وَمِمَّا يَنْفُذُ فِيهِ قَضَاءُ الْقَاضِي: ذَكَرَ فِي خِزَانَةِ الْفِقْهِ اثْنَيْ عَشَرَ مَوْضِعًا يَلْزَمُ الْقَاضِيَ فِيهَا تَنْفِيذُ قَضَاءِ قَاضٍ قَبْلَهُ لِمُصَادَفَتِهِ مَحِلًّا مُجْتَهَدًا فِيهِ:
(١) ایک شخص نے کسی عورت سے زنا کیا تو ہمارے نزدیک زنا سے حرمت مصاہرت ثابت ہوتی ہے یعنی اگر ایک شخص نے کسی عورت سے زنا کیا تو مزنیہ کی ماں بھی اس زانی پر حرام ہے اور مزنیہ کی بیٹی بھی، لیکن شوافع حضرات کے نزدیک زنا سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی ہے، شافعی حضرات فرماتے ہیں کہ زنا ایک ممنوع چیز ہے اور مصاہرت ایک نعمت ہے تو ایک ممنوع چیز سے نعمت ثابت نہیں ہو سکتی اور ہمارے نزدیک زنا سے جزیئت و بعضیت کا ثابت ہوتی ہے اس لیے اس سے بھی حرمت مصاہرت ثابت ہوگی، خیر ایک شخص نے نعوذ باللہ من ذالک کسی عورت سے زنا کیا پھر یہ مسئلہ قاضی کے پاس گیا اور قاضی صاحب نے زانی کے حق میں لکھا کہ یہ مزنیہ کی ماں یا بیٹے سے شادی کر سکتا ہے یعنی نکاح کی حلت کا فیصلہ سنایا بعدہٗ یہی فیصلہ اگر حنفی المسلک قاضی کے پاس آتا ہے تو حنفی قاضی پر ضروری ہے کہ وہ قاضی اول کے فیصلے کو نافذ کرے اسے توڑنے کی گنجائش نہیں ہے اس لیے کہ یہ مسئلہ ایسے محل سے تعلق رکھتا ہے جو مجتہد فیہ مسئلہ ہے اور آپ مجتہد فیہ مسئلہ کو محض اجتہاد کی وجہ سے توڑ نہیں سکتے۔
رَجُلٌ زَنَى بِامْرَأَةٍ حَرُمَتْ عَلَيْهِ أُمُّهَا وَابْنَتُهَا عِنْدَنَا خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ، وَلَوْ رُفِعَ الْأَمْرُ إلَى قَاضٍ شَافِعِيِّ الْمَذْهَبِ فَقَضَى بِالْحِلِّ، ثُمَّ رُفِعَ إلَى قَاضٍ حَنَفِيٍّ نَفَّذَهُ؛ لِأَنَّ قَضَاءَ الْأَوَّلِ صَادَفَ فَصْلًا مُجْتَهَدًا فِيهِ
مسئلہ (٢) ہمارے نزدیک اگر ایک شخص نے یہ کہا کہ اگر میں نے فلاں عورت سے شادی کی تو نکاح سے پہلے اسے طلاق یا اگر میں نے فلاں غلام کو خریدا تو خریدنے سے پہلے آزاد تو یہ شخص فلاں عورت سے کبھی بھی نکاح نہیں کر سکتا، فلاں غلام کو کبھی بھی خرید نہیں سکتا جب بھی اس عورت سے نکاح کرنا چاہے گا وہ عورت اس پر طلاق کی وجہ سے حرام ہو جائے گی اور جب بھی اس غلام کو خریدنا چاہے گا تو خریدنے سے پہلے ہی یہ غلام اس پر آزاد ہو جائے گا خریدتے ہی آزاد ہو جائے گا یعنی گویا ہمارے نزدیک طلاق یا عتاق کی تعلیق ملکیت پر کرنا درست ہے شافعی حضرات اس تعلیق علی الطلاق بالملک کو درست نہیں مانتے ان کے نزدیک یہ کوئی چیز نہیں ہے چنانچہ اگر کسی قاضی صاحب نے اس کے بطلان کا فیصلہ کیا یعنی طلاق اور عتاق کی تعلیق کے بطلان کا فیصلہ کیا پھر یہ فیصلہ حنفی قاضی کے پاس آیا، تو حنفی قاضی پہلے قاضی کے فیصلے کو برقرار رکھے گا اسے ہی نافذ کرے گا اس لیے کہ یہ بھی مجتہد فیہ مسئلہ ہے۔
وَقَضَاءُ الشَّافِعِيِّ الْمَذْهَبِ إذَا قَضَى بِبُطْلَانِ تَعْلِيقِ الطَّلَاقِ أَوْ الْعَتَاقِ بِالْمِلْكِ فَرُفِعَ إلَى قَاضٍ حَنَفِيٍّ نَفَّذَهُ.
