[فَصْلٌ عَزْلُ الْقَاضِي نَفْسَهُ]
(فَصْلٌ) :
وَأَمَّا عَزْلُ الْقَاضِي نَفْسَهُ اخْتِيَارًا لَا عَجْزًا وَلَا لِعُذْرٍ فَالظَّاهِرُ عِنْدَ بَعْضِ الْعُلَمَاءِ أَنَّهُ يُمَكَّنُ مِنْ ذَلِكَ وَفِي جَامِعِ الْفُصُولَيْنِ وَقِيلَ: لَا يَنْعَزِلُ الْقَاضِي بِعَزْلِ نَفْسِهِ؛ لِأَنَّهُ نَائِبٌ عَنْ الْعَامَّةِ، وَحَقُّ الْعَامَّةِ مُتَعَلِّقٌ بِقَضَائِهِ، فَلَا يَمْلِكُ عَزْلَ نَفْسِهِ.
مسئلہ چار چیزیں ہیں جب کسی کے اندر پائی جائیں گی تو قاضی خود بخود معزول ہو جائے گا یا قاضی کو اپنے آپ کو معزول کرنا ضروری ہے نمبر ایک قوت بصارت ختم ہو گئی قاضی صاحب کو اب دیکھنے میں پریشانی ہے ایک تو ہے کہ معمولی دکھتا ہے یا دکھنے میں پریشانی تو ہے لیکن تھوڑا تھوڑا دکھتا ہے چشمہ لگا کر دکھتا ہے تو یہ عذر نہیں ہے ہاں عذر یہ ہے کی بالکل ہی نہیں دکھتا اسی طرح قوت سماعت ختم ہو گئی قاضی صاحب سنتے ہی نہیں یا جو سنتے ہیں اس کے برخلاف بولتے ہیں کچھ سنتے ہی نہیں یہاں سے ایک بات بولتے ہیں وہ وہاں سے دوسرا جواب دے رہا ہے اسی طرح عقل اگر زائل ہو جائے یہ بھی عذر ہے اسی طرح سے اگر ردت آجائے یعنی نعوذ باللہ من ذالک قاضی صاحب مرتد ہو جائیں تو پھر قاضی صاحب خود بخود معزول ہو جائیں گے اور ان کا معزول ہونا بھی چاہیے، یہ عبارت مصنف نے خلاصۃ الفتاوی سے نقل کی ہے۔
(مَسْأَلَةٌ) :
أَرْبَعُ خِصَالٍ لَوْ حَلَّتْ بِالْقَاضِي يَنْعَزِلُ: ذَهَابُ الْبَصَرِ، وَالسَّمْعِ، وَالْعَقْلِ، وَالرِّدَّةُ " مِنْ الْخُلَاصَةِ ".
فصل اس فصل میں مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں قاضی کے احکام میں غور فکر کرنے کے لیے فقہاء کو جمع کرنے کی فصل۔
بعض حضرات نے فرمایا کہ جب قاضی کی شکایت امیر کے پاس پہنچے اس کے فیصلے کے سلسلے میں جو قاضی نے کیا تو پھر یہاں امیر وقت قاضی کے ساتھ کیا برتاؤ کرے؟ چنانچہ مصنف نے فرمایا اگر قاضی اپنے احکام میں مامون ہو اپنے فیصلوں میں مامون ہو یعنی لوگ اس کے فیصلوں سے مطمئن ہوں، اسی طرح اپنے حالات سے وہ عادل ہو انصاف پرور ہو اسی طرح اپنے قضاء اپنے، فیصلے کا اس کو بھرپور یقین ہو، بصیرت تام حاصل ہو، اور پورا پخت اعتماد کہ اس نے جو فیصلہ کیا ہے، تو میں سمجھتا ہوں (یہ بعض علماء کا فاعل کہہ رہا ہے) کہ پھر امیر کو ایسے قاضی کے فیصلے کے ساتھ تعرض نہیں کرنا چاہیے اور شکایت کرنے والے کے شکایت کو قبول نہیں کرنا چاہیے کسی ایک کی شکایت آئے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے جبکہ باقی سارے لوگ قاضی کے فیصلے سے مطمئن ہیں اور قاضی اپنے احکام میں مامون ہے اور نہ ہی قاضی کے فیصلوں میں غور و فکر کرنے کے لیے امیر وقت یا امام وقت فقہاء کو بٹھائے گا اگر امیر وقت امام وقت ایسا کرتا ہے تو غلط کرتا ہے اور اگر فقہاء امیر وقت اور امام وقت کی اس سلسلے میں اتباع کرتے ہیں تو وہ فقہاء بھی غلط کرتے ہیں۔
