مگر یہ کہ امام وقت کی طرف سے اسے اجازت حاصل ہو یہاں تک تو بات مکمل ہو گئی۔ 
آگے مصنفؒ فرماتے ہیں کہ امام قرافیؒ نے جو یہ فرمایا کہ قاضی حدود کو قائم نہیں کر سکتا ہے اس میں نظر ہے، اس پر اشکال ہے، فرماتے ہیں کہ ہمارے مذہب، مذہب حنفیہ میں تو یہ منقول ہے کہ قاضی کو اقامت حدود حاصل ہے اس لیے کہ یہ منصب قضاء کے اصل الاصول چیزوں میں سے ہے اس لیے کہ حدود دو ہی انسان قائم کر سکتے ہیں ایک خلیفہ وقت دوسرا قاضی اور اس سلسلے میں دلیل یہ دی ہے کہ حضرت ابن عمر، حضرت عمار بن یاسر اور صحابہ کی ایک جماعت رضی اللہ عنہم اس چیز کی قائل ہے کہ چار چیزیں کی ذمہ داری ولاۃ کو ہے مال فئ کی تقسیم کرنا، جمعہ کا قائم کرنا، حدود کا قائم کرنا اور صدقات کو حاصل کرنا اور لوگوں میں بانٹنا یہ ولاۃ اور قضاۃ کی ذمہ داری ہے اس لیے امام قرافی نے جو قضاء کا دائرہ محدود کر کے یہ بتلایا کہ اقامت حدود قاضی کے دائرہ اختیار میں نہیں ہے یہ مطلقا کہنا صحیح نہیں ہے بلکہ کبھی کبھی یہ قاضی کے دائرہ اختیار میں داخل ہوتا ہے اور کبھی کبھی یہ قاضی کے دائرے اختیار میں داخل نہیں ہوتا ہاں چونکہ قتل یعنی قتل کا قصاص ہر قاضی کو حاصل نہیں ہوتا اس حساب سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اقامت حدود ہر ایک کو حاصل نہیں ہوتا بلکہ ہر کسی والی کو بھی اقامت حدود حاصل نہیں ہوتا ہے اس لیے کہ ہر کس و نا کس کا اقامت حدود پر اقدام یہ فتنے اور حرج کا باعث بن سکتا ہے، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ وہ ولاۃ کو قصاص لینے سے روکتے تھے اور ان سے فرماتے تھے کہ جب تک میری اجازت نہ ہو تب تک آپ قصاص نہ لیجئے گا کیونکہ قصاص لینا یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے اس لیے اس کی اجازت عام نہیں ہونی چاہیے اور اس لیے بھی کہ اقامت حدود سے چند احکام لازم آتے ہیں جیسے کہ محدود کا فسق لازم آتا ہے اور اس کے علاوہ بہت ساری چیزیں لازم آتی ہیں اور کسی کو فاسق بنانا اس سلسلے میں بہت احتیاط کرنی چاہیے اس لیے امام مصنف رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا کہ ضروری ہے کہ اس چیز میں احتیاط برتی جائے بعض ولاۃ پر اس چیز کو روک کر اور اس چیز کے دائرے کو محدود کر کے اس کے بعد مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ امام قرافی نے جو فرمایا کہ قاضی کو سیاست عام حاصل نہیں ہے یہ بھی مطلق نہیں ہے بلکہ اس میں بھی کچھ تفصیل ہے کہ کہیں حاصل ہوتی ہے، کہیں حاصل نہیں ہوتی چنانچہ بعض علماء کا کہنا ہے کہ قضاء کا شعبہ یہ اہم شعبوں میں سے ہے قدر کے اعتبار سے اسی لیے قاضی کی طرف ہی رجوع کیا جاتا ہے ہر بڑے اور ہر چھوٹے مسئلے میں بغیر تحدید کے اور اسی لیے کہ قضاءِ قاضی پر ہی احکام کا دارومدار ہے اور قضاء کے تمام وجوہ میں اسی کی طرف دیکھا جاتا ہے کم اور زیادہ میں اور یہ کی قاضی کے ساتھ خاص ہے کہ وہ زخمیوں اور اسی طرح خون بہا چیزوں میں غور و فکر کرے یہ تو قاضی کے ذمے ہے کہ کسی کو زخم آیا ہے وہ اس کے بارے میں گواہ طلب کر کے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ سنائے اور اسے اس کے حق دلائے جو حق تلفی ہوئی ہے اس کی تلافی کی جائے یہ تو قاضی کی ذمہ داری ہے اس اعتبار سے قاضی تمام امور کو انجام دے سکتا ہے مگر چند امور خاصہ ہے یعنی امام مصنف رحمۃ اللہ تعالی کی بات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ قاضی کا دائرہ بہت وسیع ہے ہاں چند چیزیں ہیں جو قاضی کے دائرہ اختیار سے خارج ہے اور اس کے بالمقابل امام قرافی رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی بات سے اور ان کی عبارت سے یہ معلوم ہو رہا تھا کہ قضاء کا دائرہ بہت محدود ہے چند چیزیں قاضی کے دائرہ قضاء میں داخل کرے یہ دونوں باتوں میں واضح فرق ہے۔ 