مسئلہ (٣) ہمارے نزدیک طلاق کی دو قسمیں ہیں ایک ہے طلاق صریح، دوسری طلاق کنائی۔ طلاق صریح سے صراحت کے مطابق طلاق کا وقوع ہو جاتا ہے، اگر ایک یا دو ہیں تو رجعی طلاق ہے اور اگر تین ہے تو مغلظہ ہے عدت گزرنے کے بعد اب اس سے بغیر حلالہ کے نکاح نہیں کر سکتا ہے ہاں اگر ایک یا دو طلاقیں ہیں تو عدت کے اندر اندر رجعت کا بھی حق حاصل ہوگا اس سے رجوع کر سکتا ہے،۔
اسی طرح دوسری طلاق ہے طلاق کنائی، کنائی کا مطلب یہ ہے کہ کنائی سے ایک طلاق بائن پڑتی ہے اور طلاق بائن میں عورت فورا حرام تو ہو جاتی ہے البتہ عدت گزرنے کے بعد اگر پھر اس سے نکاح کرنا چاہیے تو کر سکتا ہے اور اب صرف اگر ایک طلاق دی ہوئی ہے تو دو طلاق کا مالک رہے گا، دو طلاقیں دی ہیں تو اب صرف ایک طلاق کا مالک ہماری یہاں رہے گا لیکن طلاق بائن میں عورت فورا نکاہ سے الگ ہو جاتی ہے شافعی حضرات کے نزدیک بینونت کوئی چیز نہیں ہے طلاق بائن ان کے ہاں کوئی چیز نہیں ہے اس لیے اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بائن دی پھر قاضی کے پاس فیصلہ گیا قاضی نے اس عورت کے حق میں طلاق رجعی کا فیصلہ کیا کیونکہ طلاق بائن ان کے ہاں کوئی چیز نہیں وہ تو صرف طلاق رجعی مانتے ہیں تو اس نے اس طلاق کو رجعی لکھا پھر یہ فیصلہ قاضی حنفی کے پاس آیا تو حنفی قاضی پر ضروری ہے کہ شافعی قاضی کے فیصلے کو نافذ کرے۔
وَكَذَا فِي كِنَايَاتِ الطَّلَاقِ إذَا قَضَى شَافِعِيُّ الْمَذْهَبِ بِكَوْنِهَا رَجْعِيَّةً فَرُفِعَ إلَى قَاضٍ حَنَفِيِّ الْمَذْهَبِ نَفَّذَهُ.
