وَذُكِرَ فِي خِزَانَةِ الْأَكْمَلِ: الْقَضَاءُ بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ مُجْتَهَدٌ فِيهِ عِنْدَ الْبَعْضِ، وَعَامَّةُ مَشَايِخِنَا عَلَى أَنَّهُ غَيْرُ مُجْتَهَدٍ فِيهِ عِنْدَ الْبَعْضِ.
وَكَذَا الْحُكْمُ بِالثُّبُوتِ بِالشَّهَادَةِ عَلَى الْخَطِّ، وَهُوَ مَذْهَبُ الْمَالِكِيَّةِ لَا يُنَفَّذُ عِنْدَنَا إلَّا بَعْدَ اتِّصَالِ قَاضٍ آخَرَ بِهِ.
فصل۔
قاضی کا فیصلہ کن چیزوں کو حلال کرتا ہے اور کن چیزوں کو حلال نہیں کرتا یا دوسرے الفاظ میں کہہ سکتے ہیں کہ قاضی کے فیصلے سے کن چیزوں کی حلت ثابت ہوتی ہے اور کن چیزوں کی حلت ثابت نہیں ہوتی دوسری بات اس فصل میں جتنے بھی مسائل آئیں گے ان کا دارومدار اس اصول پر ہے کہ قاضی صاحب نے جو فیصلہ کیا، کیا قاضی کا فیصلہ ظاہرا اور باطناً ہردو صورتوں میں نافذ ہوتا ہے یا صرف باطن یا صرف ظاہرا نافذ ہوتا ہے تو امام ابوحنیفہ اور امام ابو یوسف رحمتہ اللہ تعالی علیہما کے پہلے قول کے مطابق قاضی کا فیصلہ ظاہرا بھی نافذ ہوتا ہے باطناً بھی نافذ ہوتا ہے اور امام ابو یوسف کا دوسرا قول اور امام محمد رحمتہ اللہ تعالی علیہ کے نزدیک قاضی کا فیصلہ صرف ظاہرا نافذ ہوتا ہے باطناً نافذ نہیں ہوتا اب اس اختلاف کا نتیجہ اور ثمرہ کہاں نکلے گا وہ آنے والے مسائل میں پتہ چلتا ہے آنے والے مسائل اسی اصول پر مبنی ہے چنانچہ اگر دو آدمیوں نے جھوٹی گواہی دی کہ فلاں آدمی نے اپنی بیوی کو طلاق بائن دی اور قاضی صاحب نے اس شخص پر اس کی بیوی کو حرام قرار دیا اور فیصلہ سنا دیا کہ یہ اب اس کی بیوی نہیں رہی طلاق ثابت ہے، اس کے بعد انہی گواہوں میں سے جنہوں نے جھوٹی گواہی دی ہے ان میں سے ایک گواہ نے اس عورت کے ساتھ نکاح کیا تو کیا یہ بیوی اس جھوٹے گواہ کے لیے حلال ہوگی اور حلال ہو کر کیا یہ جھوٹا گواہ اس سے وطی کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا کیونکہ یہ تو جانتا ہے کہ میں نے جھوٹی گواہی دی ہے اس کے شوہر نے طلاق بائن دی ہی نہ تھی تو کیا یہ بیوی اس کے لیے حلال ہوگی یا نہیں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ زوج ثانی کے لیے اور یہی قول امام یوسف کا پہلا قول بھی ہے کہ زوج ثانی کے لیے اس عورت سے و طی کرنا بھی درست ہے اور یہ اس کی بیوی ہو جائے گی اس لیے کہ قاضی کا فیصلہ ظاہرا تو نافذ ہوتا ہی ہے باطناً بھی نافذ ہوجائے گا جب قاضی نے فیصلہ سنایا تو وہ سچ مچ میں پہلے شوہر کی بیوی نہیں رہی اب اس عورت کا اس کی بیوی ہونا درست ہے چاہے زوج ثانی جانتا ہو اپنی بیوی سے متعلق سابقہ نکاح پر جھوٹی گواہی کو ( جیسا کہ خود دو جھوٹے گواہوں میں ایک اس عورت سے نکاح کرے) اور امام ابو یوسف کا قول آخر اور راجح اور امام محمد رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ زوج ثانی کے لیے اس عورت س وطی کرنا درست نہیں ہے اگر وہ حقیقت حال سے واقف ہو حقیقت حال سے واقف جب ہی ہوگا کہ انہی گواہوں میں سے کوئی نکاح کرے اور اگر کوئی تیسرا شخص اجنبی شخص اس سے اب نکاح کرتا ہے جو حقیقت حال سے واقف کار نہیں تو اس کے لیے وطی کرنا جائز ہوگا اس لیے کہ وہ صرف ظاہر کا مکلف ہے باطن کا نہیں باطن کا تو اس کو کچھ پتہ ہی نہیں، تو ظاہری اعتبار سے اس کا نکاح کرنا بھی درست ہے اور اس کا اس عورت سے وطی کرنا بھی درست ہے، یہ ایسا ہی ہوا کہ ایک شخص نے کسی شخص سے باندی خریدی تو اگر وہ جانتا ہو کہ میں نے جس سے باندی خریدی ہے باندی اس کی ہے ہی نہیں اور وہ شخص اس باندی کا مالک ہے ہی نہیں تب تو وہ اس کے ساتھ وطی نہیں کر سکتا اور اگر وہ جانتا نہ تھا کہ میں نے جس سے باندی خریدی ہے وہ حقیقت میں اس کا مالک نہیں تو پھر اگر وہ اس سے وطی کرتا ہے تو اس کو یہ نہیں کہا جائے گا کہ اس نے اس کے ساتھ حرام وطی کی ہے یعنی اس کا اس کے ساتھ وطی کرنا حرام ہے کیونکہ وہ ظاہر کا مکلف ہے اسے تو پتہ ہی نہیں ہے کہ بایع اس کا حقیقت میں مالک نہیں اس نے تو اپنے گمان سے درست باندی کو خریدا ہے اور اب وہ تو اپنی باندی سے وطی کر رہا ہے اس لیے اس وطی کرنا صحیح ہے اگر وہ نہ جانتا ہو کہ یہ بائع اس کا مالک نہیں ہے ایسا ہی یہاں بھی ہے امام محمد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب وہ شخص جانتا ہی نہیں کہ جیسے کہ کوئی اجنبی شخص اس عورت سے نکاح کرتا ہے جسے حقیقت حال کا پتہ ہی نہیں کہ اس عورت کے سلسلے میں جھوٹے گواہوں نے گواہی دی ہے جب اس کو اس کا علم نہیں تو اس کے لیے نکاح کرنا بھی درست ہے اور وطی کرنا بھی درست ہے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ جس عورت کے لیے جھوٹے گواہ کھڑا ہو گئے اور قاضی صاحب کے یہاں معاملہ دائر کر دیا کہ اسے شوہر نے طلاق بائن دی ہے قاضی صاحب نے طلاق کا فیصلہ سنا دیا اب وہ عورت الگ ہو گئی اب کیا شوہر اول اس عورت سے وطی کر سکتا ہے یا نہیں امام اعظم ابوحنیفہؒ اسی اصول کی بنا پر فرمائیں گے کہ نہیں کر سکتا ہے، اس لیے کہ قاضی کا فیصلہ دونوں طرح سے نافذ ہوتا ہے جبکہ امام محمد رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ ظاہر میں تو وطی نہیں کر سکتا کیونکہ قاضی کا فیصلہ ظاہراً نافذ ہوتا ہے اگرچہ جھوٹی گواہی ہو لیکن امام محمد کے نزدیک باطنا قضاء قاضی نافذ نہیں ہوتا اس لیے چھپ کر اگر شوہر اول اس عورت سے وطی کرتا ہے، تو اس کے لیے گناہ نہیں ہوگا اور امام ابو یوسف یہاں پر امام اعظم ابو حنیفہ کے ساتھ ہیں وہ بھی فرماتے ہیں کہ نہ ظاہرا وطی کر سکتا ہے نہ باطناً کر سکتا ہے یہ اسی اصول پر ہے کہ قاضی کا فیصلہ امام صاحب کے نزدیک ظاہرا اور باطنا دونوں طرح سے نافذ ہوتا ہے جبکہ امام محمد کے نزدیک قاضی کا فیصلہ صرف ظاہرا نافذ ہوتا ہے باطنا نافذ نہیں ہوتا۔
[فَصْلٌ فِيمَا يُحِلُّهُ قَضَاءُ الْقَاضِي وَمَا لَا يُحِلُّهُ]
(فَصْلٌ) :
شَهِدَ رَجُلَانِ عَلَى رَجُلٍ أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ بَائِنًا بِزُورٍ. فَفَرَّقَ الْقَاضِي بَيْنَهُمَا، ثُمَّ تَزَوَّجَهَا أَحَدُ الشَّاهِدَيْنِ أَوْ آخَرُ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ. جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ الْأَوَّلُ، وَحَلَّ لِلزَّوْجِ الثَّانِي وَطْؤُهَا سَوَاءً كَانَ جَاهِلًا بِحَقِيقَةِ الْحَالِ أَوْ عَالِمًا.
وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ الْآخَرُ وَهُوَ قَوْلُ مُحَمَّدٍ: إنْ كَانَ جَاهِلًا حَلَّ لَهُ وَطْؤُهَا؛ لِأَنَّهُ يَتْبَعُ الظَّاهِرَ وَلَيْسَ يُكَلَّفُ بِمَا فِي الْبَاطِنِ، كَمَا لَوْ اشْتَرَى أَمَةً ثُمَّ ظَهَرَ أَنَّ الْبَائِعَ لَمْ يَكُنْ مَالِكَهَا وَقَدْ وَطِئَهَا الْمُشْتَرِي لَا يُوصَفُ وَطْؤُهَا بِكَوْنِهِ حَرَامًا، وَإِنْ كَانَ عَالِمًا بِأَنْ كَانَ الزَّوْجُ أَحَدَ الشَّاهِدَيْنِ لَا يَحِلُّ وَأَمَّا الزَّوْجُ الْأَوَّلُ: فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ لَا يَحِلُّ لَهُ وَطْؤُهَا فِي الظَّاهِرِ وَالْبَاطِنِ وَعِنْدَهُمَا لَا يَحِلُّ لَهُ وَطْؤُهَا فِي الظَّاهِرِ وَيَحِلُّ فِي الْبَاطِنِ عِنْدَ مُحَمَّدٍ وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ لَا يَحِلُّ.
وَهَذِهِ الْمَسْأَلَةُ بِنَاءٌ عَلَى أَنَّ قَضَاءَ الْقَاضِي بِالْعُقُودِ وَالْفُسُوخِ يَنْفُذُ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا عِنْدَهُ، خِلَافًا لَهُمَا وَهِيَ مَعْرُوفَةٌ.
مسئلہ۔
دو آدمیوں نے جھوٹی گواہی دی قاضی کے پاس کہ فلاں شخص نے خود اقرار کیا ہے کہ اس کے پاس جو باندی ہے وہ اس کی بیٹی ہے اب قاضی صاحب نے گواہوں کی گواہی قبول کی اور اس باندی کو اس شخص کی بیٹی قرار دیا اب وہ آدمی اس باندی سے وطی نہیں کر سکتا کیونکہ قاضی کا اس باندی کو اس شخص کی بیٹی بنانا حقیقت میں اس کی بیٹی بن چکی ہے اب وہ باندی بحیثیت بیٹی اس مرد سے نفقہ بھی مانگ سکتی ہے جس طرح بیٹی باپ سے مانگتی ہے اسی طرح وہ اس کی وارث بھی ہوگی مرنے کے بعد اس لیے کہ وہ اس کی بیٹی ہے اور یہ سب چیزیں بیٹی کے احکامات میں سے یعنی باپ سے نفقہ طلب کرنا اور باپ کی وارث ہونا ۔
اب یہاں سے وہی مسئلہ پھر بیان کریں گے کہ کیا اس باندی کے لیے یا اس لڑکی کے لیے اس شخص کی میراث کو کھانا جائز ہے یا نہیں کیونکہ وہ تو حقیقت حال سے واقف ہے کہ میں حقیقت میں باندی ہوں ان گواہوں نے جھوٹی گواہی دی ہے میں حقیقت میں اس کی لڑکی نہیں ہوں اگرچہ قاضی نے فیصلہ سنایا ہے وہ حقیقت حال سے واقف ہے کیا اس کے لیے میراث کا کھانا جائز ہے یا نہیں امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک وہ عورت، وہ باندی میراث کھا سکتی ہے، اس کے لیے میراث حلال ہے کیونکہ قاضی کا فیصلہ ظاہرا اور باطناً دونوں طرح سے نافذ ہو چکا ہے جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ وہ عورت باپ کی میراث کو نہیں کھا سکتی کیونکہ وہ جانتی ہے میں اس کی حقیقت میں بیٹی نہیں ہوں باندی ہوں اس لیے کہ صاحبین کے نزدیک صرف ظاہرا حکم قاضی نافذ ہوتا ہے باطناً نافذ نہیں ہوتا ہمارے بعض مشائخ نے کہا کہ اگر جھوٹی گواہی نسب کے متعلق ہو تو پھر قاضی فیصلہ صرف ظاہرا نافذ ہوتا ہے باطن نافذ نہیں ہوتا بالاجماع تو امام خصاف رحمہ اللہ تعالی ان کی بات کو ٹھکراتے ہوئے فرماتے ہیں کہ امام اعظم ابو حنیفہ کے نزدیک درست یہی ہے کہ قاضی کا فیصلہ ظاہرا اور باطناً دونوں طرح سے نافذ ہوتا ہے چاہے جھوٹی گواہی سے معاملہ ثابت ہوا ہو۔
(مَسْأَلَةٌ) :
وَلَوْ شَهِدَ رَجُلَانِ عَلَى أَنَّهُ أَقَرَّ أَنَّ أَمَتَهُ هَذِهِ ابْنَتُهُ بِزُورٍ فَأَعْتَقَهَا الْقَاضِي وَجَعَلَهَا ابْنَتَهُ فَإِنَّهَا ابْنَتُهُ.
وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَطَأَهَا وَتَسْتَنْفِقُ مِنْهُ وَتَرِثُهُ؛ لِأَنَّ الْقَاضِيَ جَعَلَهَا بِنْتًا لَهُ، وَهَذِهِ أَحْكَامُ الْبِنْتِيَّةِ، وَهَلْ يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَأْكُلَ مِيرَاثَهُ؟ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ يَحِلُّ، وَعِنْدَهُمَا لَا، بِنَاءً عَلَى أَنَّ قَضَاءَ الْقَاضِي بِالنَّسَبِ يَنْفُذُ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا عِنْدَهُ خِلَافًالَهُمَا،مِنْ مَشَايِخِنَا مَنْ قَالَ: قَضَاءُ الْقَاضِي بِالنَّسَبِ بِشَهَادَةِ الزُّورِ لَا يَنْفُذُ بَاطِنًا بِالْإِجْمَاعِ، وَنَصَّ الْخَصَّافُ عَلَى أَنَّهُ يَنْفُذُ.
مسئلہ اگر کسی شخص نے کسی شخص کے قبضے میں کسی حق کا دعوی کیا اور اس پر گواہ بھی پیش کر دئیے، لیکن گواہ جھوٹے تھے اور قاضی نے ان گواہوں کی گواہی لیتے ہوئے اس شخص کے لیے اس چیز کا فیصلہ کر دیا فرماتے ہیں کہ جو مقضی لہ ہے یعنی جس کے حق میں فیصلہ کیا گیا ہے کسی چیز کا اس کے لیے اس چیز سے وطی کرنا جائز نہیں اگر وہ چیز باندی میں سے ہو یعنی مقضی بہ اگر باندی ہو، اسی طرح اس کا پہننا جائز نہیں اگر وہ چیز کپڑے میں سے ہو اسی طرح اس کا کھانا جائز نہیں اگر وہ چیز مأکولات میں سے ہو ہاں مقضی علیہ جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا ہے اور جو اس چیز کا اصل مالک ہے کیونکہ اس کے خلاف تو جھوٹے گواہ پیش کیے گئے ہیں اس لیے مقضی علیہ جس کے خلاف فیصلہ کیا گیا ہے اس کے لیے یہ چیزیں حلال ہیں یعنی اگر باندی ہے تو وہ اس باندی سے وطی کر سکتا ہے اگر وہ پہننے کی چیزوں میں سے تو وہ مقضی علیہ اس کو پہن سکتا ہے اور اگر وہ مأکولات میں سے ہو تو مقضی علیہ اسے کھا سکتا ہے اس لیے کہ املاک مرسلہ میں فیصلہ باطناً نافذ نہیں ہوتا، املاک مرسلہ کہتے ہیں بے سبب ملکیت ظاہر کرنا یعنی ملکیت کا دعویٰ کیا لیکن ملکیت کا سبب نہیں بتایا بغیر سبب کے اگر کسی پر ملکیت ثابت ہوتی ہے تو وہ صرف ظاہرا ثابت ہوتی ہے باطن ثابت نہیں ہوتی ہے اس لیے کہ کسی چیز کا مالک قضاء کے ذریعے سے تبھی ہو سکتا ہے جب سبب کے ذریعے مالک ہو بغیر سبب کے قضاء سے کسی کا مالک نہیں ہوتا اور کوئی ایسا سبب یہاں متعین نہیں جو دوسرے سبب سے زیادہ اولی ہو تو اس کے لیے قضاء سے ملکیت کا ثابت ہونا متعذر ہوا برخلاف عقود و فسوق کے
(مَسْأَلَةٌ) :
وَلَوْ ادَّعَى حَقًّا فِي يَدِ رَجُلٍ وَأَقَامَ عَلَيْهِ بَيِّنَةَ زُورٍ فَقَضَى الْقَاضِي لَهُ لَا يَحِلُّ لِلْمَقْضِيِّ لَهُ وَطْؤُهَا إنْ كَانَتْ جَارِيَةً، وَلَا لُبْسُهُ إنْ كَانَ ثَوْبًا، وَلَا أَكْلُهُ إنْ كَانَ طَعَامًا، وَيَحِلُّ لِلْمَقْضِيِّ عَلَيْهِ ذَلِكَ؛ لِأَنَّ الْقَضَاءَ فِي الْأَمْلَاكِ الْمُرْسَلَةِ لَا يَنْفُذُ بَاطِنًا؛ لِأَنَّهُ لَا يَمْلِكُ الْقَضَاءَ إلَّا بِسَبَبٍ، وَلَيْسَ تَعْيِينُ بَعْضِ الْأَسْبَابِ بِأَوْلَى مِنْ الْآخَرِ فَتَعَذَّرَ الْقَضَاءُ بِالْمِلْكِ لَهُ بِخِلَافِ الْعُقُودِ وَالْفُسُوخِ.
مسئلہ۔ اگر دو جھوٹے گواہ کھڑے ہو گئے اور قاضی کے پاس گواہی دی کہ فلاں شخص نے اس باندی کو فلاں شخصی کے ہاتھ میں ایک ہزار درہم کے بدلے میں بیچا ہے اور قاضی نے اس شخص کے لیے اس باندی کا فیصلہ کر دیا تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ یہاں قضاء ظاہرا بھی نافذ ہوگا باطنا بھی نافذ ہوگا اور نتیجہ یہ ہوگا کہ مشتری کے لیے اس باندی سے وطی کرنا درست ہوگا، اس لیے کہ اگرچہ گواہ جھوٹے تھے لیکن قاضی نے جب فیصلہ کیا تو قاضی کا فیصلہ ظاہرا و باطناً نافذ ہو گیا جبکہ صاحبین رحمہم اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ قاضی کا فیصلہ صرف ظاہرا نافذ ہوگا باطن نافذ نہیں ہوگا اس لیے مشتری اس سے وطی نہیں کر سکتا ہے مشتری کے لیے اس سے قربت کرنا حلال نہ ہوگا
(مَسْأَلَةٌ) :
وَلَوْ أَقَامَ شَاهِدَيْ زُورٍ أَنَّ فُلَانًا بَاعَهُ هَذِهِ الْجَارِيَةَ بِأَلْفِ دِرْهَمٍ فَقَضَى الْقَاضِي بِهَا لَهُ فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ يَنْفُذُ الْقَضَاءُ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا حَتَّى يَحِلَّ لِلْمُشْتَرِي غَشَيَانُهَا، وَعِنْدَهُمَا لَا يَنْفُذُ بَاطِنًا حَتَّى لَا يَحِلَّ لَهُ الْوَطْءُ.