جان لو! مصنف علیہ رحمہ نے حضرت امام ابن قیم جوزی رحمۃ اللہ تعالی کے حوالے سے ایک فیصلہ کن بات فرمائی وہ یہ کہ قضاء کے دائرے کو جو امام قرافی نے بہت محدود کیا تھا قضاء کا دائرہ اتنا محدود نہیں ہے بلکہ ولایت خاص بھی ہو سکتی ہے اور عام بھی ہو سکتی ہے جہاں ولایت عام ہو وہاں پہ ولایت کے تحت بہت ساری چیزیں داخل ہو سکتی ہیں جہاں ولایت خاص ہو وہاں ولایت کے تحت یعنی ولایت قضاء کے تحت چند چیزیں داخل ہو سکتی ہے چنانچہ کون سی چیزیں ولایت سے متولی کو حاصل ہو سکتی ہے تو اس سلسلے میں امام مصنف رحمہ اللہ تعالی نے امام ابن قیم رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی عبارت نقل کر کے فرمایا کہ اس کا دارومدار الفاظ، احوال اور عرف پر ہے یعنی کبھی کبھی صراحتا امام وقت کی طرف سے قاضی کا دائرہ وسیع ہو سکتا ہے اور کبھی کبھی محدود ہو سکتا ہے اور کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ خلیفے کی طرف سے تو کوئی حکم نہیں لیکن حالات ایسے ہیں کہ پتہ چل رہا ہے کہ قاضی کے دائرہ اختیار میں یہ چیزیں ہیں اور قاضی کے دائرہ اختیار میں یہ چیزیں نہیں ہیں اور کبھی کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ نہ تو امام وقت کی طرف سے صراحت ہے اور نہ احوال ایسے ہے البتہ عرف کا تقاضہ ہے کہ یہ چیزیں دائرہ قضاء میں داخل ہوں اور یہ چیزیں داخل نہ ہوں کیونکہ کبھی کبھی عرف بھی کام کرتا ہے اور عرف کا اس بڑا دخل ہے،اس سلسلے میں شریعت کی طرف سے کوئی حد بندی نہیں بلکہ کبھی صراحتا چیزیں داخل ہو سکتی ہے، کبھی حالات سے چیزیں داخل ہو سکتی ہے، کبھی عرف سے کوئی چیز داخل ہو سکتی ہے اور کوئی چیز داخل نہیں ہو سکتی، قال، حال، اور عرف یہ تینوں چیزیں بتلائیں گی کیا کون سی چیز قضاء کے تحت ہے اور کون سی نہیں،چنانچہ کبھی کبھی بعض جگہوں میں بعض زمانے میں وہ چیزیں داخل ہوتی ہیں جو چیزیں ولایت حرب میں داخل ہوتی ہیں یعنی جب جنگی حالات ہوتے ہیں تو امام وقت کو جو چیزیں حاصل ہوتی ہے وہ کبھی کبھی قاضی کو بھی حاصل ہو جاتی ہے اسی طرح کبھی کبھی بعض جگہوں میں بعض زمانے میں ولایت قضاء احکام شرعیہ کے ساتھ خاص ہوتی ہے،اور احکام شرعیہ پر منحصر ہوتی ہے، چنانچہ ولایت قضاء سے وہی چیزیں قاضی کو حاصل ہو سکتی ہیں جس کا تقاضا اس جگہ کا عرف کرتا ہو اور جو چیزیں وہاں عادتا جاری ہوں یہی تحقیق اس مسئلے میں صحیح تحقیق ہے۔ 

[فَصْلٌ نُوَّابُ الْقُضَاةِ]
یہ ففصل نائب قاضیوں کے بیان میں۔ 
(فَصْلٌ) :
بہرحال قاضی حضرات کے من جملہ کاموں میں سے کسی خاص کام کا نائب یا تمام کاموں میں مطلقاً نائب قاضی بقول بعض علماء یہ تمام نائبین اصل قاضیوں کے برابر ہے بغیر کسی کمی زیادتی کے یعنی اصل قضاۃ اور نائبین میں کوئی فرق نہیں ہے سوائے کام کی کمی و زیادتی کا بڑی جگہوں اور چھوٹی جگہوں کی طرف نسبت کرتے ہوئے، بعض جگہیں بڑی ہوتی ہیں جیسے بڑے شہر تو وہاں کے قاضی کے کام بھی زیادہ ہوں گے اور جو چھوٹے شہر ہیں وہاں کا قاضی اصل ہو یا نائب ان کے کام کم ہوں گے اس لیے شہروں کے بڑے چھوٹے ہونے کی طرف نسبت کرتے ہوئے نائبین اور اصل قضاۃ میں فرق ہوگا لیکن اصل اصول ان دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے ہاں اصل قاضی کو اختیار حاصل ہے کہ وہ فرع کو معزول کرے جبکہ فرع و نائب اصل قاضی کو معزول نہیں کر سکتا اور یہ ایسا فرق ہے جو ولایت کے خاص ولایت و نفس ولایت میں کوئی زیادتی پیدا نہیں کرتا جس کی وجہ سے یہ کہا جائے کہ اصل اور نائب قاضی میں بڑا فرق ہے یعنی اس سے کوئی بڑا فرق لازم نہیں آتا ہے یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ کو اعتراض ہے فرماتے ہیں کہ ایسا کہنا کہ اصل قاضی اور نائب قاضی کے بارے میں کوئی فرق نہیں ہے اگر یہ اس نائب قاضی کے بارے میں کہا گیا ہے جو امام المسلمین کی اجازت سے نائب قاضی بنا ہے تو تب تو درست ہے ایسے میں اصل قاضی اور نائب قاضی میں کوئی فرق نہیں لیکن اگر نائب قاضی امام المسلمین کی اجازت سے نہیں بنا ہے صرف قاضی کی اجازت سے بنا ہے تو پھر ہماری اہل مذہب کی کتابوں میں ان بعض فضلاء حضرات کے قول کے خلاف مسئلہ لکھا ہوا ہے وہ یہ کہ اگر قاضی امام المسلمین کی اجازت سے نائب و خلیفہ بنائے تو پھر اس کے لیے معاملہ کو درج کرنا بھی جائز ہے اور اگر وہ امام مسلمین کی اجازت سے نائب نہیں بنا ہے بلکہ صرف قاضی کی اجازت سے نائب بنا ہے تو پھر اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملہ کو جو اس کے پاس ثابت ہوا ہے اصل قاضی کے پاس جوں کا توں بھیج دے جیسے کہ اس پر آگے انشاءاللہ بیان وضاحت کے ساتھ آنے والا ہے اس لیے کہ قاضی کے لیے جائز ہے کہ وہ جائز قرار دے یتامی، غائبین و مفقودین کے اموال میں غور و فکر کرنے اور تمام معاملات کو درج کرنے کو اس شخص کے لیے جسے وہ نائب بنا رہا ہے اپنے تمام فیصلوں میں اور اسی طرح قاضی کو اجازت ہے کہ وہ ایسے شخص پر حجر بھی لگائے، پس وہ قاضی اپنی صواب دید پر اپنے اجتہاد سے جس کے لیے چاہے کر سکتا ہے چنانچہ مصنف آخر میں یہ فیصلہ فرما رہے ہیں کہ مناسب ہے کہ بعض فضلاء کا کلام جو انہوں نے فرمایا تھا کہ اصل قاضی اور نائبین میں کوئی فرق نہیں ہے اس کلام کو محمول کیا جائے اس نائب پر جس کو اصل قاضی نے ان تمام معاملات میں اجازت دے رکھی ہو جن اختیارات کو قاضی امام المسلمین حاصل کر چکا ہو اس لیے وہ پورا تصرف کر سکتا ہے اس حساب سے اصل قاضی اور نائب قاضی کے بارے میں یقیناً کوئی فرق نہیں ہے ورنہ اصل قاضی اور نائب قاضی کے درمیان بڑا فرق ہے۔ 
أَمَّا نُوَّابُ الْقُضَاةِ فِي عَمَلٍ مِنْ أَعْمَالِهِمْ أَوْ مُطْلَقًا فَقَالَ بَعْضُ الْفُضَلَاءِ: هُمْ مُسَاوُونَ لِلْقُضَاةِ الْأُصُولِ مِنْ غَيْرِ زِيَادَةٍ وَلَا نُقْصَانٍ، وَلَا فَرْقٍ إلَّا كَثْرَةَ الْعَمَلِ بِالنِّسْبَةِ إلَى كَثْرَةِ الْأَقْطَارِ وَقِلَّتِهَا، وَإِنَّ الْأَصْلَ لَهُ أَنْ يَعْزِلَ الْفَرْعَ بِخِلَافِ عَكْسِهِ، وَهَذَا فَرْقٌ لَا يَزِيدُ فِي مَعْنَى الْوِلَايَةِ، وَهَذَا الَّذِي قَالَهُ إنْ كَانَ فِي النَّائِبِ الْمُسْتَخْلَفِ بِإِذْنِ الْإِمَامِ فَمُسَلَّمٌ، وَإِلَّا فَالْمَنْقُولُ مِنْ كُتُبِ أَهْلِ الْمَذْهَبِ خِلَافُهُ، وَهُوَ أَنَّ الْقَاضِيَ إذَا اسْتَخْلَفَ بِإِذْنِ الْإِمَامِ فَلِلْمُسْتَخْلَفِ التَّسْجِيلُ، وَإِلَّا فَيَرْفَعُ إلَى الْقَاضِي مَا ثَبَتَ عِنْدَهُ كَمَا سَتَقِفُ عَلَيْهِ فِي مَحَلِّهِ، إذْ لِلْقَاضِي أَنْ يُبِيحَ لِمَنْ قَدَّمَهُ النَّظَرَ فِي أَمْوَالِ الْأَيْتَامِ وَالْغِيَابِ وَالتَّسْجِيلِ فِي سَائِرِ الْحُكُومَاتِ، وَلَهُ أَنْ يَحْجُرَ عَلَيْهِمْ ذَلِكَ فَيَفْعَلُ مِنْ ذَلِكَ مَا رَآهُ بِاجْتِهَادِهِ، فَيَنْبَغِي أَنْ يُحْمَلَ كَلَامُ ذَلِكَ الْعَالِمِ عَلَى أَنَّهُ أَذِنَ لِنَائِبِهِ فِي جَمِيعِ مَا تَقَلَّدَهُ عَنْ الْإِمَامِ.