مسئلہ (٤) اگر کسی شخص پر زبردستی کی گئی اور اس سے طلاق دلوائی گئی ہمارے نزدیک اس کا طلاق دینا صحیح ہے اور طلاق واقع ہوگی اس لیے کہ اگرچہ اس پر زبردستی کی گئی ہے لیکن جو یہ طلاق دے رہا ہے طلاق کا لفظ بول رہا ہے یہ اپنے اختیار سے بول رہا ہے اس لیے طلاق واقع ہو جائے گی یعنی ہمارے یہاں طلاق مکرہ صحیح ہے شافعی حضرات کے نزدیک طلاق کے مکرہ درست نہیں ہے اگر طلاق مکرہ کا فیصلہ شافعی قاضی کے پاس گیا اور اس نے مکرہ کی طلاق کے بارے میں عدم صحت کا فیصلہ کیا تو پھر یہ مسئلہ حنفی قاضی کے پاس آیا تو اسے چاہیے کہ اول قاضی کے فیصلہ کو برقرار رکھے۔
وَكَذَا فِي طَلَاقِ الْمُكْرَهِ
مسئلہ (٥) حیوان کے سلسلے میں بیع سلم ہمارے نزدیک درست نہیں اس لیے کہ حیوانات میں تفاوت ہوتا ہے بیع سلم کا مطلب ہے کہ انسان پیسے تو آج ہی وصول کرتا ہے لیکن پھل وغیرہ بعد میں جب موسم میں پھل آئے گا تو تب پھل دے گا لیکن پیسہ وہ آج ہی وصول کرتا ہے بیع سلم درختوں میں تو جائز ہے لیکن حیوانات میں جائز نہیں کیونکہ حیوانات میں تفاوت ہوتا ہے اور شافعی حضرات کے نزدیک بیع السلم فی الحیوان درست ہے اب اگر کسی شافعی قاضی نے حیوان کے سلسلے میں بیع سلم کی صحت کا فیصلہ کیا پھر یہ فیصلہ حنفی قاضی کے پاس آیا تو حنفی قاضی کو چاہیے کہ قاضی شافعی کے فیصلے کو نافذ کرے برقرار رکھے۔
وَالسَّلَمِ فِي الْحَيَوَانِ.
مسئلہ (٦) اللہ پاک نے تو مرد کو طلاق کا مالک بنایا ہے اس لیے اگر عورت مرد میں کوئی عیب پاتی ہے تو چونکہ عورت طلاق کی مالک نہیں اس لیے شریعت نے عورت کو حق دیا ہے کہ وہ قاضی کے پاس معاملہ دائر کرائے اور فسخ نکاح کا مطالبہ کرے لیکن اگر عورت کے اندر کوئی عیب ہو عورت میں کوئی کمی ہو تو عورت میں عیب کی وجہ سے شوہر کے مطالبہ فسخ نکاح کی بنا پر قاضی فسخ نکاح نہیں کر سکتا ہے اور نہ ہی شوہر قاضی کے یہاں معاملہ دائر کر سکتا ہے اس لیے کہ اللہ پاک نے شوہر کو طلاق کا حق دیا ہے شوہر طلاق دے کے عورت کو آزاد کر سکتا ہے تو قاضی کے پاس فسخ نکاح کا مطالبہ کرنے کا کیا معنی ہے؟ اب اگر کسی عورت میں کوئی عیب تھا پھر یہ فیصلہ شافعی قاضی کے پاس گیا اور اس نے نکاح کو رد کیا نکاح کو فسق کیا۔ کیونکہ ان کے یہاں جائز ہے کہ عورت میں کوئی عیب ہو اور شوہر مطالبہ فسخ نکاح کرے تو نکاح فسخ کیا جا سکتا ہے پھر یہ فیصلہ حنفی قاضی کے پاس آیا تو حنفی قاضی شافعی قاضی کے فیصلے کو نہیں توڑ سکتا اس کو برقرار رکھنا ہوگا، مسئلہ کے مجتہد فیہ ہونے کی بنا پر۔
وَرَدِّ الْمَنْكُوحَةِ بِالْعَيْبِ.
مسئلہ نمبر (٧) حضرت امام مالک رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے نزدیک اگر کسی شخص کے پاس ایک ہی گواہ ہو تو اس شخص سے دوسرے گواہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے اس سے قسم لی جا سکتی ہے ہمارے نزدیک گواہ کا مکمل نصاب دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں ہیں اب اگر کسی مالکی قاضی نے کسی شخص کے حق میں فیصلہ کیا ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ پھر یہی مسئلہ حنفی قاضی کے پاس آیا تو حنفی قاضی مالکی قاضی کے فیصلے کو نہیں توڑ سکتا بلکہ اسے باقی رکھنا ہوگا۔
أَوْ قَضَى بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ بِالْقَضَاءِ.
