Sunday, July 28, 2024

d 17

[فَصْلٌ فِيمَا يَدُلُّ عَلَى الْحُكْمِ]
یہ فصل ان چیزوں کے بیان میں جو حکم پر دلالت کرتی ہیں وہ چیز جو حکم پر دلالت کرتی ہیں۔ 
جان لینا چاہیے جس طرح حکم پر قول دلالت کرتا ہے بایں طور کہ قاضی کہے کہ میں تم کو گواہ بناتا ہوں کہ میں نے اس طرح حکم دیا، اسی طرح قاضی کا فعل بھی حکم پر دلالت کرتا ہے اس طور کہ ایک قاضی دوسرے قاضی کو لکھ کر بھیجے کہ میں فلاں معاملہ میں اس طرح فیصلہ کیا ہے، تو یہ قاضی کی کتابت بھی حکم قاضی پر دلالت کرتی ہے، جیسا کہ فقہ کے باب کتاب القاضی الی القاضی کے باب میں اس کی صراحت کئی ہوئی ہے، اسی طرح جب قاضی سے پوچھا گیا کیا آپ نے فلاں معاملہ ایسا فیصلہ کیا ہے تو قاضی نے بغیر کچھ لکھے، بتائے سر ہلا کر ہاں کا اشارہ کر دیا یا سر تو نہیں ہلایا بلکہ کوئی ایسا اشارہ کیا جو دلالت کر رہا ہو یا جس اشارہ سے سمجھا جا رہا ہو کہ اس نے ایسا ہی حکم دیا ہے جیسا پوچھا گیا، یا قاضی نے اپنے ہاتھ سے حکم لکھا اور دو گواہوں کو بلا کہا کہ میرے اس لکھے مضمون پر گواہ رہو، تو اس طرح کے تمام اقوال و افعال، کتابات و اشارات من جانب قاضی صدور حکم دلالت کرتے ہیں۔ 

فِيمَا يَدُلُّ عَلَى الْحُكْمِ اعْلَمْ: أَنَّهُ كَمَا يَدُلُّ الْقَوْلُ عَلَى الْحُكْمِ فِي قَوْلِ الْحَاكِمِ: أُشْهِدُكُمْ أَنِّي حَكَمْت بِكَذَا. فَكَذَا الْفِعْلُ يَدُلُّ عَلَى الْحُكْمِ أَيْضًا، وَذَلِكَ إذَا كَتَبَ الْحَاكِمُ إلَى حَاكِمٍ آخَرَ: إنِّي قَدْ حَكَمْتُ بِكَذَا فَهَذِهِ الْكِتَابَةُ تَدُلُّ عَلَى الْحُكْمِ كَمَا هُوَ مَشْرُوحٌ فِي كِتَابِ الْقَاضِي إلَى الْقَاضِي.وَكَذَلِكَ لَوْ سُئِلَ هَلْ حَكَمْتَ بِكَذَا فَأَشَارَ بِرَأْسِهِ أَوْ غَيْرِ ذَلِكَ مِمَّا يَدُلُّ وَيُفْهِمُ أَنَّهُ حَكَمَ بِهِ، وَكَذَلِكَ لَوْ كَتَبَ الْحُكْمَ بِيَدِهِ وَقَالَ: اشْهَدُوا عَلَيَّ بِمَضْمُونِهِ، فَجَمِيعُ ذَلِكَ يَدُلُّ عَلَى صُدُورِ الْحُكْمِ، 