[فَصْلٌ وِلَايَةُ الْحِسْبَةِ]
محاسبہ کی ولایت
(فَصْلٌ) :
بہرحال محاسبہ کی ولایت تو وہ تمام احکام میں انشاء کرنے کے اعتبار سے قضاء سے کم درجہ کی ہے بلکہ محاسب کو صرف گھروں کے درمیان خارج کی جانب روشن دانوں اور راستوں میں بنائے ہوئے چبوتروں کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حکم اختیار ہے اس لیے کہ یہ معاملات ایسے ہیں جو ولایت حسبہ سے تعلق رکھتے ہیں وہ نکاح اور دیگر معاملات جیسے عقود میں نہ کوئی حکم دے سکتے ہیں نہ کسی کا فیصلہ کو نافذ کر سکتا ہے اور نہ اس کو یہ اختیار ہے کہ گھروں میں عیوب اور اس جیسے معاملات میں کوئی حکم دے مگر یہ کہ جب امام مسلمین یا محکمہ کی طرف سے اس کے دستاویز میں اس طرح کا اختیار صراحتاً لکھا ہوا ہو البتہ محتسب کی ولايت قاضی پر اس اعتبار سے بڑھ جاتی ہے کہ وہ منکرات میں چھان بین کے لیے تعاقب کر سکتا ہے اگرچہ وہ معاملات اس کے پاس نہیں لائے گئے ہوں جبکہ قاضی وہ صرف ان معاملات میں فیصلہ کر سکتا ہے جو اس کے پاس لائے جاتے ہیں وہ اپنے دار القضاء سے نکل کر لوگوں کے معاملات تلاش کرنے نہیں جائے گا اور یہ باس لیے ہے کہ ولایت حسبہ کا مقام ڈرانا، دھمکانا اور ایسی برئیوں سے جن سے لوگوں کو تکلیف ہو دور رکھنا ہے جبکہ ولایت قضاء کا مقام عدل و انصاف ہے۔ 
وَأَمَّا وِلَايَةُ الْحِسْبَةِ: فَهِيَ تَقْصُرُ عَنْ الْقَضَاءِ فِي إنْشَاءِ كُلِّ الْأَحْكَامِ، بَلْ لَهُ أَنْ يَحْكُمَ فِي الرَّوَاشِنِ الْخَارِجَةِ بَيْنَ الدُّورِ وَبِنَاءِ الْمَصَاطِبِ فِي الطُّرُقِ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِالْحِسْبَةِ، وَلَيْسَ لَهُ إنْشَاءُ الْأَحْكَامِ وَلَا تَنْفِيذُهَا فِي عُقُودِ الْأَنْكِحَةِ وَالْمُعَامَلَاتِ، وَلَا لَهُ أَنْ يَحْكُمَ فِي عُيُوبِ الدُّورِ وَشَبَهِهَا إلَّا أَنْ يُجْعَلَ لَهُ ذَلِكَ فِي مَنْشُورِهِ وَيَزِيدُ الْمُحْتَسِبُ عَلَى الْقَاضِي بِكَوْنِهِ يَتَعَرَّضُ لِلتَّفَحُّصِ عَنْ الْمُنْكَرَاتِ وَإِنْ لَمْ تُنْهَ إلَيْهِ.وَأَمَّا الْقَاضِي فَلَا يَحْكُمُ إلَّا فِيمَا رُفِعَ إلَيْهِ، وَمَوْضِعُ الْحِسْبَةِ الرَّهْبَةُ، وَمَوْضِعُ الْقَضَاءِ النَّصَفَةُ.
بہرحال وہ جزوی ولایتیں اور عہدے جو قضاء کے ذریعے خود بخود حاصل ہو جاتی ہیں۔ 
[فَصْلٌ الْوِلَايَةُ الْجُزْئِيَّةُ الْمُسْتَفَادَةُ مِنْ الْقَضَاءِ]

(فَصْلٌ) :
بہرحال وہ جزوی ولایتیں جو قضاء کے ذریعہ خود بخود حاصل ہو جاتی ہیں جیسے نکاح کرنے یا نکاح کو فسخ کرنے کا متولی اور اس طرح ان معاملات کا متولی جو صرف یتیموں کے مال سے تعلق رکھتے ہیں، تو اس معاملات میں اس کے سپرد کیا جاتا ہے کسی معاملہ کو توڑنا یا برقرار رکھنا ان شرعی قوانین پر جن پر وہ مناسب سمجھے چنانچہ یہ ولایت ولایت قضاء کا ہی ایک شعبہ ہے اس کا حکم نافذ ہوگا صرف ان معاملات میں جو معاملات اس کے سپرد کیے گئے ہیں اور جو معاملات اس کو سپرد نہیں کیے گئے ہیں ان میں اس کا حکم نافذ نہیں ہوگا۔ 
وَأَمَّا الْوِلَايَةُ الْجُزْئِيَّةُ الْمُسْتَفَادَةُ مِنْ الْقَضَاءِ كَمُتَوَلِّي الْعُقُودِ وَالْفُسُوخِ فِي الْأَنْكِحَةِ فَقَطْ، وَالْمُتَوَلِّي النَّظَرَ فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِالْأَيْتَامِ فَقَطْ، فَيُفَوَّضُ إلَيْهِ فِي ذَلِكَ النَّقْضُ وَالْإِبْرَامُ عَلَى مَا يَرَاهُ مِنْ الْأَوْضَاعِ الشَّرْعِيَّةِ، فَهَذِهِ الْوِلَايَةُ شُعْبَةٌ مِنْ وِلَايَةِ الْقَضَاءِ يَنْفُذُ حُكْمُهُ فِيمَا فُوِّضَ إلَيْهِ، وَلَا يَنْفُذُ لَهُ حُكْمٌ فِيمَا عَدَا ذَلِكَ.
دو فریقین کے درمیان حکم کی ولایت۔ 
[فَصْلٌ وِلَايَةُ التَّحْكِيمِ بَيْنَ الْخَصْمَيْنِ]
(فَصْلٌ) :
حکم بنانے کی ولایت دو فریقین کے درمیان یہ بھی ایک ولایت ہے جو کسی کی طرف سے انسان کو حاصل ہوتی ہے اور یہ بھی قضاء کا شعبہ ہے جو اموال کے ساتھ متعلق ہوتا ہے نہ کہ حدود و قصاص کے ساتھ جیسا کہ آٹھویں فصل میں اس کا مفصل بیان وضاحت کے ساتھ آئے گا، ان شاء اللہ۔ 
وَأَمَّا وِلَايَةُ التَّحْكِيمِ بَيْنَ الْخَصْمَيْنِ: فَهِيَ وِلَايَةٌ مُسْتَفَادَةٌ مِنْ آحَادِ النَّاسِ، وَهِيَ شُعْبَةٌ مِنْ الْقَضَاءِ مُتَعَلِّقَةٌ بِالْأَمْوَالِ دُونَ الْحُدُودِ وَالْقِصَاصِ كَمَا هُوَ مَشْرُوحٌ فِي الْفَصْلِ الثَّامِنِ.
