Tuesday, July 16, 2024

تصفیہ 2


معاملہ نمبر ٦/ ٢٤/ ١٤٤٥؁ھ
نور جہاں خاتون بنت محمد شرف الدین انصاری مقام و ڈاکخانہ ترار تھانہ داؤد نگر ضلع اورنگ آباد فریق اول
بنام
محمد ذاکر حسین ولد محمد جہانگیر انصاری مقام گول بیگہ پولیس لین ڈاکخانہ H. P. O تھانہ رام پور ضلع گیا  فریق دوم

معاملہ ہذا 22 ربیع الثانی 1445 ہجری مطابق ٧ نومبر 2023 ء کو ذیلی دارالقضاء امارت شرعیہ اورنگ آباد بہار میں بابت فسخ نکاح دائر نمبر ہوا، حسب ضابطہ کارروائی ہوئی، اطلاع مع مثنیٰ درخواست دعوی بنام فریق دوم بذریعہ رجسٹری ڈاک جاری ہوئی اور اس سے مورخہ ٢ دسمبر 2023 ء تک بیان تحریری طلب کیا گیا فریق دوم کے نام جاری کردہ اطلاع ڈاکخانہ کی غیر واضح رپورٹ کے ساتھ واپس آگئی اس لیے فریق اول کی طرف سے مداخلہ نام و پتے میں سے محمد مختار انصاری اور محمد نسیم انصاری صاحبان کی معرفت اطلاع مع مثنیٰ درخواست دعوی بنام فریق دوم بذریعہ رجسٹری جاری ہوئی اور اس سے مؤرخہ 20 دسمبر 2023ء تک بیان تحریری اور رپورٹ طلب کیا گیا،محمد مختار انصاری اور محمد نسیم انصاری صاحبان کی معرفت مجریہ اطلاع مع مثنیٰ درخواست دعوی بنام فریق دوم مختار انصاری صاحب نے دارالقضاء میں حاضر ہو کر رپورٹ داخل کی اور محمد نسیم انصاری کا کچھ پتہ نہیں چلا اس لیے فریق اول کو لکھا گیا کہ وہ فریق دوم کے محلے کے دو معززین یا اس کے دو رشتہ دار ( رشتے کی وضاحت کے ساتھ ) بعد تحقیق مکمل نام و پتے اردو و انگریزی کے بڑے حروف میں مورخہ 20 جنوری 2026 ء تک داخل دارالقضاء کرے، فریق اول نے فریق دوم کا مکمل موجودہ پتہ داخل کر دیا اور معززین و رشتہ دار کے مزید نام و پتے داخل کرنے سے معذرت کی لہذا فریق دوم کے نام اطلاع مع مثنیٰ درخواست دعوی بذریعہ رجسٹری جاری ہوئی اور مورخہ 20 جنوری 2024ء تک اس سے بیانی تحریری طلب کیا گیا فریق دوم کے نام جاری اطلاع کا کچھ پتہ نہیں چلا نہ ہی وہ واپس آئی اور نہ فریق دوم نے اب تک بیانی تحریری داخل کیا ہے پدر فریق اول کا کہنا ہے کہ اسے اطلاع موصول ہوئی ہے لہذا اس کے بعد متعدد سماعت کی تاریخیں مقرر کی گئیں فریق اول مقررہ تاریخ سماعت پر اپنے گواہوں اور گارجین کے ساتھ دارالقضاء حاضر آئی، اس کے اور اس کے گواہوں کے بیانات قلم بند کیے گئے جو شامل مسل ہیں، فریق دوم کسی بھی تاریخ سماعت پر دار القضاء حاضر نہیں آیا اور نہ ہی کوئی پیروی کی جبکہ فریق دوم کے نام آخری اطلاع ڈاکخانہ کی اس رپورٹ کے ساتھ واپس آگئی کہ وہ موجود نہیں ہے لہذا معاملہ ہذا کی کاروائی ختم کر دی گئی بعدہ یہ مسل مع رپورٹ مرکزی دارالقضا موصول ہوئی، کارروائی معاملہ ھذا مکمل ہے اب یہ مسل میرے سامنے برائے تصفیہ پیش ہے۔