اس کا سبب کہ قاضی کا قول و فعل اشارہ و کتابت بھی حکم ہے یہ کہ قاضی کا حکم ایک امر نفسی ہے نہ کہ امر لسانی کیوں کہ زبان تو دل کی ترجمان ہے اور اسی طرح اشارہ کتابت یا قاضی کا فعل یہ اسی امر نفسی پر دلالت کرنے والے ہیں گویا امر نفسی مدلول ہے اور قول، فعل اشارہ اور کتابت یہ تمام چیزیں اسی مدلول پر دال ہیں یا یوں کہئے امر نفسی علت ہے اور قول، فعل وغیرہ اس کی علامت ہے اور علامت سے علت کو سمجھنا دلیل لمی ہے،چنانچہ اسی لیے کبھی کبھی قاضی خبر دیتا ہے اپنے حکم کی قول سے، کبھی خبر دیتا ہے فعل سے، کبھی خبر دیتا ہے اشارے سے، پس یہ قول، فعل، اشارے اور کتابت سے خبر دینا یہ دلالت کرتا ہے اس پر کہ حکم قول، فعل، کتابت اور اشارہ کے علاوہ کوئی اور چیز ہے اور وہی چیز امر نفسی ہے چنانچہ یہ تمام (قول و فعل وغیرہ) اسی حکم ( نفس الامر)پر دلالت کرتی ہیں جس طرح وہ تمام دلالت کرتی ہیں جو کہ نفس کے ساتھ قائم ہوتی ہے جیسے احکام، اخبار اور اس کے علاوہ چیزیں وہ بھی امر نفسی پر دلالت کرتی ہیں اسی طرح یہ چیزیں بھی امر نفسی پر دلالت کرتی ہے۔ 
وَسَبَبُ ذَلِكَ أَنَّ حُكْمَ الْحَاكِمِ أَمْرٌ نَفْسَانِيٌّ لَا لِسَانِيٌّ؛ لِأَنَّهُ تَارَةً يُخْبِرُ عَنْهُ بِالْقَوْلِ وَتَارَةً بِالْفِعْلِ وَتَارَةً بِالْإِشَارَةِ، فَدَلَّ عَلَى أَنَّ الْحُكْمَ غَيْرُ قَوْلِهِ وَكِتَابَتِهِ وَإِشَارَتِهِ، وَإِنَّمَا هَذِهِ الْأُمُورُ دَالَّةٌ عَلَى الْحُكْمِ كَسَائِرِ مَا يَقُومُ بِالنَّفْسِ مِنْ الْأَحْكَامِ وَالْأَخْبَارِ وَغَيْرِهِمَا.

(فَصْلٌ) :
اب مصنف پر رحمتہ اللہ علیہ یہاں سے دو دلیلیں بیان کر رہے ہیں اس بات پر کہ حکم اصل میں امر نفسی کے ساتھ قائم ہے جس کا تعلق دل کے ساتھ ہے اور زبان اسی امر نفسی کی ترجمان ہے اسی طرح اشارہ، کتابت اسی مدلول پر دلالت کرتے ہیں اور اسی علت کی علامت ہیں،
پہلی دلیل یہ ہے کہ انشاء حکم کبھی کبھی ملا ہوا ہوتا ہے اس کے ساتھ جس پر انشاء حکم دلالت کرتا ہے یا یوں کہئے کہ کبھی کبھی علت و علامت ایک وقت میں وجود پاتی ہے یا کبھی کبھی دال و مدلول ایک ساتھ پائے جاتے ہیں، یعنی قاضی کے دل میں جو خیال ( حکم سمجھ) آیا اس نے اسی وقت زبان سے اس حکم قولاً بیان کیا گویا کہ جو امر نفسی میں تھا اس کا اظہار جب زبان سے اسی وقت ہوا گویا حکم ( قول و فعل وغیرہ) مل اس کے ساتھ جس ( نفس الامر) پر وہ دلالت کرتا تھا چنانچہ انشاء حکم موافق ہوگا اس پر گواہ بنانے کے وقت کو یعنی جب حکم دیا تب ہی گواہ بھی بنائے اپنے حکم پر اور کبھی کبھی انشاء حکم( قول، فعل،وغیرہ) جدا ہوتا ہے سال و سال جدا ہوتا جس ( نفس الامر) پر وہ دلالت