Wednesday, July 31, 2024

تصفىہ 7


111 / 1120 1445ھ (متدائرہ دار القضاء توپسیاروڈ کلکتہ) 
شگفتہ بانو بنت محمد اختر حسین مقامB 2 /1 بر کفلڈ لین ڈاکخانہ تلجلد ضلع کلکتہ 39

ابوسفیان ولد محمد خالق مرحوم مقام 43 2/ A توپسیاروڈ ڈاکخانہ تلجلد ضلع کلکتہ 39


معاملہ ھذا 27 شعبان 1445 مطابق 9 مارچ 2024 ء کو ذیلی دار القضاءتوپسیا روڈ ملت نگر کلکتہ میں دائر نمبر ہوا، حسب ضابطہ کارروائی ہوئی، اطلاع مع مثنی درخواست دعوی بنام فریق دوم بذریعہ رجسٹری جاری ہوئی اور اس سے مؤرخہ 12 رمضان 1445 ھ مطابق 23 مارچ 2024 ء تک بیان تحریری طلب کیا گیا مجریہ اطلاع بنام فریق دوم اس نے وصول کر لیا مگر کوئی جواب داخل دارالقضاء نہیں کیا بعد ازاں تاریخ سماعت 12 شوال المکرم 1445 ھ مطابق 22 اپریل 2024 ء روز سنیچر مقرر کی گئی تاریخ مذکور پر فریق اول اپنے گواہوں کے ساتھ حاضر آئی، فریق اول اور اس کے گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے جو شامل مسل ہیں، فریق دوم کسی بھی تاریخ سماعت پر حاضر نہیں آیا اور نہ ہی کوئی پیروی کی جب کہ فریق دوم پر دو مرتبہ واضح کیا گیا کہ عدم حاضری و عدم پیروی کی صورت میں معاملہ ھذا کا تصفیہ کیا جا سکتا ہے لہذا معاملہ ھذا کی کارروائی ختم کر دی گئی بعدہٗ یہ مسل مع رپورٹ مرکزی دارالقضاء کو موصول ہوئی، یہاں سے کارروائی ختم کر دی گئی اور اب یہ مسل میرے سامنے برائے تصفیہ پیش ہے۔ 

فریق اول شگفتہ بانو بنت محمد اختر حسین کے بیان عند القضاء کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کی شادی فریق دوم ابو سفیان ولد محمد خالق مرحوم کے ہمراہ 13 جون 2019 ء کو ہوئی، شادی کے بعد وہ رخصت ہو کر فریق دھوم کے گھر گئی اور دو مہینے فریق دوم کے یہاں رہی، اسی دوران فریق اول کے غائبانہ میں فریق دوم نے ان کے تمام زیورات بینک میں بندھک رکھ دیا اور بینک سے پیسہ اٹھا اٹھا کر اس کے تمام زیورات بھیج دئیے، دو مہینے کے بعد فریق دوم کے ساتھ وہ کرائے کے مکان میں رہنے لگی، فریق دوم اتنا ہی کماتا تھا کہ جتنا وہ پی سکے، فریق دوم فریق اول کو خرچ بالکل نہیں دیتا تھا بلکہ کبھی فریق اول اپنے میکے میں آ کر کھا لیتی کبھی کوئی دوسری صورت نکل آتی، جب خرچ کی بہت دقت ہونے لگی اور فریق دوم گھر کا کرایہ تک نہیں دیتا تھا تب فریق اول اپنے میکے کے بالکل قریب آ کر ایک بلڈنگ میں کرایہ کا مکان لیا، یہاں بھی فریق دوم نے خرچ نہیں دیا نہ کرایہ دیا تب فریق اول نے کرایہ کا مکان چھوڑ دیا اور اپنے میکے میں رہنے لگی، فریق دوم نے نشے کی حالت میں کئی مرتبہ فریق اول کو ہاتھ سے مارا اور فریق اول کو عزت نہیں دیتا تھا، تقریبا ڈیڑھ سال سے فریق اول اپنے میکے میں ہے، فریق دوم پہلے بھی اس کو خرچ نہیں دیتا تھا اور اب بھی نہیں دیتا ہے فریق دوم فریق اول سے ملنے کبھی نہیں آتا ہے، فریق دوم نے عید کے دن فریق اول کو فون کیا تھا جب یہاں دارالقضاء سے اس کو نوٹس گئی کہ وہ فریق اول سے گھر بسانے کی بات کر رہا تھا، فریق اول کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ فریق دوم نے فریق اول کو کبھی خرچہ نہیں دیا تو اب اس کے بعد فریق اول کو اس سے کوئی امید نہیں، کل فریق دوم نے فریق اول کو میسج کیا کہ میں قاضی کے پاس نہیں جا رہا ہوں تم بھی مت جاؤ،فریق اول فریق دوم کے ساتھ زندگی بسر نہیں کر سکتی اس لیے فریق اول فریق دوم سے اپنا رشتہ ختم کرنا چاہتی ہے اور وہ قاضی شریعت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اس کا نکاح فریق دوم سے فسخ کر دیا جائے۔ 

فریق اول کے پیش کردہ گواہوں میں سے گواہ اول محمد شاہنواز ولد محمد اختر حسین کے بیان عند القضاء کا خلاصہ یہ ہے کہ فریق اول شگفتہ بانو بنت محمد اختر حسین کی شادی فریق دوم ابو سفیان ولد محمد خالق مرحوم کے ساتھ 13 جون 2019 کو ہوئی شادی کے بعد فریق اول اپنے شوہر فریق دوم کے ساتھ اس کے گھر میں دو مہینہ رہی، ان دو مہینہ میں اس کے شوہر فریق دوم نے اس کے تمام زیورات بھیج دیے اس کے بعد فریق اول اپنے شوہر کے ساتھ کرایہ کے مکان میں رہی یہاں بھی فریق دوم فریق اول کو خرچ نہیں دیتا تھا گھر کا کرایہ بھی نہیں دیتا تھا جتنا کماتا تھا اتنا پی جاتا تھا، نشے کی حالت میں فریق اول کو ہاتھ سے مارتا بھی تھا بہت تنگ آ کر فریق اول نے فریق دوم سے تقریبا دو سال قبل علٰیحدہ اپنی والدہ کے ساتھ رہنا شروع کر دیا، فریق دوم اس کے پاس نہ آتا تھا نہ اس کو خرچہ دیتا تھا اب بھی نہیں دیتا ہے کئی مہینے کے بعد عید کے دن فون کر کے موقع دینے کو کہا مگر فریق اول اب اس کے ساتھ رہنے کو تیار نہیں ہے، کیونکہ فریق دوم پر اس کو اعتماد نہیں ہے۔ 

فریق اول کے پیش کردہ گواہوں میں سے گواہِ دوم محمد شمس تبریز عالم ولد محمد اختر حسین کے بیان عند القضاء کا خلاصہ ہے کہ فریق اول شگفتہ بانو بنت محمد اختر حسین کی شادی فریق دوم ابو سفیان ولد محمد خالق مرحوم کے ہمراہ 13 جون 2019 کو ہوئی، شادی کے بعد فریق اول اپنے شوہر فریق دوم کے ساتھ کچھ مہینے تک یعنی تقریبا تین سال رہی، اس دوران فریق دوم نے اس کے تمام زیورات بھیج دئے، کرایہ کے مکان میں رہا تو کرایہ تک نہیں دیا فریق اول کو خرچ بھی نہیں دیتا تھا شراب پی کر فریق اول کو مارتا تھا جب فریق اول کی زندگی بالکل دو بھر ہو گئی تب فریق اول اپنے شوہر سے الگ ہو کر اپنی والدہ کے پاس رہنے لگی، تقریبا دو سال سے فریق اول اپنی والدہ کے پاس ہے اس دوران فریق دوم نے اس کو خرچہ نہیں دیا ہے نہ ملنے آیا ہے فریق اول کے رہنے کا کوئی انتظام بھی نہیں کیا فریق اول کو فریق دوم اپنے گھر میں لے جا کر نہیں رکھ سکتا کیونکہ اس کا گھر بے حد چھوٹا ہے اور رہنے والے لوگ زیادہ ہیں، فریق اول جب فریق دوم کے ساتھ رہتی تھی تب بھی اس کا خرچ والدہ اور بڑے بھائی ہی پورا کرتے تھے اور اب بھی وہی کرتے ہیں فریق اول فریق دوم سے اپنا رشتہ ختم کرنا چاہتی ہے۔ 

فریق اول لے پیش کردہ گواہوں کی گواہی سے ثابت ہے کہ اس کی شادی فریق دوم ابو سفیان ولد محمد خالق مرحوم کے ہمراہ 13 جون 2019 ء کو ہوئی اور شادی کے بعد ساتھ رہنا سہنا بھی ہوا، فریق دوم فریق اول کو نشے کی حالت میں ہاتھ سے مارتا تھا، فریق اول اپنے میکے میں ہے، فریق دوم پہلے بھی اس کو خرچ نہیں دیتا تھا اور اب بھی نہیں دیتا ہے،

دوسری طرف فریق دوم کو بار بار رجسٹری اطلاع دے کر رفع الزام کے لیے دارالقضاء طلب کیا گیا لیکن وہ کسی بھی تاریخ سماعت پر دار القضاء حاضر نہیں آیا جبکہ بحیثیت مسلمان اس پر لازم و ضروری تھا کہ وہ دار القضاء حاضر ہو کر رفع الزام کرتا جیسا کہ ارشاد خداوندی ہے: ” إنما كان قول المؤمنين إذا دعوا إلى الله ورسوله ليحكم بينهم أن يقولوا سمعنا وأطعنا “ (النور / (۵۱) آیت مذکورہ کے ذیل میں صاحب معین الحکام لکھتے ہیں: ”وفی الآية دليل على أنه من دعى إلى حاكم فعليه الإجابة ويجرح إن تأخر “ (معين الحكام ص، (۱۴۱)

فریق دوم کا دار القضاء حاضر نہ آنا اور حاضری سے مسلسل گریز کرنا اس کی ہٹ دھرمی و سرکشی کی واضح نشانی ہے اور اس کا یہ رویہ اس بات کی بین دلیل ہے کہ وہ رفع الزام سے عاجز و قاصر ہے بلکہ اس کا یہ طرز عمل نکول عن الحلف کے قائم مقام ہو کر اقرار دعوی کے حکم میں ہے۔
شامی میں ہے: ” وقضى القاضي عليه بنكوله مرة، لو نكوله في مجلس القاضي، حقيقة كقوله ”لا أحلف“ أوحكما ”إن سکت“ (شامی (۲۶۹/۸)

زیر بحث معاملہ میں فریق اول عرصہ دراز سے منجانب فریق دوم نان و نفقہ سے محروم ہے جبکہ فریق دوم پر بحیثیت زوج لازم و ضروری تھا کہ وہ فریق اول کے نان و نفقہ کا معقول انتظام کرتا کیونکہ شریعت مطہرہ نے بیویوں کا خرچ شوہر کے ذمہ واجب قرار دیا ہے، ارشاد خداوندی ہے: ” و على المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف“ (البقرة / ۲۳۳) دوسری جگہ ہے: ”لينفق ذو سعة من سعته، ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله“ (الطلاق/۷) ہدایہ میں ہے: ”النفقة واجبة للزوجة على زوجها مسلمة كانت أو كافرة إذا سلمت نفسها إلى منزله فعليه نفقتها وكسوتها وسكناها“ هدایه، ۳۷۴/۳-۳۷۵)
بیوی اگر اپنے میکہ میں ہو اور ناشزہ نہ ہو تو بھی اس کا نفقہ شوہر کے ذمہ لازم ہے ، شامی میں ہے: ”ولو هي في بيت أبيها إذا لم يطالبها الزوج بالنقلة“ به یفتی شامی (۲۸۴/۵)
 ایسی عورت جو شوہر کی جانب سے نان و نفقہ سے محروم ہو اور اس کا شوہر اس کو طلاق بھی نہ دے رہا ہو تو شریعت اسلامیہ نے ایسی عورت کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنا معاملہ قاضی کے یہاں لے جائے اور فسخ نکاح کا مطالبہ کرے، قاضی کے یہاں اگر عورت کا دعوی ثابت ہو جائے تو قاضی کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے، الحیلة الناجزة میں ہے: ”أما المتعنت أى الممتنع . عن الإنفاق ففى مجموع الأمير ما نصه: إن منعها نفقة الحال فلها القيام، فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق علیہ قال محشیہ قولہ والا طلق علیہ أى طلق عليه الحاكم من غير تلوم“ .( الحيلة الناجزة، ص ۲۱۳) 
زیر بحث معاملہ میں یہ بات بھی ثابت ہے کہ فریق دوم فریق اول کو سخت مار پیٹ کرتا تھا، اس طرح مار پیٹ کی اجازت شریعت نے قطعاً نہیں دی ہے، اس بنیاد پر بھی شریعت نے عورت کو حق دیا ہے کہ وہ فسخ نکاح کا مطالبہ کرے جیسا کہ کتاب الفسخ و التفریق میں ہے:”وليس له أن یضربها ضربا مبرحا لأي سبب من الأسباب، فإن فعل ذلك كان ضرارا بها، وهو منهي عنه في قوله تعالى "ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا، ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه“. (الأحوال الشخصية، ص،۱۵۴ بحوالہ کتاب الفسخ و التفریق) کہ مرد کو کسی بھی وجہ سے اپنی بیوی کو سخت مار پیٹ کرنے کا اختیار نہیں ہے، اگر وہ ایسا کرے تو یہ بیوی کو نقصان پہنچانا شمار ہوگا، جس سے اللہ رب العزت نے اپنے ارشاد: ”ولا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا“ الخ (اور تم اپنی بیویوں کو ان پر ظلم کرنے کے لیے روکے نہ رکھو، اور جو شخص ایسا کرے گا تو وہ اپنا ہی نقصان کرے گا) میں منع فرمایا ہے۔
 
 بہر حال فریق دوم پر بحیثیت زوج لازم تھا کہ وہ فریق اول کو رخصت کرا کر لے جاتا اس کے تمام حقوق ادا کرتا اور اس کو اچھی طرح سے رکھ کر :”امساک بالمعروف“ پر عمل کرتا ، اور اگر وہ ادائے حقوق پر قادر نہ تھا یا با وجود قدرت کے کسی وجہ سے ادا کرنا نہیں چاہتا تھا تو: ”تسریح بالا حسان“ پر عمل کرتے ہوئے فریق اول کو ایک طلاق بائن دیدیتا لیکن اس نے ان دونوں راہوں کو چھوڑ کر تیسری راہ اپنائی اور فریق اول کو کالمعلقہ بنا کر میکے میں چھوڑے رکھا،جس سے اللہ رب العزت نے منع فرمایا ہے، ارشاد خداوندی ہے: ”فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقۃ“ (النساء / ۱۲۹) ایک دوسری جگہ ارشاد ہے: ”فلا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا،ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه“ (البقرة / ۲۳۱) فریق دوم کا فریق اول کو کالمعلقہ چھوڑ دینے سے فریق اول سخت ضرر و حرج میں مبتلاء ہے، فریق دوم کا یہ رویہ اس پر سراسر ظلم ہے،اور دفع ضرر و حرج و رفع ظلم و جور فریضۂ قضاء ہے معین الحکام میں ہے: ”أما حكمته فرفع التهارج ورد النوائب وقمع الظالم ونصر المظلوم و قطع الخصومات والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر“ (معين الحكام، ص، (۷)
 لہذا مندرجہ بالا مباحث و مصالح دینیہ کی رعایت کرتے ہوئے میں درج ذیل حکم دیتا ہوں :

حکم

آج میں نے بر بناء عدم اداء نان و نفقه و عدم اداء حقوق زوجیت و بوجه ترک کالمعلقه از بنظر دفع ضرر و حرج و رفع ظلم و جور و سد باب فتن و بغرض تحفظ عفت و عصمت فریق اول شگفتہ بانو بنت محمد اختر حسین کا عقد نکاح فریق دوم ابوسفیان ولد محمد خالق مرحوم سے فسخ کر دیا ، اب وہ اس کی بیوی نہیں رہی ، عدت گزار کر وہ اپنے نفس کی مجاز ہے۔ فقط
 ( نوٹ ) واضح رہے کہ یہ ایک حکم شرعی ہے۔

d 20

پھر دعوی صحیحہ یہ ہے کہ مدعی دعوی کرے ایسی چیز کا جو معلوم ہو ایسے فریق پر جو مجلس حکم میں حاضر ہو ایسا دعوی جس سے مدعی علیہ پر کوئی ایسی چیز لازم ہوتی ہو جو چیزیں ذمہ میں لازم ہوتی ہے دیگر الفاظ میں کیۓ کہ جن چیزوں پر عقد لازم ہوتا ہے یا جن چیزوں پر الزام آتا ہے۔ 
ثُمَّ الدَّعْوَى الصَّحِيحَةُ أَنْ يَدَّعِيَ شَيْئًا مَعْلُومًا عَلَى خَصْمٍ حَاضِرٍ فِي مَجْلِسِ الْحُكْمِ دَعْوَى تُلْزِمُ الْخَصْمَ أَمْرًا مِنْ الْأُمُورِ،
اب یہاں سے مصنف رحمتہ اللہ علیہ دعوی صحیحہ کی تعریف کے فوائد قیود بیان کر رہے ہیں،چنانچہ فرمایا کہ ہم نے جو شئ مدعیٰ کے معلوم ہونے کی شرط لگائی یہ اس لیے کہ دعویٰ سے جو مقصود ہے اس کا حاصل ہونا جہالت کے ساتھ ممکن نہیں ہے یعنی اگر پتہ ہی نہیں کس چیز کے بارے میں دعوی کیا جا رہا ہے تو حاصل کس چیز کو کیا جائے گا اس لیے شئ مدعا کا معلوم ہونا ضروری ہے جہالت کے ساتھ دعوی نہیں سنا جائے گا اب شئ مدعیٰ کیسے معلوم ہوگی، اور پہچاننے کا کیا طریقہ ہوگا چناں چہ و اعلامہ سے اسی کو بیان کر رہے ہیں کہ اگر وہ غیر منقول چیزوں میں سے ہے جیسے زمین وغیرہ تو اس کے حد بندی اور اس کی جائے وقوع کے ذکر سے اس کی تعیین کرنا کرے گا مثلا یہ کہے کہ میری زمین فلاں مقام پر ہے اور اس کے شمال میں، جنوب میں، مغرب کی طرف اور مشرق کی جانب فلاں فلاں کی زمین ہے یا فلاں کا مکان وغیرہ ہے اگر تین ہی جہتوں کو بیان کرے تو بھی صحیح ہے لیکن تین جہتوں کا متعین اور بیان کرنا ضروری ہوگا اور جائے وقوع بھی بیان کرنا ہوگا اس کا تفصیلی بیان عنقریب تصحیحِ دعوی کی فصل میں آئے گا۔ 
 وَإِنَّمَا اشْتَرَطْنَا كَوْنَ الْمُدَّعَى مَعْلُومًا؛ لِأَنَّ مَا هُوَ الْمَقْصُودُ مِنْ الدَّعْوَى لَا يُمْكِنُ مَعَ جَهَالَتِهِ، وَإِعْلَامُهُ إنْ كَانَ عَقَارًا بِذِكْرِ حُدُودِهِ وَمَوْضِعِهِ، وَسَيَأْتِي فِي فَصْلِ تَصْحِيحِ الدَّعْوَى
اور ہم نے جو شرط لگائی کہ مدعی علیہ کا مجلس قضاء میں حاضر ہونا شرط ہے یہ اس لیے کہ قضاء علی الغائب و قضاء للغائب یعنی غائب شخص کے حق میں اور غائب شخص پر دعوی کرنا ہمارے نزدیک جائز نہیں( لیکن اب حالات کے پیش نظر مالکیہ کے قول پر فتویٰ دیتے ہوئے علماء احناف متفق ہے کہ قضاء علی الغائب و قضاء للغائب بعض وجوہ کی بنا پر جائز ہے،جیسے مفقود الخبر عنھا زوج کے معاملہ میں فیصلہ کیا جاتا ہے) اور ہم نے جو شرط لگائی کہ دعوی ملزمہ ہو یعنی ایسا دعوی جس سے کسی پر کوئی چیز لازم ہوتی ہو یہاں تک کہ اگر کوئی شخص دعوی کرتا ہے کہ وہ فلاں کا وکیل ہے اور فلاں مؤکل انکار کر دے کہ میں نے اس کو وکیل نہیں بنایا تو وکالت کا دعوی کرنے والے کا دعوی نہیں سنا جائے گا اس لیے کہ وکالت یہ عقد لازم نہیں ہے اور جس طرح ماضی میں مؤکل کا وکیل کو معزول کرن اصحیح ہے اس طرح فی الحال بھی اس کا عزل کرنا ممکن ہے ٹھیک ہے اگر پہلے اس کو معزول نہیں کیا ہوگا تو اب چونکہ وہ کہہ رہا ہے کہ میں نے اس کو وکیل نہیں بنایا مؤکل یہ کہنا گویا معزول کرنے کے قائم مقام ہے چنانچہ اس کا دعوی کوئی فائدہ نہیں دے گا اس پر ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں کہ یہ وکالت کا دعوی کرنا اگرچہ عقد لازم نہیں ہے لیکن یہ تب ہے جب مرافعہ الی القاضی یعنی قاضی کے پاس معاملہ جانے سے پہلے پہلے وکیل نے مؤکل کے لیے کوئی عقد نہ کیا ہو اگر عقد کر چکا ہو تو پھر یہ دعویٰ لازمہ ہوگا پھر کا دعوی سنا جائے گا۔ 
وَإِنَّمَا شَرَطْنَا كَوْنَ الْخَصْمِ حَاضِرًا؛ لِأَنَّ الْقَضَاءَ عَلَى الْغَائِبِ وَلِلْغَائِبِ لَا يَجُوزُ عِنْدَنَا، وَإِنَّمَا شَرَطْنَا كَوْنَ الدَّعْوَى تَلْزَمُهُ حَتَّى إنَّ مَنْ ادَّعَى أَنَّهُ وَكِيلُ فُلَانٍ وَأَنْكَرَ فُلَانٌ لَا تُسْمَعُ هَذِهِ الدَّعْوَى؛ لِأَنَّهُ عَقْدٌ غَيْرُ لَازِمٍ يُمْكِنُ عَزْلُهُ فِي الْحَالِ فَلَا تُفِيدُ الدَّعْوَى فَائِدَتَهَا.


