Monday, July 22, 2024

d 12

پندرہویں نوع۔ محاربین کہتے ہیں قطاع الطرق، ڈکیتی کرنے والوں (تبصرۃ الحکام ج ١ ص: ٨٣) کے لیے چار سزاؤں میں سے کسی ایک سزا کی تعین کرنا یہ تعین منجانب قاضی حکم نہیں ہوتی چنانچہ اگر معاملہ دوسرے قاضی کے پاس لے جایا گیا جو قاضی مطلقاً تخییر کا قائل ہو تو پہلی سزا کے نفاذ سے پہلے دوسرا قاضی پہلے قاضی کے فیصلے کو بدل سکتا ہے یعنی پہلے قاضی نے اگر محارب کی سزاؤں میں سے کوئی ایک سزا متعین کر دی تھی لیکن اسے وہ سزا نہیں ملی تھی کہ سزا ملنے سے پہلے ہی معاملہ دوسرے سے قاضی کے پاس لے جایا گیا جو قاضی مطلقا تخیر یعنی اختیار کا قائل تھا کہ کوئی بھی سزا ان میں سے دی جا سکتی ہے تو جو قاضی مطلق تخییر کا قائل ہو وہ اگر پہلے قاضی کے فیصلے کے نفاذ سے قبل اس معاملے کو بدلنا چاہئے تو بدل سکتا ہے اور کوئی بھی دوسری سزا متعین کر سکتا ہے ، حسب مصلحت اپنی صوابدید کے مطابق جو سزائے چاہے اسے اس کے لیے مقرر کرے چناں چہ اگر یہ قاضی پہلے نے جو سزا متعین کی ہے اس کے علاوہ کسی اور سزا کی تعیین میں مصلحت سمجھتا ہو تو یہ دوسرا قاضی اس سزا کو متعین کر سکتا ہے اس لیے کہ پہلے قاضی کی تعیین وہ کوئی حکم شرعی نہیں ہے۔ 
النَّوْعُ الْخَامِسَ عَشَرَ: تَعْيِينُ أَحَدِ الْخِصَالِ فِي عُقُوبَةِ الْمُحَارَبِينَ، وَذَلِكَ التَّعْيِينُ لَيْسَ بِحُكْمٍ، فَلَوْ رُفِعَ لِغَيْرِهِ مِمَّنْ يَرَى بِالتَّخْيِيرِ مُطْلَقًا قَبْلَ التَّنْفِيذِ وَرَأَى الْمَصْلَحَةَ تَعْيِينَ غَيْرِ مَا عَيَّنَهُ الْأَوَّلُ كَانَ ذَلِكَ لَهُ؛ لِأَنَّ تَعْيِينَ الْأَوَّلِ لَيْسَ حُكْمًا شَرْعِيًّا.
سولہویں نوع۔ تعزیرات ( حدود جو سزائیں من جانب شریعت متعین ہے جن میں کوئی تبدیلی روا نہیں،اور تعزیرات وہ سزائیں ہیں جو من جانب شریعت متعین نہیں بلکہ حاکم وقت حسب مصلحت اپنی صوابدید پر متعین کر سکتا ہے) کی مقدار کی تعیین یہ بھی قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہے چنانچہ اگر معاملہ اس قاضی کے علاوہ دوسرے قاضی کے پاس لے جایا گیا تو دوسرا قاضی پہلے قاضی کی مقررہ تعزیر  کے نفاذ سے قبل اس کو بدل سکتا ہے چنانچہ اگر اس حاکم کے علاوہ دوسرے حاکم کے پاس یہ معاملہ لے جایا گیا اور وہ اس کے خلاف دوسری کسی سزا میں مصلحت سمجھتا ہو تو وہ اس مقدار کو متعین کرے گا اور پہلے والے قاضی کی سزا کو باطل کرے گا لیکن یہ تب ہے کہ پہلے قاضی نے جو سزا متعین کی ہے اس کا نفاذ نہ ہوا ہو اس لیے کہ پہلے قاضی کا کوئی سزا مقرر کرنا بطور تعزیر کے یہ حکم شرعی نہیں ہے بلکہ وہ  سبب میں اجتہاد کی بنا پر متعین کی ہے اور وہ سبب جنایت ہے جنایت کے سلسلے میں جو اس کو مناسب لگا اسی اعتبار سے اس نے سزا مقرر کی