تیسری قسم ان معاملات کے بارے میں ہیں جن میں اختلاف کیا گیا ہے کہ کیا وہ معاملات حاکم کے فیصلے کے محتاج ہیں یا نہیں یعنی تین طرح کے معاملات آ گئے، پہلی فصل میں وہ معاملات تھے جو قاضی کے قضاء کے محتاج تھے، دوسری فصل میں وہ معاملات تھے جو قضاء قاضی کے بالکل محتاج نہ تھے، یہ تیسری فصل ہے یا تتیسریقسم ہے، جس میں ان مختلف فیہ مسائل کو بیان کیا گیا کہ ایک زاویہ سے جب دیکھتے ہیں تو لگتا ہے کہ یہ قضاء قاضی کے محتاج ہیں، لیکن جب دوسرے زاویہ سے دیکھتے ہیں تو وہ قضاء قاضی کے محتاج نہیں لگتے اس کی مثال مصنف رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ خرید و فروخت کرنے والے عاقدین کا باہم قسم کھانے کے بعد بیع کو فسخ کرنا، یعنی بیع مکمل ہونے کے بعد مشتری اور بائع میں اختلاف ہوگیا، بائع نے کہا کہ میں نے ایک ہزار درہم میں یہ چیز بیچی ہے اور مشتری کہہ رہا ہے میں نے ایک ہزار سے کم میں خریدی ہے اب اختلاف کے بعد دونوں نے اپنے دعاوی پر قسم کھائی اور بیع کو فسخ کردیا اب کیا یہ معاملہ قضاء قاضی کا محتاج ہے یا نہیں تو فرماتے ہیں کہ اس میں اختلاف ہے بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اس میں قضاء قاضی ضروری ہے اس لیے کہ اس میں اُس سبب کو تلاش کرنا پڑے گا جس کی وجہ سے یہ بیع فسخ ہو رہی ہے بعض نے کہا نہیں یہ قضاء قاضی کی محتاج نہیں ہے اس لیے کہ متعاقدین نے جب قسم کھا لی اور دو دونوں راضی ہیں فسخ بیع پر اس لیے اس زاویہ سے یہ قضاء قاضی کی محتاج نہیں ہے اسی طرح فسخ نکاح قسم کھانے کے بعد یعنی زوجین کا قسم کھانے کے بعد اپنے نکاح کو فسخ کرنا،شوہر رکھنا نہیں چاہتا بیوی رہنا نہیں چاہتی دونوں ایک دوسرے سے ملنا نہیں چاہتے جسے متارکہ کہتے ہیں اب دونوں نے قسم کھا لی کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہیں گے تو یہاں بھی اختلاف ہے کیا یہ معاملہ قضاء قاضی کا محتاج ہے یا نہیں بعض حضرات فرمائیں گے کہ یہ قضاء قاضی کا محتاج ہے کیونکہ فسخ کی ضرورت پڑے گی اور فسخ قاضی کے بغیر نہیں ہو سکتا ہے اس کے لیے قاضی کے یہاں مرافعہ ضروری ہے، بعض حضرات فرماتے ہیں کہ قضاء قاضی کی ضرورت نہیں اس لیے کہ جب زوجین راضی ہے شوہر رکھنا نہیں چلتا بیوی رہنا نہیں چاہتی ہے تو دونوں الگ ہو جائیں کوئی مسئلہ نہیں ہے
الْقِسْمُ الثَّالِثُ: مَا اُخْتُلِفَ فِيهِ، هَلْ يَفْتَقِرُ إلَى حُكْمٍ أَوْ لَا؟ مِثَالُ ذَلِكَ: فَسْخُ الْبَيْعِ بَعْدَ تَخَالُفِ الْمُتَبَايِعَيْنِ يَجْرِي فِيهِ الْخِلَافُ، وَكَذَلِكَ فَسْخُ النِّكَاحِ بَعْدَ التَّخَالُفِ، فِيهِ الْخِلَافُ أَيْضًا.