[فَصْلٌ فِي جَمْعِ الْفُقَهَاءِ لِلنَّظَرِ فِي حُكْمِ الْقَاضِي]
(فَصْلٌ) :
قَالَ بَعْضُ الْعُلَمَاءِ: وَإِذَا اُشْتُكِيَ عَلَى الْقَاضِي فِي قَضِيَّةٍ حَكَمَ بِهَا وَرُفِعَ ذَلِكَ إلَى الْأَمِيرِ، فَإِنْ كَانَ الْقَاضِي مَأْمُونًا فِي أَحْكَامِهِ عَدْلًا فِي أَحْوَالِهِ بَصِيرًا بِقَضَائِهِ
فَأَرَى أَنْ لَا يَتَعَرَّضَ لَهُ الْأَمِيرُ فِي ذَلِكَ وَلَا يَقْبَلُ شَكْوَى مَنْ اشْتَكَاهُ، وَلَا يَجْلِسُ الْفُقَهَاءُ لِلنَّظَرِ فِي قَضَائِهِ، فَإِنَّ ذَلِكَ مِنْ الْخَطَأِ إنْ فَعَلَهُ، وَمِنْ الْفُقَهَاءِ إنْ تَابَعُوهُ عَلَى ذَلِكَ،
ہاں اگر قاضی اپنے احکام کے فیصلوں کے سلسلے میں امیر وقت یا امام وقت کے یہاں متہم ہو اپنے حالات میں غیر عادل ہو اور اسی طرح اپنے فیصلوں کے سلسلے میں مجہول ہو یعنی پتہ ہی نہیں چل رہا ہے کہ وہ درست فیصلہ کرتا ہے یا نہیں کرتا ہے اس کی عدالت ظاہر نہیں ہوتی نہ اس کا فسق ظاہر ہو تو ایسی صورت میں امام وقت کو چاہیے جب لوگ اس کی شکایت کریں تو اسے فورا معزول کرے اور اس کی جگہ دوسری کسی قاضی کو دوسرے کسی شخص کو جو قاضی بننے کی صلاحیت رکھتا ہو اسے عہدے پر بٹھائے تاکہ وہ عہدہ بر آ ہو سکے۔
وَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ مُتَّهَمًا فِي أَحْكَامِهِ أَوْ غَيْرَ عَدْلٍ فِي حَالِهِ أَوْ جَاهِلًا بِقَضَائِهِ فَلْيَعْزِلْهُ وَيُوَلِّ غَيْرَهُ.
اور اگر امیر وقت و امام وقت نے قاضی کے فیصلوں سے لاعلم اور انجان ہو کہ کیا وہ فیصلہ درست کرتا ہے یا غلط کرتا ہے اور اس نے قاضی کے شہر کے فقہاء کو بٹھایا اور انہیں حکم دیا کہ اس قاضی کے فیصلوں میں غور و فکر کرو، دراں حالیکہ وہ فقہائے شہر بھی اس قاضی کے فیصلوں سے بے خبر تھے انہیں بھی پتہ نہیں تھا کہ وہ درست فیصلہ کرتا ہے یا غلط فیصلہ کرتا ہے یا یہ فقہائے شہر قاضی کے فیصلوں میں غور و فکر کرنے کو ناپسند کرتے ہوں لیکن امیر وقت و سلطان وقت کے حکم کی اتباع کرتے ہوئے انہوں نے قاضی کے فیصلے میں غور و فکر کیا اور اس کی چھان بین کی تو انہوں نے مناسب سمجھا کہ قاضی وقت کے فیصلے کو فسخ کیا جانا چاہیے چنانچہ امیر وقت کو چاہیے کہ فقہائے شہر کے قول کو قبول کرتے ہوئے قاضی کے فیصلہ کو فسخ کر دے یا وہ قاضی وقت کے فیصلے کو ان فقہائے شہر کے فیصلوں کی طرف موڑ دے یعنی جو فقہاء نے فیصلہ سنایا اب وہ فیصلہ نافذ کرے اور قاضی وقت کے فیصلے کو توڑ دے یا یہ کہئے کہ قاضی وقت کے فیصلے کو فقہائے شہر کے فیصلے کی طرف لوٹائے اب یہاں دو فیصلے ہوئے ایک فیصلہ ہوا جو قاضی نے کیا تھا جسے فقہاء کے مشورے سے امیر وقت نے فسخ کیا دوسرا فیصلہ اب یہ ہوا جو فقہاء شہر نے کیا جسے سلطان نے اب نافذ کیا ہے یہ دو فیصلے ہوئے، میں سمجھتا ہوں ( یہ بھی وہی قال بعض العلماء کا فاعل کہہ رہا ہے) کہ اس شخص کے لیے جو