آٹھویں نوع۔چھٹکارے اور خلاصی کے اسباب کے درآمد کرنے میں قاضیوں کے تصرفات حکم کو شامل نہیں ہے اسی طرح مستحقین کے حقوق وصول پانے کے سلسلے میں قاضیوں کے تصرفات حکم نہیں ہے مثلا کسی کو کسی جرم کے بدلے میں قید کرنا یا کسی کو قید سے چھڑانا، اسی طرح جو حضرات کفیل ہوتے ہیں ان سے حقوق طلب کرنا ان سے حق لینا اس سلسلے میں قاضیوں کے فیصلے حکم نہیں ہوتے، اسی طرح حق والوں کے لیے کوئی چیز رہن رکھنا،مدت قید کی مقدار کو متعین کرنا مہینوں یا سال یا دن وغیرہ کے ذریعے سے ان تمام اموت کے سلسلے میں قاضیوں کا فیصلہ حکم نہیں ہوتا، بلکہ دوسرا قاضی حسب تقاضۂ شرعی ان فیصلوں کو بدل بھی سکتا ہے اور ترمیم بھی کر سکتا ہے۔
النَّوْعُ الثَّامِنُ: تَصَرُّفَاتُ الْحُكَّامِ بِتَعَاطِي أَسْبَابِ الِاسْتِخْلَاصِ وَوُصُولِ الْحُقُوقِ إلَى مُسْتَحَقِّيهَا مِنْ الْحَبْسِ وَالْإِطْلَاقِ وَأَخْذِ الْكُفَلَاءِ الْأَمْلِيَاءِ وَأَخْذِ الرُّهُونِ لِذَوِي الْحُقُوقِ وَتَقْدِيرِ مُدَّةِ الْحَبْسِ بِالشُّهُورِ وَغَيْرِ ذَلِكَ.
پس اس جیسے تصرفات جیسی کیسی صورت میں ہوں حتمی حکم نہیں ہوتا ہے، چنانچہ پہلے قاضی کے علاوہ دوسرے قاضی کے لیے ان کا بدلنا جائز ہوگا اور شرعی قوانین کے ذریعے ان کو باطل کرنے کا اختیار ہوگا جس طرح سے شرعی مصلحت تقاضا کرتی ہو اس شرعی مصلحت کے اعتبار سے دوسرا قاضی پہلے قاضی کے فیصلے کو بدل سکتا ہے کیونکہ پہلے قاضی کا فیصلہ ان میں حتمی حکم نہیں ہوتا ہے، حتمی فیصلہ نہیں ہوتا۔
فَهَذِهِ التَّصَرُّفَاتُ كَيْفَمَا تَقَلَّبَتْ لَيْسَتْ حُكْمًا لَازِمًا، وَلِغَيْرِ الْأَوَّلِ تَغْيِيرُ ذَلِكَ وَإِبْطَالُهُ بِالطُّرُقِ الشَّرْعِيَّةِ عَلَى مَا تَقْتَضِيه الْمَصْلَحَةُ شَرْعًا.
نویں نوع۔حجتوں کی صورتوں میں قاضی کا تصرف حکم کو شامل نہیں ہوتا اس طور پر کہ قاضی کہے میں تیرے گواہ کو نہیں سنوں گا اس لیے کہ آپ نے گواہ کو پیش کرنے سے پہلے قسم کھا لی ہے باوجود کہ آپ کو گواہ پیش کرنے کا علم تھا اور گواہ کو حاضر کرنے پر آپ کو قدرت بھی تھی کوئی رکاوٹ نہ تھی پھر بھی آپ نے گواہ حاضر نہیں کیے اب میں آپ کے بینہ نہیں سنوں گا تو یہ قاضی کا تصرف حتمی فیصلہ نہیں قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہے اس لیے اگر یہی معاملہ دوسرے کسی قاضی کے پاس جاتا ہے تو وہ وہ چیزیں کر سکتا ہے جو پہلے قاضی نے نہیں کی یعنی وہ اس کے گواہوں کو سنے گا، دوسرے قاضی کے پاس یہ فیصلہ نیا فیصلہ ہے، یہ مسئلہ مصنف نے پہلے بھی بیان کیا ہے یہ کہہ کر کہ یہ قاضی کی جانب سے حکم اور ختمی فیصلہ نہیں ہوتا۔
النَّوْعُ التَّاسِعُ: التَّصَرُّفُ فِي أَنْوَاعِ الْحِجَاجِ بِأَنْ يَقُولَ: لَا أَسْمَعُ الْبَيِّنَةَ؛ لِأَنَّك حَلَفْت قَبْلَهَا مَعَ عِلْمِك بِهَا وَقُدْرَتِك عَلَى إحْضَارِهَا، فَلِغَيْرِهِ مِنْ الْحُكَّامِ أَنْ يَفْعَلَ مَا تَرَكَهُ، وَقَدْ تَقَدَّمَ هَذَا وَمَا بَعْدَهُ مِنْ الصُّوَرِ الَّتِي لَيْسَتْ بِحُكْمٍ.