تیسری مثال دیتے ہوئے مصنف رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ وہ یتیم جس پر حجر لگایا گیا ہو وصی کی طرف سے جو وصی باپ کی جانب سے متعین ہوا ہو مثلاً، ایک شخص مر رہا تھا اس نے ایک شخص کو بتایا یہ میرا چھوٹا بیٹا ہے اس کی دیکھ بھال کرنا اور میرا یہ مال ہے یہ اس بچے پر حسب ضرورت خرچ کرتے رہنا اب اس وصی نے دیکھا کہ اس کا باپ تو مر چکا ہے اور بچہ بھی نادان ہے اس نے اس پر حجر لگا دیا بالغ ہونے کے بعد تو حجر از خود اٹھ جائے گا لیکن بالغ ہونے سے پہلے شعور آنے کے بعد کیا حاکم کی اجازت کے بغیر یہ وصی اس بچے سے حجرے اٹھا سکتا ہے یا نہیں، کیا قاضی کو اطلاع دیے بغیر اس بچے سے حجر اٹھایا جا سکتا ہے یا نہیں بعض حضرات فرماتے ہیں کہ وصی نے جب حجر لگایا ہے تو وصی خود ہی حجر اٹھائے گا قاضی سے اجازت لینا ضروری نہیں قضاء قاضی کی حاجت نہیں جبکہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ نہیں پہلے قاضی صاحب کو مطلع کرنا ہوگا اور قاضی کی اجازت سے اس پر حجر اٹھایا جائے گا۔
وَكَذَلِكَ الْيَتِيمُ الْمَحْجُورُ عَلَيْهِ بِوَصِيٍّ مِنْ قِبَلِ الْأَبِ هَلْ يَكْفِي إطْلَاقُهُ لِلْيَتِيمِ مِنْ الْحَجْرِ دُونَ مُطَالَعَةِ الْحَاكِمِ فِي ذَلِكَ أَوْ لَا بُدَّ مِنْ اسْتِئْذَانِ الْحَاكِمِ فِي ذَلِكَ حَتَّى يَكُونَ إطْلَاقُ الْوَصِيِّ لَهُ بِإِذْنِ الْحَاكِمِ؟ فِيهِ خِلَافٌ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ.
چوتھی مثال دیتے ہیں مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ زوجین نے لعان کیا،کیا لعان کے بعد جو فرقت واقع ہوگی کیا وہ فرقت از خود زوجین پر واقع ہوگی یا اس فرقت کے لیے قضاء قاضی کی ضرورت ہے چنانچہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ پورے قسم لینے کے بعد جب لعان پورا ہو جائے اس کے بعد فرقت کے لیے قضاء قاضی ضروری ہے یا نہیں امام شافعی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں لعان کے بعد قضاء قاضی کی ضرورت نہیں جب دونوں نے قسم کھا لی تو اب فرقت خود بخود واقع ہو جائے گی اس کی صراحت امام محمد نے المنتقی نامی کتاب میں کی ہے،وقال بعضہم سے مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ لعان میں قسم کے مکمل ہونے کے بعد فرقت خود بخود واقع نہیں ہوگی یہاں تک کہ قاضی ان کے درمیان تفریق نہ کرے جیسا کہ یہ احناف کا مسلک ہے، وھو اختیار جماعۃ سے احناف کی طرف اشارہ ہے
وَكَذَلِكَ وُقُوعُ الْفُرْقَةِ بَيْنَ الْمُتَلَاعِنَيْنِ، قَالَ بَعْضُهُمْ: بِتَمَامِ التَّحَالُفِ تَقَعُ الْفُرْقَةُ دُونَ حُكْمِ الْحَاكِمِ، نَصَّ عَلَيْهِ مُحَمَّدٌ فِي الْمُنْتَقَى.
وَقَالَ بَعْضُهُمْ: لَا تَقَعُ الْفُرْقَةُ بِتَمَامِ لِعَانِهِمَا حَتَّى يُفَرِّقَ الْإِمَامُ بَيْنَهُمَا، وَهُوَ اخْتِيَارُ جَمَاعَةٍ مِنْ أَهْلِ الْمَذْهَبِ.
