قسم ثالث دعوی اور اس کے اقسام کے بیان میں
[الْقِسْمُ الثَّالِثُ فِي ذِكْرِ الدَّعَاوَى وَأَقْسَامِهَا
قسم ثالث کی پہلی فصل دعوی صحیحہ اور اس کے شرائط کے بیان میں ہوگی اور دعوی صحیحہ اور اس کی شرائط میں چند فصلیں آئیں گی پہلی فصل کیفیت دعوی کے بیان میں دوسری فصل تقسیم دعوی کے بیان میں تیسری فصل مدعی علیہم کی تقسیم کے بیان میں چوتھی فصل مدعی لہم کی تقسیم کے بیان میں اور مدعی کے جن گواہوں ک سنا جائے گا اور جن گواہوں کو نہیں سنا جائے گا، پانچویں فصل ان امور کے بیان میں جن کے اثبات پر دعویٰ بہ شئ کی اعت کو موقوف رکھا جاتا ہے،چھٹی فصل دعوی میں وکالت کے حکم کے بیان میں اور جو اس سے متعلق ہوتے ہیں۔
[الْفَصْلُ الْأَوَّلُ فِي بَيَانِ الدَّعَاوَى الصَّحِيحَةِ وَشُرُوطِهَا]
: وَفِيهِ فُصُولٌ: وَكَيْفِيَّةِ تَصْحِيحِ الدَّعْوَى.الْفَصْلُ الثَّانِي: فِي تَقْسِيمِ الدَّعَاوَى.الْفَصْلُ الثَّالِثُ: فِي تَقْسِيمِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ.
الْفَصْلُ الرَّابِعُ: فِي تَقْسِيمِ الْمُدَّعَى لَهُمْ، وَمَا يُسْمَعُ مِنْ بَيِّنَاتِهِمْ وَمَا لَا يُسْمَعُ مِنْهَا.الْفَصْلُ الْخَامِسُ: فِي بَيَانِ مَا يَتَوَقَّفُ سَمَاعُ الدَّعْوَى بِهِ عَلَى إثْبَاتِ أُمُورٍ.الْفَصْلُ السَّادِسُ: فِي حُكْمِ الْوَكَالَةِ فِي الدَّعْوَى وَمَا يَتَعَلَّقُ بِهَا.
یہاں سے پہلی فصل دعوی صحیحہ و دعوی فاسدہ کا بیان ہے۔
الْفَصْلُ الْأَوَّلُ: فِي الدَّعْوَى الصَّحِيحَةِ
دعوی دو قس پر منقسم ہوتا ہے (١) دعوی صحیحہ (٢) دعوی فاسدہ. دعوی کے صحیح ہونے کے لیے چند شرائط ہیں وہ یہ کہ وہ چیز جس کے بارے میں دعوی کیا جا رہا ہے معلوم ہو یعنی مجہول چیز کے بارے میں دعوی نہ ہو بلکہ معلوم چیز کے بارے میں دعوی ہو دوسری شرط یہ ہے کہ مدعی علیہ حاضر ہونا چاہیے اگر مدعی علیہ غائب ہو تو پھر دعوی کی سماعت نہیں کی جائے گی تیسری شرط یہ ہے کہ مجلس قضاء میں مدعی علیہ حاضر ہونا چاہیے چوتھی شرط یہ ہے کہ مدعی علیہ پر کوئی ایسی چیز لازم کی جانی چاہیے جس چیز کا لزوم آتا ہو مثلاً وکالت ہے اکثر و بیشتر وکالت اپنی ذات کے اعتبار سے لازم امور میں سے نہیں ہوتی اس لیے اگر کوئی وکالت کا دعوی کر رہا ہے کہ فلاں نے مجھے وکیل بنایا تھا اور فلاں انکار کر رہا ہے تو اس درمیان اگر اس وکیل نے مؤکل منکر کے لیے کوئی عقد وغیرہ نہ کیا ہو تو پھر ایسا سمجھا جائے گا کہ یہ وکیل ہی نہ تھا کیوں کہ وکالت میں لزوم نہیں اور اس لیے بھی کہ اگر اس نے بالفرض وکیل بنایا بھی ہو تو اب جو وہ انکار کر رہا ہے اس انکار سے گویا وہ اس کی وکالت ختم کر رہا ہے، ہاں اگر وکیل نے اس درمیان مؤکل کے لیے کوئی عقد کیا ہو تو پھر ضمناً وکالت کو عقد لزوم میں سے سمجھا جائے گا اس لیے اب وکیل سے اپنی وکالت پر گواہان طلب کیے جائیں گے، پانچویں شرط یہ ہے کہ مدعی و مدعی علیہ دونوں عاقل بالغ ہونے چاہیے سمجھدار ہونے چاہیے یا اگر عاقل بالغ نہ ہو تو پھر لم از کم ولی