دسویں نوع۔ تصرفات میں سے، فیصلوں کے سلسلے میں نائبین کو ولایت دینا یا محررین (لکھنے والوں)،تقسیم کرنے والوں، مترجمین( ترجمہ کرنے والوں)مقومین (قائم کرنے والوں) اسی طرح یتیموں کے اموال میں فیصلہ کرنے کے لیے امناء یعنی امین لوگوں کو مقرر کرنا، اسی طرح دربان اور نگران وغیرہ کو قائم کرنا اور غائبین اور مجنون لوگوں کے مال کے سلسلے میں امانت دار لوگوں کو مقرر کرنا، مذکورہ بالا جتنے بھی تصرفات ان جگہوں میں قاضی کی جانب سے پائے جائیں گے وہ حکم نہیں ہوتے ہیں،چنانچہ دوسرے قاضی کے لیے جائز ہوگا پہلے قاضی کے فیصلے کو توڑ دے اور اس کو شرعی قوانین کے ذریعے تبدیل کر دے جیسی شرعی مصلحت ہو مگر صرف شرعی قوانین کے طور پر نہ کہ خواہشات اور اپنی خود غرضی کے لیے
النَّوْعُ الْعَاشِرُ مِنْ التَّصَرُّفَاتِ: تَوْلِيَةُ النُّوَّابِ فِي الْأَحْكَامِ وَنَصْبُ الْكُتَّابِ وَالْقُسَّامِ وَالْمُتَرْجِمِينَ وَالْمُقَوِّمِينَ وَأُمَنَاءِ الْحُكْمِ لِلْأَيْتَامِ وَإِقَامَةِ الْحُجَّابِ وَالْوَزَعَةِ وَنَصْبُ الْأُمَنَاءِ فِي أَمْوَالِ الْغُيَّابِ وَالْمَجَانِينِ، فَهَذَا وَمَا أَشْبَهَهُ لَيْسَ بِحُكْمٍ فِي هَذِهِ الْمَوَاطِنِ، وَلِغَيْرِهِ مِنْ الْحُكَّامِ نَقْضُ ذَلِكَ وَتَبْدِيلُهُ بِالطُّرُقِ الشَّرْعِيَّةِ لَا بِمُجَرَّدِ التَّشَهِّي وَالْغَرَضِ.
