Wednesday, July 31, 2024

تصفىہ 7


111 / 1120 1445ھ (متدائرہ دار القضاء توپسیاروڈ کلکتہ) 
شگفتہ بانو بنت محمد اختر حسین مقامB 2 /1 بر کفلڈ لین ڈاکخانہ تلجلد ضلع کلکتہ 39

ابوسفیان ولد محمد خالق مرحوم مقام 43 2/ A توپسیاروڈ ڈاکخانہ تلجلد ضلع کلکتہ 39


معاملہ ھذا 27 شعبان 1445 مطابق 9 مارچ 2024 ء کو ذیلی دار القضاءتوپسیا روڈ ملت نگر کلکتہ میں دائر نمبر ہوا، حسب ضابطہ کارروائی ہوئی، اطلاع مع مثنی درخواست دعوی بنام فریق دوم بذریعہ رجسٹری جاری ہوئی اور اس سے مؤرخہ 12 رمضان 1445 ھ مطابق 23 مارچ 2024 ء تک بیان تحریری طلب کیا گیا مجریہ اطلاع بنام فریق دوم اس نے وصول کر لیا مگر کوئی جواب داخل دارالقضاء نہیں کیا بعد ازاں تاریخ سماعت 12 شوال المکرم 1445 ھ مطابق 22 اپریل 2024 ء روز سنیچر مقرر کی گئی تاریخ مذکور پر فریق اول اپنے گواہوں کے ساتھ حاضر آئی، فریق اول اور اس کے گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے جو شامل مسل ہیں، فریق دوم کسی بھی تاریخ سماعت پر حاضر نہیں آیا اور نہ ہی کوئی پیروی کی جب کہ فریق دوم پر دو مرتبہ واضح کیا گیا کہ عدم حاضری و عدم پیروی کی صورت میں معاملہ ھذا کا تصفیہ کیا جا سکتا ہے لہذا معاملہ ھذا کی کارروائی ختم کر دی گئی بعدہٗ یہ مسل مع رپورٹ مرکزی دارالقضاء کو موصول ہوئی، یہاں سے کارروائی ختم کر دی گئی اور اب یہ مسل میرے سامنے برائے تصفیہ پیش ہے۔ 

فریق اول شگفتہ بانو بنت محمد اختر حسین کے بیان عند القضاء کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی شادی فریق دوم ابو سفیان ولد محمد خالق مرحوم کے ہمراہ 13 جون 2019 ء کو ہوئی، شادی کے بعد وہ رخصت ہو کر فریق دھوم کے گھر گئی اور دو مہینے فریق دوم کے یہاں رہی، اسی دوران فریق اول کے غائبانہ میں فریق دوم نے ان کے تمام زیورات بینک میں بندھک رکھ دیا اور بینک سے پیسہ اٹھا اٹھا کر اس کے تمام زیورات بھیج دئیے، دو مہینے کے بعد فریق دوم کے ساتھ وہ کرائے کے مکان میں رہنے لگی، فریق دوم اتنا ہی کماتا تھا کہ جتنا وہ پی سکے، فریق دوم فریق اول کو خرچ بالکل نہیں دیتا تھا بلکہ کبھی فریق اول اپنے میکے میں آ کر کھا لیتی کبھی کوئی دوسری صورت نکل آتی، جب خرچ کی بہت دقت ہونے لگی اور فریق دوم گھر کا کرایہ تک نہیں دیتا تھا تب فریق اول اپنے میکے کے بالکل قریب آ کر ایک بلڈنگ میں کرایہ کا مکان لیا، یہاں بھی فریق دوم نے خرچ نہیں دیا نہ کرایہ دیا تب فریق اول نے کرایہ کا مکان چھوڑ دیا اور اپنے میکے میں رہنے لگی، فریق دوم نے نشے کی حالت میں کئی مرتبہ فریق اول کو ہاتھ سے مارا اور فریق اول کو عزت نہیں دیتا تھا، تقریبا ڈیڑھ سال سے فریق اول اپنے میکے میں ہے، فریق دوم پہلے بھی اس کو خرچ نہیں دیتا تھا اور اب بھی نہیں دیتا ہے فریق دوم فریق اول سے ملنے کبھی نہیں آتا ہے، فریق دوم نے عید کے دن فریق اول کو فون کیا تھا جب یہاں دارالقضاء سے اس کو نوٹس گئی کہ وہ فریق اول سے گھر بسانے کی بات کر رہا تھا، فریق اول کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ فریق دوم نے فریق اول کو کبھی خرچہ نہیں دیا تو اب اس کے بعد فریق اول کو اس سے کوئی امید نہیں، کل فریق دوم نے فریق اول کو میسج کیا کہ میں قاضی کے پاس نہیں جا رہا ہوں تم بھی مت جاؤ،فریق اول فریق دوم کے ساتھ زندگی بسر نہیں کر سکتی اس لیے فریق اول فریق دوم سے اپنا رشتہ ختم کرنا چاہتی ہے اور وہ قاضی شریعت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس کا نکاح فریق دوم سے فسخ کر دیا جائے۔ 