پانچویں مثال۔کیا قاضی فسق میں مبتلا ہونے کے بعد خود بخود معزول ہو جائے گا یا نہیں یا کیا قاضی کے معزول ہونے کے لیے امام وقت کی اجازت ضروری ہے یہ بات پہلے بھی مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے بیان فرمائی کہ جب قاضی کی کسی کے ساتھ دشمنی ہو تو کیا قاضی اس دشمن کے لیے فیصلہ کر سکتا ہے یا نہیں تو وہاں پہ فرمایا تھا کہ قاضی اپنے دشمن کے سلسلے میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ وہاں تہمت کا خطرہ ہے کہ دشمن کہے گا مجھ سے بدلہ لینے کے لیے قاضی نے فیصلہ کیا تو وہاں پر یہ بات بھی آئی تھی کہ بعض حضرات کے نزدیک قاضی کا فیصلہ اس وجہ سے بھی نافذ نہیں ہوگا کیونکہ قاضی کے دل میں جو دشمن کی عداوت ہے اس عداوت کی وجہ سے قاضی میں فسق آیا ہے اور اس فسق کی وجہ سے قاضی کا قضاء نافذ نہیں ہوگا اب اسی فسق کی وجہ سے یعنی جب قاضی بنایا گیا تب وہ فاسق نہیں تھا نیک و پارسا تھا لیکن قاضی بننے کے بعد اس میں کسی وجہ سے فسق آیا کیا فسق آنے کے بعد قاضی خود بخود معزول ہوگا یا نہیں تو احناف کے یہاں فسق سے قاضی معلوم نہیں ہوگا فاسق بھی قاضی بن سکتا ہے البتہ عدالت قاضی کے لیے افضل چیز ہے اس لیے قاضی فسق کی وجہ سے معزول نہیں ہوگا یہاں تک کہ امام اس کو معزول کرے برخلاف امام شافعی رحمہ اللہ تعالی کے ان کے نزدیک فسق سے قاضی معزول ہوگا۔
وَكَذَلِكَ الْقَاضِي: هَلْ يَنْعَزِلُ بِمُجَرَّدِ فِسْقِهِ أَوْ لَا حَتَّى يَعْزِلَهُ الْإِمَامُ؟ فِيهِ خِلَافٌ.
چوتھی قسم۔ ان جگہوں کے بین میں جن کو قاضی کا حکم مستقل طور پر یا دلالت تضمنی کے اعتبار سے شامل ہے۔ اور اس قسم میں جتنے بھی مسائل آئیں گے وہ سراج الدین بلقینی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سے ملخص ہوں گے ہاں ان مسائل و معاملات کی مثال بیان کرنے کے لیے مصنف نے گاہے بہ گاہے اپنی مذہب کے علماء کی کتابوں سے بھی مثالیں بیان کی ہیں۔
پہلا مسئلہ ہے طہارت یہ بات پہلے آ چکی ہے کہ عبادات میں قضاء قاضی ضروری نہیں ہے ہاں کہیں کہیں عبادات کو قضاء قاضی ضمنی اعتبار سے شامل ہوگا یہاں پہ مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے پہلے ان مسائل کو بیان کیا جن کو قاضی کا حکم ضمنی اعتبار سے شامل ہے مستقل طور پر قاضی کا حکم شامل نہیں ہے
پہلا مسئلہ : طہارت کی صحت کے لیے یا طہارت کے موجب کو حکم قاضی مستقل طور پر شامل نہیں ہے،لیکن طہارت کی صحت یا طہارت کے موجب کو قاضی کا حکم بطور تضمنی کے شامل ہو سکتا ہے مثلا کسی شخص نے غلام کی آزادی یا بیوی کی طلاق کو پانی کی پاکی یا عدم پاکی پر معلق کیا اب اگر قاضی غلام کو آزادی یا بیوی پر طلاق کے وقوع کا حکم دیتے ہیں تو ضمناً یہ سمجھا جائے گا کہ پانی پاک تھا یا پانی