فریقِ اول نور جہاں خاتون بنت محمد شرف الدین انصاری کے بیان عند القضاء کا خلاصہ ہے کہ میری شادی فریق دوم محمد ذاکر حسین ولد محمد جہانگیر انصاری سے ٨ جولائی 2023 ء کو ہوئی، بعد نکاح رخصتی بھی ہوئی دونوں ساتھ رہے مگر فریق دوم کے گھر والوں سے اس کا جھگڑا ہوگیا اس لیے وہ رات الجھن میں گزاری، اور دوسری رات کو وہ مجھ سے ہمبستر ہوا دوسرے دن سے وہ اسے کہنے لگا کہ مجھے تم سے محبت نہیں ہے، فریق دوم کا سلوک فریق اول کے ساتھ ٹھیک نہیں رہا فریق دوم کے بڑے بھائی اور اس کی ماں نے یہ شادی دوکھا دے کر کی یہ کہہ کر کہ فریق دوم کا گھر ہے مگر شادی کے بعد بولے کہ فریق دوم کا کوئی گھر نہیں ہے صرف شادی میں ڈیمانڈ مل رہا تھی اس کو لینے کے لیے یہ دھوکہ دیا گیا فریق دوم کا کسی دوسری لڑکی سے غلط تعلق ہے یہ بات اس نے خود فریق اول کو بتائی اور فون سے ہمیشہ اس سے بات کرنے میں لگا رہتا تھا وہ کہتا ہے کہ دھیرے دھیرے سب ٹھیک ہو جائے گا، فریق اول شادی کے بعد کل ملا کر اس کے ساتھ ایک ماہ دس دن رہی ہے اس درمیان فریق دوم فریق اول سے صرف ایک دن ہم بستر ہوا اس کے بعد سے کبھی نہیں ہوا، فریق اول کو فریق دوم کے پاس کھانے پینے کی کوئی پریشانی نہیں تھی، البتہ رہنے سہنے میں دقت تھی فریق دوم اسے سخت مار پیٹ کرتا تھا ایک مرتبہ اتنا زور سے ہاتھ سے پیچھے سر پر مارا کی فریقِ اول منہ کے بل زمین پر گر گئی جس کی وجہ سے فریق اول کے سامنے کے دو دانت ٹوٹ گئے، آنکھ میں خون جم گیا اور ناک کا بیسر گھڑنے کی وجہ سے خون بہنے لگا اور چہرہ پھول گیا تھا، فریق دوم نے اس روز علاج نہیں کرایا جب فریق اول نے تکلیف کا بہت زیادہ ذکر کیا اور بار بار اس سے کہنے لگی، تو دوسرے روز فریق دوم نے ڈاکٹر کو بلا کر علاج کرایا ڈاکٹر نے دانت اکھاڑنے اور دوسرے دانت لگانے کے لیے کہا مگر فریقِ دوم نے دانت نہیں لگوائے اور نہ ہی دوبارہ علاج کرایا فریق دوم نے فریق اول کی سگی بہابی کو فون کر کے کہا کہ میں نے اسے سخت مارا پیٹا ہے اس کے باپ کو بھیج دو آ کر اسے لے جائے ورنہ اور بہت زیادہ ماروں گا اس کی بولی زہر لگتی ہے، پھر فریق دوم نے اس کا موبائل سچ آف کر کے سم اپنے پاس رکھ دی، جب اس کے گھر والے بہت زیادہ پریشان ہوئے تب وہ لوگ چھ سات آدمی جو کہ گھر ہی کے تھے فریقِ دوم کے پاس چھتیس گڑھ پہنچے مگر فریق دوم نے اس کے والد کے ساتھ بدتمیزی شروع کر دی اس لیے سارے لوگ بولے کہ لڑکی کو ساتھ جانے دیجیے مگر وہ آنے نہیں دے رہا تھا پھر فریق اول نے فریق دوم سے علاج کرانے کے لیے اجازت لی اور اس طرح وہ اپنے والد اور ان لوگوں کے ساتھ چلی آئی فریق دوم نے اس سے کہا تم جاؤ ہم