[فَصْلٌ قِيَام الْمَحْكُومِ عَلَيْهِ بِطَلَبِ فَسْخِ الْحُكْمِ عَنْهُ]
(فَصْلٌ) :
فِي قِيَامِ الْمَحْكُومِ عَلَيْهِ بِطَلَبِ فَسْخِ الْحُكْمِ عَنْهُ
وَهُوَ عَلَى وُجُوهٍ:.
نمبر (١) اگر محکوم علیہ، عادل اور عالم قاضی کے خلاف دعوی کرے تو پھر اس کا دعوی ہی نہیں سنا جائے گا اس لیے کہ قاضی اپنے قضاء کے سلسلے میں امین ہوتا ہے اس کا ہر فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے اگر امام عادل اور عالم ہو۔
الْأَوَّلُ: إنْ كَانَ قِيَامُهُ عَلَى الْقَاضِي الْعَالِمِ الْعَدْلِ لَمْ تُسْمَعْ دَعْوَاهُ.
نمبر (٢ ) اگر قاضی ان لوگوں میں سے ہو جن کی جہالت مخفی یعنی مجہول الحال ہو یا ظلم و زیادتی کی طرف منسوب کیا جاتا ہو یا مدعی قاضی کو جہل سے منسوب کرے،پھر اس کا حکم ما قبل میں گزر چکا یعنی اس کے فیصلوں میں غور و فکر کیا جائے گا جہاں اس کا ظلم و جور ثابت ہو جائے تو وہاں اس کے حکم کو توڑ دیا جائے گا اور جہاں اس کا حکم درست پایا جائے وہاں اس کے حکم کو نافذ کیا جائے گا۔
الثَّانِي: إنْ كَانَ لِمَا اتَّصَفَ بِهِ الْقَاضِي مِنْ جَهْلٍ أَوْ جَوْرٍ أَوْ نِسْبَةِ الْمُدَّعِي إلَيْهِ فَقَدْ تَقَدَّمَ حُكْمُهُ.
نمبر (٣) اگر محکوم علیہ دعوی کرے قاضی اور اپنے درمیان دشمنی کا یا اپنے اور قاضی کے بیٹے کے درمیان دشمنی کا یا اسی طرح اپنے اور قاضی کے والدین کے درمیان دشمنی کا اور یہ کہے کہ میری قاضی یا اس کے بیٹے یا اس کے والدین سے دشمنی ہے اور قاضی صاحب نے اس کا بدلہ لینے کے لیے میرے خلاف فیصلہ کیا ہے یا اپنے بیٹے کا بدلہ لینے کے لیے میرے خلاف فیصلہ کیا ہے یہ اپنے والدین کا بدلہ لینے کے لیے میرے خلاف فیصلہ کیا ہے تو پھر یہاں بھی ضروری ہے کہ اس وقت قاضی کے حکم کو فسخ کیا جائے گا یہاں پہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ قاضی کے حکم کو عداوت کی وجہ سے فسخ کیا جائے گا یعنی عداوت کی وجہ سے جو قاضی کے اندر فسق آیا ہے اس فسق کی وجہ سے حکم نافذ نہیں کیا جائے گا بلکہ توڑ دیا جائے گا بعض حضرت فرماتے ہیں کہ قاضی کے حکم کو اس لیے فسخ کیا جائے گا کیونکہ قاضی اور اس فریق کے درمیان چوں کہ دشمنی ہے تو وہ اسے متہم کر سکتا ہے کہ اس نے دشمنی کا بدلہ لیا ہے اور جو حضرت فرماتے ہیں کہ عداوت کی وجہ سے قاضی میں فسق آ گیا ہے اس وجہ سے حکم نافذ نہیں کیا جائے گا اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس کے بعد قاضی کے اندر چونکہ عداوت کی وجہ سے فسق آ گیا ہے اس لیے اب قاضی کا کوئی بھی فیصلہ اس کے بعد نافذ نہیں ہوگا چاہے کسی اور سے متعلق ہو لیکن جو حضرت فرماتے ہیں نہیں قاضی کے اندر عداوت کی وجہ سے فسق جو آیا ہے اس کی وجہ سے حکم نہیں توڑا جائے گا بلکہ چونکہ ان کے درمیان عداوت ہے اور یہ فریق اسے متہم کر سکتا ہے اس لیے حکم کو توڑ دیا جائے گا چنانچہ اس رائے کے مطابق قاضی کا فیصلہ صرف اس معاملے میں نافذ نہیں کیا جائے گا باقی معاملات میں قاضی کا حکم نافذ کیا جائے گا۔
الثَّالِثُ: إنْ كَانَ قِيَامُهُ لِعَدَاوَةٍ بَيْنَهُ وَبَيْنَهُ أَوْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ ابْنِهِ أَوْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْأَبَوَيْنِ وَجَبَ الْفَسْخُ.
نمبر (٤) اگر محکوم علیہ نے اپنے دعوی پر بینہ پیش کیا بعد اس کے کہ مدعی علیہ سے قسم لی گئی یعنی جس وقت مدعی علیہ سے قسم لی جا رہی تھی اس وقت تو مدعی نے گواہ پیش نہیں کیے دوسرے فریق سے قسم لینے کے بعد اب وہ اپنے دعوی پر گواہ پیش کر رہا ہے تو اس سلسلے میں اختلاف ہے حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ اس کے بینہ کو قبول کیا جائے گا اور جو حکم پہلے اس کے خلاف کیا گیا تھا اسے اب توڑ دیا جائے گا اور اس کے بینہ کی وجہ سے جو حکم اب ثابت ہو رہا ہے اس کے مطابق حکم دیا جائے گا جبکہ حضرت امام محمد اور حضرت ابن ابی لیلیٰ کی رائے ہے کہ اس کا دعوی اب استحلاف مدعا علیہ کے بعد قبول نہیں کیا جائےگا، امام عبداللہ قاسم بن حسن رحمۃ اللہ تعالی علیہ کی کتاب نتف الفتاوی میں اسی طرح مسئلہ ذکر کیا ہوا ہے۔
الرَّابِعُ: أَنْ يَأْتِيَ الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ بِبَيِّنَةٍ بَعْدَ اسْتِحْلَافِ خَصْمِهِ فَتَقُومُ الْبَيِّنَةُ عَلَى اسْتِحْقَاقِ دَعْوَى الْمُدَّعِي فَفِيهَا خِلَافٌ، فَفِي قَوْلِ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَصْحَابِهِ تُقْبَلُ وَيُنْقَضُ مَا حَكَمَ بِهِ أَوَّلًا، وَفِي قَوْلِ مُحَمَّدٍ وَابْنِ أَبِي لَيْلَى لَا تُقْبَلُ الْبَيِّنَةُ مِنْ كِتَابِ النُّتَفِ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْقَاسِمِ بْنِ الْحَسَنِ.
نمبر (٥) اسی طرح اگر قاضی کو منسوب کیا جائے گواہوں کی حالت کی تحقیق میں کمی کرنے کے ساتھ اور ایسا بینہ پیش کر دیا جو ان لوگوں کی گواہی کے سقوط کو واجب کرتا ہے جنہوں نے اس کے خلاف گواہی دی ہے یعنی جس وقت قاضی کے سامنے گواہ پیش کیے گئے تو قاضی نے گواہوں کی حالت کے متعلق بھرپور چھان بین نہیں کی اور نہ ان کے احوال سے واقف ہوئے، بغیر احوال سے واقف ہوئے قاضی نے فیصلہ کیا پس اگر محکوم علیہ نے یہ ثابت کر دیا کہ ہم پہلے آپ کے سامنے گواہوں سے متعلق جرح کر چکے ہیں لیکن آپ نے تب نہیں مانا تو پھر قاضی کے حکم کو فسق کے ساتھ ملا کر اس کے حکم کو توڑ دیا جائے گا اسی طرح حکم ہوگا جب محکوم علیہ اپنے اور گواہوں کے درمیان دشمنی ثابت کر دے یعنی قاضی سے کہے کہ گواہ تو میری دشمن ہے وہ تو میرے خلاف گواہی دیں گے اور پھر ثابت بھی ہو گیا، کہ سچ میں ان کے درمیان کوئی کشمکش ہے وہ اس کے دشمن ہیں تو ان کی گواہی اس کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی اسی طرح اگر محکوم علیہ نے یہ ثابت کر دیا کہ گواہ جو تھا وہ ضمی تھا یا وہ غلام تھا تو چونکہ گواہی ناقص ہے اس لیے فیصلے کو توڑ دیا جائے گا اور جس کے لیے مال کا فیصلہ کیا گیا ہے اس پر لازم ہے کہ وہ مال کو لوٹا دے،اب وہ مال کا مالک نہیں رہا، ہاں اگر مقضی لہ بالمال جس کے لیے فیصلہ کیا گیا تھا، جس کے حق میں پہلے قاضی نے فیصلہ کیا تھا یعنی جو مدعی تھا اگر وہ دوبارہ دوسرے گواہ اور صحیح گواہ پیش کر دے تو پھر فیصلہ واپس اس کے حق میں آ جائے گا پھر اس کا فیصلہ برقرار رکھا جائے گا۔
الْخَامِسُ: أَنْ يُنْسَبَ الْقَاضِي إلَى التَّقْصِيرِ فِي الْكَشْفِ عَنْ الشُّهُودِ وَيَأْتِيَ بِمَا يُوجِبُ سُقُوطَ شَهَادَةِ مَنْ شَهِدَ عَلَيْهِ فَإِنْ أَثْبَتَ تَقَدُّمَ جَرْحِهِ تَدْخُلُ تَحْتَ الْحُكْمِ بِفِسْقٍ نُقِضَ، وَكَذَا إنْ أَثْبَتَ عَدَاوَةً تَدْخُلُ تَحْتَ الْحُكْمِ فِي رِوَايَةٍ، وَإِنْ أَثْبَتَ أَنَّ أَحَدَ الشَّاهِدَيْنِ عَبْدٌ أَوْ ذِمِّيٌّ اُنْتُقِضَ وَلَزِمَ الْمَقْضِيَّ لَهُ بِالْمَالِ رَدُّهُ إلَّا أَنْ يَأْتِيَ بِشَاهِدٍ آخَرَ.