فریق اول کے پیش کردہ گواہوں میں سے گواہ اول محمد شاہنواز ولد محمد اختر حسین کے بیان عند القضاء کا خلاصہ یہ ہے کہ فریق اول شگفتہ بانو بنت محمد اختر حسین کی شادی فریق دوم ابو سفیان ولد محمد خالق مرحوم کے ساتھ 13 جون 2019 کو ہوئی شادی کے بعد فریق اول اپنے شوہر فریق دوم کے ساتھ اس کے گھر میں دو مہینہ رہی، ان دو مہینہ میں اس کے شوہر فریق دوم نے اس کے تمام زیورات بھیج دیے اس کے بعد فریق اول اپنے شوہر کے ساتھ کرایہ کے مکان میں رہی یہاں بھی فریق دوم فریق اول کو خرچ نہیں دیتا تھا گھر کا کرایہ بھی نہیں دیتا تھا جتنا کماتا تھا اتنا پی جاتا تھا، نشے کی حالت میں فریق اول کو ہاتھ سے مارتا بھی تھا بہت تنگ آ کر فریق اول نے فریق دوم سے تقریبا دو سال قبل علٰیحدہ اپنی والدہ کے ساتھ رہنا شروع کر دیا، فریق دوم اس کے پاس نہ آتا تھا نہ اس کو خرچہ دیتا تھا اب بھی نہیں دیتا ہے کئی مہینے کے بعد عید کے دن فون کر کے موقع دینے کو کہا مگر فریق اول اب اس کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں ہے، کیونکہ فریق دوم پر اس کو اعتماد نہیں ہے۔ 

فریق اول کے پیش کردہ گواہوں میں سے گواہِ دوم محمد شمس تبریز عالم ولد محمد اختر حسین کے بیان عند القضاء کا خلاصہ ہے کہ فریق اول شگفتہ بانو بنت محمد اختر حسین کی شادی فریق دوم ابو سفیان ولد محمد خالق مرحوم کے ہمراہ 13 جون 2019 کو ہوئی، شادی کے بعد فریق اول اپنے شوہر فریق دوم کے ساتھ کچھ مہینے تک یعنی تقریبا تین سال رہی، اس دوران فریق دوم نے اس کے تمام زیورات بھیج دئے، کرایہ کے مکان میں رہا تو کرایہ تک نہیں دیا فریق اول کو خرچ بھی نہیں دیتا تھا شراب پی کر فریق اول کو مارتا تھا جب فریق اول کی زندگی بالکل دو بھر ہو گئی تب فریق اول اپنے شوہر سے الگ ہو کر اپنی والدہ کے پاس رہنے لگی، تقریبا دو سال سے فریق اول اپنی والدہ کے پاس ہے اس دوران فریق دوم نے اس کو خرچہ نہیں دیا ہے نہ ملنے آیا ہے فریق اول کے رہنے کا کوئی انتظام بھی نہیں کیا فریق اول کو فریق دوم اپنے گھر میں لے جا کر نہیں رکھ سکتا کیونکہ اس کا گھر بے حد چھوٹا ہے اور رہنے والے لوگ زیادہ ہیں، فریق اول جب فریق دوم کے ساتھ رہتی تھی تب بھی اس کا خرچ والدہ اور بڑے بھائی ہی پورا کرتے تھے اور اب بھی وہی کرتے ہیں فریق اول فریق دوم سے اپنا رشتہ ختم کرنا چاہتی ہے۔ 