ہے چنانچہ دوسرے قاضی کو اگر اس سبب ( جنایت) کی کوئی اور سزا مناسب لگے وہ اس اعتبار سے سزا مقرر کر سکتا ہے پس اگر دوسرے قاضی کو لگے کہ وہ جنایت اسی کا تقاضا کرتی ہے تو وہ اسی کے مطابق حکم دے گا ہاں البتہ یہ مسئلہ اس مسئلے کی برخلاف ہے کہ قیدیوں کو غلامی کے لیے یا اس کے علاوہ کسی دوسری چیز کے لیے متعین کرناچوں کہ اساری (قیدیوں) کے چھے احکام ہیں، (١) الاسر (٢) المن  (٣) الفداء (٤) ضرب الجزیۃ (٥) القتل (٦) الاسترقاق، المن ھو اطلاق الاسیر بلا مقابل والفداء ھو فداء الاسیر نفسہ بمقابل کعمل یقوم بہ او مال یدفعہ ( تبصرۃ الحکام ج ١ ص ٨٣) چناں چہ اگر قیدی قبضہ میں آ گئے اور قاضی نے ان کے لیے فیصلہ کر دیا کہ ان قیدیوں کو زندان میں ہی رکھا جائے یا ان کو بغیر فدیہ بطور من کے آزاد کر دیا جائے یا ان سے کچھ جان کا فدیہ لیا جائے یا جزیہ متعین کیا جائے یا قتل یا غلام بنایا جائے ان سزاؤں میں سے جو بھی قاضی کی جانب سسے متعین ہو جائے تو وہ حکم ہوگا دوسرا قاضی اس حکم کو بدل نہیں سکتا ہے یہ بات تو پہلے بھی آئی ہے کہ اگر مسئلہ اجتہادی ہو تو اجتہادی مسئلے میں قاضی اول کے فیصلے کو دوسرا قاضی محض اپنے اجتہاد رائے سے نہیں بدل سکتا ہے کیونکہ ایک اجتہاد دوسرے اجتہاد کے لیے ناقص نہیں ہوتا بلکہ اجتہاد کو توڑنے کے لیے کوئی اس سے اوپر کی دلیل چاہیے چنانچہ یہاں بھی جو قیدی آ گئے ہیں ان کے لیے کوئی سزا متعین کرنا یہ مسئلہ چونکہ مختلف فیہ و مجتہد فیہ ہے اس لیے دوسرا قاضی بدل نہیں سکتا ہے اسی کو مصنف نے فرمایا کہ یہ مسئلہ علماء کے درمیان مختلف فیہ ہے چنانچہ بعض حضرات کا کہنا ہے کہ قیدیوں کو محض قتل کیا جائے گا جبکہ ہمارا،  امام شافعی و امام مالک کا مذہب یہ ہے کہ قیدیوں کو غلام بھی بنایا جا سکتا ہے اور ان پر جزیہ بھی لازم کیا جا سکتا ہے پس جب ان سزاؤں میں سے کسی ایک سزا کا حکم من جانب قاضی صادر ہوا اور جو بھی سزا قاضی اختیار کرے گا تو وہی سزا دوسری سزا کے بالمقابل قاضی کی اختیار کردہ ہوگی، چنانچہ دوسرا قاضی اب اسے نہیں بدل سکتا کیونکہ وہ مختلف فیہ و مجتہد فیہ محل میں انشاء حکم ہے  برخلاف تعزیرات کی مقدار کے یعنی اوپر جو پہلے مسئلے میں آیا کہ تعزیرات کی مقدار متعین کرنا یہ قاضی کی جانب سے حکم نہیں ہوتا ہے اس لیے تعزیرات میں کمی و زیادتی دوسرا قاضی کر سکتا ہے کیونکہ وہ مختلف فیہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ تعزیرات بڑھتی گھٹتی ہے قائل، مقول فیہ اور اسی طرح قول کے بدلنے سے یا دوسرے اعتبار سے کہئے فاعل مفعول فیہ اور فعل کے بدلنے سے یعنی جیسے جنایت ہوگی ویسے ہی سزا بھی متعین ہوگی ایک قاضی سمجھتا ہے یہ بہت بڑا گناہ ہے بہت بڑی خطا ہے تو اس نے اسی