نمبر (٦)محکوم علیہ قاضی کے سامنے انکار کرے کہ میں نے تو آپ کے سامنے عرضی دعوی پیش نہیں کی یا میں آپ کے سامنے جھگڑا لے کر آیا ہی نہیں اور آپ نے میرے خلاف فیصلہ سنا دیا ہے لیکن اگر قاضی نے حجت پیش کر دی کہ آپ میرے سامنے جھگڑا لے کر آئے اور میں نے آپ کو مہلت بھی دی اور اس مہلت کی مدت میں آپ نے کوئی گواہ پیش نہیں کیا نہ آپ اپنا معاملہ ثابت کر سکے اس لیے میں نے آپ کے خلاف فیصلہ کیا ہے تو پھر اس جھگڑے میں قاضی کی بات کو مانا جائے گا کیونکہ قاضی اگر اپنے عہدے قضاء پر برقرار رہے تو وہ امین ہے اس لیے اس کی بات اعتبار کیا جائے گا اور اس فیصلے کو برقرار رکھا جائے گا فیصلہ نہیں توڑا جائے گا اور محکوم علیہ کی بات کا پھر اعتبار نہیں کیا جائے گا۔
السَّادِسُ: أَنْ يُنْكِرَ الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ الْخِصَامَ عِنْدَ الْقَاضِي.
وَقَالَ الْقَاضِي: كُنْتَ خَاصَمْت عِنْدِي وَأَعْذَرْت إلَيْك فَلَمْ تَأْتِ بِحُجَّةٍ وَحَكَمْتُ عَلَيْك، فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْقَاضِي إنْ كَانَ بَاقِيًا عَلَى وِلَايَتِهِ لَمْ يَنْعَزِلْ.
نمبر (٧) اسی طرح جب گواہ مکر جائیں اور انکار کریں کہ ہم نے تو قاضی کے پاس گواہی نہیں دی اور قاضی صاحب کہہ رہے ہوں آپ لوگوں نے تو ہمارے سامنے گواہی دی ہے تو بھی قاضی کی بات معتبر ہے اگرچہ محکوم علیہ بھی قاضی کے ساتھ جھگڑا کرے اور اس کے فیصلے کو لعن طعن کا نشانہ بنائے کہ میرے خلاف جنہوں نے گواہی دی آپ نے تو ان کا نام ہی ذکر نہیں کیا تو بھی قاضی کے فیصلے پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا کیونکہ قاضی مختار ہے اس پر ضروری نہیں کہ وہ جن گواہیوں کی گواہی قبول کرتا ہے رجسٹر میں ان کے نام اور ان کے پتے اور ان کے نسب، حسب کو لکھے بس قاضی پر یہ ضروری ہے کہ میرے پاس عادل گواہوں نے گواہی دی اور میں نے عادل گواہوں کی گواہی قبول کی اتنا قاضی پر ضروری ہے اس لیے یہاں پر محکوم علیہ کا دعوی یا گواہوں کا مکر جانا اس سے قاضی کے فیصلے میں کوئی فرق نہیں پڑے گا جب قاضی اپنے عہدۂ قضاء پر برقرار ہو اور وہ کہہ رہا ہو کہ گواہوں نے میرے سامنے گواہی دی اور میں نے عادل گواہوں کی گواہی قبول کی ہے اس معاملے میں، یہ مسئلہ محیط برہانی میں موجود ہے، کتاب القاضی الی القاضی کے باب میں۔
السَّابِعُ: أَنْ تُنْكِرَ الْبَيِّنَةُ أَنْ تَكُونَ شَهِدَتْ عِنْدَ الْقَاضِي وَادَّعَى الْقَاضِي أَنَّهُمْ شَهِدُوا عِنْدَهُ، وَلَوْ نَازَعَهُ الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَطَعَنَ فِي حُكْمِهِ بِأَنَّهُ لَمْ يُسَمِّ فِي حُكْمِهِ مَنْ شَهِدَ عَلَيْهِ فَهَذَا لَيْسَ بِشَيْءٍ؛ لِأَنَّ الْقَاضِيَ مُخَيَّرٌ إنْ شَاءَ أَظْهَرَ فِي السِّجِلِّ أَسْمَاءَ الشُّهُودِ وَأَنْسَابَهُمْ، وَإِنْ شَاءَ اكْتَفَى بِقَوْلِهِ حَكَمْتُ بَعْدَ مَا شَهِدَ عِنْدِي شُهُودٌ عُدُولٌ فَقَبِلْتهمْ " اُنْظُرْ الْمُحِيطَ " فِي بَابِ كِتَابِ الْقَاضِي إلَى الْقَاضِي.
نمبر (٨) اگر محکوم علیہ کہے قاضی صاحب! ہم سے تھوڑی بہت چوک ہو گئی ہم بھول گئے ہم گواہ پیش نہ کر سکے اور آپ نے ہمارے خلاف فیصلہ کر دیا ہم سے تو غفلت ہو گئی تھی تو محکوم علیہ کا یہ دعوی نہیں سنا جائے گا نہ قبول کیا جائے گا قاضی کا حکم اپنے حال پر برقرار رہے گا کیونکہ غفلت یہ تو بہانہ ہے اور اس کا کوئی علاج نہیں۔ ع
رفتم کی خار ازبہ کشم محمل از چشم دور شد
یک لحظہ غافل گشتم صد سالہ راہم دور شد
الثَّامِنُ: أَنْ يَقُولَ الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ: كُنْتُ أَغْفَلْت حُجَّةَ كَذَا لَمْ يُقْبَلْ مِنْهُ وَلَمْ يُنْقَضِ الْحُكْمُ.
نمبر (٩) جب محکوم علیہ دعوی کرے کہ قاضی صاحب نے اس پر فیصلہ کیا ہے اس معاملے کے سلسلے میں جس میں کوئی نص نہیں، کوئی دلیل نہیں تو یہاں قاضی کے حکم کو دیکھا جائے گا اگر قاضی کا حکم اس معاملے سے متعلق ہو جو غیر منصوص مسکوت عنہ ہو لیکن قاضی کا حکم شرعی قواعد کے خلاف ہو تو پھر قاضی کا حکم توڑ دیا جائے گا، اگر قاضی نے اس معاملے میں فیصلہ کیا ہے جس میں کوئی نص نہیں یعنی غیر منصوص مسئلے میں اور اپنے اجتہاد سے کیا ہےمگر قاضی کا اجتہاد کسی قواعد شرعیہ کے خلاف نہ ہو بلکہ شرعی قواعد کے عین مطابق ہو تو پھر محکوم علیہ کا دعوی نہیں سنا جائے گا قاضی کا فیصلہ بالکل درست ہے اور وہ برقرار رہے گا اس لیے کہ قاضی کو اختیار ہے کہ جب وہ قران پاک حدیث پاک میں حکم نہ پائے تو اپنے اجتہاد سے فیصلہ کرے۔
التَّاسِعُ: إذَا قَامَ الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَادَّعَى أَنَّ الْقَاضِيَ حَكَمَ عَلَيْهِ بِمَا لَا نَصَّ فِيهِ فَالْحُكْمُ فِي ذَلِكَ أَنَّ الْقَاضِيَ إذَا حَكَمَ فِي الْمَسْكُوتِ عَنْهَا بِمَا هُوَ خِلَافُ الْقَوَاعِدِ نُقِضَ، وَإِنْ حَكَمَ فِيهَا بِمَا هِيَ قَابِلَةٌ لَهُ مِنْ الْخِلَافِ لَمْ يُنْقَضْ
نمبر (١٠) محکوم علیہ دعوی کرے کہ قاضی نے قول مہجور کو لے کر فیصلہ کیا ہے قول مہجور ہوتا ہے جس کا ترک کرنا ضروری ہوتا ہے تو قاضی کے حکم کو دیکھا جائے گا اگر قاضی نے اس محل کے متعلق فیصلہ کیا ہو جس میں قول مہجور ہی ہو تو قاضی کا حکم نافذ نہیں ہوگا اس کا ترک کرنا ضروری ہے اس لیے کہ قول مہجور ساقط الاعتبار ہے جمہور کے مقابلے میں اس لیے بھی کہ قولِ مہجور وہ خلاف ہے اختلاف نہیں ہے خلاف اور اختلاف میں فرق یہ ہے کہ اختلاف وہ ہے جس کے پس منظر میں کوئی دلیل ہو مثلا دو قول ہیں دونوں کی دلیل ہے تو دونوں اختلافی قول ہوں گے لیکن جس کے پیچھے کوئی دلیل نہیں ہوتی وہ اختلاف نہیں خلاف ہوتا ہے حق کے، جمہور کے اس لئے اگر کوئی قاضی اس پر فیصلہ کرتا ہے تو یہ محل خلاف میں فیصلہ کرنے والا ہوگا نہ کہ محلِ اختلاف میں اس لیے اس کا حکم نافذ نہیں ہوگا، اس کا فیصلہ باطل قرار پائے گا۔
اس کی مثال وہی ہے جو ماقبل میں گزری کہ ایک مرد اور عورت کے درمیان قصاص مشترک تھا کسی قاتل پر، اب عورت نے قصاص معاف کیا تو مرد کی جانب سے بھی قصاص معاف ہو جائے گا لیکن اس میں چونکہ ایک قول مہجور یہ بھی ہے کہ عورت معاف نہیں کر سکتی ہے اب کسی قاضی نے اسی قول مہجور کو لے کر فیصلہ کیا کہ عورت کی معافی کا اعتبار نہیں مرد کے لیے قصاص ہے تو قاضی کےاس فیصلے کو ترک کیا جائے گا اس لیے کہ اس نے قولِ مہجور پر فیصلہ کیا ہے ایسے قول پر جس کے پیچھے کوئی دلیل نہیں جو خلاف جمہور قول ہے، خلاف قیاس ہے اور خلاف قواعد شرعیہ ہے۔
الْعَاشِرُ: إذَا قَامَ الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ وَادَّعَى أَنَّ الْقَاضِيَ قَضَى عَلَيْهِ بِقَوْلٍ مَهْجُورٍ فَإِنْ كَانَ قَدْ قَضَى عَلَيْهِ فِي مَحِلٍّ فِيهِ قَوْلٌ مَهْجُورٌ لَا يَنْفُذُ وَيُنْقَضُ؛ لِأَنَّ الْقَوْلَ الْمَهْجُورَ سَاقِطُ الِاعْتِبَارِ فِي مُقَابَلَةِ الْجُمْهُورِ، وَقَوْلُهُ يَكُونُ خِلَافًا لَا اخْتِلَافًا، فَمَنْ قَضَى بِقَوْلِهِ كَانَ قَاضِيًا فِي مَحِلِّ الْخِلَافِ وَالْقَضَاءُ يَنْفُذُ فِي مَوْضِعِ الِاخْتِلَافِ لَا فِي مَوْضِعِ الْخِلَافِ وَكَانَ بَاطِلًا، مِثَالُهُ: إذَا كَانَ الْقَوَدُ بَيْنَ رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ فَعَفَتْ الْمَرْأَةُ عَنْ الْقَوَدِ فَأَبْطَلَ ذَلِكَ قَاضٍ وَقَضَى بِالْقَوَدِ لِلرَّجُلِ وَقَالَ: لَا عَفْوَ لِلنِّسَاءِ.