گیارہویں نوع۔ یہ مسئلہ بھی مصنف نے پہلے بیان کر دیا ہے کہ ذوات کے سلسلے میں صفات کا اثبات یعنی کسی ذات و شخصیت میں صفات کے اثبات کا تصرف من جانب قاضی حکم نہیں ہوتا لیکن یہاں پر اتنا مزید بیان فرما رہے ہیں کہ ذات میں ان صفات کو ثابت کرنا جو اموال اور اس طرح کی دیگر چیزوں میں تصرف کو واجب کرتی ہیں مثلا کسی ذات میں یہ امانت داری کی صفت ثابت کرنا کہ یہ شخص امانت داری کی بنا پر یتیم کے اموال میں تصرف کرسکتا ہے، قاضی کا یہ تصرف ( اثبات صفات فی الذات) حکم نہیں ہوتا،جیسے کہ ترشید کسی سے پابندی کو ہٹانا یعنی کسی پر پابندی تھی کہ وہ بیع و شراء نہیں کر سکتا ہے بچہ یا سفیہ و مجنون ہونے کی وجہ سے،لیکن اب وہ بڑا یا مجنون ٹھیک ہو گیا تو اس سے پابندی کو ہٹانا، اسی طرح جو مفلس تھا جس کا دیوالیہ ہو گیا تھا رجسٹرڈ مفلس اس سے پابندی ہٹانا کہ یہ اب مفلس نہیں رہا، اسی طرح مجنون اور مبذر (بہت زیادہ خرچ کرنے والے) سے پابندی کو ہٹانا اور ان جیسے دوسرے لوگ ان سے پابندی ہٹانا یہ بھی قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہے چنانچہ دوسرا قاضی اگر پھر کسی کو پابندی لگانا چاہے یہ سمجھ کر کہ ابھی مجنون ہے یا ابھی بچہ ہی ہے تو وہ اس پر پابندی لگا سکتا ہے اور پہلے قاضی نے کسی پر پابندی لگا رکھی ہو دوسرا قاضی صاحب گو لگے کہ وہ اب ٹھیک ہے تو اس سے پابندی ہٹا سکتا ہے چنانچہ یہ ایسا حکم نہیں ہے جس کا توڑنا متعذر ہو بلکہ دوسرے کے لیے جائز ہے کہ وہ ان اسباب میں غور و فکر کرے اور جہاں اس کو لگے اور اس کے ہاں ثابت ہو اس حکم کی ضد جو پہلے کے یہاں ثابت ہوا ہے تو وہ اس حکم کو توڑ سکتا ہے اور اس کے خلاف حکم دے سکتا ہے پس وہ دوسرا قاضی پابندی ہٹائے گا جس پر پہلے نے پابندی لگا رکھی تھی یا پابندی لگائے گا جس سے پہلے نے پابندی ہٹائی تھی اس لیے کہ یہ صفات کا اثبات ہے نہ کہ انشاء حکم یعنی یہ قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہے۔
النَّوْعُ الْحَادِيَ عَشَرَ: إثْبَاتُ الصِّفَاتِ فِي الذَّوَاتِ الْمُوجِبَةِ لِلتَّصَرُّفِ فِي الْأَمْوَالِ كَالتَّرْشِيدِ وَإِزَالَةِ الْحَجْرِ عَنْ الْمُفْلِسِينَ وَالْمَجَانِينِ وَالْمُبَذِّرِينَ وَنَحْوِ ذَلِكَ، فَلَيْسَ ذَلِكَ بِحُكْمٍ يَتَعَذَّرُ نَقْضُهُ، بَلْ لِغَيْرِهِ أَنْ يَنْظُرَ فِي تِلْكَ الْأَسْبَابِ، وَمَتَى ظَهَرَ لَهُ وَتَحَقَّقَ عِنْدَهُ ضِدُّ مَا تَحَقَّقَ عِنْدَ الْأَوَّلِ نَقَضَ ذَلِكَ وَحَكَمَ بِضِدِّهِ، فَيُطْلِقُ مَنْ حَجَرَ عَلَيْهِ وَيَحْجُرُ عَلَى مَنْ أَطْلَقَهُ الْأَوَّلُ؛ لِأَنَّهُ إثْبَاتُ صِفَةٍ لَا إنْشَاءُ حُكْمٍ.