اب یہاں سے فرما رہے ہیں کہ اگر بائع ہی مدعی ہو یعنی جھوٹے گواہ جنہوں نے یہ کہا کہ فلاں شخص نے اس باندی کو فلاں کے ہاتھ میں بیچا تو یہ بیچنے والا ہی اگر گواہوں میں سے ایک ہو یعنی اس نے یہ کہا ہو کہ میں نے اس باندی کو فلاں مشتری کو بھیجا ہے اور گواہ بھی پیش کر دئیے تو امام اعظم ابو حنیفہؒ کے نزدیک یہ مسئلہ اور پہلا مسئلہ برابر ہے یعنی باطناً بھی نافذ ہوگا، مشتری کے لیے وطی کرنا حلال ہوگا جبکہ صاحبین رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اگر مشتری راضی ہو اس چیز پر کہ چلو انہوں نے جھوٹی گواہی دی میرے خلاف کہ میں نے اس باندی کو خریدا ہے اور وہ اب راضی ہو گیا کہ چلو میں اسے خریدی لیتا ہوں تو فرماتے ہیں پھر اس کے لیے اس سے وطی کرنا حلال ہوگا اور اگر وہ راضی نہ ہوا اور وہ چاہے کہ میں حجت پیش کروں تو پھر اس کے لیے اس سے وطی کرنا حلال نہ ہوگا
وَلَوْ كَانَ الْبَائِعُ هُوَ الْمُدَّعِي وَالْمُشْتَرِي يُنْكِرُ وَقَامَتْ بَيِّنَةُ الزُّورِ عِنْدَهُ فَعِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ هَذَا وَالْأَوَّلُ سَوَاءٌ، وَعِنْدَهُمَا إنْ رَضِيَ الْمُشْتَرِي بِذَلِكَ يَحِلُّ، وَإِنْ لَمْ يَرْضَ وَكَانَ يَطْلُبُ حُجَّتَهُ فَلَا يَحِلُّ.
اور اگر جھوٹے گواہ پیش کئے گئے کسی آدمی کے خلاف کہ اس شخص نے اس آدمی کو یہ باندی ہدیہ دی ہے یا اس پر صدقہ کی ہے اور اس موہوب لہ و مصدق علیہ نے اس باندی پر قبضہ بھی کیا ہے اور یہ اس شخص کے قبضے میں بھی ہے لیکن یہ دعویٰ بغیر کسی حق کے ہو یعنی اسے کوئی حق نہیں تھا پھر بھی صدقہ کیا اس پر تو یہاں صاحبین فرماتے ہیں قاضی کا قضاء باطناً نافذ نہیں ہوگا صرف ظاہرا نافذ ہوگا اور امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک یہاں قضاء ظاہرا باطناً دونوں طرح سے نافذ ہوگا یا نہیں تو اس سلسلے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک دو روایتیں ہیں ایک میں ہے کہ ظاہراً اور باطناً دونوں طرح سے نافذ ہوگا جسے کہ مذکورہ بالا مسئلوں میں دوسری روایت ہے کہ صرف ظاہرا نافذ ہوگا باطناً نافذ نہیں ہوگا دلیل اس کی بھی وہی ہوگی جو پہلے گذر چکی ہے کہ املاک مرسلہ ہے بغیر کسی سبب کے دعوی کیا جا رہا ہے، یہی میں یہی مسئلہ درج ہے۔
وَلَوْ أَقَامَ بَيِّنَةَ زُورٍ عَلَى رَجُلٍ أَنَّهُ وُهِبَ مِنْهُ هَذِهِ الْجَارِيَةَ أَوْ تَصَدَّقَ بِهَا عَلَيْهِ وَقَبَضَهَا مِنْهُ وَهِيَ فِي يَدِهِ بِغَيْرِ حَقٍّ لَا يَنْفُذُ قَضَاؤُهُ بَاطِنًا عِنْدَهُمَا، وَهَلْ يَنْفُذُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ؟ رِوَايَتَانِ، " كَذَا فِي الْمُحِيطِ
فصل۔
اب اس فصل میں یہ بتا رہے ہیں کہ قاضی کے معزول ہونے کے بعد یا مر جانے کے بعد قاضی کے کون سے افعال معتبر ہوں گے اور کون سے افعال معتبر نہیں ہوں گے۔
[فَصْلٌ فِيمَا لَا يُعْتَبَرُ مِنْ أَفْعَالِ الْقَاضِي إذَا عُزِلَ أَوْ مَاتَ]
(فَصْلٌ) :
فِيمَا لَا يُعْتَبَرُ مِنْ أَفْعَالِ الْقَاضِي إذَا عُزِلَ أَوْ مَاتَ وَمَا يُعْتَبَرُ
فرماتے ہیں قاضی صاحب نے معزول ہونے کے بعد یہ دعوی کیا کہ میں نے فلاں چیز کا فیصلہ فلاں شخص کے حق میں کیا تھا یعنی فلاں چیز کا مالک فلاں شخص کو بنایا تھا فرماتے ہیں معزول ہونے کے بعد محض قاضی کی بات کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ جب تک نہ وہ شخص جس کے قبضے میں وہ چیز ہے وہ اقرار کرے کہ ہاں میں ہی اس شخص کا مالک ہوں اور یہ کہے کہ معزول قاضی نے کل میرے حق میں اس کا فیصلہ کیا تھا اور کوئی اس کے خلاف مدعی نہ ہو تو وہ چیز پھر اسی شخص کی ہوگی اور تب قاضی کی بات مانی جائے گی اصل میں یہاں اس اصول پر بحث ہے کہ فقہ کا مشہور اصول ہے ان الظاہر یدفع الاستحقاق ولا یوجب الاستحقاق یعنی ظاہری قبضہ دوسرے شخص کے استحقاق کو رد کرتا ہے البتہ کسی کے حق کو ثابت نہیں کرتا چناں چہ ظاہری قبضہ یہ بھی ایک دلیل ہے کہ ظاہری قبضہ جس کا ہو اس کے حق میں فیصلہ دیا جاتا ہے جب تک کہ کوئی دوسرا اپنی دعوے پر اس کے خلاف گواہ پیش نہ کرے کیونکہ اگر ایک شخص کسی چیز کی ملکیت کا دعوی کرے تو وہ چیز اس کی ہے جب تک اس کی ملکیت کے خلاف کوئی مدعی کھڑا نہ ہو جائے اور کوئی بینہ قائم کرے تب تک وہ اس شخص کی ملکیت ہے اسی طرح یہاں بھی جب قاضی نے فیصلہ کیا کہ میں نے اس چیز کا مالک فلاں کو بنایا اور فلاں نے اس چیز کی ملکیت کا اقرار کیا اور کوئی یہاں مدعی بھی نہیں اس شخص کے خلاف تو قاضی کی بات معتبر ہوگی ہاں اگر خلاف ظاہر کوئی دعوی کرے اور گواہ قائم ہو جائے تو پھر وہ چیز اس کے لیے ثابت ہوگی چونکہ شریعت کا اصول ہے کہ گواہ اسے پیش کرنا ہے جو