نمبر (١١) محکوم علیہ قاضی کے پاس دعوی کرے قاضی صاحب جن گواہوں کو آپ نے قبول کیا تھا ان گواہوں نے تو اپنی گواہی سے رجوع کیا ہے تو ان گواہوں کا اپنی گواہی سے رجوع کرنا اب ککوئی فائدہ نہ دے گا اور اس کی وجہ سے قاضی صاحب کا کیا ہوا فیصلہ نہیں توڑا جائے گا اس لیے کہ قاضی صاحب نے عادل گواہوں کے قول سے فیصلہ کیا ہوا تھا اور اب ان گواہوں کا اپنے کذب کا دعوی کرنا یہ بتلانا ہے کہ وہ جھوٹے تھے اور فاسق تھے اس لیے ان کی بات سے کسی حکم کو اب توڑا نہیں جائے گا جس وقت فیصلہ کیا تھا اس وقت وہ عادل تھے اب وہ فاسق ہو رہے ہیں تو فاسق کی وجہ سے کسی حکم کو نہیں توڑا جائے گا ان کی فسق سے اب پہلی گواہی پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا ہے۔
الْحَادِيَ عَشَرَ: إذَا ادَّعَى الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ أَنَّ الشُّهُودَ قَدْ رَجَعُوا لَمْ يَنْفَعْهُ ذَلِكَ وَلَمْ يُنْقَضْ الْحُكْمُ؛ لِأَنَّ الْحُكْمَ ثَبَتَ بِقَوْلِ عُدُولٍ، وَدَعْوَى الشُّهُودِ بَعْدَ ذَلِكَ الْكَذِبِ اعْتِرَافٌ مِنْهُمْ أَنَّهُمْ فَسَقَةٌ وَالْفَاسِقُ لَا يُنْقَضُ الْحُكْمُ بِقَوْلِهِ فَبَقِيَ الْحُكْمُ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ.
نمبر (١٢) فرماتے ہیں اگر محکوم علیہ نے قاضی کے پاس دعوی کیا کہ قاضی صاحب! جس کے لیے آپ نے فلاں چیز کا فیصلہ کیا ہے وہ مقضی لہ تو اقرار کر رہا ہے کہ فلاں چیز جس کے بارے میں آپ نے فیصلہ کیا ہے وہ عمرو کی ہے تو فرماتے ہیں کہ اس کا یہ دعوی کرنا صحیح نہیں ہوگا اس لیے کہ مقضی لہ دعوی کر رہا ہے عمرو کے لیے،اس لئے وہ چیز عمرو کی ہوگی،کیوں کہ المرء یؤخذ علی اقرارہ،البتہ تیرا کیا فائدہ اس میں تیرا لئے اقرار تو نہیں کر رہا ہے، آپ کو اس سے کیا کام؟ ہاں اگر محکوم علیہ یہ ثابت کرے کہ قاضی صاحب جس کے لیے آپ نے فلاں زمین کا فیصلہ کیا ہے وہ اقرار کر رہا ہے کہ زمین عمرو کی ہے اور عمرو سے وہ زمین میں نے خریدی ہے، تب یہ دعویٰ صحیح ہوتا لیکن یہ صرف اتنا دعوی کر رہا ہے کہ مقضی لہ کہہ رہا ہے کہ زمین عمرو کی ہے اپنے لیے کوئی ملکیت ثابت کرنے کے بجائے عمرو کے لیے ملکیت ثابت کر رہا ہے، آگے فرماتے ہیں کہ یہ حیلہ ہر کسی کو بتانا نہیں چاہیے کہ اگر وہ یہ کہتا کہ عمرو کے لیے مقضی لہ اقرار کر رہا ہے اور عمرو سے میں نے خریدی ہے( یعنی اپنی ملکیت کا سبب بیان کرتا)تب تو اس کا یہ کہنا اور اس کا یہ دعوی کرنا صحیح ہوتا لیکن یہ صرف اتنا کہہ رہا ہے کہ مقضی لہ عمرو کے لیے اقرار کر رہا ہے، یعنی عمرو کے لیے ملکیت کا ثبوت پیش کر رہا ہے،اپنے لیے ملکیت کا سبب بیان نہیں کر رہا ہے، اسی کو فرمایا کہ یہ صحیح دفعہ نہیں ہے اور مفتی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ جواب میں اس دفعہ کا بھی ذکر کرے کہ اگر آپ کو اپنے لیے زمین کی ملکیت ثابت کرنی ہے تو پھر آپ کو اس طرح کہنا پڑے گا کہ مقضی لہ عمر کے لیے دعوی کر رہا ہے اور عمرو سے میں نے زمین خریدی ہے یعنی کہ حیلہ سکھانا مفتی کے لیے ضروری نہیں ہے کوئی جانتا ہو تو خود کر سکتا ہے نہیں جانتا ہو تو بتانا ضروری نہیں ہے۔ یہ مسئلہ قنیہ نامی کتاب سے لیا گیا ہے۔
الثَّانِيَ عَشَرَ: لَوْ ادَّعَى بَعْدَ الْحُكْمِ بِالْبَيِّنَةِ أَنَّ الْمَقْضِيَّ لَهُ قَدْ كَانَ أَقَرَّ أَنَّ هَذَا الْمَحْدُودَ مِلْكُ عَمْرٍو فَلَيْسَ هَذَا بِدَفْعٍ صَحِيحٍ مَا لَمْ يَدَّعِ تَلَقِّيَ الْمِلْكِ مِنْ جِهَةِ عَمْرٍو، وَلَكِنْ لَيْسَ لِلْمُفْتِي أَنْ يَزِيدَ فِي الْجَوَابِ عَلَى قَوْلِهِ لَيْسَ هَذَا بِدَفْعٍ صَحِيحٍ، " مِنْ الْقُنْيَةِ ".