ناپاک تھا مثلاً اگر کسی نے اپنی بیوی سے کہا اگر پانی ناپاک ہو تو تجھے طلاق اب اگر قاضی نے اس کی بیوی پر طلاق کا حکم دے دیا تو اس کا مطلب ہے کہ قاضی نے ضمنی طور پر یہ حکم بھی دیا ہے کہ پانی ناپاک تھا کیونکہ ناپاکی پر اس نے طلاق کو معلق کیا تھا، اسی طرح کسی نے غلام سے کہا اگر پانی پاک ہو تو تم آزاد اب اگر قاضی نے غلام کی آزادی کا حکم دیا تو ضمنی طور پر سمجھا جائے گا کہ قاضی نے پانی کو پاک ہونے کا حکم دیا اسی لیے تو غلام آزاد ہوا کیوں کہ حریتِ غلام کا حکم طہارت ماء ( شرط) کے وجود کا اثبات ہے، اسی کو مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ پس اگر حاکم کے یہاں طلاق ثابت ہو جائے پانی میں صفت کے پائے جانے کے وجہ سے تو قاضی نے صحت طلاق کا حکم یا اس چیز کے موجب کا حکم جو معلِق یعنی طلاق معلق کرنے والے سے صادر ہوا ہے اور صفت کے وجود کا حکم دینا گویا یہ متضمن ہوگا پانی کے ناپاکی یا پانی کے پاکی کے حکم کو موجب کہتے ہیں مثلا کسی نے نماز کی صحت کا حکم دیا تو نماز کی موجب وہ وضو ہے گویا اس نے وضو کے صحیح ہونے کا بھی حکم لگایا ہے اس طرح مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے دوسری مثال دی کہ نماز کو بھی قاضی کا حکم ضمنی طور پر شامل ہوگا مستقل طور پر شامل نہیں ہوگا کیونکہ نماز بھی عبادت ہے مثلاً کسی شخص نے فرض نماز پڑھی ایسی وضو سے جس وضو کو اس نے نماز کی نیت سے نہ کی تھی یعنی وضو میں نماز کی نیت نہیں کی تھی یا نماز پڑھی جبکہ اس نے اپنے ذکر کو چھوا تھا اس وجہ سے کہ وہ سمجھ رہا تھا مس ذکر سے وضو نہیں ٹوٹتی ہے جیسے کہ احناف کے نزدیک مسئلہ ہے جبکہ امام شافعی و مالک باطن کف سے چھونے پر ناقض وضو کے قائل ہیں، اور امام احمد صاحب مطلقا ناقض وضو گر دانتے ہیں۔
ہے نواقض میں ثلاثہ کے یہاں مسِّ ذکر
غیر ناقض نزدِ حنفی جب طلق نے دی خبر
مطلقاً کہتے ہیں احمد، پر وہ مالک، شافعی
باطنِ کف سے چھوۓگا تو حکم ہوگا یہی
طارق
بس اگر قاضی نے ایسے شخص کی عدالت کا حکم دیا یعنی یہ کہا کہ یہ شخص عادل ہے گویا ضمنی طور پر قاضی کہہ رہا ہے کہ اس کی نماز پڑھنا بھی صحیح ہے کیونکہ عادل تو تب ہی ہوگا جب وہ نماز گزار ہوگا اور نماز گزاری ہی عادل ہوگا ورنہ فاسق کہلائے گا بس جب قاضی نے اس کو عادل قرار دیا ہے جبکہ قاضی کا یہی مسلک تھا تو قاضی تو ضمنی طور پر وہ حکم ہوگا کہ اس شخص کا نماز پڑھنا صحیح ہے اور جب نماز پڑھنا صحیح ہے تو ضمنی طور یہ حکم ہوگا اس بات کا اس شخص نے جو نماز کی نیت کے بغیر وضو کیا ہے یا عضو خاص کو چھوا جب بھی اس شخص کا وضو درست تھا اسی پر قیاس کیا جائے اس نماز کا جو نماز قرات فاتحہ خلف الامام سے خالی ہو اگر قاضی نے نماز کے صحیح ہونے کا حکم لگایا تو قاضی کا نماز کے صحیح ہونے حکم لگانا ضمنی طور حکم ہوگا کہ فاتحہ خلف الامام کے بغیر بھی نماز ہو سکتی ہے، اسی طرح کسی نے اطمینان کے بغیر ہی نماز پڑھ لی اگر قاضی نے نماز کے صحیح ہونے کا فیصلہ کیا گویا وہ ضمنی طور پر حکم ہے تعدیل ارکان کے بغیر بھی نماز کی صحت کا۔