دعویٰ صحیحہ کی تعریف اور اس کے فوائد قیود بیان کرتے ہوئے دعویٰ غیر ملزمہ کی مزید مثالیں بیان کر رہے کہ ایسا دعوی جو غیر ملزمہ ہونے کی بنا پر نہیں سنا جائے گا بلکہ دعویٰ خارج کیا جائے گا اس کی مثال بیان کرتے ہوئے مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر زید نے کہا کہ عمرو نے مجھے یہ چیز ہدیہ دی ہے اور عمر انکار کرے کہ میں نے زید کو ہدیہ نہیں دیا ہے تو مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ہم کہتے ہیں کہ ہدیہ کرنا یہ قول سے لازم نہیں ہوتا ہے یعنی زبان سے کہنا کہ میں نے تمہیں نبی کیا نبی میں دی ہوئی چیز لازم نہیں ہوتی ھدیہ دینے والا اپنی بات سے رجوع کر سکتا ہے جب تک کہ مہدی الیہ یعنی جس کو ہدیہ دیا گیا ہے اس نے اس چیز پر قبضہ نہ کیا ہو اس لیے زید کا عمرو پر ھبہ کا دعویٰ کرنے سے عمرو مدعی علیہ سے اس سلسلے میں جواب کاروائی لازم نہیں ہوگی یعنی جواب دینا لازم نہ ہوگا اس لیے کہ جس سے سوال ( عمرو مدعی علیہ) کیا گیا ہے، جس کے بارے میں مقدمہ درج کیا گیا ہے اگر وہ اقرار بھی کر لے کہ ہاں میں نے ہدیہ کیا ہے اور پھر یہ کہے کہ میں نے ہدیہ کر کے رجوع بھی کیا ہے تو پھر بھی ( اقرار مدعی علیہ کے بعد بھی) اس سے کسی چیز کا مطالبہ لازم نہیں ہوگا کیوں کہ وہ عقد اس پر لازم نہیں ہوا ہے چہ جائے کہ بغیر اقرار مدعی علیہ محض مدعی زید کے دعویٰ سے عقد لازم ہو پھر کیا فائدہ زید کے لیے عمرو کو اس چیز کا الزام دے کے جو عمرو کے اقرار کے باوجود عمرو پر لازم نہیں۔ 
دوسری مثال، اسی طرح ان وصایا میں جن میں موصی کو رجوع کا حق حاصل ہو مثلاً اگر کوئی شخص کہیے کہ فلاں نے میرے بارے میں وصیت کی ہے اگر موصی زندہ ( کیوں کہ زندگی میں رجوع کا حق حاصل) ہے تو پھر مدعی کا دعوی نہیں سنا جائے گا اس لیے کہ اگر موصی اقرار بھی کر لے کہ ہاں میں نے وصیت کی تھی اور ساتھ میں یہ بھی کہہ دے کہ وہ وصیت کے بعد میں نے رجوع بھی کیا ہے تو بھی اس پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی باوجود موصی کے اقرار کے تو بغیر اقرارِ موصی محض مدعی موصی لہ کے بدرجہ اولی مدعی علیہ موصی پر کوئی چیز لازم نہیں اور مدعی کا دعوی اس کے خلاف نہیں سنا جائے گا کیونکہ اس سے کوئی چیز اس پر لازم ہوتی نہیں وصیت کوئی عقد لازم ہے نہیں جت تک موصی زندہ ہو ( کیوں کہ اسے رجوع کا حق حاصل ہے) ہاں اگر موصی مر جاتا اور پھر مدعی گواہ قائم کرتا تو مرنے کے بعد چونکہ وصیت عقد لازم بن جاتا ہے اس لیے اس کا دعویٰ دعویٰ ملزمہ ٹھہر کر ضرور مسموع ہوتا۔
تیسری مثال۔اسی طرح حضرت امام شافعی رحمتہ اللہ تعالی کا مسلک ہے کہ اگر کسی آقا نے اپنے غلام سے کہا تم میرے مرنے کے بعد آزاد ہو یعنی غلام کو مدبر بنایا تو جب تک آقا زندہ ہے اسے رجوع کا حق حاصل ہے، اب اگر غلام قاضی کے پاس مقدمہ دائر کرے کہ میرے آقا نے مجھے مدبر بنایا تھا لیکن وہ میرے ساتھ عام غلاموں والا معاملہ کر رہا ہے مثلا مجھے بیچ رہا ہے حالاں کہ میں مدبر تھا تو یہ تدبیر چوں کہ امام شافعی کے ہاں عقد لازم نہیں ہے تو جب تک آقا زندہ ہے اسے رجوع کا حق حاصل ہے اس لیے غلام کا دعویٰ غیر ملزمہ ٹھہرا تو اور اس دعویٰ سے آقا پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی کیوں کہ اگر آقا کہے ہاں میں نے مدبر بنایا تھا اور میں رجوع بھی کر چکا تھا تب بھی اس پر کچھ لازم نہیں اقرار کے باوجود اور بغیر اقرار کے بدرجہ اولی اس پر کوئی چیز لازم نہ ہونی چاہیے اسی لیے غلام کا دعوی نہیں سنا جائے گا۔ 

وَمِثْلُهُ: لَوْ ادَّعَى رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ هِبَةً وَقُلْنَا إنَّ الْهِبَةَ لَا تَلْزَمُ بِالْقَوْلِ وَلِلْوَاهِبِ الرُّجُوعُ عَنْهَا مَا لَمْ تُقْبَضْ، فَإِنَّهُ لَا يَلْزَمُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ الْجَوَابُ عَنْ ذَلِكَ؛ لِأَنَّ الْمَسْئُولَ عَنْ هَذَا لَوْ قَالَ ذَلِكَ وَقَالَ رَجَعْتُ عَنْهُ فَإِنَّهُ لَا يَلْزَمُ مُطَالَبَتُهُ بِشَيْءٍ وَلَا فَائِدَةَ فِي إلْزَامِهِ مَا لَوْ أَقَرَّ بِهِ لَمْ يَلْزَمْهُ إذَا رَجَعَ عَنْهُ وَكَذَلِكَ الْوَصَايَا الَّتِي لَهُ الرُّجُوعُ عَنْهَا
وَكَذَلِكَ التَّدْبِيرُ عَلَى مَذْهَبِ الشَّافِعِيِّ الَّذِي يَرَى أَنَّ لَهُ الرُّجُوعَ عَنْهُ، 
بس اسی اصول کی بنا پر بعض ائمہ اس طرف گئے ہیں کہ مدعی علیہ پر شئ مدعیٰ لازم نہیں ہوگی یہاں تک کہ مدعی اپنی دعوی کے ساتھ وہ چیز بھی ملائے جو چیز مدعی علیہ پر لازم کرے اس چیز کو جس کا دعویٰ اس پر کیا جا رہا ہے یہ طریقہ بتلایا مدعی کا دعوی صحیح ہونے کے لیے اسے اپنے دعوے میں کسی اور چیز کا اضافہ کرنا پڑے گا تب یہ دعویٔ عقد لازم کے طور پر سنا جائے گا مثلا اگر یہی زید مدعی کہے کہ عمرو نے مجھے ہدیہ دیا ہے اور ہدیہ سے رجوع بھی نہیں کیا ہے اور اب عمرو پر لازم تھا کہ ہدیہ کی ہوئی چیز مجھے دیتا لیکن اس نے نہیں دی چونکہ یہاں مدعی زید اپنے دعویٰ میں اضافہ کیا ہے کہ عمرو نے اپنے دعوے سے رجوع نہیں کیا ہے تو اب یہ دعوی صحیحہ ہوگا اور سنا بھی جائے گا اور عمرو کو جواب دعویٰ کے لیے بلایا جائے گا اسی طرح اگر وصیت میں ایک شخص کہہ رہا ہے کہ فلاں نے میرے لیے وصیت کی اور وصیت کے بعد اس نے رجوع بھی نہیں کیا یا رجوع سے پہلے مر گیا، لہذا وصیت کئ ہوئی چیز دینا لازم ہو گیا ہے چونکہ یہاں بھی مدعی نے اضافہ کیا ہے اپنی دعوے میں اس چیز کا جس سے مدعی علیہ پر وہ چیز لازم ہوتی ہے جس کا اس پر دعوی کیا گیا ہے اسی کو مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا مدعی ھبہ میں اس طرح کہیے گا کہ مدعی علیہ پر اس چیز کا سپرد کرنا لازم تھا کیونکہ رجوع نہیں کیا تھا
 تیسری مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ دو آدمیوں کے درمیان بیع ہوئی تو بائع نے خیار مجلس لیا لیکن مجلس کے اختتام تک بائع نے بیع کو فسخ نہیں کیا اس لیے عقد لازم ہوگیا، اب اگر مشتری دعوی کرے کہ میرے اور بائع کے درمیان بیع ہو خیار مجلس تھا لیکن بائع مبیع میرے سپرد نہیں کی تو مشتری کا دعویٰ نہیں سنا جائے گا اور یہ دعویٰ غیر ملزمہ ہے کیوں ممکن ہے کہ بائع نے اختتام مجلس سے پہلے پہلے خیار کے تحت بیع کو فوج کیا ہو اس لیے ایسا دعوی مسموع نہ ہوگا ہاں اگر مشتری اپنے دعوی میں ان الفاظ کا اضافہ کرے انہ لم یقع الفسخ بعد بیع کہ عقد بیع ہونے کے بعد بائع نے بیع کو خیار مجلس کے تحت فسخ نہیں کیا اس لیے بائع پر مبیع کا ادا کرنا لازم تھا تو مشتری کا ایسا دعوی سنا جائے گا، کیوں کہ اب دعویٰ صحیحہ ملزمہ ہے۔ 
فَإِنَّ مِنْ هَذَا الْأَصْلِ ذَهَبَ بَعْضُ الْأَئِمَّةِ إلَى أَنَّهُ لَا يَلْزَمُ الْجَوَابُ عَنْهُ حَتَّى يُضِيفَ إلَيْهِ مَا يُلْزِمُ الْمَطْلُوبَ بِمَا ادَّعَى عَلَيْهِ، فَيَقُولُ فِي هَذِهِ الْهِبَةِ يَلْزَمُ تَسْلِيمُهَا، وَكَذَلِكَ فِي الْبَيْعِ بِخِيَارِ الْمَجْلِسِ يُضِيفُ إلَيْهِ أَنَّهُ لَمْ يَقَعْ الْفَسْخُ بَعْدَ الْعَقْدِ.
پھر بعض ائمہ نے فرمایا کہ ہمارے نزدیک اس قول ( یعنی مدعی اپنے کی صحت کے لیے کسی الزامی لفظ کا اضافہ کرے)کی توجیہ اس بنیاد پر ہوگی کہ کسی چیز کے اصل کا انکار کرنا رجوع کے قائم مقام نہیں ہوگا اور اسی طرح کسی بیع کے لازم یا رد کرنے کا اختیار رجوع کے قائم مقام نہ ہوگا مثلا مہدی کا انکار کرنا کہ میں نے ھدیہ نہیں کیا ہے کیا یہ انکار ھدیہ رجوع ہوگا جواب ہے نہیں اس لیے مہدی محض انکار رجوع کے قائم مقام نہیں بلکہ رجوع کے لیے الگ الفاظ کا استعمال کرنا ہوگا، اسی طرح بائع کہے ہمارے درمیان خیار مجلس تھا کیا خیار مجلس رجوع عن البیع نہیں کیوں کہ اگر خیار ہی رجوع ہوتا تو مشتری کا اپنے دعویٰ میں بیع فسخ نہ کرکے بیع کے لازم ہونے دعویٰ کرنا بھی صحیح نہ ہوگا یعنی جو دعویٰ صحیحہ ملزمہ کا طریقہ بتایا اس کا پھر فائدہ نہیں ہوگا کیوں اس صورت ( کہ خیار ہی رجوع ہے) میں بیع تو لازم ہوگی نہیں اس لیے مشتری کا اپنے دعویٰ میں یہ کہنا کہ اختتام مجلس تک بائع نے بیع کو فوج نہیں کیا کوئی فائدہ نہیں دے اس لیے خلاصہ یہ ہے کہ خیار مجلس رجوع کے قائم مقام نہیں کہ خیار کو واجب کرنے والے سبب ( اختتام مجلس) کے اٹھ جانے سے بیع لازم ہو! ایسا نہیں ہے پس جب معاملہ کی بنیاد اسی اصول پر ہے تو متوجہ ہوگا وہ جو ہم بیان کیا بعض ائمہ سے تو ہم نے اسی توجیہ بیان کر دی بعض ائمہ سے ۔ 
قَالَ بَعْضُ الْأَئِمَّةِ: وَهَذَا عِنْدِي إنَّمَا يَتَّجِهُ عَلَى الْبِنَاءِ عَلَى أَنَّ الْإِنْكَارَ لِأَصْلِ الشَّيْءِ لَا يَحِلُّ مَحَلَّ الرُّجُوعِ وَعَلَى أَنَّ مَا فِيهِ الْخِيَارُ بَيْنَ إمْضَائِهِ أَوْ رَدِّهِ مَحْلُولٌ حَتَّى يَنْعَقِدَ بِرَفْعِ السَّبَبِ الْمُوجِبِ لِلْخِيَارِ، فَإِذَا بُنِيَ الْأَمْرُ عَلَى هَذَا اتَّجَهَ مَا حَكَيْنَاهُ عَنْ بَعْضِ الْأَئِمَّةِ.
سماعِ دعویٰ کے شرائط میں سے چوتھی شرط یعنی جو اوپر جو بیان کیا کہ دعوی صحیحہ کب سنا جائے گا اس کی جو چند شرطیں ذکر کی ہیں ان میں سے چوتھی شرط یہ ہے کہ دعوی ان چیزوں کے متعلق ہو جن سے کوئی حکم متعلق ہوتا ہے یہ جن امور میں سے کوئی امر لازم ہوتا ہے جن سے انسان پر الزام نہیں اتا ان چیزوں کے بارے میں دعوی کرنا قابل قبول نہیں ہوگا۔ 
الشَّرْطُ الثَّالِثُ مِنْ شُرُوطِ سَمَاعِ الدَّعْوَى: أَنْ تَكُونَ مِمَّا يَتَعَلَّقُ بِهَا حُكْمٌ أَوْ أَمْرٌ مِنْ الْأُمُورِ.
پھر یہاں بعض حضرات نے فرمایا کہ دعویٰ صحیح تب ہوگا جب دعویٰ سے مدعی کو کچھ نہ کچھ فائدہ ہوتا ہو اور بعض حضرات نے فرمایا دعوی تب صحیح ہے جب مدعی کے دعویٰ سے مدعی علیہ سے کسی چیز کا استخراج لازم آتا ہو یعنی مدعی سے کوئی چیز نکلے اور وہ مدعی کے قبضے میں آئے اسی کے متعلق مصنف نے فرمایا کہ اس چیز کی مثال جس کے ساتھ حکم متعلق ہے وہ یہ کہ زید نے دعوی کیا عمرو پر کسی قرض کا اور گواہ بھی قائم کیے دراں حالیکہ گواہوں کی تعدیل بھی ہو گئی لیکن اس کے بعد عمرو مدعی علیہ قاضی سے کہہ رہا ہے قاضی صاحب میں کچھ نہیں کہوں گا آپ زید مدعی سے قسم لیجئے اس بات پر کہ وہ گواہوں کی مجروحیت سے ناواقف ہے یعنی عمرو مدعی علیہ قاضی کے سامنے زید مدعی کے پیش کردہ گواہوں کی مجروحیت کا دعویٰ کر رہا ہے اب جو حضرات فرماتے ہیں کہ دعویٰ صحیحہ ہونے کے لیے بس اتنا ضروری ہے کہ مدعی کو دعویٰ سے کچھ نہ کچھ فائدہ ہونا چاہیے ان کے نزدیک اس مسئلہ میں عمرو مدعی علیہ کا دعویٰ جرح (جس کی وجہ سے وہ مدعی جرح بن رہا ہے) سنا جائے گا اگرچہ مدعی علیہ زید ( جو کہ مدعی تھا قرض کا) سے کسی چیز کا استخراج لازم نہیں آتا لیکن عمرو مدعی جرح کا فائدہ ہو رہا ہے بلکہ بڑا فائدہ ہے وہ اس طور پر کہ اگر مدعی علیہ زید اپنے گواہوں پر جرح کا اقرار کر لے تو اس کا عمرو پر قرض کا دعویٰ ہی ثابت نہ ہوگا اور عمرو قرض دینے سے بچ جائے گا اس لے عمرو مدعی ثانی کو دعویٰ جرح سے چوں کہ فائدہ ہو رہا ہے اس جو حضرات فرماتے ہیں کہ دعوی صحیحہ وہ ہے جس سے مدعی کو کچھ نہ کچھ فائدہ ہو ان کے نزدیک عمرو کا دعویٰ جرح مسموع ہوگا اور جن حضرات کے نزدیک دعوی صحیحہ وہ ہے جس سے مدعی علیہ سے کسی شئی کا استخراج لازم آتا ان کے نزدیک عمرو مدعی علیہ کا اب مدعی بن کر زید مدعی کے گواہوں پر دعوی جرح سماعت کے قابل نہیں کیوں کہ اس سے زید مدعی علیہ سے کسی شئ کا استخراج لازم نہیں آتا کیوں وہ صرف گواہوں پر جرح کا دعویٰ ہے اسی کو مصنف نے فرمایا جو زید مدعی علیہ پر قسم کھانا واجب گردانتے ہیں وہ اس کی علت یہ بیان کرتے ہیں کہ دعوی کی حقیقت یہ ہے کہ وہ کسی ایسے امر کے استحقاق کے ساتھ متعلق ہو جس استحقاق سے مدعی علیہ سے کوئی چیز نکالی جائے اور یہاں قاضی سے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا جا رہا ہے جس سے کوئی چیز نکالی جائے ا س شخص سے جس کے لیے گواہوں نے کسی حق کی گواہی دی ہے۔ اور وہ زید ہے جس کے لیے گواہوں نے قرض کی گواہی دی ہے اور اس سے عمرو مدعی علیہ کے ( جو اب دعوی جرح مدعی بن رہا ہے) دعوی سے کسی چیز کا استخراج نہیں ہوتا ہے۔ 
مِثَالُ مَا يَتَعَلَّقُ بِهِ حُكْمٌ: أَنْ يَدَّعِيَ رَجُلٌ عَلَى رَجُلٍ بِدَيْنٍ وَيُقِيمَ الْبَيِّنَةَ عَلَى ذَلِكَ وَعُدِّلَتْ الْبَيِّنَةُ فَقَالَ الْمَطْلُوبُ لِلْقَاضِي: اسْتَحْلِفْ لِي الطَّالِبَ أَنَّهُ لَا يَعْلَمُ كَوْنَ شُهُودِهِ مَجْرُوحِينَ، فَإِنَّ هَذَا مِمَّا اخْتَلَفَ فِيهِ الْعُلَمَاءُ، هَلْ تَجِبُ فِيهِ الْيَمِينُ أَوْ لَا تَجِبُ؟ فَمَنْ لَمْ يُوجِبْهَا اعْتَلَّ بِأَنَّ حَقِيقَةَ الدَّعْوَى أَنْ تَكُونَ مُتَعَلِّقَةً بِاسْتِحْقَاقِ أَمْرٍ يُسْتَخْرَجُ مِنْ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، وَهَا هُنَا لَا يُطْلَبُ مِنْ الْقَاضِي اسْتِخْرَاجُ شَيْءٍ مِنْ الَّذِي شَهِدَتْ لَهُ الْبَيِّنَةُ بِحَقِّهِ.

Tuesday, July 30, 2024

d 19

قسم ثالث دعوی اور اس کے اقسام کے بیان میں
[الْقِسْمُ الثَّالِثُ فِي ذِكْرِ الدَّعَاوَى وَأَقْسَامِهَا
قسم ثالث کی پہلی فصل دعوی صحیحہ اور اس کے شرائط کے بیان میں ہوگی اور دعوی صحیحہ اور اس کی شرائط میں چند فصلیں آئیں گی پہلی فصل کیفیت دعوی  کے بیان میں دوسری فصل تقسیم دعوی کے بیان میں تیسری فصل مدعی علیہم کی تقسیم کے بیان میں چوتھی فصل مدعی لہم کی تقسیم کے بیان میں اور مدعی کے جن گواہوں ک سنا جائے گا اور جن گواہوں کو نہیں سنا جائے گا، پانچویں فصل ان امور کے بیان میں جن کے اثبات پر دعویٰ بہ شئ کی اعت کو موقوف رکھا جاتا ہے،چھٹی فصل دعوی میں وکالت کے حکم کے بیان میں اور جو اس سے متعلق ہوتے ہیں۔ 
[الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي بَيَانِ الدَّعَاوَى الصَّحِيحَةِ وَشُرُوطِهَا]
: وَفِيهِ فُصُولٌ: وَكَيْفِيَّةِ تَصْحِيحِ الدَّعْوَى.الْفَصْلُ الثَّانِي: فِي تَقْسِيمِ الدَّعَاوَى.الْفَصْلُ الثَّالِثُ: فِي تَقْسِيمِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ.
الْفَصْلُ الرَّابِعُ: فِي تَقْسِيمِ الْمُدَّعَى لَهُمْ، وَمَا يُسْمَعُ مِنْ بَيِّنَاتِهِمْ وَمَا لَا يُسْمَعُ مِنْهَا.الْفَصْلُ الْخَامِسُ: فِي بَيَانِ مَا يَتَوَقَّفُ سَمَاعُ الدَّعْوَى بِهِ عَلَى إثْبَاتِ أُمُورٍ.الْفَصْلُ السَّادِسُ: فِي حُكْمِ الْوَكَالَةِ فِي الدَّعْوَى وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا. 

یہاں سے پہلی فصل دعوی صحیحہ و دعوی فاسدہ کا بیان ہے۔ 
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ: فِي الدَّعْوَى الصَّحِيحَةِ
دعوی دو قس پر منقسم ہوتا ہے (١) دعوی صحیحہ (٢) دعوی فاسدہ. دعوی کے صحیح ہونے کے لیے چند شرائط ہیں وہ یہ کہ وہ چیز جس کے بارے میں دعوی کیا جا رہا ہے معلوم ہو یعنی مجہول چیز کے بارے میں دعوی نہ ہو بلکہ معلوم چیز کے بارے میں دعوی ہو دوسری شرط یہ ہے کہ مدعی علیہ حاضر ہونا چاہیے اگر مدعی علیہ غائب ہو تو پھر دعوی کی سماعت نہیں کی جائے گی تیسری شرط یہ ہے کہ مجلس قضاء میں مدعی علیہ حاضر ہونا چاہیے چوتھی شرط یہ ہے کہ مدعی علیہ پر کوئی ایسی چیز لازم کی جانی چاہیے جس چیز کا لزوم آتا ہو مثلاً وکالت ہے اکثر و بیشتر وکالت اپنی ذات کے اعتبار سے لازم امور میں سے نہیں ہوتی اس لیے اگر کوئی وکالت کا دعوی کر رہا ہے کہ فلاں نے مجھے وکیل بنایا تھا اور فلاں انکار کر رہا ہے تو اس درمیان اگر اس وکیل نے مؤکل منکر کے لیے کوئی عقد وغیرہ نہ کیا ہو تو پھر ایسا سمجھا جائے گا کہ یہ وکیل ہی نہ تھا کیوں کہ وکالت میں لزوم نہیں اور اس لیے بھی کہ اگر اس نے بالفرض وکیل بنایا بھی ہو تو اب جو وہ انکار کر رہا ہے اس انکار سے گویا وہ اس کی وکالت ختم کر رہا ہے، ہاں اگر وکیل نے اس درمیان مؤکل کے لیے کوئی عقد کیا ہو تو پھر ضمناً وکالت کو عقد لزوم میں سے سمجھا جائے گا اس لیے اب وکیل سے اپنی وکالت پر گواہان طلب کیے جائیں گے، پانچویں شرط یہ ہے کہ مدعی و مدعی علیہ دونوں عاقل بالغ ہونے چاہیے سمجھدار ہونے چاہیے یا اگر عاقل بالغ نہ ہو تو پھر لم از کم ولی یا وصی کا ہونا ضروری ہے،یہ آخری شرط مصنف نے نہیں بیان کی ہے،ان شرائط کے ساتھ دعوی صحیح ہوگا وگرنہ دعوی فاسد ہوگا، چنانچہ مصنف نے فرمایا قاضی صحیح دعوی کو سنے گا دعوی فاسدہ کو نہیں سنے گا اور دعوی کا فساد یا تو اس طور پر ہوگا کہ مدعی  مدعی علیہ پر کسی چیز کو لازم کرنے والا نہ ہو یا دعوی میں فساد اس طور پر ہوگا کہ مدعی بہ چیز مجہول ہوگی اپنی ذات میں یعنی جس چیز کے بارے میں دعوی کیا جا رہا ہے، جس چیز کو ثابت کر رہا ہے وہ چیز معلوم ہی نہیں ہے۔ 