الرکن الثالث المقضی لہ۔۔۔۔۔
اس رکن میں مصنف رحمتہ اللہ تعالی علیہ رکن ثالث کا بیان فرما رہے ہیں اور رکن ثالث مقضی لہ ہے یعنی جس کے لیے قاضی فیصلہ کرے اس کے متعلق اس فصل میں مصنف رحمتہ اللہ تعالی علیہ چند چیزیں بیان کریں گے فرماتے ہیں کہ قاضی، مقلِد کے لیے بھی فیصلہ کر سکتا ہے اور مقلد کے خلاف بھی فیصلہ کر سکتا ہے مقلِد کہتے ہیں جس نے قاضی کو قاضی بنایا ہے یعنی امام وقت اس نے قاضی کو قاضی بنایا ہے اب اسی امام کا معاملہ قاضی کے پاس آیا تو قاضی اس امام کے حق میں جس نے اس کو قاضی بنایا ہے فیصلہ بھی کر سکتا ہے اور اس کے خلاف بھی فیصلہ کر سکتا ہے اس کی نقلی دلیل تو یہ کہ امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ ایک نصرانی کے ساتھ اپنی زِرہ کے مقدمے میں قاضی شُریح کی عدالت میں پیش ہوئے۔ قاضی شُریح بصیرت سے جانتے تھے کہ زِرہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی ہے اور وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں‘ لیکن اسلامی قانونِ عدل کے مطابق ان کے پاس گواہ نہیں تھے‘ کیونکہ آپ نے اپنے بیٹے حسَن اور اپنے غلام قَنبر کو گواہ کے طور پر پیش کیا۔ قاضی نے کہا: بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں اور غلام کی گواہی آقا کے حق میں معتبر نہیں ہے‘ اس لیے اُن کے خلاف فیصلہ سنایا تو یہ ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ نے قاضی شریح کو قاضی وقت بنایا اصل بات یہ ہے کہ قاضی شریح پہلے سے ہی قاضی تھے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنے تو انہوں نے قاضی شریح کو اپنے عہدے پر برقرار رکھا اس لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف بھی نسبت کی جاتی ہے کہ آپ نے قاضی شریح کو عہدہ قضاء عطا کیا خیر قاضی شریح کو قاضی بنایا گیا پھر اس کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کا جب یہ معاملہ قاضی شریح کی عدالت میں آ گیا تو قاضی شریح گواہوں کے نہ ہونے کی وجہ سے یا ان گواہوں کے نہ ہونے کی وجہ سے جن کی گواہی قبول کی جاتی ہے اس وجہ سے قاضی شریح نے حضرت علیؓ جو امام و خلیفہ تھے ان کے خلاف فیصلہ کیا اور عقلی دلیل یہ ہے کہ قاضی صاحب وہ امام کا نائب نہیں ہوتا لوگوں کا نائب ہوتا ہے یعنی لوگوں نے امام وقت کو اختیار دیا ہے اور امام وقت نے لوگوں کے اختیار کی وجہ سے قاضی کو قاضی بنایا ہے اسی لیے اگر امام وقت کا انتقال ہو جاتا ہے تو قاضی اپنے عہدے پر برقرار رہے گا اگر قاضی امام وقت کا نائب ہوتا تو امام وقت کے انتقال کی وجہ سے قاضی کو فورا معزول ہونا چاہیے لیکن امام وقت کے انتقال کی وجہ سے قاضی معزول نہیں ہوتا وہ اسی وجہ سے کیونکہ قاضی امام کا نائب نہیں لوگوں کا نائب ہے عام لوگوں کا نائب ہے لوگوں نے امام کو اختیار دیا اور امام نے قاضی کو چنا اسی لیے قاضی امام وقت کے خلاف بھی فیصلہ کر سکتا ہے اور امام وقت کے لیے بھی فیصلہ کر سکتا ہے اگرچہ اسی نے اس کو قاضی بنایا ہو عہدہ قضاء پر بٹھایا ہو۔
[الرُّكْنُ الثَّالِثُ الْمَقْضِيُّ لَهُ]
وَيَجُوزُ لِلْقَاضِي أَنْ يَقْضِيَ لِلْمُقَلِّدِ أَوْ يَقْضِيَ عَلَيْهِ - أَلَا يُرَى أَنَّ عَلِيًّا قَلَّدَ شُرَيْحًا وَخَاصَمَ عِنْدَهُ؛ وَلِأَنَّ الْمُقَلَّدَ لَيْسَ بِنَائِبٍ عَنْ الْمُقَلِّدِ بَلْ هُوَ نَائِبٌ عَنْ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ وَلِهَذَا لَا يَنْعَزِلُ بِمَوْتِهِ.
اسی طرح اگر قاضی امام وقت کے بیٹے کے لیے یا اس کی بیوی کے لیے یا اس کے کسی بھی رشتہ دار کے لیے فیصلہ کرے تو کر سکتا ہے ان کے حق میں بھی فیصلہ کر سکتا ہے ان کے خلاف بھی فیصلہ کر سکتا ہے جب امام وقت کے لیے فیصلہ کر سکتا ہے امام وقت کی خلاف فیصلہ کر سکتا ہے تو اس کے بچے اور اس کی بیوی کے خلاف اور ان کے حق میں بھی فیصلہ کر سکتا ہے، اس کا دارومدار اسی اصول پر ہے کہ قضاء بھی شہادت کی طرح ہے چنانچہ ایک شخص کے حق میں جن لوگوں کی شہادت قابل قبول نہیں ہوتی انہی شخصوں کے لیے قاضی کا قضاء بھی ثابت نہیں ہوتا یعنی جس طرح باپ کے حق میں بیٹی کی گواہی قبول نہیں اسی طرح باپ اگر قاضی ہو تو وہ بیٹے کے لیے فیصلہ نہیں کر سکتا ہے ہاں بیٹے کے خلاف فیصلہ کر سکتا ہے بیٹے کے لیے اس لیے فیصلہ نہیں کر سکتا کیونکہ بیٹے کی گواہی باپ کے حق میں قبول نہیں بیٹا لا شہادت لہ کے درجے میں ہے چنانچہ جن کی گواہی انسان کے حق میں قبول نہیں ان کے لیے انسان فیصلہ نہیں کر سکتا ہے بس ان کے خلاف فیصلہ کر سکتا ہے، ان کے علاوہ جو بھی لوگ ہوں ان کے لیے انسان فیصلہ بھی کر سکتا ہے ان کے خلاف بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔
(مَسْأَلَةٌ) :
كَذَا لَوْ قَضَى لِوَلَدِ الْإِمَامِ الَّذِي وَلَّاهُ أَوْ لِوَالِدِهِ أَوْ لِزَوْجَتِهِ.
مسئلہ۔ قاضی اپنے اپ کے لیے فیصلہ نہیں کر سکتا ہے یعنی اپنے حق میں فیصلہ نہیں کر سکتا ہے اپنے خلاف فیصلہ کر سکتا ہے اور ان کے لیے فیصلہ کر سکتا ہے جن کی شہادت قاضی کے حق میں قبول نہیں اس کی دلیل ابھی گزری کی قضا کا درجہ شہادت کی طرح ہے اور جو لوگ انسان کے لیے گواہ نہیں بن سکتے وہ اس انسان کے حق میں اس کا قضا بھی قبول نہیں یا جن کے لیے انسان گواہ نہیں بن سکتا ان کے لیے انسان فیصلہ بھی نہیں کر سکتا چنانچہ جن کی شہادت انسان کے حق میں قبول نہیں ان کے لیے انسان شاہد بھی نہیں بن سکتا گواہ بھی نہیں بن سکتا تو ان کے لیے انسان قاضی بن ہی بن سکتا تہمت کی وجہ سے کیونکہ یہاں ایسا اگر فیصلہ کر دیا گیا تو ایسا سمجھا جائے گا قاضی نے اپنے لیے فیصلہ کیا اپنی گرض کے لیے فیصلہ کیا تو تہمت کی وجہ سے جن کی گواہی قبول نہیں کی جاتی ہے انسان کے حق میں ان کے لیے انسان قاضی بھی نہیں بن سکتا،ہاں ان کے خلاف فیصلہ کر سکتا ہے کیونکہ ان کے خلاف گواہی بھی دے سکتا ہے جب گواہی ان کے خلاف دے سکتا ہے تو فیصلہ بھی ان کے خلاف کر سکتا ہےان کے حق میں فیصلہ نہیں کر سکتا ہے۔
(مَسْأَلَةٌ) :
وَلَا يَجُوزُ قَضَاؤُهُ لِنَفْسِهِ وَلَا لِمَنْ لَا تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ لَهُ؛ لِأَنَّ مَبْنَى الْقَضَاءِ عَلَى الشَّهَادَةِ، وَلَا يَصِحُّ شَاهِدًا لِهَؤُلَاءِ فَلَا يَصِحُّ قَاضِيًا لَهُمْ لِمَكَانِ التُّهْمَةِ، وَيَجُوزُ أَنْ يَقْضِيَ عَلَيْهِمْ؛ لِأَنَّهُ لَوْ شَهِدَ عَلَيْهِمْ جَازَ فَكَذَا الْقَضَاءُ.
مسئلہ۔ اور وہ شخص جو قاضی کے قائم مقام ہے لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں ممانعت کے سلسلے میں جن کی وجہ سے اس شخص کو متہم کیا جا سکتا ہے وہ مفتی ہے۔ فتوی دیتا ہے اس شخص کو یا اس شخص کے حق میں جس کی وجہ سے اسے متہم کیا جا سکتا ہے ان لوگوں کی وجہ سے جن کی شہادت اس کے حق میں قبول نہیں کی جاتی ہے یعنی جس طرح قاضی کا قضاء ان لوگوں کے حق میں قبول نہیں کیا جا سکتا جن کی گواہی اس کے حق میں قبول نہیں اسی طرح مفتی کا بھی فتوی قابل قبول نہیں ان لوگوں کے سلسلے میں جن کی گواہی مفتی کے لیے جائز نہیں مفتی کے حق میں قبول نہیں کی جاتی ہے اور مفتی کو بھی چاہیے کہ وہ اس چیز سے جہاں تک ہو سکے دور بھاگے جن لوگوں کے حق میں مفتی کا فتوی قبول نہیں جن لوگوں کی شہادت مفتی کے حق میں قبول نہیں لوگوں کے لیے فتوی کرنے سے مفتی کو چاہیے کہ اپنے اپ کو دور رکھے جہاں تک ہو سکے۔
(مَسْأَلَةٌ) :
وَمِمَّا يَجْرِي مَجْرَى الْقَضَاءِ فِي الْمَنْعِ مِنْ الْحُكْمِ لِمَنْ يُتَّهَمُ عَلَيْهِ الْمُفْتِي يُفْتِي لِمَنْ يُتَّهَمُ عَلَيْهِ مِمَّا لَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُ لَهُ فَيَنْبَغِي لِلْمُفْتِي الْهَرَبُ مِنْ هَذَا مَتَى قَدَرَ.