دعوی کرے اسی طرح شریعت کا اصول یہ بھی ہے البینۃ علی من یدعی خلاف الظاہر. کہ جو خلاف ظاہر کا دعوی کرے گواہ اس پر ہے کسی چیز پر ملکیت کا ثبوت، کسی چیز پر ملکیت ثابت کرنا یہ بھی خلاف ظاہر ہے کیونکہ ہر چیز کی ملکیت سے فارغ ہونا،ہر چیز مباح الاصل ہے( یہ معین الحکام کے پہلے صفحہ انشاء اطلاق کے تحت بھی مختصراً گزری ہے )کسی چیز پر ملکیت کا ثبوت پیش کرنا یہ خلاف ظاہر دعوی کرنا ہے اگر کوئی اس کے خلاف اس کا منکر پیدا ہو جائے تو پھر جو خلاف ظاہر کا دعوی کرتا ہے اسے گواہ پیش کرنے ہوں گے چنانچہ یہاں بھی اگر قاضی یہ کہہ رہا ہے کہ میں نے فلاں چیز کا مالک فلاں شخص کو بنایا ہے اور کوئی اس کے خلاف دعوی نہیں کر رہا ہے اور وہ دوسرا شخص اقرار کرے کہ ہاں اس قاضی نے مجھے یہ چیز دی ہے تو اس کا اقرار کرنا صحیح ہے وہ چیز اس کی ہوگی وہ اس چیز کا مالک ہوگا کیونکہ کوئی اس کے خلاف منکر نہیں ہے۔
وَلَا يُقْبَلُ قَوْلُ الْمَعْزُولِ إلَّا أَنْ يَعْتَرِفَ الَّذِي بِيَدِهِ بِأَنَّ الْمَعْزُولَ سَلَّمَهُ إلَيْهِ، فَحِينَئِذٍ يُقْبَلُ قَوْلُهُ؛ لِأَنَّ الَّذِي فِي يَدِهِ إذَا ادَّعَى أَنَّهُ مَلَكَهُ يُقْبَلُ قَوْلُهُ وَحُكِمَ لَهُ بِهِ ظَاهِرًا، فَكَذَا إذَا أَقَرَّ أَنَّ فُلَانًا سَلَّمَهُ إلَيْهِ إلَّا أَنْ تَقُومَ الْبَيِّنَةُ عَلَى خِلَافِ الظَّاهِرِ.
دوسرا مسئلہ قاضی معزول ہوا، معزول ہونے کے بعد دوسرے دن قاضی صاحب کہہ رہے ہیں کہ میں نے فلاں شخص کے لیے قصاص کا فیصلہ کیا ہے اسی طرح معزول ہونے کے بعد کہہ رہے ہیں کہ میں نے فلاں شخص کے لیے فلاں حق کا فیصلہ کیا ہے تو اب معزول ہونے کے بعد قاضی کی بات قبول نہیں کی جائے گی جبکہ قاضی صاحب کہہ دیں کہ میرے پاس کوئی گواہ نہیں ہے تو قاضی صاحب کی تصدیق نہیں کی جائے گی جب تک قاضی اپنے سوا دو گواہوں کو پیش نہ کرے اس لیے کہ کل کا معاملہ اور تھا کل تو یہ قاضی تھے آج چونکہ قاضی نہیں اس لیے آج کا معاملہ اور ہے آج عام لوگوں کی طرح یہ قاضی بھی ہے اس لیے اپنی بات پر دو گواہوں کو پیش کرنا ہوگا اور دوسری بات قاضی صاحب ایک ایسے معاملے کی خبر دے رہے ہیں کہ کل تو وہ اس کے استئناف کے مالک تھے یعنی جب وہ قاضی تھے اگر وہ کوئی فیصلہ کرتے پھر ان کو ضرورت محسوس ہوتی اور دوبارہ وہی فیصلہ دہراتے تو درست تھا کیونکہ وہ قاضی تھے لیکن کل انہوں نے جو فیصلہ کیا ہے آج معزول ہونے کے بعد وہ اس کا استئناف کرنا چاہیے ، از سر نو وہ حکم دینا چاہیے تو نہیں دے سکتا اس لیے اس مسئلہ میں بھی قاضی صاحب آج، کل گزشتہ کی بات کو دوبارہ دہرا رہے ہیں کل کے فیصلے کو آج دوبارہ دہرا رہے ہیں جبکہ قاضی صاحب آج استئناف کے مالک نہیں ہے۔
وَلَوْ عُزِلَ وَقَالَ: كُنْت قَضَيْت لِفُلَانٍ بِقِصَاصٍ أَوْ حَقٍّ وَأَنَا أَشْهَدُ عَلَيْهِ لَمْ يُصَدَّقْ حَتَّى يَشْهَدَ اثْنَانِ سِوَاهُ؛ لِأَنَّهُ حَكَى أَمْرًا لَا يَمْلِكُ اسْتِئْنَافَهُ.
جامع الصغیر میں ہے کہ قاضی صاحب نے ایک شخص سے کہا کہ میں نے کل آپ سے ایک ہزار درہم لیا اور میں نے فلاں شخص کو دیا اور یہ جو میں نے آپ سے لیے اور دوسرے کو دیا یہ کل میرا فیصلہ تھا آپ پر،دوسرےشخص کے حق میں یعنی آپ کے ذمہ فلاں کا قرض تھا میں نے اس کے لیے فیصلہ کیا اور آپ سے ایک ہزار روپئے لئے اور اس کو دیا اب یہ شخص آج دوسرے دن قاضی سے کہہ رہے ہیں کہ نہیں آپ نے جو کل مجھ سے پیسے لیے اور دوسرے کو دئیے وہ ظلما لیے تھے، یہ انکار نہیں کر رہا ہے قاضی سے کہ آپ نے غیر حالت قاضی میں مجھ سے پیسے لیے یا معزول ہونے بعد لیے تھے، بلکہ یہ تصدیق کر رہا ہے کہ کل آپ قاضی تھے آپ نے بحالت قاضی مجھ سے پیسے لیے لیکن اس شخص کا دعویٰ ہے کہ آپ نے ظلماً مجھ سے پیسے لیے تو کہتے ہیں کہ قاضی صاحب کی بات مانی جائے گی اس لیے کہ وہ شخص جس سے پیسے لیے گئے ہیں، خود اقرار کر رہا ہے کہ قاضی صاحب کل قاضی تھے قاضی ہونے کی حالت میں مجھ سے پیسے لیے ہیں لہذا المرء یؤخذ علی اقرارہ کے تحت اس کے ساتھ معاملہ کیا جائے گا اور قاضی کی بات کا اعتبار ہوگا کیوں کہ قاضی صاحب بطور قاضی امین ہوتے ہیں اس لیے قاضی ہونے کی حالت میں قاضی صاحب کا فیصلہ اور فعل ایک حجت ہے اور درست ہے اور قاضی کا دوسرے کے حق میں فیصلہ کرنا، دوسرے کو حق دلانا یہ امانت داری بھی ہے اور ایک درست امر بھی اس لیے قاضی کے فیصلے پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا ہے۔
وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: قَاضٍ عُزِلَ فَقَالَ لِرَجُلٍ: أَخَذْتُ مِنْك أَلْفَ دِرْهَمٍ وَدَفَعْتهَا إلَى هَذَا قَضَيْتُ بِهَا لَهُ عَلَيْك، فَقَالَ الْمَأْخُوذُ مِنْهُ: لَا بَلْ أَخَذْتَهُ ظُلْمًا.
فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْقَاضِي وَلَا ضَمَانَ عَلَى الْآخِذِ؛ لِأَنَّ الْمَأْخُوذَ مِنْهُ صَدَّقَهُ فِي أَنَّهُ فَعَلَهُ حَالَةَ الْقَضَاءِ، وَقَوْلُ الْقَاضِي فِي حَالِ قَضَائِهِ حُجَّةٌ وَدَفْعُهُ صَحِيحٌ.
بر خلاف اس کے کہ ایک شخص قاضی سے کہہ رہا ہے آپ نے قاضی ہونے سے پہلے یا قضاء سے معزول ہونے کے بعد مجھ سے یہ پیسے لیے ہیں تو اس صورت میں قاضی پر ضمان تو نہیں آئے گا یعنی قاضی کا قول معتبر مانا جائے گا قاضی سے ضمان کی برأت میں یعنی قاضی پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ قاضی نے اپنے لیے پیسے نہیں لیے ہیں ہاں قاضی کی بات کا اعتبار دوسرے شخص کے حق میں نہیں ہوگا یعنی دوسرے سے ضمان کی برأت میں چناں چہ دوسرے شخص جس نے پیسے وصول کیے ہیں اس شخص پر ضمان آئے گا اس سے پیسے لیے جائیں گے یہ بھی قواعد الفقہ کے ایک اصول پر مبنی ہے کہ انسان اگر اپنے اوپر کسی حق کا اقرار کرتا ہے تو اس کی تصدیق کی جائے گی لیکن غیر کے حق کے ابطال میں اس کے اقرار کی تصدیق نہیں کی جائے گی ولا یصدق فی ابطال حق الغیر، قاضی نے چونکہ یہاں پیسے اپنے لیے نہیں لیے ہے تو اپنے سے اگر وہ ضمان کی برأت ظاہر کر رہا ہے تو درست مانا جائے گا لیکن دوسرے سے جس نے لیے ہیں اس سے اگر قاضی چاہے کہ وہ بھی ضمان سے بری ہو جائے تو قاضی کی بات کی تصدیق آج نہیں کی جائے گی، آخذ پر ضمان آئے گا چنانچہ غیر سے حق کے ابطال میں غیر سے ضمان کے ابطال میں قاضی کی بات کی تصدیق نہیں کی جائے گی۔
بِخِلَافِ مَا إذَا قَالَ الْمَأْخُوذُ مِنْهُ: أَخَذْته قَبْلَ تَقْلِيدِ الْقَضَاءِ أَوْ بَعْدَ الْعَزْلِ، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْقَاضِي فِي دَفْعِ الضَّمَانِ عَنْ نَفْسِهِ دُونَ إبْطَالِ الضَّمَانِ عَنْ غَيْرِهِ.
اسی طرح اگر قاضی نے کسی شخص سے کہا کہ میں نے آپ کے بارے میں قطع ید کا فیصلہ کیا تھا یا کہے کہ میں نے حکم دیا تھا آپ کے بارے میں ہاتھ کاٹنے کا،چوری کے بدلے اب اگر جس کا ہاتھ کاٹا گیا وہ کہے کہ آپ نے قاضی ہونے سے پہلے یا قاضی ہونے کے بعد یعنی معزول ہونے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے تو قاضی یا تو گواہ قائم کرے یا پھر اس پر تو ضمان نہیں آئے گا قاضی کی بات معتبر ہوگی اپنے سے ضمان کی برأت میں لیکن جس شخص نے جھوٹی چوری کی گواہی دی، تہمت اور اس شخص کو چور ثابت کیا جھوٹے طریقے سے اور پھر اس کے بدلے میں اس کا ہاتھ کاٹا تو اس شخص پر ضمان آئے گا جس کی وجہ سے اس کا ہاتھ کاٹا گیا ہے، چناں چہ جس کی وجہ سے اس کا حق کاٹا گیا ہے اس سے ضمان کی برأت میں قاضی کی بات متبر نہیں ہوگی۔
وَكَذَا إذَا قَالَ: قَضَيْتُ بِقَطْعِ يَدِك فِي حَقٍّ أَوْ أَمَرْت بِقَطْعِ يَدِك بِحَقٍّ مِنْ الْإِيضَاحِ.
فصل
یہاں سے مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جو امیر شریعت ہو یا اسی طرح بادشاہ ہو خلیفہ ہو امیر ہو جس نے قضاۃ کو مقرر کیا ہے اسے چاہیے کہ گاہے بگاہے اپنے ماتحت قاضیوں کی خبرگیری کرتا رہے اور ان کے بارے میں تحقیق کرتا رہے اپنے ماتحت قاضیوں کی حالت کی چھان بین کرتا رہے اور ان کے بارے میں لوگوں سے پوچھتے رہے، اس لیے کہ انہیں قاضیوں کی وجہ سے اس امیرو بادشاہ کی بادشاہت قائم ہے اس کی بادشاہت اور اس کے عہدے کے یہی قضاۃ کی ستون ہے، اس کی سلطنت کی چوٹی ہے کیونکہ انصاف سے ہی دنیا قائم رہتی ہے انصاف سے ہی ایک قوم پروان چڑھتی ہے اور جو بادشاہ خود ظالم ہو اس کی رعایا ظالم ہو وہ قوم کبھی دنیا میں ترقی نہیں کرتی اور نہ وہ بادشاہت دنیا میں برقرار رہتی ہے بلکہ اس کو ضرور بضرور زوال آتا ہے اس لیے انصاف پر دنیا قائم ہے اور انہی قضاۃ کی وجہ سے ہی دنیا میں انصاف قائم ہے اسی انصاف کی وجہ سے بادشاہ کی بادشاہت قائم ہے اسی لیے اسے چاہیے کہ قاضیوں کے بارے میں کبھی کبھی لوگوں سے پوچھتا رہے، ان کی خبرگیری کرتا رہے، ان کے متعلق چھان بین کرتا رہے تا کہ معلوم ہو سکے کہ کام صحیح جا رہا ہے یا نہیں۔ اسی طرح اگر کوئی قاضی القضات ہو اور اس کے تحت بہت سارے نائب قاضی ہوں تو اس قاضی القضاۃ کو بھی چاہیے کہ اپنے ماتحت جو نائب قاضی ہیں ان کے بارے میں خبرگیری کرتا رہے ان کے معاملات کے بارے میں لوگوں سے پوچھتا رہے لیکن وہ بھی ثقہ لوگوں سے جو کسی برائی کے ساتھ متحم نہ ہو ان سے پوچھے جو لوگوں میں ثقہ لوگ ہوں بھروسے مند لوگوں ان سے پوچھے ان قاضیوں کے بارے میں نہ کہ ہر ایرے غیرے نتو خیرے سے نہ پوچھے، فرماتے ہیں مناسب ہے قاضی القضاۃ کے لیے کہ وہ اپنے ماتحت قاضیوں اور نواب کی خبرگیری کرتا رہے اور اور نواب اور قضاۃ کی سیرت اور ان کے امور کی لوگوں کے درمیان رعایت کرے۔