وَالدَّعْوَى تَتَنَوَّعُ إلَى صَحِيحَةٍ وَفَاسِدَةٍ، وَالْقَاضِي إنَّمَا يَسْمَعُ الصَّحِيحَةَ دُونَ الْفَاسِدَةِ، وَفَسَادُ الدَّعْوَى إمَّا أَنْ لَا تَكُونَ مُلْزِمَةً شَيْئًا عَلَى الْخَصْمِ أَوْ يَكُونَ الْمُدَّعِي مَجْهُولًا فِي نَفْسِهِ، 
 ہاں یہاں پر کچھ چیزیں ہیں جو اگر مجہول ہیں تو پھر بھی ان میں دعویٰ صحیح ہوگا اسی کے بارے میں مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ وصیت کے سلسلے میں ہم کسی کا اختلاف نہیں جانتے یعنی ائمہ حضرات نے وصیت کے سلسلے میں مجہول دعوی کے ساتھ سماعت کی اجازت دی ہے اس لیے اگر کسی نے یہ کہا کہ فلاں شخص نے میرے لیے وصیت کی ہے اگرچہ وہ یہ نہیں بتا رہا کہ کتنے پیسوں کی یا کتنے مال کی وصیت کی ہے صرف اتنا کہہ رہا ہے کہ فلاں نے میرے لیے وصیت کی ہے تو اس بنا پر یہ یہ وصیت ہے اس کا دعوی سنا جائے گا اسی طرح اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں شخص نے میرے لیے فلاں حق کا اقرار کیا ہے کتنی چیزوں کا، کتنے پیسوں کا اقرار کیا ہے اگرچہ یہ مجہول ہے پھر بھی اقرار کی وجہ سے اس کا دعوی سنا جائے گا اسی کو مصنف نے فرمایا یہ دونوں وصیت اور اقرار کا دعوی مجہول کے ساتھ بھی صحیح ہے، اسی طرح  مجہول کے ساتھ برأت کا دعوی کرنا بھی صحیح ہے مثلا فلاں شخص کہتا ہے کہ فلاں آدمی کے کچھ دینار یا فلاں مال میرے ذمے تھا اس نے مجھے ان دنانیر یا مال سے بری کر دیا ہے  کتنے دنانیر معاف کیے، کتنا مال معاف کیا ہے یہ نہیں بتا رہا ہے تو برأت الذمۃ کا دعوی جہالت عن المقدار کے ساتھ قابل سماعت ہوگا، اور بغیر اختلاف کے یہ دعوی صحیح ہے، ہاں اگر کوئی شخص کہے کہ میرے لیے فلاں پر کوئی چیز ہے تو اس کا دعوی نہیں سنا جائے گا اس لیے کہ کتنا ہے یہ بیان نہیں کر رہا ہے مجہول ہے کیونکہ اگر اسے اپنے حق کی مقدار معلوم ہوتی تو اس کے بیان سے نہ رکتا بلکہ اس کو بیان کرتا ہے اس لیے یہ کہنا کہ فلاں پر میرا اتنا قرض ہے کتنا ہے وہ مقدار بیان نہیں کر رہا ہے اس کا مطلب اس کا دعوی نہیں سنا جائے گا۔ 
وَلَا نَعْلَمُ فِيهِ خِلَافًا إلَّا فِي الْوَصِيَّةِ.فَإِنَّ الْأَئِمَّةَ الثَّلَاثَةَ يُجِيزُونَ دَعْوَى الْمَجْهُولِ فِي الْوَصِيَّةِ، فَإِنْ ادَّعَى حَقًّا مِنْ وَصِيَّةٍ أَوْ إقْرَارٍ فَإِنَّهُمَا يَصِحَّانِ بِالْمَجْهُولِ وَتَصِحُّ دَعْوَى الْإِبْرَاءِ مِنْ الْمَجْهُولِ بِلَا خِلَافٍ، فَلَوْ قَالَ لِي عَلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ تُسْمَعْ دَعْوَاهُ؛ لِأَنَّهَا مَجْهُولَةٌ، وَلَعَلَّهُ يُرِيدُ إذَا كَانَ يَعْلَمُ قَدْرَ حَقِّهِ امْتَنَعَ مِنْ بَيَانِهِ،
بعض علماء نے فرمایا اور مصنف فرماتے ہیں کہ میری بھی یہی رائے ہے کہ اگر مدعی یقین رکھتا ہو مدعی علیہ کے ذمے میری کوئی چیز گھیرے ہوئے ہے کتنی ہے مقدار میں جانتا نہیں اس لیے مدعی کا دعویٰ ہے اور مدعی طلب کر رہا ہے کہ مدعی علیہ اقرار یا انکار کے ذریعہ اس ذمہ میں بقیہ چیز کی تفصیل بیان کرے جنس اور مقدار کے ساتھ تو مدعی کا ایسا مجہول دعویٰ سنا جائے گا اس لیے کہ مدعی مدعی سے اقرر و انکار چاہتا ہے اس لیے مدعی علیہ پر جواب دینا لازم ہے اگر مدعی علیہ کو لگے کہ مدعی جھوٹ کہہ رہا ہے تو انکار کردے، پھر مدعی سے گواہ مانگے جائے گے ہان اگر مدعی صحیح کہہ رہا ہے تو مدعی علیہ تفصیل بیان کرے۔ 
 وَقَدْ قَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ فِي هَذِهِ الدَّعْوَى: وَعِنْدِي أَنَّ هَذَا الطَّالِبَ لَوْ أَيْقَنَ بِعِمَارَةِ ذِمَّةِ الْمَطْلُوبِ بِشَيْءٍ وَجَهِلَ مَبْلَغَهُ وَأَرَادَ مِنْ خَصْمِهِ أَنْ يُجَاوِبَهُ عَنْ ذَلِكَ بِإِقْرَارِهِ بِمَا ادَّعَى عَلَيْهِ بِهِ عَلَى وَجْهِ التَّفْصِيلِ وَذَكَرَ الْمَبْلَغَ أَوْ الْجِنْسَ لَزِمَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ الْجَوَابُ.
اسی طرح اگر مدعی کہے کہ میرے فلاں شخص پر حساب وکتاب کے بعد بچے ہوئے کچھ روپئے ہیں لیکن میں اس کے مقدار نہیں جانتا اور مدعی نے فلاں کے خلاف گواہ بھی قائم کر لیے اس بات پر کہ ہاں ان دونوں کے درمیان حساب و کتاب ہوا ہے اور اس کے پاس اس کا کچھ بچہ پیسہ ہے کتنا بچا ہے اس کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں تو یہ دعوی بھی اس صورت میں سنا جائے گا کیونکہ حساب و کتاب پر تو گواہ قائم ہو گئے باقی اس کے ذمے کچھ بچا ہے اس پر بھی گواہ قائم ہو گئے، اگرچہ مقدار معلوم نہیں ہے اس لئے مقدار کی تفصیل بیان کرنے کے لیے مدعی علیہ کو مکلف بنایا جائے گا اسی طرح اگر مدعی دعوی کرے کسی گھر یا زمین میں اپنے حق کا اور بینہ بھی قائم کرے کہ اس گھر میں یا اس زمین میں مدعی کا حق ہے لیکن کتنا ہے یہ معلوم نہیں ہے تو یہ دعوی بھی سنا جائے گا کیوں کہ گھر میں حق ہونا تو یقینی ہے اس لیے کہ مدعی گواہ پیش کر چکا ہے بس مقدار میں شک ہے اس لیے ( الیقین لا یزول بالشک) کے تحت یقینی امر کو ترجیح دیتے ہوئے اس گھر یا زمین کے بارے میں مدعی کے حق کے دعوی کو سنا جائے گا اور اس پر عمل درآمد کیا جائے گا
أَمَّا لَوْ قَالَ: لِي عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ فَضْلَةِ حِسَابٍ لَا أَعْلَمُ قَدْرَهُ وَقَامَتْ لَهُ بَيِّنَةٌ أَنَّهُمَا تَحَاسَبَا وَبَقِيَتْ لَهُ عِنْدَهُ بَقِيَّةٌ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِقَدْرِهَا فَدَعْوَاهُ فِي هَذِهِ الصُّورَةِ مَسْمُوعَةٌ، وَكَذَا لَوْ ادَّعَى حَقًّا فِي هَذِهِ الدَّارِ أَوْ الْأَرْضِ وَقَامَتْ لَهُ بَيِّنَةٌ أَنَّ لَهُ فِيهَا حَقًّا لَا يَعْلَمُونَ قَدْرَهُ فَهِيَ دَعْوَى مَسْمُوعَةٌ.

چ ٤

(فَصْلٌ) :
اور ان معاونین کی تنخواہ جو لوگوں کے مصالح میں تگ و دو کرتے ہیں اور مدعی علیہ کو بلا کے لاتے ہیں اور اس کے علاوہ دیگر حقوق کی پاسداری کرتے ہیں ان کی تنخواہ بیت المال سے نکالی جائے گی اور یہ معانین کی تنخواہ حکم میں قاضیوں کی تنخواہ کی طرح ہے ، مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ معاونین کو مسلمانوں کے مال میں سے کوئی چیز دے اور جب بیت المال سے ان کی تنخواہ متعین ہو، ان کو بیت المال سے کفاف مل رہا ہو تو پھر جن قضایا کے سلسلے میں ان کو ادھر ادھر بھیجا جاتا ہے ان قضایا پر ان کو کوئی چیز وصول کرنا جائز نہ ہوگا جس طرح قاضی کے لیے جائز نہیں کہ قضایا پر کوئی پیسہ وغیرہ وصول کرے ہاں اگر ان کو بیت المال سے کوئی چیز نہ ملتی ہو یعنی تنخواہ ان کی بیت المال سے متعین نہ ہو تو پھر قاضی مدعی کو اپنی مہر دے گا تاکہ وہ خود جا کر مدعی علیہ کو مہر دکھا کر بلا کر لائے مجلس قضا میں پس اگر وہ نہ گیا اور نہیں لا سکا اس نے انکار کر دیا خود لانے سے اور پھر قاضی مجبور ہو گیا معاون کو بھیجنے پر تو اس صورت میں قاضی چونکہ معاون کا محتاج ہوا ہے اور اس معاون کو بیت المال سے کچھ بھی نہیں ملتا اس لیے قاضی اس کو اپنے جیب بطور تنخواہ کے دے گا اگر قاضی کے لیے ممکن ہو اور قاضی کو طاقت ہو کہ وہ اپنے جیب سے اسے کچھ دے سکے اگر قاضی عاجز ہو اپنے جیب سے دینے سے تو پھر درست بات اور بہترین وجہ یہ ہے کہ مدعی ہی مستجر ہوگا مدعی علیہ کو حاضر کرنے اور بلا کر لانے میں معاون کےقائم کرنے پر یعنی اس کا مطلب یہ ہوگا جو مدعی ہے وہ بطور مستاجر معاون کو اجرت دے گا کیونکہ معاون مدعی کے لیے ہی کام کر رہا ہے پس مدعی معاون کے ساتھ اتفاق کرے اس اجرت پر جو وہ مناسب سمجھتا ہے ہاں اگر مدعی کے ساتھ مدعی علیہ کا جھگڑا واضح ہو گیا مدعی علیہ بلانے پر بھی نہیں آیا (چاہے معاون بلانے کے لیے گیا تھا یا خود مدعی بلانے گیا تھا) اور اس نے حاضر ہونے سے منع کیا بعد اس کے کہ اس کو بلایا گیا تھا تو اب اس معاون کی اجرت جو اس کو حاضر کرے گا مطلوب ( مدعی علیہ) پر ہوگی، اب یہاں سے مسئلہ یہ ہے کہ اگر معاون اور مدعی کسی اجرت پر متفق نہ ہوئے تھے دراں حالیکہ معاون نے اس کو بلا کر لایا ہے تو اس سلسلے میں قنیہ نامی کتاب میں یہ مسئلہ مذکور ہے کہ صاحب مجلس جس کے لیے قاضی نے لوگوں کا انعقاد کیا ہے،اور لوگوں کو اپنے سامنے بٹھایا ہے،یہ کہ قاضی مدعی سے اس صورت میں پیسے لے گا اس لیے کہ معاون اسی کے لیے عمل کرتا ہے گواہوں کو ترتیب سے بٹھانے کے سلسلے میں اور اس کے علاوہ دیگر کام اسی کے لیے انجام دے رہا ہے لیکن یہ ہے کہ دو رائج دراہم سے زیادہ نہیں وصول کرے گا جو اس زمانے میں رائج ہوں اسی طرح وکلاء کے لیے مسئلہ ہے کہ وہ اجرت لیں گے جن کے لیے وہ کام کرتے ہیں مدعی یا مدعی علیہ سے ہر مجلس کے لیے دو درہموں سے زیادہ نہیں لیں گے یعنی ایک مجلس کی اجرت دو دراہم یا دو سے کم ہونا چاہیے اگر وہ ہر مجلس کے لیے دو سے زیادہ درہم لیں گے تو اس میں حرج عظیم لازم آئے گا اس لیے ہر مجلس کے لیے صرف دو یا دو سے کم دراہم لیں گے اور جو پیدل جاتے ہیں بلانے کے لیے جن کو رجّالہ کہتے ہیں وہ بھی اپنی اجرت لیں گے ان سے جن کے لیے وہ کام کرتے ہیں اور وہ مدعیان ہے لیکن شہر کے اندر میں نصف درہم سے لے کر ایک درہم تک ہی وصول کریں گے چاہے شہر کے کس جگہ بھی جانا پڑے ہاں جب وہ شہر سے باہر نکلیں گے دیگر مضافات کی طرف ان کو جانا ہو یعنی شہر سے زیادہ دور تو پھر وہ ہر فرسخ پر تین یا چار دراہم سے زیادہ نہیں لیں گے چار دراہم تک گنجائش ہے اسی طرح تقویٰ شعار اکابر علماء نے اجرتیں متعین کی ہیں اور یہ تمام مثلی اجرتیں ہے
وَأَرْزَاقُ الْأَعْوَانِ الَّذِينَ يُوَجِّهُهُمْ فِي مَصَالِحِ النَّاسِ وَرَفْعِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِنْ حُقُوقِ النَّاسِ يَكُونُ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ كَالْحُكْمِ فِي أَرْزَاقِ الْقُضَاةِ، وَلَا يَنْبَغِي لِلْقَاضِي أَنْ يَجْعَلَ لَهُمْ شَيْئًا فِي أَمْوَالِ الْمُسْلِمِينَ، وَإِذَا كَانَ لَهُمْ رِزْقٌ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فَلَا يَجُوزُ لَهُمْ أَخْذُ شَيْءٍ عَلَى الْقَضَايَا الَّتِي يُبْعَثُونَ فِيهَا كَمَا لَا يَجُوزُ لِلْقُضَاةِ أَخْذُ شَيْءٍ، فَإِنْ لَمْ يُصْرَفْ لَهُمْ شَيْءٌ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ وَقَّعَ الْقَاضِي لِلطَّالِبِ طَابَعًا يُرْفَعُ بِهِ الْخَصْمُ إلَى مَجْلِسِ الْحُكْمِ، فَإِنْ لَمْ يُرْفَعْ وَاضْطُرَّ إلَى الْأَعْوَانِ فَلْيَجْعَلْ الْقَاضِي لَهُمْ شَيْئًا مِنْ رِزْقِهِ إذَا أَمْكَنَهُ وَقَدَرَ عَلَيْهِ، فَإِنْ عَجَزَ عَنْ ذَلِكَ فَأَحْسَنُ الْوُجُوهِ أَنْ يَكُونَ الطَّالِبُ هُوَ الْمُسْتَأْجَرُ عَلَى النُّهُوضِ فِي إحْضَارِ الْمَطْلُوبِ وَرَفْعِهِ فَيَتَّفِقُ مَعَ الْعَوِينِ عَلَى ذَلِكَ بِمَا يَرَاهُ، إلَّا أَنْ يَتَبَيَّنَ لَهُ لَدَدُ الْمَطْلُوبِ بِالطَّالِبِ، وَأَنَّهُ امْتَنَعَ مِنْ الْحُضُورِ بَعْدَ أَنْ دَعَاهُ، فَإِنَّ أُجْرَةَ الْعَوِينِ الَّذِي يُحْضِرُهُ عَلَى الْمَطْلُوبِ، فَإِنْ لَمْ يَتَّفِقْ الْعَوِينُ وَالْمُدَّعِي عَلَى شَيْءٍ وَأَحْضَرَهُ فَقَدْ ذُكِرَ فِي الْقُنْيَةِ " أَنَّ لِصَاحِبِ الْمَجْلِسِ الَّذِي نَصَّبَهُ الْقَاضِي لِإِجْلَاسِ النَّاسِ وَإِقْعَادِهِمْ بَيْنَ يَدَيْهِ أَنْ يَأْخُذَ مِنْ الْمُدَّعِي شَيْئًا؛ لِأَنَّهُ يَعْمَلُ لَهُ بِإِقْعَادِ الشُّهُودِ عَلَى التَّرْتِيبِ وَغَيْرِهِ، لَكِنْ لَا يَأْخُذُ أَكْثَرَ مِنْ الدِّرْهَمَيْنِ الْعَدْلِيَّيْنِ الدَّانِقَيْنِ مِنْ الدَّرَاهِمِ الرَّائِجَةِ فِي زَمَانِنَا، وَلِلْوُكَلَاءِ أَنْ يَأْخُذُوا مِمَّنْ يَعْمَلُونَ لَهُ مِنْ الْمُدَّعِينَ وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ، وَلَكِنْ لَا يَأْخُذُوا لِكُلِّ مَجْلِسٍ أَكْثَرَ مِنْ دِرْهَمَيْنِ، وَالرَّجَّالَةُ يَأْخُذُونَ أُجُورَهُمْ مِمَّنْ يَعْمَلُونَ لَهُ وَهُمْ الْمُدَّعُونَ، لَكِنَّهُمْ يَأْخُذُونَ فِي الْمِصْرِ مِنْ نِصْفِ دِرْهَمٍ إلَى دِرْهَمٍ، وَإِذَا خَرَجُوا إلَى الرَّسَاتِيقِ لَا يَأْخُذُونَ بِكُلِّ فَرْسَخٍ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةِ دَرَاهِمَ أَوْ أَرْبَعَةٍ، هَكَذَا وَضَعَهُ الْعُلَمَاءُ الْأَتْقِيَاءُ الْكِبَارُ وَهِيَ أُجُورُ أَمْثَالِهِمْ.
امام سرخسی کی شرح ادب القاضی میں مسئلہ ہے کہ جب قاضی مدعی علیہ کی طرف کسی کو بھیجے اپنی علامت کو لے کر اور وہ علامت اس کے سامنے پیش کی جائے لیکن وہ مدعی علیہ منع کرے آنے سے اور اس پر گواہ بنائے مدعی اور دو گواہوں سے ثابت ہو جائے قاضی کے یہاں کہ اس نے آنے سے انکار کیا ہے تو پھر وہ قاضی دوبارہ اس کی طرف معاون کو بھیجے گا اور اب کے بار اس رجالہ جو بلانے کے لیے جائے گا پیدل اس کی اجرت مدعی علیہ پر لازم ہوگی اب مدعی پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی۔ 
قَالَ فِي شَرْحِ السَّرَخْسِيِّ لِأَدَبِ الْقَاضِي: الْقَاضِي إذَا بَعَثَ إلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِعَلَامَةٍ فَعُرِضَتْ عَلَيْهِ فَامْتَنَعَ وَأَشْهَدَ عَلَيْهِ الْمُدَّعِي عَلَى ذَلِكَ وَثَبَتَ ذَلِكَ عِنْدَهُ فَإِنَّهُ يَبْعَثُ إلَيْهِ ثَانِيًا وَيَكُونُ مُؤْنَةُ الرَّجَّالَةِ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، وَلَا يَكُونُ عَلَى الْمُدَّعِي شَيْءٌ بَعْدَ ذَلِكَ.
مجد الائمہ ترجمانی فرماتے ہیں کہ خلاصہ یہ ہے کہ بلانے کے لیے پیدل جانے والی کی اجرت اولا مدعی پر ہوگی کیونکہ کام تو اس کے لیے کیا جاتا ہے لیکن اگر مدعی علیہ آنے سے انکار کرے تو اب دوسری مرتبہ بجائے مدعی کے مدعی علیہ پر معاون کی اجرت لازم ہوگی، آگے فرماتے ہیں کہ یہ مسئلہ استحسان کے طور پر ہے کہ مدعی علیہ کے ذمے اجرت بطور زجر کے لازم کی گئی ہے ورنہ قیاس کا تقاضہ یہ تھا کہ دونوں حالت میں مدعی پر اجرت لازم ہونی چاہیے کیونکہ دونوں حالتوں میں نفع اسی کو حاصل ہو رہا ہے کام اسی کے لیے کیا جا رہا ہے۔ 
قَالَ مَجْدُ الْأَئِمَّةِ التَّرْجُمَانِيُّ: فَالْحَاصِلُ أَنَّ مُؤْنَةَ الرَّجَّالَةِ عَلَى الْمُدَّعِي فِي الِابْتِدَاءِ، فَإِذَا امْتَنَعَ فَعَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ، وَكَائِنُ هَذَا اسْتِحْسَانٌ مَالَ إلَيْهِ لِلزَّجْرِ، فَإِنَّ الْقِيَاسَ أَنْ يَكُونَ عَلَى الْمُدَّعِي فِي الْحَالَيْنِ لِحُصُولِ النَّفْعِ لَهُ فِي الْحَالَيْنِ.
انہیں لازمی امور میں سے ہے کہ قاضی لوگوں کو اپنے ساتھ سوار ہونا جائز نہ قرار دے مگر کسی حاجت میں یا کسی ظلم کو دور کرنے کے لیے لوگوں کی ضرورت پڑے تو پھر ان کو اپنے ساتھ سوار کرنے میں حرج نہیں ورنہ خواہ مخواہ لوگوں کو اپنے ساتھ سوار نہ کرے لیکن اگر ضرورت ہو اور کسی ظلم کو دور کرنا ہو پس اس صورت میں قاضی کے لیے کوئی حرج نہیں کہ لوگوں کو اپنے ساتھ سوار کرے اس معاملے کے معاینہ کے لیے جس معاملے میں قاضی کے یہاں جھگڑا کیا گیا ہے اور بظاہر کوئی بصورت نہیں اس جھگڑے کو پہچاننے کی مگر یہ کہ خود قاضی جا کر اس کا معائنہ کرے، اس طرح کے مسائل ضرر کے دعوی کے باب میں کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُبِيحَ لِلنَّاسِ الرُّكُوبَ مَعَهُ إلَّا فِي حَاجَةٍ أَوْ رَفْعِ مَظْلِمَةٍ، فَإِنَّهُ لَا بَأْسَ لِلْقَاضِي أَنْ يَرْكَبَ لِيَنْظُرَ إلَى شَيْءٍ مَعَ غَيْرِهِ مِنْ النَّاسِ فِيمَا قَدْ تُشُوجِرَ فِيهِ عِنْدَهُ وَاخْتَلَطَ فِيهِ الْأَمْرُ وَطَالَتْ فِيهِ الْخُصُومَةُ وَلَا يَجِدُ سَبِيلًا إلَى مَعْرِفَتِهِ إلَّا بِمُعَايَنَتِهِ، وَقَدْ يَكْثُرُ هَذَا فِي بَابِ دَعْوَى الضَّرَرِ.
چناں چہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ سوار ہوئے ایک معاملے کے سلسلے میں تاکہ اس میں غور و فکر کریں جا کر پھر ان سے بتایا گیا راستے میں کہ حضرت! حضرت عمر بن خطاب اس سے واقف ہوئے تھے اور اس معاملے میں حکم کر چکے ہیں تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ راستے سے ہی واپس لوٹے اور اس معاملے میں غور و فکر نہیں کیا اس سے پتہ چلتا ہے کہ حاکم اس معاملے میں جس میں جھگڑا پڑ گیا ہے اور ضرورت ہے کہ اس معاملے کے لیے قاضی کو معائنہ کرنے کے لیے خود جانا پڑے تو قاضی معائنہ کرنے کے لیے خود جا سکتے ہیں جس طرح کہ حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالی عنہ معاینہ کرنے کے لیے خود نکلے اگرچہ انہیں راستے سے ہی واپس لوٹنا پڑا۔ 