لینے نہیں آئیں گے ، فریق اول کی اس وقت بہت بری حالت تھی علاج بہت ضروری تھا فریق دوم اس سے دور ہی رہتا تھا ایک بستر پر الگ الگ رہتے تھے وہ بہت زیادہ غصہ کرنے والا ہے وہ کہتا کہ تم اپنے گھر والوں اور والدین سب سے رشتہ ختم کر لو ہم تمہیں ٹھیک سے رکھیں گے ایسا کرنے میں وقت لگتا ہے مگر اس نے موقع نہیں دیا کسی سے بات چیت نہیں کرنے دیتا ماں باپ کسی سے بھی فریق اول کو فریق دوم سے آئے ہوئے چار ماہ ہو گئے اس درمیان صرف ایک مرتبہ اس نے فون کیا جب کہ فریق اول نے اسے کئی مرتبہ فون کیا مگر اس نے صحیح سے بات نہیں کی اور فریق دوم نے کہا کہ تم خود سے آؤ ہم تمہیں نہیں لائیں گے اس لیے فریق دوم نہ خود آیا اور نہ رخصتی کرانے کے لیے کسی کو بھیجا فریقِ دوم فریقِ اول سے روپئے کی مانگ کرتا ہے اور سامان جہیز کا مطالبہ کرتا ہے ساتھ میں فریق دوم بہت غصہ کرنے والا بھی ہے فریق اول فریق دوم کی جانب سے تمام حقوق زوجیت بشمول نان و نفقہ سکنہ سے بالکل محروم ہے اور شروع سے ہی محروم ہے فریق اول نے بہت انتظار کیا مگر اب وہ اس کے ساتھ نہیں رہ سکتی اور نہ ہی فریق اول کو فریق دوم کے ساتھ گزارا ممکن ہے کیونکہ فرق اول کو فریق دوم کے ساتھ جان کا خطرہ ہے وہ چاقو دکھا کر دھمکی دیتا ہے اس لیے فریق اول کا مطالبہ ہے کہ اس کا نکاح فریق دوم سے فسخ کر دیا جائے اور شادی کے موقع پر جو اس کے والد نے فریق دوم کو تین لاکھ روپئے، سامان جہیز اور اسکول کے کاغذات دئیے ہیں وہ فریق اول کو واپس کرا  دلائے جائیں، فریق اول کا کہنا ہے کہ میرے شوہر فریق دوم نے اپنے بیان تحریری میں جو میری ماں پر الزام لگایا ہے وہ سراسر غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے اسے فریق دوم کے پڑوس میں رہنے والی ایک بھابی سے معلوم ہوا کہ فریق دوم کو جیل ہو گئی ہے وہ ایک غیر مسلم لڑکی کے ساتھ رہنے اور غلط تعلق رکھنے کے الزام میں پکڑا گیا ہے یہ بات اس کے پڑوس میں رہ رہی ایک چاچی نے بتائی ہے دونوں گواہ چھتیس گڑھ کی ہیں، دونوں کے نام  بتانے میں ان کی جان کو خطرہ ہے، اور ان کی لڑائی ان کے سر آنے سے بچانے کے لیے فریق اول نام نہیں بتا رہی ہے اور یہ جیل کی خبر فون کے ذریعے خود فریق اول کی ساس نے بتائی ہے اور کہا ہے کہ پیسے کا انتظام کر کے آؤ اور اسے چھڑاؤ ورنہ طلاق کے کاغذ بنا کر آؤ ہم جب ان سے ملنے جائیں گے تو دستخط کرا لیں گے فریق دوم کے ساتھ فریق اول بالکل نہیں رہنا چاہتی فریق دوم کے رویہ میں تبدیلی کی کوئی امید نہیں ہے اور نہ ہی اس کے گھر میں فریق اول کی کوئی عزت ہے اس لیے فریق اول ان سے مایوس ہو چکی ہے اس لئے فریق اول کا نکاح فریق دوم سے فسخ کر دیا جائے۔