فریق اول لے پیش کردہ گواہوں کی گواہی سے ثابت ہے کہ اس کی شادی فریق دوم ابو سفیان ولد محمد خالق مرحوم کے ہمراہ 13 جون 2019 ء کو ہوئی اور شادی کے بعد ساتھ رہنا سہنا بھی ہوا، فریق دوم فریق اول کو نشے کی حالت میں ہاتھ سے مارتا تھا، فریق اول اپنے میکے میں ہے، فریق دوم پہلے بھی اس کو خرچ نہیں دیتا تھا اور اب بھی نہیں دیتا ہے،

دوسری طرف فریق دوم کو بار بار رجسٹری اطلاع دے کر رفع الزام کے لیے دارالقضاء طلب کیا گیا لیکن وہ کسی بھی تاریخ سماعت پر دار القضاء حاضر نہیں آیا جبکہ بحیثیت مسلمان اس پر لازم و ضروری تھا کہ وہ دار القضاء حاضر ہو کر رفع الزام کرتا جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: ” إنما كان قول المؤمنين إذا دعوا إلى الله ورسوله ليحكم بينهم أن يقولوا سمعنا وأطعنا “ (النور / (۵۱) آیت مذکورہ کے ذیل میں صاحب معین الحکام لکھتے ہیں: ”وفی الآية دليل على أنه من دعى إلى حاكم فعليه الإجابة ويجرح إن تأخر “ (معين الحكام ص، (۱۴۱)

فریق دوم کا دار القضاء حاضر نہ آنا اور حاضری سے مسلسل گریز کرنا اس کی ہٹ دھرمی و سرکشی کی واضح نشانی ہے اور اس کا یہ رویہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ وہ رفع الزام سے عاجز و قاصر ہے بلکہ اس کا یہ طرز عمل نکول عن الحلف کے قائم مقام ہو کر اقرار دعوی کے حکم میں ہے۔
شامی میں ہے: ” وقضى القاضي عليه بنكوله مرة، لو نكوله في مجلس القاضي، حقيقة كقوله ”لا أحلف“ أوحكما ”إن سکت“ (شامی (۲۶۹/۸)

زیر بحث معاملہ میں فریق اول عرصہ دراز سے منجانب فریق دوم نان و نفقہ سے محروم ہے جبکہ فریق دوم پر بحیثیت زوج لازم و ضروری تھا کہ وہ فریق اول کے نان و نفقہ کا معقول انتظام کرتا کیونکہ شریعت مطہرہ نے بیویوں کا خرچ شوہر کے ذمہ واجب قرار دیا ہے، ارشاد خداوندی ہے: ” و على المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف“ (البقرة / ۲۳۳) دوسری جگہ ہے: ”لينفق ذو سعة من سعته، ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله“ (الطلاق/۷) ہدایہ میں ہے: ”النفقة واجبة للزوجة على زوجها مسلمة كانت أو كافرة إذا سلمت نفسها إلى منزله فعليه نفقتها وكسوتها وسكناها“ هدایه، ۳۷۴/۳-۳۷۵)
بیوی اگر اپنے میکہ میں ہو اور ناشزہ نہ ہو تو بھی اس کا نفقہ شوہر کے ذمہ لازم ہے ، شامی میں ہے: ”ولو هي في بيت أبيها إذا لم يطالبها الزوج بالنقلة“ به یفتی شامی (۲۸۴/۵)
 ایسی عورت جو شوہر کی جانب سے نان و نفقہ سے محروم ہو اور اس کا شوہر اس کو طلاق بھی نہ دے رہا ہو تو شریعت اسلامیہ نے ایسی عورت کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنا معاملہ قاضی کے یہاں لے جائے اور فسخ نکاح کا مطالبہ کرے، قاضی کے یہاں اگر عورت کا دعوی ثابت ہو جائے تو قاضی کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے، الحیلة الناجزة میں ہے: ”أما المتعنت أى الممتنع . عن الإنفاق ففى مجموع الأمير ما نصه: إن منعها نفقة الحال فلها القيام، فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق علیہ قال محشیہ قولہ والا طلق علیہ أى طلق عليه الحاكم من غير تلوم“ .( الحيلة الناجزة، ص ۲۱۳) 
زیر بحث معاملہ میں یہ بات بھی ثابت ہے کہ فریق دوم فریق اول کو سخت مار پیٹ کرتا تھا، اس طرح مار پیٹ کی اجازت شریعت نے قطعاً نہیں دی ہے، اس بنیاد پر بھی شریعت نے عورت کو حق دیا ہے کہ وہ فسخ نکاح کا مطالبہ کرے جیسا کہ کتاب الفسخ و التفریق میں ہے:”وليس له أن یضربها ضربا مبرحا لأي سبب من الأسباب، فإن فعل ذلك كان ضرارا بها، وهو منهي عنه في قوله تعالى "ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا، ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه“. (الأحوال الشخصية، ص،۱۵۴ بحوالہ کتاب الفسخ و التفریق) کہ مرد کو کسی بھی وجہ سے اپنی بیوی کو سخت مار پیٹ کرنے کا اختیار نہیں ہے، اگر وہ ایسا کرے تو یہ بیوی کو نقصان پہنچانا شمار ہوگا، جس سے اللہ رب العزت نے اپنے ارشاد: ”ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا“ الخ (اور تم اپنی بیویوں کو ان پر ظلم کرنے کے لیے روکے نہ رکھو، اور جو شخص ایسا کرے گا تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا) میں منع فرمایا ہے۔
 