مسئلہ نمبر (٨) اگر کسی مالکی قاضی نے تنہا عورتوں کی گواہی قبول کی ایسے معاملے میں جس میں مرد حضرات مطلع نہیں ہو سکتے تو پھر یہ فیصلہ کسی حنفی قاضی کے پاس آیا تو حنفی قاضی اس فیصلے کو توڑ نہیں سکتا بلکہ پہلے قاضی کے فیصلے کو برقرار رکھنا ہوگا۔
بِشَهَادَةِ النِّسَاءِ وَحْدَهُنَّ فِيمَا لَا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرِّجَالُ.
مسئلہ نمبر (٩) اگر کسی قاضی نے کسی معاملے میں ذمی کی گواہی کو مسلمان کے خلاف قبول کیا پھر یہ فیصلہ حنفی قاضی کے پاس آیا تو حنفی قاضی اس فیصلے کو نہیں توڑ سکتا بلکہ قاضی اول کے فیصلے کو برقرار رکھنا ہوگا۔
وَشَهَادَةِ أَهْلِ الذِّمَّةِ عَلَى أَهْلِ الْإِسْلَامِ.
مسئلہ نمبر (١٠) قتل بالقسامت بخاری شریف میں اس مسئلے کی تفصیل موجود ہے اور یہ مسئلہ بخاری شریف کے ان مسائل میں سے ہے جنہیں بہت زیادہ یاد کیا جاتا ہے، تاکہ اگر امتحان میں آئے تو اسے بہتر انداز میں لکھا جا سکے مثلا ایک شخص قتل ہوا اور اس کے قاتل کا کوئی پتہ نہیں ہے اسے کہیں مقتول پایا گیا پھر مقتول کے وارثین نے کسی گاؤں پر دعوی کیا کہ ہمیں اس گاؤں کے سلسلے میں شک ہے تو اس گاؤں کے ٥٠ لوگوں سے قسم لی جاتی ہے اگر وہ قسم کھاتے ہیں تو ٹھیک بری ہو جائیں گے نہیں تو پھر مقتول کے وارثین سے ٥٠ قسمیں لی جاتی ہیں لیکن یہاں مسئلے کی نوعیت یہ ہے کہ ایک شخص مقتول پایا گیا مقتول کے وارثین و اولیاء نے دعوی کیا کہ ہمیں فلاں گاؤں کے دو شخصوں پر شک ہے پورے گاؤں پر شک نہیں ہے صرف دو شخصوں پر شک ہے قاضی نے مقتول کے اولیاء، مقتول کے وارثین سے ٥٠ قسمیں لی یا اگر ٥٠ بندے نہ تھے کم تھے تو ان سے ٥٠ قسمیں ڈبل کھلوا کر یعنی اس نصاب کو پورا کیا ٥٠ قسمیں لے کر ان دو شخصوں کو جن کے بارے میں شک تھا انہیں قتل کر دیا مصنف فرماتے ہیں بلکہ فقیہ ابو لیث سمرقندی فرماتے ہیں خزانۃ المفتی میں کہ اگر یہ فیصلہ حنفی قاضی کے پاس آتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ قاضی کے فیصلے کو برقرار رکھے اسے توڑنا جائز نہیں۔
وَالْقَتْلِ بِالْقَسَامَةِ.