مسئلہ۔ اسی طرح قاضی فیصلہ کر سکتا ہے اس شخص کے لیے جس کی گواہی قاضی کے حق میں قبول کی جاتی ہے، جیسے کہ بھائی یعنی اگر ایک بھائی قاضی ہو تو دوسرا بھائی قاضی کے حق میں گواہی دے سکتا ہے بھائی کی گواہی قاضی کے خلاف بھی جائز ہے قاضی کے حق میں بھی جائز ہے اسی طرح چچا ہے کہ بھتیجہ قاضی ہو اور چچا گواہی دے قاضی ( بھتیجے) کے حق میں تو قبول کی جاتی ہے اسی طرح ان کی اولادیں چنانچہ چونکہ ان کی گواہی قاضی کے حق میں قبول ہے اس لیے اگر قاضی ان کے لیے کوئی فیصلہ کرتا ہے تو ان کے لیے قاضی کا فیصلہ کرنا بھی درست ہے اور وہ حق ثابت بھی ہوگا اور ان کے خلاف تو بدرجہ اولی ثابت ہوگا وہ تو اپنوں کے خلاف بھی قاضی کا فیصلہ ثابت اور نافذ ہوتا ہے اسی طرح اگر قاضی اپنے سسر کے لیے یا اپنی ساس کے لیے فیصلہ کرے تو بالکل جائز ہے کر سکتا ہے لیکن اگر ساس اور سسر دونوں مر گئے ہوں اور یہ ساس اور سسر کے لیے فیصلہ کر رہا ہے جبکہ بیوی ساس اور سسر کی وارث بن رہی ہے تو پھر قاضی کا فیصلہ کرنا درست نہیں ہوگا اگر اپنی ساس اور سسر کے لیے فیصلہ کرے جبکہ اس کی بیوی اپنی ساس اور سسر کی وارث بن رہی ہو تو پھر قاضی کا فیصلہ درست نہیں ہے قاضی کے فیصلے کو نافذ نہیں کیا جائے گا قاضی کا فیصلہ کرنا درست نہیں کیونکہ یہاں بھی متہم کیا جا سکتا ہے قاضی کی بیوی اپنے باپ کی وارث بن رہی ہے اور قاضی اس باپ کے لیے کسی حق کو ثابت کر رہا ہے کیونکہ وہ وراثت میں پھر اس کی بیوی کو ملے گا گویا قاضی اپنے لیے فیصلہ کر رہا ہے اسی طرح ساس کے لیے کوئی حق ثابت کر رہا ہے،ظاہر ہے اگر بیوی اس کی وارث بن رہی ہے تو وہ حق بیوی کی طرف آ جائے گا وراثت میں اس لیے اس صورت میں ساس کے لیے قاضی فیصلہ کر سکتا ہے نہ سسر کے لیے فیصلہ کر سکتا ہے، چونکہ اس حالت میں جب خوش دامن اور سسر مر گئے ہوں اور بیوی ان کی وارث بن رہی ہو تو قاضی قطع نظر قضاء سے بیوی کے حق میں جس طرح گواہی نہیں دے سکتا اسی طرح وہ ساس اور سسر کے لیے کوئی حق ثابت بھی نہیں کر سکتا کیونکہ جیسے گواہی قبول نہیں کی جائے گی ساس اور سسر کے لیے اس طرح قضاء بھی جائز نہیں ہے کیونکہ قضاء اور شہادت کا دارومدار ایک ہی چیز پر ہے۔
اور اسی طرح اگر بہو کے لیے کوئی فیصلہ کرتا ہے یا داماد کے لیے کوئی فیصلہ کرتا ہے جب کہ مقضی لہ ( داماد یا بہو) زندہ ہیں تو قاضی کا فیصلہ بالکل درست ہے اور نافذ ہوگا اور اگر مر گیا ہو تو پھر قاضی کا فیصلہ درست نہیں ہوگا اگر بیٹا اپنی بیوی یعنی بہو کا اور اسی طرح بیٹی اپنے شوہر یعنی قاضی کے داماد کی وارث بن رہی ہو تو پھر قاضی کا اپنی بہو کے حق میں اور اسی طرح اپنے داماد کے حق میں فیصلہ کرنا درست نہیں ہے جس طرح کی شہادت دینا درست نہیں ہے۔ محیط برہانی سے یہ مسئلہ نقل کیا گیا ہے۔
(مَسْأَلَةٌ) :
وَيَجُوزُ أَنْ يَقْضِيَ لِمَنْ تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ لَهُ كَالْأَخِ وَالْعَمِّ وَأَوْلَادِهِمَا، وَكَذَا لَوْ قَضَى لِامْرَأَتِهِ وَأُمِّهَا وَإِنْ كَانَتَا قَدْ مَاتَتَا لَمْ يَجُزْ قَضَاؤُهُ لَهُمَا إذَا كَانَتْ امْرَأَتُهُ تَرِثُ مِنْ ذَلِكَ شَيْئًا؛ لِأَنَّهُ لَوْ شَهِدَ لَهُمَا فِي هَذِهِ الصُّورَةِ لَمْ يَجُزْ، فَكَذَا إذَا قَضَى لَهُمَا، وَإِنْ قَضَى لِامْرَأَةِ ابْنِهِ أَوْ لِزَوْجِ ابْنَتِهِ وَالْمَقْضِيُّ لَهُ حَيٌّ جَازَ قَضَاؤُهُ، وَإِنْ كَانَ مَيِّتًا لَمْ يَجُزْ إذَا كَانَ الِابْنُ أَوْ الْبِنْتُ يَرِثَانِ لِمَا قُلْنَا مِنْ الْمُحِيطِ.
فصل ۔
اسی طرح اگر کسی شخص نے ایسے شخص کو وکیل بنایا جس کے لیے قاضی کی شہادت درست نہیں یعنی جس کے حق میں قاضی گواہی نہیں دے سکتا قاضی کی گواہی جس کے حق میں قبول نہیں کی جا سکتی جیسے قاضی کا بیٹا ہے کہ ایک شخص کا کوئی معاملہ تھا اس نے سوچا اگر میں قاضی کے پاس معاملہ لینے جاؤں قاضی صاحب تو میرے حق میں فیصلہ نہیں کریں گے اس لیے ایسا کرتے ہیں قاضی صاحب کے بیٹے کو وکیل بناتے ہیں تاکہ قاضی صاحب کا دل نرم ہو جائے کیوں کہ قاضی صاحب کے سامنے جب اس کا بیٹا میرا وکیل بن کر جائے گا تو قاضی صاحب اپنے بیٹے کے لیے جو کہ میرا وکیل ہے فیصلہ کر ہی دیں گے، تو پھر قاضی کا فیصلہ بیٹے وکیل کے لیے یا ایسے شخص کے لیے جس کے حق میں قاضی کی گواہی قبول نہیں قاضی کا اس کے حق میں فیصلہ کرنا درست نہیں ہوگا اور یہ وکالت بھی درست نہیں ہوگی کیونکہ یہ بھی ایک حیلہ ہے اس میں بھی تہمت کا خطرہ ہے جس طرح قاضی اپنے بیٹے کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا اپنے بیٹے کے لیے کوئی گواہی پیش نہیں کر سکتا اسی طرح اگر اپنا بیٹا وکیل بن کے آ رہا ہے تو تب بھی اس کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا ہے نہ اس کے لیے گواہی دے سکتا ہے ہاں اس کی برخلاف وکیل دوسرے کے لیے فیصلہ کر سکتا ہے وکیل کا فیصلہ نافذ ہوگا جیسا کہ اگر یہ وکیل اصیل ہوتا مثلا یہی قاضی کا بیٹا تھا اس کا کوئی معاملہ قاضی کے پاس آ گیا قاضی نے دیکھا کہ میری گواہی تو بیٹے کے حق میں قبول نہیں اس لیے میرا فیصلہ بھی بیٹے کے حق میں قبول نہیں اس لیے قاضی نے ایک وکیل چنا اور وکیل کو کہا آپ فیصلہ کیجئے میرے بیٹے کے لیے تو بالکل اگر یہ وکیل قاضی کے بیٹے کے لیے کوئی فیصلہ کرتا ہے تو نافذ ہوگا جس طرح کہ اگر یہ وکیل خود قاضی ہوتا اصیل ہوتا تو یہ اس موجودہ قاضی کے بیٹے کے لیے فیصلہ کر سکتا تھا اس کے حق میں گواہی دے سکتا تھا تو فیصلہ بھی نافذ ہو جاتا۔
[فَصْلٌ تَوَكُّلُ مَنْ لَا تُقْبَلُ شَهَادَةُ الْقَاضِي لَهُ]
(فَصْلٌ) :
تَوَكُّلُ مَنْ لَا تُقْبَلُ شَهَادَةُ الْقَاضِي لَهُ لَمْ يَجُزْ حُكْمُهُ لِلْوَكِيلِ، وَجَازَ عَلَى الْوَكِيلِ كَمَا لَوْ كَانَ أَصِيلًا لِعَدَمِ التُّهْمَةِ،
اسی طرح اگر قاضی کا بیٹا کسی یتیم کا وصی ہو یعنی کوئی شخص مرا اور اس نے قاضی کے بیٹے کو اپنے بچے کا وصی بنا دیا تو اب قاضی صاحب اپنی یتیم کے معاملے میں اپنے بیٹے کے لیے کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا اس لیے کہ اس معاملے میں فیصلہ کرنا جس میں قاضی کا حکم یتیم کے لیے ہو ان میں حق قبض وصی کا ثابت ہوگا اور یتیم کے مال کا قبضہ وصی کو حاصل ہے اب اگر قاضی اپنے بیٹے کے لیے اس معاملے میں جس میں وہ یتیم کا وصی ہے کوئی فیصلہ کرتا ہے تو گویا اس میں وہ اپنے بیٹے کا حق ثابت کر رہا ہے کیونکہ حق قبض بیٹے کو حاصل ہے گویا کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے فیصلہ کر رہا ہے اس میں تہمت کا خطرہ ہے اس لیے اپنی بیٹے کے لیے فیصلہ نہیں کر سکتا۔
وَلَوْ كَانَ ابْنُ الْقَاضِي وَصِيَّ يَتِيمٍ لَمْ يَجُزْ حُكْمُهُ لَهُ فِي أَمْرِ الْيَتِيمِ، إذْ فِيمَا يَحْكُمُ بِهِ لِلْيَتِيمِ حَقُّ الْقَبْضِ يَثْبُتُ لِلْوَصِيِّ فَيَصِيرُ كَحُكْمِهِ لِابْنِهِ.