یا وصی کا ہونا ضروری ہے،یہ آخری شرط مصنف نے نہیں بیان کی ہے،ان شرائط کے ساتھ دعوی صحیح ہوگا وگرنہ دعوی فاسد ہوگا، چنانچہ مصنف نے فرمایا قاضی صحیح دعوی کو سنے گا دعوی فاسدہ کو نہیں سنے گا اور دعوی کا فساد یا تو اس طور پر ہوگا کہ مدعی مدعی علیہ پر کسی چیز کو لازم کرنے والا نہ ہو یا دعوی میں فساد اس طور پر ہوگا کہ مدعی بہ چیز مجہول ہوگی اپنی ذات میں یعنی جس چیز کے بارے میں دعوی کیا جا رہا ہے، جس چیز کو ثابت کر رہا ہے وہ چیز معلوم ہی نہیں ہے۔
وَالدَّعْوَى تَتَنَوَّعُ إلَى صَحِيحَةٍ وَفَاسِدَةٍ، وَالْقَاضِي إنَّمَا يَسْمَعُ الصَّحِيحَةَ دُونَ الْفَاسِدَةِ، وَفَسَادُ الدَّعْوَى إمَّا أَنْ لَا تَكُونَ مُلْزِمَةً شَيْئًا عَلَى الْخَصْمِ أَوْ يَكُونَ الْمُدَّعِي مَجْهُولًا فِي نَفْسِهِ،
ہاں یہاں پر کچھ چیزیں ہیں جو اگر مجہول ہیں تو پھر بھی ان میں دعویٰ صحیح ہوگا اسی کے بارے میں مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ وصیت کے سلسلے میں ہم کسی کا اختلاف نہیں جانتے یعنی ائمہ حضرات نے وصیت کے سلسلے میں مجہول دعوی کے ساتھ سماعت کی اجازت دی ہے اس لیے اگر کسی نے یہ کہا کہ فلاں شخص نے میرے لیے وصیت کی ہے اگرچہ وہ یہ نہیں بتا رہا کہ کتنے پیسوں کی یا کتنے مال کی وصیت کی ہے صرف اتنا کہہ رہا ہے کہ فلاں نے میرے لیے وصیت کی ہے تو اس بنا پر یہ یہ وصیت ہے اس کا دعوی سنا جائے گا اسی طرح اگر کوئی یہ کہے کہ فلاں شخص نے میرے لیے فلاں حق کا اقرار کیا ہے کتنی چیزوں کا، کتنے پیسوں کا اقرار کیا ہے اگرچہ یہ مجہول ہے پھر بھی اقرار کی وجہ سے اس کا دعوی سنا جائے گا اسی کو مصنف نے فرمایا یہ دونوں وصیت اور اقرار کا دعوی مجہول کے ساتھ بھی صحیح ہے، اسی طرح مجہول کے ساتھ برأت کا دعوی کرنا بھی صحیح ہے مثلا فلاں شخص کہتا ہے کہ فلاں آدمی کے کچھ دینار یا فلاں مال میرے ذمے تھا اس نے مجھے ان دنانیر یا مال سے بری کر دیا ہے کتنے دنانیر معاف کیے، کتنا مال معاف کیا ہے یہ نہیں بتا رہا ہے تو برأت الذمۃ کا دعوی جہالت عن المقدار کے ساتھ قابل سماعت ہوگا، اور بغیر اختلاف کے یہ دعوی صحیح ہے، ہاں اگر کوئی شخص کہے کہ میرے لیے فلاں پر کوئی چیز ہے تو اس کا دعوی نہیں سنا جائے گا اس لیے کہ کتنا ہے یہ بیان نہیں کر رہا ہے مجہول ہے کیونکہ اگر اسے اپنے حق کی مقدار معلوم ہوتی تو اس کے بیان سے نہ رکتا بلکہ اس کو بیان کرتا ہے اس لیے یہ کہنا کہ فلاں پر میرا اتنا قرض ہے کتنا ہے وہ مقدار بیان نہیں کر رہا ہے اس کا مطلب اس کا دعوی نہیں سنا جائے گا۔
وَلَا نَعْلَمُ فِيهِ خِلَافًا إلَّا فِي الْوَصِيَّةِ.فَإِنَّ الْأَئِمَّةَ الثَّلَاثَةَ يُجِيزُونَ دَعْوَى الْمَجْهُولِ فِي الْوَصِيَّةِ، فَإِنْ ادَّعَى حَقًّا مِنْ وَصِيَّةٍ أَوْ إقْرَارٍ فَإِنَّهُمَا يَصِحَّانِ بِالْمَجْهُولِ وَتَصِحُّ دَعْوَى الْإِبْرَاءِ مِنْ الْمَجْهُولِ بِلَا خِلَافٍ، فَلَوْ قَالَ لِي عَلَيْهِ شَيْءٌ لَمْ تُسْمَعْ دَعْوَاهُ؛ لِأَنَّهَا مَجْهُولَةٌ، وَلَعَلَّهُ يُرِيدُ إذَا كَانَ يَعْلَمُ قَدْرَ حَقِّهِ امْتَنَعَ مِنْ بَيَانِهِ،