فریق اول کے بیان عند القضاء سے حسب ذیل دعاوی ثابت ہوتے ہیں ۔
اس کی شادی فریق دوم محمد ذاکر حسین ولد محمد جہانگیر انصاری سے ٨ جولائی 2023ء کو ہوئی، رخصتی بھی ہوئی دونوں ساتھ بھی رہے۔
فریق دوم کے بڑے بھائی اور اس کی ماں نے یہ شادی دوکھا دے کر کی یہ کہہ کر کہ فریق دوم کا گھر ہے مگر شادی کے بعد بولے کہ اس کا گھر نہیں ہے صرف شادی میں ڈیمانڈ مل رہی تھی اسے لینے کے لیے یہ دھوکہ دیا ہے۔
فریق دوم کا کسی غیر مسلم لڑکی سے غلط تعلق ہے یہ بات اس نے خود بتائی اور اس کی ماں نے فون پر بتایا اور فون سے ہمیشہ اس سے بات کرنے میں لگا رہتا تھا۔

فریق دوم فریق اول کو سخت مارپیٹ کرتا تھا ایک مرتبہ اتنا زور سے ہاتھ سے پیچھے سر پر مارا کہ فریق اول منہ کے بل زمین پر گری جس کی وجہ سے ان کے سامنے والے دو دانت ٹوٹ گئے آنکھ میں خون جم گیا ناک کا بیسر گھڑنے کی وجہ سے خون بہنے لگا اور چہرہ پھول گیا۔
فریق اول کو اپنے میکے میں فریق دوم کے یہاں سے آئے ہوئے چار ماہ ہو گئے ہے، اس درمیان صرف ایک مرتبہ فریق دوم نے اسے فون کیا اور رخصتی کے لیے نہ خود آیا نہ کسی کو بھیجا۔
فریق دوم فریق اول سے روپئے کی مانگ کرتا ہے اور سامان جہیز کا مطالبہ کرتا ہے۔
فریق اول من جانب فریق دوم شوہر سے تمام حقوق زوجیت بشمول نان و نفقہ و سکنیٰ سے بالکلیہ محروم ہے اور شروع سے ہی محروم ہے۔
فریق اول کا اب فریق دوم کے ساتھ گزارا نہیں ہو سکتا فریق اول کو اس کے ساتھ رہنے میں جان کا خطرہ ہے وہ چاقو دکھا کر دھمکی دیتا ہے۔
فریق اول کا مطالبہ ہے کہ اس کا نکاح فریق دوم سے فسخ کر دیا جائے اور شادی کے موقع پر جو ان کے والد نے فریق دوم کو تین لاکھ روپئے، سامان جہیز اور اسکول کے کاغذات وغیرہ دئیے ہیں وہ اسے واپس دلائے جائیں۔

فریق اول نے اپنے دعاوی کے اثبات میں تین گواہوں کو پیش کیا ہے (١) محمد ہارون رشید ولد محمد سراج الدین انصاری (٢) محمد آصف انصاری ولد محمد عارف انصاری (٣) محمد اسلم انصاری ولد مرحوم محمد اسلام انصاری

فریق اول کے پیش کردہ گواہوں میں سے گواہ اول کی گواہی ناقص ہونے کی وجہ سے رد کی جاتی ہے۔