اعتبار سے دس کوڑے متعین کئے اور دوسرا قاضی نے سمجھا کہ نہیں یہ غلطی زیادہ بڑی نہیں ہے تو اس نے اپنی رائے کے مطابق پانچ کوڑے ہی متعین کئے چناں چہ تعزیرات میں اپنی ثوابدید پر دوسرا قاضی پہلے قاضی کے فیصلے کو بدل سکتا ہے ہاں شرط یہ ہے کہ پہلے قاضی کے فیصلے کا نفاذ نہ ہوا ہو کیونکہ اگر حد لگ گئی کوڑے لگ گئے تو اب دوبارہ سے دوسرا قاضی اس کو کیسے بدلے گا وہ تو سزا پا چکا ہے پس تعزیر جو ہوتی ہے وہ اپنی خطا اور اپنے گناہ کے بڑے چھوٹے ہونے کے اعتبار سے ہوتی ہے اسی طرح محربیین کی سزا میں سے کسی ایک سزا کا چننا یعنی اگر قاضی کی جانب سے محارب کے لیے قتل کا فیصلہ صادر ہوا اور امام نے قتل کو ہی متعین کیا تو یہاں یعنی محارب کی سزا کے سلسلے میں قاضی اول کا حکم دو وجہوں سے فسخ کیا جاسکتا ہے( ١) مختلف فیہ و مجتہد فیہ مسئلے میں انشاء حکم نہیں ہے (٢) محارب کی چار سزاؤں میں سے کو سزا متعین کرنا تعزیرات ہے حد نہیں ہے جو کہ بدلی نہ جا سکے اس لیے اسے بدلا جا سکتا ہے۔ 
النَّوْعُ السَّادِسَ عَشَرَ تَعْيِينُ مِقْدَارِ التَّعْزِيرَاتِ إذَا رُفِعَ إلَى غَيْرِ ذَلِكَ الْحَاكِمِ قَبْلَ التَّنْفِيذِ فَرَأَى خِلَافَ ذَلِكَ فَلَهُ تَعْيِينُ مِقْدَارِهِ وَإِبْطَالُ الْأَوَّلِ؛ لِأَنَّهُ لَيْسَ بِحُكْمٍ شَرْعِيٍّ بَلْ اجْتِهَادٌ فِي سَبَبٍ هُوَ الْجِنَايَةُ، فَإِذَا ظَهَرَ لِلثَّانِي أَنَّهَا تَقْتَضِي ذَلِكَ حَكَمَ بِمَا يَرَاهُ، وَهَذَا بِخِلَافِ تَعْيِينِ الْأَسَارَى لِلرِّقِّ وَنَحْوِهِ؛ لِأَنَّهَا مَسْأَلَةُ خِلَافٍ بَيْنَ الْعُلَمَاءِ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: إنَّ الْأَسَارَى يُقْتَلُونَ فَقَطْ، وَمَذْهَبُنَا وَمَذْهَبُ الشَّافِعِيِّ وَمَالِكٍ جَوَازُ الِاسْتِرْقَاقِ أَوْ ضَرْبِ الْجِزْيَةِ، فَإِذَا اخْتَارَ أَحَدَهُمَا فَهُوَ حُكْمٌ مِنْهُ بِاَلَّذِي اخْتَارَهُ، وَهُوَ إنْشَاءُ حُكْمٍ فِي مُخْتَلَفٍ فِيهِ، وَكَذَلِكَ كُلُّ خَصْلَةٍ مِنْ الْخِصَالِ الْخَمْسِ الَّتِي يَخْتَارُ فِيهَا الْإِمَامُ مِنْ الْأَسْرِ وَالْمَنِّ وَالْفِدَاءِ وَضَرْبِ الْجِزْيَةِ وَالْقَتْلِ وَالِاسْتِرْقَاقِ فَاخْتِيَارُهُ لِخَصْلَةٍ مِنْ ذَلِكَ إنْشَاءُ حُكْمٍ فِي مُخْتَلَفٍ فِيهِ، بِخِلَافِ مَقَادِيرِ التَّعْزِيرَاتِ لَيْسَ فِيهِ حُكْمٌ، وَإِنَّمَا هُوَ بِحَسَبِ الْقَائِلِ وَالْمَقُولِ فِيهِ أَوْ وَقَعَ مِنْهُ فِعْلٌ، فَالتَّعْزِيرُ بِحَسَبِ عِظَمِهِ وَحَقَارَتِهِ، وَكَذَلِكَ اخْتِيَارُهُ لِخَصْلَةٍ مِنْ عُقُوبَةِ الْمُحَارَبِينَ إنْ وُجِدَ مِنْ الْمُحَارَبِينَ الْقَتْلُ وَعَيَّنَ الْإِمَامُ الْقَتْلَ، فَلَيْسَ ذَلِكَ إنْشَاءَ حُكْمٍ فِي مُخْتَلَفٍ فِيهِ.