مسئلہ نمبر (١١) اسی طرح کسی مرد نے کسی عورت سے متعہ کیا، متعہ کیا کہ فلاں مدت کے لیے فلاں پیسے کے بدلے میں آپ سے فائدہ اٹھانا چاہتا ہوں کہ یہ پہلے کبھی جائز تھا پھر غزوہ خیبر میں یا فتح مکہ میں جیسا کہ اس میں چار اقوال ہیں، بہرحال متعہ اس کے بعد حرام ہوا اور تا قیامت کے لیے حرام ہے اب اگر کسی شخص نے آج متعہ کیا پھر اس متعے کے سلسلے میں کسی قاضی نے صحت کا فیصلہ سنایا پھر یہی فیصلہ حنفی قاضی کے پاس آیا تو حنفی قاضی اس فیصلے کو توڑ نہیں سکتا بلکہ قاضی کو پہلے قاضی کے فیصلے کو برقرار رکھنا ہوگا۔
وَمُتْعَةِ النِّسَاءِ بِمَا ذَكَرْنَا.
اب یہ اخر کے جو تین مسئلے آئے، ان کے سلسلے میں مصنف رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ امام خصاف کی ادب القاضی کی شرح میں ظہیر الدین علامہ حسن بن سلیمان الخجندی فرماتے ہیں کہ یہ قاضی کا فیصلہ ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ، اسی طرح قتل بالقسامت کی صحت کا فیصلہ، ان دو مسائل میں اگر حنفی قاضی کے پاس قاضی اول کا فیصلہ آتا ہے تو حنفی قاضی اسے برقرار نہیں رکھے گا بلکہ توڑے گا اس لیے کہ یہ جگہیں قران و سنت اور اجماع کے صریح مخالف ہیں ان میں قضائے قاضی یعنی پہلے قاضی کے فیصلے کو مجتہد فیہ مسئلہ نہیں مانا جا سکتا بلکہ یہ تو صریح قران و سنت کے خلاف اور اجماع کے خلاف ہے اس لیے ان دونوں فیصلوں میں قاضی ثانی حنفی قاضی قاضی اول کے فیصلے کو توڑ دے گا اس لیے کہ ایک یمین اور ایک گواہ کے ساتھ فیصلہ کرنا یہ صریح قران اور سنت کے خلاف ہے کیونکہ قران میں ہے کہ دو مرد یا ایک عورت اور دو مرد یہ قران میں گواہوں کا نصاب جو بیان کیا گیا ہے وہ اس کے بالکل برخلاف ہے اس لیے قاضی اس فیصلے کو برقرار نہیں رکھ سکتا اسی طرح قتل بالقسامت کا مسئلہ یہ اجماع کے خلاف ہے یہ مجتہد فیہ مسئلہ نہیں ہے مجتہد فیہ مسئلہ وہ ہے جس میں صحابہ کے دور میں اختلاف رہا ہو اور اس کا صحابہ کے درمیان کوئی حل نہ ہوا ہو جس مسئلے میں صحابہ میں اختلاف رہا اور مسئلہ حل نہ ہوا وہ مسئلے مجتہد فیہ سمجھا جائے گا اور قضاء قتل بالقسامت کا مسئلہ صحابہ کے درمیان مختلف فیہ نہیں رہا تھا بلکہ اس پر اتفاق تھا اس لیے یہ بعد میں مختلف فیہ ہوا ہے اس لیے یہ مجتہد فیہ مسئلہ نہیں ہے بلکہ اجماع کے خلاف ہے اس لیے قاضی اول کے فیصلے کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا ہے
وَذَكَرَ ظَهِيرُ السُّنَّةِ وَالدِّينِ الْحَسَنُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْخُجَنْدِيُّ فِي شَرْحِ أَدَبِ الْقَاضِي لِلْخَصَّافِ: إذَا رُفِعَ الْقَضَاءُ بِشَاهِدٍ وَيَمِينٍ وَالْقَتْلُ بِالْقَسَامَةِ إلَى قَاضٍ آخَرَ لَا يُنَفِّذُهُ، وَخِلَافُ الشَّافِعِيِّ وَمَالِكٍ لَا يُعْتَبَرُ، لِمُخَالَفَةِ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ فِي الشَّاهِدِ وَالْيَمِينِ، وَلِمُخَالَفَةِ الْإِجْمَاعِ فِي صُورَةِ الْقَسَامَةِ، فَإِنَّ قَوْلَ مَالِكٍ لَمْ يَكُنْ مَوْجُودًا فِي الصَّحَابَةِ.