فریق اول کے پیش کردہ گواہوں میں سے گواہ نمبر دو محمد آصف انصاری ولد محمد عارف انصاری کے بیان عند القضاء کا خلاصہ ہے کہ نوری خاتون عرف نور جہاں خاتون بنت محمد شرف الدین انصاری کی شادی محمد ذاکر حسین ولد محمد جہانگیر انصاری سے تین چار مہینے پہلے ہوئی رخصتی بھی ہوئی دونوں سے کوئی اولاد نہیں ہے فریق اول کو فریق دوم کے یہاں کھانے پینے رہنے سہنے کی کیا پریشانی تھی مجھے معلوم نہیں، فریق دوم اسے بہت بری طرح مار پیٹ کرتا تھا اس نے فریق اول کا مارکر دانت بھی توڑ دیا تھا، ذہنی ٹارچر بھی کرتا تھا اور وہ ہم بستری کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا تھا یہ بات موبائل میں فریق اول اور اس کی ماں کے درمیان ہوئی بات کے ریکارڈنگ سے مجھے معلوم ہوئی اور فریق اول کے بھائی نے بھی بتایا، فریق اول کی بھابی سے سنا کہ فریق دوم کا کسی دوسری لڑکی سے غلط تعلق ہے وہ فریق اول کو سخت گالی گلوچ بھی کرتا ہے فریق دوم چھتیس گڑھ میں رہتا ہے فریق اول کو بھی وہی رکھتا تھا جب اس نے سخت مار پیٹ کیا، تو میں اور فریق اول کے والد وغیرہ وہاں گئے تقریبا مار پیٹ کے ہی روز اور فریق اول کو وہاں سے اس کی میکے واپس لے کر آئے ڈھائی مہینے سے فریق اول اپنے میکے میں ہے، فریق دوم نے نہ کھانا خرچ دیا نہ کسی کو رخصتی کے لیے بھیجا نہ خود آیا فریق اول اس کی طرف سے تمام حقوق زوجیت بشمول نان و نفقہ اور سکنیٰ سے بالکل محروم ہے فریق اول کے والد نے فریق دوم کو شادی کے وقت تین لاکھ روپے نقد اور اچھا خاصہ سامان جہیز دیا تھا میرے خیال ہے کہ فریق اول کا اس کے ساتھ کسی بھی حال میں گزارا اور نباہ نہیں ہو سکتا فریق دوم کا اس کے ساتھ سلوک اور رویہ بالکل بھی اچھا نہیں ہے اس کے علاوہ میں کچھ بھی نہیں جانتا ہوں۔
فریق اول کے پیش کردہ گواہوں میں سے محمد اسلم انصاری ولد مرحوم محمد اسلام انصاری کے بیان کا خلاصہ ہے کہ نور جہاں خاتون بنت محمد شرف الدین انصاری کی شادی فریق دو محمد ذاکر حسین ولد محمد جہانگیر انصاری سے ٨ جولائی 2023ء کو ہوئی، رخصتی بھی ہوئی دونوں ساتھ بھی رہے دونوں سے کوئی اولاد نہیں ہے اور کل ملا کر وہ فریق دوم کے ساتھ ایک ہفتہ رہی ہوگی اس دوران وہ فریق دوم کسی دوسری لڑکی سے موبائل کے ذریعے بات بھی کرتا رہتا تھا تو فریق اول اسے منع کرتی اس پر وہ اسے مار پیٹ کرتا، اور اس کو بری طرح مار کے اس نے زخمی بھی کر دیا جس سے اس کا سامنے کا دانت ٹوٹ گیا جس کے علاج کرانے اور دانت لگانے میں تقریبا چھتیس ہزار روپئے خرچ ہوئے، فریق دوم نے علاج کے لیے خرچ نہیں دیا بلکہ فریق اول کے والد نے علاج کر کے خرچ کو برداشت کیا، اس کو وہاں کھانے پینے اور رہنے سہنے دونوں کی پریشانی تھی وہ مارپیٹ گالی گلوچ کرتا تھا سننے میں آیا کہ وہ بہت غصہ کرنے والا ہے فریق اول، فریق دوم کے ساتھ گیا میں ایک ہفتہ جو رہی ہے اس کے بارے میں مجھے معلوم ہے البتہ چھتیس گڑھ کتنے دن رہی مجھے معلوم نہیں، مجھے تو یہ معلوم ہے کہ فریق دوم کے ساتھ فریق اول کو رہنے کے دوران شروع ہی سے تمام طرح کی پریشانی تھی اس کے علاوہ مجھے کچھ معلوم نہیں ہے فریق اول اپنے میکے میں تین چار ہفتہ سے رہ رہی ہے اس دوران فریق دوم نے نہ کبھی فون کیا نہ رخصتی کے لیے خود آیا نہ کسی کو بھیجا نہ خرچ دیا نہ کپڑا دیا نہ کوئی حق ادا کیا وہ اس کی طرف سے تمام حقوق سے محروم ہے فریق دوم ابھی جیل میں ہے وہ ایک غیر مسلم لڑکی سے غلط تعلق رکھتا تھا جس میں پکڑا گیا تو اس کے باپ نے جیل بھجوا دیا ہے میرے خیال میں ان دونوں کا اب نباہ بالکل مشکل ہو گیا ہے فریق اول نان و نفقہ و سکنیٰ اور دیگر تمام حقوق زوجیت سے بھی محروم ہے۔