الْقِسْمُ الرَّابِعُ: فِي بَيَانِ الْمَوَاضِعِ الَّتِي يَدْخُلُهَا الْحُكْمُ اسْتِقْلَالًا أَوْ تَضَمُّنًا مُلَخَّصًا مِنْ كَلَامِ سِرَاجِ الدِّينِ الْبُلْقِينِيِّ، وَبَعْضُهُ مِنْ كَلَامِ أَهْلِ الْمَذْهَبِ، فَالطَّهَارَةُ لَا يَدْخُلُهَا شَيْءٌ مِنْ الْحُكْمِ بِالصِّحَّةِ وَلَا بِالْمُوجَبِ اسْتِقْلَالًا لَكِنْ يَدْخُلُهَا الْحُكْمُ بِطَرِيقِ التَّضَمُّنِ كَتَعْلِيقِ عِتْقٍ أَوْ طَلَاقٍ عَلَى طَهَارَةِ مَاءٍ أَوْ نَجَاسَتِهِ، فَإِذَا ثَبَتَ عِنْدَ الْحَاكِمِ وُقُوعُ الطَّلَاقِ لِوُجُودِ الصِّفَةِ فَحَكَمَ بِصِحَّةِ الطَّلَاقِ أَوْ بِمُوجَبِ مَا صَدَرَ مِنْ الْمُعَلِّقِ وَوُجُودِ صِفَتِهِ كَانَ ذَلِكَ مُتَضَمِّنًا لِلْحُكْمِ بِالنَّجَاسَةِ أَوْ بِالطَّهَارَةِ، وَالصَّلَاةُ يَدْخُلُهَا الْحُكْمُ بِالتَّضَمُّنِ، مِثْلُ مَنْ صَلَّى الْمَكْتُوبَةَ بِوُضُوءٍ خَالٍ عَنْ النِّيَّةِ، أَوْ مَعَ وُجُودِ مَسِّ الذَّكَرِ لِاعْتِقَادِهِ صِحَّةَ الصَّلَاةِ مَعَ ذَلِكَ كَمَا هُوَ الْمَذْهَبُ، فَإِذَا حَكَمَ حَاكِمٌ بِعَدَالَةِ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ وَالْحَاكِمُ مُعْتَقِدٌ صِحَّةَ ذَلِكَ كَانَ حُكْمُهُ مُتَضَمِّنًا صِحَّةَ وُضُوئِهِ، وَعَلَى هَذَا قِيَاسُ الصَّلَاةِ الْخَالِيَةِ عَنْ قِرَاءَةِ الْفَاتِحَةِ أَوْ عَنْ الطُّمَأْنِينَةِ وَنَحْوِ ذَلِكَ.
یہاں سے علامہ بلقینی رحمۃ اللہ علیہ اپنا ایک واقعہ بیان کر رہے ہیں کہ وہ کسی امیر کے پاس حاضر تھے جس امیر کے یہاں قاضی بھی بیٹھا ہوا تھا اور کچھ مفتیان بھی بیٹے ہوئے تھے اور وہ مفتی لوگ بحث کر رہے تھے اس جامع مسجد میں اقامت جمعہ کے سلسلے جو امیر نے بنائی تھی کہ کیا اس میں جمعہ صحیح ہوگا یا نہیں فرماتے ہیں جب یہ بحث چل رہی تھی تو قاضی نے اس مسجد میں جمعہ کی صحت کا فیصلہ کر دیا فرماتے ہیں مجھے تعجب ہوا کہ کیا قاضی کو یہ پتہ نہیں کہ عبادات میں قاضی کا حکم فیصلہ نہیں ہوتا چنانچہ فرماتے ہیں کہ مجھے تعجب ہے ایسے قاضی سے جو حاضر تھا امیر کے پاس اور بحث و تمحیص جاری تھی اور اس نے دھڑلے سے جمعہ کی صحت کا فیصلہ کیا،
وَلَقَدْ عَجِبْت مِنْ قَاضٍ حَضَرَ عِنْدَ أَمِيرٍ وَوَقَعَ الْكَلَامُ فِي صِحَّةِ إقَامَةِ الْجُمُعَةِ بِجَامِعٍ بَنَاهُ ذَلِكَ الْأَمِيرُ، فَلَمَّا تَكَلَّمُوا فِي الْخِلَافِ فِي ذَلِكَ قَالَ الْقَاضِي يَحْكُمُ بِصِحَّةِ إقَامَةِ الْجُمُعَةِ فِيهِ.