اس قاضی و فقہاء شہر کے بعد فیصلہ کرے یعنی یہ یہ معاملہ پھر تیسرے قاضی کے پاس گیا، پہلا فیصلہ تو قاضی وقت نے کیا تھا دوسرا فیصلہ فقہائے شہر نے کیا جس کو بعد میں امیر وقت نے نافذ کیا فرماتے ہیں اب یہ فیصلہ اگر کسی تیسرے قاضی کے پاس گیا تو وہ فقہائے شہر کے فیصلوں پر غور و فکر نہیں کرے گا بلکہ قاضی اول کے فیصلے پر غور و فکر کرے گا پس اگر قاضی وقت کا فیصلہ درست تھا بغیر کسی اختلاف کے یا قاضی وقت کا فیصلہ ان بعض اہل علم کے قول کے مطابق تھا جنہوں نے اس مسئلے میں اختلاف کیا ہے اور قاضی صاحب نے ان میں سے بعض کی رائے کے مطابق فیصلہ کیا تھا یا قاضی کا فیصلہ ماضی میں گزرے ائمہ مجتہدین میں سے بعض کی رائے کے مطابق تھا جنہوں نے اس معاملے میں اختلاف کیا ہے اور قاضی صاحب نے انہی کے رائے میں سے کسی کے رائے لے کر فیصلہ کیا تھا تو پھر قاضی ثالث یہ تیسرا فیصلہ کرنے والا قاضی، قاضی اول کے فیصلے کو برقرار رکھے گا اسے ہی نافذ کرے گا اور وہ فیصلہ جو امیر وقت امام وقت اور فقہائے شہر نے کیا تھا دوسرا فیصلہ اسے فسخ کر دے گا ہاں اگر قاضی اول نے جو فیصلہ کیا تھا وہ صریح غلط تھا تو پھر یہ قاضی ثالث وہ فیصلہ جو امیر وقت نے اور فقہائے شہر نے کیا ہے اسے برقرار رکھے گا اسے ہی نافذ کرے گا۔
اور اگر قاضی اول کا فیصلہ صریح غلط تھا یا اس فیصلے میں بعض ایسی چیزیں قاضی سے معلوم ہو رہی ہے جو قاضی کے مناسب نہیں ہوتی یعنی فیصلہ تو درست ہے بس کسی خاص جزء میں قاضی کا قلم کھسک گیا ہے اور امیر نے اسے معزول بھی نہیں کیا بس صرف فقہائے شہر سے اتنا چاہا ہے اول کے فیصلے کی تصحیح کر دیں تاکہ اسے نافذ کیا جائے تو اس نیت سے فقہائے شہر کو قاضی اول کے فیصلے میں بالکل غور و فکر کرنے کی اجازت ہے اس کی تصحیح کرنے کی اجازت ہے، اب اگر فقہاء شہر کو لگ رہا ہے قاضی اول نے صریح غلطی کی ہے تو پھر ان کو چاہیے کہ قاضی اول کے فیصلے کو رد کر دیں۔
قَالَ: وَلَوْ جَهِلَ الْأَمِيرُ فَأَجْلَسَ فُقَهَاءَ بَلَدِهِ وَأَمَرَهُمْ بِالنَّظَرِ فِي تِلْكَ الْحُكُومَةِ وَجَهِلُوهُمْ أَيْضًا أَوْ أُكْرِهُوا عَلَى النَّظَرِ فَنَظَرُوا فَرَأَوْا فَسْخَ ذَلِكَ الْحُكْمِ فَسَخَهُ السُّلْطَانُ أَوْ رَدَّ قَضِيَّتَهُ إلَى مَا رَأَى الْفُقَهَاءُ، وَأَرَى لِمَنْ نَظَرَ فِي هَذَا بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يَنْظُرَ فِي الْحُكْمِ الْأَوَّلِ، فَإِنْ كَانَ صَوَابًا فَلَا اخْتِلَافَ فِيهِ أَوْ كَانَ مِمَّا اخْتَلَفَ فِيهِ أَهْلُ الْعِلْمِ أَوْ مِمَّا اخْتَلَفَ فِيهِ الْأَئِمَّةُ الْمَاضُونَ فَأَخَذَ بِبَعْضِ ذَلِكَ فَحُكْمُهُ مَاضٍ، وَالْفَسْخُ الَّذِي تَكَلَّفَهُ الْأَمِيرُ وَالْفُقَهَاءُ بَاطِلٌ، وَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ الْأَوَّلُ خَطَأً بَيِّنًا أَمْضَى فَسْخَهُ وَأَجَازَ مَا فَعَلَهُ الْأَمِيرُ وَالْفُقَهَاءُ، وَلَوْ كَانَ الْحُكْمُ الْأَوَّلُ خَطَأً بَيِّنًا أَوْ لَعَلَّهُ قَدْ عُرِفَ مِنْ الْقَاضِي بَعْضُ مَا لَا يَنْبَغِي مِنْ الْقُضَاةِ وَلَكِنَّ الْأَمِيرَ لَمْ يَعْزِلْهُ وَأَرَادَ النَّظَرَ فِي تَصْحِيحِ ذَلِكَ الْحُكْمِ بِعَيْنِهِ فَحِينَئِذٍ يَجُوزُ لِلْفُقَهَاءِ النَّظَرُ فِيهِ، فَإِذَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّ حُكْمَهُ خَطَأٌ بَيِّنٌ فَلْيَرُدَّهُ.
اور اگر امیر کے پاس ہی فقہائے شہر کو اختلاف ہو گیا بعض فقہاء شہر کی ایک رائے ہے دوسری بعض کی دوسری رائے ہے تو پھر امیر وقت و سلطان وقت کو چاہیے کہ وہ اکثریت کی طرف نہ جائے یعنی یہ نہ دیکھے کہ اکثر فقہاء کی رائے کیا ہے اور کم کس طرف ہے بلکہ امیر وقت کو چاہیے کہ ان دلائل کی طرف دیکھے جن میں فقہائے شہر کو اختلاف ہو گیا ہے اور سلطان وقت جن دلائل کو زیادہ مضبوط پائے ان دلائل کی بنا پر فیصلہ کر دے اور فیصلے کو نافذ کر دے جن دلائل کو وہ کمزور پاتا ہے ان دلائل کی وجہ سے ان فقہاء کی رائے کو رد کرے اصل میں فقہ کا ایک اصول ہے جیسا کہ القواعد الفقہ میں ہے کہ دو جھگڑنے والوں کے سلسلے میں اس جھگڑے میں جو خاص چیز ہے اسے دیکھا جاتا ہے اکثریت اور قلت کی طرف نہیں دیکھا جاتا ہے اسی طرح یہاں بھی ہے کہ قاضی کثرت کی طرف نہیں جائے گا بلکہ خاص وہ چیز دیکھے گا کہ کس وجہ سے ان کا اختلاف ہو رہا ہے کن دلائل کی بنیاد پر اختلاف ہو رہا ہے جن کے دلائل مضبوط ہوں سلطان وقت ان کی رائے پر فیصلہ کر دے اور جن کے دلائل کمزور ہوں ان کو رد کر دیا جائے گا۔
یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ امیر وقت کے پاس مشورہ دینے والے (ایڈوائزر) کا اختلاف ہو جائے تو ایسے میں امیر وقت کے لیے مناسب نہیں کہ وہ اکثر مشورہ دینے والوں کی طرف یعنی کثرت کی طرف جائے کہ زیادہ کس طرف جا رہے ہیں بلکہ قاضی وقت کو چاہیے کہ ان میں سے جن کا مشورہ اسے مناسب لگ رہا ہے زیادہ اچھا لگ رہا ہو دلائل کی بنیاد پر تو ان کی رائے پر فیصلہ کر دے قلت اور کثرت کی طرف نہ جاوے، اسی طرح یہاں بھی ہے اگر فقہاء شہر میں اختلاف ہو گیا بعض کی رائے کچھ اور ہو جبکہ بعض حضرات کی رائے ان سے مختلف ہو تو یہاں بھی قلت اور کثرت کی طرف قطع نظر کر کے یہ دیکھا جائے گا کہ کن کے دلائل زیادہ مضبوط ہیں، اور کن کے دلائل کمزور ہیں انہیں رد کیا جائے گا۔
قَالَ: وَإِنْ اخْتَلَفُوا عَلَى الْأَمِيرِ فَرَأَى بَعْضُهُمْ رَأْيًا، وَرَأَى بَعْضُهُمْ رَأْيًا غَيْرَهُ لَمْ يَمِلْ مَعَ أَكْثَرِهِمْ وَلَكِنْ يَنْظُرُ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ، فَمَا رَآهُ صَوَابًا قَضَى بِهِ وَأَنْفَذَهُ وَكَذَلِكَ يَنْبَغِي لِلْقَاضِي أَنْ يَفْعَلَ ذَلِكَ، اخْتَلَفَ عَلَيْهِ الْمُشَاوِرُونَ مِنْ الْفُقَهَاءِ، وَقَدْ تَقَدَّمَ قَرِيبًا.