وَقَدْ رَكِبَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فِي أَمْرٍ لِيَنْظُرَ فِيهِ فَذُكِرَ لَهُ فِي الطَّرِيقِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ وَقَفَ عَلَيْهِ وَحَكَمَ فِيهِ، فَانْصَرَفَ وَلَمْ يَنْظُرْ فِيهِ.
انہیں لازمی امور میں سے ہے کہ مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ بہت زیادہ لوگوں کو اپنے ساتھ داخل کرے یا اپنے ساتھ بہت زیادہ لوگوں کو سوار کرے اور نہ اس شخص کو اپنے ہاں حاضر کرے جس کے حاضر ہونے کی کوئی ضرورت نہیں مگر یہ کہ وہ اہل امانت، خیر خواہ اور صاحب فضل ہوں اور قاضی کے ساتھ بطور معاون کے رہ رہے ہوں تو پھر داخل ہونے میں یا سوار ہونے میں قاضی کے ساتھ کوئی حرج نہیں اور اگر حاجت نہیں اور بغیر حاجت کے وہ قاضی کے ساتھ سوار ہوتے ہو تو پھر اس بیٹھنے والے کا من وہ اپنے آپ کو بڑا سمجھے گا اور بادشاہ کے یہاں اس کا مقام بڑھ جائے گا۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُكْثِرَ الدُّخَالَ عَلَيْهِ وَالرُّكَابَ مَعَهُ وَلَا مَنْ بِحَضْرَتِهِ فِي غَيْرِ حَاجَةٍ كَانَتْ لَهُمْ إلَّا أَنْ يَكُونُوا أَهْلَ أَمَانَةٍ وَنَصِيحَةٍ وَفَضْلٍ فَلَا بَأْسَ بِذَلِكَ، وَإِنْ كَانُوا عَلَى غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ كَبُرَتْ نَفْسُهُ وَعَظُمَ عِنْدَهُ سُلْطَانُهُ.
اور کافی ہے قاضی کے لیے برے آدمی کا حال پہچاننے کے لیے وہ آدمی بغیر کسی ضرورت اور بغیر کسی ظلم کو دور کرنے بغیر کسی جھگڑے کے رفع دفع کرنے کے قاضی کے س؛ تھ ہولے،بلکہ قاضی پر ضروری و حق ہے کہ ایسے شخص کو اپنا مصاحب ہونے سے روکے اس لیے ایسے لوگ قضاۃ کی مصاحبت اس لیے لازم پکڑتے ہیں کہ وہ حیلہ بازی سے لوگوں کے اموال کو کھا سکیں اس لیے کہ وہ لوگوں کو دکھلاتے پھرتے ہیں کہ ان کی قاضی کے یہاں قدر و منزلت ہے تا کہ لوگ انکا سہارا لے قاضی تک پہنچنے کے لیے اور اس طرح وہ نا حق لوگوں کا مال حاصل کر سکیں اسی وجہ سے کہتے ہیں کہ جو قاضی کے ہاں تین مرتبہ آنا جانا کرے بغیر کسی حاجت کے تو یہ اس شخص کی عدالت میں جرح ہوگی کہ وہ برا اور غیر عادل ہے اور قاضی روکے اس شخص کو اپنی دہلیز پر بیٹھنے سے جو بغیر کسی ضرورت کے قاضی دہلیز پر اپنی مجلس سجاتا ہے اس لیے کہ ان دہلیز نشینوں سے بھی لوگوں کے مال کا کھانا اور ان پر حیلہ کرنا لازم آتا ہے اور قاضی اس شخص کی بیٹھک کی بالکل اجازت نہ دے جو قاضی کی مجالست زیب و زینت کے لیے اختیار کرتا ہے یا احکام قضاء کو سیکھنے کے اختیار کرتا اس لیے کہ یہ بھی حیلہ بازی سے کھانے والوں کا طریقہ ہے تا کہ قضاء کے احکام یاد کر کے لوگوں کو بچنے اور بہانہ بازی کی صورتیں بتائیں گے ہاں البتہ قاضی کے ساتھ بٹھایا جائے گا صرف فقہاء کو اور عادل شخصوں کو جن کے مشورے اور شہادت کے قضاۃ محتاج ہوتے ہیں۔ 

وَيَكْفِي الْقَاضِيَ فِي مَعْرِفَتِهِ قُبْحَ حَالِ الرَّجُلِ أَنْ يَصْحَبَهُ فِي غَيْرِ حَاجَةٍ وَلَا دَفْعِ مَظْلِمَةٍ وَلَا خُصُومَةٍ، وَحَقٌّ عَلَيْهِ أَنْ يَمْنَعَهُ مِنْ ذَلِكَ؛ لِأَنَّهُمْ إنَّمَا يَلْزَمُونَ ذَلِكَ لِاسْتِئْكَالِ أَمْوَالِ النَّاسِ؛ لِأَنَّهُمْ يُرُونَ النَّاسَ أَنَّ لَهُمْ عِنْدَ الْقَاضِي مَنْزِلَةً وَلِهَذَا قَالُوا: مَنْ تَرَدَّدَ إلَى الْقَاضِي ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فِي غَيْرِ حَاجَةٍ فَذَلِكَ جُرْحَةٌ فِي عَدَالَتِهِ، وَيَمْنَعُ مَنْ يَجْلِسُ فِي دِهْلِيزِهِ لِغَيْرِ حَاجَةٍ؛ لِأَنَّ فِي ذَلِكَ مَأْكَلَةً لِلنَّاسِ وَحِيلَةً عَلَيْهِمْ، وَلَا يُبِيحُ مَجْلِسَهُ لِمَنْ يُرِيدُ أَنْ يَتَزَيَّنَ فِيهِ لِمُجَالَسَتِهِ أَوْ يَتَعَلَّمَ أَحْكَامَهُ، فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ خُلُقِ الْمُسْتَأْكِلِينَ، وَإِنَّمَا يُجَالِسُهُ الْفُقَهَاءُ وَالْعُدُولُ الَّذِينَ يَحْتَاجُ إلَى فِقْهِهِمْ وَشَهَادَتِهِمْ.

اور انہی لازمی احکام میں سے یہ کہ قاضی کسی شخص کے لیے اپنے یہاں قدر و منزلت نہ دکھائے اس طور پر کہ وہ کسی ایک ہی شخص معین کو تزکیہ، جرح، گواہی یا تحقیق کے لیے طلب کرے کیوں کہ اس میں لوگوں کا اعتقاد بگڑ سکتا ہے قاضی کے بارے میں۔ 

وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَرَى أَنَّ لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مَنْزِلَةً مِثْلَ أَنْ يَدْعُوَ شَخْصًا مُعَيَّنًا لِلتَّزْكِيَةِ وَالتَّجْرِيحِ وَالشَّهَادَةِ وَالْكَشْفِ.

اور انہیں لازمی امور میں سے یہ ہے کہ قاضی لوگوں کے درمیان لوگوں کے لیے اپنے کاموں کو نہ جھکائے اس طور پر کہ جو چاہتا ہے وہ قاضی کے ساتھ کانا پھوسی کر رہا ہے اس لیے کہ اس سے قاضی اپنے اوپر شر عظیم کا دروازہ کھولتا ہے اور اس کا عقیدہ بگڑ جائے گا اہل فضل بری لوگوں کے بارے میں ان باتوں سے جو اھل فضل بری سے متعلق ناحق اس کے کان میں کہیں جائے گی۔
وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي أَنْ يُصْغِيَ بِأُذُنِهِ لِلنَّاسِ فِي النَّاسِ فَيَفْتَحُ عَلَى نَفْسِهِ بِذَلِكَ شَرًّا عَظِيمًا، وَتَفْسُدُ عَقِيدَتُهُ فِي أَهْلِ الْفَضْلِ الْبُرَآءِ مِمَّا قِيلَ فِيهِمْ عِنْدَهُ.
انہیں لازمی امور میں سے یہ بھی ہے کہ مناسب ہے قاضی کے لیے کہ وہ اپنے لیے ایسے شخص کو متعین کرے جو اس کو خبر دے ان باتوں کے بارے میں جو لوگ اس کے احکام، اس کے اخلاق، اس کی سیرت،اس گواہی دینے اور لینے کے سلسلے میں کرتے ہیں اور لوگ جن عیوب یا خوبیوں کے ساتھ قاضی کو متصف کرتے ہیں، ان عیوب و خوبیوں سے قاضی کو با خبر کرے، پس اگر وہ معین شخص قاضی کو کسی ایسی چیز کی خبر دے جو قاضی کے متعلق لوگ کہتے ہیں تو قاضی کو چاہیے اس چیز کی چھان بین کرے اگر لوگ صحیح کہتے ہیں تو اس عیب کو قاضی دور کرے اور اگر غلط کہتے تو قاضی ان لوگوں کی بدگمانی دور کرے،اور اگر کسی خوبی کی خبر دے کس کے متعلق لوگ باتیں کرتے ہیں تو اس خوب میں مزید نکھرنے کی کوشش کی جائے، پس یہ ( مخبر کو متعین کرنا) ایسی چیز ہے جس سے قاضی کے معاملات پختہ ہو جائیں گے اور قاضی کے منصب کو مزید تقویت ملے گی۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَّخِذَ مَنْ يُخْبِرُهُ بِمَا يَقُولُ النَّاسُ فِي أَحْكَامِهِ وَأَخْلَاقِهِ وَسِيرَتِهِ وَشُهُودِهِ، فَإِذَا أَخْبَرَهُ بِشَيْءٍ فَحَصَ عَنْهُ فَإِنَّ فِي ذَلِكَ قُوَّةً عَلَى أَمْرِهِ.
[فَصْل فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِمَجْلِسِ الْقَاضِي وَمَسْكَنِهِ]
تیسری فصل ان امور کے بیان میں جو قاضی کی مجلس اور اس کے مسکن کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں۔ 
الْفَصْلُ الثَّالِثُ: فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِمَجْلِسِهِ وَمَسْكَنِهِ۔ 
اور انہی لازمی امور میں سے ہے کہ قاضی کہاں بیٹھے اور رہے گا چناں چہ پہلا امر یہ ہے کہ قاضی اپنی بیٹھک   قبلہ کی رو بٹھائے اس لیے کہ خلفائے راشدین مسجد میں بیٹھتے تھے معاملات کو فیصل کرنے کے لیے اور اس لیے بھی کہ مسجد میں فیصلہ کرنا یہ قاضی سے تہمت کو زیادہ دور کرنے والا ہے  اور لوگوں کے لیے بھی اس میں قاضی کے پاس آنے جانے آسانی ہے، پس زیادہ لائق ہوگا کہ کسی ایک سے والی محجوب نہ رہے یعنی ایسی جگہ اپنی مجلس نہ بٹھائے کہ کو آنے میں دشواری ہو اور بہرحال مشرک تو وہ مسجد میں داخل ہو سکتا ہے اس لیے کہ اس کے اعتقاد میں نجاست ہے اس کے ظاہری بدن پر نجاست نہیں کہ وہ زمین کو لگے اور ناپاک ہو جائے ایسی تو کوئی بات نہیں ہے اس لیے کافر بھی مسجد میں داخل ہو سکتا ہے کیونکہ اس کے ظاہری بدن پر کوئی نجاست نہیں۔ 
وَذَلِكَ أُمُورٌ مِنْهَا: أَنْ يَجْلِسَ لِلْحُكْمِ فِي الْمَسْجِدِ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ؛ لِأَنَّ الْخُلَفَاءَ الرَّاشِدِينَ كَانُوا يَجْلِسُونَ فِي الْمَسْجِدِ لِفَصْلِ الْخُصُومَاتِ؛ وَلِأَنَّ الْقَضَاءَ فِي الْمَسْجِدِ أَنْفَى لِلتُّهْمَةِ عَنْ الْقَاضِي وَأَسْهَلُ لِلنَّاسِ لِلدُّخُولِ عَلَيْهِ، فَأَجْدَرُ أَنْ لَا يُحْجَبَ عَنْهُ أَحَدٌ وَأَمَّا الْمُشْرِكُ فَالنَّجَاسَةُ فِي اعْتِقَادِهِ لَا عَلَى ظَاهِرِ بَدَنِهِ فَلَا يُصِيبُ الْأَرْضَ مِنْهُ شَيْءٌ.
اور مسلمان حائضہ عورت! تو ظاہر ہے وہ حالت حیض میں مسجد میں داخل ہونے رکے گی اور وہ قاضی کو خبر دے گی کہ وہ معذور ہے اور جب حائضہ قاضی کو خبر دے تو قاضی مکلف نہیں بنائے گا اس کو مسجد میں داخل ہونے کا البتہ قاضی اس کی طرف باہر نکلے گا یا قاضی مسجد کے دروازے پر آئے گا اور پھر ایک طرف نکل کر یا مسجد کے دروازے پر آ کر عورت کے معاملے میں غور و فکر کرے گا یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اگر کوئی معاملہ کسی جانور کے سلسلے میں ہو تو ظاہر ہے کہ جانور کو مسجد میں حاضر کرنا ممکن نہیں ہے ہاں البتہ قاضی دعوی اور گواہوں کی گواہی سننے کے لیے مسجد سے باہر نکلے گا  یا مسجد کے دروازے پر دعویٰ اور گواہوں کو سنے گا اور بوقت ضرورت جانور کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرے گا اسی طرح عورت کے معاملے میں بھی اگر عورت حائضہ ہو تو قاضی خود نکل کر عورت کے پاس جائے یا مسجد کے دروازے پر آئے اور عورت کے معاملہ خارج مسجد یا دروازہ پر سماعت کرے گا۔ 
وَالْحَائِضُ مُسْلِمَةٌ فَالظَّاهِرُ أَنَّهَا تَحْتَرِزُ عَنْ دُخُولِ الْمَسْجِدِ فِي حَالَةِ الْحَيْضِ وَتُخْبِرُ أَنَّهَا حَائِضٌ، فَإِذَا أَخْبَرَتْ الْقَاضِيَ لَا يُكَلِّفُهَا دُخُولَ الْمَسْجِدِ، لَكِنْ يَخْرُجُ إلَيْهَا أَوْ يَأْتِي إلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَيَنْظُرُ فِي خُصُومَتِهَا، كَمَا لَوْ وَقَعَتْ الْخُصُومَةُ فِي الدَّابَّةِ فَإِنَّهُ لَا يُمْكِنُ إحْضَارُهَا فِي الْمَسْجِدِ لَكِنْ يَخْرُجُ الْقَاضِي لِسَمَاعِ الدَّعْوَى وَالشَّهَادَةِ مِنْ الشُّهُودِ وَالْإِشَارَةِ إلَيْهَا، فَكَذَا هَذَا.
حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں مناسب ہے قاضی کے لیے کہ وہ جامع مسجد میں فیصلوں کے حل کے لیے بیٹھے اس لیے کہ فریقین میں کبھی غرباء، کبھی شہر والے بھی ہو سکتے ہیں اور جامع مسجد چونکہ مشہور ترین جگہ ہوتی ہے اور جس کی لوکیشن اور جائے وقوع کسی سے پوشیدہ نہیں ہوتی ہے چناں چہ قاضی کا جامع مسجد میں بیٹھنا زیادہ بہتر تو ہے لیکن اس کی بھی گنجائش ہے کہ قاضی کسی گھر میں اپنی بیٹھک سجائے اور لوگوں کو اپنے یہاں داخل ہونے کی اجازت دے اور قاضی اپنے پاس کسی کو داخل ہونے سے نہ روکے اور اپنے ساتھ بٹھائے گا گھر میں اس شخص کو جس کو مسجد میں اپنے ساتھ بٹھاتا تھا اس لیے کہ اگر قاضی گھر میں تنہا بیٹھے گا تو پھر کسی کی طرف مائل ہونے کی تہمت کا خطرہ ہے لوگ کچھ بھی الزام لگا سکتے اور جب قاضی مسجد میں داخل ہو تو کیا  قاضی لوگوں کو سلام کرے گا؟ تحقیق اس بارے میں کہا گیا ہے کہ اگر قاضی مسجد میں داخل ہوتے لوگوں کو سلام کرے تو کوئی حرج نہیں اور اگر سلام کرنا چھوڑ دے تو بھی گنجائش ہے تا کہ قاضی کی ہیبت لوگوں پر برقرار رہے اور اس کا وقار مزید بڑھے جاؤے اسی سے یہ رسم جاری ہوئی ہے کہ والی اور امراء جب داخل ہوتے ہیں تو سلام نہیں کرتے تاکہ ان کی ہیبت باقی رہے اور ان کا وقار زیادہ ہو جائے اسی طرف امام خصاف رحمہ اللہ تعالی کا رجحان ہے 
وَقَالَ أَبُو حَنِيفَةَ (- رَحِمَهُ اللَّهُ -) : يَنْبَغِي لِلْقَاضِي أَنْ يَجْلِسَ لِلْحُكْمِ فِي الْمَسْجِدِ الْجَامِعِ؛ لِأَنَّ فِي الْخُصُومِ الْغُرَبَاءَ وَأَهْلَ الْبَلْدَةِ، وَالْمَسْجِدُ الْجَامِعُ أَشْهَرُ الْمَوَاضِعِ وَلَا يَخْفَى ذَلِكَ عَنْ أَحَدٍ. وَلَا بَأْسَ أَنْ يَجْلِسَ فِي بَيْتِهِ وَيَأْذَنَ لِلنَّاسِ، وَلَا يَمْنَعَ أَحَدًا مِنْ الدُّخُولِ عَلَيْهِ، وَيُجْلِسَ مَعَهُ مَنْ كَانَ يَجْلِسُ مَعَهُ فِي الْمَسْجِدِ؛ لِأَنَّهُ لَوْ جَلَسَ وَحْدَهُ تَتَمَكَّنُ فِيهِ تُهْمَةُ الْمِيلِ. وَإِذَا دَخَلَ الْقَاضِي الْمَسْجِدَ هَلْ يُسَلِّمُ  عَلَى النَّاسِ؟ قِيلَ إنْ سَلَّمَ فَلَا بَأْسَ، وَإِنْ تَرَكَ وَسِعَهُ لِتَبْقَى الْهَيْبَةُ وَتَكْثُرَ الْحِشْمَةُ، وَبِهَذَا جَرَى الرَّسْمُ أَنَّ الْوُلَاةَ وَالْأُمَرَاءَ إذَا دَخَلُوا لَا يُسَلِّمُونَ لِتَبْقَى الْهَيْبَةُ وَتَكْثُرَ الْحِشْمَةُ، وَإِلَى هَذَا مَالَ الْخَصَّاف۔ 
بعض حضرات کا کہنا ہے کہ قاضی پر لازم ہے کہ وہ لوگ کو سلام کرے اس لیے کہ سلام کرنا سنت متبعہ ہے اس لیے قاضی کے لیے گنجائش نہیں کہ سنت کو عمل کے طور پر چھوڑ در چناں چہ سلام چھوڑنے کی بالکل گنجائش نہیں، ہاں البتہ جب قاضی مسجد کے کونے میں بیٹھ جاؤے فیصلے اور حکم کے لیے تو پھر قاضی کسی فریق پر سلام نہیں کرے گا اور نہ فریقین قاضی کو سلام کریں گے محیط برہانی میں یہی مسئلہ مذکور ہے۔ 

وَقِيلَ: عَلَيْهِ أَنْ يُسَلِّمَ وَلَا يَسَعُهُ التَّرْكُ، وَهَكَذَا الْوَالِي وَالْأَمِيرُ إذَا دَخَلَ عَلَيْهِ أَنْ يُسَلِّمَ؛ لِأَنَّهُ سُنَّةٌ، وَلَا يَسَعُهُ تَرْكُ السُّنَّةِ لِلْعَمَلِ فَأَمَّا إذَا جَلَسَ نَاحِيَةً مِنْ الْمَسْجِدِ لِلْفَصْلِ وَالْحُكْمِ لَا يُسَلِّمُ عَلَى الْخُصُومِ وَلَا يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ " اُنْظُرْ الْمُحِيطَ