کرتا ہے اس طور پر کہ قاضی نے معاملہ سماعت کیا اور والی کے دل میں اس معاملے کا حکم جم گیا کہ طلاق ہونی چاہئے لیکن قاضی نے قول و فعل سے کچھ نہیں کہا نہ ہی گواہ قائم کیے تو اگرچہ قاضی نے نفس الامر میں حکم دیا ہے لیکن چونکہ گواہ نہیں بنائے ہیں اس لیے ابھی اس حکم کا اثر ظاہر نہیں ہوا اب قاضی کئی سالوں کے بعد گواہوں کو بلا کر کہہ رہا ہے کہ فلاں معاملہ آیا تھا اس میں میں نے یہ فیصلہ کیا ہے تم گواہ رہو اگرچہ حکم بہت سالوں پہلے پایا گیا ہے یعنی قاضی کے دل میں لیکن یہ گواہ اس پر آج بنا رہا ہے تو اس بات سے ظاہر ہوا کہ حکم وہ امر نفسی ہوتا ہے اور ح۔ شرعی نفس الامر میں قائم ہوتا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے کلام نفسی کے ساتھ نہ کی کلام لسانی کے ساتھ کلام لسانی اس پر دلالت کرتا ہے اس دلیل سے مصنف رحمۃ اللہ علیہ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ قاضی کا حکم اصل میں امر نفسی ہے اس پر دلالت اشارہ، قول،فعل اور کتابت کرتا ہے اگر حکم امر نفسی نہ ہوتا تو پھر ان میں جدائی گی ممکن نہ ہوتی یعنی پھر جس وقت قاضی انشاء حکم کرے گا اسی وقت سمجھا جائے گا کہ اس کے دل میں یہ حکم بھی ابھی آیا حالانکہ ایسا نہیں ہے کہ کبھی کبھی قاضی کے دل میں فیصلہ تو بہت پہلے ہو چکا ہوتا ہے لیکن چونکہ اس نے گواہ نہیں بنائے ہوتے ہیں بہت دنوں تک پھر جس دن گواہ بناتا ہے اب اس کا اثر بھی ظاہر ہوتا ہے، چنانچہ یہ دو چیزیں الگ الگ ہیں ایک نفس الامر میں حکم دوسری اس پر دلالت کرنے والی چیزیں انشاء حکم ، قول و فعل وغیرہ، اور کبھی کبھی انشاء حکم اور نفس الامر دونوں ایک ساتھ پائے جاتے ہیں کبھی کبھی دونوں جدا ہوتی ہیں۔ 
وَمِمَّا يَدُلُّ عَلَى أَنَّ الْحُكْمَ الشَّرْعِيَّ أَمْرٌ قَائِمٌ بِالنَّفْسِ لَا بِاللِّسَانِ أَنَّهُ قَدْ يَقْتَرِنُ إنْشَاءُ الْحُكْمِ بِمَا يَدُلُّ عَلَيْهِ فَيُوَافِقُ إنْشَاءُ الْحُكْمِ وَقْتَ الْإِشْهَادِ عَلَيْهِ.
وَقَدْ يَفْتَرِقَانِ سِنِينَ كَثِيرَةً بِأَنْ يَحْكُمَ فِي شَيْءٍ وَلَا يُشْهِدُ بِالْحُكْمِ عَلَى نَفْسِهِ فِي ذَلِكَ إلَّا بَعْدَ مُدَّةٍ طَوِيلَةٍ، فَتَبَيَّنَ أَنَّ الْحُكْمَ الشَّرْعِيَّ فِي نَفْسِهِ وَقَائِمًا بِذَاتِهِ مِنْ الْكَلَامِ النَّفْسَانِيِّ لَا اللِّسَانِيِّ.