بارہویں نوع۔ ائمہ کے تصرفات میں سے،اطلاق کہتے ہیں مطلق چھوڑ دینے کو یہ بات معین الحکام کے پہلے صفحے میں بھی آ چکی ہے یہاں پہ ترجمہ ہوگا دینا، کسی کو کوئی چیز عطا کرنا، چناں چہ فرماتے ہیں کہ بیت المال سے کسی کو کوئی چیز دینا حکم نہیں ہے اور وہ چیز ہمیشہ کے لیے اس کی نہیں ہوگی بلکہ اگر دوسرا قاضی مناسب سمجھے تو وہ اس سے وہ چیز واپس لے سکتا ہے، اسی طرح کسی چیز کے سلسلے میں کوئ مدت مقرر کرنا یہ بھی قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہوگا بلکہ ایک قاضی نے ایک متعینہ مدت کا فیصلہ کیا، دوسرا قاضی مناسب سمجھے تو وہ اس مدت کو ختم کر کے کوئی اور مدت مقرر کر سکتا ہے یا بالکل ہی مدت ختم کرے یہ بھی دوسرے قاضی کے لیے جائز ہے اسی طرح مال فئ میں کسی کو دینا یا جہاد کرنے والوں کو خمس دینا یا خمس میں سے کوئی چیز دے دینا، اسی طرح ان یتیموں کے مال میں سے کسی کو کچھ دینا جو قاضی کے زیرِ کفالت ہوں یتیموں کی مصلحت کے لیے، یہ بھی قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہوگا بلکہ دوسرا قاضی اپنی صوابدید سے جو مناسب سمجھے اسی کے تحت حکم کو بدل سکتا ہے، اسی طرح قضاۃ، علماء، ائمۂ صلوٰۃ،تقسیم کرنے والے، گھر کے ذمہ دار اور صلحاء کی تنخواہوں میں کوئی چیز دے دینا، کسی چیز کا حکم کرنا یہ قاضی کی جانب سے محض تصرف ہوگا حکم نہیں ہے اس کو بدلا جا سکتا ہے اسی طرح لشکر اور جیوش کے لیے کسی زمین کا کوئی حصہ دے دینا، یہ تمام چیزیں حکم نہیں ہے بلکہ دوسرے قاضی کے لیے گنجائش ہے کہ جب اس کے پاس فیصلہ لیا جائے تو وہ ان میں حسب معمول دیکھے گا، غور و فکر کرے گا شرعی قوانین کے تحت پھر جو وہ مناسب سمجھے اسی حساب سے حکم دے گا۔
النَّوْعُ الثَّانِيَ عَشَرَ: مِنْ تَصَرُّفَاتِ الْأَئِمَّةِ: الْإِطْلَاقَاتُ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ وَتَقْدِيرُ مَقَادِيرِهَا فِي كُلِّ عَطَاءٍ، وَالْإِطْلَاقَاتُ مِنْ الْفَيْءِ أَوْ الْخُمْسِ فِي الْجِهَادِ، أَوْ الْإِطْلَاقَاتُ مِنْ أَمْوَالِ الْأَيْتَامِ الَّتِي تَحْتَ يَدِ الْحُكَّامِ عَلَى مَصَالِحِ الْأَيْتَامِ، وَالْإِطْلَاقَاتُ فِي الْأَرْزَاقِ لِلْقُضَاةِ وَالْعُلَمَاءِ وَأَئِمَّةِ الصَّلَاةِ وَالْقُسَّامِ وَأَرْبَابِ الْبُيُوتِ وَالصُّلَحَاءِ، وَإِطْلَاقَاتُ الْإِقْطَاعَاتِ لِلْأَجْنَادِ وَغَيْرِهِمْ، فَهَذَا كُلُّهُ لَيْسَ حُكْمًا، وَلِغَيْرِهِ إذَا رُفِعَ إلَيْهِ أَنْ يَنْظُرَ بِمَا يَرَاهُ مِنْ الطُّرُقِ الشَّرْعِيَّةِ.