عشر وصول کرنے والوں یا صدقہ وصول کرنے والوں کی ولایت۔ 
[فَصْلٌ وِلَايَةُ السُّعَاةِ وَجُبَاةِ الصَّدَقَةِ]
(فَصْلٌ) :
بہرحال سعاۃ ( ساعی کی جمع، راستوں پر عشر وغیرہ لینے والے ) اور جباۃ ( جابی کی جمع، صدقہ وصول کرنے والے) کی ولایت تو ان کو خاص طور پر اموال زکوۃ میں انشاء کا حکم ہوگا فیصلے کا حکم ہوگا فیصلے کا اختیار ہوگا اگر وہ اس کے علاوہ دوسرے معاملات میں فیصلہ کرنا چاہیں تو ولایت کے نہ ہونے کی وجہ سے ان کا فیصلہ نافذ نہیں ہوگا
وَأَمَّا وِلَايَةُ السُّعَاةِ وَجُبَاةِ الصَّدَقَةِ: فَلَهُمْ إنْشَاءُ الْحُكْمِ فِي الْأَمْوَالِ الزَّكَوِيَّةِ خَاصَّةً، فَإِنْ حَكَمُوا فِي غَيْرِ ذَلِكَ لَمْ يَنْفُذْ لِعَدَمِ الْوِلَايَةِ.
تخمینہ و اندازہ کرنے کی ولایت۔ 
[فَصْلٌ وِلَايَةُ الْخَرْصِ]

(فَصْلٌ) :
بہرحال اندازہ کرنے کی ولایت پس اس کے متولیان کو انشاء حکم کی اجازت نہیں ہے اور نہ یہ کہ پھلوں کی مقدار کو متعین کریں اور نہ یہ کہ خشک ہونے کے بعد پھلوں کی مقدار کتنی ہوگی اور اس سلسلے میں ان کا اندازہ حکم کے درجے میں ہے جبکہ علماء نے اختلاف کیا ہے کہ اگر ان کے کئے ہوئے اندازے میں خطا ظاہر ہو جائے مثلا اندازہ کرنے والوں نے اندازہ لگایا کہ دس کونٹل اتریں گے پھر دیکھا پھل پکنے کے بعد پانچ ہی کونٹل اترے تو جب اندازہ ظاہراً غلط ثابت ہو گیا تو کیا جو پھلوں کی جو مقدار اب اتری ہے اس کی طرف رجوع کیا جائے گا کہ پانچ کوئٹہ میں زکوۃ لئ جائے یا پہلے اندازہ لگانے والوں نے جو لگایا تھا وہی مقررہ حکم تھا کہ اسے نہ بدل کر اب اسی حکم پر فیصلہ کیا جائے گا؟ امام مالک فرماتے ہیں جو پہلے اندازہ لگ چکا ہے اسی کے حساب سے فیصلہ کیا جائے گا اور جب کہ احناف فرماتے ہیں کہ جو خطا ظاہر ہوئی اس کی طرف رجوع کیا جائے گا، جو اندازہ غلط ثابت ہوا ہے وہ اگرچہ حکم تھا لیکن پھر بھی اسے توڑ دیا جائے گا ” وَهَذَا عِنْدَ الْقَائِلِ بِهِ “ اس قول ( هُوَ حُكْمٌ مَضَى )کے قائل کا یہی مسلک ہے اور وہ امام مالک ہیں۔ 
وَأَمَّا وِلَايَةُ الْخَرْصِ: فَلَيْسَ لِمُتَوَلِّيهَا إنْشَاءُ حُكْمٍ، وَلَيْسَ لَهُ حَرْزُ مَقَادِيرِ الثِّمَارِ وَكَمْ يَكُونُ مِقْدَارُهَا إذَا يَبِسَتْ، وَفِعْلُهُ فِي ذَلِكَ بِمَنْزِلَةِ الْحُكْمِ وَقَدْ اخْتَلَفَ الْعُلَمَاءُ فِيمَا لَوْ تَبَيَّنَ خَطَؤُهُ هَلْ يَرْجِعُ إلَى مَا تَبَيَّنَ أَوْ هُوَ حُكْمٌ مَضَى، وَهَذَا عِنْدَ الْقَائِلِ بِهِ.