فریق اول کے پیش کردہ گواہوں سے گواہ دوم و سوم سے اس کے دعویٰ نمبر (١) کہ اس کی شادی فریق دوم محمد ذاکر حسین ولد محمد جہانگیر انصاری سے ٨ جولائی 2023ء کو ہوئی، رخصتی بھی ہوئی دونوں ساتھ بھی رہے۔
دعویٰ نمبر (٣) کہ فریق دوم کا کسی غیر مسلم لڑکی سے غلط تعلق ہے یہ بات اس نے خود بتائی اور اس کی ماں نے فون پر بتایا اور فون سے ہمیشہ اس سے بات کرنے میں لگا رہتا تھا۔
دعویٰ نمبر (٤) کہ فریق دوم فریق اول کو سخت مارپیٹ کرتا تھا ایک مرتبہ اتنا زور سے ہاتھ سے پیچھے سر پر مارا کہ فریق اول منہ کے بل زمین پر گری جس کی وجہ سے ان کے سامنے والے دو دانت ٹوٹ گئے آنکھ میں خون جم گیا ناک کا بیسر گھڑنے کی وجہ سے خون بہنے لگا اور چہرہ پھول گیا
دعویٰ نمبر (٥) کہ فریق اول کو اپنے میکے میں فریق دوم کے یہاں سے آئے ہوئے چار ماہ ہو گئے ہے، اس درمیان صرف ایک مرتبہ فریق دوم نے اسے فون کیا اور رخصتی کے لیے نہ خود آیا نہ کسی کو بھیجا۔
دعویٰ نمبر (٧) کہ فریق اول من جانب فریق دوم شوہر سے تمام حقوق زوجیت بشمول نان و نفقہ و سکنیٰ سے بالکلیہ محروم ہے اور شروع سے ہی محروم ہے۔
دعویٰ نمبر (٩) کہ فریق اول کا مطالبہ ہے کہ اس کا نکاح فریق دوم سے فسخ کر دیا جائے اور شادی کے موقع پر جو ان کے والد نے فریق دوم کو تین لاکھ روپئے، سامان جہیز اور اسکول کے کاغذات وغیرہ دئیے ہیں وہ اسے واپس دلائے جائیں۔ ثابت ہوتے ہیں اور دعویٰ نمبر (٢)  (٦) اور (٨) کے حوالے سے یا تو گواہوں کا بیان ساکت ہے یا وہ سماعی شہادت دے رہے ہیں،جو کہ عند القضاء معتبر نہیں ہے ہدایہ میں ہے "ولا يجوز للشاهد أن يشهد بشيء لم يعاينه هدايه، كتاب الشهادات، ۴۳۰/۲)