دوسری دلیل یہ کہ قاضی کے دل میں جو فیصلہ آیا ہے جو حکم آیا ہے قاضی صاحب کبھی کبھی اس کا اظہار بطور خبر کے کرتے ہیں اور اس اعتبار سے وہ صدق اور کذب کا بھی احتمال رکھتا ہے جیسا کہ اگر قاضی صاحب کہے حکمت بکذا فی الصورۃ الفلانیۃ کہ میں نے فلاں معاملے میں اس طرح سے حکم دیا ہے تو اس میں جھوٹ و سچ کا احتمال ہے اس طور پر کہ جو مطلع ہو اس کے حال پر( مثلاً قاضی معزول ہونے کے بعد خبر دے اپنے حکم کی جب معزولیت کا علم ہو تو اس کا حکم معزول ہونے کے بعد رد کیا جاتا ہے کیوں کہ اس میں یقیناً عام لوگوں کی طرح سچ و جھوٹ کا احتمال ہے معزول ہونے کے بعد قاضی کا حکم کی خبر گواہوں کے ساتھ قبول کی جاتی ہے) اور کبھی کبھی قاضی کے دل میں جو فیصلہ ہوتا ہے قاضی بطور انشاء کے اس کا اظہار کرتا ہے اور جب انشاء کے طور پر اظہار تو تب وہ سچ اور جھوٹ کا احتمال نہیں رکھتا اس طور پر کہ قاضی کہے کہ تم گواہ بن جاؤ اس پر کہ میں نے فلاں پر اس طرح کا معاملہ لازم کیا ہے چونکہ انشاء ہے اس لیے اس میں سچ و جھوٹ کا احتمال نہیں، دوسری مثال میں چونکہ انشاء ہے قاضی حکم کا انشاء کر رہا ہے کہ میں نے فلاں پر اس طرح لازم کیا ہے فلاں کے بارے میں تم گواہ بن جاؤ چونکہ یہ حکم کا انشاء ہے اور انشاء میں سچ و جھوٹ کا احتمال نہیں ہوتا گویا یہ گواہوں سے طلب کر رہا ہے کہ وہ اس معاملے پر اس طرح گواہی دیں اس لیے اس کو صحت اور فساد کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے لیکن سچ اور جھوٹ کا احتمال نہیں رکھتا ہے چنانچہ ان دو دلیلوں سے ایک تو یہ دلیل کہ قاضی کا حکم کبھی کبھی ملا ہوتا ہے امر نفسی کے ساتھ یعنی جب دل میں خیال آیا تو فورا اسی وقت حکم دیا اور کبھی کبھی دونوں زمانوں میں فرق ہوتا ہے یعنی قاضی معاملہ سماعت کیا اور اس وقت دل میں حکم آیا جو کہ امر نفسی ہے لیکن قاضی اس پر گواہ بنا رہا ہے مدت طویلہ کے بعد تب بھی یہ حکم کی جانب سے حکم ہوگا گویا پتہ چلا کہ دونوں الگ الگ ہیں اصل حکم تو امر نفسی ہے کہ جب دل میں خیال آیا تھا لیکن اس کا اثر ظاہر ہوا جب اس پر گواہ بنایا دوسری دلیل یہ دی کہ چونکہ اصل حکم امر نفسی ہے جو دل میں ہے اس کی اظہار کبھی کبھی قاضی بطور خبر کے کرتا ہے اور کبھی کبھی بطور انشاء کے گویا پتہ چلا کہ اصل حکم تو نفس الامر ہے لیکن اس کی علت اور اس پر دلالت کرنے والی کئی چیزیں ہیں۔قول فعل اشارہ کتابت وغیرہ۔ 
وَاعْلَمْ: أَنَّ الْحُكْمَ تَارَةً يَكُونُ خَبَرًا يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ، وَتَارَةً يَكُونُ إنْشَاءً لَا يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ.
فَالْأَوَّلُ مِثْلُ أَنْ يَقُولَ: قَدْ حَكَمْتُ بِكَذَا فِي الصُّورَةِ الْفُلَانِيَّةِ؛ لِأَنَّ هَذَا اللَّفْظَ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ بِحَسَبِ مَا يُطَّلَعُ عَلَيْهِ مِنْ حَالِهِ.