Monday, July 29, 2024

d 18

مدعی و مدعی علیہ کی یہ تعریف بھی کی گئی ہے کہ مدعی وہ ہے جو اگر دعوی ترک کرے تو معاملہ ہی ترک کر دیا جائے گا یعنی جھگڑا ہی اس کے ترک دعوی سے منقطع و رفع دفع کیا جائے گا اور مدعی علیہ وہ ہے کہ اگر وہ دعوی ترک کرے تو اسے نہ چھوڑا جائے گا اور معاملے کو ختم نہ کیا جائے گا بلکہ اس کو مجبور کیا جائے گا جوابِ دعوی پر۔ 
حضرت امام قدوری نے اپنے مختصر  القدوری میں مدعی و مدعی علیہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ مدعی وہ ہے کہ اگر وہ جھگڑے کو چھوڑ دے تو اسے اس معاملے پر مجبور نہ کیا جائے گا بلکہ معاملہ ہی اٹھا دیا جائے گا اور مدعی علیہ وہ ہے کہ اگر وہ جھگڑے کو چھوڑنا چاہے یہ کہہ کر کہ چھوڑ دیجئے اب کیا لینا دینا تو اسے چھوڑا نہ جائے گا بلکہ اس کو اس معاملے پر مجبور کیا جائے گا کہ وہ قسم کھائے یا محکوم بہ مدعی کے حوالہ کرے۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ مدعی اس کو کہتے ہیں جو  ایسے پوشیدہ امر کا قصد کرے جس کے ذریعے ایسے امر جلی کو زائل کرنا چاہتا ہو جو امر واضح ہو اور ظاہر کےوافق ہو چناں چہ علامہ کاسانی کے سسر صاحب تحفۃ الفقہاء نے لکھا ہے تحفہ میں  مدعی و مدعی علیہ کی تعریف بیان کرتے ہوئے کہ مدعی وہ ہے جو اثبات ملک و اثبات حق کا محتاج ہو اور مدعی علیہ وہ ہے جو اثبات ملکیت و اثبات حق کی نفی کرے اور اپنے آپ سے دفاع کرے، چناں چہ دو طرح کی تعریفیں مدعی و مدعی علیہ کی ذکر کئی گئیں،نمبر ایک کہ مدعی اس کو کہتے ہیں جو اگر دعوی ترک کرے تو معاملہ ہی خارج کیا جائے گا کیونکہ معاملہ اس کے دعوی کی وجہ سے ہی دائر نمبر ہوا ہے اگر وہ چاہے تو ترک دعوی سے معاملے کو ختم بھی کرا سکتا ہے اس کے برخلاف اگر مدعی علیہ دعوی سے بے رغبتی یا دعوی سے کنارہ ہونا چاہے تو معاملہ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اس کو جواب دعوی و رفع الزام کے لیے ضرور طلب کیا جائے گا،چناں چہ مدعی علیہ کے ترک دعوی سے دعوی کو چھوڑ نہیں  جائے گا اوع معاملے کو ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو مجبور کیا جائے گا حاکری پر، یہی تعریف دوسرے انداز میں مختصر القدوری میں حضرت امام قدوری نے کی کہ مدعی اگر دعوے کو ترک کرے تو اس کو اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا جبکہ مدعی علیہ کے ترک دعوی سے اس کو دعوی پر مجبور کیا جائے گا نفی دعوی پر اور دوسری تعریف یوں کی گئی کہ مدعی وہ ہے جو ایک امر خفی کے اثبات کا ارادہ کرے جس امر خفی کے ذریعہ وہ چاہتا ہو ایک امر جلی کو زائل کرنا، اسی کو صاحب تحفۃ الفقہاء نے اپنے الفاظ میں یوں ذکر کیا کہ مدعی وہ ہے جو اثبات ملکیت و اثبات حق کا محتاج ہو اور مدعی علیہ وہ ہے جو اثبات ملکیت یا اثبات حق کی نفی کرے اور اس کو اپنے آپ سے دور کرے۔ 
وَقِيلَ الْمُدَّعِي مَنْ إذَا تَرَكَ الدَّعْوَى يُتْرَكُ: يَعْنِي تَنْقَطِعُ الْخُصُومَةُ بِتَرْكِهِ، وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ مِنْ إذَا تَرَكَ الدَّعْوَى لَمْ يُتْرَكْ. وَذَكَرَ الْقُدُورِيُّ فِي مُخْتَصَرِهِ: الْمُدَّعِي مَنْ إذَا تَرَكَ الْخُصُومَةَ لَا يُجْبَرُ عَلَيْهَا، وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ مَنْ إذَا تَرَكَهَا يُجْبَرُ عَلَيْهَا. وَقِيلَ الْمُدَّعِي مَنْ يَرُومُ إثْبَاتَ أَمْرٍ خَفِيٍّ يُرِيدُ بِهِ إزَالَةَ أَمْرٍ جَلِيٍّ، وَذَكَرَ فِي التُّحْفَةِ: الْمُدَّعِي مَنْ يَلْتَمِسُ إثْبَاتَ مِلْكٍ أَوْ حَقٍّ، وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ مَنْ يَنْفِيهِ وَيُدَافِعُهُ.
اس کے بعد مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ  مناسب نہیں کسی فقیہ کے لیے کہ وہ ہر پیش آمدہ مسئلے میں انہی دو تعریفوں پر اعتماد کرے جن کی تعریفوں کے اختلاف کو ہم نے ذکر کیا بلکہ کبھی کبھی ایسا ہو سکتا ہے کہ ایک تعریف سے جب ہم دیکھیں تو ایک آدمی مدعی بن رہا ہے لیکن جب دوسری تعریف یا دوسرے زاویہ سے دیکھتے ہیں تو وہی جو پہلے مدعی بنا تھا اب وہ مدعی علیہ بن رہا ہے اور دوسرا مدعی، اس لیے محض ان دو تعریفوں کے اختلاف پر اعتماد کرکے قاضی مطمئن ہو کر فیصلہ نہ کرے بلکہ یہاں ایک اور اصول پیش نظر رہنا چاہئے جو اصول ان مذکورہ دونوں اصول سے زیادہ موکد اور معتبر ہے اور زیادہ نفع بخش ہے اور اصول ہے  استحاب حال کہ جب بھی دو فریق قاضی کے سامنے پیش ہو تو مدعی و مدعی علیہ کو پہچاننے کے لیے مذکورہ دو تعریفوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور ایک چیز ( استصحاب حال ) جو اصلِ موکد، معتبر اور انفع ہے اس سے کام لینا چاہیے، اس لیے کہ استحاب حال وہ ایسا اصول ہے جس پر اعتماد کیا گیا ہے غور و فکر کا تقاضا کرنے والی جگہوں میں یعنی جہاں غور و فکر کی ضرورت پڑتی ہے وہاں استصحاب حال کا اصول ضرور زیر نظر رکھا جاتا ہے اور کوئی تردد نہیں ہوتا ان اصولوں میں اور نہ کسی کو کوئی اشکال ہوتا جب ایک حال دوسرے حال کے معارض نہ ہو یعنی معاملہ آیا  دونوں اصولوں کو سامنے رکھا گیا ایک مدعی بنا ایک مدعی علیہ کیوں کہ ایک استصحاب حال دوسرے کے موافق ہے اس لیے جو مدعی بن رہا ہے وہ دونوں تعریفوں اور دونوں زاویوں سے مدعی بن رہا ہے اور جو مدعی علیہ بن رہا ہے وہ دونوں تعریفوں سے مدعی علیہ بن رہا ہے تو ایسی جگہ میں مدعی و مدعی علیہ کے پہچاننے میں کوئی تردد و کوئی اشکال و دشواری نہیں ہوتی ہاں جہاں ایک استصحاب حال دوسرے کے مخالف ہوتا ہے وہ مدعی و مدعی علیہ کو پہچاننے میں دشواری ہوتی ہے کیوں ایک تعریف سے جو مدعی بنتا ہے وہی دوسری تعریف سے مدعی علیہ بنتا ہے اب کس کو مدعی اور کس کو مدعی علیہ بنائے یہ بڑا کار درد مسئلہ ہے تو ایسی جگہ میں مذکورہ دونوں اصولوں کو سامنے رکھتے ہوئے استصحاب حال کو دیکھنا پڑتا ہے،اسی کو مصنف نے فرمایا کہ کبھی کبھی دو حال ٹکرتے ہیں، ایک فریق کا استصحاب حال استساب یعنی اصلی حالت دوسرے فریق کے استصحاب حال کے متضاد و خلاف ہوتی ہے بس یہاں مشکل واقع ہو جاتی ہے اور پھر ان دو مذکورہ تعریفوں کے بعد استصحاب حال کو بھی دیکھنا پڑتا ہے،چنانچہ اہل نظر ائمہ نے اختلاف کیا ہے اس جگہ مدعی علیہ سے مدعی کی کس طرح تمییز کی جائے گی مدعی کو مدعی علیہ سے کس طرح پہچانا جائے گا اور ان میں سے ہر ایک محتاج ہوا جاتا ہے اس حالت کی ترجیح کا جو استصحاب کے موافق ہو۔
وَمَا ذَكَرْنَا مِنْ اخْتِلَافِ الْحَدَّيْنِ الْمَذْكُورَيْنِ لَا يَنْبَغِي أَنْ يَعْتَمِدَ الْفَقِيهُ عَلَيْهِ فِي كُلِّ مَسْأَلَةٍ تَعْرِضُ، بَلْ هَا هُنَا مَا هُوَ آكَدُ وَاعْتِبَارُهُ أَنْفَعُ مِمَّا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ، فَإِنَّهَا هِيَ الْأَصْلُ الْمُعْتَمَدُ عَلَيْهِ فِي مُقْتَضَى النَّظَرِ، وَلَا تَرَدُّدَ فِي ذَلِكَ وَلَا إشْكَالَ إذَا لَمْ يُعَارِضْ الْحَالُ الْحَالَ، وَلَكِنْ قَدْ يَعْتَرِضُ حَالَانِ، اسْتِصْحَابُ أَحَدِهِمَا يُضَادُّ اسْتِصْحَابَ الْحَالِ الْآخَرِ، فَهَاهُنَا يَقَعُ الْإِشْكَالُ فَيَخْتَلِفُ أَهْلُ النَّظَرِ مِنْ الْأَئِمَّةِ فِي تَمْيِيزِ الْمُدَّعِي مِنْ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ وَيَفْتَقِرُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إلَى تَرْجِيحِ الْحَالَةِ الَّتِي اسْتَصْحَبَهَا.
اب یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ علیہ اس کی مثال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  قابض نے دافع سے کچھ دنانیر لیے، اس کے بعد دافع اپنے دئیے ہوئے دنانیر کا قابض سے مطالبہ کرتا ہے جبکہ قابض کہہ رہا ہے اپنے گمان کے مطابق کہ میں نے تو ان دنانیر پر قبضہ کیا ہے جو میں دافع کو پہلے قرض دے چکا ہوں، اب یہاں مسئلہ پیدا ہو گیا، جب ہم پہلی تعریف (المدعی مَنْ لَوْ سَكَتَ لَتُرِكَ و سُكُوتَهِ)کو سامنے رکھتے ہیں اور مصنف کی دی ہوئی مثال کو دیکھتے ہیں تو دافع مدعی بنتا ہے کیوں کہ اگر مدعی دعوی چھوڑ دے تو معاملہ کو ختم کرنا اور خارج کرنا درست ہوگا جبکہ اگر قابض معاملہ کو چھوڑنا چاہئے تو معاملہ کو اٹھانا درست نہ ہوگا (وَالْقَابِضُ لَوْ سَكَتَ عَنْ جَوَابِ الطَّالِبِ مَا تُرِكَ وَسُكُوتَهُ) اس لیے دافع کا مدعی بننا پہلی تعریف کے مطابق صحیح ہے،جب دوسرے تعریف ( وَهُوَ دَعْوَى الْأَمْرِ الْجَلِيِّ أَوْ الْخَفِيِّ ) کو سامنے رکھ کر دیکھتے ہیں تو قابض مدعی بنتا ہے اور دافع مدعی علیہ کیوں قابض امر خفی ( کہ میں نے آپ سے جو دنانیر لیے ہیں وہ آپ کے ذمہ میرا دیا ہوا قرض تھا ) کے ذریعہ امر جلی ( الاصل برأۃ الذمۃ ”القواعد الفقہیہ“کہ اصل ہر شخص کا برئ الذمۃ ہونا ہے اس لیے دافع بھی پہلے سے کسی قرض سے بری ہوگا ) ککو زائل ختم کر رہا ہے اس لیے قابض مدعی اور دافع مدعی علیہ ہوا، اسی کو مصنف نے فرمایا کہ جب ہم نے قابض کے اس قرض سے دافع کا برئ الذمۃ ہونا پر استصحاب حال کو پایا تو ہم نے دافع کی تصدیق کر کے اس کو مدعی علیہ بنایا اس قرض کا جس کی اصل نہ ہونا ہے،اور اس لیے بھی کہ ظاہری حال اسی کے موافق ہے والیمین علی من وافق الظاہر والبینۃ علی من یدعی خلاف الظاہر اور یہاں قابض ظاہر و استصحاب حال کے خلاف دعویٰ کررہا کیوں کہ ہر شخص کا برئ الذمۃ ہونا استصحاب حال کا بھی تقاضا ہے اور ظاہری حالت کا بھی، اس طرح اسی تعریف کے دورسے زاویہ سے دیکھتے ہیں تو لگتا ہے قابض بھی مدعی علیہ ہے  کیوں دافع جو اس کو کہتا ہے میرا قرض چکتا  کیجئے دافع کا یہ دعویٰ بھی ظاہر و استصحاب کے خلاف ہے اس لیے کہ قابل کی بھی تو اصل برئ الذمۃ ہونا ہے تو اس حساب سے دافع مدعی و قابض مدعی علیہ اب دیکھ لیجئے کتنی دشواری ہے پہلے تعریف سے دافع مدعی و قابض مدعی علیہ دوسری تعریف کے ایک زاویہ سے بھی دافع مدعی و قابض مدعی علیہ اور دوسری تعریف کے دوسرے زاویہ سے قابض مدعی دافع مدعی علیہ ثابت ہو رہا ہے انہیں احوال و اصولوں کے تقاضے کے وقت اشکالات در پیش ہوتے ہیں دشواریاں حائل ہوجاتی ہیں کہ کس کو مدعی و کس کو مدعی علیہ قرار دیا جائے، تو ایسی حالت میں ایک استصحاب کو دوسرے استصحاب پر ترجیح دینے کا محتاج ہوا جاتا ہے، اور اسی استصحاب حال سے ایسے مسئلہ کی عقدہ کشائی ممکن ہے۔ 
مِثَالُهُ: رَجُلٌ قَبَضَ مِنْ رَجُلٍ دَنَانِيرَ، فَلَمَّا طَالَبَهُ بِهَا دَافِعُهَا زَعَمَ أَنَّهُ إنَّمَا قَبَضَهَا عَنْ سَلَفٍ كَانَ أَسْلَفَهُ لِدَافِعِهَا.وَقَالَ دَافِعُهَا: بَلْ أَنَا أَسْلَفْتُك إيَّاهَا وَمَا كُنْتُ أَنْتَ أَسْلَفْتَنِي شَيْئًا قَطُّ، فَإِنْ اعْتَبَرْنَا الْفَرْقَ بَيْنَ الْمُدَّعِي وَالْمُدَّعَى عَلَيْهِ بِأَنَّ الْمُدَّعِيَ مَنْ لَوْ سَكَتَ لَتُرِكَ لِسُكُوتِهِ وَجَدْنَا هَا هُنَا الدَّافِعَ هُوَ الْمُدَّعِي؛ لِأَنَّهُ لَوْ سَكَتَ لَتُرِكَ وَسُكُوتُهُ، وَالْقَابِضُ لَوْ سَكَتَ عَنْ جَوَابِ الطَّالِبِ مَا تُرِكَ وَسُكُوتُهُ، وَإِنْ بَنَيْنَا عَلَى الْأَصْلِ الْآخَرِ وَهُوَ دَعْوَى الْأَمْرِ الْجَلِيِّ أَوْ الْخَفِيِّ فَإِنَّا إنْ اسْتَصْحَبْنَا كَوْنَ الدَّافِعِ بَرِيءَ الذِّمَّةِ مِنْ سَلَفِ هَذَا الْقَابِضِ صَدَّقْنَا الدَّافِعَ وَجَعَلْنَاهُ هُوَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ السَّلَفُ الَّذِي الْأَصْلُ عَدَمُهُ، وَإِنْ اعْتَبَرْنَا حَالَ الْقَابِضِ هُوَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ فَمَا يَعْرِضُ الْإِشْكَالُ إلَّا عِنْدَ تَصَادُمِ مُقْتَضَى الْأَحْوَالِ فَيُفْتَقَرُ إلَى تَرْجِيحِ اسْتِصْحَابِ أَحَدِ الْحَالَيْنِ عَلَى الْآخَرِ.
یہاں سے قاضی شریح اپنا واقعہ ذکر کر رہے ہیں کہ جب وہ قاضی بنائے گئے، ولایت قضاء کی بھاگ ڈور ان کے ہاتھ آئی، فرماتے ہیں میرا عندیہ تھا کہ میں کبھی فریقین کے معاملے کی معرفت سے عاجز نہیں آؤں گا یعنی کون سا مشکل ہے مدعی و مدعی علیہ کو پہچانا پھر فرماتے ہیں کہ جب پہلا  معاملہ میرے پاس فریقین لے کے آئے اور اپنا معاملہ مجھ پر پیش کیا تو تب آنکھیں کھلیں کہ جیسا میں آسان سمجھ رہا تھا وہ تو بڑی خار زار وادی اور بہت پیچیدہ بات ہے مصنف فرماتے ہیں میں کہتا ہوں کہ قاضی شریح نے اسی کی طرف اشارہ کیا ہے جس پر ہم نے آپ کو متنبہ کیا۔ 
وَقَدْ ذَكَرَ شُرَيْحٌ الْقَاضِي أَنَّهُ قَالَ: وُلِّيتُ الْقَضَاءَ وَعِنْدِي أَنِّي لَا أَعْجِزُ عَنْ مَعْرِفَةِ مَا يُتَخَاصَمُ إلَيَّ فِيهِ، فَأَوَّلُ مَا ارْتَفَعَ إلَيَّ خَصْمَانِ أَشْكَلَ عَلَيَّ أَمْرُهُمَا مَنْ الْمُدَّعِي وَمَنْ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ قُلْت: وَلَعَلَّهُ أَشَارَ إلَى هَذَا الَّذِي نَبَّهْنَا عَلَيْهِ

Sunday, July 28, 2024

d 17

[فَصْلٌ فِيمَا يَدُلُّ عَلَى الْحُكْمِ]
یہ فصل ان چیزوں کے بیان میں جو حکم پر دلالت کرتی ہیں وہ چیز جو حکم پر دلالت کرتی ہیں۔ 
جان لینا چاہیے جس طرح حکم پر قول دلالت کرتا ہے بایں طور کہ قاضی کہے کہ میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس طرح حکم دیا، اسی طرح قاضی کا فعل بھی حکم پر دلالت کرتا ہے اس طور کہ ایک قاضی دوسرے قاضی کو لکھ کر بھیجے کہ میں فلاں معاملہ میں اس طرح فیصلہ کیا ہے، تو یہ قاضی کی کتابت بھی حکم قاضی پر دلالت کرتی ہے، جیسا کہ فقہ کے باب کتاب القاضی الی القاضی کے باب میں اس کی صراحت کئی ہوئی ہے، اسی طرح جب قاضی سے پوچھا گیا کیا آپ نے فلاں معاملہ ایسا فیصلہ کیا ہے تو قاضی نے بغیر کچھ لکھے، بتائے سر ہلا کر ہاں کا اشارہ کر دیا یا سر تو نہیں ہلایا بلکہ کوئی ایسا اشارہ کیا جو دلالت کر رہا ہو یا جس اشارہ سے سمجھا جا رہا ہو کہ اس نے ایسا ہی حکم دیا ہے جیسا پوچھا گیا، یا قاضی نے اپنے ہاتھ سے حکم لکھا اور دو گواہوں کو بلا کہا کہ میرے اس لکھے مضمون پر گواہ رہو، تو اس طرح کے تمام اقوال و افعال، کتابات و اشارات من جانب قاضی صدور حکم دلالت کرتے ہیں۔ 

فِيمَا يَدُلُّ عَلَى الْحُكْمِ اعْلَمْ: أَنَّهُ كَمَا يَدُلُّ الْقَوْلُ عَلَى الْحُكْمِ فِي قَوْلِ الْحَاكِمِ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي حَكَمْت بِكَذَا. فَكَذَا الْفِعْلُ يَدُلُّ عَلَى الْحُكْمِ أَيْضًا، وَذَلِكَ إذَا كَتَبَ الْحَاكِمُ إلَى حَاكِمٍ آخَرَ: إنِّي قَدْ حَكَمْتُ بِكَذَا فَهَذِهِ الْكِتَابَةُ تَدُلُّ عَلَى الْحُكْمِ كَمَا هُوَ مَشْرُوحٌ فِي كِتَابِ الْقَاضِي إلَى الْقَاضِي.وَكَذَلِكَ لَوْ سُئِلَ هَلْ حَكَمْتَ بِكَذَا فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا يَدُلُّ وَيُفْهِمُ أَنَّهُ حَكَمَ بِهِ، وَكَذَلِكَ لَوْ كَتَبَ الْحُكْمَ بِيَدِهِ وَقَالَ: اشْهَدُوا عَلَيَّ بِمَضْمُونِهِ، فَجَمِيعُ ذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى صُدُورِ الْحُكْمِ، 
اس کا سبب کہ قاضی کا قول و فعل اشارہ و کتابت بھی حکم ہے یہ کہ قاضی کا حکم ایک امر نفسی ہے نہ کہ امر لسانی کیوں کہ زبان تو دل کی ترجمان ہے اور اسی طرح اشارہ کتابت یا قاضی کا فعل یہ اسی امر نفسی پر دلالت کرنے والے ہیں گویا امر نفسی مدلول ہے اور قول، فعل اشارہ اور کتابت یہ تمام چیزیں اسی مدلول پر دال ہیں یا یوں کہئے امر نفسی علت ہے اور قول، فعل وغیرہ اس کی علامت ہے اور علامت سے علت کو سمجھنا دلیل لمی ہے،چنانچہ اسی لیے کبھی کبھی قاضی خبر دیتا ہے اپنے حکم کی قول سے، کبھی خبر دیتا ہے فعل سے، کبھی خبر دیتا ہے اشارے سے، پس یہ قول، فعل، اشارے اور کتابت سے خبر دینا یہ دلالت کرتا ہے اس پر کہ حکم قول، فعل، کتابت اور اشارہ کے علاوہ کوئی اور چیز ہے اور وہی چیز امر نفسی ہے چنانچہ یہ تمام (قول و فعل وغیرہ) اسی حکم ( نفس الامر)پر دلالت کرتی ہیں جس طرح وہ تمام دلالت کرتی ہیں جو کہ نفس کے ساتھ قائم ہوتی ہے جیسے احکام، اخبار اور اس کے علاوہ چیزیں وہ بھی امر نفسی پر دلالت کرتی ہیں اسی طرح یہ چیزیں بھی امر نفسی پر دلالت کرتی ہے۔ 
وَسَبَبُ ذَلِكَ أَنَّ حُكْمَ الْحَاكِمِ أَمْرٌ نَفْسَانِيٌّ لَا لِسَانِيٌّ؛ لِأَنَّهُ تَارَةً يُخْبِرُ عَنْهُ بِالْقَوْلِ وَتَارَةً بِالْفِعْلِ وَتَارَةً بِالْإِشَارَةِ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّ الْحُكْمَ غَيْرُ قَوْلِهِ وَكِتَابَتِهِ وَإِشَارَتِهِ، وَإِنَّمَا هَذِهِ الْأُمُورُ دَالَّةٌ عَلَى الْحُكْمِ كَسَائِرِ مَا يَقُومُ بِالنَّفْسِ مِنْ الْأَحْكَامِ وَالْأَخْبَارِ وَغَيْرِهِمَا.

(فَصْلٌ) :
اب مصنف پر رحمتہ اللہ علیہ یہاں سے دو دلیلیں بیان کر رہے ہیں اس بات پر کہ حکم اصل میں امر نفسی کے ساتھ قائم ہے جس کا تعلق دل کے ساتھ ہے اور زبان اسی امر نفسی کی ترجمان ہے اسی طرح اشارہ، کتابت اسی مدلول پر دلالت کرتے ہیں اور اسی علت کی علامت ہیں،
پہلی دلیل یہ ہے کہ انشاء حکم کبھی کبھی ملا ہوا ہوتا ہے اس کے ساتھ جس پر انشاء حکم دلالت کرتا ہے یا یوں کہئے کہ کبھی کبھی علت و علامت ایک وقت میں وجود پاتی ہے یا کبھی کبھی دال و مدلول ایک ساتھ پائے جاتے ہیں، یعنی قاضی کے دل میں جو خیال ( حکم سمجھ) آیا اس نے اسی وقت زبان سے اس حکم قولاً بیان کیا گویا کہ جو امر نفسی میں تھا اس کا اظہار جب زبان سے اسی وقت ہوا گویا حکم ( قول و فعل وغیرہ) مل اس کے ساتھ جس ( نفس الامر) پر وہ دلالت کرتا تھا چنانچہ انشاء حکم موافق ہوگا اس پر گواہ بنانے کے وقت کو یعنی جب حکم دیا تب ہی گواہ بھی بنائے اپنے حکم پر اور کبھی کبھی انشاء حکم( قول، فعل،وغیرہ) جدا ہوتا ہے سال و سال جدا ہوتا جس ( نفس الامر) پر وہ دلالت کرتا ہے اس طور پر کہ قاضی نے معاملہ سماعت کیا اور والی کے دل میں اس معاملے کا حکم جم گیا کہ طلاق ہونی چاہئے لیکن قاضی نے قول و فعل سے کچھ نہیں کہا نہ ہی گواہ قائم کیے تو اگرچہ قاضی نے نفس الامر میں حکم دیا ہے لیکن چونکہ گواہ نہیں بنائے ہیں اس لیے ابھی اس حکم کا اثر ظاہر نہیں ہوا اب قاضی کئی سالوں کے بعد گواہوں کو بلا کر کہہ رہا ہے کہ فلاں معاملہ آیا تھا اس میں میں نے یہ فیصلہ کیا ہے تم گواہ رہو اگرچہ حکم بہت سالوں پہلے پایا گیا ہے یعنی قاضی کے دل میں لیکن یہ گواہ اس پر آج بنا رہا ہے تو اس بات سے ظاہر ہوا کہ حکم وہ امر نفسی ہوتا ہے اور ح۔ شرعی نفس الامر میں قائم ہوتا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے کلام نفسی کے ساتھ نہ کی کلام لسانی کے ساتھ کلام لسانی اس پر دلالت کرتا ہے اس دلیل سے مصنف رحمۃ اللہ علیہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ قاضی کا حکم اصل میں امر نفسی ہے اس پر دلالت اشارہ، قول،فعل اور کتابت کرتا ہے اگر حکم امر نفسی نہ ہوتا تو پھر ان میں جدائی گی ممکن نہ ہوتی یعنی پھر جس وقت قاضی انشاء حکم کرے گا اسی وقت سمجھا جائے گا کہ اس کے دل میں یہ حکم بھی ابھی آیا حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ کبھی کبھی قاضی کے دل میں فیصلہ تو بہت پہلے ہو چکا ہوتا ہے لیکن چونکہ اس نے گواہ نہیں بنائے ہوتے ہیں بہت دنوں تک پھر جس دن گواہ بناتا ہے اب اس کا اثر بھی ظاہر ہوتا ہے، چنانچہ یہ دو چیزیں الگ الگ ہیں ایک نفس الامر میں حکم دوسری اس پر دلالت کرنے والی چیزیں انشاء حکم ، قول و فعل وغیرہ، اور کبھی کبھی انشاء حکم اور نفس الامر دونوں ایک ساتھ پائے جاتے ہیں کبھی کبھی دونوں جدا ہوتی ہیں۔ 
وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْحُكْمَ الشَّرْعِيَّ أَمْرٌ قَائِمٌ بِالنَّفْسِ لَا بِاللِّسَانِ أَنَّهُ قَدْ يَقْتَرِنُ إنْشَاءُ الْحُكْمِ بِمَا يَدُلُّ عَلَيْهِ فَيُوَافِقُ إنْشَاءُ الْحُكْمِ وَقْتَ الْإِشْهَادِ عَلَيْهِ.
وَقَدْ يَفْتَرِقَانِ سِنِينَ كَثِيرَةً بِأَنْ يَحْكُمَ فِي شَيْءٍ وَلَا يُشْهِدُ بِالْحُكْمِ عَلَى نَفْسِهِ فِي ذَلِكَ إلَّا بَعْدَ مُدَّةٍ طَوِيلَةٍ، فَتَبَيَّنَ أَنَّ الْحُكْمَ الشَّرْعِيَّ فِي نَفْسِهِ وَقَائِمًا بِذَاتِهِ مِنْ الْكَلَامِ النَّفْسَانِيِّ لَا اللِّسَانِيِّ.
دوسری دلیل یہ کہ قاضی کے دل میں جو فیصلہ آیا ہے جو حکم آیا ہے قاضی صاحب کبھی کبھی اس کا اظہار بطور خبر کے کرتے ہیں اور اس اعتبار سے وہ صدق اور کذب کا بھی احتمال رکھتا ہے جیسا کہ اگر قاضی صاحب کہے حکمت بکذا فی الصورۃ الفلانیۃ کہ میں نے فلاں معاملے میں اس طرح سے حکم دیا ہے تو اس میں جھوٹ و سچ کا احتمال ہے اس طور پر کہ جو مطلع ہو اس کے حال پر( مثلاً قاضی معزول ہونے کے بعد خبر دے اپنے حکم کی جب معزولیت کا علم ہو تو اس کا حکم معزول ہونے کے بعد رد کیا جاتا ہے کیوں کہ اس میں یقیناً عام لوگوں کی طرح سچ و جھوٹ کا احتمال ہے معزول ہونے کے بعد قاضی کا حکم کی خبر گواہوں کے ساتھ قبول کی جاتی ہے) اور کبھی کبھی قاضی کے دل میں جو فیصلہ ہوتا ہے قاضی بطور انشاء کے اس کا اظہار کرتا ہے اور جب انشاء کے طور پر اظہار تو تب وہ سچ اور جھوٹ کا احتمال نہیں رکھتا اس طور پر کہ قاضی کہے کہ تم گواہ بن جاؤ اس پر کہ میں نے فلاں پر اس طرح کا معاملہ لازم کیا ہے چونکہ انشاء ہے اس لیے اس میں سچ و جھوٹ کا احتمال نہیں، دوسری مثال میں چونکہ انشاء ہے قاضی حکم کا انشاء کر رہا ہے کہ میں نے فلاں پر اس طرح لازم کیا ہے فلاں کے بارے میں تم گواہ بن جاؤ چونکہ یہ حکم کا انشاء ہے اور انشاء میں سچ و جھوٹ کا احتمال نہیں ہوتا گویا یہ گواہوں سے طلب کر رہا ہے کہ وہ اس معاملے پر اس طرح گواہی دیں اس لیے اس کو صحت اور فساد کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے لیکن سچ اور جھوٹ کا احتمال نہیں رکھتا ہے چنانچہ ان دو دلیلوں سے ایک تو یہ دلیل کہ قاضی کا حکم کبھی کبھی ملا ہوتا ہے امر نفسی کے ساتھ یعنی جب دل میں خیال آیا تو فورا اسی وقت حکم دیا اور کبھی کبھی دونوں زمانوں میں فرق ہوتا ہے یعنی قاضی معاملہ سماعت کیا اور اس وقت دل میں حکم آیا جو کہ امر نفسی ہے لیکن قاضی اس پر گواہ بنا رہا ہے مدت طویلہ کے بعد تب بھی یہ حکم کی جانب سے حکم ہوگا گویا پتہ چلا کہ دونوں الگ الگ ہیں اصل حکم تو امر نفسی ہے کہ جب دل میں خیال آیا تھا لیکن اس کا اثر ظاہر ہوا جب اس پر گواہ بنایا دوسری دلیل یہ دی کہ چونکہ اصل حکم امر نفسی ہے جو دل میں ہے اس کی اظہار کبھی کبھی قاضی بطور خبر کے کرتا ہے اور کبھی کبھی بطور انشاء کے گویا پتہ چلا کہ اصل حکم تو نفس الامر ہے لیکن اس کی علت اور اس پر دلالت کرنے والی کئی چیزیں ہیں۔قول فعل اشارہ کتابت وغیرہ۔ 
وَاعْلَمْ: أَنَّ الْحُكْمَ تَارَةً يَكُونُ خَبَرًا يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ، وَتَارَةً يَكُونُ إنْشَاءً لَا يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ.
فَالْأَوَّلُ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ: قَدْ حَكَمْتُ بِكَذَا فِي الصُّورَةِ الْفُلَانِيَّةِ؛ لِأَنَّ هَذَا اللَّفْظَ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ بِحَسَبِ مَا يُطَّلَعُ عَلَيْهِ مِنْ حَالِهِ.
وَالثَّانِي مِثْلُ أَنْ يَقُولَ: اشْهَدُوا عَلَيَّ بِكَذَا، أَوْ إنِّي أَلْزَمْتُ فُلَانًا بِكَذَا، فَهُوَ إنْشَاءٌ لَا يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ؛ لِأَنَّهُ إنْشَاءُ الطَّلَبِ مِنْ الشُّهُودِ أَنْ يَشْهَدُوا عَلَيْهِ بِكَذَا، وَإِنَّمَا يُوصَفُ هَذَا بِالصِّحَّةِ وَالْفَسَادِ - وَاَللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ
قسم ثانی۔ مصنف نے فرمایا تھا چھٹی قسم ارکان قضاء کے بارے میں تھے اور ارکان قضاء میں سے پہلا باب تو ابھی تک گزر چکا اب یہاں سے دوسرا باب بیان کریں گے مدعی و مدعی علیہ کے بیان میں
[الْقِسْمُ الثَّانِي فِي بَيَانِ الْمُدَّعِي مِنْ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ]

مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جاننا چاہے قضاء کا اصل دارومدار مدعی کا مدعی علیہ سے پہچاننے پر ہے یعنی قضاء کا سب سے مشکل کام یہ ہے کہ انسان کو پہچان ہو جائے کہ فریقین میں سے کون مدعی ہے اور کون مدعا علیہ، اگرچہ مدعی اور مدعی علیہ کے احکام واضح ہیں کہ البینۃ علی المدعی و الیمین علی مدعی علیہ (رواہ الترمذی) اسی طرح البینۃ علی من یدعی خلاف الظاہر ( القواعد الفقہیہ)جو مدعی ہوگا وہ گواہ پیش کرے گا وہ جو منکر ہے اس سے قسم لی جائے گی یا جو خلاف ظاہر کا دعویٰ کرے اس سے گواہ لیے جائیں اور جو ظاہر کے موافق دعویٰ کرے اس سے قسم،چناں چہ مدعی و مدعی علیہ کے احکام واضح ہیں لیکن ان کی پہچان بڑی مشکل ہے حضرت قاضی شریح فرماتے ہیں جب ہم قاضی بنائے گئے تو ہمیں لگتا تھا کہ قضاء کا کام بہت آسان ہے لیکن جب پہلا معاملہ آیا اور مدعی و مدعی علیہ کے پہچاننے میں ہمیں بڑی دشواری ہوئی تو اس وقت پتہ چلا کہ قضاء کا کام کتنا مشکل ہے اسی کو مصنف نے فرمایا کہ قضاء وہ گھومتا ہے مدعی و مدعی علیہ کی معرفت پر اس لیے یہ بڑا مشکل اصول ہے کہ کون مدعی بنے گا اور کون مدعی علیہ اور اگرچہ کوئی اختلاف نہیں ان دونوں میں سے ہر ایک کے احکام میں یعنی دونوں کے احکام واضح ہیں اس طور پر کہ مدعی پر بینہ ہے جب مطلوب یعنی مدعی علیہ انکار کرے قسم سے اور مدعی علیہ پر قسم ہے جب مدعی گواہ قائم نہ کر سکے لیکن بڑی بات یہ ہے کہ دعوی، انکار مدعی اور منکر کی پہچان ہو جائے کیوں کہ اگر مدعی و مدعی علیہ کی پہچان نہیں ہوگی تو حکم کس پر کیا لگایا جائے یہ سمجھنا مشکل ہے
اعْلَمْ: أَنَّ عِلْمَ الْقَضَاءِ يَدُورُ عَلَى مَعْرِفَةِ الْمُدَّعِي مِنْ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ؛ لِأَنَّهُ أَصْلٌ مُشْكِلٌ، وَلَمْ يَخْتَلِفُوا فِي حُكْمِ مَا لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، وَأَنَّ عَلَى الْمُدَّعِي الْبَيِّنَةَ إذَا أَنْكَرَ الْمَطْلُوبُ، وَأَنَّ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ الْيَمِينَ إذَا لَمْ تَقُمْ الْبَيِّنَةُ، لَكِنَّ الشَّأْنَ فِي مَعْرِفَةِ الدَّعْوَى وَالْإِنْكَارِ وَالْمُدَّعِي وَالْمُنْكِرِ

اب یہاں سے چند اصول مدعی و مدعی علیہ کے پہچاننے کے سلسلے میں مصنف رحمۃ اللہ علیہ بیان کریں گے فرماتے ہیں کہ اللہ پاک کی توفیق سے ہم کہتے ہیں کہ لغۃً دعوی کہتے ہیں کسی چیز کی اضافت اپنی طرف کرنا اور اصطلاحی و شرعی اعتبار سے دعوی کہتے ہیں کہ بوقت حاجت کسی چیز کی اضافت اپنی طرف کرنا مثلاً ایک شخص کو محسوس ہوا کہ فلاں کے پاس جو قلم ہے وہ میرا ہے اور مجھے اس کی حاجت ہے اس لیے اس نے اس قلم کی اضافت اپنی طرف کر دی کہ یہ قلم میرا ہے اسی کو دعوی کہتے ہیں، اس کے بعد فرماتے ہیں مدعی لغت میں اس کو کہیں گے جو بوقت حاجت کسی چیز کی اضافت اپنی طرف کرے،کسی چیز کی اضافت اپنی طرف کرنا اگر دعویٰ ہے تو جو شخص یہ اضافت کرے وہی مدعی ہوگا، دعوی و مدعی کی تعریف بیان کرنے کے بعد مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صاحب الید یعنی جس کا ظاہری قبضہ ہو کشی چیز پر وہ مدعی علیہ ہے اور جس کا ظاہری قبضہ نہیں وہ مدعی ہے یہ اس لیے کہ جس کا ظاہری قبضہ ہے وہ اس چیز کو اپنی طرف اضافت کرنے کے لیے محتاج نہیں ہے کیونکہ وہ تو اس پر ظاہری قبضہ کیے ہوئے ہے، اس کو کیا پڑی ہے کہ اس چیز کی اضافت اپنی طرف کرے، وہ تو اس کے قبضے میں ہے ہاں جس کے قبضے میں نہیں وہ بوقت احتیاج کسی چیز کو اپنی طرف اضافت کرے تو دعوی ہوگا یہ شخص مدعی کہلائے گا کیوں کہ خلاف ظاہر دعوی کر رہا ہے اور جس کا ظاہری قبضہ ہے وہ مدعی علیہ ہے کیوں کہ وہ ظاہری قبضہ کئے ہوئے ہیں اور ظاہری قبضہ کی وجہ سے وہ چیز ظاہراً اسی کی ہے، اسی کو مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس کا ظاہری قبضہ کسی چیز پر ہے ملکیت تو اس کے لیے ظاہراً ثابت ہے اس طور پر کہ وہ اس میں تصرف کر رہا ہے وہ صاحب تصرف ہے غیر محتاج ہے اس چیز کی اضافت اپنی طرف کرنے میں ظاہری قبضہ کی وجہ سے، مصنف فرماتے ہیں کہ اس لیے ہم نے اس کو ( ظاہری قبضہ والے کو) منکر بنایا یعنی مدعی علیہ بنایا اور خارج ( دوسرا) جو کسی چیز کی اضافت اپنی طرف کر رہا ہے چونکہ نہ اس کا ظاہری قبضہ ہے نہ باطنی قبضہ ہے اس چیز پر اس لیے وہ محتاج ہے اپنے لیے اثبات ملک کا ظاہراً بھی اور باطناً بھی اس لیے ہم نے اس کو شرعاً مدعی بنایا اور ہم نے اس کے ذمہ گواہان لازم کر دئے کیونکہ بینہ اس پر لازم کرنا یہ بطور نص کے ہے حدیث پاک کے الفاظ ہیں البینۃ علی المدعی و الیمین علی المدعی علیہ ( رواہ الترمذی) 
 فَنَقُولُ - وَبِاَللَّهِ التَّوْفِيقُ -: الدَّعْوَى إضَافَةُ الشَّيْءِ إلَى نَفْسِهِ وَضْعًا، وَإِضَافَةُ الشَّيْءِ إلَى نَفْسِهِ مَعَ مِسَاسِ حَاجَتِهِ إلَيْهِ شَرْعًا.وَالْمُدَّعِي وَضْعًا مَنْ يُضِيفُ الشَّيْءَ إلَى نَفْسِهِ مَعَ مِسَاسِ حَاجَتِهِ إلَيْهِ، وَلِهَذَا قُلْنَا: صَاحِبُ الْيَدِ مُدَّعَى عَلَيْهِ وَالْخَارِجُ مُدَّعٍ لَمَّا كَانَ صَاحِبُ الْيَدِ غَيْرَ مُحْتَاجٍ إلَيْهِ؛ لِأَنَّ الْمِلْكَ ثَابِتٌ لَهُ ظَاهِرًا بِدَلَالَةِ يَدِ التَّصَرُّفِ جَعَلْنَاهُ مُنْكِرًا، وَالْخَارِجُ لَمَّا كَانَ مُحْتَاجًا إلَى إثْبَاتِ الْمِلْكِ لِنَفْسِهِ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا جَعَلْنَاهُ مُدَّعِيًا شَرْعِيًّا وَجَعَلْنَا الْبَيِّنَةَ بَيِّنَتَهُ بِالنَّصِّ.

Saturday, July 27, 2024

d 16

 یہ فصل نفاذ حکم کے بیان میں ہے۔ 
[فَصْلٌ فِي مَعْنَى تَنْفِيذِ الْحُكْمِ]
تنفیذ کی دو قسمیں ہیں نمبر (١) اپنا دیا ہوے حکم کو نافذ کرنا نمبر (٢) دوسرے کے حکم کو نافذ کرنا، پھر تنفیذ کی دو قسمیں ہے پہلی قسم کی تنفیذ کا معنی ہے الزام حسی، اور دوسری قسم کی تنفیذ کے معنی ہے الزام معنوی، الزام حسی کہتے ہیں کہ جبرا قوت قاہرہ سے امتثال امر کرانا، محکوم بہ ( جس شرعی حکم کی لزوم کے ساتھ خبر دی گئی ہے) کو طاقت کی بنیاد پر محکوم لہ کے سپرد کرنا اور الزام معنوی کا مطلب ہے صرف الاخبار عن حکم شرعی علی سبیل الالزام کہ حکم شرعی کی الزام کے طریقہ پر خبر دینا محکوم بہ محکوم لہ کو ملے یا نا ملے، امتثال امر ہو یا نا ہو اس سے کوئی غرض نہیں،مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے معین الحکام کے پہلے صفحہ میں اس پر بحث کی ہے کہ ایک الزام معنوی ہے دوسرا الزام حسی ہے اکثر و بیشتر قاضی کو صرف الزام معنوی کا اختیار ہوتا ہے الزام حسی کا اختیار اکثر و بیشتر قاضی کو نہیں ہوتا الا کہ امام کی طرف سے صراحتاً الزام حسی کا اختیار بھی قاضی کو ملے تو الگ بات ہے، الزام حسی ہی قوت تنفیذ کا دوسرا نام ہے اس طور پر کہ حاکم وقت قاضی کو شرطہ، پولیس وغیرہ بھی دیے دے کہ لیجئے قاضی صاحب پاور آف اتھارٹی کے ذریعے سے بوقت ضرورت آپ اپنا حکم منوا بھی سکتے ہیں اور عمل درآمد بھی کرا سکتے ہیں،ورنہ عمومی طور قاضی کو صرف الزام معنوی کا اختیار ہوتا ہے یعنی وہ حکم شرعی کو بیان کرتا ہے بطور الزام کے قوت تنفیذ و الزام حسی عمومی طور قاضی کو حاصل نہیں ہوتا، اسی کو مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ اپنے حکم کو ںافذ کرنا،قوت اور طاقت سے کسی سے مال کو لے کر مستحق کو دینا، تمام حقوق سے چھٹکارا دلوانا چ جیسے کسی نے زمین غصب کر رکھی ہو اس زمین کا چھٹکارا دلا کر مستحق کو دلانا)اور طلاق کا واقعہ کرنا اس عورت پر جس پر طلاق کا واقعہ کرنا جائز ہو یعنی کسی آدمی پر اسباب فسخ نکاح کا ثابت ہو جائیں تو اس کی طرف سے اس کی بیوی پر طلاق واقع کرنا اسی طرح دوسری چیزیں یہ سب چیزیں الزام حسی کے معنیٰ میں آتی ہیں، ورنہ الزام معنوی میں نہ تو انسان کس کا مال جبراً لے کر مستحق کو دے سکتا ہے نہ ہی حقوق سے چھٹکارا دلوا سکتا ہے اور نہ ہی قاضی کسی کی بیوی پر طلاق واقع کر سکتا ہے پس ثابت ہوا کہ تنفیذ وہ ثبوت اور حکم کے علاوہ ایک تیسری چیز ہے اس سے پہلے مصنف نے جو فصل بیان کی اس میں بتایا تھا کہ بعض حضرات کے نزدیک ثبوت اور حکم ایک ہی چیز ہے جبکہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ثبوت اور حکم الگ الگ چیزیں ہیں، اس طور پر کہ ثبوت تو اس چیز کا نام ہے جو فریقین پر گواہوں کے ذریعہ ثابت ہو جائے اور اس ثبوت پر جو اثر مرتب ہوتا ہے وہ حکم ہے اور اس حکم پر بھی اگر کوئی چیز مرتب ہو تو وہ تنفیذ ہے، چناں چہ ثبوت پہلا، حکم دوسرا، اور تنفیذ تیسرا رتبہ ہے، عمومی طور پر قاضی کو صرف پہلا اور دوسرا رتبہ حاصل ہوتا ہے تیسرا رتبہ کبھی کبھی حاصل نہیں ہوتا ہے اور کبھی کبھار حاصل ہوتا ہے،جب کہ امام نے بطور خاص اجازت دے رکھی ہو۔ 
وَهُوَ عَلَى قِسْمَيْنِ: تَنْفِيذُ حُكْمِ نَفْسِهِ وَتَنْفِيذُ حُكْمِ غَيْرِهِ فَالْأَوَّلُ: مَعْنَاهُ الْإِلْزَامُ بِالْحِسِّیْ وَأَخْذُ الْمَالِ بِيَدِ الْقُوَّةِ وَدَفْعِهِ لِمُسْتَحِقِّهِ وَتَخْلِيصُ سَائِرِ الْحُقُوقِ وَإِيقَاعُ الطَّلَاقِ عَلَى مَنْ يَجُوزُ لَهُ إيقَاعُهُ عَلَيْهِ وَنَحْوُ ذَلِكَ، فَالتَّنْفِيذُ غَيْرُ الثُّبُوتِ وَالْحُكْمِ، فَالثُّبُوتُ هُوَ الرُّتْبَةُ الْأُولَى. وَالْحُكْمُ هُوَ الرُّتْبَةُ الثَّانِيَةُ.وَالتَّنْفِيذُ هُوَ الرُّتْبَةُ الثَّالِثَةُ،

چنانچہ ہر قاضی کو قوت تنفیذ حاصل نہیں ہوتی بطور خاص ایسا ضعیف القدرت قاضی جو ظالم بادشاہ کے تحت ہو پس اگر بادشاہ کا کوئی معاملہ ایسے ضعیف القدرت قاضی کے پاس آے تو قاضی صاحب اس ظالم بادشاہ پر الزام ( معنوی) کا انشاء تو کر سکتا ہے یعنی حکم تو بیان کر سکتا ہے لیکن اس ظالم بادشاہ پر حکم کا نفاذ بالکل نہیں کر سکتا، ظالم بادشاہ پر نفاذِ حکمِ قاضی کے متعذر ہونے کی وجہ سے، پس حاکم اس اعتبار سے کہ وہ حاکم ہے اس کو صرف انشاء حکم ( انشاء الزام معنوی ) حاصل ہوتا ہے، اور بہرحال قوت تنفیذ یعنی نافذ کرنے کی اتھارٹی و طاقت، وہ حاکم و قاضی ہونے پر ایک امر زائد ہے یعنی اس اتھارٹی کے بغیر بھی قاضی ہو سکتا ہے، قاضی کو قوت تنفیذ کا حاصل ہونا ایک خارجی امر زائد ہے کسی قاضی کو حاصل ہوتی ہے کسی قاضی کو حاصل نہیں ہوتی ہے اور اس کا مفصل بیان مصنف رحمتہ اللہ علیہ نے فصل ثالث میں ولایت کے چھٹے رتبے میں بیان کیا ہے، من شاء الاطلاع فلیراجع۔ 

 وَلَيْسَ كُلُّ الْحُكَّامِ لَهُمْ قُوَّةُ التَّنْفِيذِ لَا سِيَّمَا الْحَاكِمُ الضَّعِيفُ الْقُدْرَةِ عَلَى الْجَبَابِرَةِ، فَهُوَ يُنْشِئُ الْإِلْزَامَ وَلَا يَحْصُلُ لَهُ تَنْفِيذُهُ لِتَعَذُّرِ ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَالْحَاكِمُ مِنْ حَيْثُ هُوَ حَاكِمٌ لَيْسَ لَهُ إلَّا الْإِنْشَاءُ، وَأَمَّا قُوَّةُ التَّنْفِيذِ فَأَمْرٌ زَائِدٌ عَلَى كَوْنِهِ حَاكِمًا - أَلَا يُرَى أَنَّ الْمُحَكَّمَ لَيْسَ لَهُ قُوَّةُ التَّنْفِيذِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا فِي الرُّتْبَةِ السَّادِسَةِ مِنْ رُتَبِ الْوِلَايَةِ.