بہرحال جب ایسے محارب کے لیے بطور سزا قتل متعین ہو گیا جس محارب نے قتل نہیں کیا تھا سزائے موت لسی خارجی سنگین کام کی وجہ سے متعین ہوئی، مثلاً محارب لوٹ مار کرتے کرتے بڑی مشکل سے پکڑا  گیا اب اگر قتل کے علاوہ کوئی اور  سزا متعین کہ جائے تو لوگوں کا نقصان ہوگا یہ کل کو پھر ڈاکہ زنی کرے گا اس لیے امام المسلمین نے عام مسلمانوں کی مصلحت کے تحت مناسب سمجھا کہ محارب کا زمین کے نیچے رہنا ہی بہتر ہے زمین کے اوپر رہنے سے اس لے اس کو قتل کیا جاۓ اور اس کے لیے جرم کی سنگینی کے باعث قتل سزا متعین کر دی  تو یہ مسئلہ اختلافی ہو جائے گا اس لیے کہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی وہ محارب کے قتل کے جبھی قائل ہیں کہ اس نے کسی کا قتل کیا ہو یا ہاتھ کاٹا جائے جبکہ اس نے کسی کا ہاتھ کاٹا ہو وگرنہ امام شافعی رحمہ اللہ تعالی محارب کے قتل کے ہرگز روا دار نہیں ہے  چونکہ اب یہ مسئلہ مختلف فیہ مجتہد فیہ ہو گیا اس لیے اب محارب کی سزا قتل یہ مختلف فیہ مسئلے میں انشاء حکم ہوگا اس لیے دوسرا قاضی اب اس کو بدل نہیں سکتا ہے اگر یہ مختلف فیہ مجتہد فیہ  میں انشاء حکم نہ ہوتا  تب تو بدلا جا سکتا تھا چناں چہ یہ مسئلہ اسیر کی طرح ہوگیا کہ ایک قاضی کا کسی سزا کو متعین کرنا مجتہد فیہ مسئلہ میں انشاء حکم ہونے کی وجہ سے بدلا نہیں جا سکتا ہے، اسی طرح ارض عنوۃ (جس زمین کو لڑ جھگڑ کر جبراً حاصل کیا گیا ہو) کو قاضی نے متعین کیا بیع و شراء کے لیے یعنی یہ سمجھ کر کہ بیت المال میں زمین کافی ہے ہمیں زمین کی مزید ضرورت نہیں اس لیے جو زمین اب لڑ جھگڑ کر حاصل ہوئی ہے اسے بیچ دینا چاہیے یا تقسیم کے لیے متعین کرنا یا وقف کے لیے متعین کرنا یہ بھی انشاء حکم ہے مختلف فیہ مسئلہ میں اس لیے یہاں بھی حکم نہیں بدلا جا سکتا ہے، 
وَأَمَّا إذَا عَيَّنَ الْقَتْلَ فِي مُحَارَبٍ لَمْ يَقْتُلْ، بَلْ عَيَّنَ الْقَتْلَ لِعِظَمِ رَأْيِهِ وَدَهَائِهِ وَأَنَّ قَتْلَهُ مَصْلَحَةٌ لِلْمُسْلِمِينَ، فَهَذِهِ مَسْأَلَةُ خِلَافٍ، فَإِنَّ الشَّافِعِيَّ يَمْنَعُ قَتْلَ الْمُحَارَبِ إلَّا إذَا قَتَلَ وَلَا يَقْطَعُهُ إلَّا إذَا سَرَقَ، فَتَصِيرُ هَذِهِ كَمَسْأَلَةِ الْأَسْرَى، فَتَتَعَيَّنُ خَصْلَةٌ مِنْ خِصَالِ عُقُوبَةِ الْمُحَارَبِ، وَيَكُونُ عَلَى هَذَا التَّقْدِيرِ إنْشَاءُ حُكْمٍ فِي مُخْتَلَفٍ فِيهِ لَا يَجُوزُ لِغَيْرِهِ نَقْضُهُ، وَكَذَلِكَ تَعْيِينُ أَرْضِ الْعَنْوَةِ لِلْبَيْعِ أَوْ الْقَسْمِ أَوْ الْوَقْفِ إنْشَاءُ حُكْمٍ فِي مُخْتَلَفٍ فِيهِ.