وَالثَّانِي مِثْلُ أَنْ يَقُولَ: اشْهَدُوا عَلَيَّ بِكَذَا، أَوْ إنِّي أَلْزَمْتُ فُلَانًا بِكَذَا، فَهُوَ إنْشَاءٌ لَا يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ؛ لِأَنَّهُ إنْشَاءُ الطَّلَبِ مِنْ الشُّهُودِ أَنْ يَشْهَدُوا عَلَيْهِ بِكَذَا، وَإِنَّمَا يُوصَفُ هَذَا بِالصِّحَّةِ وَالْفَسَادِ - وَاَللَّهُ تَعَالَى أَعْلَمُ
قسم ثانی۔ مصنف نے فرمایا تھا چھٹی قسم ارکان قضاء کے بارے میں تھے اور ارکان قضاء میں سے پہلا باب تو ابھی تک گزر چکا اب یہاں سے دوسرا باب بیان کریں گے مدعی و مدعی علیہ کے بیان میں
[الْقِسْمُ الثَّانِي فِي بَيَانِ الْمُدَّعِي مِنْ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ]

مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں جاننا چاہے قضاء کا اصل دارومدار مدعی کا مدعی علیہ سے پہچاننے پر ہے یعنی قضاء کا سب سے مشکل کام یہ ہے کہ انسان کو پہچان ہو جائے کہ فریقین میں سے کون مدعی ہے اور کون مدعا علیہ، اگرچہ مدعی اور مدعی علیہ کے احکام واضح ہیں کہ البینۃ علی المدعی و الیمین علی مدعی علیہ (رواہ الترمذی) اسی طرح البینۃ علی من یدعی خلاف الظاہر ( القواعد الفقہیہ)جو مدعی ہوگا وہ گواہ پیش کرے گا وہ جو منکر ہے اس سے قسم لی جائے گی یا جو خلاف ظاہر کا دعویٰ کرے اس سے گواہ لیے جائیں اور جو ظاہر کے موافق دعویٰ کرے اس سے قسم،چناں چہ مدعی و مدعی علیہ کے احکام واضح ہیں لیکن ان کی پہچان بڑی مشکل ہے حضرت قاضی شریح فرماتے ہیں جب ہم قاضی بنائے گئے تو ہمیں لگتا تھا کہ قضاء کا کام بہت آسان ہے لیکن جب پہلا معاملہ آیا اور مدعی و مدعی علیہ کے پہچاننے میں ہمیں بڑی دشواری ہوئی تو اس وقت پتہ چلا کہ قضاء کا کام کتنا مشکل ہے اسی کو مصنف نے فرمایا کہ قضاء وہ گھومتا ہے مدعی و مدعی علیہ کی معرفت پر اس لیے یہ بڑا مشکل اصول ہے کہ کون مدعی بنے گا اور کون مدعی علیہ اور اگرچہ کوئی اختلاف نہیں ان دونوں میں سے ہر ایک کے احکام میں یعنی دونوں کے احکام واضح ہیں اس طور پر کہ مدعی پر بینہ ہے جب مطلوب یعنی مدعی علیہ انکار کرے قسم سے اور مدعی علیہ پر قسم ہے جب مدعی گواہ قائم نہ کر سکے لیکن بڑی بات یہ ہے کہ دعوی، انکار مدعی اور منکر کی پہچان ہو جائے کیوں کہ اگر مدعی و مدعی علیہ کی پہچان نہیں ہوگی تو حکم کس پر کیا لگایا جائے یہ سمجھنا مشکل ہے
اعْلَمْ: أَنَّ عِلْمَ الْقَضَاءِ يَدُورُ عَلَى مَعْرِفَةِ الْمُدَّعِي مِنْ الْمُدَّعَى عَلَيْهِ؛ لِأَنَّهُ أَصْلٌ مُشْكِلٌ، وَلَمْ يَخْتَلِفُوا فِي حُكْمِ مَا لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، وَأَنَّ عَلَى الْمُدَّعِي الْبَيِّنَةَ إذَا أَنْكَرَ الْمَطْلُوبُ، وَأَنَّ عَلَى الْمُدَّعَى عَلَيْهِ الْيَمِينَ إذَا لَمْ تَقُمْ الْبَيِّنَةُ، لَكِنَّ الشَّأْنَ فِي مَعْرِفَةِ الدَّعْوَى وَالْإِنْكَارِ وَالْمُدَّعِي وَالْمُنْكِرِ