دو حکموں کی ولایت۔ 
[فَصْلٌ وِلَايَةُ الْحَكَمَيْنِ]
(فَصْلٌ) :
حکیمین کی ولایت، اور ولایۃ التحکیم بین الخصمین تھا کہ دو فریق کا کسی تیسرے شخص کو اپنا حکم چننا، اور یہاں دو حکموں کی ولایت جو صرف زوجین کے ساتھ خاص ہے اور اس کا حکم قرآن سے ثابت ہے ارشاد باری ہے ”وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا إِنْ يُرِيدَا إِصْلَاحًا يُوَفِّقِ اللَّهُ بَيْنَهُمَا إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيمًا خَبِيرًا“ ( النساء: 35 ) چناں چہ یہ بھی خاص معاملہ میں قضاء کا ایک شعبہ ہے اور ان کا حکم صرف زوجین کے اس معاملہ میں نافذ ہوگا جو معاملہ ان کے سپرد کیا گیا ہے جیسا کہ یہ اپنے محل میں لکھا ہوا ہے اور ان زوجین کے علاوہ میں ان کا حکم نافذ نہیں ہوگا۔ 
وَأَمَّا وِلَايَةُ الْحَكَمَيْنِ: فَهِيَ شُعْبَةٌ مِنْ الْقَضَاءِ فِي قَضِيَّةٍ خَاصَّةٍ فَيَنْفُذُ حُكْمُهُمَا فِيمَا فُوِّضَ إلَيْهِمَا مِنْ أَمْرِ الزَّوْجَيْنِ عَلَى مَا هُوَ مَبْسُوطٌ فِي مَحِلِّهِ، وَلَا يَنْفُذُ حُكْمُهُمَا فِي غَيْرِ ذَلِكَ.
شکار کی جزاء میں دو حکموں کا فیصلہ۔ 
[فَصْلٌ حُكْمُ الْمُحَكَّمِينَ فِي جَزَاءِ الصَّيْدِ]
(فَصْلٌ) :
شکار کی جزاء دیا جانے والے دم کے سلسلے میں دو عادل حکموں کا فیصلہ جیسا کہ قرآن پاک کا حکم ہے ”وَمَنۡ قَتَلَهٗ مِنۡكُمۡ مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآءٌ مِّثۡلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحۡكُمُ بِهٖ ذَوَا عَدۡلٍ مِّنۡكُمۡ“ ( المائدۃ: 95 ) یہ بھی ایسی ولایت ہے جو لوگوں کی طرف سے ولایت حاصل ہوتی ہے ان دو حکموں کا حکم دونوں کے اتفاق سے ہی نافذ ہوگا ایسے معاملہ میں جس کا تعلق جزاء سے ہو، اگر ان میں ایک الگ رائے رکھتا ہو اور دوسرا الگ رائے تو پھر فیصلہ نافذ نہیں ہوگا دونوں ایک ساتھ متفق ہو کر کوئی فیصلہ کرنا ضروری ہے۔ 
وَأَمَّا حُكْمُ الْمُحَكَّمِينَ فِي جَزَاءِ الصَّيْدِ: فَهِيَ وِلَايَةٌ مُسْتَفَادَةٌ مِنْ آحَادِ النَّاسِ يَنْفُذُ حُكْمُهُمَا مَعَ اتِّفَاقِهِمَا فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِالْجَزَاءِ فَقَطْ.
شریعت مطہرہ میں ترکہ کے متعینہ حصے ان کے مستحقین تک پہنچانا اور اسی طرح نفقہ وغیرہ عطا کرنے کی ولایت۔ 
[فَصْلٌ الْوِلَايَةُ عَلَى صَرْفِ النَّفَقَاتِ وَالْفُرُوضِ الْمُقَدَّرَةِ لِمُسْتَحِقِّيهَا]

(فَصْلٌ) :
شریعت مطہرہ میں متعینہ حصے ان کے مستحقین تک پہنچانا، نفقہ کے تصرفات کی ولایت یا زکوۃ وغیرہ ان کے مستحقین تک پہنچانا، مال غنیمت کو تقسیم کرنا اور مال غنیمت کو ان کے مستحقین تک پہنچانا اور اس طرح کے دیگر تصرفات جن میں فقط تنفیذ ہے انشاء حکم نہیں ہے ان عہدوں کے اھل قاضیوں کی طرح ہوں گے حکم کو نافذ کرنے میں نہ کہ انشاء حکم میں یعنی قاضی کو ان پر انشاء حکم کی وجہ سے ایک گونا بڑا درجہ ہے جبکہ ان کا درجہ قاضی سے کم ہے کیونکہ یہ صرف قاضی کے طرح تنفیذ حکم میں ہے بس۔ 
وَأَمَّا الْوِلَايَةُ عَلَى صَرْفِ النَّفَقَاتِ وَالْفُرُوضِ الْمُقَدَّرَةِ لِمُسْتَحِقِّيهَا وَإِيصَالِ الزَّكَاةِ لِأَصْنَافِهَا وَقِسْمَةِ الْغَنَائِمِ وَإِيصَالِ مَالِ الْغَنَائِمِ إلَيْهِمْ وَنَحْوِ ذَلِكَ مِمَّا فِيهِ تَنْفِيذٌ فَقَطْ فَأَهْلُوهَا كَالْقُضَاةِ فِي التَّنْفِيذِ لَا فِي الْإِنْشَاءِ.
تقسیم کرنے والے کی ولایت جسے قاضی تقسیم پر متعین کرے۔ 
[فَصْلٌ وِلَايَةُ الْقَاسِمِ الَّذِي يُقِيمُهُ الْقَاضِي]

(فَصْلٌ) :
بہرحال تقسیم کرنے والے کی ولایت جس کو قاضی تقسیم کے لیے متعین کرے اسی طرح کاتبین یا ترجمان یا پیش قدمی کرنے والے اور اس طرح کے دیگر متولیان ان کو انشاء حکم اور نہ تنفیذ کا کوئی حق ہے بلکہ یہ صرف جس چیز کا ان کو حکم دیا گیا ہے اس کو لکھ سکتے ہیں، تقسیم کر سکتے ہیں، کسی معاملے کے ترجمانی کر سکتے ہیں بس۔ 
وَأَمَّا وِلَايَةُ الْقَاسِمِ الَّذِي يُقِيمُهُ الْقَاضِي وَالْكَاتِبِ وَالتُّرْجُمَانِ وَالْمُقَدَّمِ وَنَحْوِ ذَلِكَ فَهَؤُلَاءِ لَيْسَ لَهُمْ أَنْ يُنْشِئُوا حُكْمًا وَلَا يُنَفِّذُوا شَيْئًا.