تیرھویں نوع۔ مشترکہ زمین میں مسلمانوں کے درمیان سرکاری چراگاہ متعین کرنا جس میں صدقات و خیرات کے اونٹ وغیرہ یا جانور چریں گے جیسا کہ حضرت فاروق اعظم نے اپنے دور خلافت میں کیا یعنی سب سے پہلے فاروق اعظم نے ہی سرکاری طور پر لوگوں کے درمیان چراگاہ کا انتخاب کیا جہاں بیت المال میں مسلمانوں کی طرف سے دئیے گئے اونٹ وغیرہ بطور زکوٰۃ و خیرات، چرتے تھے تا کہ عام لوگوں کی چراگاہ الگ رہے اور بیت المال اور سرکاری چراہ گاہ الگ رہے چناں چہ اس طرح چراگاہ متعین کرنا یہ قاضی کی جانب سے حتمی فیصلہ اور حکم نہ ہوگا بلکہ محض ایک فیصلہ ہے جسے بدلا بھی جا سکتا ہے چنانچہ پہلے قاضی کے بعد دوسرا قاضی اس چراگاہ کو باطل کر سکتا ہے اور ان زمینوں میں حسب مصلحت شرعی اور بتقاضہ شرعی تصرف کر سکتا ہے۔
النَّوْعُ الثَّالِثَ عَشَرَ: اتِّخَاذُ الْأَحْمِيَةِ مِنْ الْأَرَاضِي الْمُشْتَرَكَةِ بَيْنَ عَامَّةِ الْمُسْلِمِينَ تَرْعَى فِيهَا إبِلُ الصَّدَقَةِ وَغَيْرُهَا كَمَا فَعَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -، فَهَذَا لَيْسَ حُكْمًا، وَلِغَيْرِهِ بَعْدَهُ أَنْ يُبْطِلَ ذَلِكَ الْحِمَى وَيَفْعَلَ فِي تِلْكَ الْأَرَاضِي مَا تَقْتَضِيهِ الْمَصْلَحَةُ الشَّرْعِيَّةُ
چودھویں نوع جیوش اور سرایا پر کسی کو امیر مقرر کرنا یہ قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہوتا بلکہ قاضی کا ایک فیصلہ ہے جسے دوسرا قاضی بدل سکتا ہے جیسے کہ حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اخری دنوں میں لشکر کا امیر بنایا تھا لیکن وہ ابھی مدینہ طیبہ سے باہر نہیں گئے تھے کہ آپ علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کی خبر سن کر واپس آگئے اور حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد صحابہ نے چاہا کہ اب اس لشکر کو نہیں بھیجنا چاہیے لیکن حضرت صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے حضرت اسامہ بن زید کے ماتحتی میں اس لشکر کو پھر سے روانہ کیا چنانچہ حضورﷺ نے جو فیصلہ کیا تھا حضرت صدیق اکبر نے از سر نو اس فیصلے کو جاری کیا چنانچہ جیوش اور سرایا پر امیر کا مقرر کرنا یہ حکم نہیں ہے چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق نے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالی عنہ ہی کے ما تحتی میں لشکر کو بھیجا جب حضرت ابوبکر صدیق کو ظاہر ہوا کہ مصلحت یہی ہے کہ حضرت اسامہ بن زید کے لشکر کو بھیجنا چاہیے اس لیے کہ اس لشکر کی روانگی نبی علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کے بعد دلالت کرتی ہے مسلمانوں کی یکجہتی اور اجتماعیت پر اور مسلمانوں کی شان و شوکت اور ان کی قوت و ہمت پر کہ وہ جس پر تھے ابھی بھی اسی پر باقی ہے اورجیوش اور سرایا کے سلسلے میں ان کے اہتمام پر دلالت کرتی ہے چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق نے اس کا نفاذ کیا جیسا کہ شریعت تقاضا کر رہی تھی اس لیے کہ پہلے فیصلے کا توڑنا متعذر نہ تھا کیونکہ پہلا فیصلہ توڑنا ممکن تھا کوئی متعذر نہیں تھا اس لیے اس کا نفاذ کیا۔۔
النَّوْعُ الرَّابِعَ عَشَرَ: تَأْمِيرُ الْأُمَرَاءِ عَلَى الْجُيُوشِ وَالسَّرَايَا لَيْسَ بِحُكْمٍ، فَقَدْ عَزَمَ الصَّحَابَةُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ - عَلَى رَدِّ جَيْشِ أُسَامَةَ وَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَهَّزَهُ وَهُوَ مَرِيضٌ، فَنَفَّذَهُ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - لَمَّا ظَهَرَ لَهُ تَنْفِيذُهُ هُوَ الْمَصْلَحَةُ؛ لِأَنَّ تَنْفِيذَهُ عَقِيبَ مَوْتِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَدُلُّ عَلَى اجْتِمَاعِ كَلِمَةِ الْمُسْلِمِينَ وَقُوَّتِہِمْ عَلَى مَا كَانُوا عَلَيْهِ وَاهْتِمَامِهِمْ بِالْجُيُوشِ وَالسَّرَايَا، فَنَفَّذَهُ لِاَنَّہٗ مَصْلِحَۃٌ لَا لِتَعَذُّرِ نَقْضِهِ ( لم ینفذہ لتعذر نقضہ )
No comments:
Post a Comment