دوسری طرف فریق دوم کو بار بار رجسٹری اطلاع دے کر رفع الزام کے لیے مرکزی دارالقضاء طلب کیا گیا لیکن وہ کسی بھی تاریخ پیشی پر دار القضاء حاضر نہیں ہوا جبکہ بحیثیت مسلمان اس پر لازم و ضروری تھا کہ وہ دار القضاء حاضر ہو کر رفع الزام کرتا کیونکہ یہی ایک مسلمان کی شایان شان ہے ارشاد خداوندی ہے " إنما كان قول المؤمنين إذا دعوا إلى الله ورسوله ليحكم بينهم أن يقولوا سمعنا وأطعنا " (النور / (۵۱) آیت مذکورہ کے ذیل میں صاحب معین الحکام لکھتے ہیں "وفی الآية دليل على أنه من دعى إلى حاكم فعليه الإجابة ويجرح إن تأخر " (معين الحكام ص، (۱۴۱)

فریق دوم کا دار القضاء حاضر نہ آنا اور حاضری سے مسلسل گریز  کرنا اس کی ہٹ دھرمی و سرکشی کی واضح نشانی ہے اور اس کا یہ رویہ اس بات کی مبین دلیل ہے کہ وہ رفع الزام سے عاجز و قاصر ہے بلکہ اس کا یہ طرز عمل نکول عن الحلف کے قائم مقام ہو کر اقرار دعوی کے حکم میں ہے۔
شامی میں ہے " وقضى القاضي عليه بنكوله مرة، لو نكوله في مجلس القاضي، حقيقة كقوله "لا أحلف" أو
حكما إن سکت (شامی (۲۶۹/۸)