مسئلہ۔ کسی شخص نے قاضی کے لیے اپنے مال میں سے تہائی کی وصیت کی جبکہ اس کے لیے کوئی وصی تھا تو اب قاضی صاحب اس میت کے لیے کسی بھی چیز کا فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں اور اس میت کے سلسلے میں قاضی کا قضاء درست نہیں ہے اس لیے کہ اگر قاضی صاحب اس میت کے لیے کسی چیز کا فیصلہ کریں گے تو گویا اس چیز میں سے قاضی کو تہائی حصہ حاصل ہوگا چونکہ اس میں تہمت کا خطرہ ہے کہ قاضی صاحب اپنے مطلب کے لیے میت کے لیے فیصلہ کر رہے ہیں اس لیے یہاں بھی قاضی کا قضاء درست نہیں ہوگا اسی طرح جب موصیٰ لہ یعنی جس کے لیے وصیت کی گئی ہے وہ قاضی صاحب کا بیٹا ہو یا قاضی صاحب کی بیوی ہو تو قاضی صاحب اس میت کے لیے کسی بھی چیز کا فیصلہ نہیں کر سکتے ہیں جیسا کہ اگر اس میت کے لیے کوئی شخص کسی چیز کا دعوی کرے پھر قاضی صاحب اس میت کے لیے یعنی جس میت نے قاضی کے بیٹے کے لیے وصیت کی ہے یا قاضی کی بیوی کے لیے وصیت کی ہے یا خود قاضی کے لیے وصیت کی ہے اگر اس میت کے لیے کوئی دعوی کرے اور قاضی صاحب کو اس دعوے کے ثبوت کے لیے گواہ پیش کرے تو قاضی صاحب گواہی نہیں دے سکتے جب قاضی صاحب گواہی نہیں دے سکتے ہیں تو فیصلہ بھی نہیں کر سکتے کیونکہ قضاء کا شہادت پر ہی مدار ہے قضاء بھی شہادت ہے جہاں گواہی نہیں دے سکتا وہاں فیصلہ بھی نہیں کر سکتا اسی طرح اگر قاضی کا قرض تھا میت پر اس کے لیے قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا ہے کسی بھی حق کا اس لیے کہ یہ ایسا سمجھا جائے گا قاضی اپنے حق کے لیے راستہ ہموار کر رہا ہے چونکہ یہاں تہمت کا خطرہ ہے اس لیے میت کے لیے فیصلہ کرنا درست نہیں ہوگا۔
(مَسْأَلَةٌ) :
أَوْصَى لِلْقَاضِي بِثُلُثِ مَالِهِ وَلَهُ وَصِيٌّ لَمْ يَجُزْ حُكْمُهُ بِشَيْءٍ لِذَلِكَ الْمَيِّتِ إذْ لَهُ نَصِيبٌ فِيمَا يَحْكُمُ بِهِ لِلْمَيِّتِ، وَكَذَا لَوْ كَانَ الْمُوصَى لَهُ ابْنَ الْقَاضِي أَوْ امْرَأَتَهُ؛ أَلَا يُرَى أَنَّهُ لَا يَصْلُحُ لِلشَّهَادَةِ فِيمَا يَدَّعِي لِلْمَيِّتِ، وَكَذَا لَا يَصْلُحُ لِلْقَضَاءِ وَكَذَا لَوْ كَانَ عَلَى الْمَيِّتِ دَيْنٌ لِلْقَاضِي إذْ يُمَهِّدُ بِحُكْمِهِ مَحِلَّ حَقِّهِ.
مسئلہ۔ اگر قاضی کی بیوی نے کسی جھگڑے میں اپنا ایک وکیل بنایا پھر قاضی کی بیوی بائنہ ہو گئی یعنی قاضی نے طلاق بائن دے دی اور اس کی عدت بھی گزر چکی عدت گزرنے کے بعد قاضی صاحب اپنی سابقہ بیوی کے وکیل کے لیے کوئی فیصلہ کر رہے ہیں تو جائز ہے قاضی صاحب اپنی سابقہ بیوی جو عدت گزار چکی ہے عدت ختم ہو چکی ہے اس کے وکیل کے لیے فیصلہ کر رہے ہیں تو اب جائز ہے ہاں عدت گزرنے سے پہلے جائز نہیں ہے، اسی طرح قاضی کے مکاتب غلام کے وکیل کے لیے قاضی فیصلہ کر سکتا ہے جبکہ وہ قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی اپنا بدلے کتابت ادا کر کے مکمل آزاد ہو چکا ہو چونکہ وہ آزاد ہو چکا ہے اب یہاں کوئی تہمت کا خطرہ نہیں ہے اب وہ چونکہ غلام نہیں سابقہ غلام تھا اس لیے سابقہ مکاتب غلام کے وکیل کے لیے قاضی فیصلہ کر سکتا ہے خلاصہ یہ ہے کہ اعتبار حکم کے وقت کا ہے یعنی جس وقت قاضی صاحب حکم دے رہا ہے اس وقت وہ مکاتب ہے یا نہیں اس وقت وہ بیوی ہے یا نہیں اگر وہ بیوی نہیں اگر وہ مکاتب غلام نہیں تو قاضی صاحب فیصلہ کر سکتا ہے اس لیے کہ بہت ہی ضروری ہے کہ ہر چند انسان مکمل طور پر تہمت سے بچنے کی کوشش کرے۔
وَلَوْ وَكَّلَتْ امْرَأَةُ الْقَاضِي وَكِيلًا بِخُصُومَةٍ ثُمَّ بَانَتْ مِنْهُ وَمَضَتْ الْعِدَّةُ فَحَكَمَ لِوَكِيلِهَا جَازَ، وَكَذَا وَكِيلُ مُكَاتَبِهِ إذَا عَتَقَ الْمُكَاتَبُ قَبْلَ الْحُكْمِ، وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمُعْتَبَرَ وَقْتَ الْحُكْمِ وَيَنْبَغِي أَنْ يَتَّقِيَ التُّهْمَةَ فِيهِ جُمْلَةً.
چوتھا رکن مقضی فیہ کے بیان میں اور وہ تمام حقوق ہیں، جان لیجئے جیسا کہ پہلے بھی آیا ہے کہ فن قضاء بہت عظیم فن ہے قدر کے اعتبار سے اور بہت بڑا شعبہ ہے نزاکت کے اعتبار سے ، قاضی پر ہی تمام احکام کا دارومدار ہے اور تمام چھوٹے بڑے قضایا و معاملات میں قاضی ہی کی طرف نظریں جاتی ہیں بغیر کسی تحدید کے، بعض حضرات فرماتے ہیں ( اس کا فاعل ہے علامہ ابو اسحاق قرطبی رحمۃ اللہ علیہ) کہ قاضی تمام چیزوں میں غور و فکر کر سکتا ہے یعنی تمام چیزوں کی اتھارٹی اسے حاصل ہے سوائے خراج کے قبضے کے سلسلے میں کہ اس میں قاضی غور و فکر نہ کرے باقی تمام اشیاء میں تمام چیزوں میں تمام معاملات میں قاضی غور و فکر کر سکتا ہے ۔
[الرُّكْنُ الرَّابِعُ الْمَقْضِيُّ فِيهِ وَهُوَ جَمِيعُ الْحُقُوقِ]
اعْلَمْ: أَنَّ خُطَّةَ الْقَضَاءِ أَعْظَمُ الْخُطَطِ قَدْرًا وَأَجَلُّهَا خَطَرًا، وَعَلَى الْقَاضِي مَدَارُ الْأَحْكَامِ وَإِلَيْهِ النَّظَرُ فِي جَمِيعِ الْقَضَايَا مِنْ الْقَلِيلِ وَالْكَثِيرِ بِلَا تَحْدِيدٍ.
وَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ: لِلْقَاضِي النَّظَرُ فِي جَمِيعِ الْأَشْيَاءِ إلَّا فِي قَبْضِ الْخَرَاجِ.