دوسری قسم یعنی دوسرے کے حکم کو نافذ کرنا یہ بات بھی پہلے آ چکی ہے کہ ایک معاملہ سے متعلق پہلا قاضی فیصلہ کر چکا تھا اب وہ معاملہ دوسرے قاضی کے پاس آ رہا ہے تو دوسرا قاضی اگر یہ کہتا ہے کہ میرے نزدیک یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ معاملہ فلاں قاضی کے پاس اس طرح ثابت ہوا ہے تو محض اس قاضی کا یہ کہنا کہ میرے نزدیک یہ ثابت ہوا ہے کہ فلاں قاضی کے پاس اس طرح ثابت ہوا ہے یہ اس قاضی کی طرف سے حکم نہ ہوگا اور نہ پہلے قاضی کی طرف سے حکم نافذ کرنا ہوگا بلکہ پہلے قاضی کے پاس جو معاملہ جس نوعیت سے ثابت ہوا ہے اس نے اسی اعتبار سے حکم دیا ہے اور دوسرے قاضی کو لگ رہا ہے کہ پہلے قاضی کے پاس یہ معاملہ اس طرح ثابت ہوا ہے تو دوسرا قاضی اس حکم کی خبر بیان کر رہا ہے چنانچہ مصنف نے فرمایا کہ دوسرے کے حکم کو نافذ کرنا بایں طور کہ دوسرا قاضی کہے اس معاملہ سے متعلق جس معاملہ کا حکم پہلے قاضی دے چکا ہو کہ میرے نزدیک ثابت ہوا ہے کہ یہ معاملہ فلاں حاکم کے پاس اس طرح ثابت ہوا ہے تو دوسرے قاضی کا یہ کہنا پہلے قاضی کے حکم کو نافذ کرنا نہیں ہوگا یعنی یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ یہ دوسرا قاضی اس کو نافذ کرنے والا ہے اور اسی طرح اگر قاضی ثانی کہے میرے نزدیک ثابت ہوا ہے کہ فلاں نے اس معاملے میں اس طرح حکم دیا ہے اس طرح حکم دیا ہے تو یہ بھی حکم نہیں ہوگا اس مثبت کی طرف سے یعنی دوسرے قاضی کی طرف سے جو اس معاملے کو پہلے قاضی سے ثابت کر رہا ہے بلکہ اگر یہ قاضی یعنی قاضی ثانی اعتقاد رکھتا ہو اس بات کا کہ پہلے والے نے خلاف اجماع حکم دیا ہے تو بھی صحیح ہے اس قاضی کے لیے کہنا کہ میرے نزدیک یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ معاملہ فلاں قاضی کے پاس اس طرح اور اس طرح ثابت ہوا ہے حالانکہ وہ اجماع کے خلاف ہے خلاصہ یہ کہ غلط فیصلہ،خلاف اجماع فیصلہ کا بھی ثبوت ہو سکتا ہے اسی لیے اس قاضی کا کہنا کہ فلاں قاضی کے پاس یہ معاملہ اس طرح اور اس طرح ثابت ہوا ہے اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ یہ قاضی پہلے قاضی کے حکم کو نافذ کر رہا ہے یہ تو خلاف اجماع ہے یہ کیسے اس کو نافذ کرے گا بس یہ صرف خبر دے رہا ہے کہ فلاں کے پاس اس طرح ثابت ہوا ہے، اسی کو مصنف نے فرمایا کہ اس لیے بھی کہ کبھی کبھی تصرف فاسد بھی قاضی کے یہاں ثابت ہوتا ہے تاکہ اس تصرف فاسد پر اس کا موجب مرتب ہو سکے اور وہ موجب کیا ہے اس فیصلے کو توڑ دینا یا اس قاضی کو سزا دینا جس نے غلط فیصلہ کیا ہے یہ بات پہلے گزر چکی ہے تو محض ثابت ہونے سے یہ نہیں سمجھا جائے گا کہ پہلے قاضی نے حکم نافذ کیا ہے یا یہ دوسرا قاضی پہلے قاضی کے فیصلے کو نافذ کر رہا ہے نہیں بس یہ دوسرا قاضی صرف اس کے ثبوت کو بتا رہا ہے اور ثبوت کی خبر دے رہا ہے،امام قرافی نے جہاں قاضی کی تصرفات کی بیس انواع بیان کی تھی وہاں پر ساتویں نوع میں اس کا حکم بیان ہو چکا ہے خلاصہ کے طور پر نہ تو تنفیذ میں قاضی کی جانب سے ہرگز حکم ہوگا اور نہ ہی اثبات میں یہ کہنا کہ فلاں کا حکم وہ اتفاق کرنے والا ہے یا مدد کرنے والا ہے سابق قاضی کے حکم کی صحت کو اور نہ ہی قاضیوں کے یہاں اثبات حکم کی کثرت کا کوئی شمار و اعتبار کیا جاتا ہے چاہے جتنی مرتبے بھی معاملہ ثابت ہو جائے ثابت ہونے سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ حکم ہے ثابت ہونا الگ چیز ہے اس پر حکم لگنا الگ چیز ہے اور اس کو نافذ کرنا الگ چیز ہے ثابت ہزار مرتبہ ہوجائے ثابت ہونے کی کثرت سے اس کو حکم یا اس کو نفاذ شمار نہیں کیا جائے گا پس یہ معاملہ جتنی مرتبہ بھی حاکموں کے پاس ثابت ہو جائے وہ حکم واحد کی طرح ہے وہ تمام پہلے حکم کی طرف لوٹتے ہیں مگر یہ کہ دوسرا قاضی بھی اگر کہے کہ میں بھی وہی حکم دیتا ہوں جو پہلے قاضی نے حکم دیا واضح الفاظ میں، اور یہ کہے کہ میں بھی اس کے موجب کو لازم کر رہا ہوں یا اس کے مقتضی کو لازم کر رہا ہوں جو پہلے قاضی نے واجب کیا ہے تو پھر یہ دو قاضیوں کا حکم شمار کیا جائے گا۔ 
وَالْقِسْمُ الثَّانِي: تَنْفِيذُهُ حُكْمَ غَيْرِهِ، وَذَلِكَ بِأَنْ يَقُولَ فِيمَا تَقَدَّمَ الْحُكْمُ فِيهِ مِنْ غَيْرِهِ: وَثَبَتَ عِنْدِي أَنَّهُ ثَبَتَ عِنْدَ فُلَانٍ مِنْ الْحُكَّامِ كَذَا، فَهَذَا لَيْسَ بِحُكْمٍ مِنْ الْمُنَفِّذِ أَلْبَتَّةَ، وَكَذَا إذَا قَالَ: ثَبَتَ عِنْدِي أَنَّ فُلَانًا حَكَمَ بِكَذَا وَكَذَا، فَلَيْسَ حُكْمًا مِنْ هَذَا الْمُثْبِتِ، بَلْ لَوْ اعْتَقَدَ أَنَّ ذَلِكَ الْحُكْمَ عَلَى خِلَافِ الْإِجْمَاعِ صَحَّ مِنْهُ أَنْ يَقُولَ: ثَبَتَ عِنْدِي أَنَّهُ ثَبَتَ عِنْدَ فُلَانٍ كَذَا وَكَذَا؛ لِأَنَّ التَّصَرُّفَ الْفَاسِدَ قَدْ يَثْبُتُ عِنْدَ الْحَاكِمِ لِيُرَتَّبَ عَلَيْهِ مُوجَبُ ذَلِكَ وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا فِي النَّوْعِ السَّابِعِ مِنْ تَصَرُّفَاتِ الْحُكَّامِ وَبِالْجُمْلَةِ لَيْسَ فِي التَّنْفِيذِ حُكْمٌ أَلْبَتَّةَ وَلَا فِي الْإِثْبَاتِ أَنَّ فُلَانًا حَكَمَ مُسَاعَدَةٌ عَلَى صِحَّةِ الْحُكْمِ السَّابِقِ، فَلَا يُعْتَدُّ بِكَثْرَةِ الْإِثْبَاتِ عِنْدَ الْحُكَّامِ، فَهَذَا كُلُّهُ كَحُكْمٍ وَاحِدٍ وَهُوَ رَاجِعٌ إلَى الْحُكْمِ الْأَوَّلِ، إلَّا أَنْ يَقُولَ الثَّانِي: حَكَمْتُ بِمَا حَكَمَ بِهِ الْأَوَّلُ وَأَلْزَمْتُ بِمُوجَبِهِ وَمُقْتَضَاهُ.

(تَنْبِيهٌ) :
یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ علیہ یہ تنبیہ کرنا چاہتے ہیں کہ یہ مسئلہ تب ہوگا جب کہ پہلے قاضی اور دوسرے قاضی ان دونوں کا مذہب ایک ہو یعنی وہ دونوں ایک ہی امام کے مقلد ہوں لیکن اگر دونوں کا مسلک مختلف ہو مثلا ایک مالکی ہو دوسرا قاضی حنفی ہو یا پہلا قاضی شافعی تھا دوسرا حنبلی ہو چنانچہ اگر دونوں قاضیوں کا مسلک مختلف ہو تو پھر خارج مذہب ( حنفیوں کے علاوہ) بعض حضرات نے فرمایا کہ جب قاضی ثانی کے پاس مذاہب اربعہ مشورہ میں سے کسی ایک قاضی کا حکم وارد ہو جائے جبکہ جس قاضی ( ثانی ) پر حکم وارد ہو رہا ہے اس کا اعتقاد دوسرا مذہب ہو ( دوسرے مذہب کے مطابق)یعنی وہ دوسرے امام کا مقلد ہو تو کیا اس حکم کو نافذ کرنا لازم ہو جائے گا (پہلے والے قاضی کے حکم کو )اور محکوم علیہ پر اس مال کا لوٹانا لازم ہوگا جس کے بارے میں قاضی اول نے حکم دیا ہے۔ 
هَذَا حُكْمُ مَا إذَا كَانَ الْحَاكِمُ الْأَوَّلُ وَالْمُنَفِّذُ الثَّانِي مَذْهَبُهُمَا وَاحِدٌ أَمَّا مَعَ اخْتِلَافِ الْمَذَاهِبِ فَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ خَارِجَ الْمَذْهَبِ: إذَا وَرَدَ عَلَى حَاكِمٍ حُكْمٌ بِأَحَدِ الْمَذَاهِبِ الْمَشْهُورَةِ وَالْقَاضِي الْوَارِدُ عَلَيْهِ الْحُكْمُ اعْتِقَادُهُ مَذْهَبٌ آخَرُ فَهَلْ يَلْزَمُهُ تَنْفِيذُ هَذَا الْحُكْمِ وَإِلْزَامُ الْمَحْكُومِ عَلَيْهِ بِدَفْعِ الْمَالِ الَّذِي حَكَمَ بِهِ عَلَيْهِ الْقَاضِي.
یا محکوم علیہا بیوی پر لازم کرے گا نکاح کے صحت کو اور اسی طرح شوہر کو بیوی پر قدرت دینا کو لازم کرے گا باوجود کی اس قاضی یعنی دوسرے قاضی کے مذہب کا مقتضی وہ خلاف ہے اس کے جس کا حکم پہلے قاضی نے دیا ہے ان تینوں مسئلوں میں مثلا میاں بیوی میں رضاعت ثابت ہوگئ مگر پہلا قاضی شافعی المسلک تھا اس نے دیکھا ایک دو ہی گھونٹ ثابت ہے اس اپنے مذہب کے مطابق رضاعت کے عدم ثبوت و نکاح کے برقرار رہنے کا حکم دیا اسی طرح مال کے لوٹانے میں بھی کہ پہلے شافعی قاضی کے یہاں مال لوٹانا ضروری تھا اس لیے اس نے مال لوٹانے کا حکم دیا اب دیکھئے حنفیہ کے یہاں ایک گھونٹ سے بھی رضاعت ثابت ہے اس لیے یہاں پہلے قاضی کا حکم دوسرے حنفی قاضی کے خلاف ہے چناں چہ ان جیسے مسائل کے متعلق مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دو قول مروی ہیں پہلا قول یہ ہے کہ دوسرا قاضی ایسے معاملے میں جب کہ پہلا قاضی دوسرے امام کا مقلد تھا اور ثانی دوسرے امام کا مقلد ہے تو پھر دوسرا قاضی پہلے قاضی کے حکم کو نافذ کرنے اور اس کو باطل قرار دینے میں توقف کرے گا یعنی وہ اس میں کوئی حکم نہیں دے گا اس لیے کہ اگر اس کو نافذ کرتا ہے اور محکوم علیہ پر لازم کرتا ہے وہ جس کو لازم کیا گیا ہے جبکہ وہ اپنے مذہب کے مطابق اسے حق نہیں سمجھتا ہے تو یہ پھر اپنے مذہب کے اعتقاد کے خلاف فیصلہ کرے گا اس لیے دوسرا قاضی اس کو نافذ تو نہیں کر سکتا کیونکہ اس کے مذہب کے خلاف ہے اور باطل بھی نہیں کر سکتا کیونکہ مجتہد فیہ مسئلہ ہے اور پہلے بات آ چکی ہے کہ اجتہادی مسئلے میں دوسرا قاضی پہلے قاضی کے حکم کو نہیں توڑ سکتا اس لیے پہلا قول یہ ہے کہ نہ اس حکم کو نافذ کرے گا نہ اس حکم کو باطل قرار دے گا بلکہ موقف رکھے گا
أَوْ إلْزَامُ الزَّوْجَةِ الْمَحْكُومِ عَلَيْهَا بِصِحَّةِ النِّكَاحِ وَتَمْكِينِ الزَّوْجِ مِنْهَا مَعَ أَنَّ مُقْتَضَى مَذْهَبِهِ هُوَ خِلَافُ مَا نَفَذَ بِهِ ذَلِكَ الْحُكْمُ؟ فِي ذَلِكَ قَوْلَانِ: أَحَدُهُمَا أَنَّهُ يَقِفُ عَنْ تَنْفِيذِهِ وَإِبْطَالِهِ؛ لِأَنَّهُ إنْ نَفَّذَهُ وَأَلْزَمَ الْمَحْكُومَ عَلَيْهِ بِمَا فِيهِ
أَلْزَمَهُ مَا لَا يَرَى أَنَّهُ الْحَقُّ عِنْدَهُ.
جبکہ دوسرا قول یہ ہے کہ دوسرا قاضی پہلے قاضی کے حکم کو نافذ کرے گا اگرچہ اس کے مذہب کے خلاف ہے اور لازم کرے گا محکوم عالیہ پر وہ چیز جس کو حکم شامل ہے اس لیے کہ پہلے قاضی کے حکم کو موقف رکھنا نفاذ سے یہ اس کو باطل قرار دینے کی طرح ہے نافذ نہیں کرے گا اس کا مطلب باطل قرار دے رہا ہے کیونکہ باطل نہ کرتا تو پھر نافذ ہونا چاہیے تھا اس لیے اگر نافذ نہیں کرتا گویا باطل قرار دے رہا ہے زبان حال سے اور یہ بات پہلے ہم بتا چکے ہیں کہ مجتہد فیہ مسئلے میں احکام کا توڑنا ممنوع ہے یہی ظاہری مذہب ہے اور قول آخر یعنی جو پہلا حکم ( نہ نافذ کرے گا نہ باطل) ہے مصنف فرماتے ہیں میں نے اھل مذاہب میں یہ کسی کا قول نہیں پایا، واللہ اعلم۔ 
وَالثَّانِي: أَنَّهُ يُنَفِّذُهُ وَيُلْزِمُ الْمَحْكُومَ عَلَيْهِ مَا تَضَمُّنُهُ الْحُكْمُ؛ لِأَنَّ تَوْقِيفَهُ عَنْ إنْفَاذِهِ كَإِبْطَالِهِ، وَقَدْ قُلْنَا: إنَّهُ مَمْنُوعٌ عَنْ نَقْضِ الْأَحْكَامِ الْمُجْتَهَدِ فِيهَا، وَهُوَ الظَّاهِرُ مِنْ الْمَذْهَبِ، وَالْقَوْلُ الْآخَرُ لَمْ أَجِدْهُ لِأَهْلِ الْمَذْهَبِ، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ

Friday, July 26, 2024

چ 3

یہ فصل ان امور کے بیان میں جو قاضی کے لیے لازم ہے
[فَصْلٌ يَلْزَمُ الْقَاضِيَ أُمُورٌ]
چند چیزوں کا قاضی کے لیے ہونا لازم ہے وہ یہ کہ قاضی کسی اجنبی سے ہدیہ کو قبول نہ کرے جب کہ وہ اجنبی عہدۂ قضاء ملنے سے پہلے ہدیہ نہ دیتا ہو اس لیے کہ ایسے اجنبی سے ہدیہ قبول کرنا یہ احتمال رکھتا ہے کہ ہدیہ وہ قضاء کے عہدے کی وجہ سے دیا ہو اس طور پر کہ وہ یہ سمجھتا ہو اگر کبھی قاضی کے پاس کبھی ہمارا معاملہ گیا تو قاضی کا فیصلہ ہماری طرف مائل ہو جائے گا اور اگر قاضی صاحب نے ہدیہ قبول کر لیا تو اب اس ہدیہ کا کیا کیا جائے؟فقہاء فرماتے ہیں کہ جس نے ہدیہ دیا ہے اس اجنبی شخص کو وہ ہدیہ واپس کر دے اگر واپس لوٹانا ممکن ہو اور لوٹانے میں فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو مہدی (ہدیہ دینے والے) کو وہ ہدیہ واپس کیا جائے اور اگر لوٹانا ممکن نہ ہو کوئی فتنے کا اندیشہ ہو تو پھر حکم یہ ہے کہ اس ہدیہ کو بیت المال میں رکھ دے یہی مسئلہ امام محمد رحمۃ اللہ تعالی نے السیر الکبیر نامی کتاب میں اسی طرح مسئلہ ذکر فرمایا ہے۔ 

وَيَلْزَمُ الْقَاضِيَ أُمُورٌ مِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ مِنْ الْأَجْنَبِيِّ إذَا كَانَ لَا يُهْدِي إلَيْهِ قَبْلَ الْقَضَاءِ لِأَنَّهُ يُحْتَمَلُ أَنَّ الْإِهْدَاءَ لِأَجْلِ الْقَضَاءِ حَتَّى يَمِيلَ إلَيْهِ مَتَى وَقَعَتْ الْخُصُومَةُ، وَإِذَا قَبِلَ الْهَدِيَّةَ مَاذَا يَصْنَعُ؟ قَالُوا: يَرُدُّ عَلَى الْمُهْدِي إنْ أَمْكَنَهُ الرَّدُّ، وَإِنْ لَمْ يُمْكِنْهُ الرَّدُّ عَلَى صَاحِبِهِ يَضَعُهُ فِي بَيْتِ الْمَالِ، هَكَذَا ذَكَرَ مُحَمَّدٌ فِي السِّيَرِ الْكَبِيرِ.
اور اگر وہ اجنبی شخص عہدہ قضاء قبول کرنے سے پہلے بھی قاضی صاحب کو ہدیہ دیتا تھا تو پھر حکم یہ ہے کہ اگر خاص اس اجنبی شخص کا کوئی معاملہ آج کل قاضی کے یہاں درج ہوا ہے تو پھر مناسب ہے قاضی کے لیے کہ وہ ہدیہ قبول نہ کرے امام خصاف نے اس کی صراحت کی ہے کیونکہ اگر دوران معاملہ قاضی اس کا ہدیہ قبول کریے جو اگرچہ پہلے بھی ہدیہ دیتا تھا تو اس میں تہمت خطرہ ہے کہ اس نے اس معاملے کی وجہ سے ہدیہ دیا ہو کہ قاضی کا رجحان ہماری طرف مائل ہو جائے اور قاضی صاحب ہمارے زیر بار احسان رہیں اور اگر اس کا کوئی معاملہ قاضی کے یہاں درج نہ ہو اور یہ جو اس نے ہدیہ دیا ہے یہ مقدار میں اتنا ہی ہے یا اس سے کم ہے جو پہلے قاضی صاحب کو دیتا تھا تو پھر قاضی صاحب اس ھدیہ کو قبول کر سکتے ہیں اس لیے کہ اس ہدیہ کا قبول کرنا یا اس ہدیے کے کھانا یہ قضاء کی وجہ سے کھانا شمار نہ ہوگا بلکہ سابق میں دیے ہوئے ہدیہ کی طرح یہ دلالت کرتا ہے محبت و الفت پر نہ کہ قضاء کے لیے دینا کیونکہ یہ پہلے بھی ہدیہ دیتا تھا اور جتنا پہلے دیتا تھا اتنا ہی آج بھی دیا ہے یا اس سے کم دیا ہے اور اس کا کوئی معاملہ بھی قاضی کے یہاں درج نہیں ہے لیکن اگر پہلے دس روپئے دیتا تھا اور آج بیس روپئے دئیے ہیں تو حکم یہ ہے کہ جتنا اس نے زیادہ دیا ہے اس زیادتی کو قاضی صاحب واپس لوٹائے گا اس لیے کہ وہ زیادتی قضاء کی وجہ سے ہوسکتی ہے کہ اب محترم عہدہ قضاء پر ہیں اس لیے ہدیہ زیادہ دیں گے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے اب یہاں جو مسئلہ ذکر کریں گے تبصرۃ الحکام میں یہوضاحت کے سات مذکور ہے کہ یہ جو ابھی تک مسئلہ تھا یہ اجنبی شخص کے سلسلے میں تھا لیکن اگر ہدیہ دینے والا کوئی ذی رحم محرم ہو جیسے قاضی کا بیٹا، باپ یا کوئی بھی ایسا رشتہ دار ہو اگر وہ قاضی صاحب کو ہدیہ دیں تو ہدیہ قبول کرنے میں جائے ہرج نہیں یہی محیط برہانی میں مسئلہ ذکر کیا ہوا ہے اب علامہ طرابلسی فرماتے ہیں کہ میں کہتا ہوں کہ بہتر بات تو یہ کہ ہمارے اس دور میں قاضی صاحب مطلقا ہدیہ قبول نہ کرے چاہے اجنبی شخص پہلے سے ہدیہ دیتا تھا یا نہیں دیتا تھا اور چاہے جتنا پہلے دیتا تھا اتنا ہی آج دیا ہے یا اس سے زیادہ دیا ہے مطلقا ہدیہ قبول نہ کرے اس لیے کہ ہدیہ مہدی یعنی ہدیہ دینے والے میں جرات پیدا کرتا ہے اور جس نے ہدیہ لیا ہے یعنی قاضی صاحب اس میں چشم پوشی پیدا کرتا ہے مہدی کے جری ہونے میں اور قاضی کا چشم پوشی کرنے میں قاضی کا بھی ضرر ہے اور اس پر فساد کے آنے کا بھی اندیشہ ہے چنانچہ بعض حضرات نے فرمایا کہ ہدیہ حکمت کے نور کو بجھا دیتا ہے حضرت ربیعہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تم بچو ہدیہ لینے سے اس لیے کہ ہدیہ وہ رشوت کا ذریعہ ہے اور فرماتے تھے کہ نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے تھے لیکن وہ حضرت کے خواص میں سے تھا یعنی حضور کی خصوصیت تھی کیونکہ نبی علیہ الصلوۃ والسلام معصوم تھے ان تمام گناہوں سے، ان تمام مصائب سے ان تمام عیوب سے جن سے دوسروں کو بچنا چاہیے جن سے دوسرے بچتے ہیں بچنے کی کوشش کرتے ہیں
وَإِنْ كَانَ يُهْدَى إلَيْهِ قَبْلَ الْقَضَاءِ فَإِنْ كَانَ لَهُ خُصُومَةٌ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَقْبَلَ، نَصَّ عَلَيْهِ الْخَصَّافُ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ خُصُومَةٌ فَإِنْ كَانَتْ هَذِهِ الْهَدِيَّةُ مِثْلَ تِلْكَ أَوْ أَقَلَّ فَإِنَّهُ يَقْبَلُهَا؛ لِأَنَّهُ لَا يَكُونُ آكِلًا بِقَضَائِهِ؛ لِأَنَّ سَابِقَةَ الْمُهَادَاةِ دَلَّتْ عَلَى الْإِهْدَاءِ لِلتَّوَدُّدِ وَالتَّحَبُّبِ لَا لِلْقَضَاءِ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ يَرُدُّ الزِّيَادَةَ؛ لِأَنَّهُ إنَّمَا زَادَ لِأَجْلِ الْقَضَاءِ لِيَمِيلَ إلَيْهِ مَتَى وَقَعَتْ الْخُصُومَةُ وَيَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ مِنْ ذِي الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ، مِنْ الْمُحِيطِ قُلْت: وَالْأَصْوَبُ فِي زَمَانِنَا عَدَمُ الْقَبُولِ مُطْلَقًا لِأَنَّ الْهَدِيَّةُ تُورِثُ إدْلَالَ الْمُهْدِي وَإِغْضَاءَ الْمُهْدَى إلَيْهِ، وَفِي ذَلِكَ ضَرَرُ الْقَاضِي وَدُخُولُ الْفَسَادِ عَلَيْهِ. وَقِيلَ إنَّ الْهَدِيَّةَ تُطْفِئُ نُورَ الْحِكْمَةِ. قَالَ رَبِيعَةُ: " إيَّاكَ وَالْهَدِيَّةَ فَإِنَّهَا ذَرِيعَةُ الرِّشْوَةِ «وَكَانَ النَّبِيُّ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ» وَهَذَا مِنْ خَوَاصِّهِ وَالنَّبِيُّ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - مَعْصُومٌ مِمَّا يُتَّقَى عَلَى غَيْرِهِ مِنْهَا.
اور جب عمر بن عبدالعزیز رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے ہدیہ کو لوٹایا واپس کر دیا جبکہ وہ عہدے قضاء پر فائز ہو چکے تھے تو ان سے کہا گیا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے تھے تو حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا کہ حضور کے لیے تو وہ ہدیہ ہوتا تھا لیکن ہمارے لیے رشوت ہوتا ہے اس لیے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے نبوت کی وجہ سے تقرب حاصل کیا جاتا تھا جو کہ ضروری اور محمود تھا اور ہمارا تقرب صرف ولایت کی وجہ سے چاہا جاتا ہے حضور سے تقرب حاصل کیا جاتا تھا اور ہمارے ساتھ تو صرف ولایت کے لیے تقرب حاصل کیا جاتا ہے 
وَلَمَّا رَدَّ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْهَدِيَّةَ قِيلَ لَهُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ يَقْبَلُهَا. فَقَالَ: كَانَتْ لَهُ هَدِيَّةً وَلَنَا رِشْوَةً لِأَنَّهُ كَانَ يُتَقَرَّبُ إلَيْهِ لِنُبُوَّتِهِ لَا لِوِلَايَتِهِ، وَنَحْنُ يُتَقَرَّبُ إلَيْنَا لِلْوِلَايَةِ.
نبی رحمت صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں پر ایک زمانہ آئے گا کہ لوگ اس میں حرام چیزوں کو ہدیہ سمجھ کر قبول کریں گے ہدیہ جان کر حلال سمجھیں گے اور قتل کو بطور عبرت یا بطور نصیحت کے انجام دیں گے یعنی جو بری شخص ہوگا معصوم شخص ہوگا اسے قتل کیا جائے گا تاکہ عام لوگ اس سے نصیحت حاصل کریں جس شخص نے کوئی گناہ ہی نہیں کیا اسے قتل کیوں کیا؟ اس کا کوئی پرسان حال نہیں ہوگا
وَقَالَ - عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ - «يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُسْتَحَلُّ فِيهِ السُّحْتُ بِالْهَدِيَّةِ وَالْقَتْلُ بِالْمَوْعِظَةِ، يُقْتَلُ الْبَرِيءُ لِيَتَّعِظَ بِهِ الْعَامَّةُ» .
اور انہی امور میں سے یہ بھی ہے کہ قاضی مجلس قضاء میں خرید و فروخت نہ کرے اپنی ذات کے لیے اس لیے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے قاضی شریح کو لکھا کہ تم نہ کسی کو خوش کرو نہ کسی کو تکلیف پہنچاؤ اور نہ کسی سے خرید و فروخت نہ کرو مجلس قضاء میں البتہ قاضی صاحب جنازے میں حاضر ہو سکتے ہیں مریض کی عیادت کر سکتے ہیں دعوت عامہ کو قبول کر سکتے ہیں لیکن ضروری ہے کہ عام دعوت ہو لیکن قاضی کسی بھی مجلس میں دیر تک نہ بیٹھے یعنی اپنی بیٹھنے کو طویل نہ کرے اور نہ قاضی صاحب قدرت دے کسی ایک کو کہ مجلس عام میں عدالتی معاملات کے سلسلے میں گفتگو کرے کیوں کہ عدالت کا معاملہ عدالت میں حل ہوں گے کیوں کہ دوسرا فریق اس سے قاضی پر تہمت لگا سکتا ہے، اسے غلط گردان سکتا ہے کہ قاضی صاحب وہاں مشورہ کر رہے تھے اس نے ہمارے خلاف قاضی کے کان بھرے ہوں گے اس طرح کی دیگر الزامات قاضی پر دوسرا فریق لگا سکتا ہے اور قاضی صاحب عام دعوت کو قبول کر سکتے ہیں جیسے کہ شادی ہو یا کسی کا ختنہ ہوا ہو اور پھر وہ کوئی ولیمہ کر رہا ہو تو اس دعوت میں جو کہ عام دعوت ہے وہ قاضی قبول کر سکتا ہے اور انہی لازم امور میں سے یہ ہے کہ قاضی خاص دعوت کو قبول نہ کرے اب خاص اور عام کی تحدید مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جس دعوت میں دس یا دس سے کم لوگ ہوں وہ خاص دعوت ہے اسی مجلس اور اس دعوت کو قاضی صاحب قبول نہ کرے اور جس دعوت میں دس سے زیادہ لوگ ہوں وہ عام دعوت ہے اس دعوت میں قاضی شرکت کر سکتا ہے اس لیے کہ جو دس سے زیادہ لوگوں پر مشتمل ہے وہ قاضی کی وجہ سے مجلس نہیں سجائی گئی ہے بلکہ وہ دعوت عام لوگوں کے لیے بنائی گئی ہے اس لیے قاضی کا اس دعوت میں شرکت کرنا یہ قضاء کے ذریعے سےکھانے والا قاضی نہیں سمجھا جائے گا۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يَبِيعُ وَلَا يَشْتَرِي فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ لِنَفْسِهِ لِمَا رُوِيَ عَنْ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - أَنَّهُ كَتَبَ إلَى شُرَيْحٍ: " لَا تُسَارَّ وَلَا تُضَارَّ، وَلَا تَبِعْ وَلَا تَشْتَرِ فِي مَجْلِسِ الْقَضَاءِ " وَيَشْهَدُ الْجِنَازَةَ، وَيَعُودُ الْمَرِيضَ، وَيُجِيبُ الدَّعْوَةَ وَلَكِنَّهُ لَا يُطِيلُ مُكْثَهُ فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ وَلَا يُمَكِّنُ أَحَدًا يَتَكَلَّمُ بِشَيْءٍ مِنْ الْخُصُومَاتِ؛ لِأَنَّ الْخَصْمَ الْآخَرَ يَتَّهِمُهُ وَيُجِيبُ الدَّعْوَةَ الْعَامَّةَ كَالْعُرْسِ وَالْخِتَانِ. وَمِنْهَا: أَنَّهُ لَا يُجِيبُ الدَّعْوَةَ الْخَاصَّةَ، الْعَشَرَةُ وَمَا دُونَهَا خَاصَّةٌ وَمَا فَوْقَهَا عَامَّةٌ لِأَنَّ الدَّعْوَةَ الْعَامَّةَ مَا اُتُّخِذَتْ لِأَجْلِ الْقَاضِي بَلْ اُتُّخِذَتْ لِأَجْلِ الْعَامَّةِ وَلَا يَصِيرُ الْقَاضِي آكِلًا بِقَضَائِهِ.
اور انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ مناسب ہے قاضی کے لیے کہ وہ تمام ضرورت کی چیزوں کے طلب سے بچے جیسے کہ ماعون ( ضرورت کی چیز جو عرفا ایک دوسرے سے عاریت مانگی جاتی ہے جیسے تیل چاول آٹا وغیرہ)اور دابہ یعنی جانور ہے ان چیزوں کے طلب سے بھی قاضی کو بچنا چاہئے ہاں ضرورت ہو تو ضرورت الگ چیز ہے لیکن خامخواہ دوسروں سے مانگتا ہے جو ضرورت کی چیزیں ہیں کھانے پینے کی چیزیں ہیں معاشرت کی چیزیں ہیں قاضی صاحب کو چاہیے کہ دوسروں سے بے نیاز رہے کیونکہ وہ زیر بار احسان کسی کا نہیں ہونا چاہیے۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَنْبَغِي لَهُ التَّنَزُّهُ عَنْ طَلَبِ الْحَوَائِجِ مِنْ مَاعُونٍ أَوْ دَابَّةٍ.
اسی طرح لازمی امور میں سے یہ ہے کہ مناسب نہیں قاضی کے لیے کہ وہ لوگوں کے پاس آئے یعنی لوگوں کے ساتھ بیٹھنا شروع کر دے راستوں میں چوراہوں پر یا دیگر مجلسوں میں مگر اس شخص کے پاس جس شخص نے اس کو ولی بنایا ہے صرف اس شخص کے پاس آ سکتا ہے اس لیے کہ جس نے قاضی کو ولی بنایا ہے وہ امیر ہو سکتا ہے اور امیر کے علاوہ جتنے بھی ہیں وہ قاضی کی رعیت ہے قاضی حاکم ہے اور وہ محکم علیہ ہے اس لیے ان کے ساتھ قاضی بیٹھنا شروع نہ کرے
وَمِنْهَا أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَأْتِيَ إلَى أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ إلَّا الَّذِي وَلَّاهُ وَحْدَهُ؛ لِأَنَّ مَنْ دُونَهُ رَعِيَّةٌ.
انہیں لازمی امور میں سے یہ ہے کہ مناسب ہے قاضی کے لیے کہ وہ برائی سے بچے اس لیے کہ اکثر قضاۃ کے خلاف اسی طور پر باتیں کسی جاتی ہیں اور ان پر اسی طرح چڑھ دوڑا جاتا ہے کہ ان کے عیوب جو ظاہر ہو گئے پھر ان پر باتیں کسی جاتی ہیں اور جو اس مصیبت میں پڑ گیا اسے پہچان لیا جاتا ہے
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَجْتَنِبَ بِطَانَةَ السُّوءِ؛ لِأَنَّ أَكْثَرَ الْقُضَاةِ إنَّمَا يَأْتِي عَلَيْهِمْ مِنْ ذَلِكَ وَمَنْ بُلِيَ بِذَلِكَ عَرَفَهُ 