اب یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ علیہ ولایت کے ان عہدوں کو بیان کرتے ہیں جن کے تحت عہدۂ قضاء خود بخود شامل ہوتا ہے چنانچہ ایسے عہدے تین ہیں جن کے تحت عہدہ قضاء خود بخود شامل ہوتا ہے۔ 
[فَصْلٌ الْوِلَايَةُ الَّتِي يَنْدَرِجُ الْقَضَاءُ فِي ضِمْنِهَا]

(فَصْلٌ) :
چنانچہ وہ عہدے و وہ ولایتیں جن کے تحت قضاء خود بخود شامل ہوتی ہے چند انواع پر ہیں۔ 
وَأَمَّا الْوِلَايَةُ الَّتِي يَنْدَرِجُ الْقَضَاءُ فِي ضِمْنِهَا فَهِيَ أَنْوَاعٌ:
پہلی نوع:  امامت کبری یعنی جو بادشاہ یا سلطان وقت ہو چونکہ سب سے بڑی ولایت امام کبری و امام المسلمین ہونا ہے اس لیے قضاء کے اہلیت اس امامت کے اجزاء میں سے ایک جز ہوگی، جہاں اس کے تحت بہت سارے عہدے ہیں وہاں قضاء کا عہدہ بھی اس کے تحت شامل ہوتا ہے اسی طرح سیاست عامہ بھی اس کا ایک جز ہے چنانچہ اس کے تحت یہ عہدے صراحتاً شامل ہوں گے۔ 
دوسری نوع: وہ وزارت ہے بعض حضرات نے فرمایا وزیر کو تمام امور کی انجام دہی کی تفویض کرنا جائز ہے البتہ امام المسلمین وزیر سے تین وجوہ سے خاص ہوگا (١) وزیر کسی کو عہدۂ امام کی ولایت نہیں دے سکتا ہے کسی کو امام المسلمین نہیں بنا سکتا ہے جبکہ امام جسے چاہے اسے امام المسلمین اپنے بعد بنا سکتا ہے اور جس کو امام المسلمین اپنے بعد امام المسلمین منتخب کرے گا وہ اس موجودہ امام کے بعد امام المسلمین ہوگا جیسے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے کیا تھا کہ اپنے بعد حضرت فاروق اعظم ؓ کو امام المسلمین منتخب کیا، (٢) وزیر اپنی ولایت سے استعفیٰ نہیں دے سکتا جب کہ امام المسلمین اپنی امامت سے استعفیٰ دے سکتا ہہے(٣) وزیر اس شخص کو معزول نہیں کر سکتا جسے امام المسلمین نے کوئی عہدہ سپرد کیا ہو دراں حالیکہ اس وزیر کو وزیر تفویض نام رکھا جاتا ہے اور یہ تمام تب ہے جب کہ وزیر میں اہلیت قضاء موجود ہو ورنہ اگر وہ جاھل ہو تو اس کے لیے پھر قضاء جائز نہ ہوگا یعنی اگر وزیر قضاء کی اہلیت رکھتا ہو تو تب اس کو وزارت کی وجہ سے خود بخود ولایت قضاء حاصل ہوگی اگر وہ جاھل محض ہو تو تب اس کو عہدۂ قضاء حاصل نہیں ہوگا اگرچہ وہ وزیر ہو البتہ نافذ کرنے کا وزیر اور مشورہ (ایڈوائزر) دینے کا وزیر ان دونوں کو حکم کی اہلیت نہیں ہے، اسی طرح وزیر تنفیذ وہ ہے جس کو خاص امام المسلمین کے احکام کو نافذ کرنے کا وزیر بنایا گیا ہو کہ جب امام المسلمین کسی معاملہ میں فیصلہ کرے تو یہ وزیر اس حکم کو نافذ کرے۔ 
النَّوْعُ الْأَوَّلُ: الْإِمَامَةُ الْكُبْرَى، وَأَهْلِيَّةُ الْقَضَاءِ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَائِهَا، وَكَذَلِكَ أَهْلِيَّةُ السِّيَاسَةِ الْعَامَّةِ فَهِيَ صَرِيحَةٌ فِي تَنَاوُلِ ذَلِكَ.
النَّوْعُ الثَّانِي: الْوَزَارَةُ.قَالَ بَعْضُهُمْ: يَجُوزُ التَّفْوِيضُ فِي جَمِيعِ الْأُمُورِ لِلْوَزِيرِ، وَيَخْتَصُّ الْإِمَامُ عَنْهُ بِثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ: لَا يَعْقِدُ الْوَزِيرُ وِلَايَةَ الْعَهْدِ وَيَعْقِدُهَا الْإِمَامُ لِمَنْ يُرِيدُ، فَيَكُونُ إمَامًا لِلْمُسْلِمِينَ بَعْدَهُ كَفِعْلِ أَبِي بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - وَلَا يَسْتَعْفِي مِنْ الْوِلَايَةِ وَلِلْإِمَامِ الِاسْتِعْفَاءُ مِنْ الْإِمَامَةِ.وَلَا يَعْزِلُ مَنْ قَلَّدَهُ الْإِمَامُ، وَيُسَمَّى هَذَا الْوَزِيرُ وَزِيرَ تَفْوِيضٍ، وَهَذَا مَعَ وُجُودِ أَهْلِيَّةِ الْقَضَاءِ وَإِلَّا فَهُوَ جَاهِلٌ لَا يَجُوزُ لَهُ الْقَضَاءُ.وَأَمَّا وَزِيرُ التَّنْفِيذِ وَوَزِيرُ الِاسْتِشَارَةِ فَلَيْسَ لَهُمَا أَهْلِيَّةُ الْحُكْمِ، وَوَزِيرُ التَّنْفِيذِ هُوَ الَّذِي إذَا حَكَمَ الْإِمَامُ بِشَيْءٍ نَفَّذَهُ.