زیر بحث معاملہ میں فریق اول عرصہ دراز سے منجانب فریق دوم نان و نفقہ و دیگر تمام حقوق سے محروم ہے جبکہ فریق دوم پر بحیثیت زوج لازم و ضروری تھا کہ وہ فریق اول کے نان و نفقہ کا معقول انتظام کرتا کیونکہ شریعت مطہرہ نے بیویوں کا خرچ شوہر کے ذمہ واجب قرار دیا ہے، ارشاد خداوندی ہے " و على المولود له رزقهن وكسوتهن بالمعروف" (البقرة / ۲۳۳) اور اسی طرح لينفق ذو سعة من سعته، ومن قدر عليه رزقه فلينفق مما آتاه الله (الطلاق/۷) ہدایہ میں ہے " النفقة واجبة للزوجة على زوجها مسلمة كانت أو كافرة إذا سلمت نفسها إلى منزله فعليه نفقتها وكسوتها وسكناها۔ هدایه، ۳۷۴/۳-۳۷۵)
بیوی اگر شوہر کی اجازت سے میکہ آئی ہو تو اس کا نفقہ بھی شوہر کے ذمہ لازم ہے ، شامی میں ہے "ولو هي في بيت أبيها إذا لم يطالبها الزوج بالنقلة، به یفتی شامی (۲۸۴/۵) اسی طرح فریق اول نے اپنی بچی کا بھی نفقہ ادا نہیں کیا، جبکہ بحیثیت والد اس پر لازم و ضروری تھا کہ وہ اپنی بچی کا نان و نفقہ ادا کرتا کیونکہ شریعت اسلامیہ نے نابالغ اولاد کا نفقہ باپ کے ذمہ لازم کیا ہے ، ہدایہ میں ہے " ونفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كما لا يشاركه فى نفقة الزوجة . (هدايه، ۳۹۵/۳)
ایسی عورت جو شوہر کی جانب سے نان و نفقہ سے محروم ہو اور اس کا شوہر اس کو طلاق بھی نہ دے رہا ہو تو شریعت اسلامیہ نے ایسی عورت کو اختیار دیا ہے کہ وہ اپنا معاملہ قاضی کے یہاں لے جائے اور فسخ نکاح کا مطالبہ کرے، قاضی کے یہاں اگر عورت کا دعوی ثابت ہو جائے تو قاضی کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہے، الحیلة الناجزة میں ہے: "أما المتعنت أى الممتنع . عن الإنفاق ففى مجموع الأمير ما نصه: إن منعها نفقة الحال فلها القيام، فإن لم يثبت عسره أنفق أو طلق وإلا طلق أى طلق عليه الحاكم من غير تلوم .( الحيلة الناجزة، ص ۲۱۳)
اسی طرح فریق اول عرصہ دراز سے فریق دوم کی جانب سے حقوق زوجیت سے محروم ہے اور وظیفہ زوجیت سے محرومی نان و نفقہ سے محرومی کے مقابلہ میں زیادہ ضرر رساں ہے اور ایسی عورت  جو اپنے شوہر کی طرف سے وظیفہ زوجیت سے محروم ہو شریعت اسلامیہ نے اختیار دیا ہے کہ وہ قاضی کے یہاں اپنا معاملہ دائر کرے اور قاضی بوجہ محرومی از حق زوجیت بعد ثبوت نکاح فسخ کردے، "وإذا أثبت لهما الطلاق بذلك فليثبت لهما إذا خشية الزنا بالأولى، لأن ضرر ترك الوطء أشد من ضرر عدم النفقة، ألا ترى أن إسقاط النفقة يلزمها، وإسقاطها حقها فى الوطأ لا يلزمها، ولها أن ترجع فيه، أيضا النفقة يمكن تحصيلها لها بتسلف أو سؤال بخلاف الوطء . ( الحيلة الناجزه، ص ۲۱۷)
بہر حال فریق دوم پر بحیثیت زوج لازم تھا کہ وہ فریق اول کو رخصت کرا کر لے جاتا اس کے تمام حقوق ادا کرتا اور اس کو اچھی طرح سے رکھ کر " امساک بالمعروف " پر عمل کرتا ، اور اگر وہ ادائے حقوق پر قادر نہ تھا یا با وجود قدرت کے کسی وجہ سے ادا کرنا نہیں چاہتا تھا تو " تسریح بالا حسان " پر عمل کرتے ہوئے فریق اول کو ایک طلاق بائن دیدیتا لیکن اس نے ان دونوں راہوں کو چھوڑ کر تیسری راہ اپنائی اور فریق اول کو کالمعلقہ بنا کر میکے میں چھوڑے رکھا،جس سے اللہ رب العزت نے منع فرمایا ہے، ارشاد خداوندی ہے " فلا تميلوا كل الميل فتذروها كالمعلقه " (النساء / ۱۲۹) ایک دوسری جگہ ارشاد ہے فلا تمسكوهن ضرارا لتعتدوا،ومن يفعل ذلك فقد ظلم نفسه " (البقرة / ۲۳۱) فریق دوم کا فریق اول کو کالمعلقہ چھوڑ دینے سے فریق اول سخت ضرر و حرج میں مبتلاء ہے، فریق دوم کا یہ رویہ اس پر سراسر ظلم ہے،اور دفع ضرر و حرج و رفع ظلم و جور فریضۂ قضاء ہے معین الحکام میں ہے "أما حكمته فرفع التهارج ورد النوائب وقمع الظالم ونصر المظلوم و قطع الخصومات والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر" (معين الحكام، ص، (۷)
لہذا مندرجہ بالا مباحث و مصالح دینیہ کی رعایت کرتے ہوئے میں درج ذیل حکم دیتا ہوں :

حکم

آج میں نے بر بناء عدم اداء نان و نفقه و عدم اداء حقوق زوجیت و بوجه ترک کالمعلقه از عرصه دراز بنظر دفع ضرر و حرج و رفع ظلم و جور و سد باب فتن و بوجه تحفظ عفت و عصمت فریق اول گلشن آرا بنت طاہر عالم مرحوم کا عقد نکاح فریق دوم محمد سرتاج ولد محمد آفتاب عالم سے فسخ کر دیا ، اب وہ اس کی بیوی نہیں رہی ، عدت گزار کر وہ اپنے نفس کی مجاز ہے۔ واضح رہے کہ یہ ایک حکم شرعی ہے۔ فقط

No comments:

Post a Comment