اب یہاں سے مصنف فرماتے ہیں کہ ابھی کسی قاضی نے کوئی فیصلہ نہیں کیا تھا کسی خاص جھگڑے کے سلسلے میں یعنی فیصلہ سنانے سے پہلے ہی امیر وقت نے چند فقہاء کو اس کے ساتھ بٹھایا تا کہ قاضی صاحب جب فیصلہ کرے تو ان فقہاء کی موجودگی میں کرے اور یہ فقہاء اس فیصلے پر غور و فکر کریں گے چناں چہ امیر وقت نے قاضی کو مکلف بنایا کہ آپ ان فقہاء کی موجودگی میں فیصلہ کیجئے گا لیکن قاضی صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تو فیصلہ کر دیا ہے تو مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ ہم نے تو فیصلہ کر دیا ہے یہ درست نہیں ہے اس لیے کہ قاضی کو منع کیا گیا ہے تنہا اس معاملے میں غور و فکر کرنے سے اور یہ اس پر لازم ہو چکا ہے یعنی قاضی کے اس حکم کی پابندی اس پر لازم ہو چکی ہے یہ ایسا ہے کہ ایک قاضی معزول ہوا اور معزول ہونے کے بعد وہ کہہ رہا ہے کہ میں فلاں کے لیے فلاں چیز کا فیصلہ کر چکا ہوں، جبکہ وہ معزول ہو چکا ہے اسی طرح یہاں بھی ہے جب اسے روکا گیا ہے تنہا فیصلہ کرنے سے گویا اس کی دائر قضاء محدود کر دیا گیا ہے وہ فیصلہ جب ہی کر سکتا ہے جب وہ فقہاء اس کی مجلس میں حاضر ہوں گے، تنہاء نہیں کر سکتا ہے اس لیے اگر وہ کہہ رہا ہے کہ میں فیصلہ کر چکا ہوں تو اس کے فیصلے کو قبول نہیں کیا جاوے گا، چنانچہ جس طرح قاضی کا یہ کہنا صحیح نہیں ہے معزول ہونے کے بعد کہ میں فلاں شخص کے لیے فلاں چیز کا فیصلہ کر چکا ہوں مگر یہ کہ قاضی اس بات پر گواہ پیش کر دے کہ میں نے معزول ہونے سے پہلے ہی فلاں شخص کے لیے فلاں چیز کا فیصلہ کیا تھا اسی طرح یہاں بھی ہے کہ قاضی اگر کہہ رہا ہے جبکہ اس کو امیر وقت نے کہا تھا کہ فقہاء کی موجودگی میں فیصلہ کیجئے گا اب وہ کہہ رہا ہے کہ میں تو فیصلہ کر چکا ہوں تو اس کی یہ بات قبول نہیں کی جائے گی ہاں اگر وہ گواہ پیش کر دے کہ امیر وقت کے حکم سے پہلے ہی میں فیصلہ کر چکا ہوں تو تب معاملہ الگ ہے۔
وَلَوْ كَانَ الْقَاضِي لَمْ يَكُنْ فَصَلَ فِي الْحُكُومَةِ بَعْدُ فَصْلًا فَلَمَّا أَجْلَسَ مَعَهُ غَيْرَهُ لِلنَّظَرِ فِيهَا قَالَ: قَدْ حَكَمْتُ، لَمْ يُقْبَلْ ذَلِكَ مِنْهُ؛ لِأَنَّ الْمَنْعَ عَنْ النَّظَرِ فِي تِلْكَ الْحُكُومَةِ وَحْدَهَا قَدْ لَزِمَهُ بِمَنْزِلَةِ مَا لَوْ عُزِلَ، ثُمَّ قَالَ: قَدْ كُنْت حَكَمْت لِفُلَانٍ عَلَى فُلَانٍ، لَمْ يَكُنْ ذَلِكَ بِقَوْلِهِ إلَّا بِبَيِّنَةٍ تَقُومُ عَلَى ذَلِكَ.