سترہویں نوع۔ جناۃ ( جنایت کرنے والے )اور طغاۃ (سرکشوں) کی جلا وطنی کا حکم جب اس کا نفاذ نہ ہو چکا ہو تو یہ بھی مختلف فیہ مسئلے میں انشاء ححکم نہیں ہے چناں چہ دوسرے والی کے لیے گنجائش ہوگی کہ جب اس کے پاس معاملہ دائر نمبر ہو تو وہ اس معاملہ کے سبب کی تحقیق میں غور و فکر کرے اور بوقت ضرورت بدل بھی سکتا ہے ہاں مگر جب مسئلہ مختلف فیہ ہو جیسے کہ تارک صلاۃ کہ تارک صلاۃ کی سزا میں اختلاف ہے چناں چہ امام اعظم ابو حنیفہؒ کے نزدیک اسے مارا جائے گا اور لہو لہان کیا جائے گا جو نماز چھوڑتا ہو جان بوجھ کر اور اگر پھر بھی باز نہ آئے تو اسے قید کیا جائے تا آں کہ  وہ پابند صلاۃ ہوجائے،اور اسی طرح ائمہ ثلاثہ کے نزدیک قتل کیا جائے گا بلکہ امام احمد رحمہ اللہ تعالی کے نزدیک چونکہ وہ کافر ہو جاتا ہے اس لیے اسے قتل ہی کیا جائے گا چنانچہ تارک الصلاۃ  زنادقہ ان کی سزا کی تعیین یہ  انشاء حکم ہے مختلف فیہ مقام میں اس لیے ان کے سلسلے میں قاضی کا حکم بدلا نہیں جا سکتا البتہ جناۃ، طغاۃ اور بغاۃ کا حکم چونکہ مختلف فیہ مقام میں انشاء حکم نہیں ہے اس لیے بدلا  جا سکتا بلکہ مجمع علیہ و متفق علیہ ہے کہ ان کے حق میں قاضی اول کا حکم بدلا جا سکتا ہے کیوں ان کے سزا کا حکم تعزیراً ہوتا ہے۔ 

النَّوْعُ السَّابِعَ عَشَرَ: الْأَمْرُ بِقَتْلِ الْجُنَاةِ وَرَدْعِ الطُّغَاةِ إذَا لَمْ يُنَفِّذْ، لَیْسَ هُوَ إنْشَاءُ حُكْمٍ فِي مُخْتَلَفٍ فِيهِ وَلِغَيْرِهِ مِنْ الْقُضَاةِ إذَا اتَّصَلَ بِهِ أَنْ يَنْظُرَ فِي تَحْقِيقِ سَبَبِهِ ، إلَّا أَنْ تَكُونَ الْمَسْأَلَةُ مُخْتَلَفًا فِيهَا كَتَارِكِ الصَّلَاةِ وَقَتْلِ الزَّنَادِقَةِ، فَإِنَّهُ إذَا عَيَّنَ الْقَتْلَ وَحَكَمَ بِهِ كَانَ هَذَا إنْشَاءَ حُكْمٍ فِي مُخْتَلَفٍ فِيهِ فَلَيْسَ لِغَيْرِهِ نَقْضُهُ، بِخِلَافِ قِتَالِ الْبُغَاةِ الْمُجْمَعِ عَلَيْهِ وَنَحْوِهِ فَإِنَّهُ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ.