اور انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ قاضی اپنے لیے ایک کاتب متعین کرے ایک کاتب کو چنے جو اس کے لیے کتابت کرے مجلس قضاء میں یعنی جو فریقین میں بحث و مباحثہ ہو اسے لکھ لے اور ان کی باتوں کو کسی نامے میں درج کرے۔ 
وَمِنْهَا أَنْ يَخْتَارَ لَهُ كَاتِبًا يَكْتُبُ لَهُ، وَيَكْتُبُ مَا يَقَعُ فِي مَجْلِسِهِ بَيْنَ الْخُصُومِ.
اور قاضی کسی بچے کو حکم کا لکھنے والا نہ بنائے نہ کسی غلام کو نہ کسی مدبر کو نہ کسی مکاتب کو نہ کسی محدود فی القذف کو نہ کسی ذمی کو بعض حضرات نے ذکر کیا ہے کہ کاتب کے میں چار خصائل کو یعنی چار چیزیں کاتب میں ہونی چاہیے عدالت، عقل، رائے اور عفت و پاک دامنی اگرچہ احکام شرعیہ کا عالم نہ ہو البتہ احکام کتابت کا عالم ہونا چاہیے جاننے والا ہونا چاہیے یہ چیز ضروری ہے
وَلَا يَجْعَلُ كَاتِبَ الْحُكْمِ صَبِيًّا وَلَا عَبْدًا وَلَا مُدَبَّرًا وَلَا مُكَاتَبًا وَلَا مَحْدُودًا فِي قَذْفٍ وَلَا ذِمِّيًّا وَقَدْ ذَكَرَ بَعْضُهُمْ فِي أَوْصَافِهِ أَرْبَعَةً وَهِيَ: الْعَدَالَةُ، وَالْعَقْلُ، وَالرَّأْيُ، وَالْعِفَّةُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عَالِمًا بِأَحْكَامِ الشَّرْعِ فَلَا بُدَّ أَنْ يَكُونَ عَالِمًا بِأَحْكَامِ الْكِتَابَةِ.
اور بعض حضرات نے فرمایا کہ قاضی کا کاتب عادل شخص ہو فقیہ ہو اور وہ جو کچھ بھی قاضی کے سامنے لکھے قاضی کو چاہیے کہ پھر اس لکھے ہوئے مضمون کو اک نظر دیکھ لے اور متقدمین کے کلام سے ظاہر ہے کہ یہ حکم استحبابی حکم ہے کوئی واجب اور لازم نہیں ہے اور چاہیے کہ قاضی صاحب اس کاتب کو اسی جگہ پر بٹھائے کہ جہاں سے قاضی کو دکھتا ہو کہ وہ کاتب کیا لکھ رہا ہے اس لیے کہ یہ چیز تہمت کو زیادہ دور کرنے والی اور خلط ملط کرنے سے دور ہے کیونکہ جب قاضی دیکھتا ہوگا وہ کیا لکھ رہا ہے تو کاتب اگر کچھ غلط لکھے گا قاضی اسے تنبیہ کر سکتا ہے اس لیے کہ کبھی کبھی کاتب لوگ بھی رشوت لے کر دھوکا دیتے ہیں اسی کو مصنف نے فرمایا کہ کبھی کبھی رشوت لے کر دھوکہ دیا جاتا ہے پس وہ کمی زیادتی کر کے لکھے گا اور اس صورت میں لوگوں کے حقوق مارے جائیں گے۔ 
وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَنْ يَكُونَ كَاتِبُهُ عَدْلًا فَقِيهًا يَكْتُبُ بَيْنَ يَدَيْهِ ثُمَّ يَنْظُرُ هُوَ فِيهِ وَظَاهِرُ كَلَامِ الْمُتَقَدِّمِينَ أَنَّ ذَلِكَ عَلَى وَجْهِ الِاسْتِحْبَابِ، وَيَقْعُدُ حَيْثُ يُرَى مَا يَكْتُبُ؛ لِأَنَّهُ أَنْفَى لِلتُّهْمَةِ وَالتَّخْلِيطِ؛ لِأَنَّهُ رُبَّمَا يُخْدَعُ بِالرِّشْوَةِ فَيَزِيدُ أَوْ يُنْقِصُ فِيمَا يَكْتُبُ فَيُؤَدِّي إلَى إبْطَالِ حُقُوقِ النَّاسِ.
اور کاتب لکھے جو کچھ مجلس قضاء میں گفت و شنید ہوئی ہے یعنی دعوی، انکار دعوی اسی طرح گواہوں کا قائم ہونا تمام کے بیانات کو درج کرے اس بات کے احتمال کی وجہ سے کہ اگر کوئی اختلاف آئندہ ان فریقین میں واقع ہو جائے اس سلسلے میں جو انہوں نے مجلس قضاء میں گفتگو کی ہے قاضی کے فیصلہ سنانے سے پہلے اور پھر ضرورت پڑے گی جو انہوں نے مجلس قضاء میں گفت و شنید کی ہے وہ کیا تھی تو اگر وہ سب کچھ درج ہوگا تو اسے دیکھا جا سکتا ہے اس کی طرف پھر مراجعت کی جا سکتی ہے کہ آپ نے یہ گفتگو مجلس قضاء میں کی ہوئی تھی اور کاتب لکھے گا فریقین کے سامنے تاکہ کاتب کو دھوکہ دہی کے ساتھ متہم نہ کیا جائے کہ ہم نے تو یہ نہیں کہا تھا اس لیے ان کے سامنے لکھے اور لکھنے کے بعد فیصلہ کے بعد ان کے مجلس قضاء سے اٹھنے سے پہلے کاتب وہ کچھ پڑھے گا جو کچھ اس نے لکھا ہے گواہوں کے متعلق یعنی جو کچھ گواہی دی گئی ہے اس مضمون کو جو رجسٹر میں درج کیا گیا ہے اس گواہی کو ان گواہوں کو سنائے گا پس اگر کچھ خلاف واقع چیز لکھی گئی ہو تو وہ اسے خبر دیں گے کہ آپ نے یہ غلط لکھا ہے ہم نے اس طرح کہا ہے تو کاتب صاحب اس کو درست کر سکتے ہیں اس کے بعد قاضی کا فریضہ یہ ہے کہ قاضی بھی اس کاتب کے لکھی ہوئی باتوں کو ایک نظر دیکھے اور اس مضمون کو پڑھے جو کاتب نے لکھا ہے اگر وہ معاملہ بالکل درست درج ہوا ہے کاتب نے صحیح طرح سے معاملہ لکھا ہو کوئی اس میں خلاف واقع بات نہ ہو بالکل وہی باتیں ہوں جو مجلس قضاء میں ہوئیں ہیں تو اب کتاب نامہ کے نیچے قاضی صاحب اپنا دستخط کرے کہ ان گواہوں نے میرے سامنے ایسی گواہی دی ہے
وَيَكْتُبُ مَا جَرَى فِي مَجْلِسِهِ مِنْ الدَّعْوَى وَالْإِنْكَارِ وَقِيَامِ الْبَيِّنَةِ لِاحْتِمَالِ أَنْ يَقَعَ الِاخْتِلَافُ فِيمَا جَرَى قَبْلَ الْقَضَاءِ فَتَمَسُّ الْحَاجَةُ إلَى الْمُرَاجَعَةِ إلَيْهِ، فَيَكْتُبُ بِحَضْرَةِ الْخَصْمَيْنِ لِكَيْ لَا يُتَّهَمَ بِتَغْرِيرٍ، وَيَقْرَأُ مَا كَتَبَ عَلَى الشَّاهِدَيْنِ، فَإِنْ كَانَ فِيهِ خِلَافٌ أَخْبَرَاهُ بِهِ، ثُمَّ يَنْظُرُ فِيهِ الْقَاضِي فَإِنْ كَانَ كَمَا جَرَى وَقَّعَ بِخَطِّهِ أَسْفَلَ الْكِتَابِ شَهِدَا عِنْدِي بِذَلِكَ.

انہی لازمی امور میں سے یہ ہے کہ قاضی ایک مترجم بھی رکھے جب اس کے پاس ایسے فریق اپنا معاملہ لے کے آئیں جو عربی کو نہ جانتے ہوں اور نہ عربی سمجھتے ہوں بس چاہیے کہ قاضی ایک بھروسہ مند مسلمان مامون شخص کو اپنا ترجمان بنائے تاکہ وہ ترجمانی کر کے ان فریقین کو قاضی کی بات سمجھا سکے جو عربی نہیں سمجھتے اس لیے خصمین جو زبان سمجھتے ہوں اسی زبان کا کوئی آدمی مترجم ہونا چاہیے اگر قاضی اردو بولنے والا ہو اور فریقین ایسے کشمیری لوگ ہیں جو اردو سمجھتے ہی نہیں تو قاضی کو چاہیے کسی ایسے آدمی کو اپنا ترجمان بنائے جو کشمیری زبان بھی سمجھا سکتا ہو تاکہ وہ کشمیریوں کو کشمیری میں بات سمجھا سکے ( کشمیری اردو بھی سمجھتے ہیں) لیکن اس کے لیے وہی شرائط ہیں کہ بھروسے مند ہو مسلمان ہو اور مامون ہو جس سے لوگ مطمئن ہوں بلکہ مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ زیادہ محبوب ہے کہ دو آدمیوں کو مترجم چنے بعد اس کے کہ کی دونوں عادل ہوں جیسا کہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ اور حضرت امام یوسف کا مسلک ہے لیکن دو شخصوں کا ہونا مستحب ہے ورنہ ایک بھی چلے گا
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَّخِذَ مُتَرْجِمًا، وَإِذَا اخْتَصَمَ إلَيْهِ مَنْ لَا يَتَكَلَّمُ بِالْعَرَبِيَّةِ وَلَا يَفْهَمُ عَنْهُ فَلْيُتَرْجِمْ عَنْهُ ثِقَةٌ
مُسْلِمٌ مَأْمُونٌ، وَالِاثْنَانِ أَحَبُّ إلَيْنَا بَعْدَ أَنْ يَكُونَ عَدْلًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ.
اسی طرح امام شافعی اور امام محمد رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک ضروری ہے کہ ترجمان بھی دو آدمی یا دو عورتیں چاہیے اور وہ بھی عادل ہوں اسی طرح جب قاضی کا قاصد کسی عادل شخص کے پاس جائے تو وہ بھی ان کے نزدیک دو ہونے چاہئیں
وَقَالَ مُحَمَّدٌ وَالشَّافِعِيُّ: لَا يَجُوزُ إلَّا رَجُلَانِ وَامْرَأَتَانِ فَكَذَلِكَ الْعَدْلُ، وَرَسُولُ الْقَاضِي إلَى الْعَدْلِ الْوَاحِدِ يَكْفِي عِنْدَهُمَا." مِنْ الْمُحِيطِ ".
انہی لازمی امور میں سے ہیں کہ قاضی اپنے لیے ایک دیندار امانت دار عادل اور نیک اور صاف ستھرے آدمی کو رازدار بنائے تاکہ شعبہ قضاء میں وہ اس سے مدد لے سکے اور اس کے ذریعے تقویت حاصل کرے ان معاملات کے حل کرنے میں جن کا اس نے ارادہ کیا ہے اور وہ رازدار لوگ بھی قاضی کا بوجھ ہلکا کریں ان معاملات میں جن میں وہ مدد کا محتاج ہوتا ہے اور وہ معاملات جیسے کہ وصایا میں غور و فکر کرنا وقف شدہ چیزوں میں غور و فکر کرنا تقسیم کاری میں غور و فکر کرنا اسی طرح یتیموں اور دیگر لوگوں کے اموال میں غور و فکر کرنا جو غور و فکر کے محتاج ہوتے ہیں۔ 
 وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَسْتَبْطِنَ أَهْلَ الدِّينِ وَالْأَمَانَةِ وَالْعَدَالَةِ وَالنَّزَاهَةِ لِيَسْتَعِينَ بِهِمْ عَلَى مَا هُوَ بِسَبِيلِهِ وَيَقْوَى بِهِمْ عَلَى التَّوَصُّلِ عَلَى مَا يَنْوِيهِ، وَيُخَفِّفُوا عَنْهُ فِيمَا يَحْتَاجُ إلَى الِاسْتِعَانَةِ فِيهِ مِنْ النَّظَرِ فِي الْوَصَايَا وَالْأَحْبَاسِ وَالْقِسْمَةِ وَأَمْوَالِ الْأَيْتَامِ وَغَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا يُنْظَرُ فِيهِ.
انہی لازمی امور میں سے ضروری ہے کہ قاضی نیک اور متقی لوگوں کو اپنا مشیر اور اپنا معاون بنائے اس لیے کہ آدمی کی شخصیت پر اس کے دوستوں اور اس کے غلاموں کے ذریعے ہی استدلال کیا جاتا ہے اور قاضی ان کو حکم دے نرمی و خفت کا مگر بغیر کسی ضعف و کمزوری اور بغیر کسی کمی بیشی کے یعنی ایسی نرمی اور ایسی خفت نہ ہو جس سے امور قضاء میں ضعف اور کمی یا نقصان ہو جائے اس لیے اس کا بھی خیال رکھنا ہے تو ضروری ہے قاضی کے لیے کہ وہ ایسے مشیر اور ایسے معاون چنے جو اس کے ارد گرد رہیں تاکہ جہاں فریقین میں ڈانٹ ڈپٹ اور سرزنش کی ضرورت پڑے تو وہ فریقین کو ڈانٹ ڈپٹ کریں اور مناسب ہے کہ قاضی جہاں تک ہو سکے ان کے ساتھ یعنی فریقین کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرے۔ 
وَمِنْهَا: أَنَّهُ يَجِبُ أَنْ يَكُونَ أَعْوَانُهُ فِي زِيِّ الصَّالِحِينَ، فَإِنَّهُ يُسْتَدَلُّ عَلَى الْمَرْءِ بِصَاحِبِهِ وَغُلَامِهِ، وَيَأْمُرَهُمْ بِالرِّفْقِ وَاللِّينِ فِي غَيْرِ ضَعْفٍ وَلَا تَقْصِيرٍ، فَلَا بُدَّ لِلْقَاضِي مِنْ أَعْوَانٍ يَكُونُونَ حَوْلَهُ لِيَزْجُرُوا مَنْ يَنْبَغِي زَجْرُهُ مِنْ الْمُتَخَاصِمَيْنِ، وَيَنْبَغِي أَنْ يُخَفِّفَ مِنْهُمْ مَا اسْتَطَاعَ.
حضرت حسن بصری رحمۃ اللہ علیہ قاضی کا اپنے لیے پولیس یا اسی طرح محافظ کو چننا اس کو ناپسند کرتے تھے لیکن جب حضرت حسن بصری رضی اللہ تعالی عنہ خود قضاء کے والی بنے اور الجھن میں پڑھ گئے ان معاملات میں جو لوگوں کی طرف سے اس کے یہاں پیش آئے تو پھر فرمانے لگے بادشاہ و قاضی کے لیے وزراء اور اسی طرح معاونین کا ہونا ضروری ہے اور اگر قاضی معاونین سے بے نیاز رہے تو یہ صورت زیادہ ہی بہتر ہے
وَقَدْ كَانَ الْحَسَنُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - يُنْكِرُ عَلَى الْقُضَاةِ اتِّخَاذَ الْأَعْوَانِ، فَلَمَّا وَلِيَ الْقَضَاءَ وَشَوَّشَ عَلَيْهِ مَا يَقَعُ مِنْ النَّاسِ عِنْدَهُ قَالَ: لَا بُدَّ لِلسُّلْطَانِ مِنْ وَزَعَةٍ، وَإِنْ اسْتَغْنَى عَنْ الْأَعْوَانِ أَصْلًا كَانَ أَحْسَنَ.
بعض حضرات نے فرمایا کہ قاضی کے معاونین ثقہ بھروسہ مند اور مامون لوگ ہی ہوں اس لیے کہ بعض مرتبہ فریقین و مخاصمین ان چیزوں پر مطلع ہو جاتے ہیں کہ فریقین میں سے کسی کو ان پر مبتلا ہونا مناسب نہیں ہوتا اور کبھی کبھی منع کے سلسلے میں یا اجازت دینے کے سلسلے میں رشوت دی لی جاتی ہے اس لیے اگر مامون بھروسے مند ہوں گے تو رشوت نہیں لیں گے کسی کو اندر داخل ہونے کی اجازت یا اندر داخل ہونے سے روکنے میں وہ غلطی نہیں کریں گے اسی طرح کبھی کبھی اندیشہ ہوتا عورتوں پر کہ وہ جھگڑا کریں قاضی کے ساتھ اس لیے معاون کی ضرورت پڑتی ہے پس ہر وہ شخص جس سے قاضی اپنے قضاء اور مشورے میں مدد لے ضروری ہے کہ وہ بھروسے مند اور مامون شخص ہوں
قَالَ بَعْضُهُمْ: وَلَا يَكُونُ الْعَوِينُ إلَّا ثِقَةً مَأْمُونًا، لِأَنَّهُ قَدْ يُطْلِعُ الْخُصُومَ عَلَى مَا لَا يَنْبَغِي أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ أَحَدُ الْخَصْمَيْنِ، وَقَدْ يُرْشَى عَلَى الْمَنْعِ وَالْإِذْنِ، وَقَدْ يُخَافُ مِنْهُ عَلَى النِّسْوَانِ إذَا احْتَجْنَ إلَى خِصَامٍ، فَكُلُّ مَنْ يَسْتَعِينُ بِهِ الْقَاضِي عَلَى قَضَائِهِ وَمَشُورَتِهِ لَا يَكُونُ إلَّا ثِقَةً مَأْمُونًا.