علامہ بلقینی فرماتے ہیں اس طرح کا کلام باطل ہے اس لیے کہ تصور نہیں کیا جا سکتا ہے کہ یہ اور اس جیسا کلام قاضی کا وہ مستقل طور یا ضمنی طور پر حکم قاضی کو شامل ہو ہاں البتہ کسی خاص واقعہ کی طرف نسبت کرتے ہوئے جیسا کہ مذکورہ بالا امثال میں کہ طلاق یا عتق کو معلق کرنا،اسی طرح یہاں بھی اگر طلاق یا عتاق کو اس مسجد میں جمعہ کی اقامت کی صحت پر معلق کیا جائے تو تب اگر قاضی طلاق کو صحیح گردانتا ہے یا عتق کو صحیح مانتا ہے تو گویا وہ اس میں جمعہ کی صحت کا بھی فیصلہ کرتا ہے یعنی ضمنی طور پر کسی خاص واقعے کے تحت قاضی کا حکم اس مسجد میں جمعہ کی صحت کو شامل ہوگا مستقل طور پر نہ ہوگا بس اس جگہ میں قاضی کا حکم جب متوجہ ہو معلِق کی طرف اس چیز ( تعلیق طلاق و عتاق) کے سلسلے میں جس کا اس نے التزام کیا ہو تو پھر اس جگہ میں جمعہ کی اقامت کی صحت کا حکم من جانب قاضی ضمنی طور پر ہوگا نسبت کرتے ہوئے اس شخص کے الزام کی طرف نہ کہ مطلقا۔
قُلْت: وَهَذَا كَلَامٌ بَاطِلٌ، فَلَا يُتَصَوَّرُ أَنْ يَدْخُلَ ذَلِكَ وَلَا نَحْوُهُ تَحْتَ الْحُكْمِ اسْتِقْلَالًا وَلَا تَضَمُّنًا عَلَى الْإِطْلَاقِ، لَكِنْ يَدْخُلُ بِالنِّسْبَةِ إلَى وَاقِعَةٍ خَاصَّةٍ مِنْ تَعْلِيقِ طَلَاقٍ أَوْ غَيْرِهِ عَلَى صِحَّةِ إقَامَةِ الْجُمُعَةِ فِي هَذَا الْمَكَانِ، فَالْحُكْمُ فِيهِ إذَا تَوَجَّهَ إلَى الْمُعَلِّقِ بِمَا الْتَزَمَهُ يَتَضَمَّنُ صِحَّةَ إقَامَةِ الْجُمُعَةِ فِي هَذَا الْمَكَانِ بِالنِّسْبَةِ إلَى إلْزَامِ الشَّخْصِ لَا مُطْلَقًا.
بہرحال زکوۃ۔ تو زکوۃ اگرچہ عبادت ہے لیکن زکوۃ کے معاملات کو قاضی کا حکم مستقل طور پر شامل ہوتا ہے اس طور پر جیسے کہ اگر کسی حنفی قاضی نے زکوۃ میں قیمت کے اخراج کے جواز کا حکم دیا یہ کہا کہ زکوۃ میں صرف قیمت لی جائے گی گویا اخراج کی صحت کا اس نے فیصلہ کیا یا اخراج کے موجب کا فیصلہ کیا پس یہ جو اخراج کا فیصلہ قاضی نے سنایا یہ زکوٰۃ کی فرضیت کے سقوط کا حکم ہوگا یعنی اگر کوئی اب صرف قیمت دیتا ہے تو اس سے زکوۃ ساقط ہو جائے گی حالانکہ حنابلہ کے ہاں جس چیز میں زکوۃ واجب ہو رہی ہے وہی چیز دینا ضروری ہے جبکہ حنفیہ کے ہاں ایسا نہیں ہے پس جب قاضی حنفی نے فیصلہ کیا کہ زکوۃ صرف قیمت سے لی جائے گی اب جس چیز پر بھی زکوۃ ہو جب قیمت سے زکوۃ دے دی تو باقی چیزوں سے زکوۃ کے فرضیت ساقط ہو گئی چنانچہ زکوۃ وصول کرنے والے کے لیے جائز نہیں کہ وہ حکم دے اپنے مذہب کی مخالف یعنی وہ مالک سے واجب شدہ چیز میں زکوۃ نکالنے کا مطالبہ کرے برابر ہے قاضی نے اس کی زکوٰۃ کی صحت کا فیصلہ کیا ہو یا اس کے موجب کی صحت کا فیصلہ کیا ہو۔
وَأَمَّا الزَّكَاةُ فَيَدْخُلُهَا الْحُكْمُ، وَذَلِكَ مِثْلُ مَا لَوْ حَكَمَ حَاكِمٌ حَنَفِيٌّ بِجَوَازٍ إخْرَاجِ الْقِيمَةِ فِي الزَّكَاةِ بِصِحَّةِ الْإِخْرَاجِ أَوْ بِمُوجَبِ الْإِخْرَاجِ عِنْدَهُ وَهُوَ سُقُوطُ الْفَرْضِ بِذَلِكَ كَانَ الْحُكْمُ بِالصِّحَّةِ وَالْمُوجَبِ فِي ذَلِكَ سَوَاءً، وَلَيْسَ لِلسَّاعِي إذَا كَانَ الْحُكْمُ مُخَالِفًا مَذْهَبَهُ أَنْ يُطَالِبَ الْمَالِكَ بِإِخْرَاجِ الْوَاجِبِ عِنْدَهُ سَوَاءً حَكَمَ بِالصِّحَّةِ أَوْ حَكَمَ بِالْمُوجَبِ.