اور اگر یہ قاضی جس کی شکایت کی گئی ہے کسی اور شہر سے تعلق رکھتا تھا کہ یہ امیر وقت اس شہر کا امیر نہیں یا یہ قاضی، قاضی القضاۃ تھا امیر وقت کے شہر کے علاوہ کا تو اس کا حکم بھی وہی ہے جو ابھی گزرا ہے یعنی اگر وہ قاضی اپنی عدالت میں معروف و مشہور ہو اور اپنے احوال میں درست ہو تو پھر اسے اپنے عہدے پر برقرار رکھے گا اور اس کے متعلق شکایتوں کو قبول نہیں کرے گا اور نہ اس کے ساتھ مزید فقہاء کو بٹھانے کی بات وہ اپنے نوشتے میں فقہاء کی جانب لکھے گا، اور نہ اس طرح کا برتاؤ وہ کسی بھی قاضی کے ساتھ کرے مگر اس قاضی کے لیے جس کی شکایت امیر کے پاس پہنچے کہ وہ اپنی رائے میں منفرد رہتے ہیں یا وہ ان میں سے کسی کی رائے ترک کرتا ہے جو اہل رائے ہے، تو پھر اس کے لیے امیر لکھے گا کہ وہ اپنے احکام میں اور اپنے امور میں فقہاء سے مشورہ کرے بغیر کسی فقیہ کا نام متعین کیے ہوئے یعنی کسی کا نام متعین کیے بغیر ہی امیر اس قاضی کو لکھے گا کہ آپ اپنے امور اور اپنے فیصلوں کے وقت فقہاء کو بٹھائیے اور ان سے رائے لیتے رہیے لیکن کسی کا نام متعین نہ کرے،اور امیر خود کسی کو متعین کر کے اس کے ساتھ نہ بٹھائے ۔
قَالَ: وَلَوْ كَانَ الْقَاضِي الْمُشْتَكَى فِي غَيْرِ بَلَدِ الْأَمِيرِ الَّذِي هُوَ بِهِ وَحَيْثُ يَكُونُ قَاضِي الْقُضَاةِ، فَهَذَا كَمَا تَقَدَّمَ، فَإِنْ كَانَ الْقَاضِي مَعْرُوفًا مَشْهُورًا بِالْعَدْلِ فِي أَحْكَامِهِ وَالصَّلَاحِ فِي أَحْوَالِهِ أَقَرَّهُ وَلَمْ يَقْبَلْ عَلَيْهِ شَكْوَى وَلَمْ يَكْتُبْ بِأَنْ يُجْلِسَ مَعَهُ غَيْرَهُ، وَلَا يَفْعَلُ هَذَا بِأَحَدٍ مِنْ قُضَاتِهِ إلَّا أَنْ يَشْتَكِيَ مِنْهُ اسْتِبْدَادًا بِرَأْيٍ أَوْ تَرْكِ رَأْيِ مَنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يُشَاوِرَهُ، فَيَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَكْتُبَ إلَيْهِ أَنْ يُشَاوِرَ فِي أُمُورِهِ وَأَحْكَامِهِ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُسَمِّيَ لَهُ أَحَدًا أَوْ يُجْلِسَ مَعَهُ أَحَدًا.