خزانۃ المفتی میں ابو لیث سمرقندی نے جو فرمایا کہ متعۃ النساء اگر کسی نے نکاح متعہ کیا ہے تو اس طور پر کہ کسی عورت سے کہا میں آپ سے ایک مہینہ فلاں رقم کے بدلے میں فائدہ اٹھانے چاہتا ہوں چنانچہ قاضی ثانی قاضی اول کے اس فیصلے کو بھی برقرار نہیں رکھ سکتا اس لیے کہ اس کے بارے میں جو صحت کی بات بعض صحابہ کی طرف منسوب کی جاتی ہے یا امام مالک کی طرف بات منسوب کی جاتی ہے یہ صریح غلطی ہے حضرت ابن عباس پہلے اس کے قائل تھے لیکن حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کے بتلانے پر حضرت ابن عباس نے رجوع کیا ہے اپنے قول سے اس لیے متعہ کا کوئی صحابی بعد میں قائل نہیں تھا متعہ صحابہ کے درمیان متفق مسئلہ رہا ہے کہ متعہ حرام ہو چکا ہے اسلام میں، اس لیے اس فیصلے کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا۔
وَأَمَّا الْقَضَاءُ بِجَوَازِ مُتْعَةِ النِّسَاءِ: فَإِنْ قَالَ: أَتَمَتَّعُ بِك شَهْرًا بِكَذَا فَإِنَّ الْقَاضِيَ يُبْطِلُهُ، فَإِنَّ الصَّحَابَةَ أَجْمَعَتْ عَلَى بُطْلَانِهَا، وَرَجَعَ ابْنُ عَبَّاسٍ عَنْهُ.
ہاں اگر کسی نے کسی عورت سے تزوجتک کذا شہراً کذا مدۃ کہا تمتع کا لفظ ذکر نہیں کیا بلکہ تزویج کا لفظ ذکر کیا تو مصنف رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ امام ظفر کے نزدیک شہر کے معنی ختم ہو جائیں گے یعنی وہ فائدہ نہ دے گا بلکہ تاقیت باطل ہو جائے گی اور نکاح صحیح ہو جائے گا اس لیے کہ یہ مجتہد فیہ مسئلہ بن جائے گا اس طرح کہنے سے قاضی اول کے فیصلے کو برقرار رکھا جا سکتا ہے۔
وَإِنْ قَالَ تَزَوَّجْتُك شَهْرًا، فَعِنْدَ زُفَرَ يَلْغُو التَّأْقِيتُ وَيَجُوزُ النِّكَاحَ، فَكَانَ مُجْتَهِدًا فِيهِ، فَإِذَا قَضَى بِهِ نَفَذَ.