اسی طرح صوم کو بھی قاضی کا حکم مستقل طور پر شامل ہوگا اس طو پر کہ اگر ایک شخص مرا اس کے ذمہ میں روزے تھے اور اس مرنے والے نے مرنے سے پہلے کسی آدمی کو وصی بنایا کہ میرے ذمہ اتنے روزے ہیں اس لیے ان کے بدلے میں فدیہ دیا جائے اب وہ مر گیا تو اس کے بعد مرنے والے کے ولی وارث کو اس ذمہ چند روزہ ہونے کا علم تھا اس نے سوچا کہ ہمارے مورث پر روزے ہیں تو اس نے اس کی طرف سے روزے رکھ لیے جو کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی کے ہاں صحیح ہے جبکہ ہمارے یہاں نیابۃ روزہ نہیں رکھا جا سکتا ہے اب جب اس نے روزے رکھ لیے پھر اس وصی نے اس سے کہا کہ آپ میت کے بدلے میت کے مال سے فدیہ دو کیونکہ انہوں نے مجھے وصیت کی تھی ان کے ذمے روزہ تھے تو ولی وارث نے کہا میں نے تو ان کے بدلے روزے رکھے لیے پھر قاضی کے پاس معاملہ دائر نمبر ہوا اس نے نیابۃ رکھے ہوئے روزوں کی صحت کا فیصلہ کیا تو قاضی کا حکم لازم ہوگا اب اس سے فدیہ نہیں لیا جائے گا اسی کو فرمایا کہ جب ولی وارث نے میت کی جانب سے روزے رکھے پھر وصی نے طلب کیا کہ وہ فدیہ دے اور وارث نے منع کیا کہ میں تو روزہ رکھ چکا ہوں اور یہ فیصلہ حاکم کے پاس پہنچ گیا ایسے حاکم کے پاس جو میت کے بدلے نیابۃ روزے کی صحت کا اعتقاد رکھتا ہو اور اس نے اس میت کے جانب نیابۃ روزہ رکھنے کی صحت کا فیصلہ کیا یا اس کے موجب کا فیصلہ کیا تو اب وصی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس سے فدیہ نکلوائے اور نہ ہی مطالبہ کرے گا وارث سے اس کا برخلاف اگر حکم والی سے پہلے ہو تو تب وصی فدیہ نکالنے کا مطالبہ کر سکتا ہے، اور اسی طرح اعتکاف کے مسائل کو بھی قاضی کا حکم مستقلا اور تضمنا شامل ہوگا مستقل طور پر جیسے کہ اس کے چند مسائل یہاں ذکر کئے ہیں جیسے کوئی عورت شوہر کی اجازت کے بغیر اعتکاف میں بیٹھ جائے تو شوہر اسے منع کر سکتا ہے اور قاضی کے حکم سے باہر نکلوا سکتے ہے اسی طرح غلام اعتکاف میں بیٹھ جائے آقا کی اجازت کے بغیر یا کوئی شخص قرضدار ہو تو اس نے سوچا کہ اب قرض والے پریشان کریں گے اور وہ دین کی ادائیگی سے بھاگنے کی غرض سے اعتکاف میں بیٹھ گیا تو قاضی حکم دے کر اس کو اعتکاف سے نکلوائے گا پس اگر قاضی اس میں یہ رائے رکھتا ہو اور تضمنی طور پر قا کی کا حکم کیسے شامل ہوگا اس کی مثالیں گذر چکی ہیں جیسے کہ طہارت اور صلاۃ میں
وَأَمَّا الصَّوْمُ: فَيَدْخُلُهُ أَيْضًا، وَذَلِكَ إذَا صَامَ الْوَلِيُّ الْوَارِثُ عَنْ الْمَيِّتِ وَطَلَبَ الْوَصِيُّ أَنْ يُخْرَجَ الطَّعَامُ فَامْتَنَعَ الْوَارِثُ مِنْهُ وَتَرَافَعَا إلَى حَاكِمٍ يَرَى صِحَّةَ الصَّوْمِ عَنْ الْمَيِّتِ فَحَكَمَ بِصِحَّتِهِ أَوْ بِمُوجَبِهِ فَلَيْسَ لِلْوَصِيِّ أَنْ يُخْرِجَ الطَّعَامَ حِينَئِذٍ وَلَا أَنْ يُطَالِبَ الْوَارِثَ بِذَلِكَ بِخِلَافِ مَا قَبْلَ الْحُكْمِ وَأَمَّا الِاعْتِكَافُ: فَيَدْخُلُهُ الْحُكْمُ اسْتِقْلَالًا وَتَضَمُّنًا.