 بہر حال فریق دوم پر بحیثیت زوج لازم تھا کہ وہ فریق اول کو رخصت کرا کر لے جاتا اس کے تمام حقوق ادا کرتا اور اس کو اچھی طرح سے رکھ کر :”امساک بالمعروف“ پر عمل کرتا ، اور اگر وہ ادائے حقوق پر قادر نہ تھا یا با وجود قدرت کے کسی وجہ سے ادا کرنا نہیں چاہتا تھا تو: ”تسریح بالا حسان“ پر عمل کرتے ہوئے فریق اول کو ایک طلاق بائن دیدیتا لیکن اس نے ان دونوں راہوں کو چھوڑ کر تیسری راہ اپنائی اور فریق اول کو کالمعلقہ بنا کر میکے میں چھوڑے رکھا،جس سے اللہ رب العزت نے منع فرمایا ہے، ارشاد خداوندی ہے: ”فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقۃ“ (النساء / ۱۲۹) ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: ”فلا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا،ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه“ (البقرة / ۲۳۱) فریق دوم کا فریق اول کو کالمعلقہ چھوڑ دینے سے فریق اول سخت ضرر و حرج میں مبتلاء ہے، فریق دوم کا یہ رویہ اس پر سراسر ظلم ہے،اور دفع ضرر و حرج و رفع ظلم و جور فریضۂ قضاء ہے معین الحکام میں ہے: ”أما حكمته فرفع التهارج ورد النوائب وقمع الظالم ونصر المظلوم و قطع الخصومات والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر“ (معين الحكام، ص، (۷)
 لہذا مندرجہ بالا مباحث و مصالح دینیہ کی رعایت کرتے ہوئے میں درج ذیل حکم دیتا ہوں :

حکم

آج میں نے بر بناء عدم اداء نان و نفقه و عدم اداء حقوق زوجیت و بوجه ترک کالمعلقه از بنظر دفع ضرر و حرج و رفع ظلم و جور و سد باب فتن و بغرض تحفظ عفت و عصمت فریق اول شگفتہ بانو بنت محمد اختر حسین کا عقد نکاح فریق دوم ابوسفیان ولد محمد خالق مرحوم سے فسخ کر دیا ، اب وہ اس کی بیوی نہیں رہی ، عدت گزار کر وہ اپنے نفس کی مجاز ہے۔ فقط
 ( نوٹ ) واضح رہے کہ یہ ایک حکم شرعی ہے۔

No comments:

Post a Comment