قاضی ابن سہیل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ قاضی احکام میں سے چند وجوہ کی بنا پر خاص ہے کہ ان احکام میں قاضی کے ساتھ کوئی بھی شریک نہیں قاضی کے برابر نہیں یعنی جیسا کہ وصیت کے سلسلے میں قاضی کا غور و فکر کرنا اسی طرح قیدیوں کے سلسلے میں قاضی کا غور و فکر کرنا اور حکم صادر کرنا، اسی طرح عقود کے سلسلے میں غور و فکر کرنا، اسی طرح کسی پر پابندی لگانا اور کسی سے پابندی ہٹانا، ترشید کے معنی ہے پابندی ہٹانا اور تحجیر کے معنی ہے پابندی لگانا جیسے کوئی مجنون ہو یا سفیہ ہو تو ان پر پابندی لگانا قاضی کی ذمہ داری ہے اور اسی طرح کوئی مجنون ٹھیک ہو گیا نارمل حالت پر آ گیا تو اس سے پابندی ہٹانا بھی قاضی کی ذمہ داری ہے، اسی طرح زمین جائیداد وغیرہ میں تقسیم کاری اور وراثت کے معاملات میں عقدہ کشائی، یتیموں کے مال کی دیکھ ریکھ، غائبین و مفقودین کے مال کی نظر گزر، اسی طرح انساب کے سلسلے میں اثبات یا عدم اثبات اور زخموں کے سلسلے میں قصاص و عدم قصاص اور اس جیسے معاملات یہ سب ذمہ داری قاضی کی ہے مزید کسی چیز کو محفوظ کرنا اور درج کرنا یہ بھی قاضی کی ذمہ داری ہے،۔
وَقَالَ الْقَاضِي ابْنُ سَهْلٍ: يَخْتَصُّ الْقَاضِي بِوُجُوهٍ لَا يُشَارِكُهُ فِيهَا غَيْرُهُ مِنْ الْحُكَّامِ، وَذَلِكَ النَّظَرُ فِي الْوَصَايَا وَالْأَحْبَاسِ وَالْعَقْدِ وَالتَّرْشِيدِ وَالتَّحْجِيرِ وَالتَّقْسِيمِ وَالْمَوَارِيثِ وَالنَّظَرِ لِلْأَيْتَامِ وَالنَّظَرِ فِي أَمْوَالِ الْغَائِبِ وَالنَّظَرِ فِي الْأَنْسَابِ وَالْجِرَاحَاتِ وَمَا أَشْبَهَهَا وَالْإِثْبَاتِ وَالتَّسْجِيلِ.
بعض حضرات فرماتے ہیں قاضی کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دوسرے حکام کی طرف للچاتی ہوئی نظروں سے دیکھے جس طرح کہ دوسرے لوگ قاضی کی طرف للچاتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہیں یعنی کسی عہدے دار کی طرف قاضی کو للچاتی ہوئی نظروں سے نہیں دیکھنا چاہیے اپنے عہدے کو کمتر سمجھتے ہوئے بلکہ قاضی کو چاہیے اپنے عہدے کی قدر کرے منصب قضاء اور قاضی کے عہدے سے بڑا کوئی عہدہ نہیں ہے دوسرے لوگ قاضی کی طرف رشک کی نگاہ سے للچاتی ہوئی نگاہ سے دیکھتے ہیں تو انہیں حق ہے کیونکہ عہدہ قضاء ہے ہی اتنا بڑا عہدہ کہ اس کی طرف دیکھا جائے یہ وہ معاملات تھے جن کا ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ تمام امور میں قاضی کی طرف دیکھا جاتا ہے اور تمام معاملات قاضی کے پاس لائے جاتے ہیں تمام چیزیں تمام عہدے قاضی کے دائرہ اختیار میں ہوتے ہیں، چنانچہ اگر قاضی اس چیز کو ضائع کر دے اور اپنی قدر خود گھٹائے خود اس چیز کو کھو دے تو پھر یہ قاضی میں ایک بہت ہی بڑا عیب ہوگا، ایک بہت بڑا نقص ہوگا۔
شکوۂ ظلمتِ شب سے کہیں بہتر تھا
اپنی حصہ کی شمع جلاتے جاتے
قَالَ بَعْضُهُمْ: وَلَا يَجِبُ لِلْقَاضِي أَنْ يَرْفَعَ مِنْ عِنْدِهِ نُظَرَاءَ إلَى غَيْرِهِ مِنْ الْحُكَّامِ كَمَا يَرْفَعُ غَيْرُهُ مِنْ الْحُكَّامِ إلَيْهِ، فَهَذِهِ الْأُمُورُ الَّتِي قَدَّمْنَا ذِكْرَهَا لَا تُرْفَعُ إلَّا إلَيْهِ وَلَا تَكُونُ إلَّا فِي دِيوَانِهِ، وَإِذَا ضَيَّعَ الْقَاضِي ذَلِكَ كَانَتْ مِنْهُ هُجْنَةٌ.
مصنف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میرے بعض مشائخ کے کسی شیخ نے کہا ہے کہ یہی ہے جن پر قاضیوں کے احکام کی ترتیب میں سے میں نے لوگوں کو پایا ان امور میں جن میں قاضی کے علاوہ کے لیے مناسب نہیں کہ وہ ان میں غور و فکر کرے۔
قَالَ بَعْضُ أَشْيَاخِ أَشْيَاخِي: هَذَا الَّذِي أَدْرَكْت النَّاسَ عَلَيْهِ مِنْ تَرْتِيبِ اَحْكَامِ الْقُضَاةَ فِي الْأُمُورِ الَّتِي لَا يَنْبَغِي لِغَيْرِهِمْ النَّظَرُ فِيهَا.
فصل بہرحال قاضی کے علاوہ جو بھی لوگ ہیں تو وہ ان چیزوں سے روکے گئے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی چیز لائی جائے تو اس میں فیصلہ کریں یا وہ کسی چیز میں غور و فکر کریں ان کو اس چیز کی اجازت نہیں ہے۔
فَصْلٌ) :
وَأَمَّا غَيْرُ الْقَاضِي فَمَقْصُورٌ عَلَى مَا قَدِمَ عَلَيْهِ.
مسئلہ۔اگر محکوم بہ یا مقضی فیہ جس کے بارے میں فیصلہ کیا جا رہا ہے وہ شہر سے باہر ہو تو پھر اس کے سلسلے میں قاضی کس طرح فیصلہ کرے گا شہر سے باہر تو قاضی نہیں جائے گا، کیوں کہ شہر کا ہونا یہ قضاء کی شرائط میں سے ( لیکن یہ شرط اس وقت نہیں پائی جاتی ہے اس وقت گاؤں میں بھی دارالقضاء کا نفاذ ہو سکتا ہے) چنانچہ اگرمحکوم فیہ اور مقضی فیہ شہر سے باہر ہو، تو ظاہر الروایہ میں ہے کہ اس کے حل کا طریقہ یہ ہے کہ قاضی صاحب اپنا ایک نائب مقرر کرے اسے حکم دے کہ شہر سے باہر جائے محکوم فیہ کا معائنہ کرے لوگوں کا دعوی سنے فریقین کے دعوے کی سماعت کرنے کے بعد ان کے گواہوں کو دیکھے اس کے بعد اس محکوم فیہ کے سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے پھر قاضی کے پاس وہ فیصلہ لے کر آئے قاضی اس نائب کے فیصلے کو نافذ کرے گا اسے جاری کرے گا اس طرح یہ مسئلہ حل ہوگا۔
(مَسْأَلَةٌ) :
وَلَوْ كَانَ الْمَحْكُومُ فِيهِ خَارِجَ الْبَلَدِ كَيْفَ يَحْكُمُ وَالْمِصْرُ شَرْطٌ لِجَوَازِ الْقَضَاءِ فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ؟ ، فَطَرِيقُهُ أَنْ يُنَصِّبَ وَاحِدًا مِنْ أَعْوَانِهِ فَيَسْمَعَ الدَّعْوَى وَالْبَيِّنَةَ وَيَقْضِي هُنَاكَ، ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ يُمْضِي حُكْمَهُ.
پانچواں رکن مقضی علیہ۔ یعنی جس کے خلاف فیصلہ کیا جاتا ہے اس کے سلسلے میں یہ فصل مصنف نے قائم کی ہے چنانچہ فرماتے ہیں محکوم علیہ ہر وہ شخص ہے جس کی طرف حق متوجہ ہو جائے یا تو خود اس کے اقرار سے کیونکہ انسان کو اقرار کے حساب سے ہی لیا جاتا ہے المرء یوخذ باقرارہ، القواعد الفقہیہ، مگر یہ کہ وہ بندہ اقرار کی صلاحیت رکھتا ہو یعنی وہ عاقل بالغ مسلمان اس طرح کی شرائط اس میں پائی جاتی ہوں یا اگر اقرار نہ کرے تو پھر اس پر گواہوں سے معاملہ ثابت ہو سکتا ہے یعنی یا گواہوں سے کسی پر معاملہ ثابت ہو یا یمین استبرا سے کسی پر حق ثابت ہو لیکن یہ تب ہے جبکہ میت غائب یا مفقود ہو یمین استبرا احناف کی اصطلاح نہیں ہے بلکہ یہ مالکیہ کی اصطلاح ہے یعنی ایک شخص مر گیا ہے یا ایک شخص مفقود ہے کوئی شخص اب میت یا مفقود شخص پر اپنے حق کا دعوی کر رہا ہے کیونکہ اگرچہ اس کے حق میں کوئی آدمی گواہی دے سکتا ہے لیکن خود میت یا خود مفقود حاضر نہیں خود وہ رفع الزام نہیں کر سکتا اس لیے جو دعوی کر رہا ہے اس سے ایک تو گواہ لیے جائیں گے اور اس سے قسم کھلائی جائے گی کہ آپ قسم کھاؤ کہ سچ مچ میں آپ کا حق فلاں میت پر ہے یا فلاں مفقود پر ہے اسی طرح آپ قسم کھاؤ کہ آپ اپنے دعوے میں سچے ہو، اور اس نے اب تک آپ کا حق واپس نہیں کیا ہے، یا کسی شخص کی ہٹ دھرمی اور اس کا مجلس حکم میں عدم موجودگی یا عدم حاضری و پیروی کی بنا پر اس کی طرف حق متوجہ ہو سکتا ہے جبکہ اس پر گواہ قائم کیے گئے ہوں اور اس کے خلاف ثبوت پیش کیا گیا ہو یا کسی شخص کا رفع الزام سے عاجز ہو جانا عاجز ہو جانے کی وجہ سے اس کی طرف حق متوجہ ہو یا حسب دعوی جواب دینے سے کوئی عاجز ہو جائے اور اس پر حق ثابت ہو جائے چنانچہ یہ تمام صورتیں اپنے محل میں بیان کی جائیں گی ان تمام وجوہ کے حکم کے کا بیان اپنے محل میں آ رہا ہے۔
[الرُّكْنُ الْخَامِسُ الْمَقْضِيُّ عَلَيْهِ]
وَهُوَ كُلُّ مَنْ تَوَجَّهَ عَلَيْهِ الْحَقُّ، إمَّا بِإِقْرَارِهِ إنْ كَانَ مِمَّنْ يَصِحُّ إقْرَارُهُ، وَإِمَّا بِالشَّهَادَةِ عَلَيْهِ وَيَمِينِ الِاسْتِبْرَاءِ إنْ كَانَ الْحَقُّ عَلَى مَيِّتٍ أَوْ عَلَى غَائِبٍ، وَإِمَّا بِلَدَدِهِ وَتَغَيُّبِهِ عَنْ حُضُورِ مَجْلِسِ الْحُكْمِ وَقِيَامِ الْبَيِّنَةِ عَلَيْهِ، وَإِمَّا بِالشَّهَادَةِ عَلَيْهِ وَلَدَدِهِ عَنْ الْجَوَابِ عَلَى طَبَقِ الدَّعْوَى وَسَيَأْتِي بَيَانُ الْحُكْمِ فِي هَذِهِ الْوُجُوهِ، كُلُّ مَسْأَلَةٍ فِي مَحِلِّهَا.