تیسری قسم ہے امارت:  امارت کے تحت بھی عہدہ قضاء خود بخود شامل ہوتا ہے جیسا کہ موجودہ دور میں بہار شریف یا دیگر جگہوں میں مسلم پرسن لا بورڈ کے تحت امارت شرعیہ قائم ہے اور اس کے تحت قضاۃ کا انتخاب عمل میں آتا ہے چنانچہ امارت کے تحت بھی قضاء کا عہدہ خود بخود شامل ہوتا ہے اور جو امیر شریعت ہو وہ قاضی کا انتخاب کر سکتا ہے البتہ امارت کی چار قسمیں ہیں جن کو مصنف رحمۃ اللہ علیہ یہاں سے بیان کریں گے۔ 
النَّوْعُ الثَّالِثُ: الْإِمَارَةُ وَهِيَ أَرْبَعَةُ أَقْسَامٍ:
پہلی قسم: جیسے بادشاہ بعض ملکوں کی امارات میں خلیفۂ وقت کے ساتھ قضاء کی اہلیت کا فائدہ دینے میں اس بادشاہ کا عہدہ صریح ہے، لیکن جب پادشاہ کی ولایت،  قضاء کے اھل ( یعنی عاقل بالغ، مسلم) اور اس کے محل ( قضاء کے احکام کا علم ) سے ملتی ہو، اسی طرح اس بادشاہ ہو سیاست کی اہلیت، جیوش کی دیکھ ریکھ اور تنظیم، مال غنیمت کی تقسیم اور اموال بیت المال میں تصرف بھی حاصل ہوگا۔ 
الْقِسْمُ الْأَوَّلُ: كَالْمُلُوكِ مَعَ الْخُلَفَاءِ فِي الْإِمَارَاتِ عَلَى بَعْضِ الْأَقَالِيمِ فَهَذِهِ صَرِيحَةٌ فِي إفَادَةِ أَهْلِيَّةِ الْقُضَاةِ إذَا صَادَفَتْ الْوِلَايَةُ أَهْلَهَا وَمَحِلَّهَا مِنْ الْعِلْمِ، وَتَشْمَلُ أَهْلِيَّةَ السِّيَاسَةِ وَتَدْبِيرِ الْجُيُوشِ وَقَسْمِ الْغَنَائِمِ وَأَمْوَالِ بَيْتِ الْمَالِ.
دوسری قسم: امام خلیفۂ وقت کی جانب سے مامور تو ہو لیکن اسے فیصلہ کرنے کا اختیار سپرد نہ کیا گیا ہو، اور اگر اس کو فیصلہ کرنے کی اتھارٹی من جانب امام وقت ملی ہو تو وہ خود بھی فیصلہ کر سکتا ہے اور جس کو وہ آگے کرے گا فیصلہ کرنے کی اجازت دے گا وہ بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔ 
الْقِسْمُ الثَّانِي: أَنْ يَكُونَ الْأَمِيرُ مُؤَمَّرًا لَكِنَّهُ لَمْ تُفَوَّضْ إلَيْهِ الْحُكُومَةُ مَعَ الْإِمْرَةِ، وَإِنْ فُوِّضَتْ إلَيْهِ الْحُكُومَةُ مَضَى حُكْمُهُ وَحُكْمُ مُقَدِّمِيهِ.
تیسری قسم: ایسا امیر خاص جیوش المسلمین کی تنظیم و لوگوں کی سیاست پر مامور ہو اور قضاء کی تولیت اس کے سپرد نہ کی گئی ہو تو اس امیر کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے۔ 
الْقِسْمُ الثَّالِثُ: الْإِمَارَةُ الْخَاصَّةُ عَلَى تَدْبِيرِ الْجُيُوشِ وَسِيَاسَةِ الرَّعِيَّةِ دُونَ تَوْلِيَةِ الْقَضَاءِ، فَفِيهِ خِلَافٌ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ.
چوتھی قسم: وہ والی و امیر جسے رفع مظالم کی ولایت حاصل ہو اسے قضاء کے کاموں میں بھی غور فکر کی اجازت ہوگی کیوں کہ قضاء کی حکمت بھی رفع ظلم ہے: ”أما حكمته فرفع التهارج ورد النوائب وقمع الظالم ونصر المظلوم و قطع الخصومات والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر“ بلکہ اس کی ولایت کی وسعت بھی اور شعبوں سے زیادہ ہے، البتہ قضاء کا علم ہونا ضروری ہے یہی علم بالقضاء کا ہونا۔ 
الْقِسْمُ الرَّابِعُ: وِلَايَةُ النَّظَرِ فِي الْمَظَالِمِ، وَلَهُ مِنْ النَّظَرِ مَا لِلْقُضَاةِ، وَهُوَ أَوْسَعُ مِنْهُمْ مَجَالًا يَزِيدُ بِشَرْطِ الْعِلْمِ.

No comments:

Post a Comment