أَمَّا اسْتِقْلَالًا: فَفِي مَسَائِلَ مِنْهَا: مَنْ اعْتَكَفَتْ بِغَيْرِ إذْنِ زَوْجِهَا فَلَهُ مَنْعُهَا، وَكَذَلِكَ الْعَبْدُ وَكَذَلِكَ إذَا اعْتَكَفَ الْمِدْيَانُ هَرَبًا مِنْ أَدَاءِ الدَّيْنِ فَإِنَّ الْحَاكِمَ يَرَى فِيهِ رَأْيَهُ وَأَمَّا التَّضَمُّنُ: فَكَمَا تَقَدَّمَ فِي الطَّهَارَةِ وَالصَّلَاةِ
اسی طرح حج میں بھی قاضی کا حکم مستقل طور پر شامل ہوگا جیسے کسی حنبلی شخص نے اپنے حج کے احرام کو عمرہ میں بدل کر عمرہ کر کے کھول دیا جب کہ وہ اسے جائز سمجھتا تھا اور اس کی بیوی فرض کر لیجے وہ دوسرے مسلک کی تھی اس لیے وہ اس چیز کی قائل نہ تھی یعنی وہ حج فسخ کر کے عمرہ سے احرام کھول دینے کی قائل نہ تھی اور اس نے اس کو اپنے اوپر حلال ہونے کے بعد قدرت نہ دی اور یہ حنبلی شخص حنبلی حاکم کے پاس اپنا معاملہ لے گیا اور اس نے حکم دیا فسخ حج الی العمرۃ کیے صحت کا یا اس کے موجب کا فیصلہ دیا تو یہ چیز بھی برابر ہے کہ قاضی کا حکم اس کو شامل ہوگا استقلال اور تضمناً اور اگر اس پر تمکین کا فیصلہ کیا،پہلا تھا کہ قاضی نے فسخ حج الی العمرۃ کا فیصلہ کیا جو کہ مستقل حکم تھا ہاں اگر فسخ حج الی العمرۃ کی صحت کا حکم گو نہ دیا بلکہ بیوی پر قدرت کا فیصلہ کیا تو اب یہ ضمنا حکم ہوگا اس بات کا کہ اس کا حج فسخ کرکے عمرہ سے فارغ ہو نا صحیح ہے
وَأَمَّا الْحَجُّ: فَإِنَّهُ لَوْ فَسَخَ حَنْبَلِيٌّ حَجَّهُ إلَى الْعُمْرَةِ حَيْثُ يَسُوغُ عِنْدَهُ وَلَهُ زَوْجَةٌ وَلَيْسَ مُعْتَقَدُهَا ذَلِكَ فَامْتَنَعَتْ مِنْ تَمْكِينِهِ بَعْدَ التَّحَلُّلِ فَارْتَفَعَا إلَى حَاكِمٍ حَنْبَلِيٍّ فَحَكَمَ عَلَيْهَا بِصِحَّةِ مَا فَعَلَ زَوْجُهَا الْحَنْبَلِيُّ أَوْ حَكَمَ بِمُوجَبِ ذَلِكَ عِنْدَهُ فَهُمَا مُتَسَاوِيَانِ، وَلَوْ حَكَمَ عَلَيْهَا بِالتَّمْكِينِ كَانَ مُتَضَمِّنًا لِلْحُكْمِ بِصِحَّةِ مَا فَعَلَهُ الزَّوْجُ وَهُوَ نَفْسُ الْمُوجَبِ.
No comments:
Post a Comment