اٹھارویں نوع مسلمانوں اور کفار کے درمیان صلح کا عقد کرنا یہ مختلف مسئلے میں حکم نہیں ہوگا اس لیے دوسرا قاضی اسے بدل سکتا ہے بلکہ اس کا جواز و عدم جواز بالاتفاق اس کے سبب کے وقت ہوتا ہے کیوں کہ صلح کا التزام وہ حالت ضعف و کمزوری میں دشمن کے شر سے سے بچنے کے لیے کیا جاتا ہے یعنی ڈر ہوتا ہے ہم کمزور ہیں کفار ہم پر چڑھ آئیں گے اور ہم ان کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے تو اس صورت میں کبھی کبھی صلح کے عقد کا انتظام کیا جاتا ہے یعنی شر سے بچنے کے لیے صلح کا انتظام کیا جاتا ہے اب دوسرا قاضی آیا اسے لگے کہ اب تو ہم طاقتور ہو گئے ہیں اب ہمیں صلح کی ضرورت نہیں ہے اب ہم کمزور نہیں رہے ہمیں کسی شر سے بچنے کی ضرورت نہیں ہے تو وہ پہلے کے فیصلے کو بدل سکتا ہے وہ دیکھے گا کیا وہ سبب جو پہلے قاضی کے پاس تھا جو سبب اس صلح کا تقاضا کر رہا تھا کیا وہ باقی ہے یا نہیں اگر وہی سبب باقی ہے تو پھر صلح والے فیصلہ کو برقرار رکھے گا اگر وہ سبب نہیں پایا جاتا ہو اب، تو پہلے حکم کو باطل قرار دے گا۔ 
النَّوْعُ الثَّامِنَ عَشَرَ: عَقْدُ الصُّلْحِ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَالْكُفَّارِ لَيْسَ مِنْ الْمُخْتَلَفِ فِيهِ، بَلْ جَوَازُهُ عِنْدَ سَبَبِهِ مُجْمَعٌ عَلَيْهِ؛ لِأَنَّ الصُّلْحَ إنَّمَا هُوَ الْتِزَامٌ لِكِفَايَةِ الشَّرِّ حَالَةَ الضَّعْفِ، فَلِغَيْرِهِ بَعْدَهُ أَنْ يَنْظُرَ هَلْ السَّبَبُ يَقْتَضِي ذَلِكَ فَيُبْقِيهِ أَوْ لَا فَيَنْقُضُهُ وَيُبْطِلُهُ.
انیسویں نوع۔اسی طرح کفار کے لیے جزیہ کا عقد  یہاں بھی دوسرا قاضی پہلے قاضی کے فیصلے کو توڑ نہیں سکتا ہے مگر اس وجہ سے نہیں کہ پہلے قاضی کا حکم وہ مختلف فیہ مسئلے میں انشاء حکم ہے جیسے کہ ان عقود کی صحت کا فیصلہ کی طرح ہے جن میں اختلاف کیا گیا ہے ( کیوں کہ جن عقود میں اختلاف ہو وہاں قاضی کا حکم مختلف فیہ مقام میں انشاء حکم ہوتا ہے جسے مجتہد فیہ ہونے کی وجہ سے دوسرا قاضی توڑ نہیں سکتا ہے)بلکہ اس وجہ سے نہیں توڑ سکتا کیونکہ ان عقود کا تقاضا ہی استمرار کا ہے اس لیے کہ شریعت نے ان عقود کو وضع کیا ہے جو واجب کرتی معقود لہ ( کفار) کے لیے استمرار کو یعنی جس پر جزیہ لازم ہیں شریعت چاہتی ہے اس پر ہمیشہ کے لیے یہ لازم رہے حتی کہ اس کی ذریت میں بھی یہ چلتا رہے قیامت تک اس لیے عقد جزیہ کا تقاضہ ہے کہ اسے استمرار پر رکھا جائے اسے توڑا نہ جائے اس لیے دوسرا قاضی توڑ نہیں سکتا ہے ہاں جہاں یہ عقد جزیہ ایسے طور پر واقع ہوا ہو کہ عقد ہی تقاضا کرتا ہو عدم استمرار و نقض کا مثلا پہلے قاضی نے کافروں کے لیے فیصلہ کیا کہ آپ دو سال تک جزیہ دیجیے اس کے بعد نہیں تو اب چونکہ یہاں تقاضا ہی ہے عدم استمرار کا کیوں کہ دو سال کے بعد توڑنے کا تقاضہ ہے اس لیے دوسرا قاضی ایسے عقدکو  توڑ سکتا ہے دو سال ٹھہرنے کی ضرورت نہیں ہے جس طرح کہ اہل دین یعنی قرض والوں کے لیے عقد کرنا کہ جائز نہیں ہے اس کو برقرار رکھنا کہوں کہ اہل دین کے لیے عقد عدم۔ استمرار پر دلالت کرتا ہے ( قرض والا قرض چلتا کر کے بری ہو جائے گا ) پھر اس پر جزیہ کا سوال ہی نہیں ا س لیے استمرار نہیں اسی طرح زنادقہ اور مرتدین اور ان کے علاوہ دیگر مجرمین کہ ان کو ان کے حال پر استمراراً نہیں رہنے دیا جاتا ہے کیوں۔ مرتد کو کچھ مہلت دے کر قتل کرنا ہے اگر عدت سے توبہ  کرے تو جزیہ کا غیر استمراری ہوا اس لیے اس عقد کو توڑا جا سکتا ہے۔ 
النَّوْعُ التَّاسِعَ عَشَرَ: عَقْدُ الْجِزْيَةِ لِلْكُفَّارِ لَا يَجُوزُ نَقْضُهُ، لَكِنْ لَيْسَ لِكَوْنِهِ حُكْمًا إنْشَائِيًّا كَالْقَضَاءِ بِصِحَّةِ الْعُقُودِ الْمُخْتَلَفِ فِيهَا بَلْ؛ لِأَنَّ الشَّرْعَ وَضَعَ هَذَا الْعَقْدَ مُوجِبًا لِلِاسْتِمْرَارِ فِي حَقِّ الْمَعْقُودِ لَهُ وَلِذُرِّيَّتِهِ إلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، إلَّا أَنْ يَكُونَ وَقَعَ عَلَى وَجْهٍ يَقْتَضِي النَّقْضَ كَعَقْدِهِ لِأَهْلِ دِينٍ لَا يَجُوزُ إقْرَارُهُمْ عَلَى ذَلِكَ، نَحْوِ الزَّنَادِقَةِ وَالْمُرْتَدِّينَ وَنَحْوِهِمْ.
بیسویں نوع۔زمینوں پر خراج کا متعین کرنا اور حربی تاجروں سے ٹیکس وصول کرنے کے سلسلے میں جو مقدار متعین کی جاتی ہے اس میں قاضی کا فیصلہ حکم نہیں ہوگا اس لیے کہ زمینوں اور حربی تجار پر خراج و ٹیکس وہ اسباب حاضرہ کے تقاضے کے اعتبار سے مرتب ہوتا ہے یعنی دس سال پہلے جس زمین کے اسباب تقاضا کر رہے تھے کہ 10 ہزار ٹیکس لیا جائے آج 2024ء میں ہو سکتا ہے انہی زمینوں کے اسباب تقاضہ کرتے ہوں کہ 20 ہزار ٹیکس لیا جائے اس لیے 10 سال پہلے قاضی نے جو فیصلہ کیا تھا آج 2024 میں دوسرا قاضی اس فیصلے کو بدل سکتا ہے کیونکہ اسباب حاضری تقاضا کرتے ہیں بدلنے کا پس اگر دوسرے قاضی کے لیے ظاہر ہو جائے کہ ان زمینوں یا حربی تجار کا سبب وہ اس سبب کے برخلاف ہے جس سبب کا  قاضی اول اعتقاد رکھتا تھا تو دوسرا قاضی پہلے قاضی کے بر خلاف فیصلہ کر دے اسی طرح جب دوسرے قاضی کو لگے کہ عقد وہ مسلمانوں کے فائدے کے خلاف ہے تو بھی بدل یا توڑ دے گا جیسے کہ یتیم کے مال کو پہلے قاضی نے کم پیسوں میں بیچا تو دوسرا قاضی اس فیصلے کو بدل سکتا ہے اسی طرح یہاں بھی کیونکہ اسباب حاضرہ و ظاہرہ ہی تقاضا کرتے ہیں عقد کے توڑنے کا۔ 
النَّوْعُ الْعِشْرُونَ: تَقْدِيرُ الْخَرَاجِ عَلَى الْأَرَضِينَ وَمَا يُؤْخَذُ مِنْ تُجَّارِ الْحَرْبِيِّينَ لَيْسَ بِحُكْمٍ، إنَّمَا هُوَ تَرْتِيبُ مَا تَقْتَضِيهِ الْأَسْبَابُ الْحَاضِرَةُ، فَإِنْ ظَهَرَ لِغَيْرِهِ أَنَّ السَّبَبَ عَلَى خِلَافِ مَا اعْتَقَدَهُ الاَوَّلُ ، فَعَلَ غَيْرَ ذَلِكَ ، وَإِنْ تَبَيَّنَ أَنَّ الْعَقْدَ عَلَى خِلَافِ الْغِبْطَةِ لِلْمُسْلِمِين نَقَضَہٗ كَمَا إذَا بَاعَ مَالَ الْيَتِيمِ بِالْبَخْسِ فَإِنَّهُ يُنْقَضُ.

No comments:

Post a Comment