[فَصْلٌ الْكَشْف عَنْ الْقُضَاةِ]
(فَصْلٌ) :
فِي الْكَشْفِ عَنْ الْقُضَاةِ يَنْبَغِي لِلْإِمَامِ أَنْ يَتَفَقَّدَ أَحْوَالَ قُضَاتِهِ فَإِنَّهُمْ قِوَامُ أَمْرِهِ وَرَأْسُ سُلْطَانِهِ، وَكَذَلِكَ قَاضِي الْقُضَاةِ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَتَفَقَّدَ قُضَاتَهُ وَنُوَّابَهُ فَيَتَصَفَّحُ أَقْضِيَتَهُمْ وَيُرَاعِي أُمُورَهُمْ وَسِيرَتَهُمْ فِي النَّاسِ
اسی طرح امیر پر اور اس قاضی پر ضروری ہے جو قاضی مرجع ہو یعنی جس کے پاس دوسرے نائبین اپنے احکام کو اپنے اخری فیصلے کے لیے بھیجتے ہیں کہ وہ ثقہ اور بھروسے مند لوگوں سے اپنے نائبین کے بارے میں پوچھے اور اس نیک قوم سے اپنی نائب قاضیوں کے بارے میں پوچھے جو کسی برائی کے ساتھ متہم نہ ہو اور جن کو دھوکہ نہ دیا جاتا ہو یہ اس لیے کہ بہت سارے اغراض والے ہوتے ہیں بہت زیادہ خود غرض لوگ ہیں جو نیک لوگوں کے دلوں میں بعض ایسی چیزیں ڈالتے ہیں قاضیوں کے بارے میں اسی طرح دین کے جو کام کرنے والے ہیں ان کے بارے میں نیک لوگوں کو بدزن کرنے کے لیے ان کے سامنے بدگمانیاں کرتے ہیں اور ان کی غرض یہ ہوتی ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے سے نیک لوگوں کی برائی تک پہنچے بس جب مجلس گرم ہوتی ہے اور بات چھڑتی ہے تو فورا نیک لوگوں کی برائیاں شروع ہو جاتی اس لیے عام ادمی سے قاضی اور نائبین کے بارے میں نہ پوچھے بلکہ ثقہ،معتمد با اثر اور بھروسہ مند لوگوں سے پوچھے،اگر امام وقت کے پاس یا قاضی القضاۃ کے پاس نواب کی ای ماتحت قاضیوں کی شکایت پہنچے لوگوں کی جانب سے تو امام وقت اور قاضی لوگوں سے ہی پوچھے گا قاضیوں اور نائبین کے بارے میں اگر وہ ان کے حقیقت حال سے صحیح طور پر واقف نہ ہو اور اگر اس نے تحقیق و تفتیش کے بعد قاضیوں کو درستگی پر پایا تو ان کو باقی رکھے گا اپنے عہدے پر اور اگر ویسا ہی پایا جیسا کہ لوگوں نے شکایت کی تو پھر ان کو معزول کرے گا۔
وَعَلَى الْإِمَامِ وَالْقَاضِي الْجَامِعِ لِأَحْكَامِ الْقُضَاةِ أَنْ يَسْأَلَ الثِّقَاتِ عَنْهُمْ وَيَسْأَلَ قَوْمًا صَالِحِينَ مِمَّنْ لَا يُتَّهَمُ عَلَيْهِمْ وَلَا يُخْدَعُ، فَإِنَّ كَثِيرًا مِنْ ذَوِي الْأَغْرَاضِ يُلْقِي فِي قُلُوبِ الصَّالِحِينَ شَيْئًا لِيَتَوَصَّلَ بِذَلِكَ إلَى ذَمِّ الصُّلَحَاءِ لَهُ عِنْدَ ذِكْرِهِ عِنْدَهُمْ وَسُؤَالِهِمْ عَنْهُ، وَإِذَا ظَهَرَتْ التَّشْكِيَةُ بِهِمْ وَلَمْ يَعْرِفْ أَحْوَالَهُمْ سَأَلَ عَنْهُمْ كَمَا تَقَدَّمَ، فَإِنْ كَانُوا عَلَى طَرِيقِ اسْتِقَامَةٍ أَبْقَاهُمْ، وَإِنْ كَانُوا عَلَى مَا ذُكِرَ عَنْهُمْ عَزَلَهُمْ.
فرماتے ہیں جو قاضی صاحب عدالت کے ساتھ مشہور ہو اور لوگوں کے درمیان اس کی عدالت کا شہرہ ہو تو ایسے عادل قاضی کو ظاہری شکایت کی وجہ سے معزول نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کے معزول کرنے اور نہ کرنے کے بارے میں اختلاف ہے بعض حضرات فرماتے ہیں ظاہری شکایتوں کی وجہ سے ایسا قاضی جو اپنے انصاف اور رضا کے ساتھ معروف اور نامور ہو اسے معزول نہیں کیا جائے گا اگرچہ اس کے بدلے دوسرے لوگ قاضی ہونے کی صلاحیت رکھتے ہوں یعنی اس کا بدل امام وقت پاتا ہو پھر بھی اسے معزول نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے قاضی کو معزول کرنے میں یہ اس مرتبے کی استہانت اور اس کو ہلکے پن میں لینا ہے لوگوں کے درمیان قضاء کی قدر کم ہو جائے گی کہ جس کو چاہتے ہیں بٹھا دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں گرا دیتے ہیں۔
وَاخْتُلِفَ فِي عَزْلِ مَنْ اُشْتُهِرَتْ عَدَالَتُهُ بِظَاهِرِ الشَّكْوَى.
قَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ عَلَيْهِ عَزْلُ مَنْ عُرِفَ بِالْعَدَالَةِ وَالرِّضَا إذَا اُشْتُكِيَ بِهِ وَإِنْ وَجَدَ مِنْهُ عِوَضًا، فَإِنَّ ذَلِكَ فَسَادٌ لِلنَّاسِ عَلَى قُضَاتِهِمْ،
ہاں اگر جس کے بارے میں شکایتیں آئی ہیں وہ قاضی صاحب غیر مشہور ہو عدالت کے ساتھ تو پھر اسے معزول کیا جائے گا اگر اس کے بدل کوئی قاضی پاتا ہو یعنی اس کے بدلے میں کوئی دوسرا قاضی بننے کی صلاحیت رکھتا ہو اور جب اس کی شکایتیں واضح اور ظاہر ہو جائیں تو پھر اسے معزول کرنے میں جائے حرج نہیں اس کو معزول کیا جائے گا اور اگر شکایتیں تو آئی اور وہ غیر معروف ہے عدالت کے ساتھ اب اسے معزول کیا جانا چاہیے لیکن اس کے بدلے کوئی شخص قاضی بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے تو مجبوری ہے کہ اس کو عہدہ قضاء پر برقرار رکھا جائے اس لیے اب صورت یہ ہوگی کہ اب اگر اس قاضی کے سلسلے میں لوگ شکایت کرتے ہیں جس کا بدل نہیں ہے تو پھر امام وقت یا قاضی القضاۃ اس قاضی کے سلسلے میں تحقیق کرے گا اور لوگوں سے پوچھے گا۔
فَإِنْ كَانَ الْمَشْكُوُّ غَيْرَ مَشْهُورٍ بِالْعَدَالَةِ فَلْيَعْزِلْهُ إذَا وَجَدَ مِنْهُ بَدَلًا وَتَظَاهَرَتْ عَلَيْهِ الشَّكِيَّةُ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ مِنْهُ بَدَلًا كَشَفَ عَنْ حَالِهِ.
تحقیق کا طریقہ یہ ہوگا کہ اس شہر کے جو معززین اور اس شہر کے ایسے لوگ جن کی وہ شہر والے توقیر کرتے ہیں جن پر بھروسہ کرتے ہیں قاضی القضاۃ یا امام وقت ان سے تنہائی میں پوچھے گا کہ آپ کا اپنے قاضی کے بارے میں کیا خیال ہے اگر وہ اس کی تصدیق کریں جو لوگ کہتے ہیں یعنی اس کی برائی بیان کریں تو پھر اسے معزول کیا جائے گا اور اس کے فیصلوں کو بھی دیکھا جائے گا اگر وہ حق کے موافق ہوں تو انہیں برقرار رکھا جائے گا اور اگر وہ حق سے مخالف ہوں تو ان فیصلوں کو بھی توڑ دیا جائے گا اور جن لوگوں سے پوچھا گیا اگر ان لوگوں نے یہ کہا کہ ہم تو اس کے بارے میں صرف خیر ہی جانتے ہیں یعنی وہ تو اچھے قاضی ہے اور اس کی تائید کی توثیق کی تو پھر اسے برقرار رکھا جائے گا اپنی عہدے پر لوگوں کی شکایتوں کو برطرف کیا جائے گا انہیں طرح دیا جائے گا اور اس کے فیصلوں کو بھی دیکھا جائے گا جس کے بارے میں لوگوں نے شکایت کی لیکن صاحب فضل لوگوں نے اس کی توثیق کی چنانچہ اس کے جو فیصلے حق کے موافق ہوں سنت و قران کے موافق ہوں انہیں برقرار رکھا جائے گا اور جو حق سے مخالف ہوں انہیں رد کیا جائے گا توڑ دیا جائے گا اور یہ سمجھا جائے گا کہ اس سے غلطی ہوئی ہے خطا اس سے ایسا ہوا ہے یعنی غلطی سے اس سے یہ فیصلہ صادر ہوا ہے زبردستی اس نے کسی پر ظلم نہیں کیا ہے ایسا سمجھا جائے گا۔
وَوَجْهُ الْكَشْفِ أَنْ يَبْعَثَ إلَى رِجَالٍ يُوثَقُ بِهِمْ مِنْ أَهْلِ بَلَدِهِ فَيَسْأَلُهُمْ عَنْهُ سِرًّا، فَإِنْ صَدَّقُوا مَا قِيلَ فِيهِ مِنْ الشِّكَايَةِ عَزَلَهُ وَنَظَرَ فِي أَقْضِيَتِهِ، فَمَا وَافَقَ الْحَقَّ أَمْضَاهُ، وَمَا خَالَفَهُ فَسَخَهُ، وَإِنْ قَالَ الَّذِينَ سُئِلُوا عَنْهُ: مَا نَعْلَمُ إلَّا خَيْرًا أَبْقَاهُ، وَنَظَرَ فِي أَقْضِيَتِهِ وَأَحْكَامِهِ، فَمَا وَافَقَ السُّنَّةَ مَضَى، وَمَا لَمْ يُوَافِقْ شَيْئًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ رَدَّهُ وَحَمَلَ ذَلِكَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَى الْخَطَأِ وَأَنَّهُ لَمْ يَتَعَمَّدْ جَوْرًا.
مناسب نہیں امام وقت کے لیے یا قاضی القضاۃ کے لیے کہ وہ لوگوں کو قاضی کی ذات پر مخاصمت کی قدرت دے اس لیے کہ اگر چھوٹی چھوٹی باتوں میں قاضی پر خصومۃ کا اور ان کی شکایتوں کا موقع دیا جائے گا عام لوگوں کو پھر اس سے دو چیزیں ہوں گی یا اگر قاضی عادل ہو تو اس قاضی عادل کو اپنے عہدے کی قدر کم نظر آئے گی کہ اس میں تو چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہمیں پکڑ دھکڑ ہوتی ہے اور اس سے اس کو تکلیف ہوگی اس عہدے سے اور اگر وہ سچ مچ میں عادل نہیں ہے فاسق فاجر ہے تو پھر وہ اور مضبوط ہو جائے گا اپنی حجتوں کو لے کر ان شخصوں کے مقابلے میں جو اس کی شکایت کرتے ہیں یعنی پھر اسے بھی پتہ چلے گا میری تو روزانہ شکایتیں جاتی ہیں وہ بھی ایسے ایسے دلائل تیار کر کے رکھے گا ایسے ایسے جواب تیار کرے کر کے رکھے گا جس سے شکایت کرنے والوں کے منہ بند ہو جائیں گے اور اس سے برا اثر یہ پڑے گا کہ اس سے لوگوں کے حق مارے جائیں گے لوگوں کے حق تلف ہو جائیں گے اور وہ لوگوں کے ساتھ کھلواڑ کرے گا اور وہ قاضی لوگوں پر مسلط ہوجائے گا۔
وَلَا يَنْبَغِي أَنْ يُمَكِّنَ النَّاسَ مِنْ خُصُومَةِ قُضَاتِهِمْ؛ لِأَنَّ ذَلِكَ لَا يَخْلُو مِنْ وَجْهَيْنِ: إمَّا أَنْ يَكُونَ عَدْلًا فَيُسْتَهَانُ بِذَلِكَ وَيُؤْذَى وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ فَاسِقًا فَاجِرًا وَهُوَ أَلْحَنُ بِحُجَّتِهِ مِمَّنْ شَكَاهُ فَيُبْطِلُ حَقَّهُ وَيَتَسَلَّطُ ذَلِكَ الْقَاضِي عَلَى النَّاسِ.
No comments:
Post a Comment