فصل
اس سے پہلے مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بتایا کہ اگر معاملہ مجتہد فیہ ہو اور پھر شافعی قاضی یا حنفی قاضی یا مالکی قاضی یا حنبلی قاضی نے فیصلہ کیا اس کے بعد وہ معاملہ حنفی قاضی کے پاس آئے تو حنفی قاضی اس معاملے کو توڑ نہیں سکتا کیونکہ من حیث الاجتہاد ان کا فیصلہ بھی وہی حیثیت رکھتا ہے ہمارا فیصلہ بھی وہی حیثیت رکھتا ہے اور ایک اجتہاد دوسرے اجتہاد کے لیے ناقض نہیں ہوتا اس لیے اس فیصلے کو قاضی نہیں توڑ سکتا ہے لیکن اب اس فصل میں مصنف رحمتہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں کہ اگر نفس قضاء بھی مجتہد فیہ ہو، پہلا معاملہ مجتہد فیہ تو تھا ہی لیکن جب اس پر کسی قاضی کا فیصلہ آتا تھا تو وہ مجتہد فیہ فیصلہ اب پختہ ہو جاتا تھا اس لیے دوسرا حنفی قاضی اسے توڑ نہیں سکتا تھا لیکن اگر نفس قضاء ہی مجتہد فیہ ہو پھر اگر کوئی قاضی فیصلہ کرتا ہے تو چونکہ وہ نفس قضاء بھی مجتہد فیہ ہے اس لیے وہ معاملہ پختہ نہیں ہوا قضاء کی وجہ سے کیونکہ قضاء بھی مجتہد فیہ ہے اب اگر یہ فیصلہ حنفی قاضی کے پاس آتا ہے تو حنفی قاضی اس فیصلے کو توڑ سکتا ہے کیونکہ یہ فیصلہ پختہ نہیں ہوا یہ تو مسئلہ بھی مجتہد فیہ ہی تھا اور پھر قاضی نے جو فیصلہ کیا وہ قاضی کا فیصلہ بھی مجتہد فیہ ہے اس لیے پختہ نہیں ہوا مثلا ایک شخص ہے اس نے کوئی غلطی کی ہے اور اب اس نے مقدمہ دائر کیا عدالت میں قاضی نے اس سے گواہ طلب کیے تو اس کے پاس ایک ہی گواہ تھا اس نے ایک گواہ پیش کیا اور دوسرے گواہ کے بدلے میں قسم کھانے پر راضی ہوا اب یہ مسئلہ چونکہ شافعی قاضی کے پاس تھا بلکہ مالکی قاضی کے پاس تھا ان کے ہاں چونکہ قضا بشاہد و یمین ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کرنا جائز ہے اور ہمارے یہاں یہ فیصلہ مجتہد فیہ نہیں ہے بلکہ سرے سے صحیح نہیں ہے، ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ فیصلہ کرنا اب مان لیجیے مالک قاضی نے فیصلہ کر دیا اور ایک گواہ اور ایک قسم کے ساتھ مدعی کے حق میں فیصلہ کر دیا پھر ایک قاضی حنفی کے پاس یہی فیصلہ آیا تو قاضی حنفی اس کو توڑ سکتا ہے اس لیے کہ چونکہ ایک گواہ اور ایک یمین کے ساتھ فیصلہ کرنا یہ والا نفس قضاء ہماری یہاں مجتہد فیہ ہے ہمارے یہاں اتفاق ہے اس کے بطلان پر اس کے صحیح نہ ہونے پر اور جب ہمارے ہاں اتفاق ہے یہ صحیح نہیں ہے اور مالکیہ کے نزدیک اتفاق ہے کہ یہ صحیح ہے تو یہ نفس قضاء ہی مجتہد فیہ ہو گیا یعنی ایک رائے وہاں گئی عدم صحت کی طرف،ایک رائے یہاں گئ صحت کی طرف،ہم لوگ اس کے بطلان پر متفق ہے اور مالک اس کی صحت پر متفق ہے اب چونکہ نفس قضاء ہی مجتہد فیہ ہے تو اب اگر مالکی قاضی اس مسئلے میں فیصلہ کرتے ہیں پھر وہ مسئلہ قاضی حنفی کے پاس فیصلہ آتا ہے وہ اس فیصلے