فصل۔ مقضی علیہ اور محکوم علیہ چند قسموں پر ہو سکتے ہیں ان میں وہ بھی ہو سکتا ہے جو حاضر ہو اور اپنے معاملے کا مالک ہو یعنی پورا اختیار رکھتا ہو، محکوم علیہ غائب بھی ہو سکتا ہے محکوم علیہ چھوٹا اور مہجور بھی ہو سکتا ہے یعنی جس پر لین دین کی پابندی لگا دی گئی ہو محکوم علیہ بیوقوف و نادان بھی ہو سکتا ہے محکوم علیہ وہ مدعا علیہ وارث ہو سکتا ہے جس پر میت کے مال کے سلسلے میں دعوی کیا گیا ہو یعنی کوئی شخص میت کے مالک کا وارث بن رہا ہے اور اس میت کے مال میں دعوی کیا جا رہا ہے کیونکہ وہ دعوی اب اسی وارث پر ثابت ہوگا چنانچہ محکوم علیہ چھوٹا بڑا ہر طرح کا ہو سکتا ہے بہرحال وہ محکوم علیہ جو اپنے معاملے کا مالک ہو اس کے اکثر احکام کا بیان گزر چکا ہے جہاں پر مصنف نے فریقین کے ساتھ قاضی کی سیرت کا بیان کیا ہے یعنی فریقین کے ساتھ قاضی کس طرح پیش آئے گا پیچھے جس فصل میں گزرا وہاں پر اس محکوم علیہ کے اکثر احکام بھی بیان کیے گئے جو اپنے معاملے کا مالک ہو اور جو کچھ احکام بچے ہوئے ہیں ان کو جواب، نکول اور بینہ والے باب میں بیان کریں گے، بہرحال جو غائب محکوم علیہ ہو تو اس پر دعوے کے سلسلے میں احکام مصنف نے” فصل فی الدعاوی و ذکر انواع المدعا علیہم“ میں ذکر کئے ہیں اور وہ محکوم علیہ جو چھوٹا ہو یا مجنون ہو یا وارث ہو تو ان کا ذکر بھی مصنف نے مذکورہ بالا باب میں کیا ہے۔
(فَصْلٌ) :
وَالْمَقْضِيُّ عَلَيْهِمْ أَنْوَاعٌ: مِنْهُمْ الْحَاضِرُ الْمَالِكُ أَمْرَهُ، وَمِنْهُمْ الْغَائِبُ، وَمِنْهُمْ الصَّغِيرُ الْمَحْجُورُ عَلَيْهِ، وَمِنْهُمْ السَّفِيهُ الْمُوَلَّى عَلَيْهِ، وَمِنْهُمْ الْوَرَثَةُ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ فِي مَالِ الْمَيِّتِ، وَمِنْهُمْ الصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ فَأَمَّا الْحَاضِرُ الْمَالِكُ أَمْرَهُ فَقَدْ تَقَدَّمَ فِي سِيرَةِ الْقَاضِي مَعَ الْخُصُومِ أَكْثَرُ أَحْكَامِهِ، وَسَيَأْتِي تَمَامُهَا فِي الْجَوَابِ وَالنُّكُولِ وَالْبَيِّنَةِ.
وَأَمَّا الْغَائِبُ: فَقَدْ ذَكَرْت الدَّعْوَى عَلَيْهِ فِي فَصْلِ الدَّعَاوَى وَذِكْرِ أَنْوَاعِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ.
وَأَمَّا الصَّغِيرُ وَالسَّفِيهُ وَالْوَرَثَةُ: فَهُمْ مَذْكُورُونَ فِي الدَّعَاوَى فِي أَنْوَاعِ الْمُدَّعَى عَلَيْهِمْ.
فصل۔ دشمن پر قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا جس طرف دشمن کے خلاف گواہی نہیں دے سکتا ہے کیونکہ اس میں بھی تہمت کا خطرہ ہے کہ وہ قاضی پر الزام لگائے گا کہ قاضی صاحب کو میرے ساتھ دشمنی ہے اس لیے میرے خلاف گواہی دے رہا ہے یا اس لیے میرے خلاف فیصلہ کر رہا ہے۔
(فَصْلٌ) :
وَلَا يَحْكُمُ عَلَى عَدُوِّهِ كَمَا لَا تَجُوزُ شَهَادَتُهُ عَلَيْهِ فِي رِوَايَةٍ.
جائز ہے قاضی کے لیے کہ وہ ذمیوں کے درمیان فیصلہ کرے یعنی مسلمان قاضی ذمیوں کے درمیان فیصلہ کرے لیکن یہ جب ہے کہ ذمی لوگ آپس میں ظلم کریں اور وہ پھر اپنا معاملہ کسی مسلمان قاضی کے عدالت میں دائر کریں اور وہ دونوں فریق مسلم قاضی کے فیصلے پر راضی ہوں تو اب قاضی ان کے درمیان فیصلہ کرنے کے سلسلے میں مختار ہے لیکن قاضی صاحب کو چاہیے کہ وہ اسلامی قوانین کے مطابق فیصلہ کرے کیونکہ قران پاک میں ہے، فان جاءوك فاحكم بينهم او اعرض عنهم، جبکہ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ہم ان کے درمیان فیصلہ جب ہی کر سکتے ہیں یعنی مسلمان قاضی ذمیین کے درمیان جب ہی فیصلہ کرے کہ ان کے علماء اس پر راضی ہوں کہ وہ مسلمان قاضی سے فیصلہ کرائیں اگر ان کے ذمہ دار لوگ علماء لوگ اس پر راضی نہیں تو پھر ذمیین کے درمیان فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ہے لیکن یہاں پر فرماتے ہیں کہ اس آیت کا ظاہری حکم یہ بتا رہا ہے کہ مسلمان قاضی ان کے درمیان فیصلہ کرے گا اگرچہ ان کے علماء راضی نہ ہوں کیوں آیت میں حکم مطلق ہے۔
(مَسْأَلَةٌ) :
وَيَجُوزُ لِلْقَاضِي أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَ أَهْلِ الذِّمَّةِ إذَا تَظَالَمُوا وَتَرَافَعُوا إلَيْهِ وَرَضُوا بِحُكْمِهِ، وَلْيَحْكُمْ بَيْنَهُمْ بِحُكْمِ الْإِسْلَامِ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {فَإِنْ جَاءُوكَ فَاحْكُمْ بَيْنَهُمْ أَوْ أَعْرِضْ عَنْهُمْ} [المائدة: ٤٢] قَالَ بَعْضُهُمْ: وَظَاهِرُ هَذَا أَنَّا نَحْكُمُ بَيْنَهُمْ وَإِنْ لَمْ تَرْضَ أَسَاقِفَتُهُمْ.
اور بعض حضرات فرماتے ہیں کہ مسلمان قاضی کے لیے مناسب ہے کہ وہ ذمیین کے صرف ان معاملات کے درمیان فیصلہ کرے جن میں باہمی ظلم پایا جاتا ہے یعنی مظالم میں جیسے کہ اگر کوئی وارث کسی دوسرے وارث کو وراثت نہ دیتا ہو اور وہ دونوں فریق یعنی ذمی فریقین راضی ہوں مسلمان قاضی سے فیصلہ کروانے پر تو اس معاملے میں مسلمان قاضی ان کے درمیان فیصلہ کرے بہرحال جو کافروں کے عائلی مسائل و قوانین ہیں جیسے شراب جس کے سلسلے میں آتا ہے الخمر له كالخل لنا اسی طرح زنا وغیرہ تو اس سلسلے میں مسلمان قاضی ان کے درمیان فیصلہ نہ کرے۔
وَقَالَ بَعْضُهُمْ: وَإِنَّمَا لِحَاكِمِ الْمُسْلِمِينَ أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمْ فِي التَّظَالُمِ، مِثْلَ أَنْ يَمْنَعَ وَارِثٌ وَارِثًا حَقَّهُ وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ إذَا رَضِيَ الْمُتَظَالِمَانِ بِذَلِكَ وَأَمَّا الْخَمْرُ وَالزِّنَا فَلَا يَنْبَغِي أَنْ يَحْكُمَ بَيْنَهُمْ فِيهِ.
No comments:
Post a Comment