پس اگر قاضی عدالت کے ساتھ مشہور نہ ہو اور لوگوں کو بھی پسند نہ ہو پھر اس کی شکایت امیر وقت یا امام وقت کے پاس آ جائے تو امیر وقت اس قاضی کے شہر کے لوگوں میں سے جو نیک لوگ ہوں گے ان کے نام ایک رقعہ لکھے گا اور نیک لوگوں کو اس قاضی کے ساتھ مقرر کرے گا تاکہ وہ اس سے سوالات پوچھیں اور اس کے متعلق تحقیق کریں پس اگر وہ اس قاضی کو ایسا پائیں جیسا کہ قاضی کو ہونا چاہیے تو امام وقت قاضی کو اپنی عہدے پر برقرار رکھے گا اور اگر اس سے برخلاف پائیں جیسا کہ امیر کے پاس شکایت پہنچی تھی، تو پھر امیر وقت قاضی کو معزول کرے گا۔
وَإِنْ كَانَ ذَلِكَ الْقَاضِي غَيْرَ مَشْهُورٍ، بِالْعَدْلِ وَالرِّضَا وَتَظَاهَرَتْ الشَّكِيَّةُ عَلَيْهِ كَتَبَ إلَى رِجَالٍ صَالِحِينَ مِنْ أَهْلِ بَلَدِ ذَلِكَ الْقَاضِي فَأَقَرَّ بِهِمْ لِلْمَسْأَلَةِ عَنْهُ وَالْكَشْفِ عَنْ حَالِهِ، فَإِنْ كَانَ عَلَى مَا يَجِبُ أَمْضَاهُ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَ ذَلِكَ عَزَلَهُ.
اب یہاں سے یہ حکم بیان کر رہے ہیں کہ اگر امیر وقت نے لوگوں کو ( الناس) سے مراد یہاں عام لوگ نہیں بلکہ فقہاء ہے چنانچہ اگر امام وقت نے فقہاء کو حکم دیا کہ وہ قاضی کے ساتھ فلاں متعین معاملے میں یا فلاں جھگڑے میں بیٹھیں اور اکٹھے ہو کر وہ اس معاملے پر غور کریں چنانچہ فقہاء قاضی کے ساتھ بیٹھ گئے لیکن ہوا ایسا کہ ان کی کوئی ایک رائے متعین نہیں ہوئی بلکہ ان کی رایوں میں اختلاف ہوا تو یہاں دو صورتیں ہو سکتی ہیں یا تو امام وقت نے قاضی اور امناء (مراد ہے یہاں فقہاء) کو حکم دیا ہوگا کہ فقہاء کو اپنے ساتھ بٹھاؤ پھر جو رائیں آپ کے سامنے آئیں ان رائیوں میں سے آپ کسی ایک پر حکم دیجیے گا یا دوسری صورت صرف یہ ہو سکتی ہے کہ امام وقت نے قاضی کو بتایا ہو کہ آپ لوگ فقہاء کو اپنے ساتھ بٹھائیے اور مشورہ کیجئے اور جو مجتمع رائے آپ کے پاس آ جائے یعنی جس پر سارے لوگ اتفاق کریں اس رائے کو یا اگر اختلاف ہو جائے تو مختلف فیہ رائے دونوں طرح کی رائیوں کو میرے پاس بھیج دیجئے گا تو انہوں نے ایسا ہی کیا فقہاء نے مشورہ کیا قاضی کے ساتھ مل کر پھر ان کے درمیان اختلاف ہوا تو انہوں نے مختلف فیہ رائے یا اتفاق ہوا تو متفق رائے کو امیر وقت کے پاس بھیج دیا امام وقت کے پاس بھیج دیا تو امام وقت ان رائیوں میں سے مجتمع رائے پر خود حکم نافذ کرے گا۔ یا اگر مختلف فیہ رائیں ہوں تو امیر وقت اپنی صوابدید سے فیصلہ کرے گا۔
وَإِنْ كَتَبَ الْأَمِيرُ إلَى نَاسٍ يَأْمُرُهُمْ بِالْجُلُوسِ مَعَهُ فِي تِلْكَ الْحُكُومَةِ فَفَعَلُوا فَاخْتَلَفَ رَأْيُهُمْ فِيهَا، فَإِنْ كَانَ السُّلْطَانُ كَتَبَ إلَى ذَلِكَ الْقَاضِي وَالْأُمَنَاءِ أَنْ يَرْفَعُوا إلَيْهِ مَا اجْتَمَعُوا عَلَيْهِ وَاخْتَلَفُوا فِيهِ فَفَعَلُوا ذَلِكَ، ثُمَّ كَانَ هُوَ مُنَفِّذَ الْحُكْمِ فِي ذَلِكَ فَذَلِكَ لَهُ.