کو توڑ سکتا ہے کیونکہ یہ معاملہ مالکی قاضی کے فیصلے سے پختہ نہیں ہوا ہاں اگر کوئی قاضی مالکی ایسا فیصلہ کرے جس میں نفس قضاء تو مجتہد فیہ تھا پھر دوسرے قاضی نے بھی وہی فیصلہ کیا اب یہ معاملہ چوں کہ دو قاضیوں کے فیصلے کے ساتھ پختہ ہو جائے گا اگرچہ نفس قضاء مجتہد فیہ تھا لیکن دو قاضیوں کے فیصلہ سے معاملہ پختہ ہو جائے گا یعنی جب دو قاضی اس میں ایک ہی فیصلہ کریں تو اب تیسرا قاضی اس کو نہیں توڑ سکتا ہے کیونکہ اب یہ دو قاضیوں کا فیصلہ ہے، اسی کو مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے بتایا کہ اگر کوئی قضاء مجتہد فیہ ہو بعض کے نزدیک اور بعض کے نزدیک مجتہد فیہ ہی نہ ہو تو پھر اس کا نفاذ ایک دوسرے قاضی پر موقوف رہے گا اگر دوسرا قاضی بھی وہی فیصلہ سناتا ہے تو پھر یہ معاملہ دو مجتہد فیہ قضاء سے پختہ ہو جائے گا فرماتے ہیں کہ جب کسی قضاء کے بطلان پر بعض قوم متفق ہو تو معاملہ مجتہد فیہ رہا ہی نہیں، مجتہد فیہ تو تب ہوتا جب تمام کے نزدیک وہ معاملہ صحیح ہوتا ہاں اگر ایک کے نزدیک ایک رائے ہوتی دوسرے کے نزدیک دوسری رائے ہوتی اور دونوں موقفوں کے پیچھے دلائل ہوتے تو معاملہ الگ ہوتا لیکن جب بعض کے نزدیک وہ معاملہ ہی درست نہیں مثلا یہی لیجیے کہ ایک گواہ اور ایک یمین کے ساتھ فیصلہ کرنا لیجئے اس میں تو حنفیہ کے نزدیک بالکل سرے سے فیصلہ ہی درست نہیں ہے اس لیے یہ معاملہ ہمارے ہاں مجتہد فیہ ہے ہی نہیں اگرچہ مالکیہ کے نزدیک مجتہد فیہ ہے لیکن ہمارے یہاں تو بالکل غلط ہے سرے سے ہی غلط ہے، اسی کو مصنف رحمۃ اللہ تعالی علیہ نے فرمایا کہ اگر کسی قضاء کے بطلان پر ایک قوم متفق ہو تو وہ معاملہ مجتہد فیہ ہے ہی نہیں جب وہ سے قضاء مجتہد فیہ ہے نہیں تو نفس قضاء مختلف ہی رہا، اب اس قضاء کا نفاذ دوسرے قاضی کے قضاء پر موقف رہے گا اگر دوسرا قاضی بھی یہی فیصلہ کرتا ہے تو اب پہلے قاضی کا فیصلہ پختہ ہو جائے گا اور نافذ ہو جائے گا اب تیسرا قاضی اس فیصلے کو نہیں توڑ سکتا اور اگر ایک ہی قاضی کا فیصلہ ہو اور معاملہ مجتہد فیہ اور نفس قضاء مختلف فیہ ہو تو دوسرا قاضی اس فیصلے کو رد کر سکتا، اس فیصلے کے خلاف دوسرا فیصلہ کرسکتا ہے۔
[فَصْلٌ كَانَ الْقَضَاءُ مُجْتَهَدًا فِيهِ عِنْدَ الْبَعْضِ وَعِنْدَ الْبَعْضِ لَا]
(فَصْلٌ) :
وَإِنْ كَانَ الْقَضَاءُ مُجْتَهَدًا فِيهِ عِنْدَ الْبَعْضِ وَغَيْرَ مُجْتَهَدٍ فِيهِ عِنْدَ الْبَعْضِ يَتَوَقَّفُ نَفَاذُهُ عَلَى اتِّصَالِ قَضَاءِ قَاضٍ آخَرَ بِهِ؛ لِأَنَّ قَضَاءَهُ إذَا كَانَ مُجْمَعًا عَلَى بُطْلَانِهِ عِنْدَ بَعْضِ الْفُقَهَاءِ لَمْ يَكُنْ مُجْتَهَدًا فِيهِ مُطْلَقًا فَبَقِيَ نَفْسُ الْقَضَاءِ مُخْتَلَفًا فِيهِ، فَيَتَوَقَّفُ نَفَاذُهُ عَلَى قَضَاءٍ آخَرَ بِهِ
No comments:
Post a Comment