اب یہاں سے چند اصول مدعی و مدعی علیہ کے پہچاننے کے سلسلے میں مصنف رحمۃ اللہ علیہ بیان کریں گے فرماتے ہیں کہ اللہ پاک کی توفیق سے ہم کہتے ہیں کہ لغۃً دعوی کہتے ہیں کسی چیز کی اضافت اپنی طرف کرنا اور اصطلاحی و شرعی اعتبار سے دعوی کہتے ہیں کہ بوقت حاجت کسی چیز کی اضافت اپنی طرف کرنا مثلاً ایک شخص کو محسوس ہوا کہ فلاں کے پاس جو قلم ہے وہ میرا ہے اور مجھے اس کی حاجت ہے اس لیے اس نے اس قلم کی اضافت اپنی طرف کر دی کہ یہ قلم میرا ہے اسی کو دعوی کہتے ہیں، اس کے بعد فرماتے ہیں مدعی لغت میں اس کو کہیں گے جو بوقت حاجت کسی چیز کی اضافت اپنی طرف کرے،کسی چیز کی اضافت اپنی طرف کرنا اگر دعویٰ ہے تو جو شخص یہ اضافت کرے وہی مدعی ہوگا، دعوی و مدعی کی تعریف بیان کرنے کے بعد مصنف رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صاحب الید یعنی جس کا ظاہری قبضہ ہو کشی چیز پر وہ مدعی علیہ ہے اور جس کا ظاہری قبضہ نہیں وہ مدعی ہے یہ اس لیے کہ جس کا ظاہری قبضہ ہے وہ اس چیز کو اپنی طرف اضافت کرنے کے لیے محتاج نہیں ہے کیونکہ وہ تو اس پر ظاہری قبضہ کیے ہوئے ہے، اس کو کیا پڑی ہے کہ اس چیز کی اضافت اپنی طرف کرے، وہ تو اس کے قبضے میں ہے ہاں جس کے قبضے میں نہیں وہ بوقت احتیاج کسی چیز کو اپنی طرف اضافت کرے تو دعوی ہوگا یہ شخص مدعی کہلائے گا کیوں کہ خلاف ظاہر دعوی کر رہا ہے اور جس کا ظاہری قبضہ ہے وہ مدعی علیہ ہے کیوں کہ وہ ظاہری قبضہ کئے ہوئے ہیں اور ظاہری قبضہ کی وجہ سے وہ چیز ظاہراً اسی کی ہے، اسی کو مصنف رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ جس کا ظاہری قبضہ کسی چیز پر ہے ملکیت تو اس کے لیے ظاہراً ثابت ہے اس طور پر کہ وہ اس میں تصرف کر رہا ہے وہ صاحب تصرف ہے غیر محتاج ہے اس چیز کی اضافت اپنی طرف کرنے میں ظاہری قبضہ کی وجہ سے، مصنف فرماتے ہیں کہ اس لیے ہم نے اس کو ( ظاہری قبضہ والے کو) منکر بنایا یعنی مدعی علیہ بنایا اور خارج ( دوسرا) جو کسی چیز کی اضافت اپنی طرف کر رہا ہے چونکہ نہ اس کا ظاہری قبضہ ہے نہ باطنی قبضہ ہے اس چیز پر اس لیے وہ محتاج ہے اپنے لیے اثبات ملک کا ظاہراً بھی اور باطناً بھی اس لیے ہم نے اس کو شرعاً مدعی بنایا اور ہم نے اس کے ذمہ گواہان لازم کر دئے کیونکہ بینہ اس پر لازم کرنا یہ بطور نص کے ہے حدیث پاک کے الفاظ ہیں البینۃ علی المدعی و الیمین علی المدعی علیہ ( رواہ الترمذی) 
 فَنَقُولُ - وَبِاَللَّهِ التَّوْفِيقُ -: الدَّعْوَى إضَافَةُ الشَّيْءِ إلَى نَفْسِهِ وَضْعًا، وَإِضَافَةُ الشَّيْءِ إلَى نَفْسِهِ مَعَ مِسَاسِ حَاجَتِهِ إلَيْهِ شَرْعًا.وَالْمُدَّعِي وَضْعًا مَنْ يُضِيفُ الشَّيْءَ إلَى نَفْسِهِ مَعَ مِسَاسِ حَاجَتِهِ إلَيْهِ، وَلِهَذَا قُلْنَا: صَاحِبُ الْيَدِ مُدَّعَى عَلَيْهِ وَالْخَارِجُ مُدَّعٍ لَمَّا كَانَ صَاحِبُ الْيَدِ غَيْرَ مُحْتَاجٍ إلَيْهِ؛ لِأَنَّ الْمِلْكَ ثَابِتٌ لَهُ ظَاهِرًا بِدَلَالَةِ يَدِ التَّصَرُّفِ جَعَلْنَاهُ مُنْكِرًا، وَالْخَارِجُ لَمَّا كَانَ مُحْتَاجًا إلَى إثْبَاتِ الْمِلْكِ لِنَفْسِهِ ظَاهِرًا وَبَاطِنًا جَعَلْنَاهُ مُدَّعِيًا شَرْعِيًّا وَجَعَلْنَا الْبَيِّنَةَ بَيِّنَتَهُ بِالنَّصِّ.

No comments:

Post a Comment