اور اگر قاضی نے فقہاء کو لکھا تھا کہ وہ قاضی کے ساتھ بیٹھیں اور کسی معاملے میں غور و فکر کریں اور کوشش کریں اور پھر قاضی کو بتایا تھا کہ آپ کو ان میں سے جو رائیں آے گیں ان میں سے جو سب سے افضل رائے اور اچھی رائے آپ کو معلوم ہو، مناسب رائے معلوم ہو اس پر فیصلہ کیجئے گا مگر ہوا یوں کہ قاضی صاحب نے جو اس کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے بعض کی رائے کو لے کر فیصلہ کیا، تو قاضی کے لیے جائز ہے اور جس پر اس رائے کے ذریعے حکم دیا جا رہا ہے اس پر اس حکم کی پابندی لازم ہے اس لیے کہ امیر وقت نے شرط نہیں لگائی تھی کہ آپ کو تمام کی رائے لے کر فیصلہ کرنا ہے بلکہ امیر وقت نے کہا تھا جو رائے آپ کو مناسب لگے اس لیے اگر وہ بعض کی رائے سے بھی فیصلہ کرتا ہے تو اس کا حکم نافذ ہو جائے گا اگرچہ وہ سارے کسی حکم پر متفق نہ ہوئے تھے۔
وَإِنْ كَتَبَ إلَيْهِمْ أَنْ يَنْظُرُوا مَعَهُ ثُمَّ يَجْتَهِدُوا وَيَحْكُمُ بِأَفْضَلِ مَا يَرَاهُ مَعَهُمْ جَازَ لَهُ أَنْ يَحْكُمَ بِاَلَّذِي رَآهُ مَعَ بَعْضِ مَنْ جَلَسَ مَعَهُ، وَيَكُونُ ذَلِكَ لَازِمًا لِمَنْ حُكِمَ بِهِ عَلَيْهِ، وَإِنْ لَمْ يَجْتَمِعْ مَنْ أُمِرَ بِالنَّظَرِ مَعَهُ فِي ذَلِكَ.
اور فرماتے ہیں اگر اس نے حکم دیا ویسا ہی جیسا اس نے فقہاء کو اس کے ساتھ بٹھانے سے پہلے کیا تھا جبکہ فقہاء کو اس کے ساتھ اس لیے بٹھایا تھا تاکہ وہ اپنے دیے ہوئے حکم کے خلاف دوسرا حکم دے فقہاء کی رائے کے ساتھ لیکن اگر وہ اب بھی وہی حکم دے رہا ہو جسا کہ فقہاء کی مجلس بٹھانے سے پہلے دے رہا تھا تو مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ مناسب نہیں کہ وہ ویسا ہی حکم دے کیونکہ پھر تو یہ وہی حکم ہو گیا جس کی وجہ سے شکایتیں آئی تھیں، یہ تو اب بھی وہی حکم دے رہا ہے، لیکن مناسب یہ ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی رائے اور فقہاء کی رائے کسی بڑے قاضی کے پاس لکھے تاکہ وہ اس کے بارے میں غور و خوض کر کے کوئی حکم صادر فرمائیں، جس حکم کو وہ مناسب سمجھے یا جو اس حکم کے علاوہ ہو۔
وَإِنْ كَانَ حُكْمُهُ مِثْلَ مَا كَانَ قَبْلَ أَنْ يَجْلِسُوا مَعَهُ وَقَدْ اجْتَمَعُوا عَلَى خِلَافِهِ لَمْ أَرَ أَنْ يَحْكُمَ بِذَلِكَ؛ لِأَنَّهُ الْآنَ عَلَى مِثْلِ مَا اُشْتُكِيَ مِنْهُ، وَلَكِنْ يَكْتُبُ بِذَلِكَ مِنْ رَأْيِهِ وَرَأْيِ الْقَوْمِ إلَى الْأَمِينِ، فَيَكُونُ هُوَ الْآمِرَ بِاَلَّذِي يَرَاهُ أَوْ الْحُكْمُ فِيهِ دُونَهُمْ.
No comments:
Post a Comment