بعض علماء نے فرمایا اور مصنف فرماتے ہیں کہ میری بھی یہی رائے ہے کہ اگر مدعی یقین رکھتا ہو مدعی علیہ کے ذمے میری کوئی چیز گھیرے ہوئے ہے کتنی ہے مقدار میں جانتا نہیں اس لیے مدعی کا دعویٰ ہے اور مدعی طلب کر رہا ہے کہ مدعی علیہ اقرار یا انکار کے ذریعہ اس ذمہ میں بقیہ چیز کی تفصیل بیان کرے جنس اور مقدار کے ساتھ تو مدعی کا ایسا مجہول دعویٰ سنا جائے گا اس لیے کہ مدعی مدعی سے اقرر و انکار چاہتا ہے اس لیے مدعی علیہ پر جواب دینا لازم ہے اگر مدعی علیہ کو لگے کہ مدعی جھوٹ کہہ رہا ہے تو انکار کردے، پھر مدعی سے گواہ مانگے جائے گے ہان اگر مدعی صحیح کہہ رہا ہے تو مدعی علیہ تفصیل بیان کرے۔
وَقَدْ قَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ فِي هَذِهِ الدَّعْوَى: وَعِنْدِي أَنَّ هَذَا الطَّالِبَ لَوْ أَيْقَنَ بِعِمَارَةِ ذِمَّةِ الْمَطْلُوبِ بِشَيْءٍ وَجَهِلَ مَبْلَغَهُ وَأَرَادَ مِنْ خَصْمِهِ أَنْ يُجَاوِبَهُ عَنْ ذَلِكَ بِإِقْرَارِهِ بِمَا ادَّعَى عَلَيْهِ بِهِ عَلَى وَجْهِ التَّفْصِيلِ وَذَكَرَ الْمَبْلَغَ أَوْ الْجِنْسَ لَزِمَ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ الْجَوَابُ.
اسی طرح اگر مدعی کہے کہ میرے فلاں شخص پر حساب وکتاب کے بعد بچے ہوئے کچھ روپئے ہیں لیکن میں اس کے مقدار نہیں جانتا اور مدعی نے فلاں کے خلاف گواہ بھی قائم کر لیے اس بات پر کہ ہاں ان دونوں کے درمیان حساب و کتاب ہوا ہے اور اس کے پاس اس کا کچھ بچہ پیسہ ہے کتنا بچا ہے اس کے بارے میں انہیں کوئی علم نہیں تو یہ دعوی بھی اس صورت میں سنا جائے گا کیونکہ حساب و کتاب پر تو گواہ قائم ہو گئے باقی اس کے ذمے کچھ بچا ہے اس پر بھی گواہ قائم ہو گئے، اگرچہ مقدار معلوم نہیں ہے اس لئے مقدار کی تفصیل بیان کرنے کے لیے مدعی علیہ کو مکلف بنایا جائے گا اسی طرح اگر مدعی دعوی کرے کسی گھر یا زمین میں اپنے حق کا اور بینہ بھی قائم کرے کہ اس گھر میں یا اس زمین میں مدعی کا حق ہے لیکن کتنا ہے یہ معلوم نہیں ہے تو یہ دعوی بھی سنا جائے گا کیوں کہ گھر میں حق ہونا تو یقینی ہے اس لیے کہ مدعی گواہ پیش کر چکا ہے بس مقدار میں شک ہے اس لیے ( الیقین لا یزول بالشک) کے تحت یقینی امر کو ترجیح دیتے ہوئے اس گھر یا زمین کے بارے میں مدعی کے حق کے دعوی کو سنا جائے گا اور اس پر عمل درآمد کیا جائے گا
أَمَّا لَوْ قَالَ: لِي عَلَيْهِ شَيْءٌ مِنْ فَضْلَةِ حِسَابٍ لَا أَعْلَمُ قَدْرَهُ وَقَامَتْ لَهُ بَيِّنَةٌ أَنَّهُمَا تَحَاسَبَا وَبَقِيَتْ لَهُ عِنْدَهُ بَقِيَّةٌ لَا عِلْمَ لَهُمْ بِقَدْرِهَا فَدَعْوَاهُ فِي هَذِهِ الصُّورَةِ مَسْمُوعَةٌ، وَكَذَا لَوْ ادَّعَى حَقًّا فِي هَذِهِ الدَّارِ أَوْ الْأَرْضِ وَقَامَتْ لَهُ بَيِّنَةٌ أَنَّ لَهُ فِيهَا حَقًّا لَا يَعْلَمُونَ قَدْرَهُ فَهِيَ دَعْوَى مَسْمُوعَةٌ.
No comments:
Post a Comment